سنسکرت شعریات،مضمون نگار،عتیق اللہ

May 7, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، مئی 2026:

سنسکرت زبان کی وہ تاریخ جو منظر میں ہے وہ بھی صدیوں پر محیط ہے، اور وہ تاریخ جو ماقبل تاریخ ہے وہ کتنی صدیوں پرمشتمل ہے، اس کا تصور محال ہے۔ سنسکرت، ہند آریائی زبان ہے اور یونانی لاطینی کی ہم نژاد اور ان سلاوی Slavonic یعنی ہند یورپی زبانوں کے اس گروہ سے متعلق ہے جس میں روسی پولستانی اور چیک زبانیں شامل ہیں۔ سنسکرت کے قدیم ترین مقدس صحائف ویدوں کو پیرایۂ تحریر تو بہت زمانوں کے بعد ملا وہ نسل در نسل حافظے کے توسط سے منتقل ہوتے چلے گئے۔ ویدوں کو بھی الہامی کہا جاتا ہے ان میں نمایاں یا ذیلی سطحوں پر کیا تبدیلیاں واقع ہوتی رہیں، کس قدر ترامیم اورا ضافے ہوئے یا وہ من و عن اپنی ابتدائی صورت ہی میں ہیں۔ ان سوالوں کے جواب مشکل ہیں۔ اتنا ضرور ہے کہ ویدوں کی زبان، تنظیم آہنگ، جذباتی وفور میں جامعیت کو قائم رکھنے اور سلسلۂ خیال میں موزونیت اور پختہ کاری اور سب سے اہم چیز یہ کہ شعریت جس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر انھیں دو ہزار برس پہلے کے سماوی یا تخلیقی اعجاز سے موسوم کرتے ہیں تو یہ حدبندی بھی محض قیاسی ہے۔ ویدوں تک پہنچتے پہنچتے کئی صدیاں لگی ہوں گی۔ خود سنسکرت کا لوک ادب پردۂ خفا میں ہے۔ ویدوں کو نغمات زبور کی طرح مذہبی تقدیس کا درجہ ضرور حاصل ہے لیکن ان کی شعری عظمت کی اپنی ایک علاحدہ معنی خیز قدر ہے۔ سنسکرت میں کاویہ काव्य کے معنی بنانے کے ہیں اور مصدر بنانا میں شعور کا عمل مقدر ہے۔ عربوں میں بھی شاعری، شعور کے ساتھ مختص ہے لیکن شعری اظہار کا عمل بے ساختہ بھی نموپذیر ہوتا ہے اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بھی۔ منصوبہ بند طریقے سے شعر کا عمل شروع ضرور ہوتا ہے، مگر اس کی نوعیت محض محرک کی ہوتی ہے اور بعد کے مراحل میں زبان، روایت اورداخلی فیضان کے تحت شعور کا دباؤ ڈھیلا پڑتا جاتا ہے۔ اسی لیے سنسکرت سے منتقل ہونے والا یہ مشہور قول مسلمات میں سے ہے کہ : ’جہاں نہ جائے روی وہاں جائے کوی‘
ویدوں کی تشریح و تفسیر کی ایک پوری تاریخ ہے۔ جس طرح قرآن مجید کی تفسیر میں محکمات اور متشابہات کو اخذ کیا جاتا ہے اسی طرح ویدوں سے جو معنی ظاہر ہے اسے اُکت उकुतکہا گیا ہے اور جو مخفی ہے وہ نرُکُت निरुकुतکہلاتا ہے۔ ویدوں کی تفسیر کی ایک پوری تھیوری ہے جس کی بنیاد پر وہ تفاسیر جو ساتویں صدی تک بیان کی گئیں اور ان تفاسیر کے مجموعے جو ساتویں سے تیرہویں صدی تک شنکر آچاریوں نے مرتب کیے، ان کی مذہبی قدر و منزلت ہے۔ ان رشیوں منیوں کے لیے ان کی شعری ذکاوت اور جمالیاتی رنگ و آہنگ کی کوئی خاص اہمیت نہ تھی۔ رگ وید کو سب سے قدیم کہا جاتا ہے۔ وید ہوں کہ نغمات زبوریہ سب حمدیہ جذبات سے معمور ہیں۔ دیوتاؤں یا خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایسی زبان اور لحن کی ضرورت ہے جس میں روحانی کشش آوری اور عظمت و رفعت ہو۔ یہی وہ اوصاف ہیں جن کے باعث یہ صدیوں تک یادداشتوں میں محفوظ رہے اور ایک ہزار قبل مسیح میں ان کی باقاعدہ تدوین ہوئی۔ دنیائے لسانیات کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ پہلے زبان نے اپنی مکمل شکل بنائی، زبانی اور پھر پیرایۂ تحریر میں منتقل ہوئی جو صدیوں کے سفر کے بعد کی منزل ہے اور پھر اس کے قاعدے بنائے گئے یہی صورت شاعری کی ہے زبانی روایت جو صدیوں پرمحیط ہوتی ہے، اس کے بعد پیرایۂ تحریر ملنے کے بعد بھی ایک زمانے تک اس کے قاعدوں کو مرتب نہیں کیا جاتا۔ پھر کوئی پاننی पाणिणी جیسا عالم و دانش ور پیدا ہوجاتا ہے جو زبان کا مطالعہ بڑی نکتہ رسی سے کرتا ہے اور صرفی و نحوی قاعدے تشکیل دیتا ہے۔ دنیائے لسانیات میں پاننی کی تصنیف کو اولیت کا درجہ حاصل ہے۔
