پارسی تھیٹر کا ایک گمنام ڈرامانگار: الف خاں حباب،مضمون نگار:قرۃ العین

April 22, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،اپریل2026:

محمد الف خاں حباب ایک ایسے گمنام اور غیر معروف ڈراما نگار ہیں جن کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ حتیٰ کہ معروف مصنّفین، جیسے ناٹک ساگر اور رام بابو سکسینہ نے بھی ان کا ذکر نہیں کیا۔ وہ اردو کے ابتدائی دور کے ڈراما نگاروں میں شمار کیے جاتے ہیں اور ان کا زمانہ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل پر محیط ہے۔ محمد الف خاں حباب اوریجنل تھیٹریکل کمپنی سے وابستہ تھے اور اسی کے لیے ڈرامے تحریر کرتے تھے۔ یہ کمپنی 1870 میں قائم ہوئی تھی اور یہ پہلی باضابطہ کمپنی تھی جس نے اردو ڈراما اسٹیج کرنے کا آغاز کیا۔ باوجود اس کے کہ وہ اردو ڈرامے کے ابتدائی معماروں میں شامل تھے، مگر ڈرامے کی تاریخ لکھنے والوں نے انھیں نظر انداز کر دیا اور ان کا ذکر کہیں بھی نمایاں طور پر نہیں ملتا۔ البتہ، سید محمد حسن نے رسالہ آج کل میں ان پر ایک مضمون تحریر کیا، جس کی بدولت ان کی زندگی کے بعض اہم پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔ محمد حسن لکھتے ہیں:
محمد الف خاں حباب کی پیدائش کے متعلق کوئی مستند معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ ان کی جائے پیدائش کے حوالے سے بھی مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ مولفِ تذکرہ ریاض نام داران کے مطابق وہ لکھنؤ کے باشندے تھے، جب کہ محمد علی خاں اثر رامپوری کی روایت میں انھیں دہلی کا بتایا گیا ہے۔ تاہم، یہ مسئلہ اس وقت واضح ہوگیا جب ان کا ڈراما ’سلیمانی شمشیر‘ دستیاب ہوا۔ اس کے دیباچے میں خود حباب لکھتے ہیں ’’میں نے یہ ناٹک اپنے وطن ہسوہ، فتح پور میں ترتیب دیا اور وہیں شائع بھی کرایا۔‘‘ یہ بیان ان کی جائے پیدائش کے حوالے سے ایک مستند حوالہ فراہم کرتا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہسوہ، فتح پور ہی ان کا اصل وطن تھا۔
(ماہنامہ آج کل، دسمبر 1959)
محمد الف خاں حباب کا شمار اردو کے اولین ڈراما نگاروں میں ہوتا ہے، اور اس میدان میں ان کی حیثیت ایک پیش رو کی ہے۔ انھوں نے اپنی جدوجہد اور تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے اردو ڈرامے کی بنیاد رکھی، جس پر بعد کے ڈراما نگاروں نے اپنی عمارتیں تعمیر کیں۔ حباب اردو کے پہلے ایسے ڈراما نگار ہیں جنھوں نے ڈرامے کی زبان پر تنقیدی نگاہ ڈالی۔ انھوں نے ڈراما ’شرر عشق‘ کے دیباچے میں زبان و بیان اور کرداروں کے مکالموں کے حوالے سے اپنی آرا پیش کیں۔ ان کا نظریہ تھا کہ کرداروں کی زبان ان کے طبقے اور پس منظر کے مطابق ہونی چاہیے تاکہ مکالمے حقیقت سے قریب تر اور فطری معلوم ہوں۔ حباب لکھتے ہیں:
