کبیر اجمل کا شعری اظہار،مضمون نگار: فہمینہ علی

April 9, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،اپریل 2026:

اردو تہذیب کے دبستانوں میں بنارس اپنی شہرہ آفاق گہرائی،تنوع اورروحانی معنویت کے سبب ایک منفرد مقام رکھتاہے۔ یہ محض ایک جغرافیائی اکائی نہیں، بلکہ ایک ایسا تہذیبی مظہر(Cultural Phenomenon) ہے جہاں صدیوں کی تاریخ، مذاہب کی آمیزش، اور زبانوں کی رنگا رنگی نے مل کر ایک منفرد فکری اور جمالیاتی فضا قائم کی ہے۔ بنارس کو اکثر مذہبی شعائر اور روحانی روایتوں کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، لیکن یہ شہر محض عقیدت کا مرکز نہیں بلکہ لسانی اور فکری تجربوں کی گہوارہ گاہ بھی ہے، جہاں فارسی، اردو، ہندی، اور برج بھاشا کی لہریں باہم پیوست ہوکر ایک نادر جمالیاتی فضا پیدا کرتی ہیں۔
بنارس صرف جغرافیائی نقشے کا حصہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی یادداشت (Cultural Memory)ہے۔ یہاں کے مندر، درگاہیں، گنگا کے کنارے اور گھاٹ مل کر انسان کو ایک ایسے جمالیاتی اور روحانی تجربے سے گزارتے ہیں جو شاعری کے لیے زرخیز زمین فراہم کرتا ہے۔ کبیر اجمل کی شاعری اسی بنارسی تہذیب کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔ جس نے زبان کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک جمالیاتی تجربہ بنایاہے۔ یہ شہر، اپنی تہذیبی کثرت اور صوفیانہ روایت کے سبب، لفظ کو معنی کے دریا میں بہانے اور جملے کو تجربے کا آئینہ بنا دینے کا ہنر بخوبی جانتا ہے۔ بنارس کی فضا میں روایت اور جدت، مذہب اور فلسفہ، اور ماضی اور حال کی کشمکش اس طرح گندھی ہوئی ہے کہ شاعر کے لیے یہ محض الہام کا مقام نہیں بلکہ شعوری جستجو کی دنیا بھی ہے۔ یہی وہ ماحول ہے جو کبیر اجمل کے کلام کو ان کے عہد نفسا نفسی میں بھی تہذیبی معنو یت عطا کرتا ہے۔
شمس الرحمن فاروقی کے بقول شاعری محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ ایک ’لسانی تشکیل‘ (Linguistic Construct) ہے جو معنی بیان نہیں کرتی بلکہ معنی پیدا کرتی ہے۔1؎ کبیر اجمل کے اشعار بھی اسی تصور کے تحت سمجھے جا سکتے ہیں۔ ان کے کلام میں ایک ایسی شعوری صناعت ملتی ہے جو اشعار کو محض وجدانی اظہار کے درجے سے بلندکرکے ایک ’’فکری بیانیہ‘‘ بنا دیتی ہے۔
اسی سے اجمل تمام فصل غبار صحرا
اداس آنکھوں میں پھر بھی روشن دیا اسی کا
تری وفا کی گلاب رت بھی اداس راہوں میں کھو گئی ہے
سو زرد موسم فصیل شہر انا پہ تحریر کر رہا ہوں
وہ کون ہے جو مرے دسترس سے باہر ہے
ہم اہل ہجر شکست سواد شام کے بعد
عذاب آیا تو تیری طرف ہی آئیں گے
کسے پکار رہا ہے غبار دشت طلب
کبیراجمل غزل کے روایتی تقاضوں سے بھی باخبر ہیں اورعہدحاضر کے عصری تقاضوں سے بھی۔ 2؎ ان کی شاعری کاسفر تجربے سے تجزیے اور تجزیے سے تنظیم نوکی جانب گامزن ہے ۔ ان کے تخیل کی پرواز ذوق و شوق کے ساتھ مشاہدات کو بھی اہم گردانتی ہے ان کے یہاں عشق کا تصورروایتی بیڑیوں میں جکڑاہوانہیں ہے۔ بلکہ اس میں تازہ کاری کااحساس ملتاہے۔ ان کی عشقیہ شاعری میں ’ناز حسن‘ کے ساتھ ساتھ نیاز حسن کی تفصیل‘ بھی موجود ہے ، لیکن یہ محض جذباتی رومانیت نہیں بلکہ واقعیت اور حقیقت پسندی کا امتزاج ہے ،ان کے یہاں خارجی حالات اور اجتماعی معاملات کا شعور ایک بیلنس کے ساتھ کام کرتا ہے اور عشق زیادہ تر حقیقی انداز میں جلوہ نما نظر آتا ہے لیکن کہیں کہیں اس میں مجازی عشق کی کیفیات بھی شامل ہیں جنھیں برتنے میں انھوں نے علامتوں اور استعاروں کا نفیس سہارا لیا ہے۔ وہ’ ایک نام‘جو حصارِ سخن میں آ کر بھی نہیں آتا ،جو ’خوشبوئوں کاآذرہے، خواہشوں کا پیکر ہے‘ ،فکر کا شناور ہے،جس کا چہرہ خواب زاروں میں نمو کی صورت ہے، جس کے عکس کی خوشبو شرمیلی ہے،جو سلگتی ریت پر ابرِ بہار جیسا ہے، جو ماضی کے شبستاں سے شاعر کو صدائیں دیتا ہے ،وہ جو پیکرِ احساس ہے جو خواہشوں کی سبز وادی میں رہتا ہے ،وہ کوئی شبیہ خوش نما ہے، دل کے سادہ کاغذ پر بنتا ہوا چہرہ ہے ،جو ہمیشہ شاعرکے تصور میں نمایاں رہتا ہے ،جسے وہ کبھی کبھی تنہا سوچناچاہتے ہیں جب تصورات کے آنگن میں وہ چاندنی بن کر اترتا ہے تو روش روش اس کی چاہت میں جگمگاتے بھی ہیں۔ وہ ایک سیماب خواہشوں کا پیکر ہے، وہ جس کے آنگن کے مہکتے پھول آج بھی شاعر کے ذہن میں تازہ ہیں ،لیکن اس کا نہ تبدیل ہونے والا پندار اب بھی ویسا ہی قائم ہے، خیالستان میں کہیں کہیں اس کی شبیہہ ابھرتی بھی ہے تو لب ورخسار تک آکر تھم جاتی ہے ،وادی خواب سے بے زار لوٹتی آنکھوں میں جس کی شکستہ پائی کا دکھ شامل ہے ،لیکن جس کو آواز بھر دینے سے بھی اندرونی توڑ پھوڑ شروع ہو جاتی ہے ،ان کا محبوب کسی خواب کی مانند ہے اوران کا ’وہ خواب طلب گار تماشہ‘ ہرگزنہیں ہے۔ آپ کے بیشتر اشعارمیں اس مجازی خدا کی جھلکیاں نظر آتی ہیں یہ مجازی خدا چلتی پھرتی دنیا کا کوئی عام محبوب نہیں بلکہ بہت ہی با شعوری کے جہاں میں رہنے والی وہ امید ہے،جس کی جستجو کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں اس پر وہ ہی قائم رہ سکتا ہے جسے سنگ سے صہبا نچوڑنے کا ہنر آتا ہے ۔
دیار خوں میں بہے موجِ فن میں آئے کبھی
وہ ایک نام حصارِ سخن میں آئے کبھی
خواب در خواب مہکتی ہوئی وہ چشمِ غزال
آج آنکھوں میں اسی رات کی خوشبو رکھو
تیرا خیال نہ آنا تھا سو نہ آیا ہمیں
مگر یہ کیا کہ کوئی شمع جھلملا بھی گئی
کلام اجمل کی ایک اہم جہت اس کا صوتی آہنگ (Acoustic Texture) ہے۔ ان کے مصرعوں میں حروف کی نشست و برخاست اور صوتی تکرارسے ایک ایسا توازن پیداہوتا ہے جو اردو غزل کی کلاسیکی روایت کو یاد دلاتا ہے لیکن ساتھ ہی جدید حسیت کا رنگ بھی رکھتا ہے۔ یہ صوتی آہنگ محض شعری حسن کے لیے نہیں بلکہ معنی کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرتا ہے۔ یہ اشعار اردو شاعری کے جدید رجحانات اور کلاسیکی استعاراتی نظام کے ایک تخلیقی امتزاج کی عمدہ مثال ہیں۔ انھوں نے روایت سے اخذ کردہ علامتوں جیسے خاک، خون، ہجرت، رقص، اُفق اور پرندہ کو محض روایتی معنوں میں استعمال نہیں کیا، بلکہ انھیں ایک وجودی کرب (Existential Angst)اور تہذیبی شعور کے نئے معنی عطا کیے ہیں۔
اردو شاعری کی اصل قوت اس کی تہذیبی گہرائی، علامتی کثافت اور داخلی معنویت میں مضمرہے۔ شاعر جب اپنے وجودی تجربات کو بیان کرتا ہے تو وہ محض ذاتی دکھ یا جذبات کی کہانی نہیں کہتا بلکہ ایک پوری تہذیبی یادداشت اور فکری روایت کو اپنی آواز دیتا ہے۔3؎ یہ اشعار اسی سلسلے کی ایک روشن مثال ہیں، جہاں کلاسیکی استعاروں کو جدید حسّیت کے ساتھ برتا گیا ہے۔ شاعر نے ہجرت، فنا، پرواز اور خاک و خون جیسے روایتی الفا ظ کو عناصر کے طور پر نہیں بلکہ معنوی جہات کے نئے دریچے کھولنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس میں وہی شعری روش نمایاں ہے جسے فاروقی نے اردو غزل کی اصل طاقت قرار دیا تھا: یعنی معنی کا’’کلامیاتی تسلسل‘‘ اور استعارہ سازی کی ’’تہذیبی شعور‘‘ سے جڑی پیچیدگی۔ ان اشعار کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔
ہمیں نے رقص کیا نغمہ فنا پر بھی
ہمیں ہی پلکوں پہ ہجرت کا بار اٹھانا تھا
بال و پر کی وسعتوں میں قید ہوں
میں پرندہ دُور اُفق کے پار کا
خاک سے خون کو ہم رنگ کیا ہے اجمل
اپنے ہونے کا یہی ایک سبب آخری ہے
رقص کا تعلق عموماً سرشاری اور وجد سے ہے، مگرکبیر اجمل نے اسے فنا کے نغمے کے ساتھ جوڑ کر اس کی تہذیبی معنویت کو نیا رخ دیا ہے۔’’پلکوں پہ ہجرت کا بار‘‘کی ترکیب میں نزاکت اور سنگینی کا امتزاج فاروقی کے اس نکتے کو ذہن میں لاتا ہے کہ اردو غزل کی اصل طاقت اس کی’’خیال پرستی‘‘ اور’’کلامیاتی تخیل‘‘ (Rhetorical Imagination) ہے، جو بیک وقت جمالیاتی اور فکری سطح پر معنی پیدا کرتی ہے۔
دوسرے شعر میں شاعر نے آزادی اور اسارت کے تضاد کو علامتی پیرائے میں بیان کیا ہے۔ بال و پر پرواز اور حریت کی علامت ہیں، لیکن یہاں وہی آزادی قید کا استعارہ بن گئی ہے۔ شاعر کی یہ خود آگاہی کہ وہ ’’افق کے پار کا پرندہ‘‘ ہے، اس کے داخلی اضطراب، بے وطنی اور غیرمحدود خواہشات کوظاہرکرتی ہے۔ اس استعارے میں جدیداردو شاعری کی علامتی روایت کی بازگشت سنائی دیتی ہے جو اقبال، میراجی اور ن م راشد کے بعد انسانی وجود کی وسعت اور محدودیت کو فلسفیانہ تناظر میں پیش کرتی ہے۔ تیسرا شعر اردو شاعری کے کلاسیکی مابعدالطبیعیاتی ڈسکورس کی جدید قرأت ہے۔ ’’خاک‘‘ اور’’خون‘‘ اردو شعری روایت میں حیات و ممات کی علامتیں ہیں۔ شا عر نے اس تضاد کو فلسفیانہ انداز میں استعمال کرتے ہوئے زندگی کی معنویت موت اور فنا کے شعور ہی سے اخذ کی ہے۔ یہ رویہ محض قنوطیت نہیں بلکہ وہ فکری پیچیدگی ہے جو جدید اردو غزل میں معنی کے کئی پرت پیدا کرتی ہے۔
یہ اشعار فاروقی کے اس تصور کو عملی صورت دیتے ہیں کہ اردو شاعری محض رومان یا جذباتیت کا اظہار نہیں بلکہ تہذیبی شعور، علامتی استعارہ سازی اور جمالیاتی فکر کا امتزاج ہے۔4؎ ان اشعار میں داخلی کرب کو جمالیاتی اظہار میں ڈھالا گیا ہے، اور یہی جمالیاتی رویہ اردو غزل کی کلاسیکی روایت کی اصل شناخت ہے۔ شاعر روایت کے استعارے استعمال کرتے ہوئے بھی ان میں نئے معنوی امکانات پیدا کرتا ہے؛ یہی عمل اسے محض کلاسیکی پیروی سے بلند کر کے جدید حسّیت کے دائرے میں داخل کرتا ہے۔یوں یہ تینوں اشعار ایک ساتھ مل کر اردو شعری روایت کے دو اہم پہلوؤں، علامتی روایت کی تسلسل پذیری اور جدید ذہن کی وجودی پیچیدگی کو سامنے لاتے ہیں۔ ان میں’ہجرت‘ محض جغرافیائی تجربہ نہیں بلکہ تہذیبی یادداشت اور داخلی بے وطن کی علامت ہے؛ ’پرندہ‘ صرف ایک مخلوق نہیں بلکہ انسانی ارادے اور تخیل کی لاحدود پرواز کی تمثیل ہے؛ اور ’خاک و خون‘ حیات اور فنا کی ازلی کشمکش کا بیانیہ ہے۔ یہ سب مل کر اردو شاعری کی اس قوتِ تخلیق کی گواہی دیتے ہیں جو زمانے کے تغیرات کے باوجود معنی کی نئی جہات پیدا کرتی رہتی ہے۔
