استادشاعرمرزا محمد فاخر مکین اوران کے ہندو تلامذہ ،مضمون نگار:عرشی بانو

April 4, 2025 0 Comments 0 tags

تلخیص


اس مقالے کا موضوع ’استادشاعر مرزا فاخر مکین اور ان کے ہندو تلامذہ ہے‘ جس میں استاد الشعرا مرزا فاخر مکین کے غیر مسلم شاگردوں کا ذکر ہے اور ان کے کلام کے نمونے بھی پیش کیے گئے ہیں اس غرض سے اس دور کے ایک اہم تذکرہ ’انیس الاحبا‘ کو بنیاد بنایا گیا ہے کیونکہ انیس الاحبا کے مصنف موہن لعل انیس خود مکین کے خاص شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔یہ تذکرہ اس دور کے اودھ کے فارسی گو شعرا کا ایک بہترین ماخذ ہے کیونکہ اس میں انھوں نے اپنے معاصرین کے حالات قلم بند کیے ہیں جس کی وجہ سے درست معلومات تک رسائی ہوتی ہے۔یوں تو اس تذکرے میں 93 شعرا کا ذکر ہے لیکن بخوف طوالت اس میں صرف مکین کے غیر مسلم شاگردوں کا انتخاب کیا گیاہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مذہب اور زبان کی بنا پر کبھی تعصب روا نہیں رکھا گیا۔اس کتاب سے مکین کی شاعرانہ صلاحیت اور ان کے کلام کے فنی محاسن پر روشنی پڑتی ہے اس لیے ان پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ اس بات کی وضاحت ہو سکے کہ ایک استاد شاعر کو کن کن اوصاف کا حامل ہونا چاہیے وہ ایک طرف جہاں ایک قادر الکلام شاعر تھے وہیں دوسری طرف غیر متعصب انسان بھی، یہی وجہ ہے کہ انھوںنے کبھی مذہب کی بنا پر کسی کو اس کے کلام پر اصلاح دینے سے انکار نہیں کیا جس کا اندازہ ’انیس الاحبا‘میں شامل غیر مسلم شاگردوں سے لگایا جا سکتا ہے اسی طرح اس مقالے سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ ہندوستان میںفارسی زبان کی ترویج و اشاعت میں غیر مسلموں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔


کلیدی الفاظ
مرزا فاخر مکین، تذکرہ، موہن لعل انیس، شاگرد،تقلید، تصحیح، اودھ،فارسی،مراسم،لکھنؤ
————
اودھ کے چوتھے نواب مرزا یحییٰ عرف مرزا امانی المخاطب بہ آصف الدولہ(دور حکومت 1775-1797) کے عہد کے ایک مشہوراستاد شاعر جن کا شمار فارسی کے عمدہ شاعروںمیں کیا جاتا ہے۔ ان کا نام مرزا محمد فاخر اور تخلص ’مکین‘ تھا۔ مکین کے پردادا آقا عبدالرحیم نے نواب مردان خان حاکم قندھار کے ہمراہ شاہجہاں کے دور حکومت میں شہرنطنز سے ہندوستان ہجرت کی۔آقا عبدالرحیم کو شاہجہاں نے خصوصی طور سے اپنے دربار میںمدعو کیا تھا، لہٰذا ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے وہ ایران سے ہندوستان کے شاہجہان آباد (دہلی) میں مقیم ہو گئے۔مکین کے دادا آقا عبدالکریم اپنے والد کے ساتھ شاہجہاں آباد(دہلی) آئے۔پھر ان کی شادی عہدہمایوں و اکبر کے مشہور و معروف شاعر ملا محمد قاسم کی بیٹی سے ہوئی۔آقا عبدالکریم، علی مردان خان کے بیٹے ابراہیم خان کی سرکار سے وابستہ تھے چنانچہ جب ابراہیم خان کو کشمیر کی عملداری تفویض ہوئی تو وہ ان کے ہمراہ کشمیر چلے گئے اور وہیں مکین کے والد آقا محمد اشرف کی پیدائش ہوئی۔موہن لعل انیس نے اپنے تذکرے میں مکین کا آبائی وطن ایران کا ایک چھوٹا سا شہر نطنزلکھا ہے، اس کے برخلاف بھگوان داس نے ’سفینہ ہندی‘میں نظر لکھا ہے جو درست نہیں ہے وہ لکھتے ہیں:اصلش آنجناب از نظر است۔1؎مکین کے پردادا آقا عبدالرحیم نے نواب مردان خان حاکم قندھار کے ہمراہ شاہجہاں کے دور حکومت میں شہرنطنز سے ہندوستان ہجرت کی۔آقا عبدالرحیم کو شاہجہاں نے خصوصی طور سے اپنے دربار میںمدعو کیا تھا لہٰذا ان کے حکم کی تعمیل میں ایران سے نقل وطن کرکے ہندوستان آکر دہلی میں توطن اختیار کیا۔
