راہی صاحب کے لیے لفظ محض اظہار کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ یہی ان کی اصل پونجی تھی: مظفر علی،مضمون نگار: نہاں

October 7, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،اکتوبر2026:

نہاں رباب:راہی معصوم رضا سے آپ کی پہلی ملاقات کن حالات میں ہوئی؟ علی گڑھ کی اس ادبی فضا کے بارے میں بھی کچھ بتائیے جس میں آپ نے انھیں پہلی بار دیکھا؟
مظفر علی: ہمارے ساتھ ایک دوست اصغر وجاہت بھی پڑھتے تھے۔ ہم لوگ جب کسی سے ملتے تھے تو محض ملاقات تک محدود نہیں رہتے، جانے انجانے میں اس شخص کی پوری شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے، اس کے مزاج، انداز اور کام کو بھی محسوس کرتے تھے۔ راہی صاحب سے ہماری پہلی ملاقات بھی اسی طرح ہوئی۔ ان دنوں علی گڑھ کی لائبریری کی کینٹین، جسے جاوید کمال صاحب چلاتے تھے، شام ڈھلتے ہی ایک خوبصورت ادبی محفل میں تبدیل ہو جاتی۔ مختلف شاعر اپنا کلام لے کر وہاں پہنچتے، جاوید صاحب بھی اپنا کلام سناتے اور دوسرے شعرا اپنی تخلیقات سے محفل کو رونق بخشتے۔ یہی وہ ادبی ماحول تھا جہاں راہی صاحب بھی دکھائی دیے۔
ہمارے لیے، جو ابھی ادب کی دنیا میں بالکل نئے تھے، یہ محض کسی شاعر سے ملاقات نہیں تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اچانک ادب کی ایک ایسی دنیا ہمارے سامنے کھل گئی ہو جس کا ہمیں ابھی پوری طرح ادراک بھی نہیں تھا۔ راہی صاحب کی شخصیت میں بھی ایک خاص کشش تھی۔ ان سے ملتے ہوئے صرف ان کی شاعری نہیں، ان کا مزاج، گفتگو اور ان کے ہونے کا ایک منفرد انداز بھی محسوس ہوتا تھا۔ ہم ان دنوں ادب میں نئے نئے قدم رکھ رہے تھے، اس لیے کسی ایسی شخصیت کا قریب آ جانا جس میں تخلیق اور شخصیت دونوں کی کشش موجود ہو، ہمارے لیے ایک غیر معمولی تجربہ تھا۔ شاید اسی کیفیت کو بیان کرنے کے لیے میں کہوں گا کہ راہی صاحب سے وہ پہلی ملاقات ہمارے لیے ایسی تھی جیسے کسی کی اچانک لاٹری نکل آئے۔
ن ر: راہی صاحب کی تحریروں سے تو ان کی تخلیقی شخصیت کا اندازہ ہوتا ہے، لیکن ان سے قریب رہنے پر ان کی ذات کے کون سے ایسے پہلو سامنے آئے جو ان کی تحریروں سے پوری طرح ظاہر نہیں ہوتے؟
م ع: راہی معصوم رضا کو صرف ان کی تحریروں کے حوالے سے دیکھنا شاید ان کی شخصیت کے ایک بڑے حصے سے محروم رہ جانا ہے۔ ایک انسان جب اپنی پوری زندگی اور تمام تر رنگا رنگی کے ساتھ آپ کے سامنے آتا ہے تو اس کے کئی ایسے رنگ بھی سامنے آتے ہیں جو محض تحریر کے ذریعے پوری طرح ظاہر نہیں ہو پاتے۔ راہی صاحب بھی کچھ ایسے ہی تھے۔ ان کے انداز گفتگو، بات کرنے کے طریقے اور لوگوں سے ملنے کے سلیقے سب میں ایک خاص انفرادیت تھی۔ مجھے آج بھی یہ بات خاص طور پر یاد ہے کہ علی گڑھ میں ایک ایسے شخص کے لیے، جو ابھی یونیورسٹی میں نیا نیا داخل ہوا ہو، راہی صاحب جیسی شخصیت کا اپنے آپ کو اس کے سامنے پوری طرح کھول دینا کتنی بڑی بات تھی۔ ان کے قصے، ان کی شاعری اور ان کی باتیں تو کسی نہ کسی صورت ہم تک پہنچتی ہی تھیں، لیکن جب ان کی اپنی ذات کے وسیلے سے ان تک پہنچنے کا موقع ملا تو محسوس ہوا کہ ان کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک زندہ تجربہ ہے۔ کئی مواقع پر تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ان کا کوئی شعر ہمارے سامنے اچانک زندہ ہو اٹھا ہو۔ شاید اسی لیے راہی صاحب نے اپنی ذات کو بھی ایک شعر میں کچھ یوں بیان کیا تھا ؎
انساں تھا کسی اور کا سایہ بھی نہیں تھا
ہر ڈھونڈنے والے کو وہ ملتا بھی نہیں تھا
راہی صاحب واقعی عام لوگوں جیسے نہیں تھے۔ ان میں ایک خاص ادا، بے ساختگی اور کشادگی تھی جو انھیں دوسروں سے الگ کرتی تھی۔ یہ رنگ ہم نے علی گڑھ میں ان کی شخصیت کے بہت قریب رہ کر دیکھا۔