جس دور کی شاعری کبیر اجمل کی ہے، اس میں جدت پسندی اورتجربات کی شدت کازور تھا۔ اس ادبی ماحول میں اکثر شعرا مایوس اورPessimistدکھائی دیتے ہیں، زندگی کے زنگ آلود پیچ و خم اور روزمرہ کی رکاوٹوں سے تھک کر۔ ایسے میں کبیر اجمل ایک حوصلہ مند اور پُرعزم شاعر کے طور پر ابھرتے ہیں، جو مشکلات کے باوجود امید، عزم اور زندگی کی مثبت بصیرت کے پرچار میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کے اشعار میں غالب کی طرح وجودی خوش بینی اور داخلی قوت کی جھلک نمایاں ہے، جو اس دور کے ادبی منظرنامے میں تازگی اور نیا رنگ لے کر آتی ہے۔
بہت ہوا تو ہواؤں کے ساتھ رو لوں گا
ابھی تو ضد ہے مجھے کشتیاں ڈوبونے دے
چلے چلو یوں ہی جب تک سفر کشادہ ہے
زمین کہیں نہ کہیں آسمان ہوتی ہے
ستارے بے سبب بجھتے نہیں ہیں
میں سورج بن کے آنگن میں کھڑا ہوں
انہی سے مجھ کو ملا عزمِ زندگی اجمل
میں جانتا ہوں کہ کیا ہے مقام پھولوں کا
کبیر اجمل کے یہ اشعار اپنے ادبی وزن، استعارے، اور معنوی گہرائی کے اعتبار سے اس دور کی شاعری میں ایک تازگی اور نیا زاویہ پیش کرتے ہیں۔ جہاں اس دور کے بیشتر شعرا Pessimist اور زندگی کے تلخ حقائق سے تھکے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، وہیں کبیر اجمل ایک حوصلہ مند، امید افروز اور زندگی کی جدوجہد پر یقین رکھنے والے شاعر کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان اشعار میں کشتیاں ڈوبانے کی تصویر محض خارجی حالات کی عکاسی نہیں بلکہ شاعر کے اندرونی عزم اور استقلال کی علامت بھی ہے،زمین اور آسمان کااستعارہ نہ صرف جغرافیائی بلکہ معنوی حقیقتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے، یعنی ہر رکاوٹ کے باوجود ہر جگہ میں نیا موقع اور نئی امید موجود ہے،یہ شعر شاعر کی خوداعتمادی، خودی اور داخلی قوت کی واضح تصویر پیش کرتاہے۔ ستارے جو رکاوٹ یا مشکلات کی علامت ہیں، اپنی جگہ برقرار ہیں، یہاں سورج شاعر کے عزم اور حوصلے کا عمدہ استعارہ بن کر سامنے آیا ہے،پھولوں کا مقام جاننا محض جمالیاتی غور نہیں بلکہ وجودی اور فلسفیانہ فہم کی علامت ہے، جو ہر چھوٹی چیز میں زندگی کی معنویت تلاش کرنے کی قوت کو ظاہر کرتا ہے۔ان کی شاعری میں خوداعتمادی، داخلی روشنی، مثبت رجحان، اور وجودی خوش بینی کی جھلک واضح ہے۔مزید برآں، ان کے اشعار کی ساخت، استعارہ نگاری، اور زندگی کے تجربات کو عاطفی و فکری زاویے سے پیش کرنے کا انداز انھیں ادبی طور پر ممتاز کرتا ہے۔ ہر شعر نہ صرف شخصی عزم اور حوصلہ کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ وجودی اور فلسفیانہ بصیرت بھی پیش کرتا ہے، جو غالب کے Optimism کی یاد دلاتی ہے۔ یہ اشعار اس بات کی گواہی ہیں کہ کبیر اجمل نے اپنی شاعری میں زمانے کی مایوسی اور ادبی رجحانات کے باوجود زندگی کی روشنی اور امید کو برقرار رکھا۔
کبیر اجمل نے کہیں کہیں اساطیری واقعات کو بھی استعاراتی فضادی ہے اوراپنے عہد سے ہم آہنگ کیا ہے یہ بھی ان کی غزلوں میں معنویت کی ایک جہت ہے۔
میں اپنی فکر کا کوہ ندا ہوں
کوئی حاتم مرے اندر بھی آئے
زندگی تو کسی حاتم کی کہانی نہ سنا
عزم کی راہ میں بے جان شگوفے ہیں بہت
کوہ ندااورحاتم کے حوالے سے جوشعر کہے گئے ہیں ان میں پہلے شعر میں خود اپنے اندر پوشیدہ خزانوں کی تلاش کی تمنا ظاہر کی گئی ہے دوسرے شعر میں حاتم کی کہانی سے بیزاری کا اظہار اس لیے کیاگیا ہے کہ عصر رواں خود میںاس قدر پیچیدہ مسائل رکھتا ہے کہ انھیں حل کرنا گویا لاشوں میں نئی روح پھونکنے جیسا ہے ۔