’’اب سے ناٹک جدید طرز پر ہو جس سے جوہر شناسوں کو مذاق شاعری و لطف محاورہ اور زبان کی صفائی ظاہر ہو، یہ بھی معلوم ہو کہ زبان بیگمات سلطان خانے کی کیا ہے، روز مرہ عورت درباری کی کیاہے اور بول چال فتنہ گران بازاری کی کیا ہے اور سلطان کے دربار میں آداب گفتگو کیا ہے؟‘‘
(دیباچہ، شرر عشق، حباب کے ڈرامے، امتیاز علی تاج)
محمد الف خاں حباب کے ڈراموں کی صحیح تعداد کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔ تاہم، مجھے صرف چار ڈرامے دستیاب ہوئے، جنھیں امتیاز علی تاج نے ترتیب دے کر مجلس ترقی ادب، لاہور سے شائع کیا۔ ان ڈراموں کے عنوانات درج ذیل ہیں:
.1 شرر عشق
.2 نیرنگ قاف
.3 نقش سلیمانی
.4 جشن کنور سین
ان ڈراموں کے بیشتر موضوعات مثنویوں سے ماخوذ ہیں، جن میں دیو، پری، انسان اور دیگر خیالی داستانوں پر مبنی روایات شامل ہیں۔ شرر عشق درحقیقت مثنوی ’طلسم الفت کی داستان‘ سے ماخوذ ہے، جس کے مصنف خواجہ اسد علی خاں تھے۔ انھیں لکھنؤ کے رئیسوں میں آفتاب الدولہ شمشیر جنگ بہادر کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ اس ڈرامے میں بھی وہی روایتی واقعات شامل ہیں جو اس دور کی داستانوں اور مثنویوں میں عام طور پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ حباب نے ملکی داستانوں کو ڈرامے کی شکل میں ڈھال کر پیش کیا، اور ’شرر عشق‘ کو چار ایکٹ پر تقسیم کیا۔ پہلے ایکٹ کے پہلے سین میں شہزادہ جان جہاں کے دیوان خانے کا منظر دکھایا گیا ہے، جہاں مختلف کردار موجود ہیں۔ اسی دوران چند سہیلیاں ہاتھوں میں دہی، پان اور پچکاری لیے داخل ہوتی ہیں اور ایک لاونی گاتی ہیں، جس میں ہندوستانی تہذیب کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔
مثال ملاحظہ کیجیے ؎
چلے شکار کو لا ہمارے، باندھو سب سنگست
دودھ، مچھلی، اب لے آوؐ ری بہناں، شبھ گھڑی ساعت
ناچ بدھاوا ناچو مل کر گاؤں مبارک، ہوویں کنور رخصت
(حباب کے ڈرامے، امتیاز علی تاج،ص 10)
اسی طرح، پہلے ایکٹ کے چوتھے منظر میں محل کا ایک دلکش منظر پیش کیا گیا ہے، جہاں عالم آرا بے قراری کے عالم میں داخل ہوتی ہے اور اپنی سہیلی دل رُبا سے جان جہاں کے بارے میں دریافت کرتی ہے۔ اپنی بے چینی اور اضطراب کے اظہار کے لیے وہ ایک ٹھمری گاتی ہے، جس میں ہجر اور بے قراری کو اپنے مخصوص علاقائی لہجے میں بیان کرتی ہے۔ یہ ٹھمری اودھ اور اس کے آس پاس کے علاقوں کی زبان اور تہذیب کی بھرپور عکاسی کرتی ہے، جس سے اس دور کے طرزِ اظہار، نغمگی، اور جذباتی کیفیات کا اندازہ ہوتا ہے۔
عالم آرا کی زبانی پیش کردہ ٹھمری ملاحظہ ہو ؎
دکھا دو پیاری کون گلی گئے سجنا
اب درشن بھٹے سپنا
سدھ بدھ سب بسرائی موری
جیا نکست ہے اپنا
سائیں کی یاد رہے گی نس دن
نام ان ہی کا جپنا (ایضاً،ص 17)