ن ر:شاعر، ناول نگار، مکالمہ نگار اور اسکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے راہی صاحب نے مختلف میدانوں میں اپنی شناخت بنائی۔ آپ کے نزدیک ان تمام حوالوں کو جوڑنے والی ان کی بنیادی تخلیقی قوت کیا تھی؟
م ع:راہی صاحب کی اصلی طاقت تھے۔ ان کے لیے الفاظ محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ یہی ان کی اصل پونجی تھے۔ وہ خود کہتے تھے:’’میری پونجی ہے یہی لفظ، یہی تھوڑے سے لفظ۔ مفت کا مال سمجھ کر میں لٹاتا رہا اس دولت بے مایہ کو، جس تصور کے لیے ایک ہی لفظ کافی تھا، سو لفظ کے لیے۔‘‘ میرے خیال میں اس ایک جملے میں راہی صاحب کی پوری تخلیقی شخصیت کا ایک بڑا راز پوشیدہ ہے۔
وہ الفاظ کی قدر و قیمت سے واقف تھے اور جانتے تھے کہ ایک لفظ کبھی کبھی پورے تصور، پوری کیفیت اور پورے تجربے کو اپنے اندر سمیٹ سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ لفظ کو روک کر رکھنے کے قائل نہیں تھے۔ وہ اسے اپنی تخلیقی سخاوت کے ساتھ برتتے اور دوسروں تک پہنچاتے تھے۔ راہی صاحب کو الفاظ پر غیر معمولی عبور حاصل تھا، لیکن ان کی اصل طاقت صرف الفاظ کے وسیع ذخیرے میں نہیں تھی۔ اصل کمال یہ تھا کہ وہ لفظ کو کس طرح برتتے اور کس انداز سے پیش کرتے تھے۔ ایک ہی لفظ عام آدمی کے لیے محض ایک لفظ رہ سکتا ہے، لیکن راہی صاحب کے ہاتھ میں آکر وہ معنی کی ایک نئی دنیا کھول دیتا تھا۔ وہ لفظ کے ظاہری معنی کے ساتھ اس کی تہہ میں چھپی کیفیت، اس کی موسیقیت اور اس کے اثر کو بھی محسوس کرتے تھے۔ ان کا کمال یہ تھا کہ وہ لفظ، معنی اور انداز بیان کے درمیان ایسا رشتہ قائم کرتے تھے کہ ایک معمولی بات بھی غیر معمولی محسوس ہونے لگتی تھی۔ یوں کہیے کہ راہی صاحب کو صرف لفظ پر عبور نہیں تھا بلکہ وہ لفظ کے مزاج سے بھی واقف تھے۔ یہی لفظ شناسی اور اظہار کی انفرادیت ان کے فن کی اصل قوت تھی۔
ن ر:آپ نے راہی صاحب کے ساتھ رہتے ہوئے ان کی ذاتی دنیا کو بھی قریب سے دیکھا۔ ان کی اپنی مٹی، گنگولی اور بچپن کے تجربات ان کی تخلیقی شخصیت میں کس طرح موجود تھے؟
م ع:راہی صاحب میں ایک بہت خاص بات یہ تھی کہ وہ اپنی زمین سے گہرائی کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ وہ اپنی مٹی سے جڑے تھے، اپنی تہذیب سے جڑے تھے، گنگا سے جڑے تھے اور گنگولی سے بھی ان کا ایسا رشتہ تھا جو محض کسی آبائی گاؤں سے تعلق کا رشتہ نہیں تھا، بلکہ ان کی ذات اور ان کے تخلیقی شعور کا حصہ تھا۔
’آدھا گاؤں‘ پڑھتے ہوئے بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ گنگولی ان کے لیے صرف ایک جگہ نہیں، ایک پوری دنیا تھی۔ ایسی دنیا جس میں ان کے بچپن کی یادیں، وہاں کے لوگ، رشتے، بولی اور تہذیبی زندگی اپنی پوری معنویت کے ساتھ موجود تھے۔ ان کی تحریر میں یہ دنیا کسی خارجی مشاہدے کی طرح نہیں آتی، بلکہ یوں محسوس ہوتی ہے جیسے وہ خود اس دنیا کے اندر سے بول رہے ہوں، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ میں نے راہی صاحب سے کبھی گنگولی یا ان کے بچپن کے بارے میں اس طرح تفصیلی گفتگو نہیں کی۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جن چیزوں کو ہم ان سے پوچھ کر جاننا چاہتے، وہ انھیں پہلے ہی لکھ چکے تھے۔ ان کے ذہن میں جو فوری تصویریں ابھرتی تھیں، ان پر وہ خود بات کرتے اور ہم خاموشی سے انھیں سنتے رہتے تھے۔
سچ تو یہ ہے کہ ان کے سامنے بیٹھ کر ہماری ہمت ہی نہیں پڑتی تھی کہ بیچ میں کچھ کہیں یا کوئی سوال کریں۔ ہم تو انھیں سننے میں اس طرح کھو جاتے تھے جیسے خود اپنی جگہ سے غائب ہو گئے ہوں۔ ان کی باتوں میں ایسی کشش تھی کہ وہ جو کہتے، اس کے ساتھ ایک پوری دنیا ہمارے سامنے آباد ہوتی چلی جاتی تھی۔
ن ر:راہی معصوم رضا کے ناولوں میں عام زندگی کے لوگ غیر معمولی معنویت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ آپ کے مشاہدے میں ان کے کرداروں کی تشکیل کا بنیادی سرچشمہ کیا تھا؟
