تلخیص:
یہ مضمون دراصل قصیدہ کے فن ، ہیئت اور موضوعات پر مرکوز ہے۔ اس میں قصیدہ کی بنیادی غرض و غایت سے لے کر اس کے اجزائے ترکیبی پرتفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ مضمون میںاردو و فارسی قصیدہ پر عربی قصائد کے اثرات کا محاکمہ پیش کیا گیا ہے اور اس کو دلائل و براہین کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔مضمون نگار نے قصیدہ کے اجزائے ترکیبی کو مثالوں سے سمجھانے کی کوشش کی ہے ساتھ ہی ساتھ قصیدہ کے موضوعات کو بھی اشعار کے ذریعہ قارئین سے روبرو کرنے کی کوشش کی ہے۔
کلیدی الفاظ
قصیدہ، نسیب ، تشبیب، مشبب، غیر مشبب، ابن رشیق، العمدہ،مسجع، مقفیٰ، ایطائے عیوب، قاموس،المنجد،تاریخ الشعرالعربی،فرزدق، عنترہ بن شداد، سبعہ معلقہ،مسمط، مزدوج،متفق علیہ، مخمس، مسدس،قبیلۂ بنی بکر،جریر، اخطل،خاقانی، عرفی، انوری، زنار ، تسبیح سلیمانی،شان وشوکت، طمطراق، ذوالمطالع، ذوی المطلعین، مغز غلیظ، گاڑھا، گودا، سبطر،مقتضب،بہمن ودے،تیغ اردی، عشقیہ، بہاریہ، فخریہ، حالیہ، بیانیہ،گریز، مدح، دعا۔
————
’قصیدہ‘ عربی زبان کا لفظ ہے جو قصد سے مشتق ہے۔اس کے معنی ’نیت یا ارادہ‘ کرنے کے ہیں۔ لغت کے اعتبارسے قصیدہ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن عرف عام میں جو مقبول ومعروف اور رائج ہے وہ نیت یا ارادے کے ہے اور جمہور علماکا اس پر اتفاق بھی ہے۔ معنی کے ساتھ ساتھ عرب ناقدین کا ایک بڑا گروہ اس بات کی تائید میں ہے کہ شاعری میں دیگر شرائط کے علاوہ ’قصدوارادہ‘ کی شمولیت بھی ضروری ہے اور وہ اس کو شاعری کی بنیادی شرطوں میں تسلیم کرتے ہیں۔اسی طرح ناقدین بالخصوص عرب ناقدین نے قصیدہ میں تعدد اشعار، مشبب وغیر مشبب، مطلع و حسن مطلع اور قافیہ کے اختلافات کو بھی اپنی نقد میں جگہ دی ہیں۔اس مضمون میں قصیدے کے متعلق مندرجہ بالا اختلافات کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ بتانے کی سعی بھی کہ قصیدہ میں مطلع کی کتنی اہمیت ہے۔ قصیدہ کے اشعار میں مطلع وحسن مطلع وقافیہ کی پابندی پر بھی مدلل بحث کی گئی ہے۔
پروفیسر ایف کرنیکو انسائیکلو پیڈیا آف اسلام میں لکھتے ہیں:
’’قصیدہ اور (بعض حالات میں) قصیدعربی(فارسی اور ترکی وغیرہ) منظومات کی ایک صنف کا نام ہے ، جو کسی قدر طویل ہو۔ یہ لفظ عربی مادّہ ’’قَصَدَ‘‘ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں ارادہ کرنا۔۔۔۔‘‘1؎
’ العمدہ ‘کے مصنف ابن رشیق کی رائے اس سے کچھ مختلف ہے ۔ قصیدہ میں نیت کی شرط کے وہ بھی قائل ہیں۔ وہ اپنی کتاب میں’ رجز‘ اور’قصیدے‘ کے فرق پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ لأنَّ اِشْتِقَاقَ الْقَصِیْٖدِ مِنْ قَصَدْتُ اِلی الشَّئِی کأَنَّ الشَّاعِرَ قَصَدَ اِلیٰ عَمَلِھَا ‘‘2؎
وہ اپنی بات کی توثیق کے لیے براہین ودلائل سے استنباط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ اللہ کے رسول کا ذکر کرتے ہیں کہ ؛ پیغمبر اسلام نے ایک بار چند فقرے کہے، جو بظاہر دو مصرعوں کی صورت میں تھے، یہ مصرعے با معنی بھی تھے اور موزوں ومقفّیٰ بھی ، لیکن اسے شعر نہیں سمجھا گیا، کیونکہ اس کے کہنے میں پیغمبر اسلام کے قصْدونیت کا عمل دخل نہ تھا۔
’’ وَاِنَّمَا الدَّلِیْلُ فِیْ قَوْلِہِ النَّبِیّ صَلّیٰ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَدْمُ الْقَصْدِ وَالنِیَّۃِ لأَِنَّہٗ لَمْ یَقْصِدْ بِہِ الشِّعْرَ وَلَانَوَاہُ فَلِذَالِکَ لَا یَعُدُّ شِعْراً وَاِنْ کَانَ کَلاَماً مُتَزَّناً ‘‘3؎
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول (موزوں فقرے) کو شعر نہ سمجھنے کی دلیل قصد ونیت کا فقدان ہے۔ کیونکہ آپ نے اِن فقروں سے نہ تو شعر کا قصد کیا تھا اور نہ اس کی نیت، اس لیے اسے شعر نہیں سمجھا جاتا، اگرچہ وہ کلامِ موزوں ہے۔‘‘
’نیت وارادے‘ کی قید وبندش کے ساتھ ساتھ ناقدین عرب میں قصیدے کے اشعار کی تعداد میں بھی اختلاف ہے ۔بقول ابن رشیق:
’’ وَقِیْلَ اِذَا بَلَغَتِ الْاَبْیَاتُ سَبْعَۃً فَھِیَ قَصِیْدَۃٌ وَلِھٰذَا کَانَ اِیْطَائُ بَعْدَ سَبْعَۃٍ غَیْرُ مُعَیْبٍ عِنْدَ اَحَدِ النَّاسِ۔ ‘‘4؎
’’کہا جاتا ہے کہ جب اشعار کی تعداد 7 تک پہنچ جائے تو قصیدہ کا اطلاق ہوجاتا ہے۔ اسی لیے 7 شعر کے بعد کچھ لوگوں کے نزدیک ایطا عیوبِ قوافی میں شامل نہیں۔‘‘
وہ مزید لکھتے ہیں:
’’وَمِنَ النَّاسِ مَنْ لَا یَعُدُّ الْقَصِیْدۃَ اِلَّا مَا بَلَغَ الْعَشَرَۃَ وَجَاوَزَھَا وَلَوْ بَیْتٌ اَحَدٌ‘‘5؎
’’ بعض لوگ قصیدہ اسے سمجھتے ہیں جس کے اشعار کی تعداد 10 سے تجاوز کرجائے خواہ ایک ہی شعر زائد ہو۔‘‘