مذکورہ ٹھمری میں ہندی، اودھی اور دیگر علاقائی الفاظ کا خوبصورت اور فطری استعمال کیا گیا ہے، جو اس دور کی زبان اور تہذیب کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ الفاظ جیسے سجنا، درشن، بھٹے، سپنا، بسرائی، جیا، نکست، سائیں اور جپنا وغیرہ اس لوک رنگ کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ اسی طرح، ایک اور ٹھمری ملاحظہ ہو، جو شعلہ کے دیوان خانے کے منظر سے لی گئی ہے۔ اس منظر میں شعلہ اور جان جہاں آپس میں گفتگو کر رہے ہیں، اور یہاں کا لہجہ، انداز اور اسلوب بالکل مختلف ہے۔ یہ مکالمے نہ صرف کرداروں کی نفسیات اور معاشرتی پس منظر کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ اس وقت کی زبان کے رنگ و آہنگ کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ یہ منظر اور مکالمے اُس دور کی تہذیبی جھلک اور اردو ڈرامے کی ابتدائی شکل کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں ؎
عشق نے کیسی کٹاری ماری
بیٹھی نپٹ بن کے دکھیاری
کرم کے اچھر باچن نہ جانے
پنڈت گیانی اور اچاری
مجھ پر کرپا رکھو پیاری
میں چیری ہوں جی سے تہاری
(ایضاً،ص 40)
مذکورہ گیتوں میں شعلہ نے عشق کے جذبات کو ہندی اور علاقائی زبان کے ذریعے نہایت منفرد انداز میں پیش کیا ہے، جو ہماری ہندوستانی تہذیب کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ ان گیتوں میں محبت، فراق، انتظار اور بے قراری کے جذبات کو نہایت لطیف پیرایے میں بیان کیا گیا ہے، جس سے اس دور کی ادبی جمالیات اور زبان کے حسن کا بھرپور اظہار ہوتا ہے۔ اسی طرح، اس ڈرامے میں مختلف محاوروں کا استعمال بھی ملتا ہے، جو مکالموں کو مزید فطری اور بامعنی بنا دیتا ہے۔ خاص طور پر عالم آرا نے اپنے دکھ، درد اور عاشق کی جدائی کو ایک منفرد اور اچھوتے انداز میں بیان کیا ہے، جو اس کے کردار کی گہرائی اور جذباتی شدت کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ تمام عناصر محمد الف خاں حباب کے تخلیقی فن، ان کی زبان پر گرفت اور ہندوستانی تہذیب سے گہری وابستگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
عالم آرا:
ساجن چھوٹے، موت اب آئی،لاگ لوگ سب چھوٹا ہے
چلا مسافر جب دنیا سے، نیہا نات کل ٹوٹا ہے
گھڑی مچھڑنے کو آپہنچی، پیارے کب کا کچھ پتا نہیں
مرتے کھن منھ نہ دیکھا، لکھا بھاگ کا پھوٹا ہے
سائیں سے اب آس لگی ہے، دکھتارن اور داتا ہے
وہی بنائے، وہی بگاڑے اور جگ سارا اچھوتا ہے
(ایضاً،ص 91)
محمد الف خاں حباب کا دوسرا معروف ڈراما ’نیرنگ قاف عرف غزالہ و ماہرو‘ ہے، جو واجد علی شاہ کی مشہور مثنوی ’دریائے عشق‘ سے ماخوذ ہے۔ یہ ڈراما حباب کے سب سے مقبول اور کامیاب ڈراموں میں شمار ہوتا ہے۔ واجد علی شاہ نے خود اس مثنوی کو اسٹیج پر پیش کیا تھا، اور اس کی غیر معمولی شہرت خاص و عام میں تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ لوگ ’نیرنگ قاف‘ کو بھی بے حد شوق سے دیکھتے تھے۔ اس ڈرامے کا پلاٹ یہ ہے کہ شہزادہ ماہرو خواب میں غزالہ کو دیکھتا ہے اور بیدار ہونے کے بعد اس کی تصویر بنا لیتا ہے۔ دوسری جانب، لال پری شہزادے سے محبت کا اظہار کرتی ہے، لیکن وہ اسے پسند نہیں کرتا۔ اسی دوران لال پری، شہزادے کو قید کر لیتی ہے، اور دیو اسے کوڑے مارتا ہوا باغ میں لے جاتا ہے، جہاں ماہرو اور غزالہ کی ملاقات ہوتی ہے۔ وہ دونوں تنہائی میں عشق و محبت کی باتیں کرتے ہیں، لیکن غزالہ کی سہیلیاں یہ ساری باتیں اس کی ماں کو بتا دیتی ہیں، جس پر غزالہ کی ماں اسے قید کر لیتی ہے۔
اسی دوران سبز قبا جن نمودار ہوتا ہے اور غزالہ کو اس کے گھر سے لے کر چلا جاتا ہے۔ دوسری طرف، غزالہ کا بھائی بہن کی تلاش میں نکلتا ہے۔ راستے میں مشک پری اس پر عاشق ہو جاتی ہے اور اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہے، مگر وہ انکار کر دیتا ہے اور اپنی بہن کی تلاش میں دوبارہ روانہ ہو جاتا ہے۔ سبز قبا جن شہزادہ ماہرو کو اس کے گھر واپس لے آتا ہے اور عاشق و معشوق کو ملا دیتا ہے۔ لال پری شہزادے کی خوشامد کرتی ہے، مگر وہ اس سے ملنے اور بات کرنے سے صاف انکار کر دیتا ہے۔ مایوس ہو کر لال پری سبز قبا جن کو خط لکھتی ہے اور خوش اطوار کے ذریعے اسے بھیجتی ہے۔ بعد ازاں، سبز قبا، غزالہ، مشک بو اور خوش اطوار کو ایک دعوت پر بلایا جاتا ہے۔ جب لال پری کو یقین ہو جاتا ہے کہ ماہرو اسے قبول نہیں کرے گا، تو وہ خودکشی کرنے کی کوشش کرتی ہے، مگر سب لوگ اسے روک لیتے ہیں۔ آخر میں، ماہرو غزالہ اور لال پری دونوں سے شادی کر لیتا ہے۔ ڈرامے کے اختتام پر سب مل کر مبارکباد کے گیت گاتے ہیں، اور یوں کہانی اپنے خوشگوار انجام کو پہنچتی ہے۔
ڈراما ’نیرنگ قاف غزالہ و ماہرو‘ چار ایکٹ اور 53 مناظر پر مشتمل ہے۔ پہلے ایکٹ کے پہلے منظر میں بادشاہ کا دربار دکھایا گیا ہے، جہاں مختلف کردار آتے ہیں، جن میں مجرائی بھی شامل ہیں جو بادشاہ کے دربار میں غزلیں گاتی ہیں۔ ان غزلوں میں مختلف قسم کے لباس اور زیورات کا ذکر کیا جاتا ہے، جو اس وقت کی تہذیب اور رنگینی کی جھلک پیش کرتے ہیں۔
مجرائی:
تری بزم میں زہرہ حاضر ہے آج
وہ گاتی ہے سوہا مبارک گھڑی
رکھا تشت مہتاب میں اس نے گرتا
نگینوں کی جا اس میں پروئیں جڑی
ستاروں کی ٹوپی ہے رنگ آسمانی
ثریا کی اس میں لگی ہے لڑی
(ایضاً،ص 122)
حباب کے دوسرے ڈراموں کی طرح، ’نیرنگ قاف غزالہ و ماہرو‘ میں بھی ایک ٹھمری شامل ہے، جس میں ساون کے موسم کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس ٹھمری میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح عورتیں اپنے جذبات، دلی کیفیات اور ہجر کو اس موسم میں بیان کرتی ہیں۔ یہ ٹھمری اودھی اور علاقائی زبان میں لکھی گئی ہے، جس میں ان کی کیفیات کا اظہار کیا گیا ہے جو اس ہندوستانی فضا اور ماحول میں ان پر گزرتی ہیں۔ غزالہ شہزادی کا ساون کے موسم میں جھولا جھولتے ہوئے یہ ٹھمری ملاحظہ کیجیے:
غزالہ:
اے سکھی ساون آئے اٹھت جیا پہر
امگے جو بنوا دھرت نہیں دھیر