م ع: راہی صاحب کے کردار کسی بنائی ہوئی دنیا سے نہیں آتے تھے۔ جو لوگ ان کی روزمرہ زندگی سے جڑتے تھے، جو ان کے آس پاس ہوتے تھے، جنھیںوہ دیکھتے، سنتے اور اپنے تجربے میں محسوس کرتے تھے، وہی کسی نہ کسی طرح ان کے کردار بن جاتے تھے۔ ان کے لیے کردار محض کہانی کو آگے بڑھانے والے لوگ نہیں تھے، بلکہ یہ زندگی کے وہ چہرے تھے جن سے راہی صاحب کا براہ راست واسطہ پڑا تھا۔ میرا خیال ہے کہ راہی صاحب اپنے آس پاس کی زندگی کو بہت غور سے دیکھتے تھے۔ روزمرہ میں ملنے والا کوئی شخص، اس کا انداز گفتگو، اس کا رویہ، اس کی عادتیں یا اس کی کوئی چھوٹی سی بات بھی ان کے ذہن میں محفوظ ہو جاتی تھی۔ پھر یہی چیز تخلیق میں ایک نئے روپ کے ساتھ سامنے آتی تھی۔ اسی لیے ان کے کردار ہمیں محض ناول کے کردار نہیں لگتے بلکہ ایسے لوگ محسوس ہوتے ہیں جن سے ہماری کبھی نہ کبھی ملاقات ہوئی ہے، جنھیں ہم اپنے آس پاس دیکھتے رہے ہیں۔ ان میں زندگی کی وہ حرارت اور سچائی محسوس ہوتی ہے جو کسی مصنوعی کردار میں پیدا کرنا آسان نہیں۔
مجھے لگتا ہے کہ راہی صاحب کے یہاں کردار نگاری دراصل زندگی کا ایک حصہ تھی۔ وہ زندگی کو دیکھتے تھے، اسے اپنے اندر جذب کرتے تھے اور پھر اپنی تخلیقی قوت سے اسے ایک نئی معنویت عطا کرتے تھے۔ ان کی خاص بات شاید یہی تھی کہ وہ اپنے کردار زندگی سے لیتے تھے، لیکن انھیں محض نقل نہیں کرتے تھے۔ ان کے تخلیقی عمل میں وہ کردار ایک ایسی دنیا میں داخل ہوتے تھے جہاں وہ اپنی پوری معنویت کے ساتھ زندہ ہو جاتے تھے۔
ن ر:راہی معصوم رضا کی زبان میں اردو، ہندی اور مقامی بولیوں کا امتزاج ایک خاص تہذیبی رنگ پیدا کرتا ہے۔ زبان، اس کے برتاؤ اور بالخصوص اردو رسم الخط کے بارے میں راہی صاحب کا بنیادی تصور کیا تھا؟
م ع:راہی صاحب تو بنیادی طور پر زبان کو زندہ کرنا، زندہ رکھنا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اسے پہنچانا چاہتے تھے۔ میرے خیال میں یہی ان کا بنیادی مشن تھا۔ وہ زبان کو کسی ایک دائرے میں قید کرکے دیکھنے کے قائل نہیں تھے۔ ان کا ذہن بہت کھلا ہوا تھا اور وہ زبان کو اس کی پوری وسعت کے ساتھ دیکھتے تھے۔ اگر ہندی کے ذریعے کوئی لفظ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ رہا ہے تو ان کے نزدیک یہ اچھی بات تھی۔ وہ اس معاملے میں کسی تعصب کے شکار نہیں تھے ان کے لیے اصل اہمیت زبان کے زندہ رہنے اور لوگوں تک پہنچنے کی تھی۔
دیکھیے! ہندوستان میں اردو اور ہندی کے درمیان جو تقسیم پیدا ہوئی، اس کا ایک تاریخی پس منظر ہے اور اتفاق سے جس زبان کے پاس اقتدار اور رسائی زیادہ ہے، اس کے ذریعے الفاظ بھی زیادہ لوگوں تک پہنچتے ہیں۔ راہی صاحب شاید اسی حقیقت کو بہت صاف نظر سے دیکھتے تھے۔ ان کی تحریروں میں جو باتیں، جو احساسات اور جو تجربات تڑپ رہے تھے کہ لوگوں تک پہنچیں، ان کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ ان تک پہنچنے کا راستہ بھی تلاش کریں۔ اگر وہ ہندی میں نہ لکھتے تو میرے خیال میں یہ ایک طرح کی حماقت ہوتی۔ ہندی میں لکھنے سے ان کے کام کو ایک نئی زندگی ملی، ایک وسیع تر پہچان ملی اور لوگوں کے درمیان ان کی اپنی الگ شناخت قائم ہوئی۔ راہی صاحب کے نزدیک شاید زبان کا اصل مسئلہ یہی تھا کہ وہ زندہ رہے، لوگوں تک پہنچے اور اپنے اندر موجود تجربے کو پوری قوت سے منتقل کرے۔
ن ر:راہی معصوم رضا کی شوخی، برجستگی اور بے باکی ان کی نجی زندگی میں کس طرح جلوہ گر ہوتی تھی؟ کوئی ایسی یاد جو آج بھی آپ کو مسکرانے پر مجبور کر دیتی ہو؟
