اردو دنیا، جون 2026:
نسائی حسیت(Feminine Sensibility)ایک ایسا تصور ہے جو محض عورت کے حیاتیاتی وجود تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ احساس، ادراک، تجربے اور اظہار کے ایک مخصوص طریقِ کار کا نام ہے۔ نسائی حسیت نہ صرف خواتین کے سماجی اور نفسیاتی تجربات سے پیدا ہوتی ہے بلکہ زبان، ثقافت، تاریخ اور طاقت کے نظاموں کے ساتھ اس کے تعلق سے بھی تشکیل پاتی ہے۔ اس لیے نسائی حسیت کو صرف عورت کے جذبات و احساسات سے تعبیر کرنا ایک سطحی عمل ہے۔ درحقیقت نسائی حسیت ایک فکری رویہ ، جمالیاتی زاویۂ نظر اور تنقیدی شعور ہے جو مرد اساس بیانیے کے مقابل ایک متبادل ادراک پیش کرتا ہے۔
نسائی حسیت کی اصطلاح تانیثی مطالعے کے موضوع کے تحت آتی ہے جو عورتوں کی اقدار کو زیرِ بحث لاتی ہے۔ یہ صنفوں کی برابری پر یقین کی بنیاد پر عورتوں کے حقوق کی وکالت کرنے والے سب سے زیادہ زیرِ بحث نظریاتی بحثوں میں ایک ہے۔ عام طور پر نسائی حسیت کو عورتوں کے فطری جذبات، نرمی ، محبت، شفقت، وفا، ایثار و قربانی وغیرہ سے مربوط کرکے دیکھا جاتا رہا ہے۔ لیکن جدید فکری مباحث خصوصاً تانیثیت کے زیرِ اثر اس تصور کو چیلنج کیا گیا۔ نسائی حسیت کو صرف حیاتیاتی جنس کا نتیجہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ایک ثقافتی اور فکری تشکیل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ کہ نسائی حسیت بعض اوقات مرد تخلیق کار کے یہاں بھی ظاہر ہو سکتی ہے اور بعض خواتین تخلیق کار کے یہاں بھی۔ سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ نسائی حسیت کسی فطری جوہر کا نام نہیں بلکہ ایک تشکیل شدہ شعور ہے جو سماجی حالات، طاقت کے عدم توازن اور تاریخی محرومیوں کے تجربے سے پیدا ہوتا ہے۔
خالدہ حسین نسائی حسیت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتی ہیں:
’’نسائی حسیت صرف یہی نہیں کہ مونث واحد متکلم کا صیغہ اپنا لیا جائے۔ گھر آنگن اور سنگھار اور برہا کی بات کی جائے۔ اوڑھنی کے رنگوں اور چوڑیوں کی چھنک کو شاعری میں ایک معتبر مقام دلوایا جائے۔ نسائی حسیت سے مراد ہے کہ عورت جس طرح زندگی کو دیکھتی اور بسر کرتی ہے وہ مرد سے مختلف ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ہر انسان وقت کو اپنے حوالے سے پہچانتا ہے۔ یعنی اس کا وقت کا تصور ذاتی اور داخلی نوعیت رکھتا ہے۔ اس طرح عورت کا وقت کے ساتھ تعلق اور زمانی احساس مرد سے مختلف ہے کیوں کہ اس کے شب و روز اور معاملات و مسائل کی نوعیت منفرد ہے۔ وہ اپنی سائیکی (جو مرہونِ منت ہے اس کی جسمانیت کی) کے حوالے سے فطرت کے تمام مظاہر کو، جن میں اس کے پانچوں حواس سے اخذ کردہ تجربہ یعنی رنگ، خوشبو، آواز، لمس اور ذائقہ شامل ہیں اپنے انداز سے محسوس کرتی ہے اس میں صدیوں کے روایتی تلازمات کا بھی دخل ہے اور حال کی تبدیلیوں اور مستقبل کی امیدوں کا تعلق بھی۔ وہ جب موسموں، رتوں رنگوں اور خوشبوؤں کا تجربہ کرتی ہے تو اس کے تلازمات میں ممتا اور بیٹی، بہن اور بیوی کی ذات بھی شامل ہے۔ مرد اس سے مختلف انداز میں سوچتا اور محسوس کرتا ہے۔ جب کہ عورت بے شمار کام بہ یک وقت نمٹاتی اور ان گنت رشتوں کو قائم رکھتی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو ہر عورت فنکار ہے۔ یوں شعر میں عورت کی شخصیت ایک منفرد نقطۂ نظر کی صورت اختیار کرتی ہے تو اسے ہم نسائی حسیت کا نام دیں گے ورنہ محض مونث کا صیغہ استعمال کر لینا کوئی معنی نہیں رکھتا ہے۔ ‘‘
(خالدہ حسین، زہرا نگاہ، مشمولہ شعر و حکمت، کتاب 12، دور سوم، ص:103)
نسائی حسیت ایک پیچیدہ ، تہہ دار اور متحرک تصور ہے جو عورت کے سماجی ثقافتی اور نفسیاتی تجربے سے جنم لیتا ہے مگر اس تک محدود نہیں رہتا۔ یہ حسیت ہمیں دنیا کو طاقت کے زاویے سے نہیں بلکہ تجربے، احساس اور تعلق کے تناظر میں دیکھنا سکھاتی ہے۔ نسائی حسیت نہ صرف عورت کی شناخت کو نئے معنی دیتی ہے بلکہ انسانی شعور کو بھی وسعت عطا کرتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ نسائی حسیت کسی ایک جنس کی میراث نہیں بلکہ ایک ایسا فکری امکان ہے جو حاشیے سے مرکز کو سوال کے کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے اور معنی زبان اور وجود کے بارے میں ہمارے مسلمہ تصورات کو از سرِ نو غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
زبان اور ادب نسائی حسیت کے اظہار کا سب سے اہم ذریعہ ہیں۔ نسائی حسیت کو ظاہر کرنے والے ادب میں صرف واقعات کو محض بیان نہیں کیا جاتا بلکہ ان کے نفسیاتی جذباتی اور اخلاقی اثرات کو نمایاں کرتا ہے۔ اس طرح کی ادبی تخلیقات میں کردا ر اکثر فیصلہ کن عمل کے بجائے داخلی کشمکش میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ بظاہر کسی انجام پر پہنچنے کے بجائے کیفیت کے اظہار پر ختم ہوتے ہیں۔
اردو شعر و ادب میں بھی نسائی حسیت کے آثار نمایاں نظر آتے ہیں۔ خواہ وہ خواتین کی تخلیق ہو یا مرد کی تحریر۔ البتہ خواتین کے یہاں یہ حسیت تجربے کی صداقت کے باعث زیادہ شدت سے سامنے آتی ہے۔ قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، ذکیہ مشہدی، زاہدہ زیدی، ساجدہ زیدی، بلقیس ظفیرالحسن، شائستہ یوسف، شہناز نبی، شفیق فاطمہ شعریٰ، رفیعہ شبنم عابدی، عذرا نقوی وغیرہ نے ایک طرف جہاں عورتوں کے مسائل کو اپنی تخلیقات کا موضوع بنایاہے وہیں سماجی، سیاسی اور معاشی سطح پر ان کے مساوات کی کوششیں بھی نظر آتی ہیں۔ ان تخلیق کاروں کے یہاں طرزِ اظہار اور لہجے کے برتاؤمیں فرق نظر آتا ہے۔ تاہم سب کا مقصد عورت کے وجود کو اس کے پورے احترام کے ساتھ قبول کرنے اور حق و انصاف دلانے پر ہے۔اس حوالے سے جب ہم معاصر اردو شاعری پر نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اکثر اردو شاعرات نے اپنی شاعری کا آغاز نسائیت کے موضوعات سے ہی کیا ہے۔ یعنی بلوغت کے نسوانی اور غنائی جذبات کو شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ لیکن بہت جلدہی وہ عورت کو اس کے تجربے اور تعلق کے حوالے سے پیش کرنے کی کوشش کرتی نظر آتی ہیں۔
اردو کی نسائی شاعری میں عورت کی محکومی اور محرومی کو موضوع سخن بنانے والی شاعرات میں ایک نام ساجدہ زیدی کا بھی ہے۔ ان کی شاعری کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی خواہش تھی کہ عورت خود اپنے میں طاقت ور ہو جائے ۔ وہ عورت کی ترقی اور تعلیم یافتہ ہونے کی خواہش مند نظر آتی ہیں۔ لکھتی ہیں:
کئی عمریں گزار آئی
کئی دنیائیں چھان آئی
کئی صحراؤں میں نقش قدم چھوڑے
کئی دریا لہو کے پار کرکے آئی
کئی آتش کدوں میں جذب کندن بنا آئی
مگر اب بھی میری زنجیر آہن کھڑ کھڑائی ہے
مجھے جب جب نیلا آسمان حسرت سے تکتا ہے
میں اپنی آتش دل سے جلا دیتی ہوں
اس زنجیر کی کڑیاں
ستاروں تک پہنچتی ہوں
مدار نور میں مہتاب کی ہم رقص ہوتی ہوں
زاہدہ زیدی ایک معتبر شاعرہ کی حیثیت سے نمودار ہوئیں۔ ان کے پانچ شعری مجموعے ’’زہرحیات‘‘ 1970، ’’دھرتی کا لمس‘‘ 1975، ’’سنگ جاں‘‘ 1989، ’’شعلۂ جاں‘‘2000، ’’شام تنہائی‘‘ 2008 میں شائع ہوچکے ہیں۔ جن میں عرفانِ ذات کے مسائل، نفسیاتی پیچیدگیاں اورسائیکی حیات کے ارتعاش جلوہ گرہیں۔ان کی شاعری فکری، فنی، اسلوبیاتی اور موضوعاتی اعتبار سے منفرد مقام کی حامل ہے۔ لفظ و معنی کی بحث ، ہئیتی تجربے، متنوع تخلیقی موضوعات، ڈرامائی کیفیات، وقت، حیات و ممات، تنہائی اور وجودیت کے موضوعات وغیرہ ان کے حوالے کے طور پرملتے ہیں۔ انھوں نے اپنی شاعری کو وقتی موضوعات، نعرہ بازی اور تانیثی بیان سے پاک رکھا۔ ایک عورت ہوکر بھی انھوںنے کبھی تانیثی فکر کا اعتراف نہیں کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے عورت کی ذات ترحم بھری نگاہ سے دیکھی جانے لگتی ہے جو انہیں ازحدنا پسند تھا۔ وہ بلند افتاد شاعرہ، ڈرامہ نگار،ناول نگار، محقق ، مترجم اورادیبہ ہیں۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی میں پروفیسر تھیں اس سے قبل چند سال دہلی یونیورسٹی کے مرانڈا ہاؤس اور لیڈی ارون کالج میں انگریزی کی لکچرر رہیں۔ انہوں نے سماجی، نفسیاتی اور فلسفیانہ موضوعات پر انگریزی اور اردو میں تقریباً30 سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ چیخوف، سارتر، بیکٹ، پراندلیو اور آئنسکو کی تخلیقی تحریروں کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ وہ عمدہ ڈرامہ نگار تھیں اورانھوں نے کئی ڈرامے پروڈیوس اور اسٹیج بھی کیے۔ انھوںنے غزل اورنظم دونوں میں طبع آزمائی کی البتہ نظموں میں ان کے خیالات و احساسات کی واضح طور پر تفسیر ملتی ہے۔ ان کی نظموں میں اپنے عہد کے سماجی،سیاسی اور تہذیبی مسائل کو بڑی مہارت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ان کی شاعری دردوغم کی شاعری ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری میں اپنے اور پورے نسائی طبقے کا درد سموکررکھ دیا ہے۔فیض کی نظم ’تنہائی‘ سے متاثر ہوکر انھوںنے بھی ایک نظم ’تنہائی‘ لکھی اس کے یہ ٹکڑے ملاحظہ کیجئے۔
نہ کوئی منزل مقصود،نہ انجام سفر
اور نہ کوئی آغاز
بس اک گراں بار سکوت
اک پُرہول خلا
دہشت تنہائی میں پھیلا ہوا تاحد نظر
بلقیس ظفیر الحسن کا نام80 کی دہائی میں خصوصیت کا حامل ہے انھوں نے غزلیں اور نظمیں دونوں میں طبع آزمائی کی، لیکن ان کی تخلیقی شخصیت کا تعین ان کی نظموں کے حوالے سے ہوتا ہے ان کا نظموں اور غزلوں پر مشتمل مجموعہ ’گیلا ایندھن ‘(1986) میں منظر عام پر آیا اس کے علاوہ ان کا کلام دور جدید سے لے کر اب تک شائع ہونے والے ادبی رسائل کی زینت بن چکا ہے جن میں شب خون ،ذہن جدید، ایوان اردو، شاعر اور آجکل کے نام سر فہرست ہیں۔ ان کی نظموں کو ان کی چابک دستی کے انداز کے لیے ادبی حلقوں میں پذیرائی ملی۔ ان کی نظموں میں فکری گہرائی اظہار و وسائل پر گرفت اور موضوعات کا تنوع ملتا ہے۔ ان کے یہاں ما بعد جدید ڈسکورس کے حوالے سے خواتین کی زندگی کے مختلف معاملات و وسائل کاکھل کر اظہار ہوا ہے ۔نئی شاعری میں تانیثیت کے تحت سماج میں عورت کی حیثیت و مقام کے ساتھ دیگر مسائل کو توجہ کا مرکز بنایا گیا اورجو ابتدا سے مردانہ معاشرتی نظام نے عورتوں کو درجہ دوئم پر رکھا تھا اس کے خلاف بھی عورت نے مرد کی بالا دستی کو قبول کرنے سے انکار کیا بلقیس نے سماجی تفریق کے اس انداز کو بہترین ڈھنگ سے پیش کیا ہے ۔ان کے شعری سرمایہ میں ’’گیلا ایندھن‘‘ کے علاوہ مجموعہ ’’شعلوں کے بعد‘‘(2004) بھی قابل ذکر ہے۔تانیثی جذبات کے اظہار میں ان کے یہاں مرد کی بے وفائی کے جواب میں آنسو بہانے والی عورت کے بجائے ایک باوقار عورت کا تصور ملتا ہے جو زندگی کے حقائق سے واقف ہے اور بنا کسی سہارے کے بھی معاشرے میں سر اٹھا کر چل سکتی ہے:
کیا نہ سہتے ہیں یہاں لوگ سہیں گے ہم بھی
بن ترے جی نہیں پائیں گے یہ امکاں تو نہیں
شل ہوئے ہاتھ ہمارے تو کوئی بات نہیں
برف کی سل کا یہ حصہ ذرا سا ٹوٹا تو
شہناز نبی ہندوستانی ہم عصر شعری دبستان میں اہم ادبی شناخت رکھتی ہیں ان کی تخلیقی شخصیت کا تعین ان کے مجموعوں ’’بھیگی راتوں کی کتھا ‘‘(1990) اور ’’اگلے پڑاؤ سے پہلے‘‘(2001) سے ادب میں ہوا۔ شہناز نبی کی شاعری نسائی حسیت کے فطری حسن اور نئی عورت کی زندگی کا مرقع ہے جس میں پروین شاکر کی ’خوشبو ‘کی ہی مانند ایک نو عمر لڑکی سے لے کر ایک با شعور عورت تک کے سفر کو زندگی کے تمام تر رنگوں کے ساتھ برتا گیا ہے یہ وہ عورت ہے جس نے سماجی انحرافات کو اپنا شعار بنایااور نو خیز عشقیہ معاملات سے لے کر عورت کی زندگی کے تمام تجربات کے اظہار کو پیش کیا۔ ان کی شاعری میں شروعاتی دور میں جو لڑکی محبوب کے لیے خود سپردگی کے جذبات سے سرشار ہے اور یہ کہتی ہے کہ:
مجھ کو تو ہر چہرے میں اب اس کا چہرہ دکھتا ہے
کیا اس کو بھی مجھ جیسی ہر شکل و شباہت لگتی ہے
وہی لڑکی عملی زندگی کے تلخ تجربات سے گزرنے کے بعد ایک با شعور عورت کی طرح محبوب سے بچھڑنے کے ڈر و غم میں ہلکان ہونے کی بجائے خود مختاری کے جذبے کو ظاہر کرتی ہے:
وہ شخص جس سے مل کے میں گم کر دوں اپنا آپ
اب عافیت ہے اس میں کہ اس سے ملا نہ جائے
شہناز کے یہاں عشق کی کیفیت کے تمام تر اسرار و رموز اپنی پوری حسیت کے ساتھ موجود ہیں جس میں شکوہ بھی ہے وفا شعاری بھی اضطراب بھی شکایات بھی اور ساتھ ہی لطیف جذبات کا اظہار بھی ۔ان کے یہاں نسائیت کی اصل صورت کی تشکیل غزلوں سے زیادہ نظموں میں ہوئی ہے۔ان کی نظموں کا مجموعہ ’’اگلے پڑاؤ سے پہلے‘‘ کا انتساب انھوں نے ’’تنہا عورتوں کے نام‘‘کیا ہے۔ شہناز نبی نے اپنی نظموں میں جنسی تفریق پر مبنی سماج میں نئی عورت کے تجربات کو بھی بخوبی نظم کیا ہے۔ سماجی استحصال کی روایت سے انحراف اور بغاوت کو بھی نمایاں کیا ہے۔ اقدار کی شکست و ریخت سماجی اور سیاسی نظام زندگی کی تلخیاں بھی ان کی نظموں میں عصر حاضر کے حالات کی درست ترجمانی کرتی ہیں۔ وہ مرد اساس معاشرے کے طریقہ کار اور عورت کے استحصال بے چارگی و معصومیت کی زندگی کی ترجمانی اجتماعی صورت حال کے تناظرمیںکرتی ہیں ۔پدرانہ معاشرتی نظام اور عورت کے استحصال کو انھوں نے اساطیری کرداروں کے حوالے سے بھی کیا ہے جو جدیدیت کے مہابیانیہ کے بر خلاف ما بعد جدیدیت کے منی بیانیہ کی صورت میںپیش کیا گیا ہے۔ جس کا تعلق علاقائی ادب سے ہے اور نسائیت کی بھی عمدہ ترجمان ہے۔ شہناز نبی کے یہاں عدم مساوات سے متعلق جو نظم ’’الحق‘‘ ہے،اس میں ان کا انداز خدا سے سوال اور شکوہ کا ہے۔ اسے انھوں نے تاریخی تناظر میں عورت کے وقارو عظمت اوربرابری کے متعلق پیش کیا ہے۔
ساجدہ زیدی ،زاہدہ زیدی، اور شفیق فاطمہ شعریٰ نے فلسفیانہ موضوعات کو اپنی شاعری میں تانیثی حوالوں کے ساتھ برتا۔ انھوں نے’ شجر ممنوعہ‘ کو بھی ہاتھ لگایا اور ’لکشمن ریکھاؤں‘کو بھی پار کیا ،جس سے اردو شاعری میں نسائی حسیت کی ایک نئی راہ ہموار ہوئی۔
Prof. Shabnam Hameed
Hed of Department University of Allahabad
U.P-211002
Mob:
Email: shabnamhameed.au@gmail.com