بجلی چمکے کاری گھٹا میں تو آنکھ بھر آئے نیر
مدھ ٹپکت ہے اب جوبن سے رس مارت ہے تیر،
(ایضاً،ص137)
اسی قبیل کے چنداشعار اور ملاحظہ کیجیے جس میں ساون کے ساتھ جھولے کا ذکر ہے جو ہماری ہندوستانی تہذیب کی واضح مثال ہے ؎
بہار آئی جوانی کی، گل امید پھولا ہے
مزا دیتا ہے یہ ساون عجب دلچسپ جھولا ہے
ازل سے لکھ گئے شور یدگی(ہی) بخت میں اپنے
ہنڈولا تیرے وحشی کا لڑکپن سے بگولا ہے
(ایضاً،ص137)
محمد الف خاں حباب نے اپنے ڈراموں میں اردو کے ساتھ ساتھ ہندی الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے، جو ان کی تخلیقی صلاحیت کو مزید نکھارتا ہے۔ ڈراما ’نیرنگ قاف عرف غزالہ و ماہرو‘ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ تیسرے ایکٹ کے چوتھے منظر میں سبز قبا کے گھر میں جشن کا ماحول ہوتا ہے، جہاں تمام کردار مل کر گانا گاتے ہیں۔ اس منظر میں ہندی الفاظ کا استعمال واضح طور پر نظر آتا ہے، جو ہندوستانی تہذیب اور زبان کے امتزاج کو خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔ ان گانوں میں ہندی کے ایسے الفاظ شامل ہیں جو نہ صرف اس دور کی ثقافت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ زبان کی گہرائی اور رنگینی کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
سب لوگ:
آج کا دن شادی کا ہے سب کو اے کرتار
مالک کے دل کا رنج مٹا سب راضی خوشی سنسار
بانو کا بھاگ سہاگ سلامت، پھولیں پھلیں سرکار
(ایضاً،ص179)
اس ڈرامے میں دیو، جن اور جادوگر جیسے اساطیری کرداروں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ڈراما نگار نے ان دیو مالائی کرداروں کے ذریعے ہندوستانی تہذیب کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کرداروں کے ذریعے نہ صرف کہانی میں دلچسپی پیدا کی گئی ہے بلکہ اس کے ذریعے ہندوستانی ثقافت اور روایات کی جھلک بھی پیش کی گئی ہے۔
مکالمہ ملاحظہ کیجیے:
’’ارزنگ: بیٹا نا انصافی سے کہیں وبال میں نہ آجانا (دل میں) پر اب مناسب یہ ہے کہ فطرت سے اس کو دام میں لانا چاہیے۔ نہیں تو بے ڈھب جادو گر ہے۔ ہاں اس کو اور اس کے آدمیوں کو بٹھا کر لوبان کے ساتھ بے ہوشی کی دھونی دوں۔
گلنار: اے پروردگار یہ شخص کیا کرنے آیا ہے۔
قارن: لیجیے گرو! حاضر ہے۔
(ایضاً،ص 213)
اسی طرح ڈرامے میں مختلف اشلوک کا بیان بھی موجود ہے۔ پرانوں اور اپنشدوں میں جو مذہبی درس دیا گیا ہے، انھیں ہی اشلوک کہا جاتا ہے۔ ہندو مذہب میں جب کوئی مذہبی رسم ادا کی جاتی ہے، تو اس کے دوران آگ میں لوبان ڈال کر اشلوک پڑھے جاتے ہیں۔ لوبان ایک قسم کی خوشبودار لکڑی ہوتی ہے، جسے مذہبی رسومات کے دوران آگ میں ڈال کر دھونی دی جاتی ہے، اور پھر اس کے بعد اشلوک پڑھے جاتے ہیں۔ یہ عمل روحانیت اور پاکیزگی کی علامت ہے اور مذہبی عبادات میں روحانی ارتقا اور طاقت کو بڑھانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