حوالہ جات
1 شمس الرحمان فاروقی:لفظ و معنی،ص39،شب خون کتاب گھر الہ آباد1968
2 یعقوب یاور:منتشر لمحوں کا نور ،مضمون،ص13،اسکرین پلے پبلی کیشنز،بنارس2007
3 شمیم حنفی :اردو شاعری کی فلسفیانہ اساس،ص245،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ انڈیا،1977

Dr. Fahmina Ali
Aligarh Muslim University
Aligarh (U.P)
Mob.: 7379636764
E-mail: anam.fahmina04@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اردو شاعری میں بنارس کی جھلکیاں ،مضمون نگار: رئیس انور

اردو دنیا،دسمبر 2025: دریائے گنگاکے کنارے سناتن دھرم کے تین تیر تھ استھان— ہری دوار، رشی کیش اور کاشی یا بنارس ہیں۔ ان کے علاوہ الہ آباد (پریاگ راج) ایک

نظیراکبر آبادی کی شاعری میں متصوفانہ رجحان،مضمون نگار:نعیمہ جعفری پاشا

اردو دنیا، اپریل 2026: تصوف ایک فکر ہے، سوچ ہے، نظریہ ہے ۔ یہ ایک عقیدہ اور یقین ہے جس کا تعلق قلب اور باطن سے ہوتاہے۔ یہ کوئی مسلک

معاصر اردو غزل کی شعریات ،مضمون نگار:ڈاکٹرلیاقت علی

اردو دنیا، مارچ2026: انسان جب اپنے خارجی اور داخلی تجربات کو الفاظ کی گرفت میں لانے کی کوشش کرتا ہے، تو ایک نیا تخلیقی عمل جنم لیتا ہے جسے ہم