پاننی نے زبان اور اس کے قواعد یعنی لفظوں کے عمل پر اپنی تحقیق کی بنیاد وضع کی تھی۔ تب کہ آچاریہ بھرت نے اپنی معرکۃ الآرا تصنیف ناٹیہ شاستر میں ڈراما اور شاعری کے قواعد و لوازم کی تلاش و جستجو کی اور انھیں ایک تھیوری کی شکل میں پیش کیا۔ سنسکرت میں شاستر علم کے معنی میں ہے۔ جیسے ارتھ شاستر अर्थ शास्त्र علم الاقتصادیات کہلاتا ہے۔ یونان و ہند میں بھی رقص و موسیقی، مجسمہ سازی، مصوری وغیرہ فنون کی طرح ڈرامائی فن بھی قدیم ترین ہے جو یک لخت وجود میں نہیں آیا۔ دیوتاؤں کی خوشنودی ان کا خاص مقصود تھا۔ آچاریہ بھرت کی تصنیف کے بارے میں یہی قیاس ہے کہ غالباً یہ پہلی صدی عیسوی کا کارنامہ ہے۔ ارسطو نے ’بوطیقا‘ میں ڈرامائی تکنیکوں، شعری زبان کے عمل اور شاعری کے اصولوں کو اس طور پر ہم آمیزکردیا ہے کہ ایک کے بغیر دوسرے کے معنی خیزی کاتعین نہیں کیا جاسکتا۔ آچاریہ بھرت نے ناٹک میں کرنے کے عمل کو دیکھنے سے نسبت دیتے ہوئے اسے درشیہ کاویہ (باصراتی شاعری) اور شاعری کو شرویہ کاویہ (سمعیاتی شاعری) کہا ہے۔ ارسطو نے نقالی اور بیان سے تعبیر کیا ہے۔ ڈرامے میں شاعری کو ڈرامائی عمل اور ڈرامائی عمل کو شاعری سے الگ کرکے تعریف و تجزیہ تو کیا جاسکتاہے لیکن قدیم ڈراموں میں دونوں پہلو ایک دوسرے میں حل ہوکر اسے جمالیاتی وحدت عطا کرتے ہیں۔ عنبر بہرائچی کہتے ہیں لفظ ’رَس‘ کے معانی کا سفر کثافت سے لطافت کی طرف عنصری کائنات سے ماورائی کائنات کی طرف ہوا۔
آچاریہ بھرت کے بعد سنسکرت پنڈتوں نے شاعری کے اصولوں کے تعین میں رسوں کو خاص اہمیت دی ہے۔ رَس रस کے لغوی معنی حاصل، نچوڑ، جوہر کے ہیں۔ مجازی معنی حظ و انبساط اور وصف و امتیاز کے ہیں یعنی ذہنی و جذباتی رد عمل سے پیدا ہونے والی وہ کیفیت یا کیفیات جن کا تعلق ہمارے نظام محسوسات سے ہے۔ ارسطو نے کیتھارسس (تزکیہ و تطہیر) کا جو تصور دیا تھا وہ المیہ میں جذباتی بحران کے بعد پیدا ہونے والے احساس طمانیت کے ساتھ مخصوص ہے۔ وہ کہتا ہے کہ المیہ رحم اور خوف کے ذریعے جذبات کا تنقیہ (اخراج) کرتا ہے، ارسطو نے رحم اور خوف جیسے جذبات کی برانگیختگی کی بات کہی تھی۔ سنسکرت جمالیات میں رس کا تصور کافی وسیع ہے۔ رس کے تصور کی وضاحت تو ویدوں میں نہیں ہے لیکن مختلف سیاقات میں اسم صفت کے طور پر اس کا استعمال ہوتا رہا ہے۔ رگ وید_ऋग्वेद اتھر وید अथर्वेदسے اُپنشدوں उपनिषदों تک رس کے معنی میں اختلاف کے بجائے بسط و کشادگی کی صورت پیدا ہوتی گئی۔
رس کی ایک صورت خالص ارضی اور دوسری مجازی ہے۔ ارضی سطح پر وہ تاثر جو حواسی ردعمل کے طور پر ہمارے اندر ارتعاش پیدا کرتا ہے، وہ ازخود رونما نہیں ہوتا، اس کاکوئی معروض و محرک ہوتا ہے۔ کسی معروض و محرک کے بغیر ہمارے نظام محسوسات کا مرتعش ہونا اور اس کا کسی خاص کیفیت میں ڈھل جانا ممکن نہیں۔ ’کسی آواز کو سن کر‘ کسی بو کے شامی تجربے سے گزر کر، کسی خاص عمل کو دیکھ یا خود اس عمل کے تجربے سے گزر کر خواہ وہ جنسی حظ آگیں ہی کیوں نہ ہو یاکسی چیز یا ذی روح کو چھوکر یا کسی شے کو چکھ کر ہم مختلف نوع کے تجربے سے گزرتے ہیںاور ہر تجربے کا کوئی مخصوص نام ہے۔