مثال ملاحظہ ہو۔
’’ارزنگ:(آگ پر لوبان ڈال کے) اشلوک پڑھا ہے
جگت سامری کی کروں آج بیرن
کوئی دم میں جھگڑے کا ہووے نبیڑن
ہری پنٹھ سیٹھیا، بکٹ پنتھ دھنکے
چلے خوب کنٹاپ کا پھر اٹیرن
(ایضاً،ص214)
ڈراما ’سلیمانی تلوار، معروف بہ نقش سلیمان و بہشت شداد‘ حباب کے مقبول ڈراموں میں سے ایک ہے۔ اس کا موضوع بھی مافوق الفطرت قصوں پر مبنی ہے، جن میں ایک خیالی داستان ہے، جسے ہندوستانی تہذیب میں سمو کر پیش کیا گیا ہے۔ اس ڈرامے میں بھی ٹھمری، لاؤنی، غزلیں اور گانوں کا استعمال کیا گیا ہے، جن میں ہندی تہذیب کی عکاسی دیکھی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، پہلے ایکٹ کے تیسرے منظر میں شداد کے ذریعے ایک گانا پیش کیا گیا ہے، جس میں مختلف سمتوں کا ذکر خالص ہندی میں کیا گیا ہے۔
گانے کے چند بول درج ذیل ہیں۔
شداد:
کرتا ہوں اب نقش سلیمانی کے لانے کا سامان
جس سے پاکر ملک و خزانہ ہوجاؤں یاں کا سلطان
پورب پچھم، اتردکھن بایب نیرت آگنیہہ ایسان
چاروں جانب، چاروں گوشے، ڈھونڈوں نقش وہ با دل و جان
(ایضاً،ص 270)
حباب کے اس ڈرامے میں مختلف ایسے کردار ہیں جو اپنے مکالمات علاقائی زبان میں ادا کرتے ہیں۔ مثلاً، گجراتی کردار اپنی مادری زبان میں بات کرتے ہیں، مراٹھی برہمن اپنی مراٹھی زبان میں، اور اسی طرح عام ہندوستانی کردار اپنی مخصوص علاقائی زبان میں ادا کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ہمارے مشترکہ اور گنگا جمنی تہذیب کی نشانی ہے، جسے ہم ’وحدت میں کثرت‘ اور ’کثرت میں وحدت‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ کریں:
گجراتی بنیا:
جات نون چھوں وا ینوں نے مری گپوچھے ڈے کرو
مہاری الی ناسی گئی نے رہی گیوچھوں ایکھ لو
موے الی بیجی کرشن سرز ملی چھے رکم
ایشور تنے راکھے سکھی راکھی مہاری تیں شرم
ہندوستانی بنیا:
جات کو ہوں بنیا میں، گیا ہے میرا بیٹا مر
بھاگی میری جورو بھی، بگڑ گیا ہے میرا گھر
اب تو پائی ہے رقم، کروں گا جورو دوسری
راکھے ایشور آپ کو، اے راجا جی سدا سکھی
مراٹھا برہمن:
میں گریب برہمن راج دھن تمی مالاں دیا
لیکرو بالے بھوکے ماچے تینجا آشرباد گیا
کایے سانگو رام رام انت انت جیو دام
چھتر پی تی سانگل تلا سگلے راجا ہندوستان
(ایضاً،ص 309)
الف خاں حباب کا ڈراما ’جشن کنور سین‘ تین ایکٹ اور چوبیس مناظرات پر مبنی ہے۔ اس میں دیو، پری، اور جادو جیسے مافوق الفطرت عناصر سے معمور کہانی ہے اور پورا ڈراما انہی طلسمات کو فتح کرنے پر مرکوز ہے۔ حباب کے دیگر ڈراموں کی طرح اس میں بھی مافوق الفطرت عناصر، مختلف رسوم و رواج، تہوار، لباس اور زبان و بیان میں ہندوستانی عناصر موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، دوسرے ایکٹ کے تیسرے منظر میں جادو خانہ کے منظر میں اختر شناس کے ذریعے گانے کا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے، جس میں مافوق الفطرت عناصر کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے الفاظ بھی شامل ہیں جو خالص ہندوستانی ہیں:
اختر شناس:
کرپاپل چھن، سامری کی مانے دیو پساج
کپٹ دھر وہی جو کرے، بگڑے اس کا کاج
دھیان بچاروں گیان کا، ہیگی کے بھید بتاو
شکّر، سنیچر، بھرسپت، رکھشا کو آجاو
(ایضاً،ص 377)
اسی طرح مذکورہ ڈرامے میں مختلف قسم کے زیور اور لباسوں کا بھی ذکر موجود ہے، جیسے کہ کنٹھا جو ایک قسم کی مالا یا ہار ہوتا ہے، جو عام طور پر گلے میں پہنا جاتا ہے) اور لنگوٹہ وغیرہ۔ یہ زیور اور لباس ہندوستانی ثقافت اور تہذیب کی جھلک پیش کرتے ہیں اور اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ڈرامے میں ہندوستانی روزمرہ زندگی کی خوبصورتی اور اس کی روایتوں کو شامل کیا گیا ہے۔ تفصیل سے بیان کردہ ایسے زیور اور لباس نہ صرف کہانی کو حقیقت کے قریب لاتے ہیں بلکہ اس سے اس وقت کی ہندوستانی ثقافت کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔
سیارہ:
بڑا مارا ہے ہاتھ واہ واہ
میں نے زیور یہ کنٹھا اڑایا
مال اسی کا یہی میرے ہاتھ آیا
بنی کیسی یہ بات واہ واہ
داؤں کپڑوں پہ اس کے لگایا
خالی ایک ہی لنگوٹا بندھایا
(ایضاً،ص403)
اس ڈرامے میں کرداروں کی زبانی جو مکالمات ادا کرائے گئے ہیں، وہ ان کی شخصیت اور طرزِ بیان کے عین مطابق ہیں۔ ان میں محاورات بھی شامل ہیں جو ہماری عام بول چال کی زبان میں استعمال ہوتے ہیں اور یہ خالص ہندوستانی ہیں، جو مختلف علاقوں میں بولے جاتے ہیں اور ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ کیجیے:
سیّارہ: مائی، گٹھلی کی گٹھلی، آم کے آم
عیرا بچی: یعنی؟
سیّارہ: کھائے بھینس کی سانی۔ رفیق ٹٹولو لولو جنگل کی آبادانی
(ایضاً،ص 405)
ایک دوسری مثال ملاحظہ کیجیے:
’’عارف شاہ:آ بچہ سیّارہ، تو کہاں؟
سیّارہ: قبیلہ وہی مثل ہے کہ ’ناحق چوٹ جلاہا کھائے، تانی چھوڑ تماشے جائے‘ پرستان کی سیر کیا ہوئی، اک بلائے ناگہانی ہوئی۔‘‘ (ایضاً،ص 412)
ڈراما نگار نے اس ڈرامے کے ایک منظر میں لڑکے، سیارہ اور حنظل جادوگر کے ذریعے کچھ مکالمات ادا کروائے ہیں، جن میں باد بہار کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ موسم بہار میں کس طرح ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں، کالی گھٹائیں چھا جاتی ہیں اور فضا خوشگوار ہو جاتی ہے۔ پتیا بھر کر چمن ہرا بھرا دکھایا گیا ہے اور اس پر بہار کی فضا میں کوئل اور بلبل کے چہکنے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ڈراما نگار نے ہندوستان کے مختلف پکوان کا ذکر بھی جابجا کیا ہے، جیسے کہ روٹی، ترکاری، لڈو، پیڑے، بھوگ موہن برفی، قلیہ، خستہ، کچوری، کباب، رس گلا اور مچھلی وغیرہ۔ مکالمات ملاحظہ کیجیے:
لڑکے: آہا باد بہاری، ٹھنڈی ہوا، کالی گھٹا، پر فضا کیا پر فضا کیا
بوٹی ہری، پتی ہری، ہری بھری کیاریاں، واہ، کیا پیاری واہ کیا بیاری….
