تمل ناڈو میں اردو افسانہ – مضمون نگار: اسانغنی مشتاق رفیقی
تمل ناڈو میں اردو زبان کی تاریخ پانچ صدیوں پر محیط ہے، نثر نگاری کے ابتدائی نمونے سترہویں صدی میں مل جاتے ہیں، لیکن افسانہ نگاری کی شروعات
تمل ناڈو میں اردو زبان کی تاریخ پانچ صدیوں پر محیط ہے، نثر نگاری کے ابتدائی نمونے سترہویں صدی میں مل جاتے ہیں، لیکن افسانہ نگاری کی شروعات
سید محمد نسیم انہونوی اردو ادب میں کثیرالجہات شخصیت کے مالک ہیں۔وہ صرف نا ول نگار ہی نہیں ہیں بلکہ افسانہ نگار،مقالہ نگاراور عظیم صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ
تکنالوجی ہماری زندگی کے مختلف شعبوں پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ تعلیم کے میدان میں اس کے گہرے اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک طرف جہاں گوگل ہمیں دنیا
فکشن کی اصطلاح گو کہ ناولوں اور افسانوں کے لیے استعمال ہوتی ہے، تاہم اس کا اطلاق تھیٹر، فلموں، ٹیلی ویژن ڈراموں پر بھی ہوتا ہے۔ یہاں پر فکشن
’’میرا عظیم وطن، میرا کشمیر، نرم خو، حلیم اور حسین کشمیریوں کی زمین۔ دانشوروں،فنکاروں اور دستکاروں کا خطہ، ریشم و پشم، زعفران زاروں اور مرغزاروں کی سرزمین، پہاڑیوں اور
خواتین افسانہ نگاروں میں آمنہ ابوالحسن ایک بڑا نام ہے۔موصوفہ کی پیدائش 10مئی 1941 کو حیدر آباد میں ہوئی۔ ان کا اصل نام سیدہ آمنہ اور قلمی نام آمنہ
عالمگیریت ایک ایسا حقیقی اور لا محدود عمل ہے جس نے اس دنیا میں موجود ہر شخص اورہر فرد یہاں تک کہ دنیاکے مادّ ی اور غیر مادّ ی
اساطیر کی دنیا، فکشن کی دنیا کی طرح ہی بے حد وسیع، حیرت ناک،سحرانگیز، دلکش ،پیچیدہ اور متنوع ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جس میں بوالعجبی بھی ہے،
حکیم آغا جان عیش کا تعلق اس مغل خاندان سے تھا جو عہد شاہی میں نواح بخارہ سے ہجرت کرکے ہندوستان آیا۔ پہلے اس کا قیام کشمیر میں ہوا
ادب کی دنیا میں نازش پرتاپ گڑھی کی شخصیت کسی رسمی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ وہ ایک شہرت یافتہ شاعر تھے۔ وہ قصبہ سٹی(بیگم وارڈ) پرتاپ گڑھ کے ایک