کرشنا چیتنیہ نے بھی یہ اشارہ کیا ہے کہ آچاریہ بھرت نے تصور شعر کاجو خاکہ بنایا ہے اسے ڈراما، اسٹیج اور اس کے لوازم جیسے اداکار اور مختلف مناظر کے ساتھ ربط دے کر دیکھنا چاہیے۔ حتیٰ کہ تصور آفاق اور اسے ناٹک میں پیش کرنے کے بارے میں جو تصور ہے اس کا شاعری سے کم دکھانے کے عمل سے زیادہ ہے۔ شاعری میں دونوں ایک دوسرے میں تحلیل ہوکر لایتجزّا کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔شاعری میں تاثر کو عرب بھی خاص اہمیت دیا کرتے تھے۔ شاعری وہاں بھی بنیادی طور پر سنانے کی چیز تھی اور سنانے والا کاٹھ کا بنا ہوا نہیں ہوتا تھا، وہ پورے وجود کے ساتھ بولتا ہے۔ اس کی زبان ہی نہیں، آنکھ، ابرو، ہاتھ، گردن بھی زبان بولتے ہیںاور جوابلاغ کے عمل پر بھی مہمیز کرتے ہیں۔ ’رَس‘ صحیح معنی میں اثرخیزی اور معنی خیزی کا منبع ہے۔ بھامّہ اور دنڈی جیسے پنڈتوں سے لے کر پنڈت راج جگناتھ (18ویں صدی عیسوی) تک رس، النکار، ریتیरीति ، دھونی ध्वनी، وکروکتی वकरोक्ति، اَوچتیہ औचित्य وغیرہ پر بحث ہوتی رہی اور بیش تر صورتوں میں تشریح اور ازسرنو تشریح کا سلسلہ جاری رہا۔ سنسکرت شعریات کا ساتویں اور آٹھویں صدی تک کے ناٹکوں اور شاعری پر اطلاق بھی ہوتا رہا لیکن اطلاق سے زیادہ شعریات کی گتھیاں سلجھانے اور الجھانے کی طرف زیادہ توجہ رہی۔ سب سے زیادہ ویدک، کالیداس اور بھرترہری کی شاعری حوالہ بنی رہی۔ سنسکرت زبان عوام کی زبان نہیں بن سکی اور جب تک درباروں کی رونق قائم رہی۔ سنسکرت کتھاؤں، ناٹکوں اور شاعری اور دوسرے فنون کی سرگرمیاں بھی عروج پر رہیں۔ محض امرا و روسا، راجہ مہاراجوں تک محدود ہونے اور عوام سے دوری کے باعث ایک عظیم زبان اور اس کے نظام روایت کے سوتے خشک ہوگئے۔
آچاریہ بھرت نے ارسطو اورساختیات کی طرح رس کے اصولوںکو ڈرامائی تخلیقات سے اخذ کیا اور پھر ان کا اطلاق بھی کیا۔ آچاریہ بھرت نے ناٹیہ شاستر (ڈرامے کا فن یا علم) میں ڈرامے کے خارجی اور داخلی اجزا کا بڑی گہرائی سے مطالعہ کیا اور نتائج اخذکیے۔ رس پر انھوں نے ابواب 6 اور 7 میں جو بحث کی ہے وہ جتنی ٹھوس اور محجر ہے اس سے کم فلسفیانہ نہیں ہے۔ رسوں ہی کی نسبت سے وہ ڈرامے اور ڈراما نگار کے فلسفہ زندگی اور تصور آفاق World view کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرتے ہیں۔ شاعری کے فن کو وہ اس سے الگ درجہ نہیں دیتے بلکہ ڈرامائی تکنیکوں اور وسائل و عوامل سے پرے تخلیقی تنظیم کو موثر ترین بنانے کے لیے شاعری کا کردار ساتھ ساتھ عمل آور ہوتا ہے۔ آچاریہ بھرت کی مطالعاتی دریافت میں ان کی فلسفیانہ بینش اور نفسیاتی ذکاوت جس طور پر بہر پہلو کارفرما ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ صدیوں سے ان پر بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ بھرت کے مطالعات میں اضافے کی گنجائش تو نکالی جاتی رہی، انھیں کوئی مسترد کرسکا اور نہ انحراف کرسکا۔
آچاریہ بھرت رَس کے تعلق سے محسوسات کو معروضیانے کے عمل سے وابستہ کرتے اور معروضی تلازمات Objective correlatives کی تخلیقی تنظیم کو ایک تقاضے کے طور پر اخذ کرتے ہیں۔اس ضمن میں وہ مختلف بھاؤ پر منطقی بحث کرتے ہوئے (جذبوں)، استھائی بھاؤ Sthai bhavas (مستقل جذبہ)، وبھاؤ Vibhavas (مستقل جذبے کا محرک) انبھا Anubhavas (ان جذبوں کو معرض اظہار میں لانے کا عمل)، سنچاری بھاؤ Sanchari bhavas (ترسیلی یا عارضی جذبات) اور ساتوک بھاؤ Satwik bhavas (فطری جذبہ) کی عمل آوری کی توضیح کرتے ہیں۔ آچاریہ بھرت نے نمایاں طور پر جن چار رسوں کو بنیادی اہمیت دی ہے وہ ہیں۔ شرنگار رس (رومانوی یا احساس جمال کا مظہر) رَودر رس रौद्र रस  (کراہیت اساس)، ویر رس वीर रस (رزم و شجاعت کا مظہر) وی بھتْس رس भीमत्सव रस (بھیانک اساس)۔ ان کے تحت کئی ضمنی رس بنائے گئے۔ بقول عنبر بہرائچی: آچاریہ بھرت نے بھاؤں یعنی جذبات کی تعداد 49 بتائی ہے۔ مستقل یا غالب جذبات کی تعداد8 اور ویبھچاری بھاؤ کی تعداد 33 اور ساتوک सात्विक یعنی فطری جذبات کی تعداد 8 بتائی ہے۔ وبھاؤ، انوبھاؤ اور ویبھچاری بھاؤ کے باہمی اتصال سے اس کی نموپذیری ہوتی ہے۔‘‘ (سنسکرت شعریات)آچاریہ بھرت کا کہنا ہے کہ مشاہدہ خود ایک تجربہ ہے جو معنی کو متمول اور ابلاغ کو سہل بناتاہے۔ جس کے بغیر تکمیل یافتہ اسلوب بھی کورا برتن ہے۔ رَس خود معنی اور معنی نما ہوتا ہے۔ بھرت نے نمایاں اور ذیلی جذبات کی تعداد ایک سو سے زیادہ بتائی ہے۔ ظاہر ہے یہ تمام جذبات انسان متعلق Human concern ہیں۔ محبت، نفرت، کراہیت، درد و اذیت، ہنسی، مزاح، غصہ، خوف، حیرت، ولوَلہ، احساس جمال، شجاعت، بھیانک وغیرہ۔ واتساین نے شہوانیت کو عرفانیات کے ساتھ ربط دے کر اس کا ایک پاکیزہ تصور قائم کیا۔ رَس کو روحانی انبساط اور طمانیت سے بھی تعبیر کیا گیا۔ دوسرے لفظوں میںا ٓچاریہ بھرت کے ڈرامائی فن کو رسوں کے توسط سے جام جمشید کا نام دیا جاسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’صرف ڈراما ہی تنہا دنیا بھر کو محیط فن ہے جو انسانی فطرت لوک سوبھاؤ نجن، (Loka-savbhavanjan) سے سارا مواد اخذ کرتاہے۔ ڈرامائی نمائندگی کے سلسلے میں وہ ایک سند (پرمان Praman) ہے۔ دنیا کے تعلق سے بھاؤ (جذبہ) اور چیشٹا Cheshta (اعصابی حرکت و سکنت سے داخلی جذبے کا اظہار)، طرز عمل) اور وہ جوحرکت میں ہے اور جو حرکت میں نہیں ہے۔ سب اس کے احاطے کی چیزیں ہیں۔ ڈراما دنیا کے کردار و عمل کا تنوع دکھاتا ہے۔ ڈراما Weltanschauurg تصور آفاق یا فلسفۂ زندگی کی نمائندگی کا ذریعہ اور جس دنیا کو وہ پیش کرتا ہے وہ حقیقت کا قابل اعتبار تصدیق کا سرچشمہ ہے۔ گویا رس ارضی تجربے کو مختص ہے وہ دنیاوی تجربے سے الگ کوئی چیز نہیں ہے البتہ رس کا وہ عمل جو ناظر، سامع یا قاری پر منتج ہوتا ہے اس کی نوعیت تجریدی ہے۔ یہاں پہنچ کر رس کی خارجی نوعیت باطنی عمل آوری کے ساتھ مربوط ہوجاتی ہے۔
رس کی تھیوری کی معنی خیزی اس اعتبار سے مستحکم ہے کہ وہ شعر یا ڈرامے کو انسانی جذبات و نفسیات کے ساتھ ملحق کرتی ہے، دوسرے یہ کہ قاری کو بھی ایک بلند منصب عطا کرتی ہے۔ تیسرے یہ کہ ارسطوکے کیتھارسس کے تصور کے مقابلے میں وسیع الذیل معنی کی حامل ہے۔ چوتھے یہ کہ ساختیاتی سطح پر تخلیقی فن سے اصول سازی پر بنائے ترجیح رکھتی ہے لیکن یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ یہ ضروری تو نہیں کہ ہر جذبے کا ردعمل تمام قاریوں پر یکساں ہو۔ بعض قاری بے حد جذباتی اور حساس ہوتے ہیں۔ ان کے تاثر میں شفافیت اور شدت ہوتی ہے۔ بعض قاری منطقی ذہن رکھتے ہیں اور اسباب و علل اور مناسبتوں پر غور کرتے ہوئے چلتے ہیں، ان کے لیے جذبے کا کوئی منطقی جواز ہونا لازمی ہے۔ بعض قاری کند ذہن یا سرسری دیکھنے اور پڑھنے والے ہوتے ہیں ہرجذبے کی قیمت کو سمجھنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ اس طرح قاریوں کے الگ الگ حلقوں کے رسوں کی الگ الگ معنویت ہے۔ کوئی حس مزاح سے عاری ہوتا ہے اور کسی کے لیے عشق و محبت دماغ کا خلل ہے اور کوئی بھیانک یا ڈراؤنے منظر یا بہروپ دیکھ کر ہنسنے لگتا ہے اور کسی کی نیندیں اڑجاتی ہیں، اُتساین کی کام شاستر یا کھجراہو کے مباشرتی آسنوں کو دیکھ کر کوئی ان سے شہوانی تحریک اخذکرتا ہے، کوئی اسے استغراق کی بلند تر سطح سے موسوم کرتا ہے اور کسی کے لیے وہ فن کے غیرمعمولی تجربے کے مظہر ہیں۔ اسی لیے رس حرکت ہی حرکت ہے۔