مکین کے اجدادچونکہ کشمیر میں متوطن تھے اس بنا پر کچھ تذکرہ نگاروں نے مکین کو کشمیر کا باشندہ بتایا ہے۔ محمد حسین آزاد نے ’آب حیات‘ میں مکین کو کشمیری الاصل لکھا ہے۔2؎لیکن اس کے بر خلاف دیگر تذکرہ نگاروں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے جیسے کہ موہن لعل انیس نے تذکرہ ’انیس الاحباء‘ میں مکین کی جائے پیدائش شاہجہاں آباد (دہلی) ہی تحریر کی ہے وہ لکھتے ہیں:’’مولد شریف ایشان دارالخلافت شاہ جہان آباد‘‘۔3؎مکین کی تاریخ ولادت فقرہ ’صاحبزادہ با بخت و جاہ‘ سے نکلتی ہے،جس سے 1138ھ عدد بر آمد ہوتے ہیں۔اس لیے مرزافاخر مکین کا سنہ ولادت 1138ھ ہی ٹھہرتا ہے۔
فاخر مکین نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد علوم متداولہ مثلاًصرف ونحو،عروض و بیان اور علم بلاغت وغیرہ میںکامل عبور حاصل کیا۔تقریباً 20 سال کی عمر میں وہ شعر و شاعری کی طرف متوجہ ہوئے۔ وہ اپنی ذہانت اور خداداد صلاحیت کی وجہ سے بہت جلد اعلیٰ درجے کے اشعار کہنے لگے تھے۔ انیس لکھتے ہیں:
’’عمر بیست سالگی از تحصیل علوم لا بدی عربی و معلومات ضروری شاعری چنانچہ باید و شاید فراع نمودہ جان سخن را تازگئی تازہ عطا فرمودند ۔‘‘4؎
مکین کے ہمعصر بھگوان داس ہندی نے اپنے تذکرہ ’سفینہ ہندی ‘میں ان کی ان الفاظ میں تعریف کی ہے :
’’ مہر برج فضل و کمال،ماہ سپہر عز و جل شمع انجمن،خلوت نشینان،اورنگ نشین محفل خلوت گزینان، فخر زمان و زمین میرزا محمد فاخر مکین سلمہ اللہ العالمین..‘‘5؎
اسی طرح مکین کے خاص شاگرد موہن لعل انیس نے اپنے تذکرہ’انیس الاحبا‘ میں مکین کو’ارشاد پناہی ‘کے لقب سے یاد کیا ہے۔
مکین کے پہلے استاد فتوت حسین کشمیری تھے، جن سے انھوںنے شاعری میں اصلاح لی۔اس کے بعد انھوں نے مرزا عظیمااکسیر اصفہانی کی شاگردی اختیار کی اور ان کی نگرانی میں انھوں نے اپنی شاعری میں حسن و نکھار پیدا کیا۔چنانچہ ان کے اشعار فن شاعری کی کسوٹی پر کھرے اترتے ہیں۔مذکورہ دونو ں اساتذہ کا ذکر مصحفی نے اپنے تذکرہ’عقد ثریا‘میں یوں کیا ہے:
’’در ابتدائی شوق شعر یک دو بارہ اصلاح شعر از فتوت خان کشمیری گرفتہ اما حالا دم از شاگردی آغا عظیمای اکسیر می زند۔‘‘6؎
مکین نے دہلی میں اپنی شاعری میں خوب شہرت و ناموری حاصل کی۔لیکن جب احمد شاہ ابدالی نے دہلی کو برباد کر دیا تو مکین1173ھ میں دہلی کو چھوڑ کر لکھنؤآ گئے اور یہیں سکونت اختیار کر لی۔ لکھنؤ میں قیام کے دوران ہی مکین فیض آباد گئے اور پھر وہیںسے 1182ھ میں سید اشرف جہانگیر سمنانی کی مزار کی زیارت کے لیے کچھوچھہ شریف حاضری ہوئی جہاں ان کی بڑی پذیرائی ہوئی۔
جس وقت مکین نے فیض آباد کی جانب ہجرت کی اس وقت ہندوستان کے فرماں رواں شاہ عالم ثانی کا قیام بھی فیض آباد میں تھا۔ وہ الہ آباد روانگی کی تیاری کر رہے تھے،ان کی دلی خواہش تھی کہ وہ مکین سے ملاقات کا شرف حاصل کریں جب ان کو معلوم ہوا کہ مکین فیض آباد میں مقیم ہیں تو انھوں نے فرمائش کی کہ اس سفر میں مکین بھی ان کے ہمراہ ہوںچنانچہ بادشاہ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے مشہور و معروف شاعر وجیہ الدین برین جومکین کے قیام دہلی کے وقت بادشاہ کے ساتھ دہلی گئے تھے، ان کے مکین سے دوستانہ روابط تھے اس لیے انھوں نے مکین سے بادشاہ کی خواہش کا اظہار کیا۔ مکین کا فی سوچنے کے بعدبادشاہ کے ہم سفر بننے کو راضی ہوئے۔ شاہ عا لم کی مکین سے یہ پہلی ملاقات تھی لیکن اس نے مکین کے کلام اور عالمانہ صلاحیت سے متاثر ہوکران کی بڑی قدر دانی کی،مکین بادشاہ کی اس قدردانی اور اعزاز سے بہت متاثر ہوئے۔ مکین نے شاہ عالم سے ملاقات کا ذکر تفصیل کے ساتھ اپنے معروف قصیدہ’سلسلۃالاحبا‘ میں درج کیا ہے، مکین کے وجیہ الدین برین اور اس وقت کے مشہور و معروف شاعر شیخ علی حزین لاہیجی سے دوستانہ مراسم تھے۔