آہاہاہا، ہرا بھرا، چمن ہرا، کوپل و بلبل پکاری باد بہاری….
سیارہ: بچو جی،پان سپاری، روٹی موٹی، گرما گرم گلی، سڑی ترکاری پان سپاری۔
لڈو پیڑے بھوگ موہن برفی،۔ قلیہ،حلوا سوہن، خستہ کچوری، روٹی موٹی گرما گرم۔
حنظل جادو:۔ آبو باو آبو، پان کھابو، راشو گلّاکھابو، کباب کھابو،ماش کھابو، آبو آبو۔
(ایضاً،ص 427)
بلاشبہ، پارسی ڈراما نگاروں میں حباب اس عہد کے نہایت باصلاحیت اور منفرد ہنر مندوں میں شمار کیے جاتے ہیں، جنھوں نے ڈرامے کے فن میں نمایاں مقام حاصل کیا، خصوصاً مکالمہ نگاری کے حوالے سے۔ ان کے ڈراموں میں کرداروں کی زبان نہ صرف ان کے طبقاتی پس منظر سے ہم آہنگ ہے بلکہ اس عہد کے معاشرتی ماحول کی حقیقی عکاسی بھی کرتی ہے۔ یہ ایک نمایاں اور انقلابی تبدیلی تھی جو حباب کے فن میں جھلکتی ہے، جس کے ذریعے انھوں نے ڈرامے کی زبان کو مزید حقیقت پسندانہ اور معاشرتی حقائق سے قریب تر بنا دیا۔

Dr. Qurratulain
F-9/20, Second Floor
Gali No: 6/4, Zakir Nagar, Okhla
New Delhi- 110025
Mob.: 9810102723
qurratulaintabish@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

شریف احمد قریشی کی فرہنگ نویسی: زبان، ادب اور ثقافت کی زندہ میراث ،مضمون نگار:شہپرشریف

اردو دنیا،اپریل2026 ادب کی دنیا میں ایسے افراد بہت کم ہوتے ہیں جو اپنی تمام علمی و فکری صلاحیتیں محض اپنی زبان، معاشرے اور اپنی تہذیب کے تحفظ و فروغ

مظہرالزماں خاں سےانٹرویو،مضمون نگار: محمد ارشاد عالم

اردودنیا،جنوری 2026: محمد ارشاد عالم: جیسے ہر کسی کے انٹرویو میں ہمیشہ ایک عام اور تقریبا پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ آپ پیدا کب ہوئے۔ چنانچہ میرا بھی پہلا

ادب اطفال میں سوشل میڈیا کے اثرات ،مضمون نگار:کلدیپ راج آنند

اردو دنیا،مارچ2026: انسانی تاریخ میں ابلاغ ہمیشہ سے تمدن کی بنیاد رہا ہے۔ابتدامیں انسان نے غاروں کی دیواروں پر تصویری نشان بنائے، پھر خط و کتابت، اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی