تلخیص:
نواب برہان الملک امین الدین خاں نیشاپوری نے اودھ کی صوبہ داری سنبھالی اور وہاں کی بد عنوانیوں پر قابو پایا۔ نواب شجاع الدولہ کے عہد تک اودھ کا دارالحکومت فیض آباد رہا۔ نواب آصف الدولہ نے دارالسلطنت فیض آباد سے لکھنؤ منتقل کر لیا اور فیض آباد کی ساری رونقیں لکھنو میں آ بسیں۔اٹھارویں اور انیسویں صدی کے اسی لکھنؤ نے اپنی منفرد تہذیبی، سیاسی اور ادبی شناخت قائم کی۔ گرچہ اس تہذیب کی ہیئت مغلیہ سلطنت سے حتمی طور پر جدا نہیں تھی۔مگر چند امور کی افراط و تفریط، دہلی کی تہذیب سے ممیز اور منفرد ہونے کا خیال اور ذہنی، معاشی اور معاشرتی آسودگی وغیرہ عناصر نے اس نئی تہذیب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔
مضمون ہذا میں اسی انیسویں صدی کے اودھ کے تاریخی سیاسی، سماجی اور ادبی منظرنامے کو حتی الامکان اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔لکھنوی تہذیب کی منفرد شناخت قائم کرنے میں جو عناصر ممد رہے ان کی نشاندہی کر کے ان پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے ۔ ادب اور سماج پر ان کے اثرات سے بھی بحث کی گئی ہے نیز لکھنؤ میں پیدا شدہ اصناف ادب کا پس منظر بھی زیر بحث لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
کلیدی الفاظ
اودھ، لکھنؤ، عبدالحلیم شرر، سیاسی، تہذیب، ادب، عزاداری، محرم، فرماں روایان، نوابین، مغلیہ سلطنت وغیرہ
———
محمد شاہ کے عہد میں (1720-1748) میں نواب برہان الملک امین الدین خان نیشاپوری (1719-1737) نے اودھ کی صوبہ داری سنبھالی۔ نواب برہان الملک ایک جری اور بہادر سپاہی تھے۔چنانچہ انھوں نے اودھ میں پھیلی بد عنوانیوں پر جلد ہی قابو پا لیا۔ اس وقت اودھ کا علاقہ ’’پانچ سرکاروں پر مشتمل تھا: حویلی اودھ، گورکھپور، بہرائچ، لکھنؤ اور خیرآباد‘‘ 1؎ اودھ کے ابتدائی نوابین میں سپاہانہ جوش و جذبہ اور مغل سلطنت کی آن بان موجود تھی۔ چنانچہ صفدر جنگ (1737-1753) اور شجاع الدولہ (1753-1775) نے اپنے عہد میں تلوار کا زور قائم رکھا، لیکن 1764 عیسوی میں بکسر کی جنگ میں شجاع الدولہ کی شکست ہوئی اور انگریزوں کے ساتھ ان کا معاہدہ اعتراف شکست ثابت ہوا، کیونکہ اس کے بعد نوابین اودھ نے کبھی انگریزوں کے خلاف صدائے احتجاج تک بلند نہیں کی۔
نوابینِ اودھ کا پہلا مستقر فیض آباد تھا۔بقول عبدالحلیم شرر برہان الملک نے ابتداًدریائے گھاگرا کے کنارے ایک بلند ٹیلے پر اپنا خیمہ نصب کیا— اور چند روز بعد انھیں برسات میں تکلیف ہوئی تو تھوڑی دور ہٹ کر ایک مناسب مقام پر جھوپڑا بنوایا۔پھر اس کے بعد چھپر کے گرد کچی دیوار کا ایک بہت وسیع مربع حصار کھنچوا لیا، جس کے چاروں کونوں پر قلعہ بندی کی شان سے چار برج بنوا دیے… ان کے زنانے اور بیگمات کے قیام کے لیے بھی کچے ہی مکانات بنائے گئے۔ غرض اسی کچے بنگلے میں اس وقت کا والی اودھ، جب اسے اضلاع کے دورے اور سفر ہا ئے حکمرانی سے فراغت ہوتی تو آرام و آسائش کے ساتھ رہتا تھا اور کسی بات کی شکایت نہ تھی، اور اس کا یہ دارالامارت چند ہی روز میں بنگلہ کے نام سے مشہور ہو گیا۔‘‘2؎
یہی بنگلہ نواب صفدر جنگ کے عہد میں فیض آباد کے نام سے مشہور ہوا، لیکن صفدر جنگ کے بعد شجاع الدولہ نے اپنی سکونت کے لیے لکھنؤ کو آباد کیا۔ بکسر کی شکست کے بعد احمد خاں بنگش کے مشورے کے مطابق وہ فیض آباد واپس ہو گئے اور فیض آباد کو ایسا بارونق کر دیا کہ ’’معلوم ہوتا تھا کہ چند ہی روز میں فیض آباد دہلی کی ہمسری کرے گا۔‘‘
نواب شجاع الدولہ کی وفات کے بعد شہر فیض آباد پر گہن لگ گیا۔ ہر چند کہ بہو بیگم (امتہ الزہرا بیگم) فیض آباد ہی میں مقیم تھیں لیکن شجاع الدولہ کے جانشین آصف الدولہ(1775-1797) نے دارالحکومت فیض آباد سے لکھنؤ منتقل کر لیا اور فیض آباد کی تمام رونقیں لکھنؤ میں آ بسیں۔ بقول عبدالحلیم شرر’’ان دنوں شہر لکھنؤ ایسی رونق پر تھا کہ ہندوستان ہی نہیں شاید دنیا کا کوئی شہر لکھنؤ کے اوج و عروج کا مقابلہ نہ کر سکتا ہوگا۔‘‘ حالانکہ شرر کا بیان مبالغے سے پر ہے مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ لکھنؤ اپنے عروج پر تھا۔یہی لکھنؤ دراصل اودھ کا تہذیبی مرکز ہے۔ بقول ڈاکٹر نیر مسعود ’’1857 سے پہلے جس تہذیب کو ہم اردو تہذیب کا نام دیتے ہیں وہ دراصل بیت السلطنت لکھنؤ کی تہذیب ہے۔ لکھنؤ کے قریب ترین شہر بھی اس حیثیت میں لکھنؤ سے بہت مختلف تھے۔‘‘3؎
لکھنؤ کے نواحی علاقے کی زبان اودھی تھی۔ اس زبان میں اچھا خاصا ادبی سرمایہ موجود تھا۔ البتہ دارالخلافہ کی زبان اردو تھی اور لکھنؤ اودھی زبان کے سمندر میں اردو کا ایک جزیرہ تھا، مگر ایسا جزیرہ جو خود انجمن و ادارہ بن گیا۔‘‘4؎ اٹھارہویں صدی اور انیسویں صدی کے اسی لکھنؤ نے اپنی تہذیبی شناخت قائم کی۔ گرچہ اس تہذیب کی ہیئت پرانی مغلیہ سلطنت سے حتمی طور پر جدا نہیں تھی مگر چند امور نے اس کے رنگ کو مزید شوخی اور رعنائی بخشی۔