مکین کی ازدواجی زندگی کے بارے میں تذکرہ نگاروں میں اختلاف رائے ہے تذکرہ ’نتا ئج الافکار‘ کے مصنف قدرت اللہ گوپا موی کا ماننا ہے کہ مرزا فاخر مکین نے کبھی شادی نہیں کی تھی۔ لچھمی نرائن شفیق بھی قدرت اللہ کی اس بات سے متفق ہیں کہ مکین نے کبھی شادی نہیں کی،لیکن موہن لعل انیس جو کہ مکین کے خاص شاگرد وں میں سے تھے انھوںنے اپنے تذکرہ ’انیس الاحبا‘ میں مکین کے بیٹے کا نام مرزا علی امان بتایا ہے جو کہ شاعربھی تھے اورثمین تخلص کرتے تھے انیس نے ان کا نمونہ کلام بھی پیش کیا ہے۔ انیس لکھتے ہیں:’’سخن سنج معنی آفرینی مرزا علی امان ثمین خلف الصدق حضرت ارشاد پناھی است‘‘7؎ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مکین کی شادی ہوئی تھی اگر مکین نے شادی نہ کی ہوتی تو وہ بیٹے کی موت پر گریہ کناںنہ ہوتے۔ مظفر حسین صبا نے بھی ثمین کے مختصر حال بیان کیے ہیں۔
مرزا فاخر مکین کے مزاج کے بارے میں تذکرہ نگاروں کی رائے ہے کہ مکین بڑے نازک مزاج شخص تھے۔ان کی اعلیٰ ظرفی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی شاعرانہ محفلوں میں وہ دوسرے شعرا کے مقابل بلند مقام پربیٹھتے تھے۔مکین اپنا کلام دوسرے ایرانی اور ہندوستانی شعرا سے پہلے پیش کرتے تھے یہاں تک کہ بیشتر محفلوں کا آغازا نھیں کے کلام سے کیا جاتا تھا۔ ان کا کلام نہایت بلند پایے کا تھا۔ان کی شہرت صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ ایران اور دیگر ممالک میں بھی تھی۔ بھگوان داس لکھتے ہیں:
’’آوازۂ فضل و کمال آنجناب از ھند تا بہ ا ایران رسیدہ و خلقی از دور و نزدیک آرزومند ملازمت آنحضرت گردیدہ صفات ذات با بر کات در دفترھا گنجائش ندارد،دیوان بلاغت ترجمان قریب دوازدہ ھزار بیست خواہد بود۔‘‘8؎
مکین کی نازک مزاجی کے ساتھ ساتھ ان کے مزاج میں تیزی و تندی اور چڑ چڑا پن بھی بہت تھا جس کی وجہ سے لوگ ان سے خائف رہتے اور ان سے ملنے سے گریز کرتے تھے۔احمد علی سندیلوی کا خیال ہے کہ مکین بڑے زود رنج اور حساس انسان تھے لیکن اسی کے ساتھ وہ بلند شاعرانہ حیثیت رکھتے تھے۔مکین کے واقعات زندگی کے بارے میں ذکر کرتے وقت اگر مرزا محمد رفیع سودا اور فاخر مکین کے معرکہ کا تذکرہ کیا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ان دونوں کی چشمک کی وجہ یہ تھی کہ اشرف علی خاں جو اس زمانے کے ہنرمند اور باکمال شخصیت تھے انھوں نے کافی جد وجہد کے بعد فارسی کلام کے شعرا کا انتخاب تذکرہ کی صورت میں کیا اور شعرا کے کلام کی اصلاح کی اور اس کی تصحیح کے لیے مکین کے پاس لے گئے،پہلے مکین نے اس انتخاب کی تصحیح سے انکار کر دیا پھر کچھ شرائط کے ساتھ اس کی اصلاح کرنے پر راضی ہو گئے، اور تصحیح کا کام شروع کر دیا۔ سودا کے قول کے مطابق کچھ دن گزرنے کے بعد جب اشرف علی خاں کو یہ معلوم ہوا کہ مکین نے مشہور و معروف شعرا مثلاً شیخ سعدی، مولانا روم،مولانا جامی،امیر خسرو، صائب تبریزی،شیخ علی حزیں وغیرہ کے اشعار کو جا بجا کاٹ دیا ہے اور تیغِ اصلاح سے زخمی کر دیا ہے تو اس خبر سے اشرف علی بہت رنجیدہ ہوئے اور کافی قیل و قال کے بعد اپنا تذکرہ مکین سے واپس لے کر اس کی تصحیح کے لیے سودا کے پاس لے گئے۔
مکین کی اصلاح اور تنقید اس دور کے شعرا کو پسند نہیں آئی جس کا ان کے دل و دماغ پر برا اثر پڑا۔ جس سے ان کی صحت خراب رہنے لگی اور وہ بخار اور درد گلو میں مبتلا ہو گئے۔یہ بیماری کافی لمبے عرصے تک رہی۔آخر کار فالج کے حملے سے مکین نے جمعے کی نصف رات 27 محرام الحرام 1221ھ مطابق 1806 میں وفات پائی۔ مکین کی تدفین ’دیا کشن‘ کے بھتیجے ’چنی لال‘ کے باغ میں انجام پائی۔ یہ باغ الماس علی خاں کے کربلاسے کافی نزدیک ہے۔ موہن لعل انیس نے مکین کی مادہ تاریخ وفات ان کے نام ’مرزا محمد فاخر‘ کی مناسبت سے نکالی ہے جو 1221ھ نکلتی ہے،ساتھ ہی دن اور وقت بھی لکھا ہے:
’’بترقیم تاریخ سال انتقال ارشاد پناھی کہ روزجمعہ نیم شب بعد تحریر این اوراق بتاریخ بیست و یکم محرم الحرام 1221 ھزار و صد و بست و یک ھجری بہ وقوع آمدہ پردازم ۔‘‘9؎
انیس نے مکین کی وفات پر اپنے تذکرہ ’انیس الاحبا‘ میں تین قطعات تاریخ کہے ہیں جن میں سے ایک اس طرح ہے ؎
مکیں بود فخر زماں و زمیں
سوئے لامکاں زین مکان شد رواں
