کتابوں سے ہی ہوتی ہے تقدیر تابندہ

April 4, 2024 0 Comments 0 tags

 

کتابوں سے نہ صرف ملکوں اور قوموں کی تصویر بدلتی ہے بلکہ تقدیر بھی سنور جاتی ہے اور ہمارے خوابوں کو نئی تعبیر بھی ملتی ہے۔ کتابیں اس روشنی کی مانند ہیں جو ہمارے باطنی وجود کو معطر اور منور کرتی ہیں اسی لیے ہر عہد میں کتابوں کی ضرورت محسوس ہوتی رہی ہے کیونکہ کتابیں ہی ہمیںتہذیبی، ثقافتی، تاریخی، علمی اور ادبی ورثے سے جوڑتی ہیں۔ اس ورثے کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ اسی لیے قومی اردو کونسل نے اپنی تاسیس سے لے کر اب تک اس علمی اور ادبی سرمایے کے تحفظ کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور اپنے اشاعتی سلسلے کے ذریعے گھر گھر علوم و فنون کی کتابیں عوام تک پہنچانے کا کام کررہی ہے۔

قومی اردو کونسل ایک ایسا ادارہ ہے جس نے ہندوستان جیسے کثیر لسانی معاشرے میں اردو کے علمی و ادبی سرمایے کی اشاعت اور فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس ادارے کی کچھ ایسی اسکیمیںبھی ہیں جن سے اردو زبان کی بقا اور تحفظ کے دروازے کھلے ہیں۔ اشاعت کے باب میں قومی اردو کونسل نے امتیازی نشانات مرتسم کیے ہیں۔  اس ادارے نے اب تک ادبیات، انسائیکلوپیڈیا ، لغات، تاریخ، تعلیم و تدریس، سوانح، مونوگراف، زبان و لسانیات، سائنس/ تکنیک/ جغرافیہ، سماجیات، سیاسیات، صحافت، طب و معالجات، فلسفہ، فنون لطیفہ، قانون، کتب خانہ داری و کتابیات، معاشیات/ تجارت، نفسیات، بچوں کا ادب پر  1400 سے زائد کتابیں شائع کی ہیںمگرکتابوں کی صحیح طور پر نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے اشاعتی تسلسل کو برقرار رکھنے میں بہت سی تکنیکی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ انہی اشاعتی دشواریوں اور دقتوں کے پیش نظر گذشتہ دنوں ’اردو کتابوں کی اشاعت اور فروغ کے نئے امکانات کی تلاش‘ کے عنوان سے ایک میٹنگ کا اہتمام کیا گیا جس میں زیادہ تر شرکا اور مقررین نے کتابوں کی فروخت کے امکانات کی تلاش کے ساتھ عملی اقدامات پر بھی زور دیا۔  میٹنگ میں جو تجاویز پیش کی گئیں ان میں یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبا کی عملی حصے داری، سینٹرل اور ڈپارٹمنٹل لائبریریوں کے ذریعے کونسل کی کتابوں کی خریداری، نصاب (Syllabus) میں ریفرنس بک اور استفادی کتابیات کی حیثیت سے کونسل کی کتابوں کی شمولیت اور جامعات کے اردو شعبہ جات میں قومی اردو کونسل کی کتابوں کی نمائش اور نئی مطبوعات پر مذاکرے کا اہتمام قابل ذکر ہیں۔ میٹنگ میں یہ بات طے پائی کہ یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرز کو ترغیب دی جائے کہ وہ اپنے تعلیمی وظائف کا ایک حصہ کتابوں کے لیے ضرور مختص کریں اور اساتذہ کلاس روم لیکچرز میں طلبا کو مطالعے کی طرف راغب کریں۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ اساتذہ کے اندر بھی کتابیں خریدنے کا رجحان عام کیا جائے۔ قومی اردو کونسل چاہتی ہے کہ کالجز /اسکولز کے اساتذہ، طلبا اور محبانِ اردو بھی کتابوں کی فروخت کے سلسلے میں تعاون فرمائیں اور اپنے احباب اور اطراف واکناف میں لوگوں کو کتابیں خریدنے کی ترغیب و تحریک دیں تاکہ قومی اردو کونسل اپنے اشاعتی سفر کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھ سکے۔ قومی اردو کونسل یہ بھی چاہتی ہے کہ ہر علاقے میں مطبوعات کونسل کی نمائش اور فروخت کا اہتمام کیا جائے، اس سلسلے میں اردو کے اداروں اور تنظیموں کی معاونت کی بھی ضرورت ہے۔ اردو ادارے اورتنظیمیں کتابوں کی فروخت اور نمائش کے تعلق سے قومی اردو کونسل کو director@ncpul.in پر تجاویز ارسال کریں تو اس کو عملی جامہ پہنانے کی ہرممکن کوشش کی جائے گی۔

https://www.urducouncil.nic.in/downloads/price-list-ncpuls-publication-0

https://www.urducouncil.nic.in/e-library/pdf-book

https://www.urducouncil.nic.in/e-library/ncpul-magazines

https://www.urdu-elibrary.com/home

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

علامہ شبلی کی شعری کائنات: درسیاتی تناظر میں مضمون نگار: سید یحییٰ نشیط

علامہ شبلی کی شعری کائنات:  درسیاتی تناظر میں سید یحییٰ نشیط  شمس العلما اور رفقاءِ سر سید میں شبلی اگرچہ کم عمر رہے ہیں لیکن ان کی علمی و ادبی

شکستہ قدروں کا نوحہ خواں عنبر بہرائچی، مضمون نگار: عظیم اقبال

 ماہنامہ اردو دنیا، اگست 2024 عنبر بہرائچی ہندوستان کے گراں قدر ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ ہیں۔ موصوف کا نام نامی محمد ادریس ہے۔ عنبر تخلص ہے۔ وطن موضع سکندر پور،

آمنہ ابوالحسن: اردو افسانے کا ایک معتبر نام – مضمون نگار : ارشاد شفق

  خواتین افسانہ نگاروں میں آمنہ ابوالحسن ایک بڑا نام ہے۔موصوفہ کی پیدائش 10مئی 1941 کو حیدر آباد میں ہوئی۔ ان کا اصل نام سیدہ آمنہ اور قلمی نام آمنہ