شاہان اودھ کا تعلق ایران کے اثنا عشری مذہب سے تھا۔ یوں تو دہلی میں بھی ایک طرح سے ایرانیوں کا زور تھا۔ ایران سے آئے ہوئے امرا اور رؤسا کی خاطر خواہ عزت افزائی ہوتی تھی۔ یہی نہیں دہلی کے آخری زمانے میں ایرانیوں کا بول بالا تھا مگر چونکہ دہلی کے بادشاہ سنی تھے اس لیے اہل تشیع اپنے مذہب میں غلو غلبے کے ساتھ کام نہ لیتے تھے۔ جب ریاست اودھ کا اپنا دور دورہ ہوا تو ’’ایران کا یہ رنگ لکھنؤ پہنچا، یہاں کے حکمرانوں نے شدید مذہبی ارادت کو اس حد تک تو نہیں اپنایا جو صفویوں کے عہد میں برسرِکار تھا لیکن نواب وزیر اور ان کے خاص محل کے ذاتی اثر نے عقیدہ کو لکھنؤی تمدن کا ایک نمایاں عنصر بنا دیا۔‘‘5؎ یہ عقیدہ عہد شجاع الدولہ سے فروغ پا کر غازی الدین حیدر (1814-1827) کے زمانے میں اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ رشید حسن خاں لکھتے ہیں:
’’ غازی الدین حیدر کے زمانے میں سلطنت میں مذہبی عناصر نے زیادہ نمود حاصل کی۔‘‘6؎
امجد علی شاہ(1842-1847) کے زمانے کے حالات صاحب تاریخِ اودھ نجم الغنی کی زبانی ملاحظہ ہوں:
’’یہ بادشاہ جان و دل سے فدائے قدو مِ آل اطہار و شہیدان کربلا کا جانثار تھا۔ دینداری ان کی مشہور عام ہے۔ طبیعت نہایت مذہب دوست تھی۔ مذہب شیعہ نے خوب رونق پائی۔‘‘7؎
چنانچہ رشید حسن خاں لکھتے ہیں:
’’اس طرح مذہب نے تہذیبی مظاہر کو تیزی سے متاثر کرنا شروع کیا اور یہ سب سے بڑا عنصر تھا جس نے لکھنؤ کی معاشرت میں بہت سے ایسے عناصر کی تشکیل کی جس سے دہلی سے آئی ہوئی معاشرت سے متمائز معلوم ہونے لگی۔‘‘8؎
اسی مذہبی جوش نے لکھنؤ میں مرثیہ جیسی صنف سخن کو فروغ دیا۔ مرثیہ لکھنؤ سے قبل محض چند بندوں پر مشتمل نظم تھی اور اس کی قدر و منزلت اس قدر کم تھی کہ ’بگڑا شاعر مرثیہ گو‘ مشہور تھا۔ مگر اہل لکھنؤ نے اردو شاعری میں مرثیے کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ بعض بڑ ے ذی علم نقادوں نے صاف کہہ دیا کہ اردو شاعری میں اگر کوئی چیز ہے جس کو ہم دنیا کے ادب کے سامنے پیش کر سکتے ہیں تو وہ صرف مرثیہ ہے۔‘‘9؎
ایک طرف جہاں اس مذہبی غلو و غلبے نے مرثیہ جیسی صنف سخن سے اردو ادب کو مالا مال کیا تو دوسری طرف اس نے سماج میں نئے نئے رسوم کی بنیاد ڈالی۔ غازی الدین حیدر کے زمانے میں ’اچھوتیوں‘ کی مثال کافی ہوگی۔ مرزا جعفر حسین ’قدیم لکھنؤ کی آخری بہار‘ میں لکھتے ہیں:
’’غازی الدین حیدر کے صاحبزادے اور جانشیں نصیرالدین حیدر(1827-1837) فرماں روا ہوئے تو ان کی ملکہ نے امور مملکت میں کافی دخل حاصل کر لیا تھا۔ وہ کٹر قسم کی مذہبی خاتون تھیں اور شیعیت میں ان کے رجحانات ہندوؤں کے رسم و رواج سے بڑی حد تک متاثر تھے۔ یہ انہی کا اثر تھا کہ بادشاہ نے محرم کے مراسم میں اضافہ کر کے بیسویں صفر تک سوگ نشینی کی مدت کو بڑھا دیا۔‘‘10؎
پروفیسر جعفر رضا لکھتے ہیں:
’’نصیر الدین حیدر کے دور میں بادشاہ بیگم کے اثرات بہت بڑھ گئے تھے۔ موصوفہ مذہبی مزاج رکھتی تھیں اور عزا داری میں خصوصی شغف تھا۔ انھوں نے عزاداری سے متعلق مختلف و متنوع مراسم کی ابتدا کی۔ ایام عزا میں مزید توسیع کی گئی۔‘‘11؎
ان تمام رسوم و رواج نے فضول خرچی کی ایک اور راہ نکالی مسعود حسین رضوی ادیب لکھتے ہیں:
’’اودھ کے بادشاہوں کے مذہبی رجحان کا یہ اثر ہوا کہ صرف لکھنؤ میں سیکڑوں امام باڑے بن گئے۔کروڑوں روپیہ نقد جنس اور جائیداد کی شکل میں عزاداری کے لیے وقف کر دیا گیا۔ ہر سال محرم میں بلا مبالغہ کروڑوں روپیہ عزاداری میں صرف ہوتا تھا۔‘‘12؎
اودھ کی منفرد تہذیبی شناخت میں نمود و نمائش کو اہم مقام حاصل ہے۔واقعہ یہ ہے کہ جب ایک طرف شجاع الدولہ کے اخلاف کے ہاتھوں سے تلوار چھوٹ کر گر گئی اور کمپنی بہادر کے شکنجے میں پوری طرح کس دیے گئے۔ دوسری طرف دہلی کی ہمسری کا خیال جاگزیں رہا تو اس کا مظاہرہ ظاہری جاہ و حشم، کروفر طمطراق اور شان و شوکت ہی سے ہوا۔اس نمود و نمائش کی دوسری وجہ یہ تھی کہ حکمرانان اودھ میں اب یہ صلاحیت باقی نہ رہی کہ وہ روپوں کا استعمال رفاہ عام کے لیے کر سکیں۔ فوج اور تعلیمی اداروں پر کمپنی کا زور تھا،کچھ اس وجہ سے اور کچھ اپنی عیش پسندی اور شان و شوکت کے اظہار کے لیے روپوں کا بیجا استعمال شروع ہوا۔ حکمرانان نے اودھ کی آمدنی اور خرچ کا اندازہ ابتدا تا واجد علی شاہ درج زیل اقتباس سے باآسانی لگایا جا سکتا ہے:
’’برہان الملک(1719-1737) نے آمدنی دو کروڑ تک پہنچا دی۔ مرتے وقت انھوں نے نو کروڑ روپیہ چھوڑا تھا۔ صفدر جنگ اور شجاع الدولہ کے عہد میں آمدنی میں مزید اضافے ہوئے۔ آصف الدولہ کو خزانہ بھرا ہوا ملا اور انھوں نے داد و دہش اور رعایا پروری کا وہ بازار گرم کیا کہ لکھنؤ میں مثل مشہور ہو گئی’’جس کو نہ دے مولا اسے دے آصف الدولہ۔‘‘سعادت علی خاں(1798-1814) نے نصف ملک انگریزوں کے ہاتھوں میں دے دینے کے باوجود 14 کروڑ روپیہ خزانے نے میں جمع کیا۔ اس کے بعد لکھنؤ کی معیشت کا مطالعہ بڑی حد تک کثیر رقم کی خرچ کی کہانی ہے۔غازی الدین حیدر نے ملک کی آمدنی کے علاوہ اس رقم میں سے چار کروڑ روپیہ خرچ کیا۔ نصیر الدین حیدر نے نو کروڑ 32 لاکھ خرچ کیا۔ محمد علی شاہ اور امجد علی شاہ کی روک تھام سے پھر کچھ روپے خزانے میں جمع ہوئے۔امجد علی شاہ بڑے خسیس واقع ہوئے تھے۔ بقول رجب علی بیگ سرور ان کے زمانے میں زر گل تک خزانۂ عامرہ میں داخل ہوتا تھا۔انھوں نے ایک کروڑ 36 لاکھ روپیہ چھوڑا لیکن واجد علی شاہ نے پھر خزانے کا منھ کھول دیا 30 نومبر 1851 عیسوی کو ان کے خزانے میں صرف تین لاکھ کی رقم باقی رہ گئی تھی جب کہ 50 لاکھ روپیہ عملہ شاہی اور وثیقہ داروں کے مطالبات کے طور پر بقایا میں پڑا تھا۔‘‘13؎
اس طویل اقتباس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکمرانان اودھ نے روپوں کا استعمال کس طرح کیا ہوگا اس میں شک نہیں کہ بلاواسطہ طور پر ان فضول خرچیوں سے بھی عوام کو فائدہ پہنچا ہوگا مگر اس کے دور رس نتائج برآمد نہ ہو سکے بلکہ درباریوں اور عوام کی فضول خرچی ظاہری شان و شوکت اور نمود و نمائش معاشرے کا ایک جزو لاینفک بن گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ:
’’امرا اور اہل اقتدار کی دیکھا دیکھی یہ روگ عوام کے متوسط اور عام کھاتے پیتے لوگوں میں بری طرح پھیل گیا۔ ہر شخص اپنے مالی وسائل کو نظر انداز کر کے اپنے ناموس و آبرو اور آن بان کی خاطر اپنے وسائل سے آگے بڑھ کر خرچ کرتا اور اس معاملہ میں فضول خرچی کا جنون اس حد تک ترقی کر گیا کہ گھر پھونک کر تماشہ دیکھنے میں لوگ ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتے۔ اس فضول خرچی کو وضعداری کا نام دیا گیا اور اسے فروغ دینے میں دربار پیش پیش تھا۔‘‘14؎
اس نمود و نمائش کی ضمنی شقیں اس عہد کے ملبوسات، باورچی خانے، مذہبی رسوم نشست و برخاست، رہن سہن، آرائش و زیبائش غرض یہ کہ زندگی کے تمام شعبوں میں تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ بقول رشید حسن خاں:
’’مذہبیت کے ساتھ ساتھ اس خاص چیز کو بھی لکھنؤ کی مخصوص معاشرت کی دوسری امتیازی خصوصیت قرار دیا جانا چاہیے۔‘‘15؎
اودھ کی منفرد تہذیبی شناخت کے قائم کرنے میں حکمرانان اودھ کی طوائف نوازی کا بڑا حصہ ہے۔ سید عبدالباری لکھتے ہیں:
’’طوائف نوازی کا ذوق یوں تو دہلی سے آیا اور اس عہد کے تمام ہندوستانی درباروں میں یہ شغل عمومیت اختیار کر گیا۔ مگر اودھ میں شجاع الدولہ اور ان کے اخلاف کی قدردانی نے اسے چار چاند لگا دیا۔‘‘16؎
اودھ میں طوائف نوازی کا سلسلہ شجاع الدولہ سے شروع ہوتا ہے۔ وجہ ظاہر ہے کہ بکسر کے بعد حکمرانان اودھ نے تیغ و سناں رکھ دی اور اپنی ہزیمت یا احساس شکست خوردگی کم کرنے کے لیے فنون لطیفہ اور حسن بازاری میں جائے پناہ ڈھونڈی۔ فرار کا یہ سب سے سیدھا اور آسان راستہ تھا۔شجاع الدولہ کی حسن پرستی اور حسن نوازی کے متعلق ابواللیث صدیقی لکھتے ہیں:
’’شجاع الدولہ کو فطرتاً عورتوں سے صحبت پسند تھی، لہٰذا بازاری عورتیں اور گانے والے طائفے اس قدر کثرت سے تھے کہ کوئی محلہ اور کوچہ ایسا نہ تھا جہاں وہ موجود نہ ہوں اور مالی اعتبار سے ان کی حالت ایسی اچھی تھی کہ ان میں اکثر رنڈیاں ڈیرہ دار تھیں ان کے ساتھ ساتھ دو تین خیمے رہا کرتے تھے نواب وزیر جب اضلاع کا دورہ کرتے تھے تو ان کے ڈیرے بھی ساتھ ساتھ چلا کرتے تھے اور دس بارہ تلنگے بھی ان کی حفاظت کے لیے ساتھ ساتھ ہوتے تھے۔ اسی وجہ سے فوجی حکام اور امرا اعلانیہ اپنے آقائے نعمت کی یہ وضع اختیار کر رہے تھے۔‘‘17؎
اودھ میں طوائف نوازی کی یہ ابتدا تھی رفتہ رفتہ یہ مذاق اودھ کی تہذیب کا جز لاینفک بن گیا اور آخری تاجدار اودھ واجد علی شاہ(1847-1856) نے اسلاف کی اس روش کو انتہائے کمال پر پہنچا دیا لہٰذا اودھ میں طوائفوں ڈومیوں بھانڈوں اور نقالوں کی بھیڑ جمع ہو گئی اور یہ نمود و نمائش سماجی رتبے کی نمائندہ بن گئی جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ معاشرے پر ان کا اثر قائم ہو گیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ یہ طوائفیں محض جنسی تسکین کا سامان نہ ہوا کرتی تھیں بلکہ آداب معاشرت اور طرز زندگی کا مرجع و منبع تھیں اور کیوں نہ ہوتیں ان کا تعلق امرا اور رؤسا سے تھا جن کی صحبت میں بیٹھنا اور تکلم کرنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہ تھی۔ڈیرہ دار طوائفیں بہت زیادہ مہذب اور بلند کردار کی مالک تھیں۔مرزا جعفر حسین لکھتے ہیں:
’’ان کے تمام ا طوار اور رہن سہن شریفانہ تھے۔گھروں کے باہر نکل کر ادھر ادھر گھومنا یا بالا خانوں کے چھجے پر بیٹھنا ان کے نزدیک فعل قبیح تھا۔ جنسی تعلقات میں ضرورت سے زیادہ محتاط تھیں۔ انھوں نے کسی ایک رئیس یا زیادہ سے زیادہ دو تین رئیسوں کی ملازمت کر کے اپنی عمر گزاری تھی یا آخر میں کسی شریف زادے سے عقد مناکحت کر کے پردے میں زندگی کے باقی دن گزار دیے تھے۔‘‘18؎
یہ طوائفیں معاشرے کا اہم رکن اس لیے بن گئی تھیں کیونکہ معاشرہ جن امور کا طالب تھا جن رسوم و رواج کا پروردہ تھا ان سب پر ان طوائفوں نے اپنی کارکردگی اور خوش اسلوبی سے قبضہ کر لیا تھا۔ان کے فن موسیقی،رقص، طرز تکلم،حسن اخلاق، حسن اطوار، شائستگی رئیسانہ طرز زندگی نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ ان کے گھر کا ماحول محض تفریح طبع یا جنسی تسکین کا باعث نہ تھا بلکہ ایک تہذیبی درسگاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ جہاں بقول مرزا جعفر حسین:
’’رؤسا اور شرفا حسن اخلاق کی تعلیم کے لیے اپنے بچوں کو طوائفوں کے گھر میں بھیجا کرتے تھے۔چودھرائن کا محل شرفا اور رؤسا کے لڑکوں کے لیے ایک اچھا خاصہ مکتب تھا، جہاں اٹھنے بیٹھنے رفتار و گفتار اور تہذیب و اخلاق کے علاوہ خدا پرستی اور خدا ترسی کی تعلیم بھی بڑی خوش سلیقگی سے دی جاتی تھی اور یہ ساری تربیت مذہبی عصبیت اور تنگ نظری سے بالکل پاک و صاف رہتی تھی۔ خوردی و بزرگی اور ہر طرح کی حفظ مراتب کا درس بچپن ہی میں مل جاتا تھا۔‘‘19؎
عبدالحلیم شرر نے لکھنوی تہذیب کی جو عکاسی کی ہے ا س کا زیادہ حصہ لکھنؤ کی خارجی زندگی سے تعلق رکھتا ہے مثال کے طور پر ایک نظر’گذشتہ لکھنؤ‘ کی فہرست پر ڈال لی جائے تو تاریخی واقعات کے بعد جن چیزوں کا ذکر ملے گا ان میں موسیقی، ملبوسات، رسم و رواج، باورچی خانے، دسترخوان، مجالس قسم قسم کی بازیاں،نقال،بھانڈ، طوائفیں، ڈومنیاں، گویے یعنی اودھ کی تہذیب کے خارجی پہلو ہی نظر آتے ہیں۔
ظاہر ہے جس تہذیب کی بنیاد خارجیت پر ہوگی اس میں فکر و خیال کی سطح کمزور ہوگی۔مذکورہ بالا بحث سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط ہوگا کہ اودھ کے معاشرے میں محض خارجیت کا بول بالا تھا اور اس کا باطن مفقود تھا۔لکھنؤ شہر کے اندر علمائے کرام صوفیائے کرام خارجیت پسند معاشرے میں عوام و خواص کی داخلی زندگی کے رہنما تھے۔ اس سلسلے میں فرنگی محل کے علمائے کرام کی عزت بزرگی اور قدردانی بلا تفریق عقیدہ تمام اہل ہندوستان اور خصوصاً اہل اودھ کرتے تھے۔ یہ وہ درسگاہ تھی جہاں دونوں عقیدے سنی و شیعہ کے طلبہ اکتساب علم و نور کیا کرتے تھے۔ مرزا جعفر حسین لکھتے ہیں:
’’مسلمانوں میں یہ شیعہ ہوں یا سنی ہر عقیدہ رکھنے والے اس درسگاہ میں تعلیم حاصل کرتے تھے اور تعلیم کا طرز انتہائی منصفانہ اور روادارانہ تھا جس کا بین ثبوت یہ ہے کہ مولوی سید دلدار علی الملقب بہ غفران مآب نے اسی جامعہ میں تکمیل علم فرمائی تھی۔نیز راقم الحروف کے مورث اعلیٰ تفضل حسین خاں جو بزرگوں کے وقت سے سنی العقیدہ تھے، اسی درگاہ میں زانوے ادب تہہ کیا تھا۔‘‘20؎
فرنگی محل کے علاوہ خاندان اجتہاد جامعہ سلطانیہ ذرا بعد کو ندوۃ العلوم جیسے ادارے لکھنؤ کے عوام و خاص کو روحانی اور باطنی سکون پہنچا رہے تھے۔ معاشرے کے اخلاق و اطوار کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ لکھنوی ادب میں جہاں ایک طرف فکری خلا نظر آتا ہے تو دوسری طرف رواداری اور صوفیانہ مضامین بھی نظر آتے ہیں۔ اودھ کی تہذیب نے مشترکہ تہذیبی روایت کو مضبوط کیا۔ اودھ میں گنگا جمنی تہذیب کو وہ فروغ نصیب ہوا جس کی مثالیں اس کے بعد معاشرے میں عنقا ہیں۔ یہ وہ معاشرہ تھا جہاں ہندو مسلم بلا تفریق مذہب ایک دوسرے کے مذہبی رسوم میں شامل ہوتے اور کیوں نہ ہوتے جب فرمانروایان اودھ ہی ہر مذہب کے تہوار کو دھوم دھام سے منانے کا خصوصی اہتمام کیا کرتے تھے۔ ہولی،دیوالی، بسنت، جنم اشٹمی، کا اہتمام خصوصی طور پر کیا جاتا۔شاہان اودھ عوام کے ساتھ مل کر جشن مناتے۔عید، بقر عید شب برات اور محرم میں ہندو مسلم ایک ساتھ مل کر خوشی اور رنج کا اظہار کرتے۔ ڈاکٹر اختر بستوی لکھتے ہیں:
’’اودھ کے فرماں رواؤں کے زمانے میں تہوار صرف عوام کی سطح ہی پر نہیں منائے جاتے تھے بلکہ حکومت کی جانب سے بھی انھیں منانے کا زوردار اہتمام ہوتا تھا۔تمام اہم تہواروں کے مواقع پر دربار میں بھی تقریبات منعقد ہوا کرتی تھیں اور حکومت ان پر کثیر رقم خرچ کرتی تھی فرما نروان سلطنت خود ان میں شریک ہوتے تھے۔ اس سلسلے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے تہواروں میں تفریق سے کام نہیں لیا جاتا تھا یہ مذہبی وسیع النظری اور رواداری کی شاندار مثال تھی۔‘‘21؎
آئیے اس معاشرت سے پیدا شدہ شعر و ادب پر ایک نظر ڈالی جائے۔ اودھ نے اگر ایک طرف مرثیہ جیسی خالص مذہبی صنف شاعری کو اوج کمال بخشا تو دوسری طرف اسے صنف ڈراما کی اولیت کا فخر بھی حاصل کیا جس سے ابھی تک اردو ادب کا دامن خالی تھا۔
اردو میں ڈراما کی اولیت کا سہرا واجد علی شاہ کی تصنیف رادھا کنہیا کو حاصل ہے۔اس کے معرض وجود میں آنے کے پس پردہ بھی وہی سماجی عناصر کار فرما ہیں جن کا ذکر گذشتہ صفحات میں کیا گیا ہے،یعنی تعیش پسندانہ سماج۔ڈرامے کے لیے جن لوازمات کی ضرورت درپیش تھی ان میں موسیقی، رقص وسرود، اور دلکش قصہ لازمی ہے اور یہ سب لوازمات اودھ کی زوال آمادہ تہذیب کے جزو بن چکے تھے۔ فکر و خیال کی گہرائی یہاں بھی مفقود ہے۔وہی پرانا قصۂ حسن وعشق جو سحر البیان اور گلزار نسیم کا موضوع تھا،وہی مافوق الفطرت کردار یہاں بھی فعال ہیں، وہی شاعری جس میں لذت کام ودہن ہر جگہ جلوہ فگن ہے،اردو کے اولین ڈراموں کا حصہ ہیں۔خواہ رادھا کنہیا کا قصہ ہو یا امانت کی اندر سبھا، اپنی مذہبی روا داری کے ساتھ اس طرح معاشرے کا جز بن گیا کہ بغیر امتیاز مذہب و ملت شاہِ اودھ،وزرا اور عوام اس میں شرکت کرتے۔
یوں تو اردو شاعری میں مثنوی کی تاریخ کا ڈانڈا دکن سے جا ملتا ہے لیکن اردو ادب میں جن مثنویوں کو حیات جاوید حاصل ہوئی ان میں سحر البیان، گلزار نسیم اور زہر عشق کا نام سر فہرست ہے۔ یہ تینوں مثنویاں لکھنؤ کے فارغ البال اور تعیش پسند معاشرے کی دین ہیں۔ان مثنویوں پر اپنی تہذیب و تمدن کا گہرا اثر پڑنا لازمی تھا۔یہی وجہ ہے کہ ان مثنویوں کی سحر طرازی اپنا جواب آپ ہے تکلف اور تصنع کے اس دور میں زبان و بیان کی تراش خراش صنائع بدائع اور شعری نزاکتوں اور لوازمات کا خاص خیال رکھنا اس دور کا خاصہ تھا۔ اٹھارہویں صدی کے لکھنؤ میں لکھی گئی سحر البیان کے شاعر کا یہ دعوی ملاحظہ فرمائیں ؎
نہیں مثنوی ہے یہ ایک پھلجڑی
مسلسل ہے موتی کی گویا لڑی
نئی طرز ہے اور نئی ہے زباں
نہیں مثنوی ہے یہ سحر البیاں
اٹھارہویں صدی کے بعد انیسویں صدی میں گزار نسیم کے شاعر دیا شنکر نسیم نے لکھنوی طرز بیان کو اوج و عروج بخشا۔ بقول حکم چند نیر:
’’گلزار نسیم اردو شاعری کے دبستان لکھنؤ کا اہم ترین کارنامہ ہے۔پنڈت دیا شنکر نسیم کے زمانے میں لکھنؤ کی شائستہ و شستہ سماجی و ادبی زندگی سر تا سر وضعداری اور تکلف سے عبارت تھی…حقیقت تو یہ ہے کہ رجب علی بیگ سرور نے فسانۂ عجائب کے ذریعہ لکھنوی شعر و ادب کے منفرد اسلوب کی بنیادی اینٹ رکھ دی تھی۔ناسخ اور آتش نے دبستان لکھنؤ کی انفرادیت اور تشخص کو آگے بڑھایا… پنڈت دیا شنکر نسیم کے ذریعے لکھنؤ کے اس منفرد اسلوب کو معراج کمال تک پہنچایا۔‘‘22؎
متعدد اصناف سخن کی طرح ریختی کے ابتدائی نمونے بھی دکنی ذخیرہ شاعری میں تلاش کیے گئے ہیں۔ لیکن دکنی شاعری میں ریختی کی ابتدا کرشن بھگتی اور ہندی کلام کے زیر اثر ہوئی جس کے نتیجے میں پاکیزگی اور طہارت کا خاص خیال رکھا گیا۔ البتہ بعد کے شعرا کے ہاں ابتذال اور لذت کوشی نے جگہ لے لی۔ شمالی ہند میں ریختی کے اوج و عروج کا زمان و مکان اٹھارہویں اور انیسویں صدی کا اودھ ہے۔ کاظم علی خان لکھتے ہیں:
’’ شمالی ہند میں ریختی کے ارتقا کی داستان میں انجام اور نظیر اکبر ابادی اولیت کی تاریخی حیثیت ضرور رکھتے ہیں مگر شمالی ہند کے دہلی اور لکھنؤ کے ادبی مرکزوں میں صنف ریختی کو پوری قوت سے باقاعدہ رائج کرنے والے جن اولین شاعروں نے یادگار کارنامے انجام دیے ہیں ان میں رنگین اور ان کے ہم عصر انشاء دہلو ی کے نام سر فہرست ہیں۔‘‘23؎
لکھنؤ میں ریختی دراصل اس تعیش پسند اور لذت کوش معاشرے کی پیداوار ہے جس نے اخلاق و اقدار کی سرحدیں عبور کر لی تھیں رنگین اور رنگین کی ریختی اور ان کی لذت پرستی کے متعلق ڈاکٹر حسن آرزو کا درجہ زیل قول اس امر پر شاہد ہے:
’’ طوائفوں اور خانگیوں اور بازاری عورتوں کی صحبت اور اس جنس سے جنسی تعلقات استوار کرنے کے لیے رنگین نے طوائفوں اور بازاری عورتوں کی بولی ٹھولی اور نسوانی جذبات و محاورات پر عبور حاصل کیا۔زنان بازاری کو رجھانے اپنی جانب ملتفت کرنے کی غرض ہی سے رنگین نے شمالی ہند میں ریختی جیسی زنانی شاعری کو رائج کر کے 1212 ھ تک اپنا دیوان مرتب و مکمل کیا۔‘‘24؎
محولا بالا اقتباس اس حقیقت پر دال ہے کہ اودھ کی ریختہ گوئی محض عورتوں کی زبان میں انہی کے خیالات کو بیان کرنے کا نام نہیں بلکہ لذت کام و دہن کے حصول کا ذریعہ بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کاظم علی خان نے اس صنف سخن پر جدید اصطلاح کا اطلاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
’’اگر عہد حاضر کی الٹرا ماڈرن سوسائٹی کی جدید اصطلاح سے کام لیا جائے تو ریختی کو عہد رفتہ کی اردو شاعری کی بلو فلم قرار دیا جا سکتا ہے۔‘‘25؎
ریختی کے تمام منفی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اردو شاعری میں ریختی ہی وہ صنف سخن ہے جس میں عورتوں کے جذبات و احساسات کا کھل کر مظاہرہ ہوا ہے۔ اس صنف نے اردو شاعری میں عورتوں کے داخلے کے لیے دروا کیے ہیں۔ اس صنف سخن نے اردو کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری کی آبیاری میں معاونت کی ہے۔ اس صنف سخن نے عورتوں کی بولیوں اور محاروں کا ایک ذخیرہ جمع کیا ہے جس نے زبان کو شستہ و شائستہ بنانے میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ ڈاکٹر محمد حسن لکھتے ہیں:
’’ عورتوں کے محا ورے ہی نہیں مخصوص اصطلاحیں اور کنائے تک عام ہوگئے اور یہی زبان کے روز مرہ کو شستہ اور شائستہ بنانے میں معاون ہوئے۔ ریختی میں جب یہ سب بار بار پڑھنے اور سننے میں آتے ہیں تو ایک مصنوعی اور محدود فضا کا احساس ہوتا ہے اور ان کا کھلا پن محدود ہو کر رہ جاتا ہے مگر یہ مسدود اور مقید احساس صرف ریختی کے لیے نہیں غزل کے اساتذہ تک کے کلام میں موجود ہے… اس کی وجہ مضامین تازہ کے لیے افکار تازہ نہ ہونا اور افکار تازہ کی جگہ گھٹن اور فشار کی وہ کیفیت ہے جو اس دور کی سیاسی ابتلا کی پیداوار تھی۔‘‘26؎
لکھنوی اردو شاعری میں عموماً اور غزل کے متعلق خصوصاً یہ بات عام ہے کہ اس میں خارجیت نمایاں ہے۔ حسن پرستی اور عشق بازی عام ہے۔معاملہ بندی ضلع جگت ایہام اور صنعت گرانہ انداز سے اٹی پڑی ہے۔مضامین تا زہ اور مضمون آفرینی سے عاری ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے مگر غزل میں ان تمام منفی پہلوؤں کے در آنے کے پس پردہ کون سے محرکات تھے؟ جواب یہ ہے کہ آصف الدولہ اور ان کے اخلاف کے نزدیک زندگی کا کوئی واضح نصب العین نہیں تھا جس کے نتیجے میں معاشرے میں بے عملی پیدا ہو گئی تھی۔ادب و شعر کا مقصد اولین زبان و بیان کے نوک پلک درست کرنا ہو گیا تھا جسے شعرا نے اپنے انفرادی انداز میں پوری طرح برتا، لیکن مضامین تازہ کی جگہ خالی رہی۔
محمد حسن لکھتے ہیں:
’’یہ سناٹا دبستان لکھنؤ کی غزل کے ہر مصرعے میں بولتا ہے بلکہ چیختا ہے۔ البتہ اس کے لہجے مختلف ہیں کہیں انشاء کے کھلنڈرے پن میں کہیں جرات کی معاملہ بندی کے رنگ میں کہیں ناسخ کے بات کرنے کے ڈھنگ میں کہیں آتش کے انداز روش میں، ان سب کے پیچھے ایک خالی پن ہے جو کسی فلسفے کی کسی تصوف کسی مربوط طرز فکر کے سہارے کے لیے ترستا ہے اس کے پاس کچھ ہے تو ہنسوڑ پن ہے یا لفظی صناعی یا تقدیر کالبست۔‘‘27؎
لکھنؤ کے پورے شعری سرمائے اور ناٹکوں کے جلو میں مضمون آفرینی، تصوف، اخلاق و اقدار، سوز گداز کی واضح کمی نظر آتی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے شعرانے لفظی بازی گری کا سہارا لیا چونکہ عوام و خواص کے پاس زندگی کے واضح نصب العین کا فقدان تھا بادشاہ تا عوام عیش پرست اور خارجیت پسند ہو گئے تھے،معاشی اعتبار سے فارغ البالی کا دور دورہ تھا۔ لہٰذا ایسے حالات میں لکھنوی شعری فضا پر ایک طرح کا جمود و تعطل طاری ہو گیا تھا۔
انیسویں صدی اردو نثر کا عہد زریں ہے۔ انیسویں صدی کی ابتدا ہی میں 4 مئی 1800 عیسوی کو فورٹ ولیم کالج کا قیام عمل میں آیا اور جان گلکرسٹ کے زیر سرپرستی اردو نثر کے لازوال نمونے ظہور پذیر ہوئے۔ میر امن کی باغ و بہار اور گنج خوبی، حیدر بخش حیدری کی طوطا کہانی، آرائش محفل اور گلشن ہند، شیر علی افسوس کی باغ اردو، میر بہادر علی حسینی کی نثر بے نظیر کو اردو نثر کے ارتقا میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ حالانکہ فورٹ ولیم کالج کا قیام انگریزی ملازمین کو ہندوستان کی مقامی زبان اور یہاں کے رسم و رواج سے واقف کرانا تھا، مگر اسی بہانے اردو زبان میں ایک نئی طرز یعنی سادہ صاف اور آسان نثر لکھنے کی داغ بیل پڑی۔ فورٹ ولیم کالج میں زیادہ دنوں تک تصنیف و تالیف کا کام نہ ہو سکا اور جلد ہی متعدد وجوہ کی بنا پر اسے بند کرنا پڑا، مگر1825 میں ایک بار پھر دلّی کالج کے قیام اور اس سے متعلق ورناکلر سوسائٹی 1835 کے زیر اہتمام اردو نثر کے جدید نمونے سامنے آئے۔ان میں ادب کے علاوہ زیادہ تر کتابیں سائنس جغرافیہ فلسفہ منطق وغیرہ سے متعلق تھیں۔ ایک طرف کلکتہ اور دلّی نثر کے قدیم نمونوں سے احتراز کرتے ہوئے آسان اور عام فہم نثر کی بنیاد ڈالنے اور اس میں جدت پیدا کرنے، نئے مضامین اختراع کرنے میں لگے تھے تو دوسری طرف اودھ کی نثر اس عام فہم اور سادہ زبان کا مذاق اڑانے میں لگی تھی۔
گو انشاء اللہ خاں کی ’رانی کیتکی کی کہانی‘ مستثنیٰ قرار دی جا سکتی ہے کہ اس میں ہندوی زبان کا وہ اعلیٰ نمونہ ظہور پذیر ہوا ہے جس کا ڈانڈا فورٹ ولیم کالج کی نثر سے ملایا جا سکتا ہے۔ حالانکہ یہ بات بھی قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ انشا نے ایسی نثر لکھ کر فورٹ ولیم کالج سے اپنی وابستگی کے لیے را ہ ہموار کرنی چاہی ہو گی۔ جیسا کہ محمد حسن قیاس کرتے ہیں :
’’قیاس یہ بھی کہتا ہے کہ یہ کہانی آسان نثر کا نمونہ دکھا کر فورٹ ولیم کالج سے رابطے کا بہانہ بھی ہو سکتی تھی اور غالباً اسی نیت سے لکھی گئی کہ کمپنی بہادر کو فارسی اور عربی الفاظ کے بغیر ٹھیٹ ہندوستانی بولی کا نمونہ دکھایا جائے۔‘‘28؎
بات کچھ بھی رہی ہو مگر اسی بہانے اودھ میں ایک ایسا نثری کارنامہ سامنے آ گیا جس میں اس عہد کی مروجہ نثر کی پیروی معاصرانہ ذوق اور اپنے دور کا مزاج چھلکتا اور جھلکتا نظر آ تا ہے۔ بہرحال رانی کیتکی کی کہانی (1) روایتی انداز کے عشق و حسن کے قصے پر مبنی ہے(2) اس داستان میں داستان کا سا قصہ در قصہ کا عمل نہیں ہے (3) اس کا پلاٹ ہندو تہذیب سے اخذ کیا گیا ہے جو اس بات پر دلیل ہے کہ انیسویں صدی کا اودھ مشترکہ تہذیب و تمدن کا گہوارہ تھا۔ رانی کیتکی کی کہانی کے برعکس 1824 عیسوی میں رجب علی بیگ سرور کی ’ فسانۂ عجائب‘ منظر عام پر آئی۔ فسانۂ عجائب کا معرضِ وجود میں آنا دراصل میرا من کی ’باغ بہار‘ کو ادبی گالی دینا تھی۔ یہ بات واضح ہے کہ دبستان لکھنؤ اور دلی کی چشمک ایک زمانے سے چلی آ رہی تھی جس کی زیریں سطح میں دلی اور لکھنؤ کی سیاسی احساس کمتری اور برتری کا جذبہ کار فرما تھا۔ لہٰذا زندگی کے تمام شعبوں میں اہل لکھنؤ کا اہل دلی سے ممیز و منفرد ہونا اور ثابت کرنا لازم تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب میرامن نے باغ و بہار میں یہ دعویٰ کیا کہ :
’’جو شخص سب آفتیں سہ کر دلی کا روڑا ہو کر رہا اور دس پانچ پشتیں اسی شہر میں گزاریں… اس کا بولنا البتہ ٹھیک ہوگا۔یہ عاجز بھی ہر ایک شہر کی سیر کرتا اور تماشہ دیکھتا یہاں تک پہنچا ہے۔‘‘29؎
تو سرور سے رہا نہ گیا اور جواباً ’فسانۂ عجائب‘ میں فرمایا:
’’ جیسا میر امن صاحب نے قصہ چہار درویش کا باغ و بہار نام رکھ کے خار کھایا ہے بکھیڑا مچایا ہے کہ ہم لوگوں کے دہن اور حصے میں یہ زبان آئی ہے۔ ہم دلی کے روڑے ہیں محاورے کے ہاتھ منھ توڑے ہیں۔ پتھر پڑے ایسی سمجھ پر یہی خیال انسان کا خام ہوتا ہے۔‘‘30؎
’ فسانۂ عجائب موضوع کے اعتبار سے دوسری داستانوں سے مختلف نہیں ہے۔ سرور نے بھی روایت کی پیروی کرتے ہوئے حسن و عشق کو ہی اپنی داستان کا موضوع بنایا ہے،البتہ اس امر سے انکار نہیں کہ سرور نے قصہ در قصہ کی روایت توڑی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ’فسانۂ عجائب‘ جس دور میں لکھی گئی ہے وہ داستان کے خاتمے کی بشارت دیتا ہے اور انگریزی تہذیب کے زیر اثر اردو میں ناول نگاری قدم رکھنے کو تیار کھڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فسانۂ عجائب کو ناول اور داستان کے بیچ کی کڑی بھی کہا جاتا ہے بہرحال فسانۂ عجائب کی شہرت کا سبب دراصل اس کی مقفیٰ اور مسجع زبان ہے۔ بقول محمد حسن:
’’اس میں دلچسپی اور احاطہ کمال نہ تو قصہ گوئی ہے اور نہ کردار نگاری بلکہ اس کی اصل روح ہے مقفیٰ اور کھٹکے دار عبارت کی رنگینی اور دل آویزی۔‘‘31؎
بالخصوص مذکورہ بالا داستان اور اس کے علاوہ محمد بخش مہجور کی گلشن نوبہار اور نورتن، سرور کی سرور سلطانی، شرر عشق،شگوفہ محبت، گلزار سرور، شبستان سرور، اور انشائے سرور فقیر محمد گویا کی بوستان حکمت، نیم چند کھتری کی قصہ گل و صنوبر اور اس کے علاوہ متعدد اور داستانیں لکھی گئیں اور ترجمہ کی گئیں۔ داستانوں کا یہ سلسلہ انیسویں صدی کے ابتدائی برسوں سے شروع ہو کر بیسویں صدی تک پہنچتا ہے مگر ان داستانوں میں رواج شکنی کم اور روایت پرستی ہر جگہ نظر آتی ہے۔اردو کی تمام داستانوں پر توجہ کی جائے تو یہ ظاہر ہوگا کہ ان داستانوں میں زباندانی کا زور اور اس کے جوہر کا اظہار ہر جگہ موجود ہے۔ لیکن اس رنگینی عبارت کے پس پردہ افکار کا افلاس چھپائے نہیں چھپتا۔ محمد حسن ’فسانۂ عجائب‘ کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’ادبی اعتبار سے غور کیا جائے تو یہاں بھی مضمون کی کمی کو انداز بیان کی دلکشی سے پر کرنے کی کوشش نمایاں ہے۔کہنے کو بہت کم ہے اس لیے اس کے کہنے کا اہتمام بہت زیادہ ہے۔الفاظ کی کثرت اور مضمون کی قلت اور الفاظ معنی کا یہ تناسب جب بھی ظاہر ہوتا ہے فکر کے افلاس اور ماحول کے ادبار نمایاں کر جاتا ہے۔‘‘32؎
اودھ پنج ایک ایسے دور کی پیداوار تھا جب قدریں شکست وریخت اور تعمیر وتشکیل کے عمل سے گزر رہی تھیں۔ چنانچہ ’’اس نے جہاں مغرب کی اندھا دھند تقلید کو ہدف بنایا وہیں اپنی معاشرت کے زوال پذیر عناصر کا بھی مذاق اڑایا اور یوں فضا کو اعتدال پر لانے کی بھرپور کوشش کی۔‘‘33؎
ادبی اعتبار سے اودھ پنچ نے اردو ادب میں طنز و مزاح کی باضابطہ داغ بیل ڈالی اور منشی سجاد حسین،اکبر الہ آبادی،پنڈت تربھون ناتھ ہجر، احمد علی شوق، عبدالغفور شہباز، اور نواب محمد آزاد وغیرہ جیسے ادیب و شاعر پیدا کیے اور اردو کے طنزیہ و مزاحیہ خزانے کا معمور کیا۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ سر سید تحریک لکھنؤ میں’’انتہائی غیر مقبول اور قابل ملامت گردانی گئی پھر بھی انگریزی کے اثرات واضح طور پر نظر آتے ہیں نثر میں تو یہ بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ انگریزی کی روح سمونے کی کوشش میں سب سے زیادہ کامیاب کوششیں لکھنؤ ہی میں کی گئیں ہیں ۔‘‘34؎
پچھلے صفات میں ہم ذکر کر چکے ہیں کہ لکھنؤ میں غدر سے پہلے ایک رسد گاہ سائنسی تحقیقات کے لیے کھولا گیا تھا اور اسی زمانے میں ایک مطبع بھی کھولا گیا جس میں ادب کے علاوہ تاریخ اور انگریزی کتابوں کے ترجمے بھی شائع کیے گئے۔ شاہ نصیر الدین حیدر ہی کے زمانے میں مسٹر آرچر نے بھی اپنا لیتھوپریس کانپور سے لکھنؤ منتقل کر لیا۔ لکھنؤ میں یہ دور مطابع کے قیام اور صحافت کے زور کا دور ہے۔ رفتہ رفتہ 1848 عیسوی تک لکھنؤ میں 12 چھاپے خانے قائم ہو گئے جن میں مطبع مصطفائی اور میر حسن کا مطبع بہت مشہور ہوئے۔1858میں مطبع نولکشور کا قیام اردو ادب میں اہم مقام رکھتا ہے۔ہر چند کہ اس مطبع میں بھی داستانوں اور دیوانوں کو افضلیت حاصل رہی۔ مگر اس نے ترجمہ اور مفید کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔مطبع نولکشور کا اہم کارنامہ ’اودھ اخبار‘ اخبار جاری کرنا تھا جس نے اردو میں سرشار اور شرر کو متعارف کرایا اور اردو میں اردو ناول نگاری کا بنیاد گزار ہوا۔ اودھ اخبار کے جاری ہونے تک اودھ میں: (1) جدید تعلیم کے زیر اثر فکر و خیال میں تبدیلی رونما ہونے لگی تھیں۔ (2) نئی تہذیب اور سیاسی تسلط نے معاشرے میں سیاسی اور سماجی کشمکش پیدا کر دی تھی۔ ملکہ معظمہ سے انصاف کی امید رکھنے والوں کا بھرم ٹوٹ چکا تھا۔ (3) دربارداری ختم ہو چکی تھی اور متوسط تعلیم یافتہ طبقے نے سماجی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔ (4) عقلی اور سائنسی رجحان کے فروغ کا سلسلہ تیز ہو چکا تھا۔ جس کا آغاز شاہ نصیر الدین حضرت کے زمانے ہی سے ہو چکا تھا (5) مطابع کی کثرت اور طباعت و اشاعت کی آسانی نے قارئین کا حلقہ وسیع کر دیا تھا جن میں متوسط طبقے کے لوگ زیادہ تھے اور یہی وہ تیسرا طبقہ تھا جس نے قدیم اور جدید کے درمیان کا راستہ اختیار کیا تھا ان تمام محرکات نے اودھ میں ناول نویسی کے لیے فضا سازگار کر دی۔
اودھ میں ناول کے آغاز کا سہرا مطبع نولکشور کے سربندھا۔سرشار نے پہلے پہل لکھنؤ کی زوال آمادہ تہذیب کے خط خال کی تصویر کشی اپنے ناول فسانۂ آزاد میں کی۔ شرر نے تاریخی ناولوں سے ماضی کی عظمت اور قوم و ملت کے کھوئے ہوئے وقار کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔منشی سجاد حسین نے طنز و مزاح کے پیرائے میں مغرب و مشرق کی ناہمواریوں پر کاری ضرب لگائی۔ مرزا رسوا نے اپنے ناولوں میں کرداروں کی نفسیاتی گرہ کشائی کی ہے۔
حواشی
1. لکھنؤ کا شعرو ادب،معاشرتی ثقافتی پس منظر میں: ڈاکٹر سید عبدالباری، نشاط آفسٹ پریس، فیض آباد، 1987، ص38
2. گزشتہ لکھنؤ:عبدالحلیم شرر،جامعہ مکتبہ لمیٹڈ،نئی دہلی 1992، ص42-43
3. رجب علی بیگ سرور حیات اور کارنامے: ڈاکٹر نیر مسعود،الہ آباد یونیورسٹی، 1973، ص 8
4. مقدمہ کلام آتش: آل احمد سرور، ادارہ روغ اردو،لکھنؤ ،ص 4
5. لکھنؤ کا دبستان شاعری:ابواللیث صدیقی،اردو پبلشرز،1955،ص30
6. گزشتہ لکھنؤ:عبدالحلیم شرر،مقدمہ رشید حسن خاں،ص10
7. تاریخ اودھ پنچ:حصہ پنجم،نجم الغنی خاں مطبع نولکشور،لکھنؤ 1919، ص23
8. گزشتہ لکھنؤ:عبدالحلیم شرر،مقدمہ رشید حسن خاں،ص 11
9. لکھنویات ادیب:مسعود حسین رضوی ادیب، ص13
10. قدیم لکھنؤ کی اخری بہار:مرزا جعفر حسین،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، دہلی1998، ص342
11. نیا دور (اودھ نمبر)اودھ میں عزا داری،پروفیسر جعفر رضا،لکھنؤ،اکتوبر نومبر1994،ص63
12. لکھنویات ادیب: مسعود حسین رضوی ادیب، ص31
13. تنقید و تجزیہ:ابو محمد سحر،کتابستان،الہ آباد 1961،ص 189
14. لکھنؤ کے شعر و ادب کا معاشرتی و ثقافتی پس منظر:ڈاکٹر سید عبدالباری،ص98
15. گزشتہ لکھنؤ:عبدالحلیم شرر،مقدمہ رشید حسن خاں،ص21
16. لکھنؤ کے شعر و ادب کا معاشرتی و ثقافتی پس منظر:ڈاکٹر سید عبدالباری، ص98
17. لکھنؤ کا دبستان شاعری:ڈاکٹر ابواللیث صدیقی،ص24
18. قدیم لکھنؤ کی آخری بہار:مرزا جعفر حسین،ص 189
19. قدیم لکھنؤ کی آخری بہار:مرزا جعفر حسین
20. قدیم لکھنؤ کی آخری بہار:مرزا جعفر حسین
21. نیا دور:اودھ نمبر،فروری-مارچ،فرمانروایان اودھ کے دور میں تہواروں کی مشترکہ تہذیب نوعیت، اختر بستوی،ص119
22. گلزار نسیم:دیا شنکر نسیم،مرتبہ:حکم چند نیر،اتر پردیش اکادمی 1989،ص9-10
23. مقالات و نشریات:کاظم علی خاں،نظامی پریس لکھنؤ1993،ص194
24. سعادت حسن یار خاں رنگین:حیات اور نگارشات، ڈاکٹر حسن آرزو، ص۔12 بحوالہ مقالات و نشریات، کاظم علی خاں،ص195
25. مقالات و نشریات:کاظم علی خاں،ص206
26. اودھ میں اردو ادب کا تہذیبی و فکری پس منظر:ڈاکٹر محمد حسن،دہلی یونیورسٹی1996،ص24
27. اودھ میں اردو ادب کا تہذیبی و فکری پس منظر:ڈاکٹر محمد حسن،دہلی یونیورسٹی1996
28. اودھ میں اردو ادب کا تہذیبی و فکری پس منظر:ڈاکٹر محمد حسن،دہلی یونیورسٹی1996
29. باغ و بہار:میر امن،مرتبہ،سلیم اختر،اعجاز پبلشنگ ہاؤس،دہلی، 1989،ص27-37
30. فسانۂ عجائب رجب علی بیگ سرور،مرتبہ رشید حسن خاں،انجمن ترقی اردو ہند،دہلی1990،ص30
31. اودھ میں اردو ادب کا فکری و تہذیبی پس منظر:ڈاکٹر محمد حسن،ص 48
32. اودھ میں اردو ادب کا فکری و تہذیبی پس منظر:ڈاکٹر محمد حسن،
33. اردو ادب میں طنز و مزاح: وزیر آغا،ایجوکیشنل بک ہاؤس،علی گڑھ1990، ص108
34. ادبی تنقید:محمد حسن،لکھنؤ 1973،ص175
Dr. Syed Zafar Aslam
Dr. M A Ansari, Inter College Yusufpur
Mohammadabad
Distt.: Ghazipur- (UP)
syedzafaraslam68@gmail.com