بسالش ندا آمد از آسمان
ز دنیا مکیں رفتہ بر لا مکان10؎
ترجمہ:’’مکین زمین و زمان کے لیے باعث فخر تھے،اس دنیا سے وہ لا مکاں کی طرف روانہ ہوئے،ان کے سال (تاریخ وفات)کے لیے آسمان سے یہ آواز آئی کہ مکین دنیا سے لا مکاں روانہ ہوئے۔‘‘
مرزا فاخر مکین ایک صاحب دیوان شاعرتھے۔ ان کے دیوان کا خطی نسخہ کتب خانہ خدابخش میں محفوظ ہے جو در ج ذیل شعر سے شروع ہوتا ہے ؎
عشق در دل چون بستر اندازد
درد بردرد دگر اندازد
بقول پروفیسر انوار احمد صاحب اس مخطوطہ دیوان کا آغاز تین قصائد کے ساتھ ہوتا ہے جو کہ’فراقیہ‘، ’مظہر الامان‘ اور’سلسلۃالاحبا‘ کے عنوان سے لکھے ہیں۔ آخر ی قصیدہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں مکین نے اپنے بیشتر شاگردوں کا ذکر کیا ہے۔اور اسی کے ساتھ مکین نے کچھوچھہ، فیض آباد اور الہ آبادکے اسفارکا سبب لکھا ہے اور شاہ عالم متخلص بہ آفتاب سے ملاقات کا واقعہ درج کیا ہے۔ اس مخطوطے کے اکتیسویں صفحے سے غزلیں شروع ہوتی ہیں جو تقریباً چار سو غزلوں پر مشتمل ہیں۔ان غزلوں کو الفبائی ترتیب سے لکھا گیا ہے،پہلی غزل کا مطلع مندرجہ ذیل شعر سے شروع ہوتا ہے ؎
اگر پروائے عقبیٰ داری و اندیشۂ مولا
الایا ایھا المشغول فی الدنیا دعی الدنیا
اس کے بعد فیضی کی بیت کی تقلید میں ایک ترجیع بند لکھا جس کا پہلا بند درج ذیل ہے ؎
رفتی و چشم تر نہ رفتی
ازخاطر و از نظر نہ رفتی
رفتی و مرا خبر نہ کردی
بر بیکسیم نظر نہ کردی
اس کے بعد حافظ،نظیری اور حزیں کی غزلوں کی تقلید میں مخمسات لکھے گئے ہیں،حافظ کی تقلید میں جو مخمس لکھی گئی ہے اس کا آغاز اس طرح ہے ؎
عمری بہ ناز و نعمت خوش بود وقت مارا
امروز در دو محنت آوردہ صد بلا را
ازمن بدل دعای جان و دل شدارا
دل می رود زد ستم صاحب دلان خدارا
درداکہ را ز پنہاں خواہد شد آشکار
اس دیوان میں چار چھوٹی چھوٹی مثنویاں ہیں اور یہ دیوان رباعیات پر اختتام پذیر ہوتا ہے،جن کی تعداد اسّی سے بھی زیادہ ہیں۔بھگوان داس ہندی نے اس دیوان کو بارہ ہزار اشعار پر مشتمل بتایا ہے وہ لکھتے ہیں: ’’دیوان بلاغت ترجمان قریب دوازدہ ہزار بیت خواہد بود‘‘۔11؎ہ شاعری میں اعلیٰ صلاحیت رکھتے تھے۔ مثال کے طور پر مکین کے چند غزلیہ اشعار پیش کیے جاتے ہیں ؎
از من گریزد عالمی دارم عجب درد و غمی
ہر کس کہ با من یکدمی بنشست محزون کردمش
مکین کہتے ہیں کہ میرے درد و غم کا عجیب عالم ہے کہ ہر شخص مجھ سے بھاگتا ہے اور جو شخص بھی میرے نزدیک آتا ہے وہ بھی میرے غم کو دیکھ کر غمگین ہو جاتا ہے اس شعر میں مکین نے دو باتوں کاذکر اہمیت کے ساتھ کیا ہے ایک تو دردو الم اور دوسری تنہائی یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں کیونکہ جہاں درد و الم ہوتا ہے وہاں انسان تنہائی پسند ہو جاتا ہے لیکن مکین کے کہنے کا انداز منفردہے انھوںنے درد و الم کو براہ راست اپنی تنہائی کا سبب نہیں بتایا ہے بلکہ دردو الم کی کثرت و شدت کو اس کاسبب گردانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسی کی وجہ سے میرا محبوب قریب نہیں آتا ہے جس سے درد میںمزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی مضمون کا دوسرا شعر دیکھیے ؎
ای دلبران داد از شما افغان و فریاد از شما
دل شد غم آباد از شما یاد شما کردمش
اس شعر میں مکین کہتے ہیں کہ اے میرے محبوب یہ گریہ و زاری اور آہ و فغان جو تم دیکھ رہے ہوں وہ سب تمہارے دیے ہوئے ہیں جب بھی تمہاری یاد آتی ہے دل غم سے آباد ہو جاتا ہے۔اسی طرح تیسرا شعر دیکھیے یہ بھی درد وغم کی شدت بیان کرتا ہے ؎
در ھجر آن پیمان شکن با این ھجوم گریہ من
ھر جا کہ بگرفتم وطن از اشک جیحون کرد مش