عربی کی مشہور لغت قاموس میں درج ہے:
’’قصیدہ اسے کہتے ہیں جس کے ابیات کا شطر مکمل ہو اور 3 یا 16 شعر سے زائد ہوں۔‘‘6؎
عربی کی مشہور ومقبول لغت ’اَلْمُنْجِد‘ کے مولف کا خیال ہیں:
’’اَلْقَصِیْدَۃُ مِنَ الشِّعْرِ: مَاجَاوَزَ سَبْعَۃَ أَوْعَشَرَۃَ اَبْیَاتٍ‘‘7؎
’’قصیدہ وہ ہے جو 7 یا 10 شعر سے تجاوز کرجائے‘‘
یہ بات حقیقت بر مبنی ہے کہ عربی ادب میں لفظ’قصیدہ‘ شروع سے ہی اصطلاحی معنوں میں مستعمل رہاہے۔واضح رہے کہ جب قصیدہ کی اصطلاح وضع ہوئی ہوگی تو غالب گمان ہے کہ اس کا اطلاق ایک شعر پر کیا گیا ہوگا اور اس سے زیادہ پر بھی لیکن بہت جلد اس کے اصطلاحی مفہوم میں ایک اور شرط’ تعددِ اشعار‘ کی لگا دی گئی اور بعد میں مزید دیگر شرائط کے التزام کی صورت پیش آئی ۔ ان ہی اختصاص کی وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ قصیدہ بااعتبار معنی و مضمون آفرینی کے عربی کی دوسری اصناف سخن سے ممتاز ہے۔ پروفیسرنجیب محمدبہبیتی ’تاریخ الشعر العربی‘ میں کہتے ہیں کہ عربی قصیدے میں مختلف فنون شعری بیان کیے جاتے ہیں،مثلاً:
’’ فَالْفُنُوْنُ الشِّعْرِیَّۃُ الْمُخْتَلِفَۃُ تَنْدَرِجُ فِی الْقَصِیْدَۃِ الْعَرَبِیَّۃِ فِیْ صَوَابَتِھَا البَّاقِیَۃِ عَلیٰ حَالِتِہِ مِنَ الْاِسْتِدَادِ مِنْ فَنٍّ اِلیٰ فَنٍّ۔‘‘8؎
یہ بات واضح ہے کہ کم سے کم اشعار کی تعداد قصیدے کی اولین شرط ہے۔اس کی تائید فارسی اور اردو کے محققین وناقدین کے قول سے بھی ہوجاتی ہے۔ یہ بات اور ہے کہ مؤخر الذکر کے نزدیک مطلع اور قافیہ کی شرط لازمی اور آخری ہے۔
دراصل فارسی اور اردو قصائد کے اصناف کی تقسیم عروضی ترکیب کے لحاظ سے کی گئی ہے، اورجہاں تک عربی شاعری کا سوال ہے تو انھوں نے قصیدے کو متعدد صورتوں میں پیش کیا ہے۔
الف زیادہ تر(تقریباً تمام تر) قصیدے کے مصرع ثانی ہم قافیہ ہوتے ہیں اور شروع میں مطلع ہوتا ہے۔
ب بعض قصیدے آخری مصرعوں میں( یعنی: مصرعِ ثانی )ہم قافیہ تو ہیں لیکن مطلع سے خالی ہیں۔ فرزدق کے بہت سے اشعار اس ضمن میں آتے ہیں۔
ج بعض قصیدوں کے شروع میں دو دو اور تین تین مطلعے ہوتے ہیں۔ناقدین کے نزدیک سبعہ معلّقہ شاعر عنترہ بن شدادکے بعض قصیدوں میں یہ صفات پائی جاتی ہیں۔
د بعض قصیدوں میں مطلع پہلے شعر کے بجائے دوسرے شعر میں یا کئی کئی شعر کے بعد ملتے ہیں۔ مثلاً ذوالرومہ نے کئی شعر کے بعد مطلع کہا ہے۔ اخطل نے پہلے شعر کے بجائے دوسرے شعر کو بطور مطلع کہا ہے۔
ہ بعض قصیدے مُسَمَّط کی شکل میں بھی ہیں، جن کی متعدد شکلیں ہیں۔
و مزدوج(مثنوی) کی شکل میں بھی کچھ قصیدے ملتے ہیں۔9؎
مذکورہ بالاقسموں کے علاوہ بھی کچھ قسمیں ہیں لیکن عربی میں پہلی شکل کے علاوہ قصیدے کی اور کوئی شکل مقبول نہیں ہوئی۔ اس لیے دوسری شکلوں بالخصوص مُسَمَّط یا مزدوج میں جوقصیدے کہے گئے ان کے قصیدہ نگاروں پر الزام عائد کیا گیا کہ انھیں قافیے ہاتھ نہیں آئے اس لیے انھوں نے ایسا طریقہ اختیار کیا۔
جہاں تک دوسری شکل کا تعلق ہے(جس میں مطلع نہ ہو) عربی شاعری میں بہت کم قصیدے اس نوعیت کے ہیں۔ عرب ایسے شاعر کی مثال ایسے شخص سے دیتے جو چور دروازے سے گھر کے اندر داخل ہونا پسند کرتا ہے۔بقول ابن رشیق:
’’ وَاِذَا لَمْ یُصْرَعْ الشَّاعِرُ قَصِیْدَتَہٗ کَانَ کَالْمَسْتُوْرِ الدَّاخِلِ مِنْ غَیْرِ بَابٍ ‘‘10؎
الغرض عربی شاعری کا تقریباًتمام سرمایہ پہلی شکل میںمروج ہے۔ فارسی اور اردو شعرا نے عربی شاعری کی اسی پہلی مروجہ شکل کی پیروی کی ہے۔یعنی: قصیدہ کاپہلا شعر مطلع سے خالی نہ ہو اورمصرع ثانی میں قافیہ کی پابندی لازمی ہو۔
اصناف کی یہ عروضی تقسیم متفق علیہ ہے، اس کے باوجود ڈاکٹر محمود الٰہی کو قصیدہ کے عروضی تقسیم سے اختلاف ہے۔ وہ اشکال کرتے ہیں کہ اگر ایسا مان لیا جائے تو ذوق کا وہ مسدس جو بہادر شاہ ظفر کی تعریف میں ہے جس کو محمد حسین آزاد نے اپنے مرتبہ دیوان میں قصیدہ کے ضمن میں رکھا ہے یا قدر بلگرامی کا مخمسہ قصیدہ بنام ’شام اودھ‘ کا کیا ہوگا؟ ایسی صورت میں وہ لکھتے ہیں:
’’اگر ذوق کے مسدس اور قدربلگرامی کے مخمس وغیرہ کو اس لیے قصیدہ مان لیا جائے کہ وہ مدحیہ مضامین کے حامل ہیںتو اردو کی ساری مدحیہ شاعری کو قصیدہ کہنا چاہیے، خواہ وہ کسی بھی عروضی ڈھانچے میں ہو اور سودا کے شہر آشوب نیز دوسرے مدحیہ قصیدوں کو قصیدے کی ضمن سے الگ کردینا چاہیے، یہی نہیں، اردو کی تمام اصناف سخن پر نظرثانی کرنی پڑے گی۔ بہت سی غزلوں کو قصیدہ اور مرثیے کے خانے میں لے جانا پڑے گا، اور اسی طرح کتنے مسدس اور مخمس کو غزل کہنا پڑے گا۔‘‘11؎
اس لیے وہ قصیدہ کے عروضی تقسیم کی بجائے معنوی اور موضوعاتی تقسیم کے قائل ہیں۔
