ڈاکٹر محمد فیروز دہلوی: استاد اور ادیب، مضمون نگار: شعیب رضا فاطمی

July 15, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، جولائی 2026:

دہلی کو’عالم میں انتخاب‘کا جو درجہ حاصل ہے اس کی بہت ساری وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس سرزمین پر ایسی ایسی باکمال شخصیات نے جنم لیا ہے جن کے اگر ہر ہر پہلو کا جائزہ لیا جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو جائے ۔فیروز دہلوی ان ہی نابغہ روزگار شخصیات میں سے ایک تھے جو اب ہمارے درمیان نہیں رہے ۔
یوں تو دہلی پر غم و نشاط کے بادل بار بار برستے رہے ہیں اور سو گواری بھی اس سرزمین کی تہذیب کا حصہ بن چکی ہے ۔ لیکن کبھی کبھی کوئی ایسا سانحہ بھی رو نما ہوتا ہے جسے ذہن قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا ۔15 مئی 2026 کو بھی ایسا ہی ہوا جب سر شام یہ خبر ملی کہ فیروز دہلوی بھی پردہ فرما گئے ۔
دہلی کی علمی و ادبی فضا ایک بار پھر سوگوار ہے۔ اردو دنیا کے ممتاز استاد، محقق، مترجم اور نہایت شائستہ انسان ڈاکٹر محمد فیروز دہلوی کے انتقال نے ایک ایسے عہد کا خاتمہ کر دیا ہے جو علم، تہذیب، شرافت اور خاموش ادبی خدمت سے عبارت تھا۔ 15 مئی 2026 کو جب ان کے انتقال کی خبر عام ہوئی تو صرف ان کے اہل خانہ یا شاگرد ہی غمزدہ نہیں ہوئے بلکہ دہلی کی ادبی اور تعلیمی دنیا نے ایک ایسے چراغ کے بجھ جانے کا احساس کیا جس کی روشنی کئی دہائیوں تک اردو زبان و ادب کے افق کو منور کرتی رہی۔
ڈاکٹر محمد فیروز دہلوی 25 نومبر 1942کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ اور ایک عام مسلمان نوجوان کی طرح عنفوان شباب میں ہی غم روزگار کی فکر میں لگ گئے، لیکن پرانی دہلی کی تہذیبی فضا، علمی ماحول اور اردو زبان کی مٹھاس ان کے رگ و ریشہ کو اپنی گرفت سے آزاد نہیں کیا اور حصول علم کی آگ کو روزگار کی سیال تھکن بجھا نہیں پائی ۔درجہ بدرجہ پروان چڑھنا ہوئے بالآخر وہ دہلی یونیورسٹی تک جا پہنچے اور وہاں انھیں قدرت کی طرف سے ایسے ایسے استاد ملے جنھوں نے ان کے اندر جل رہی طلب علم و ادب کی چنگاری کو بر انگیختہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ یہ وہ دور تھا جب دہلی یونیورسٹی کا شعبہ اردو اردو دنیا کا نہایت متمول شعبہ تھا۔ خواجہ احمد فاروقی، ظہیر احمد صدیقی،پروفیسر فضل الحق، ڈاکٹر مغیث الدین فریدی، ڈاکٹر شریف، پروفیسر عبدالحق، پروفیسر محمد حسن، پروفیسر شارب ردولوی،پروفیسر امیر عارفی،پروفیسر قمر رئیس۔ کس کس کا نام لیا جائے، لیکن ان میں چند ایسے استاد بھی تھے جن کی سادگی اور انسان دوستی نے فیروز دہلوی پر خاص اثر چھوڑا جن میں مغیث الدین فریدی، پروفیسر شریف اور پروفیسر امیر عارفی سے وہ از حد محبت کرتے تھے۔ یہ اساتذہ بھی ان پر جان چھڑکتے تھے۔ ان سادگی پسند اساتذہ کی صحبت کا اثر ہی تھا کہ سادگی ان کی شخصیت کا حصہ بن گئی تھی۔ انھوں نے زندگی بھر دہلی کی اسی تہذیبی روایت کو نہ صرف اپنے اندر محفوظ رکھا بلکہ اپنی تحریروں، گفتگو اور تدریسی خدمات کے ذریعہ اسے نئی نسلوں تک منتقل بھی کیا۔ ان کا انتقال اگرچہ جسمانی طور پر ایک فرد کی جدائی ہے لیکن حقیقت میں یہ اردو تہذیب کے ایک باوقار نمائندے کی رخصتی ہے۔
ڈاکٹر فیروز دہلوی کی ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم دہلی میں ہوئی۔ انھوں نے دہلی کالج (ایوننگ) سے بی اے اور ایم اے کی تعلیم حاصل کی۔ زمانۂ طالب علمی ہی سے ان میں مطالعہ، تحقیق اور لکھنے لکھانے کا شوق نمایاں تھا۔ یہ وہ دور تھا جب نوجوان طلبہ سیاست یا وقتی سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی لیتے تھے لیکن فیروز دہلوی کتابوں اور علمی مباحث کے آدمی تھے۔ دورانِ طالب علمی انھوں نے کالج کے سالنامہ ’حیات‘ کا ’یاد رفتگاں نمبر‘ شائع کیا جو ان کی ادبی بصیرت اور تنظیمی صلاحیت کا ابتدائی ثبوت تھا۔ اس وقت شاید کسی نے اندازہ بھی نہ کیا ہوگا کہ یہی نوجوان آگے چل کر اردو ادب کی ایک معتبر آواز بن جائے گا۔
1983 میں ان کا تقرر ذاکر حسین کالج (مارننگ) میں بطور استاد ہوا۔ یہیں سے ان کی تدریسی زندگی کا وہ سفر شروع ہوا جس نے ہزاروں طلبہ کو متاثر کیا۔ وہ صرف کتابی علم دینے والے استاد نہیں تھے بلکہ اپنے شاگردوں کی شخصیت سازی پر بھی توجہ دیتے تھے۔ ان کے شاگرد آج بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ڈاکٹر فیروز دہلوی کے لیکچر محض درسی گفتگو نہیں ہوتے تھے بلکہ تہذیب، مطالعہ، تنقیدی شعور اور انسان دوستی کا درس ہوتے تھے۔ وہ کلاس روم میں ادب کو زندہ کر دیتے تھے۔ غالب، میر، اقبال یا سرسید کا ذکر کرتے تو محسوس ہوتا جیسے وہ ان شخصیات کو صرف پڑھ نہیں رہے بلکہ جی رہے ہیں۔
دورانِ تدریس ہی انھوں نے پی ایچ ڈی کے لیے غالب کے مشہور شاگرد میر مہدی مجروح کی حیات اور تصنیفی خدمات پر تحقیقی مقالہ تحریر کیا۔ بعد میں یہی مقالہ کتابی صورت میں شائع ہوا اور علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ یہ ان کی تحقیقی صلاحیت، عرق ریزی اور کلاسیکی ادب سے گہری وابستگی کا ثبوت تھا۔ ان کی تحقیق میں محض حوالوں کی فراوانی نہیں ہوتی تھی بلکہ موضوع کے ساتھ ایک قلبی تعلق بھی محسوس ہوتا تھا۔
ڈاکٹر فیروز دہلوی کی ادبی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ انھوں نے تحقیق، تنقید، تدوین، ترجمہ اور تذکرہ نگاری ،ہر میدان میں اپنی موجودگی درج کرائی۔ ان کی تصانیف میں ’عہد سرسید کے ادبی و علمی نقوش‘، ’اخترالایمان: مقام اور کلام‘،’لندن کی ایک رات کا تجزیاتی مطالعہ‘، ’سردار جعفری کی نادر تحریریں‘، ’مجروح سلطان پوری: مقام اور کلام‘ جیسی اہم کتابیں شامل ہیں۔ ان کتابوں میں انھوں نے صرف ادبی شخصیات کا تعارف نہیں کرایا بلکہ ان کے فکر و فن کو نئے زاویوں سے سمجھنے کی کوشش بھی کی۔
خاص طور پر ان کا مرتب کردہ مجلہ’فکر نو‘کا ’فرزندگان کالج نمبر‘۔جو ذاکر حسین کالج مارننگ کا سالانہ مجلہ تھا اور جس کی پانچ جلدیں تھیں، بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ چونکہ یہ ایک کالج کا مجلہ تھا اس لیے اس کی تشہیر نہیں ہو سکی اور مخصوص ہاتھوں تک محدود ہو کر رہ گیا لیکن یہ مجلہ دراصل دہلی کی ادبی و تہذیبی روح کا ایک آئینہ ہے۔
دہلی صرف ایک شہر نہیں بلکہ صدیوں کی تہذیب، زبان، ثقافت اور روایت کا نام ہے۔ ڈاکٹر فیروز دہلوی نے اس مجلہ کے ذریعے دہلی کے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کی تحریروں کو یکجا کرکے اس تہذیبی روایت کو محفوظ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ آج جب نئی نسل اپنی تہذیبی جڑوں سے دور ہوتی جا رہی ہے تو ایسی کتابوں کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اکثریتی طبقہ کے لوگ اور دیگر اقوام بھی اپنی جڑوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں ۔اور ان کی تحقیق کے نتیجہ میں نئی نئی چیزیں سامنے بھی آ رہی ہیں ۔
ڈاکٹر فیروز دہلوی کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی انکساری اور شرافت تھی۔ وہ شہرت کے طلبگار نہیں تھے۔ علمی دنیا میں اکثر لوگ اپنی معمولی کامیابیوں کا شور مچاتے نظر آتے ہیں لیکن فیروز دہلوی خاموشی سے کام کرنے والے انسان تھے۔ وہ اپنے کام کو اپنی پہچان بناتے تھے۔ ان کی گفتگو میں نہ تصنع ہوتا تھا اور نہ خود نمائی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے حلقۂ احباب میں طلبہ، اساتذہ، ادیب، شاعر اور عام لوگ سبھی شامل تھے۔ آپ اس عرصہ میں برپا کی گئی ادبی محفلوں، مجلسوں، سمینار اور سمپوزیم کی رپورٹ اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو فیروز دہلوی اس میں شاید ہی نظر آئیں ۔اور اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ وہ صرف گروہ بندی کے شکار ہو گئے بلکہ اس کی سب سے بڑی وجہ خود ان کی بے اعتنائی بھی تھی۔یوں تو آخری دس سالوں میں تو وہ گھٹنوں کی تکلیف میں مبتلا ہو جانے کے سبب بھی کہیں جانے سے پرہیز کرتے تھے ،لیکن اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی بے اعتنائی اور تنہائی پسندی بھی تھی۔ انھیں کلاسیکی اردو ادب سے شغف ہی نہیں تھا بلکہ وہ اس کے قتیل بھی تھے۔ اپنے اساتذہ کی عزت ان کا شعار تھا اور ان کے سامنے کسی بھی موضوع پر بولنے سے وہ ہمیشہ احتراز کرتے تھے۔ میں خود جب پروفیسر امیر عارفی کی زیر نگرانی ایم فل کا مقالہ لکھ رہا تھا اس وقت فیروز صاحب دہلی کالج میں تھے اور اکثر عارفی صاحب کے ساتھ جامع مسجد آتے تھے۔ عارفی صاحب ،شریف صاحب اور فیروز دہلوی صاحب کے ساتھ ساقی بک ڈپو کے مالک غنی صاحب کی چھوٹی سی دوکان میں بیٹھتے تھے ۔تو مجھے بھی اکثر ان کے ساتھ بیٹھنے کا موقعہ ملتا تھا ۔اس موقع پر زیادہ تر عارفی صاحب بولتے تھے اور کبھی کبھی شریف صاحب بھی لیکن فیروز صاحب ان کی گپ شپ کو بھی اتنے انہماک سے سنتے تھے جیسے کہ کوئی مرید اپنے شیخ کے فرمودات کو سن رہا ہے ۔کبھی زیر لب مسکرا کر اور کبھی ہاں ہوں کر کے ان کی گفتگو میں شامل تو ضرور ہوتے تھے لیکن کبھی بھی حد ادب کا دامن نہیں چھوڑتے تھے ۔لیکن وہی فیروز دہلوی جب تنہا ملتے تھے خاص طور پر ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس میں جہاں میں ملازمت کرتا تھا اور جو ان کے گھر سے چند قدم کے فاصلہ پر تھا۔ تو پھر وہ کھل کر گفتگو کرتے تھے اور ایسے ناصحانہ انداز میں جیسے وہ ایک ہی نشست میں اپنے جاں گسل تجربات کے تمام اثرات میرے ذہن میں منتقل کرنے کا تہیہ کر چکے ہیں۔ ایک بار میں دفتر میں اپنی میز پر کسی کتاب کا مسودہ پڑھ رہا تھا کہ فیروز صاحب تشریف لائے دعا سلام کے بعد جب وہ میرے قریب بیٹھنے لگے تب خان صاحب یعنی ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس کے مالک مجتبی خان صاحب کی ان پر نظر پڑی انھوں نے نہایت عجلت میں فیروز صاحب کو اپنے پاس آکر بیٹھنے کو کہا۔ فیروز صاحب ان کے پاس چلے گئے، میں جو اپنے سامنے بکھرے صفحات سمیٹ چکا تھا اسے پھر الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا کیونکہ کتاب کو اسی دن فلم بنانے کے لیے بھیجنا تھا اور اس میں کچھ غلطیوں کو درست کرانے کے لیے کمپیوٹر آپریٹر کے پاس جانا تھا اس لیے میں نے فیروز صاحب پر توجہ نہیں دی اور اپنے کام میں مشغول رہا لہٰذا نہایت حساس فیروز صاحب نے اسے محسوس کر لیا اور خان صاحب کے پاس بیٹھے بیٹھے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ ’’میاں شعیب خدا کا شکر ادا کیجیے کہ آپ ٹیبل پر بیٹھے ہیں ،میں نے یہیں کتابوں کے بنڈل سینے کا کام کیا ہے‘‘میں سمجھ گیا اور جاکر ان کے پاس معذرت کرتے ہوئے کہا کہ معاف کیجیے گا سر دراصل میرے ہاتھ میں جو مسودہ ہے اسے آج ہی فلم بنانے کے لیے دینا ہے ۔براہ کرم اسے میری عدم توجہی پر محمول نہ کریں ۔خان صاحب نے بھی میری تائید کی اور پھر بات آئی گئی ہوگئی ۔ان سے متعلق بہت سی یادیں ہیں جسے قلم بند کرنے کو جی چاہتا ہے کیونکہ اب ایسے لوگ خال خال ہی رہ گئے ہیں جن کی گفتگو سے ذہن روشن ہوتا ہے ۔
دہلی اردو اکادمی نے ڈاکٹر فیروز دہلوی کی مجموعی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں دتاتریہ کیفی ایوارڈ سے بھی نوازا۔ یہ اعزاز یقینا ان کی علمی و ادبی عظمت کا اعتراف تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی اصل پہچان ان کے شاگرد، ان کی کتابیں اور ان کی شائستہ شخصیت تھی۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی اردو زبان کی خدمت میں گزاری اور کبھی اس خدمت کا صلہ طلب نہیں کیا۔ آخری عمر میں فیروز دہلوی پروفیسر مظہر احمد سے بہت زیادہ قریب ہو گئے تھے ۔گو کہ مظہر احمد صاحب ذاکر حسین کالج میں ان کے ساتھی تھے مگر مارننگ اور ایوننگ کا فرق تھا ۔فیروز صاحب مارننگ میں استاد تھے اور مظہر صاحب ایوننگ میں ہیں، لیکن اس کے باوجود ایک شریف النفس شاگرد کی طرح مظہر صاحب مسلسل فیروز صاحب سے کسب فیض کرتے رہے ۔
آج جب ہم ڈاکٹر محمد فیروز دہلوی کی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک ادارہ تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی کے ذریعے یہ سبق دیا کہ علم کا اصل مقصد انسان کو بہتر انسان بنانا ہے۔ ان کے یہاں علم اور اخلاق ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔ وہ جتنے بڑے عالم تھے اتنے ہی بڑے انسان بھی تھے۔ ان کی شخصیت میں دہلی کی قدیم تہذیب کی شائستگی، اردو ادب کی لطافت اور صوفیانہ انکسار یکجا ہو گیا تھا۔
ان کے انتقال کے بعد اردو دنیا میں جو خلا پیدا ہوا ہے اسے آسانی سے پر نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب اردو زبان اور تہذیب کو سنجیدہ اور مخلص افراد کی شدید ضرورت ہے، ڈاکٹر فیروز دہلوی جیسے لوگوں کا رخصت ہونا ایک بڑا نقصان ہے۔ وہ اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جس نے ادب کو محض ذریعہ معاش نہیں بنایا بلکہ اسے زندگی کا مقصد سمجھا۔ آج کی مادہ پرستی کے دور میں ایسی شخصیات کم ہی نظر آتی ہیں۔
ڈاکٹر فیروز دہلوی کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ خاموشی سے کیا جانے والا علمی کام کس طرح آنے والی نسلوں کے لیے سرمایہ بن جاتا ہے۔ انھوں نے نہ کوئی شور مچایا، نہ کسی ادبی گروہ بندی کا حصہ بنے، نہ خود کو نمایاں کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کے باوجود اردو دنیا میں ان کا نام احترام سے لیا جاتا رہے گا۔ ان کے شاگرد جب بھی اردو ادب کا ذکر کریں گے تو اپنے اس استاد کو ضرور یاد کریں گے جس نے انھیں صرف کتابیں نہیں پڑھائیں بلکہ زندگی جینے کا سلیقہ بھی سکھایا۔
ان کی وفات یقیناً ایک ناقابل تلافی نقصان ہے، مگر ان کی تصانیف، ان کے علمی کارنامے اور ان کی شائستہ یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ وہ اپنے پیچھے ایسی ادبی میراث چھوڑ گئے ہیں جو آنے والے محققین اور طلبہ کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتی رہے گی۔
اردو دنیا انھیں ہمیشہ ایک باوقار استاد، مخلص محقق، نفیس انسان اور تہذیبی روایت کے امین کے طور پر یاد رکھے گی۔

Shoaib Raza Fatmi
H.No: 705 .Gali No 2,
Gurudwara Mohalla, Mauj Pur
Delhi- 110053
Mob.: 9968778671

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اردو زبان و ادب کے فروغ میں تراجم کا حصہ،مضمون نگار:بلقیس مقبول

اردو دنیا،مئی 2026: اردو زبان و ادب کی ترویج میں ترجمے کی اہمیت ہمیشہ رہی ہے۔ ترجمہ زبان کو وسعت دیتا ہے، نئے مفاہیم سے روشناس کراتا ہے اور علمی

مستشرق اردو لغت نویس،مضمون نگار: مزمل سرکھوت

اردودنیا،فروری 2026:  ہمارےتعلیمی نظام میں شاعری اور نثر کی مختلف اصناف کے مطالعے اور تحقیق کا چلن تو موجود ہے ، مگرترجمہ اور اس کے انسلاکات، اصطلاح سازی، محاورات، ضرب

مظہرالزماں خاں سےانٹرویو،مضمون نگار: محمد ارشاد عالم

اردودنیا،جنوری 2026: محمد ارشاد عالم: جیسے ہر کسی کے انٹرویو میں ہمیشہ ایک عام اور تقریبا پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ آپ پیدا کب ہوئے۔ چنانچہ میرا بھی پہلا