اس عہد شکن،وفا نہ کرنے والے محبوب کی جدائی میں میں اتنا روتا ہوں کہ جس سر زمیں کو بھی اپنا وطن بنائوں اسے اپنے آنسوئوں سے دریا بنا دیتا ہوں شاعر محبوب کی جدائی میں در بدر مارا مارا پھرتا ہے وہ جہاں بھی سکون کی تلاش میں جاتا ہے اسے سکون تو نہیں ملتا البتہ وہ سر زمیں آنسوئو ںسے دریا بن جاتی ہے۔در اصل مکین نے یہاں استعارے کا استعمال کرتے ہوئے اپنے غم کی شدت کو بیان کیا ہے۔مکین اپنے اشعار میں شعری وسائل کا بخوبی استعمال کرتے ہیں،تشبیہ،استعارہ،کنایہ اور دیگر صنائع شعری کے ذریعے اپنے ما فی الضمیر کو ادا کرتے ہیںوہ اپنے اشعار میں کوئی بھی بات براہ راست کہنے کے بجائے شعری وسائل کے توسط سے کہتے ہیں۔مثلاًیہ شعر دیکھیے ؎
ما سر بر کوی تو انداختہ رفتیم
خود را سبک از بارگران ساختہ رفتیم
مکین کہتے ہیں کہ ہم تیرے کوچے میں اپنے غم کے بوجھ کو ہلکا کرنے چلے آئے۔تیرا دیدار ہو یا نہ ہو تمھاری گلی کی آمد و رفت ہی میرے بوجھ کو ہلکا کر دیتی ہے۔یعنی محبوب کی گلیاں بھی شاعر کے مجروح دل کے لیے مرہم کا کام کرتی ہیں(مجنوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ لیلیٰ کی گلی سے آنے والے کتّے سے بھی وہ اسی لیے پیار کرتا تھا کی وہ لیلیٰ کی گلی سے آیا تھا )اسی مفہوم کو مکین نے دوسرے انداز میں اپنے شعر میںبیان کیا ہے وہ محبوب سے محبت اور اپنے تعلق کو دیکھیے کس خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ؎
مردم اما آرزوی وصل یار از دل نرفت
گل ز خاک من دمید و خار خار ازدل نرفت
میں مر گیا ہوں اس کے باوجود ابھی وصل یار کی آرزو دل میں باقی ہے۔اگر چہ میری ہستی مٹ کر خاک ہو گئی ہے اور اس خاک سے پھول اگنے لگے ہیں لیکن پھر بھی وصل کی چاہت کا کانٹا اب بھی میرے دل میں چبھا ہوا ہے۔مجموعی طور پر جب مکین کی غزلیات کامحاکمہ کیا جاتا ہے تو بات واضح ہوتی ہے کہ وہ غزل کے بہت اچھے شاعر تھے۔وہ عشق،ہجر اور وصل جیسے غزلیہ مضامین کو اس کی لفظیات اور اس کے تلازمات کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔ان کے یہاں عشق و محبت اور وصل و ہجر کے مضامین نہ صرف کثرت سے پائے جاتے ہیں بلکہ انھیں مختلف انداز میں بیان کیا ہے اور اچھا شاعر وہی ہوتا ہے جو ایک ہی مضمون کو سو انداز میں باندھے۔میر انیس نے کہا ہے ؎
گلدستۂ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں
ایک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں
شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ مکین ایک اچھے نثر نگار بھی تھے،مکین کی نثرنگار ی و انشا نگاری کاتجزیہ ان کے خطوط کے آئینے میں بہتر ہوگا۔ ان کی نثری یادگار ’گلزارِ جعفری‘ہے جو کہ ان کے ذاتی خطوط کا مجموعہ ہے جو انھوں نے اپنے خاص اعزا و اقارب، شاگردوں اوربادشاہِ وقت کو وقتاًو فوقتاًلکھے تھے۔ اس مجموعے کی تالیف مکین کے معروف تلمیذ جعفر خان راغب نے1190ھ میں کی تھی۔بقول پروفیسر انوار احمد صاحب اس کا ایک مخطوطہ شاد عظیم آبادی مرحوم کے ذاتی کتب خانے میںتھا۔ 1938 میں پٹنہ کالج پٹنہ میں منعقد شعبۂ تاریخ کی ادبی نمائش میں پروفیسر سید حسن عسکری نے نمائش کی۔اب یہ مخطوطہ پروفیسر سید فیاض الدین حیدر کی ملکیت ہے۔ ’گلزار جعفری ‘کا ایک اور مخطوطہ نیشنل لائبریری کلکتہ کے سرجادو ناتھ سرکار کے کلیکشن میں موجود ہے۔ان خطوط کے ذریعے مکین کے کردار اور ان کی ذہنی کیفیتوں کاپتہ چلتا ہے۔
مکین کی اہمیت کے پیش نظر انیس نے اپنے تذکرہ ’انیس الاحبا‘ میں ایک پورا باب’فتح الباب‘کے نام سے قائم کیا ہے۔ انیس کی نظر میں استاد کی اتنی اہمیت وعظمت تھی کہ کہیں بھی ان کا نام فاخر مکین لکھنے کے بجائے’ارشاد پناہی‘ سے موسوم کیا ہے، جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فاخر مکین کے شاگردوں کی نظر میں ان کی کس قدر اہمیت تھی۔انیس نے اپنے استاد کے احوال و کوائف اور ان کے کلام کو اپنے تذکرے میںاس طرح شامل کیا ہے جس کے مطالعے سے ایک ایسی شخصیت کا خاکہ ہماری نظر کے سامنے آتا ہے جس نے بغیر کسی تفریق مذہب و ملت کے ہر چراغ کو اپنے علم سے روشن کیا۔ مکین کے شاگردوں میں ایک معتد بہ تعدا د غیر مسلم شعرا کی ہے جنھوںنے ان سے کسب فیض کیا۔جن میں موہن لعل انیس، سرب سکھ دیوانہ،رائے ٹیکارام تسلی ،بھگوان داس ہندی،سیتل داس مختار وغیرہ کی ادبی اہمیت مسلم ہے۔