م ع: اس بارے میں بہت سی باتیں ہیں، لیکن بعض باتیں ذاتی نوعیت کی ہوتی ہیں، انھیں اسی طرح رہنے دینا بہتر ہے۔ البتہ ایک واقعہ ہے جو آج بھی یاد آتا ہے تو راہی صاحب کی شوخی اور ان کے مخصوص اندازِ اظہار کی ایک پوری تصویر سامنے آ جاتی ہے۔ 1964 میں علی گڑھ کے جنرل ایجوکیشن سینٹر کے کینیڈی ہال میں ہم نے ایک پینٹنگ کی نمائش منعقد کی تھی اور راہی صاحب کو اس میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا تھا۔ انھوں نے پہلے تو ہنستے ہوئے کہا: ’’یار، مجھے کہاں بلا رہے ہو!‘‘لیکن پھر وہ آئے، نمائش دیکھی اور ہماری کتاب پر ایک شعر لکھ گئے۔ وہ شعر آج بھی ان کی شخصیت کی برجستگی کا آئینہ معلوم ہوتا ہے ؎
ایک ہم ہیں لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ
ایک وہ ہیں جنھیں تصویر بنا آتی ہے
یہ صرف ایک شعر نہیں تھا، اس میں ان کی شوخی بھی تھی، خود پر ہنس لینے کا حوصلہ بھی اور دوسروں کی خوبی کو پہچان لینے کی وہ نظر بھی جو راہی صاحب کے مزاج کا حصہ تھی۔
ان کے ساتھ جو ایک حلقہ تھا، اس میں رہتے ہوئے ایک بات بہت شدت سے محسوس ہوتی تھی کہ He never let anything weigh him down یعنی زندگی کی سنجیدگیوں اور پریشانیوں کو وہ اپنے اوپر اس طرح سوار نہیں ہونے دیتے تھے کہ آدمی کی بے ساختگی ہی ختم ہو جائے۔ وہ زندگی کو ایک خاص ادا، ایک خاص انداز اور اپنی مخصوص شوخی کے ساتھ جیتے تھے۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسی روانی تھی کہ غم بھی آئے تو اس کے ساتھ مسکرانے کی گنجائش باقی رہتی تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ راہی صاحب کی یاد صرف ان کی تحریروں سے نہیں، ان کے جملوں، ان کی ادا اور ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحوں سے بھی زندہ رہتی ہے۔
ن ر:آپ کی فلم ’انجمن‘ میں راہی معصوم رضا کی مکالمہ نگاری نے فلم کے تہذیبی اور سماجی مزاج کو ایک خاص گہرائی عطا کی۔ راہی صاحب کے ساتھ انجمن پر کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟ کیا اس دوران ان کے ساتھ کام کرنے کا کوئی خاص پہلو یا یاد آپ کے ذہن میں آج بھی محفوظ ہے؟
م ع: جی جی!راہی صاحب کے ساتھ کام کرنے کا ہمارا طریقہ ہی کچھ ایسا تھا کہ ایک بہت خوبصورت ورکنگ ریلیشن شپ بن گئی تھی۔ وہ کہتے تھے، ’’تم سب سے ملے ہو، تم سب کو جانتے ہو، میں تو انھیں صرف الفاظ دوں گا۔ تم انھیں کرداروں کے بارے میں جتنا بتا سکتے ہو، اپنے طریقے سے بتاتے رہو، پھر میں انھیں لفظوں میں پروؤں گا۔‘‘ چنانچہ میں کرداروں اور ان کی دنیا کے بارے میں انھیں بتاتا رہتا اور وہ ان تمام کیفیات کو اپنے الفاظ میں ڈھالتے جاتے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس سے بہتر کام ہم نے کسی اور کے ساتھ آج تک نہیں کیا۔ کام کرتے ہوئے بہت مزا آتا تھا اور یوں محسوس ہوتا تھا جیسے چیزیں خود بخود ہمارے سامنے آتی جا رہی ہیں۔ میں شروع ہی سے چاہتا تھا کہ راہی صاحب کے ساتھ کام کروں۔ جب انھوں نے میری فلم ’گمن‘ دیکھی تو وہ بہت متاثر ہوئے۔ ان کے بیٹے ندیم خان نے اس میں کیمرہ مین کا کام کیا تھا۔ فلم دیکھنے کے بعد راہی صاحب نے ’شمع‘ میں لکھا تھا کہ’’گمن دیکھ کر لگا کہ میں بھی بمبئی میں غلام حسن کی طرح اپنے قلم کی ٹیکسی چلا رہا ہوں۔‘‘
راہی صاحب ایک نہایت حساس انسان تھے۔ وہ اپنے حالات اور اپنے Predicament کو بھی سمجھتے تھے، مگر ان میں کسی طرح کا ایگو نہیں تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ آج کل کے بہت سے شاعروں اور ادیبوں میں جو ایک طرح کا ایگو نظر آتا ہے، راہی صاحب اس سے بالکل مختلف تھے۔ وہ ہر شخص سے ایسے ملتے تھے جیسے وہ ان کا دوست ہو۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ لوگوں سے ملنے کو سیکھنے کا ایک موقع سمجھتے تھے۔ دوسروں کو سننا، ان کے تجربات کو سمجھنا اور پھر انھیں اپنی تخلیق کا حصہ بنا لینا، ان کے مزاج کا ایک اہم پہلو تھا۔ یہی بے تکلفی اور کشادہ دلی ہمارے کام کے رشتے کو بھی غیر معمولی بناتی تھی۔