عربی ادب میں قصیدہ کی دو قسمیں ہیں مدحیہ اور ہجویہ
عربی ادب میں یہ دونوں ایک مستقل صنف کی حیثیت رکھتے ہیں، جب کہ اردو میں ایسا نہیں ہے۔اردو میں قصیدہ ایسی صنف سخن کو کہتے ہیں جس میں مدحیہ و ہجویہ مضامین استعمال ہوتے ہوں۔ بقول عبدالسلام ندوی:
’’ جن فضائل ومناقب پر قصیدہ کی بنیاد قائم ہے ، انہی کے سلب کرنے کا نام ہجو ہے‘‘12؎
اردو شعرا میں چند کے کلام میں ہجویہ اشعار ملتے ہیں، ان میں شاکر ناجی، میرضاحک،مرزا سودا، بقا اللہ بقا اور انشا قابل ذکر ہیں ان شعرا کے کلام میں فحاشی، عریانیت اور بدزبانی اس حدتک بڑھی ہوئی ملتی ہے کہ پردہ نشیں خواتین تو درکنار مہذب معاشرہ کی محفل میں اس کو پڑھنا دشوار تھا۔الغرض ناسخ کے زمانے میں اس کا خاتمہ ہوگیا تھا لیکن رفتہ رفتہ شعرا نے اس کی دوسری شکل اختیار کرلی۔ ان کے کلام میں سب وشتم، طعن وتشنیع اور طنز وکنایہ کی بجائے مذہبی اور اخلاقی الفاظ اشارہ وکنایہ کی شکل میں ملنے لگے۔ حالی، اسماعیل میرٹھی اور اکبرالہ آبادی وغیرہ کے کلام اس سے بھرے پڑے ہیں۔ہجو کے متعلق ابن رشیق کا یہ کہنا ہے :
’’فَامَّااِنْقَذَفَ وَالْاَفْحَاشَ نِسْیَابٌ مَحَض وَلَیْسَ لِلشَّاعِرِ فِیْہِ الْاِقَامَۃَ الْوَزَنِ‘‘13؎
’’تہمت لگانا اور بدزبانی کرنا توگالی گلوج کرنے جیسا ہے، شاعر نے اس کوصرف موزوں کردیا ہے۔‘‘
عرب ناقدین نے ہجو کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہے۔14؎
1. ہجو میں کسی کے جسمانی یا آبائی عیوب کا ذکر نہیں کرنا چاہیے۔
2. ہجومیں ہمیشہ اصل اور سچے عیوب کا ذکر کرنا چاہیے۔
3. ہجو میں(شریف اور بلند رتبہ اشخاص کے لیے) تصریح کے بجائے صرف تعریض سے کام لیناچاہیے۔
4. ہجو میں ہمیشہ اشخاص کے اختلاف مراتب کا لحاظ رکھنا چاہیے۔
5. ہجومیںاشعار کی تعداد بھی محدود ہونی چاہیے اور جریر کے سوا تمام شعرا نے اس سے اتفاق کیا ہے۔
6. ہجو کا طرز بیان مہذب متین اور فحاشی سے خالی ہونا چاہیے۔ جیسا کہ عمر بن العلا کا قول ہے:
’’خَیْرُ الْھِجَائِ مَا تُنْشِدُہُ الْعُذْرَا فِیْ حَذْرِھَا‘‘
’’بہترین ہجو وہ ہے جس کو ایک باکرہ عورت اپنے خیمہ کے اندر پڑھ سکے۔‘‘15؎
’ قصیدہ ‘ لفظ کاذکر سب سے پہلے عربی شاعری میں ملتا ہے۔ دور جاہلیت کے ایک شاعرجوقبیلہ بنی بکر سے تعلق رکھتا تھااس نے ایک دوسرے قبیلہ بنی تغلب کی ہجو میں ایک شعر کہاجس میں لفظ ’قصیدہ‘ کاپہلی بار استعمال کیا۔ شاعر کہتا ہے ؎
اِلٰہِیْ بَنِیْ تَغْلَبْ عَنْ کُلِّ مَکْرِمَتِہِ
قَصِیْدَۃً قَالَہَا عَمْرُوبْنِ کُلْثُوْمِ
’’یہ شعر اس وقت کہا گیا ہے جب عمر وبن کلثوم نے اپنا مشہور فخریہ قصیدہ کہہ کر سارے عرب میں ایک دھوم مچادی تھی۔‘‘
اس شعر سے پتہ چلتا ہے کہ جاہلیت میں لفظ قصیدہ اصطلاحی معنوں میں مستعمل تھا۔
مذکورہ بالا روایت کی تصدیق ڈاکٹر ام ہانی اشرف کے اس قول سے بھی ہوجاتی ہے:
’’عربوں میں مذاق شعر نہایت پاکیزہ اور تربیت یافتہ تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شعر گوئی کی تاریخ بہت پیچھے تک جاتی اور تاریخ کے دھندلکوں میں گم ہوجاتی ہے ۔ جس زمانے کی عربی شاعری کا سرمایہ ہمیں دستیاب ہے وہ یقیناً ترقی کے مختلف مدارج طے کرنے کے بعد کا ہے۔‘‘16؎
عربی کی طرح فارسی اوراردو میں بھی قصیدہ کے ایک معنی ’قصد کرنا‘ یا ’ارادہ‘ کرنے کے ہیں۔ لغت کے حساب سے اردو ناقدین نے قصیدہ کی مختلف تعریفیں کی ہیں۔ بعض نے اس کے معنی ’مغز غلیظ‘، ’ سبطر‘بتائے ہیں تو بعض نے ایک فارسی لغت کے حوالے سے اس کے معنی’مغزگاڑھا‘ اور’مغز گودا‘ کے بتایا ہے۔
میرے خیال میں قصیدہ اپنی لغوی معنی کی بجائے اصطلاحی معنی میں زیادہ موزوں ومناسب ہے، کیونکہ قصیدہ ایسی نظم کو کہتے ہیں جس میں شاعر نیت و ارادے کے ساتھ کسی کی مدح یا ہجوکرے، بایں شرط کہ اس کے پہلے دونوں مصرعے اور بقیہ نظم کے مصرع ثانی ہم قافیہ و ہم ردیف ہوں۔ ایسی نظم قصیدہ کہلاتی ہے۔
جہاں تک فارسی قصیدہ نگاری کی روایت کا تعلق ہے تو وہ بھی عربی شاعری کے زیر اثر آئی ہے۔ انوری، ظہیر فاریابی، خاقانی، ابوالفرج رونی، عبدالواسع، میر معری نیشاپوری، ارزقی اور رشیدالدین وطواط، نظیری، عرفی ، سعدی، قدسی، طالب آملی ، کلیم اورعلی قلی سلیم وغیرہ ایسے نام ہیں جنھوں نے فارسی قصیدہ نگاری کو درجۂ کمال تک پہنچایا۔اردو قصیدہ نگاری کی روایت کا تعلق بھی کچھ اس سے مختلف نہیں۔اردو میں قصیدہ نگاری کی ابتدا دکن سے ہوئی ۔ محمد قلی قطب شاہ اردو کے پہلے قصیدہ نگار ہیں۔ ان کے علاوہ دکن کے کئی معروف شعرا نے اس فن میں طبع آزمائی کی۔ ان میں مقیمی، ہاشمی اور عاشق وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