موہن لعل انیس اودھ کی سر زمین میں سریواستو کائستھ گھرانے میں پیدا ہوئے ان کی تاریخ پیدائش ہنوز تشنہ تحقیق ہے لیکن مصحفی نے اپنے تذکرہ ’ریاض الفصحا‘میں لکھا ہے کہ :’’عمرش بہ ہفتاد رسیدہ و مز ئہ شعرش نہ گردیدہ‘‘۔12؎ مصحفی کی اس تحریر سے پتا چلتا ہے کہ جب وہ تذکرہ لکھ رہے تھے اس وقت انیس کی عمر70 سال تھی مصحفی نے اپنا یہ تذکرہ 1221ھ۔1236ھ کے ما بین مکمل کیا تھا لہٰذایہ اندازہ لگایا جا تاہے کہ انیس کی پیدائش 1151ھ سے 1166ھ کے درمیان ہوئی ہوگی۔ــ انیس کے والد کا نام کنورسین اور دادا کا نام اودھی راج تھا۔انیس کا تعلق پرگنہ گوپا مئو کے قانون گو تولارام سے بھی تھا۔ انیس کاتعلق ایک متوسط خاندان سے تھا جس کا ذکر انھوں نے اپنے تذکرہ ’انیس الاحبا‘‘ میںکیا ہے وہ لکھتے ہیں: ’’نہ از مرزایان ایران است، نہ ازرایان ہندوستان، ہندوی از متوسطان خطہ لکھنؤ است‘‘13؎ انیس کے دادا اودھی راج ملازمت پیشہ تھے، وہ اوائل عمر سے ہی اپنی ملازمت کے سلسلے میں لکھنؤمیں مقیم ہو گئے تھے اور انیس یہیں پیدا ہوئے اس سلسلے میں بھگوان داس ہندی لکھتے ہیں :’’ خودش در لکھنؤ تولد و نشوونما یافتہ‘‘۔14؎ پروفیسر نبی ہادی بھی اپنی کتاب Dictionary of Indo-Persian literatur میں لکھتے ہیں:
“Anees lived in Lucknow and remained engeged in Literary activities till the advanced age of ninty”. ؎ 15
مصحفی بھی اپنے تذکرہ ’عقد ثریا‘ میں انیس کا ذکر اس طرح کرتے ہیں ’’موہن لعل انیس قوم کائستھ بزرگانش قانون گوی پرگنہ گوپا مؤ سرکار خیرآباد بود ہ اند و خود نوکری پیشہ است‘‘16؎ خود انیس نے اپنی کتاب ’انیس الاحبا‘میں اپنے حسب و نسب کی تفصیلات بیان کی ہیں۔نظامی بدایونی بھی اپنی کتاب ’قاموس المشاہیر ‘ میں لکھتے ہیں کہ’’ انیس راے تولا رام قانون گوی گوپا مئو کا بیٹا تھا‘‘17؎ ماہ نامہ معارف اعظم گڑھ اکتوبر 1918 کے شمارے میں سید سلیمان ندوی نے اپنے مقالے میں جو ’ہندوفارسی شعرا‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا میں اس رائے کے مؤید ہیں۔ تینوں کے انیس کی بابت متفق ہیں لیکن اس کے بر عکس تذکرہ ’سفینہ ٔ ہندی‘ کے مصنف بھگوان داس ہندی اپنے تذکرے میں صاف طور پر لکھتے ہیں کہ’’موہن لعل انیس کنور سین کے بیٹے تھے‘‘۔بھگوان داس ہندی ایک تو انیس کے ہمعصر تھے اور دوسرے یہ کہ وہ ایک ہی استاد یعنی مرزا فاخر مکین کے شاگرد بھی تھے اس لیے ہندی کی بات زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔وہ لکھتے ہیں:
’’ موہن لعل انیس تخلص ولد کنور سین از فرزندان تولارام قانون گوی پرگنہ گوپا مئو من مضافات خیراباد است،جد کلانش اودے راج از وطن بہ لکھنؤ آمدہ،اقامت اختیار نمودہ،بعلاقۂ روزگار در سرکار اعزہ این دیار بسر می برد۔‘‘18؎
پروفیسر انوار ا حمد نے ’انیس الاحبا‘ کی تدوین 1996 میںکی جس میں انھوںنے بہت کارآمد تعلیقات پیش کی ہیں۔وہ موہن لعل انیس کے بارے میں لکھتے ہیں’’ از فرزندان تولارام است ‘‘۔یعنی وہ رائے تولا رام کے اخلاف میںسے تھے۔ لفظ’’ فرزندان ‘‘کا استعمال یہاں پر اخلاف کے معنی میں ہوا ہے۔اگر تولا رام موہن لعل انیس کے والد ہوتے تو انیس واضح طور پر اس حقیقت کا اظہار محض تولارام کے نام کے ساتھ بن یا ولد جوڑ کر کرتے۔‘‘19؎
انیس نے ابتدائی فارسی کی تعلیم کریم داد خاں رونق سے حاصل کی۔مرزا فاخر مکین مشاعروں میں ہمیشہ کریم داد خاں رونق کو ’رونق بزم شعرا‘ سے مخاطب کرتے تھے۔اس عظیم ادبی شخصیت کے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے انیس لکھتے ہیں:’’راقم دو دفتر انشاء ابوالفضل و نصف ’سکندر نامہ‘ نیز حل و سند از ان علامہ کردہ و در عمر ہفتاد سال بجوار رحمت کرد گار پیوست۔‘‘20؎ اس کے بعد انھوں نے شاعری اورعروض و قافیے کی تعلیم کے لیے مرزا فاخر مکین کی جانب رخ کیا۔ چند دنوں میں ہی اپنی محنت اور لگن کی وجہ سے ان کے قریب ترین شاگردوں میں شمار ہونے لگے۔ ا نہوںنے اپنے دیوان میںمکین کا ذکر کچھ اس طرح کیا ہے ؎