ن ر:’انجمن‘ کے علاوہ بھی کیا آپ کو راہی معصوم رضا کے ساتھ کسی اور فلم یا تخلیقی منصوبے پر کام کرنے کا موقع ملا؟ یا ’انجمن‘ ہی آپ دونوں کا واحد مشترکہ کام تھا؟
م ع: نہیں! بس ’انجمن‘ ہی ہمارا مشترکہ کام تھا۔ ’انجمن‘ 1986 میں بنی تھی۔ اس کے بعد میں ’زونی‘ بنانے کے لیے کشمیر چلا گیا اور اپنی دوسری فلم میں مصروف ہو گیا۔ پھر وقت بہت تیزی سے گزر گیا اور 1992 میں راہی صاحب کا انتقال ہو گیا۔ اس طرح ’انجمن‘ ہی وہ واحد فلم رہی جس میں ہمیں ایک ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔
شاید اس بات کا افسوس ہمیشہ رہے گا کہ راہی صاحب کے ساتھ کام کا یہ سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ ہماری جو ورکنگ ریلیشن شپ انجمن کے دوران بنی تھی، اس میں ایک خاص تخلیقی ہم آہنگی تھی اور مجھے محسوس ہوتا تھا کہ ہم ایک دوسرے کی بات کو بہت جلد سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن زندگی نے ہمیں زیادہ وقت نہیں دیا۔ اس لیے انجمن میرے لیے صرف ایک فلم نہیں، راہی صاحب کے ساتھ کام کرنے کی وہ ایک یاد بھی ہے جو اپنے اندر ایک پورا تخلیقی زمانہ محفوظ کیے ہوئی ہے۔
ن ر:علی گڑھ سے بمبئی تک راہی صاحب کا سفر ایک بڑے تخلیقی اور تہذیبی سفر کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ آپ نے ان کے اندر اس تبدیلی کو کیسے محسوس کیا؟ کیا بمبئی نے راہی کو بدلا یا راہی نے بمبئی کی دنیا کو اپنی شخصیت اور انداز کے مطابق قبول کیا؟
م ع:نہیں! مجھے نہیں لگتا کہ ممبئی نے راہی صاحب کو بدلا۔ علی گڑھ میں ہم بھی جس دور میں تھے، وہاں ہم سب کچھ سیکھ رہے تھے۔ شاید علی گڑھ کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ آپ کو سکھانے کے بعد خود ہی آپ کا ٹکٹ کاٹ دیتا ہے کہ اب جاؤ، کسی دوسرے شہر اور کسی دوسری دنیا میں اپنے لیے جگہ بناؤ، اپنا کماؤ اور کھاؤ! راہی صاحب کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ وہ علی گڑھ کو چھوڑ کر بمبئی چلے گئے۔ ہم یہ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھے کہ علی گڑھ میں لوگ کس طرح رہتے ہیں یا وہاں سے نکلنے کے بعد انسان میں کیا تبدیلی آتی ہے، ہم خود بھی اسی سفر کا حصہ تھے۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ بمبئی ان کے لیے ایک نسبتاً کٹھور اور مشکل شہر ثابت ہوا، مگر راہی صاحب نے اس شہر کو اپنے انداز میں نبھایا۔ انھوں نے لکھا بھی ہے ؎
ہر گلی ہجر کی اک گلی بمبئی شہر میں
درد کے راستے ہیں کئی بمبئی شہر میں
ہر پڑوسی کوئی اجنبی بمبئی شہر میں
کیسے زندہ رہے آدمی بمبئی شہر میں
مگر وہ ممبئی میں بھی اپنی شرطوں پر جیے۔ ظاہر ہے، وہ لطف کہاں جو اپنے شہر میں رکشے پر بیٹھ کر گھومنے میں ہوتا ہے، لیکن راہی صاحب نے ممبئی میں بھی اپنی ادا نہیں چھوڑی۔ وہ شطرنج کھیلتے ہوئے، پان کھاتے ہوئے اور اپنی مخصوص بے فکری کے ساتھ اس شہر کا حصہ بنے۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ انھیں وہاں اچھے مواقع ملے اور پروڈیوسرز کے ساتھ ان کے خوشگوار تعلقات قائم ہوگئے تھے۔ فلمی دنیا میں ان کی بڑی عزت تھی۔ اسٹوڈیو ہو، ڈبنگ ہو یا کوئی اور جگہ، لوگ انھیں پہچانتے تھے۔ اس میدان میں راہی صاحب کا ایک الگ مرتبہ اور اپنی ایک الگ شناخت بن گئی تھی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ممبئی نے راہی کو اپنے رنگ میں نہیں ڈھالا، راہی نے ممبئی کی دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنی شخصیت اور اپنی ادا کو برقرار رکھا۔
ن ر:راہی معصوم رضا کی تحریروں میں عام آدمی کے دکھ، محرومی اور عزت نفس کے ساتھ ایک گہری انسان دوستی نظر آتی ہے۔ آپ کے خیال میں اس حساسیت کے پیچھے ان کے ذاتی تجربات اور اجنبی شہر میں زندگی گزارنے کا تجربہ کس حد تک کارفرما تھا؟
م ع: ایک مرتبہ جب ہم بھی ممبئی گئے تو ہمیں بھی وہی اجنبیت اور تنہائی کا احساس ہوا جو شاید راہی صاحب نے وہاں پہنچ کر محسوس کیا ہوگا۔ جیسے کہ ؎
سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے
اس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے
ممبئی جیسے شہر میں پہنچ کر آدمی صرف ایک نئی جگہ میں داخل نہیں ہوتا بلکہ اپنے مانوس ماحول، اپنی تہذیب اور اپنے لوگوں سے بھی ایک فاصلے میں آ جاتا ہے۔ ہم نے ساری دنیا دیکھی، لیکن اجنبی شہر کی وہ کیفیت کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ اسی احساس کو راہی نے بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے ؎
اجنبی شہر کے اجنبی راستے، میری تنہائی پر مسکراتے رہے
میں بہت دور تک یوں ہی چلتا رہا، تم بہت دیر تک یاد آتے رہے
میرے خیال میں اس طرح کے تجربات انسان کے اندر ایک خاص قسم کی حساسیت پیدا کرتے ہیں۔ علی گڑھ سے کوئی شخص اکھڑ کر ممبئی پہنچے، یا لکھنؤ جیسے اپنے مانوس تہذیبی ماحول سے نکل کر ایسے شہر میں آئے، تو ان احساسات کا شدت سے پیدا ہونا فطری ہے۔ اپنے لوگ، اپنی زبان، اپنی گلیوں اور اپنے ماحول سے دوری انسان کو دوسروں کے دکھ اور تنہائی کو زیادہ گہرائی سے محسوس کرنا سکھاتی ہے۔ راہی صاحب کی تحریروں میں عام آدمی کے دکھ، محرومی اور اس کی عزت نفس کے حوالے سے جو حساسیت نظر آتی ہے، اس میں میرے خیال میں ایسے ذاتی تجربات کی ایک اہم جگہ ضرور تھی۔ وہ اجنبی شہر کی تنہائی کو صرف دیکھنے والے نہیں تھے، اسے جینے والے بھی تھے۔
ن ر:راہی صاحب کے تہذیبی شعور میں ان کے خاندانی پس منظر اور ذاتی ماحول کی کیا اہمیت تھی؟ ان کے یہاں رشتوں کو دیکھنے کا انداز کس نوعیت کا تھا؟
م ع: دیکھیے! ذاتی ماحول میں تو راہی صاحب کی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ رہے، لیکن ان کے آس پاس کا ماحول اپنی جگہ بہت تہذیب یافتہ اور کشادہ تھا۔ ان کے خاندانی اور ذاتی تعلقات میں بھی ایک ایسی بے تکلفی تھی جس میں رشتوں کی ظاہری حدیں زیادہ اہم نہیں رہتی تھیں۔
مثلاً نیر آپا سے ان کی شادی ہوئی تھی۔ نیر آپا کی پہلے بھی شادی ہو چکی تھی اور ان کے پہلے شوہر کے بیٹے ندیم تھے، جن کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔ راہی صاحب ندیم کو بھی اپنے بیٹے کی طرح سمجھتے تھے۔ ان کے ساتھ ہمارا بھی خاندانی تعلق تھا وہ ہمارے چچا، یعنی پھوپھا کے بھائی لگتے تھے۔ یہ سب رشتے اپنی اپنی جگہ موجود تھے، لیکن راہی صاحب کے یہاں ان رشتوں کو کسی پیچیدگی یا فاصلے کے ساتھ دیکھنے کا انداز نہیں تھا۔
وہ بڑے تہذیب یافتہ لوگ تھے اور شاید ان کی تہذیب کی سب سے خوبصورت بات یہی تھی کہ انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ کون کیا ہے اور کون کیا نہیں ہے۔ وہ رشتوں کو ان کے ظاہری خانوں میں تقسیم کرکے نہیں دیکھتے تھے۔ یہی کشادگی ان کے ذاتی ماحول میں بھی تھی اور یہی چیز رفتہ رفتہ ان کے تہذیبی شعور کا حصہ بنتی گئی۔
میرے خیال میں راہی صاحب کی گنگا جمنی تہذیب کا ایک بڑا حوالہ یہی انسانی کشادگی تھی، جہاں مختلف شناختیں ایک دوسرے سے الجھتی نہیں تھیں بلکہ ایک دوسرے میں گھل مل کر زندگی کا حصہ بن جاتی تھیں۔
ن ر:راہی صاحب کی زندگی میں محبت اور انسانی تعلقات کا پہلو بھی نمایاں تھا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان کے ذاتی جذبات اور رومانیت نے ان کی تخلیقی شخصیت کو بھی متاثر کیا؟
م ع: نہیں! مجھے لگتا ہے کہ راہی صاحب کی زندگی کافی کھلی ہوئی تھی۔ کوئی ایسی پیچیدہ زندگی نہیں تھی ان کی۔ بس یہی تھا کہ وہ تھوڑے Romantic nature کے تھے۔ لوگ ان پر عاشق ہو جاتے تھے، وہ لوگوں پر عاشق ہو جاتے تھے۔ یہ ان کی شخصیت کا ایک پہلو تھا، ان کے مزاج میں ایک طرح کی رومانیت تھی۔ لیکن میں اسے ان کی زندگی کی کوئی ایسی پیچیدگی نہیں سمجھتا جسے داخلی کشمکش کہا جائے۔
دیکھیے! ہم لوگ اسے معیوب سمجھتے ہیں، لیکن ایک آرٹسٹ کے لیے معاملہ کچھ اور ہوتا ہے۔ ایک آرٹسٹ جو ہوتا ہے، وہ اسے Inspiration سمجھتا ہے۔ لوگوں سے ملنا، ان کی طرف متوجہ ہونا، کسی سے متاثر ہونا یا خود کسی کی طرف کھنچ جانا یہ سب ایک آرٹسٹ کے لیے اس کے تجربے کا حصہ ہوتا ہے۔
راہی صاحب بھی ایک آرٹسٹ تھے، اس لیے وہ انسانی تعلقات اور جذبات کو اسی نظر سے دیکھتے تھے۔ میرے خیال میں ان کی زندگی کی یہ رومانیت ان کی تخلیقی شخصیت کے لیے ایک Inspiration تھی، نہ کہ کوئی ایسی Complex کیفیت جسے ہم داخلی کشمکش کہیں۔
وہ جس طرح زندگی کو دیکھتے اور محسوس کرتے تھے، اسی کھلے پن کے ساتھ اسے جیتے بھی تھے۔ ان کے اندر زندگی کے تجربات کو قبول کرنے کی ایک آزادی تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے فن میں بھی انسانی جذبات کسی مصنوعی ترتیب کے ساتھ نہیں آتے، بلکہ زندگی کی طرح اپنی تمام تر پیچیدگی اور سادگی کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔
ن ر: راہی صاحب کی تخلیقات میں عورت مختلف انسانی اور علامتی صورتوں میں سامنے آتی ہے۔ آپ ان کی اس نسائی حسیت یا عورت کو دیکھنے کے منفرد انداز کو کس طرح بیان کریں گے؟
م ع: یہ بہت امپورٹنٹ سوال کیا آپ نے، خاص طور پر اس دور کے لوگوں کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو راہی ہوں یا کیفی اعظمی، ان لوگوں میں یہ چیز بہت زیادہ ملتی ہے۔ دیکھیے! راہی صاحب کی خاص بات یہ تھی کہ انھوں نے ہر چیز کو ایک Feminine gender دے دیا۔ ان کے یہاں عورت صرف ایک کردار نہیں رہتی بلکہ وہ ایک تصور، ایک احساس اور ایک پوری کیفیت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
مثلاً 1857 کی جو لڑائی تھی، اس میں ملک بھی ایک عورت بن جاتا ہے، گومتی بھی ایک عورت بن جاتی ہے۔ یہ معمولی بات نہیں ہے۔ وہ چیزوں کو محض ان کی ظاہری شکل میں نہیں دیکھتے تھے بلکہ ان کے اندر ایک انسانی اور جذباتی وجود تلاش کرتے تھے۔ اسی لیے ان کے یہاں عورت محض کہانی کا ایک کردار نہیں رہتی بلکہ بعض اوقات ایک علامت، ایک احساس یا ایک پورے تہذیبی تصور کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
میرے خیال میں یہ راہی صاحب کی تخلیقی حسیت کا ایک اہم پہلو تھا۔ وہ اپنے گرد و پیش کی دنیا کو صرف واقعات اور کرداروں کے طور پر نہیں دیکھتے تھے، اس کے اندر موجود جذبات اور کیفیتوں کو بھی محسوس کرتے تھے۔ شاید اسی لیے ان کی تخلیقات میں عورت اور اس سے وابستہ تجربات کے کئی مختلف معنی سامنے آتے ہیں۔
یہ Feminine sensibility ان کے یہاں صرف عورت تک محدود نہیں رہتی، وہ پورے ماحول اور بعض اوقات پوری تاریخ کو ایک انسانی اور جذباتی پیکر میں دیکھنے لگتے ہیں۔ یہی چیز ان کے فن کو ایک الگ شناخت عطا کرتی ہے۔
ن ر: راہی صاحب کے ساتھ آپ کی بے تکلف رفاقت میں گفتگو کا انداز کیسا ہوتا تھا؟ کیا وہ اپنی گہری فکری شخصیت کا اظہار گفتگو میں بھی اسی طرح کرتے تھے؟
م ع: ایک طریقے سے دیکھا جائے تو ہماری گفتگو میں کوئی بہت گہری یا فلسفیانہ باتیں نہیں ہوا کرتی تھیں۔ بالکل بچپنے والی باتیں ہوتی تھیں، بالکل سادہ باتیں۔ یہ راہی صاحب کی شخصیت کا ایک عجیب اور خوبصورت پہلو تھا کہ وہ بظاہر بہت گہرے آدمی لگتے تھے لیکن ان کی باتیں بہت سادہ ہوا کرتی تھیں۔
وہ زندگی کی معمولی سے معمولی بات کو بھی اسی بے تکلفی سے بیان کرتے جیسے اس میں کوئی خاص فلسفہ تلاش کرنا مقصود ہی نہ ہو۔ شاید یہی سادگی ان کی گہرائی کا ایک حصہ تھی۔ بعض لوگ اپنی گہرائی کو اپنی گفتگو پر طاری کر دیتے ہیں لیکن راہی صاحب کے یہاں ایسا نہیں تھا۔ وہ بہت گہرے آدمی تھے مگر ان کی گفتگو پر گہرائی کا بوجھ نہیں تھا۔ان کے ساتھ بیٹھ کر ایسا محسوس نہیں ہوتا تھا کہ کوئی بڑا ادیب یا فلسفی آپ سے کوئی بڑی بات کہہ رہا ہے بلکہ یوں لگتا تھا جیسے کوئی اپنا بہت قریبی زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتیں آپ کے ساتھ بانٹ رہا ہے۔ ان کی شخصیت میں ایک بے ساختگی تھی جو گفتگو کو کبھی بوجھل نہیں ہونے دیتی تھی۔
شاید انسان کی اصل گہرائی بھی یہی ہے کہ وہ زندگی کو پیچیدہ بنائے بغیر اس کی سادگی کو محسوس کر سکے۔ راہی صاحب کی شخصیت میں یہ سادگی اور گہرائی ساتھ ساتھ چلتی تھی۔ یہی تضاد یا امتزاج ان کی گفتگو کو بھی دلچسپ بناتا تھا اور شاید اسی لیے ان کے ساتھ گزارا ہوا معمولی وقت بھی بعد میں ایک یاد کی صورت میں باقی رہ جاتا تھا۔
ن ر:آج کی نسل کے لیے راہی معصوم رضا کی معنویت کیا ہے؟ کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے فن میں اپنے عہد سے آگے کے زمانے کو محسوس کرنے کی کوئی صلاحیت موجود تھی؟
م ع: دیکھیے! راہی جو تھے، ایک جدید آدمی تھے۔ بلکہ جدید ہی نہیں، وہ اس سے بھی آگے، وقت سے آگے کے آدمی تھے۔ اس لیے راہی نے جو لکھا، جو محسوس کیا، وہ بہت حد تک وقت سے آگے کی بات تھی۔ یہی ان کی خاص بات ہے۔ اگر آپ ان کی شاعری پڑھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ محض اپنے عہد کی ترجمانی نہیں کر رہے ہیں بلکہ آنے والے زمانے کی آہٹوں کو بھی محسوس کر رہے ہیں اور اپنے کلام میں مستقبل کی جھلک پیش کر رہے ہیں۔ ان کی شاعری میں کل کا گمان ہوتا ہے جیسے وہ آج میں کھڑے ہو کر کل کو دیکھ رہے ہوں۔ ان کی ایک نظم ہے ؎
وقت ہے ناآشنا نامہرباں اس شہر میں
بند رکھیے اپنے زخموں کی زباں اس شہر میں
ہر دریچہ مضمحل دروازے ہیں کمھلائے ہوئے
آج کی آنکھوں میں ہے کل کا دھواں اس شہر میں
یعنی وہ آج، کل اور آنے والے کل کو ایک ہی سانس میں دیکھتے ہیں۔ میرے خیال میں یہی راہی صاحب کی سب سے بڑی خصوصیت تھی کہ ان کی نظر اپنے وقت تک محدود نہیں تھی۔ ان کے اندر آنے والے وقت کو محسوس کرنے کی ایک عجیب صلاحیت تھی۔
آخر میں میں بس اتنا کہوں گا کہ راہی صاحب کی چیزیں مجھے آج بھی بہت یاد ہیں۔ میں نے ان کے کام کو بہت قریب سے محسوس کیا ہے اور اپنی فلموں میں بھی ان کے کام اور ان کی فکر کو یاد کیا ہے۔ ان سے جو کچھ ملا، اسے اپنی بساط کے مطابق اپنے فن میں برتنے کی کوشش کی۔ راہی صاحب جیسے بڑے تخلیق کار کے ساتھ جڑنا اور ان کے کام کو اپنے سفر کا حصہ بنا پانا میرے لیے خود ایک اعزاز ہے۔ ان سے وابستہ ہونا ہی میرے لیے ایک بڑی نسبت ہے۔
ن ر:بہت بہت شکریہ سر! آپ نے اپنا قیمتی وقت دیا اور راہی صاحب سے جڑی اپنی یادیں، مشاہدات اور تجربات ہمارے ساتھ شیئر کیے۔ آپ سے ہونے والی یہ گفتگو ہمارے لیے نہایت قیمتی اور یادگار رہی۔ دل کی گہرائیوں سے ممنون ہوں۔

Neha Rubab
Assistant Editor, NCPUL
New Delhi- 110025
Mob.: 7985966630

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اردو ادب میں ڈیجیٹل ثقافت کی تشکیل ایک نظری و فکری مطالعہ،مضمون نگار:عبدالرزاق

اردو دنیا،مارچ2026: اردو ادب کی تاریخ میں ہر دور کسی نہ کسی فکری، سماجی یا فنی انقلاب کا آئینہ دار رہا ہے۔ کلاسیکی عہد میں داستان و قصیدہ، سرسید کے

منور لکھنوی: بحیثیت سنسکرت -اردو مترجم،مضمون نگار:محمد اسجد

اردو دنیا،ستمبر 2026: بیسویں صدی میں ترجمے کی دنیا کا ایک اہم اورنمایاں نام بشیشور پرشاد منور لکھنوی کاہے۔ انھوں نے ایک طرف شاعری کی شکل میں بیش قیمتی سرمایہ

ڈاکٹر محمد فیروز دہلوی: استاد اور ادیب، مضمون نگار: شعیب رضا فاطمی

اردو دنیا، جولائی 2026: دہلی کو’عالم میں انتخاب‘کا جو درجہ حاصل ہے اس کی بہت ساری وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس سرزمین پر ایسی ایسی باکمال