آچاریہ بھرت نے رَس کو اپنی تھیوری میں عین مرکز میں رکھا ہے۔ النکار کاحوالہ ان کے یہاں کہیں نہیں ملتا لیکن صنائع کا ملتا ہے۔ ناٹک کے عمل کو سامنے رکھیں تو راست ترسیل اور اظہار کی شفافیت کی اہمیت دونی ہوجاتی ہے۔ بھرت کے یہاںڈراما فلسفۂ زندگی کی نمائندگی کرتا ہے اور مختلف اداکاروں کی حرکت و سکنت اور ہر منظر رس اور زندگی کے فلسفے سے جڑ جاتا ہے۔ اسٹیج کرافٹ کی جھلکیوں کے معنی محض خارجی آرائش و زیبائش کے نہیں ہیں بلکہ رسوں کو شدید تر کرنے، اور زیادہ معنی خیز بنانے اور ابلاغ کے عمل کو مکمل کرنے میں بھی وہ معاون ہوتی ہیں۔یہ جھلکیاں مافیہ اور مواد سے ان کے گہرے تعلق کی بھی مظہر ہیں۔
ایک سادہ بیان اور دوسرا صناعانہ بیان ہوتا ہے۔ نثرمیں انشاپردازی کے جوہر دکھانے کا مقصود بھی زبان کی خارجی چمک دمک سے مرعوب کرنا ہے۔ انشاپردازی میں بھی مشابہتوں، لفظی ترکیبوں، بدیعیانہ وسیلوں کو جابجا استعمال کے ذریعے سجع کاری کی جاتی ہے۔ آچاریہ بھامہ کے بعد آچاریہ رُورٹ اور جے دیو، دنڈی اور آچاریہ وامن النکار کو شاعری کی شناخت کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ بھامہ، معنی کی پیچیدگی کو ایک خاص وصف سے تعبیر کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ وصف خاص بھی صنائع بدائع اور تزئین کلام و ترصیع کلام سے پیدا ہوتا ہے۔ النکار سے شعر میں جھنکار اور ارتعاش کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ عربی و فارسی میں بھی لفظ و معنی کے تعلق سے جو مباحث ہوئے ہیں ان میں لفظ پر زیادہ ترجیح ہے۔ لفظ لغوی سے زیادہ مجازی معنوں میں متوجہ کرتا اور ’بلیغ‘ ہوتا ہے۔ صنائع ایک طرف ترصیع سخن کے موجب ہوتے ہیں اور دوسرے شعریت کی تاثیر کو دوبالا کرتے اور تیسرے کلام کو ایک خاص منصب کرتے ہیں۔ سنسکرت پنڈتوں نے اس کے علاوہ النکار کو بھی خاص اہمیت دی ہے۔ کسی نے رَس کو النکار پر اور کسی نے النکار کو رس پر اور کسی نے دونوں کی مساویت پر ترجیح دی ہے۔ عمیق حنفی نے وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ:
’’بھامہ، دنڈی، ادبھٹ، رُودرت، ڑئیک اور پی پوش ورش وغیرہ نے النکار کو ہی کاویہ کی آتما مانا ہے۔ آنند وردھن، وامن، کُنتک، ممّٹ اور وشوناتھ کے نزدیک النکار شعر کے ظاہری حسن و تزئین کا وسیلۂ محض میں لفظ کا غیرمعمولی استعمال النکار کی جان ہے۔‘‘
(عمیق حنفی: چیزے دیگر است 1996، ص 23)
اس کے بعد وہ کہتے ہیں :
’’نویں صدی عیسوی سے شاعر اور علمائے شعر، النکاروں کے تکلف اور بوجھل آداب سے پنڈ چھڑانے کی کوشش میں لگے ہوئے نظر آتے ہیں، صناعی اور لفاظی ہی مقصد شاعری نہیں ہوسکتے نہ الفاظ سنگ و خشت ہیں اور نہ شاعری معماری۔‘‘ (ایضاً، ص 34)
دھونیधवनि صوت کی تھیوری میں لفظ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا گیا ہے، لیکن لفظ کے بعد لفظ سے پَرے اور لفظ کے اندر بھی ایک دنیا ہے۔ شاعری میں لفظ کا ظاہری معنی ہی اس کا حقیقی معنی نہیں ہوتا۔ شاعری اسی لیے شاعری ہے کہ وہ اپنی کم بساط میں بھی ایک جہان آباد کردیتی ہے جہاں توقع اور غیرمتوقع، واقعی اور غیرواقعی، حقیقت اور غیرحقیقت کی تفریق بے معنی ہوجاتی ہے۔ سنسکرت میں وینجنا व्यंजना وہ بیان جو بغیر آواز کی مدد کے نہیں بولا جاسکتا، ہمارے اندر کے جذبوں وغیرہ کو ظاہر ہونے، کرنے یا واضح صورت میں ادا کرنے کا عمل یا جذبہ/ لفظ کی وہ طاقت جس سے سامنے کے علاوہ ا یسے معانی یعنی مجازی، معنی سے بھی سابقہ پڑتا ہو جو مخفی ہوں۔ اس طرح دھونی میں وینجنا شکتی کی خاص اہمیت ہے۔ دھونی کا بنیادی نظریہ آچاریہ آنندوردھن کا تشکیل کردہ ہے جنھوں نے اپنی تصنیف دھونیا لوک (نویں صدی عیسوی) میں آواز کو شاعری کی آتما قرار دیا ہے۔ جسے وہ شاعری میں رس، النکار کے بعد تیسری قوت سے تعبیر کرتے ہیں۔ آنندوردھن کا نظریۂ صوت دراصل ترکیبی ہے انھوں نے سنسکرت شعریات کی روایت سے اخذ کرکے اس کی توسیع کی۔ لفظ کوایک قوت سے تعبیر کیا، جس کے ایک ظاہری، مروج اور لغوی معنی ہوتے ہیں دوسرے مجازی جو محض اشارہ کرتے ہیں۔ لفظ میں اگر یہ قوت نہ ہو تو شعر سے پس شعر کے اس جہاں آباد کا تصور بھی محال ہے، جس کی گرہ کھلنے کے معنی جادو اور انکشاف کے ہیں لیکن آنندوردھن کا کہنا ہے کہ لفظ کی اس قوت کو سمجھنا اور اسے ادا کرنا ہر شاعر کے بوتے کی چیز نہیں، مشق و ممارست اور چیزوں کے باطن میں پہنچنے والی نظر بھی درکار ہے۔ آنندوردھن کے ان خیالات کو آچاریہ کُنتک कुंतक نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے:
’’مخصوص لفظ اور مخصوص معنی ہی شاعری ہے۔ لفظ، صرف و نحو میں اشاراتی صوت کی شکل میں موجود ہے اور معنی، دال کی شکل میں عام ہے لیکن شاعری میں ان دونوں کی شکلیں مختلف ہوجاتی ہیں کیونکہ شاعری ارضی ہوتے ہوئے بھی ماورائی عناصر سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ اس لیے شاعری میں مستعمل الفاظ اور معانی اپنی انھیں شکلوں تک محدود نہیں رہتے جو کہ دنیا میں عام طور پر مشہور ہیں۔ یہاں لفظ کے روپ میں وہ لفظ منتخب کیا جاتا ہے جس کے بغیر منشائے شاعر طلوع نہیں ہوسکتا۔‘‘ ( عنبر بہرائچی: سنسکرت شعریات، ص 176)
سنسکرت شعریات میں مختلف علما نے لفظوں کے محاسن کی تعداد بھی بتائی ہے۔ الفاظ تزئین کے ساتھ متنوع معانی، اسمائے صفات، اقدار اور جذبات کے مظہر ہوتے ہیں۔ ’دھونی سدھانت نے ان کا رشتہ الفاظ کے معنوں سے نہیں سیدھے رَس سے جوڑا۔‘ بھرت اور دنڈی نے شبد کے دس گن گنائے تھے… ممٹ نے انھیں تین قرار دیا۔ مادھر یہमाधुर्यحسن، احساس مسرت، شیرینی، وقار اور لطف عطا کرنے والا وصف، دوسرا اوج औज(قوت، جلال، مردانگی، طمطراق، ہمت و شجاعت، اشتعال اور جوش خودی بیدار کرنے والا گن۔ پرساد प्रसाद تبرک ، تحفہ، ثواب، احسان دعاؤں کی قبولیت کے احساس کا یقین میں بدلنا، برکت کے حصول اور توسیع کا احساس۔ (عمیق حنفی)
شعری اسلوب کی کمال آفرینی اور مجموعی تاثر کی سبیل نظام الفاظ ہوتا ہے۔ نظام الفاظ کے استعمال کی ہزار شکلیں ہیں۔ شاعر، میدان شاعری میں سب سے آزاد اور بے نیاز قوم ہوتی ہے۔ آچاریہ وامن کا نویں صدی عیسوی سے تعلق ہے، ان کی تصنیف کاویہ النکار سوتر काव्यालंकार सूत्र میں ماضی کے علمائے شعریات کے تصورات کو نئے معنی بھی دیے اور شعری اظہار اور استعمالات زبان کے ان اوصاف پر اپنے خیالات کی بنیاد رکھی جو ایک کو دوسرے سے متمائز کرتے ہیں۔ النکار پسند اظہار کے عمل میں لفظ کو خاص اہمیت دیتے ہیں اور وامن کی نظر میں بھی لفظ خیال یا دوسرے لفظوں میں معنی پر مرجح ہے۔ رس میں سارا زور محسوسات کے عمل پر ہے۔ لفظ اپنے جوہر سے پہچانا جارہا ہے۔ کے سی پانڈے رس کو النکار پر ترجیح دینے کے باوجود النکار کو شعر کی روح قرار دیتے ہیں۔ افلاطون کے لیے جوہر ہی اوّل و آخر ہے۔ وامن محسوسات کے عمل کو شاعری کے ساتھ ربط ضرور دیتے ہیں، لیکن دستار فضیلت لفظ ہی کے لیے مخصوص ہے۔ وامن جمال پرست رومانی ہیں وہ لفظ کو شکتی مانتے اور شکتی کے کئی روپ ہیں۔ لفظ کی شکتی حسن و جمال ہے اور جمال آفرینی اسلوب کا سروکار ہے۔ عنبر بہرائچی نے وامن کے نظریۂ اسلوب پربحث کرتے ہوئے وصف गुणکی معنویت کو بھی واضح کیا ہے:
’’وامن نے شاعری کی زیب وزینت کی مخصوص علت، وصف کو مانا ہے۔ چونکہ علامتی شکل میں شاعری کو لفظ اور معنی کا اتصال مانا جاتا ہے۔ اس لیے وامن نے وصف کی دو قسمیں بتائیں۔ اوّل وصف لفظ اور دوئم وصف معنی۔‘‘ (ایضاً، ص78)
رَس اور النکار کے مباحث ہوں یا دھونی کے لفظ سے بات شروع ہوتی ہے اور کسی نہ کسی زاویے سے اس کا رخ معنی کی طرف ہوجاتا ہے۔ محض لفظ، اسلوب قائم کرتا ہے نہ محض معنی بلکہ دونوں کا اشتراک ہم بود و ہم وجود ہوتا ہے۔ درحقیقت لفظ ’معنی زائدہ ہوتا ہے‘ معنی لفظ زائدہ نہیں ہوتا۔ ہم معنی کو لفظ کے آگے پیچھے اس کے باطن میں تلاش کرتے ہیں جب کہ وہ اس طور پر لفظ میںمضمر ہوتا ہے جیسے تاریکی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں سے روشنی شروع ہوتی ہے اور روشنی بھی وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں سے تاریکی شروع ہوتی ہے اور ہم دونوں کو بانٹنے والی لکیر کو بس ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں۔
ایس کے ڈی، رس کی تھیوری کو سنسکرت شعریات کا منبع اور النکار، دھونی، رتی وغیرہ کو ایک دوسرے کی توسیع خیال کرتے ہیں۔ سنسکرت آچاریوں کا احساس جمال بہت حساس تھا۔ انھوں نے شعریات پر غور و فکر پر قدغن نہیںلگائی۔ وہ ماضی کے تصورات اور دریافتوں میں لطافت کا رنگ بھرتے رہے۔ دوسرے لفظوں میں اسے مانجھتے چلے گئے۔
نویں دسویں صدی عیسوی کے آچاریہ کنتک نے بھی اسلوب پر بے حد دقیق بحث کی ہے۔ ان کی تصنیف वक्रोक्ति जीवितम(وکر وکتی جیوتم) میں انھوں نے تقریباً ان تمام عوامل کا احاطہ کرلیا ہے جو کسی اسلوب کومنفرد اسلوب میں بدلنے کا کارانجام دیتے ہیں۔ عمیق حنفی نے وکروکتی کے لغوی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ : وَکرवक्रیعنی ٹیڑھا میڑھا، آرا ترچھا اور اُکتی उक्ति یعنی بیان، اظہار، قول۔ گویا پیچیدہ قول۔ بیان مستدیر، اظہار منحنی، طنزیہ نگارش، گھُما پھرا کر کہی گئی بات وَکروکتی ٹھہری۔آگے چل کر وہ لکھتے ہیں: کنتک کے لیے وکروکتی اُم الصنائع ہے کیونکہ ہر صنعت اور ہر بدعت کسی لفظ ’بندش‘ محاورے، جملے یا مصرعے کے معانی وہ نہیں رہنے دیتی جو سطح پر نظر آتے ہیں یا جنھیں الفاظ اور ان کے رشتے ظاہر کرتے معلوم ہوتے ہیں۔ تمام النکار انھیں ادا کرنے والے یعنی ان کے مصنف یا شاعر کے ارادہ و مقصد تک یا اس کے قریب پہنچا دیتے ہیں، ان کے برتنے سے شعر بلیغ ہوجاتا ہے۔ (ص106)
آچاریہ واس بھی صنائع بدائع کو شعری اسلوب کی محض ظاہری زیب و زینت تک محدود کرکے نہیں دیکھتے۔ انھیں شاعر کے احساس جمال کاآئینہ دار اور شعر کی قوت سے موسوم کرتے ہیں اور جو اسے قرأت نواز بناتے ہیں زبان و بیان میں معنیاتی پیچیدگی یا صنائع بدائع کا استعمال سادہ بیانی کے منافی نہیں ہے۔ شفافیت اور ابلاغ کی سب ہی نے تاکید کی ہے اور لفاظی اور اطناب سے گریزکو خاص اہمیت دی ہے جسے پرساد Prasad کہا گیا ہے۔ سنسکرت مثنوی روایت نے ویدر بھی Vaidarabhi طرز اظہار کو گاؤدی Gaudi یعنی طویل مرکب پر ترجیح دی ہے۔ بھرت کا اصرار بھی اسلوب کے اس پہلو پر زیادہ ہے۔ سنسکرت شعریات کا سفر صدیوں پر محیط ہے اور تصور سازی سے زیادہ تصورات میں تال میل پیدا کرنے اور تشریح در تشریح کے عمل نے اسے ایک بسیط میدان فراہم کردیا۔ یونانی، عربی، فارسی اور سنسکرت زبانوں میں شعریات کے سلسلے میں جو تصورات قائم کیے گئے، جو تشریحات عمل میںآتی رہیں، اختلافات، ترمیمات اور اضافات کی جو صورتیں پیدا ہوتی رہیں وہ خاص دلچسپ اور علم افزا ہیں۔ سنسکرت ادب کی تخلیق کا سلسلہ تو رک گیا، لیکن یونانی، عربی، فارسی، اردو اور ہندی کے علاوہ دوسری جدید ہند آریائی زبانوں میں جاری ہے۔ یونانی بھی یونان قدیم زمانے کی نہیں رہی۔ عربی و فارسی کے علاوہ دوسری جدید زبانوں کے ادب نے قدیم شعریات سے بہت کچھ اخذ کیا ہے جو اخذ کیا ہے وہ ان زبانوں کے لاشعور کاحصہ ہے۔ نئے سائنسی اور سماجی علوم کی غیرمعمولی ترقی نے تخلیقی منظرنامہ بہت کچھ بدل دیا ہے۔ ہم صرف اور صرف قدیم شعریات کے اطلاق تک ادبی تنقید کومحدود کرکے تخیل کی سرگرمی پر قدغن نہیں لگا سکتے۔ گوپی چند نارنگ نے ساختیات، پس ساختیات سے عربی، فارسی اور سنسکرت کی شعریات کاجوتقابل کیا ہے اور نتائج اخذ کیے ہیں وہ بڑے بلیغ اور معنی خیز ہیں۔ مثلاً ان کا کہنا ہے کہ بھرترہری کا نظریۂ سپھوٹ ساختیاتی لسانیات کے تصور نشان Sign کا پیش رَو ہے (دیکھیے Structuralism)، آنندوردھن کا نظریہ دھونی، دراصل رَس کاویہ پر تطبیق ہے۔ اس کی بعض تعبیروں میں معنی کے دوسرے پن Otherness پر جو زور ہے وہ معنی کے غیاب میں ہونے کے اس تصور سے ملتا جاتا ہے جسے دریدا نے شد و مد سے نظر بند کیا ہے….. آخری اور سب سے اہم بات یہ کہ نظریۂ رس جو سنسکرت شعریات کی جان ہے اور جس سے شعری جمالیات کے لاتعداد مباحث پیدا ہوئے ہیں، بالکل اسی طرح ’ناظرالاصل ‘ ہے۔ جس طرح قاری اساس تنقید قاری الاصل ہے (تفصیل کے لیے دیکھیں Post-structuralism اور Reader-oriened Criticism)۔ گوپی چند نارنگ نے ناگارجن کے نظریۂ شونیہ یا شونیتا کو رد تشکیلی فکر یا معنی کے دوسرے پن یا معنی کے مستقلاً غیاب میں رہنے یا التوا میں رہنے سے ملتا جلتا بتایا ہے۔ تقابل و تجزیے کی یہ صورتیں قابل قدر ہیں جو ماضی فہمی اور حال فہمی اور ایک دوسرے کے ساتھ نئے معنوی رابطوں کی راہ وا کرتی ہیں۔ کس طرح قدامت کی دانش، حال کی دانش کی پیش روی کرتی ہے اور اجتماعی لاشعور کا حصہ بن کر بار بار اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

مآخذ و مصادر
1 گوپی چند نارنگ: ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات، 1993
2 عتیق اللہ: ادبی اصطلاحات کی وضاحتی فرہنگ (جلد اوّل) 1996
3 عنبر بہرائچی: سنسکرت شعریات، 1999
4 عمیق حنفی: شعر چیزے دیگر است 1983
5 T.Burrow, The Sanskrit Language (1973)
6 S.K. De, Studies in the History of Sanskrit Poetics (1923)
7 K.C. Pandey, Indian Aesthetics (1950)

ماخذ: کشاف اصطلاحات ادبیات، مصنف: عتیق اللہ، سنہ اشاعت: 2025، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

سرزمین جاؤرہ اور ساحر افغانی، مضمون نگار: نارائن پاٹیدار

ماہنامہ اردو دنیا، جون 2024 مالوہ کی بااختیار ریاست جاؤرہ (گلشن آباد) میں اردو شعر و ادب کا سلسلہ عرصۂ طویل پر محیط ہے۔ ڈاکٹر غلام حسین بجا طور پر

ساغر صدیقی کی غزل میں سائنسی عناصر: محمد عادل

  ہر بڑے شاعر کی شاعری کا فکری وجدان بہت وسیع ہوتا ہے۔ ساغر صدیقی (1928-1974)بھی ایک ایسے شاعر ہیں جنھوں نے اپنے تخیل کے زور پر بڑے بڑے ادبی

اردو شاعری کی کلاسیکی شعریات مضمون نگار: ابو الکلام قاسمی

اردو شاعری کی کلاسیکی شعریات ابو الکلام قاسمی سیاق و سباق: ادب میں ہیئت، موضوع یا نوعیت کے اعتبار سے مختلف زمروں کی تقسیم کو اصناف کانام دیاجاتاہے۔ اس لیے