اردو شعرا کا تعلق درباری زندگی سے تھا۔شعرا اس کے ذریعہ بادشاہ یا امیر وقت کی تعریف وتحسین کیا کرتے تھے اور اس کے عوض میں انھیں انعامات اورخلعتوں سے نوازا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا بیانیہ مبالغہ آمیزہوا کرتا تھااور کبھی کبھی تو غلو کے درجہ کو پہنچ جاتا تھا۔یہ تمام چیزیں اردو شاعر میں عربی شاعری کی بجائے فارسی شعرا کے تتبع میں آئی تھیں۔ اس سلسلے میں کلیم الدین احمد اردو قصیدہ گو شعراکو اپنے مشورے سے نوازتے ہوئے لکھتے ہیں ’’اگر عربی قصیدوں کی تقلید ہوتی تو شاید ایسی بدنمائی نہ ہوتی۔‘17؎
وہ مزید فرماتے ہیں:
’’عرب مبالغہ آمیز اور بے معنی مداحی سے گریز کرتے تھے۔ اس قسم کی بات کو باعث ننگ سمجھتے تھے۔ وہ مدح کرتے تھے تو انعام واکرام کے لیے نہیں بلکہ اپنے دلی تاثرات سے مجبورہوکر۔‘‘18؎
اردو میں وہ سودا کے قصیدے سے پر امید ہیں او ر ان کی مدح میں لکھتے ہیں:
’’اردو شعرا عربی قصیدوں سے کچھ نہیں سیکھتے۔ ایک سودا کو لیجیے وہ خاقانی، عرفی، انوری سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے قصیدوں پر قصیدے لکھتے ہیں۔ خاقانی کے مشہور قصیدہ: ’کہ ہمت رازناشوئیست بازانووپیشانی‘ پر نعتیہ قصیدہ لکھتے ہیں ؎
ہوا جب کفر ثابت ہے وہ تمغائے مسلمانی
نہ ٹوٹی شیخ سے زنّار تسبیح سلیمانی‘‘19؎
قصیدے میں ہر طرح کے خیالات کے ساتھ ساتھ مذہبی رنگ کی بھی آمیزش ملتی ہے۔ اردو میں اس کی بہترین مثال سودا ،امیر مینائی اور محسن کاکوروی کے قصیدے ہیں۔عربی شاعری اس نوع کی شاعری سے بھری پڑی ہے۔ حقیقی جوش، اصلی جذبہ کی زبان ہمیشہ سیدھی سادھی ہوتی ہے برخلاف قصیدہ کے کہ اس کی زبان میں نہ جوش ہوتا ہے اور نہ ذاتی جذبہ، پھر سادگی کا وجود ناممکن نہیں تو مشکل ضرورہوتا ہے۔
قصیدے کی زبان میں سلاست، روانی اور متانت ضروری ہے لیکن اس میں شان وشوکت، طمطراق اوربلند آہنگی کواہمیت دی جاتی ہے۔ غزل کے مقابلے میں قصیدے طویل ہوتے ہیں۔ یوں کہیں کہ ایک قصیدہ میں کئی کئی غزلیں موجود ہوتی ہیں ۔ اسی مناسبت سے اسے ذوالمطالع یاذویالمطلعین بھی کہا جاتا ہے۔ اشعار مربوط ومسلسل ہوتے ہیںاورہم قافیہ ہوتے ہیں۔ طویل اور رفعت خیال ہونے کی بناپرقصیدہ میں قافیہ کا چناؤ کسی ٹیڑھی کھیر سے کم نہیں تاہم شاعر دور کی کوڑی لانے سے گریز نہیں کرتا،حتیٰ کہ قاری کو لغت دیکھنے پر مجبورہونا پڑتا ہے۔مثال کے طور پر سودا کے مشہور قصیدے کا مطلع ؎
اٹھ گیا بہمن و دے کا چمنستان سے عمل
تیغ اردی نے کیا مُلکِ خزاں مُسْتاصَل
اس قصیدے میں مذکورہ الفاظ اور قافیہ اپنے آپ میں بے مثال ہیں۔دیکھیے، مستاصل، ہبل، کسل، اقل، اچپل، خردل، ذلل، بشکل، لاینحل وغیرہ۔ اسی طرح بہمن جو برہمن کا مخفف ہے، تیغ اردی، خزاں وغیرہ الفاظ کے معنی کے لیے قاری کو لغت کا سہارا لینا ہی پڑتا ہے۔
موضوع کے اعتبار سے عربی شاعری کووسعت و کمال حاصل ہے برخلاف اردو شاعری کے اس میں مدح و ذم کے سوابہت کچھ نظرنہیں آتا۔ موضوع کی یہ تخصیص اردو میں فارسی کے توسط سے داخل ہوئی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اردو قصائد تنگ دامنی کا شکار ہیں بلکہ اس میں بھی پندونصائح، اخلاق وحکمت، کیفیت بہار، گردش زمانہ جیسے موضوعات کو مشق سخن بنایاگیا ہے۔شعرا ، رؤسا اور بزرگان دین کے اوصاف حمیدہ کے بیانیات پر بھی طبع آزمائی کی گئی ہے۔ ظاہری شکل کے پیش نظر قصیدے کے موضوعات کی عموماً دو قسمیں کی جاتی ہیں۔تمہیدیہ اور خطابیہ اس کو مُشَبَّب اور مُقْتَضَبْ (غیر مشبب) بھی کہا جاتاہے۔
تمہیدیہ( مُشَبَّبْ) ایسے قصیدے کو کہتے ہیںجو تشبیب کا حامل ہو۔ایسے قصیدوں میں ممدوح کی سیرت کے اوصاف اور اس کے ساز و سامان اور دیگر متعلقات کی تعریف و توصیف سے قبل بطور تمہید تشبیب وگریز کا خیال رکھاجاتا ہے اس کے بعد شاعر اصل مدعا کی طرف رجوع کرتا ہے۔ زمانۂ جاہلیت کے قصیدے اکثر تشبیبی اشعار سے شروع ہوتے تھے۔تشبیب میں شعرا اکثرعشقیہ مضامین رقم کرتے تھے۔ ’العمدہ‘ کا مصنف لکھتا ہے:
’’وَمِنْ عُیُوْبِ ھٰذا الْبَابُ اَنْ یَکُوْنَ التَّشْبِیْبُ کَثِیْراً وَالْمَدْحُ قَلِیْلاً‘‘20؎
’’قصیدے کے معائب میں ایک عیب یہ ہے کہ تشبیہ زیادہ ہو اور مدح کم ہو۔‘‘
عربی شاعری میں ابن رشیق کے زمانے میں اور اردو شاعری میں انشا کے زمانے میں شعر ا کے کلام میں اس طرح کی غلطیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر شہزادہ سلیمان شکوہ کی مدح میں انشا کا لکھا ایک قصیدہ جس کا مطلع یہ ہے ؎
صبح دم میں نے جو لی بستر گل پر کروٹ
جنبش باد بہاری سے گئی آنکھ اوچٹ
شاعر نے اس کی تشبیب کواتناطول دیا ہے کہ اس کے اشعار کی تعداد مدحیہ اشعار سے بڑھ گئی ہے۔21؎ تشبیب میں تصنع اور تکلف کے برخلاف حقیقت بیانی سے کام لیا جاتا تھا۔شعراان میں واردات قلبی بیان کرتے تھے۔ اپنے عشق کی سچی داستانیں قلمبند کیا کرتے تھے۔ان کی کوشش رہتی کہ ان کومِن وعَن بیان کیا جائے لیکن اس کے باوجودان میں کبھی کبھار مبالغہ اور غلو سے بھی کام لے لیا جاتاتھا۔شعرا اس بات کا خیال رکھتے کہ وہ اپنی تشبیب میں جن اعزہ و اقارب، دوست یا محبوبہ کا ذکر کرتے وہ ان کی اپنی جان پہچان کی ہو یا ان کے اپنے رشتے دارہو یا جن مقامات کا ذکر کرتے وہ ان کے مانوس مقامات ہوتے جن سے ان کے متعلقین آسانی سے پہچان لیے جاتے۔
سبعہ معلقہ کے مشہور شاعر امرؤ القیس نے اپنی شاعری میں اس کو خاص مقام دیا ہے۔وہ سوتیلی ماؤں اور خاندان کی لڑکیوں کو اکثر اپنی ’تشبیب‘ میں جگہ دیتا تھا۔22؎ انھوں نے اپنے معلّقہ میں عشق ومحبت کی کہانیاں خوب مزے لے لے کر بیان کی ہیں۔ذیل میں ان کا ایک شعر درج کیا جارہا ہے جس میں انھوں نے محبوبہ کا نام تو نہیں لیاہے لیکن ان مقامات کا ذکر کیا ہے جہاں انھوں نے اپنی محبوبہ کے ساتھ حسین لمحات گزارے ہوں گے ؎
قِفَا نَبْکِیْ مِنْ ذِکْریٰ حَبِیْبِیْ وَمَنْزِلِ
بِسِقْطِ اللِّویٰ بَیْنَ الدَّخُوْلِ وَحَوْمَلِ
’’میرے دونوں ساتھیو، ٹھہرجاؤ، آؤ محبوبہ اور اس کی قیام گاہ کی یاد میں دو آنسو بہالیں۔ قیام گاہ جو دخول اور حومل کے درمیان ایک ریت کے تودے پر واقع تھی۔‘‘
فارسی اور اردو کے زیادہ ترقصیدے مُشَبّب ملتے ہیں۔
خطابیہ (مُقْتَضَبْ) ایسے قصیدے کو کہتے ہیں جو تشبیب سے عاری ہو جس کو غیر مُشبّب بھی کہتے ہیں۔اس نوع کے قصیدے میں تشبیب وگریز کے اجزا نہیں ہوتے بلکہ راست ممدوح کی تعریف سے قصیدہ شروع کردیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر عالمگیرثانی کی مدح میں سودا کا یہ قصیدہ ملاحظہ ہو ؎
ہے اشتہارتجھ سے مرا، اے فلک جناب
رخشندگی ذرہ ہے از فیضِ آفتاب
یک تخم ہوں میں خاک نشینِ زمینِ شور
نشوونما دے مجھ کو کرم کا ترے سحاب
ہے یہ جہاں میں وہ درِ دولت سرا کہ یاں
ناکام بخت آن کے ہوتا ہے کامیاب
مُشَبّب قصیدہ کی اجزائے ترکیبی کی وضاحت ناقدین نے کچھ اس طرح سے کی ہے: (1) مطْلَع بشمولیت تشبیٖب(تمہید)، (2) گریز، (3) مدح، (4) حسنِ طَلَب مقْطَع یا خاتمہ (دعائیہ)
عربی قصیدے میں’حسن طلب‘ کا ذکر بہت کم ملتا ہے۔ہمارے شعرا نے اپنے قصیدوں میں اس کے خوب جوہر دکھائے ہیں۔عربی شاعری کی طرح فارسی اور اردو میں بھی اس کی پابندی لازمی نہیں ہے۔
موضوع کے لحاظ سے قصیدے کو کئی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
مدحیہ: ایسے قصیدے جن میں کسی کی مدح یا تعریف و توصیف بیان کی گئی ہو ۔مثال کے طور پر ’قصیدہ بردہ‘ یہ ایک ایسا قصیدہ ہے جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی گئی ہے اگرچہ اس قصیدے کی ابتدا عشقیہ مضامین سے ہوتی ہے۔ ملاحظہ ہوں اس قصیدے کے چند اشعار ۔
مطلع ؎
بَانَتْ سُعَادُ فَقَلْبِی الْیَومَ مَتْبُولُ
مُتَیَّمٌ اِثْرَھَا لَمْ یُفْدَ مَکْبُولُ
نعتیہ شعر ؎
اِنَّ الرَّسُولَ لسیفٌ یُسْتَضَائُ بِہِ
وَ مُھندٌ مِنْ سُیُوفِ اللّٰہِ مَسْلُولُ
اردو میں مرزا رفیع سودا کا نعتیہ قصیدہ’قصیدہ در نعت صلی اللہ علیہ وسلم‘ اس کی بہترین مثال ہے۔ملاحظہ ہوں تشبیب کے چند اشعار ؎
ہوا جب کفر ثابت ہے وہ تمغائے مسلمانی
نہ ٹوٹی شیخ سے زنّار تسبیح سلیمانی
ہنر پیدا کر اول ترک کیجو تب لباس اپنا
نہ ہوں جوں تیغ بے جوہر و گر نہ ننگ عریانی
خوشامد کب کریں عالی طبیعت اہل دولت کی
نہ جھاڑیں آستین کہکشاں شاہوں کی پیشانی
نعتیہ ا شعار ؎
زہے دین محمد پیری میں اس کی جو ہوویں
رہے خاک قدم سے اس کی چشم عرش نورانی
ملک سجدہ نہ کرتے آدم خاکی کو گر اس کی
امانت دار نور احمدی ہوتی نہ پیشانی
اسی کو آدم و حوا کی خلقت سے کیا پیدا
مراد الفاظ سے معنی ہیں تا آیات قرآنی
اسی طرح محسن کاکوروی کا نعتیہ قصیدہ ’در مدیح خیر المرسلین‘، ’سمت کاشی سے چلا جانب متھرا بادل‘ کبھی مدحیہ قصیدہ کی عمدہ مثال ہے۔
ہجویہ: ایسا قصیدہ جس میں کسی شخص کی برائی کی گئی ہو یا زمانہ کی شکایت کی گئی ہے۔’’ عربی میں اس کی اہمیت بھی دوسری اصناف سے کم نہیں، دراصل عربوں میں شاعر کی اہمیت ہجو کی وجہ سے بھی جانی جاتی تھی، چنانچہ جب کوئی قبیلہ کسی دوسرے قبیلے پر کوئی زیادتی کرتا تھا تو ہجو کے ذریعہ اس کی خبرلی جاتی تھی۔ ایک شاعر کے بارے میں یہ ذکر آتا ہے کہ کسی سردار نے اس کے ریوڑ کے کچھ جانور ہانک لیے، جب سردار کو پتہ چلا کہ وہ ایک شاعر کے جانور ہیں تو انھیں واپس بھیج دیا کہ مبادا کہیں اس کی ہجو نہ کہہ دے۔‘‘23؎
سودا کا ایک مشہور قصیدہ ’تضحیک روزگار‘ اس کی عمدہ مثا ل ہے جس میں انھوں نے زمانہ کی زبوں حالی کی اچھی تصویر کشی کی ہے۔مثلاً ؎
ہے چرغ جب سے ابلق ایام پر سوار
رکھتا نہیں ہے دست عناں کا بہ یک قرار
جن کے طویلے بیچ کوئی دن کی بات ہے
ہرگز عراقی و عربی کا نہ تھا شمار
اب دیکھتا ہوں میں کہ زمانہ کے ہاتھ سے
موچی سے کفش پا کو گھٹاتے ہیں وہ ادھار
سوداکا ایک دوسرا قصیدہ بعنوان ’شہر آشوب‘ بھی کچھ ایسے ہی موضوع پر لکھاگیاہے جس میں انھوں نے ایک ایسی زندگی کی تصویر کشی کی ہے جس میں لوگوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہوتی ہے جو دانے دانے کو محتاج ہوچکے ہوتے ہیں۔زندگی کی ساری آسودگی ، سکون چین سب ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ اس کو سودا نے اپنے قصیدے میں جگہ دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں ؎
اب سامنے میرے جو کوئی پیروجواں ہے
دعویٰ نہ کرے یہ کہ مرے منہ میں زباں ہے
میں حضرت سودا کو سنا بولتے یارو
اللہ رے اللہ رے کیا نظم بیاں ہے
گھوڑا لے اگر نوکری کرتے ہو کسو کی
تنخواہ کا پھر عالم بالاں پہ مکاں ہے
وعظیہ: ایسے قصیدے جن میں پندونصائح کو موضوع بنایا گیا ہو۔مثال کے طور پر سودانے ایک قصیدہ بعنوان ’قصیدہ در نصائح فن شعر‘ لکھا ہے جس میں انھوں نے اپنے استاد کی زبان سے اپنے لیے اصلاح کی بات کی ہے۔ قصیدہ سے ملاحظہ ہو ں چند اشعار ؎
اولاً یہ کہ مجالس میں زبان دانوں کی
تیرے آگے جو پڑھے کوئی سخن ور اشعار
سخن ایسا نہ ہو سرزد کہ دل اس کا ہو دو نیم
گو ہوئے تیغ زباں کا تری جوہر اشعار
دویمی، یہ جو تو چاہے کہ نہ مجھ سا ہو کوئی
شعر سے میرے کسی کے نہ ہوں برتر اشعار
شعر، تحسیں پہ بھی ناداں کی نہ پڑھیو یک بار
پڑھیو دانا کی تو نفریں پہ مکرر اشعار
سیومی، گر کہے تجھ سے کوئی نادان کہ میں
تیرے دیواں میں، دواوین ے افسر اشعار
شعرا میں تو نہ پڑھیو جز امید اصلاح
ہوئیں بالفرض ترے اُن سے بھی بہتر اشعار
بیانیہ: ایسے قصیدوں میں مختلف النوع مضامین وموضوعات پیش کیے جاتے ہیں۔ بہار کے موسم کا نقشہ کھینچنا ہو تو اس کی تصویر کشی کرلی، زمانہ کی زبوں حالی کی روداد بیان کرنی ہوتو اس کیفیت کا اظہار کرلیا۔ مصائب والآم کا ذکر کرنا ہوتواس کے کرب واحساس کی شدت کو بیان کر لیا۔ الغرض اس میں رنگا رنگ اور نوع بنوع مضامین و موضوعات کو برتا جاسکتا ہے۔ سودا کا ایک قصیدہ جو شہر آشوب کا رنگ لیے ہوئے ہے اس کو یہاں نظیر کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے ؎
یوں بھی نہ ملا کچھ تو ہر اک پالکی آگے
اس سج سے رسالے کا رسالہ ہی دواں ہے
کوئی سرپہ کیے خاک گریباںکسوکا چاک
کوئی رووے ہے سرپیٹ کے کوئی نالہ کناں ہے
ہندو مسلماں کا پھر اس پالکی اوپر
ارتھی کا توہُّم ہے، جنازے کا گماں ہے
بہاریہ: ایسے قصائد جس میں موسم بہار کی تصویر کشی ، منظر کشی یا مرقع کشی کی گئی ہو ان کو بہاریہ قصیدہ کہا جاتا ہے۔ عربی شاعری میں جگہ جگہ اس کی چھاپ نظرآتی ہے۔ فارسی اور اردو میں بھی اس کی تقلید نظرآتی ہے۔ خاقانی ہند استادذوق کے قصائد میں جابجااس کی مثا لیں نظرآتی ہیں۔مثال کے طورپر یہ اشعار ملاحظہ کیجیے ؎
اٹھ گیا بہمن و دے کا چمنستان سے عمل
تیغ اردی نے کیا مُلکِ خزاں مُسْتاصَل
سجدۂ شکر میں ہے شاخِ ثمردار ہر ایک
دیکھ کر باغِ جہاں میں کرم عزوجل
مذکورہ بالااشعار میں ’بہمن ودے، تیغ اردو، ملک خزاں، شاخ ثمردار ‘جیسے الفاظ سے بخوبی سمجھاجاسکتا ہے کہ یہ الفاظ موسم بہار کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ خاص کر’بہمن ودے ‘ یہ تو موسم کے ہی نام ہیں۔اس کی ایک دوسری مثال دیکھیے ؎
آرائشِ گل کے لیے ہے جامۂ رنگیں
زیبائشِ غنچہ کے لیے تنگ قبائی
ہے نرگسِ شہلا نے دیا آنکھ میں کاجل
برگِ گل سوسن نے دھڑی لب پہ جمائی
کیا ساغرِ رنگیں کو کیا جلد مہیا
نرگس نے تو سرسوں ہی ہتھیلی پہ جمائی
اعجازِ نواسنجیِ مطرب سے چمن میں
ہر خار کی ہے نوکِ زباں شعر نوائی
عشقیہ: ایسے قصائد جن میں حسن وعشق ، پیار محبت اور عشق و عاشقی کی باتیں کی جائیں، عشقیہ قصیدہ کہا جاتاہے۔ عربی قصائد عشقیہ قصائد سے بھرے پڑے ہیں۔ اس کی بہترین مثال سبعہ معلقہ کے قصائد ہیں۔شعرائے فارسی و اردونے اس کی اتباع کی اور اس کے قدم سے قدم ملاتے چلے گئے۔ اردو میں عشقیہ قصیدے کی بہترین مثالیں سودا کے یہاں ملتی ہیں ؎
زخمی میں ترا اور گلستاں ہے برابر
ہر خرمن گل گنج شہیداں ہے برابر
کہتے ہیں جسے سرو سو گلشن کی ہے وہ آہ
نرگس لب جو دیدۂ گریاں ہے برابر
سوز دل عشّاق، تماشا جو ہو تجھ کو
یہ سینہ پُراز داغ و چراغاں ہے برابر
دریا مری آنکھوں سے یہ بہتا ہے لہو کا
مژگاں سے مری، پنجۂ مژگاں ہے برابر
کیا درد کہوں تجھ سے میں اپنا کہ ترے پاس
میرا سخن اور کذبِ رقیباں ہے برابر
حالیہ: ایسے قصیدے جن میں شعرا اپنی ذاتی کرب، شکایت زمانہ و روداد گلستاںاورحالات وکوائف کو بیان کرتے ہیں، کو ناقدین ادب نے’قصیدہ حالیہ‘ کا نام دیا ہے۔واضح رہے کہ یہ تمام اضطراری کیفیات شعرا قصیدہ کے تشبیب میں برتنے کی کوشش کرتے ہیں۔مثال کے طور پر ذوق کے اس قصیدے کوپڑھاجاسکتاہے ؎
لاتا نیرنگ سے ہے رنگ نئے چرخ محل
فخریہ: ایسے قصائد جن میں شعرااپنی سخن وری، اپنی علم دانی، اپنی بصیرت، قابلیت اور اپنی صلاحیت کا فخریہ اظہار کریں، کو ’فخریہ قصیدہ‘ کہا جاتا ہے۔عربی شاعری اس سے بھری ہوئی ہے۔ عرب شعرانے جابجااپنی شاعری میں فخر کا اظہار کیا ہے۔ وہ کبھی اپنی شجاعت پر فخر کرتے تھے تو کبھی اپنے خاندان پر ۔مثال کے طور پر عمروبن کلثوم کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
اِذَا بَلَغَ الْفِطَامَ لَنَا صَبِیُّی
تَخِرُّ لَہُ الْجَبَابِرَۃُ سَاجِدِیْنَا24؎
’’کہ ہمارے قبیلے کا بچہ بھی جب مدت رضاعت کو پورا کر لیتا ہے تو بڑے بڑے جبابرہ اور طرّے والے بھی اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔‘‘
عربی شاعری کے زیر اثر یہ فن فارسی اور اردو شعراکے کلام میں بھی دیکھنے کو مل جاتا ہے جس میں شعرانے اپنی شخصیت و کردار کے دیگر اوصاف ، امتیازات وکمالات کا ذکر فخریہ انداز میں بیان کیا ہے۔اس کو سمجھنے کے لیے بہادر شاہ ظفر کی مدح میں ذوق کا ایک قصیدہ کو دیکھا جاسکتا ہے۔ ؎
شب کو میں اپنے سرِ بستر خوابِ راحت
نشۂ علم میں سرمستِ غرور و نخوت
مزے لیتا تھا پڑا علم وعمل کے اپنے
تھا تصور مرا ہر امر میں تصدیق صفت
ہوگیا علم حصولی تھا حضوری مجھ کو
تھا مرا ذہن نہ محتاجِ حصولِ صورت
جو مسائل نظری تھے وہ بدیہی تھے تمام
عقل کو تجربہ کی اتنی ہوئی تھی کثرت
کبھی منطق کو تفوق یہ مرے ناطقے سے
فوقِ حکمت ہو یہ فن گرچہ ہے تحت حکمت
کبھی میں کرتا تھا تفریح معانی و بیاں
کبھی میں کرتا تھا توضیحِ نجوم و ہیئت
کبھی میں کرتا تھا اعراض میں جوہر قائم
کبھی میںکرتاتھامعلول سے ثابت عِلّت
مذکورہ بالا مثالوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ فارسی اور اردو کے شعرانے اپنے قصائد کی تشبیب میں انہی موضوعات کو برتنے کی کوشش کی ہے جو روایت شروع سے چلی آرہی تھی۔
اردو قصیدہ کے اجزائے ترکیبی میں دوسرا جز’ گریز‘ ہے۔گریز کے لغوی معنی بچ کر نکل جانا یا پرہیز کرنے کے ہوتے ہیں۔ اصطلاح میں گریز قصیدہ کے ایک جز یعنی ’تشبیب‘ کا دوسرے جز یعنی ’مدح ‘ سے اتصال کرنا یعنی اس طرح جوڑنے کے کام میں لانے کے ہوتے ہیں کہ دونوں کے درمیان کوئی خلا یا کسی طرح کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔
گریز سے متعلق ابومحمد سحر لکھتے ہیں کہ ’’تشبیب کے بعد شاعر کسی تقریب سے ممدوح کا ذکر چھیڑتا ہے ، اس کو گریز کہتے ہیں۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ’’اس کو دو سرکش بیلوں کو ایک جوئے میں جوتنے سے تعبیر کیا گیا ہے جس کا سبب یہ ہے کہ یہ حصہ تشبیب اور مدح کے بے ربط اجزا میں ربط پیدا کرتا ہے ۔
گریز کا سب سے بڑا حسن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ تشبیب کہتے کہتے شاعر مدح کی طرف اس طرح گھوم جائے جیسے بات میں بات پیدا ہوگئی ہو۔25؎ الغرض یہ ایک باریک اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔اس کومرزا رفیع سوداکے اس اقتباس سے سمجھا جاسکتا ہے ؎
ہوا جب کفر ثابت ہے وہ تمغائے مسلمانی
نہ ٹوٹی شیخ سے زُنار تسبیح سلیمانی
ہنر پیدا کر اوّل ترک کیجو تب لباس اپنا
نہ ہو جوں تیغ بے جوہر و گر نہ ننگ عریانی
فراہم زر کا کرنا باعث اندوہ دل ہووے
نہیں کچھ جمع سے غنچے کو حاصل جز پریشانی
خوشامد کب کریں عالی طبیعت اہل دولت کی
نہ جھاڑے آستین کہکشاں شاہوں کی پیشانی
عروج دست ہمت کو نہیں ہے قدر بیش و کم
سدا خورشید کی جگ پر مساوی ہے زر افشانی
کرے ہے کلفت ایام ضائع قدر مردوں کی
ہوئی جب تیغ زنگ آلود کم جاتی ہے پہچانی
اکیلا ہو کہ رہ دنیا میں گر چاہے بہت جینا
ہوئی ہے فیض تنہائی سے عمر خضر طولانی
مذکورہ بالا اشعار تشبیب کے اشعار ہیں۔ اس قصیدہ میں مزید تشبیب کے اشعار ہیں۔ الغرض ’قصیدہ‘ غزل کی ہیئت میں ہوتا ہے ۔ اس سے واضح ہوا کہ ایک قصیدہ کئی غزلوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ مندرجہ بالا اشعار قصیدہ کی پہلی غزل کے چند اشعار ہیں۔ اب ذیل میں قصیدے کی دوسری غزل کے اشعار درج کیے جارہے ہیں ؎
عجب ناداں ہیں وہ جن کو ہے عجب تاج سلطانی
فلک بال ہما کو پل میں سونپے ہے مگس رانی
نہیں معلوم ان کے خاک میں کیا کیا ملا دیکھا
کہ چشم نقشِ پا سے تا عدم نکلی نہ حیرانی
تری زلفوں سے اپنی روسیاہی کہہ نہیں سکتا
کہ ہے جمعیت خاطر مجھے ان کی پریشانی
زمانے میں نہیں کھلتا ہے کارِ بستہ حیراں ہوں
گرہ غنچہ کی کھولے ہے صبا کیوں کر بآسانی
جنوں کے ہاتھ سے سر تا قدم کاہیدہ اتنا ہوں
کہ اعضا دیدۂ زنجیر کی کرتے ہیں مژگانی
نہ رکھا جگ میں رسم دوستی اندوہِ روزی نے
مگر زانو سے اب باقی رہا ہے ربط پیشانی
سیہ بختی میں اے سودا نہیں طولِ امل لازم
نمط خامے کے سرکٹوائے گی ایسی زباں دانی
دوسری غزل کے مقطع کے بعد اب یہاں سے جو اشعار آئیں گے اس سے قاری کو اندازہ ہوجائے گا کہ یہ قصیدہ اپنی تشبیب کے اختتام پر گامزن ہے اور چند اشعار کے بعد شاعر ایک دوسرے موضوع (نعت)کی طرف جانے کو آمادہ ہے۔ وہ چند اشعار ہی ’گریز‘ کے اشعار ہیں ۔ ملاحظہ ہوں وہ چند اشعار جو گریز کی شکل میں بیان کیے جارہے ہیں ؎
سمجھ اے ناقباحت فہم کب تک یہ بیاں ہوگا
ادائے چینِ پیشانی و لطف زلفِ طولانی
خدا کے واسطے باز آ تو اب ملنے سے خوباں کے
نہیں ہے ان سے ہرگز فائدہ غیر از پشیمانی
نظر رکھنے سے حاصل ان کی چشم و زلف کے اوپر
مگر بیمار ہووے ضعف یا کھینچے پریشانی
نکال اس کفر کو دل سے کہ اب وہ وقت آیا ہے
برہمن کو صنم کرتا ہے تکلیف مسلمانی
مذکورہ بالا گریز کے اشعار کے بعد شاعر اپنے موضوع کی طرف لوٹ آتا ہے۔اب یہاں سے اس قصیدہ کی مدح کے اشعار شروع ہوتے ہیں۔جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ یہ قصیدہ دراصل نعتیہ قصیدہ ہے اس لیے شاعریہاں اللہ کے رسولؐ کے اوصاف حمیدہ کی تعریف شروع کرتا ہے۔ ملاحظہ ہوںمدح یعنی نعت کے اشعار ؎
زہے دین محمد پیروی میں اس کی جو ہوویں
رہے خاک قدم سے ان کی چشم عرش نورانی
مَلَک سجدہ نہ کرتے آدم خاکی کو گر اس کی
امانت دارِ نورِ احمدی ہوتی نہ پیشانی
اسی کو آدم و حوا کی خلقت سے کیا پیدا
مراد الفاظ سے معنی ہے تا آیاتِ قرآنی
خیالِ خُلق اس کا گر شفیعِ کافراں ہووے
رکھیں بخشش کے سر منّت یہودی و نصرانی
زباں پر اس کی گزرے حرف جس جا گہ شفاعت کا
کرے واں ناز آمرزش پہ ہر اک فاسق و زانی
رکھا جب سے قدم مسند پر آ اُن نے شریعت کی
کرے ہے موجِ بحر معدلت تب سے یہ طغیانی
اس طرح یہ نعتیہ قصیدہ آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور بالآخر ’دعا‘ یا’ حسن طلب‘ کو جا پہنچتا ہے۔ دعائیہ اشعار میں شاعر اپنی مراد کو بیان کرتا ہے ْاور یہیں سے قصیدہ کا زوال شروع ہوجاتا ہے کیونکہ دعا یا حسن طلب کا سارا دارومدار بادشاہ وقت یا نوابین تک تھا اور جب بادشاہ یا نوابین ہی نہیں رہے تو شعرا کس کی مدح میں اپنے کلام پیش کرتے۔الغرض اس مضمون میں اردو قصیدہ کی صنفی ، ہیئتی اور موضوعاتی محاکمہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ساتھ ہی یہ بھی بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ عربی وفارسی شعرا کے تتبع میں اردو شعرا نے کئی بت توڑے بھی اور نئی روایت کی داغ بیل بھی ڈالی ،لیکن آہستہ آہستہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد قصیدہ بھی اپنے زوال کو پہنچ گیا ۔ موجودہ دور میں قصیدہ محض ایک کلاسیکی صنف بن کر رہ گیا ہے۔
حواشی
1. انسا ئیکلو پیڈا آف اسلام(انگریزی)، جلددوم، ص:796
2. ابن رشیق قیروانی: الْعُمْدَۃِ،جلد، اوّل،طبع بیروت، ص:121
3. ایضاً، ص:123 4. ایضاً، ص:125 .5 ایضاً، ص:125
6. اَلْفَوَائِدُ الدُّرِّیَّۃُ فِیْ اللُّغَتَیْنِ الْعَرَبِیَّۃِ وَالْاِنْکِلِیْزِیَّۃِ،ص: 608
7. دیکھیے، اَلْمُنْجِدْ،ص:688
8. نجیب محمد بہبتی،تاریخ الشعر العربی،ص:104
9. ابن رشیق قیروانی:العمدہ، جلد، اول، طبع بیروت،ص:120
10. ایضاً، ص:117
11. محمود الٰہی، اردو قصیدہ نگاری کا تنقیدی مطالعہ، ص:45
12. عبدالاسلام ندوی، شعرالہند، جلد دوم،دارالمصنفین، اعظم گڑھ،ص:343
13. ایضاً:345
14. دیکھیے، شعرالہند، جلد، دوم،۔ص:343-45
15. ابن رشیق قیروانی:العمدہ، جلد،دوم،بیروت، ص:931
16. اُم ہانی اشرف،اردو قصیدہ نگاری،ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ، ص:05
17. کلیم الدین احمد، اردو شاعری کا پر ایک نظر، جلد،اوّل،بُک امپوریم، ص:187
18. ایضاً، ص:187
19. ایضاً، ص:188
20. ابن رشیق قیروانی:العمدہ، جلداول،طبع بیروت، ص:155
21. عبدالسلام ندوی، شعرالہند، جلد، دوم،ص:306
22. ابن رشیق قیروانی:العمدہ، جلد،اول،طبع بیروت، ص:21
23. سعود عالم، قصیدہ بردہ کے اردو تراجم،،عرشیہ پبلیکشن، ص:18
24. ابن رشیق قیروانی:العمدہ،جلد اول،طبع بیروت، ص37
25. ابو محمدسحر، اردو میں قصیدہ نگاری، ص:25
Dr. Saud Alam
Assistent Professor, D.S. College,
Katihar- 854105 (Bihar)
Mob: 9818675498
E-mail: saudalam1983@gmail.com