بہ میدان سخنگویان انیساصلاًمترس از کس
بہ شعر اوستاد تو چون حضرت مرزا مکین باشد21؎
ترجمہ:’’سخنوروں کے درمیان انیس کسی سے ڈرتا نہیں ہے (کیونکہ )تمہارے استاد(یعنی انیس)کے اشعار فاخر مکین کے جیسے ہیں۔‘‘
انیس کا ایک بیٹا بھی تھا جس کا نام رام سہاے اور جلیس تخلص تھا،اس کا ذکر مقالے میں آگے ہوگا۔
انیس نے اپنی شعر گوئی کے آغاز میں خستہ تخلص اختیار کیا پھر جب وہ شتاب رائے کے عشق میں مبتلا ہو ئے تو بیتاب تخلص کر لیا۔ شتاب رائے خود شاعر تھے اور ان کاتخلص عزیز تھا۔انیس نے شتاب رائے کی ذہانت اور جمال کی خوب تعریف کی ہے۔ انیس کی شتاب رائے سے محبت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوںنے ایک ایسی غزل لکھ ڈالی جس کی پوری ردیف ہی شتاب رائے ہے۔اس غزل کے دو شعردیکھیے ؎
ہر سو شتافتم بہوای شتاب رای
سر گشتہ ام چو باد برای شتاب رای
از ہوش رفت ہرکہ بدیدست یک نظر
چشمان مست ہوش ربای شتا رای
ترجمہ:’’میں شتاب رائے کے عشق میں ہر طرف دوڑتا پھرتا ہوں،شتاب رائے کی یاد میں پاگل ہو گیا ہوں شتاب رائے کی مست آنکھیں ایسی ہوش اڑانے والی ہیں کہ اس کو ایک نظر دیکھنے والا ہوش (و حواس )سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔‘‘
انیس نے متعدد فارسی اساتذ ہ مثلا شیخ علی حزیں،شمس الدین فقیر اورنور العین واقف سے ملاقات کی تھی۔ انیس حزیں کی خدمت میں بھی رہے تھے اور حزیں کے مشورے سے ہی انھوںنے اپنا تخلص بیتاب سے انیس کر لیا تھا اور یہی تخلص ان کے تمام کلام میں ملتا ہے۔
انیس ایک عظیم شاعراور ادیب بھی تھے۔ انھوں نے دو گراں قدر تصنیفات اپنی یادگار چھوڑی ہیں۔ پہلی تخلیق ان کادیوان ہے۔ جو غزلیات،مخمسات،رباعیات،ترجیع بند اور قطعات پر مشتمل ہے۔ انیس کی شاعری کا اصل مرکز عشق و عاشقی ہے،وہ اس مضمون کو بہت پر اثراور خاص انداز میں باندھتے ہیں۔ انیس نے اپنی غزلوں میں عشق و محبت کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا بھی ذکر کیا ہے۔ انھوںنے اپنی شاعری میں خدا کی صفات کو بھی بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ خدا اول بھی ہے ا ٓخر بھی، وہی ظاہر اور وہی باطن بھی ہے۔انیس کی رباعیوںسے ان کی شاعرانہ ہنرمندی کا پتہ ملتا ہے،دیوان انیس میں 66 رباعیاںبھی شامل ہیں۔انیس نے اپنے اشعار میں پختگی اور چابک دستی کا ثبوت دیا ہے۔ ان کی زبان نہایت سادہ،سلیس اور سہل ہے اس کے با وجود ان کے کلام میں فنی پختگی بدرجہ اتم موجود ہے۔
انیس نے ایک اہم تذکرہ ’انیس الاحبا‘ تحریر کیا یہ تذکرہ نواب آصف الدولہ کے وزیر مالیات راجہ ٹکیت رائے کی فرمائش پر شیخ علی حزین کے تذکرہ’تذکرۃ المعاصرین‘ کے جواب میں لکھا ہے۔ اس تذکرے میں انیس نے اپنے معاصرین خصوصاً اپنے استاد مرزا فاخر مکین اور ان کے 93 تلامذہ اور بعض شاگردوں کے حالات اور نمونۂ کلام پیش کیے ہیں۔
تذکرہ انیس الاحبا میں شامل مرزا فاخر مکین کے چند ہندو شاگرد
راے سرب سکھ دیوانہ بشن ناتھ کے بیٹے اورمہاراجہ نراین مہندربہادر کے بھانجے اور نواب شجاع الدولہ کے دیوان آتمارام کے نواسے تھے۔انیس لکھتے ہیں:’’ولد بشن ناتھ عمہ زادہ مہاراجہ نراین مہندر بہادر و نواسئہ دیوان آتمارام نواب وزیرالملک شجاع الدولہ بہادر علیہ الغفران۔22؎ دیوانہ ہندو کھتری کایستھ قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے اجدادپنجاب سے تھے اور یہ شاہجہاں آباد (موجودہ دہلی) میں پیدا ہوئے، لیکن مظفر حسین صبا اپنے تذکرے ’روز روشن ‘میں لکھتے ہیں کہ دیوانہ اصل میں لاہور کے ہیں ایک مدت تک دہلی میں مقیم رہے پھر دہلی کی تباہی کے بعد شاہ عالم ثانی (1760-1806) کے عہد میں لکھنؤمیں مقیم ہوئے۔23؎ دیوانہ لکھنؤکے ایک معروف شاعر تھے، وہ فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں طبع آزمائی کرتے تھے۔مصحفی لکھتے ہیں کہ دیوانہ جب دہلی میں تھے تو وہاں وہ خواجہ میر درد اور دوسری ادبی شخصیتوں سے قربت رکھتے تھے۔’سفینۂ ہندی‘ کے مطابق دیوانہ نے اردوکا دیوان بھی مرتب کیا تھا۔ چنانچہ ریختہ ؍اردومیں ان کے متعدد تلامذہ تھے۔جعفر علی حسرت اور میر حیدر علی حیراں ان کے تلامذہ میں شامل تھے۔جب فاخر مکین دہلی سے لکھنؤ آئے تو دیوانہ ان کے حلقئہ تلامذہ میں شامل ہو گئے،اور ان سے فارسی اشعار میں اصلاح لینے لگے۔انیس لکھتے ہیں:
’’وقتیکہ جناب ارشاد پناھی از دارالخلافت رونق بخش،لکھنؤ گردیدند و بقدوم فیض لزوم این سرزمین رامرتبت آسمان بخشیدند،در سلک تلامذہ ارشاد پناھی منسلک گردانیدہ و ہمہ کلام خود را کہ زیادہ از بیست ہزار بیت گفتہ بودند رفتہ رفتہ با اصلاح رسانیدہ‘‘۔24؎
ترجمہ:’’جس وقت ارشاد پناہی (فاخر مکین)نے لکھنؤ کو رونق بخشی ان برکت بھرے قدموں نے سرزمین کو آسمان کا رتبہ بخش دیا (دیوانہ)ارشاد پناہی کے شاگردوں کے زمرے میں ہو گئے ان کے اشعار کی تعداد بیس ہزار سے زیادہ تھی جن کی رفتہ رفتہ اصلاح ہوئی۔‘‘
لیکن کچھ دنوں بعد یہ رشتہ منقطع ہو گیااور پھر دیوانہ بغیر کسی سے اصلاح کے اشعار کہنے لگے تھے۔ دیوانہ کا شاعر انہ ذوق اس درجہ کا تھا کہ وہ نقش علی نقش کے قول کے مطابق روزانہ دو تین غزلیں کہتے تھے۔ نقش علی نقش لکھتے ہیںکہ وہ دیوانہ سے بہت ہی قریب تھے اور انھیں ہمیشہ’پہلوان الشعرا‘ سے خطاب کیا کرتے تھے۔ ’سفینۂ ہندی‘ کے مصنف لکھتے ہیں کہ انھوںنے ایک لاکھ اشعار لکھے۔فارسی میں انھوںنے چار دیوان مرتب کیے تھے۔ان کے پہلے دیوان کا عنوان تھا ’دردیہ‘ دوسرے کا ’عشقیہ‘ اور تیسرا دیوان انھوںنے شرف جہاں قزوینی کی تقلید میں مرتب کیا تھا،اس لیے انھوںنے اس کا نام ’شرفیہ‘ رکھا تھا۔دیوانہ نے اپنا چوتھا دیوان شیخ علی حزیں کے دیوان کی تقلید میں لکھا تھا اور وہ اپنے پانچویں دیوان کی تیاری میں مصروف تھے کہ اچانک ان کی وفات ہو گئی۔دیوانہ کی تاریخ وفات کے سلسلے میں تذکرہ نگاروں کے درمیان اختلاف ہے ’قاموس المشاہیر‘کے مصنف نظامی بدایونی لکھتے ہیں کہ دیوانہ کی وفات 1206ھ کے مطابق1791 میں ہوئی تھی لیکن بھگوان داس ہندی نے دیوانہ کی وفات پر مندرجہ ذیل قطعہ تاریخ لکھا تھا ؎
بہ چہار شنبئہ ماہ صیام نوزدہم
برفت رائے سرب سکھ سوئے بہشت بریں
چوںبود او بہ فن شعر و شاعری ہوشیار
شدش تخلص دیوانہ اختیار از ین
بہشت یافتہ تاریخ رحلتش باشد
دلیل معرفت او ہمیں بود بہ یقین25؎
اس قطعہ تاریخ کا فقرہ ’بہشت یافتہ‘ سے1203ھ نکلتاہے جو بالکل صحیح معلوم ہوتا ہے۔احمد علی ہاشمی سندیلوی نے اپنے تذکرہ ’مخزن الغرائب‘ میں دیوانہ کی شعری خصوصیات پہ تبصرہ کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ دیوانہ فارسی محاورات کے استعمال میں اکثر غلطیاں کیا کرتے تھے لیکن وہ یہ بھی لکھتے ہیںکہ ہندوستانی فارسی شعرا کے درمیان فارسی محاورات میں سہو و خطا عام طور پر دیکھنے کو ملتا ہے۔26؎ بھگوان داس ہندی نے لکھا ہے کہ مثنوی ’رام چند رپان فروش‘ جسے شمس الدین فقیر نے منظوم کیا تھا،اسے دوبارہ دیوانہ نے بھی نظم کیا تھا۔نمونہ کلام ؎
دو لخت کرد دلم را بسینہ تیغ فراق
یکی بدیدہ رسیدست و در کنار یکی
ترجمہ:’’محبوب کے فراق کے تیغ نے سینے میں میرے دل کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ایک حصہ آنکھوں تک پہنچتا ہے اور دوسرا گود میں ہے۔‘‘
پنجاب راے نام اور ان کا تخلص والی تھا اور ہندو اگروال قوم سے تھے۔ان کے اجداد کا تعلق دہلی سے تھا۔ والی بھی دہلی میں پیدا ہوئے لیکن جب وہ صرف ایک سال کے تھے اپنے والد کے ساتھ لکھنؤ آگئے اور یہیں ان کی پرورش و پرداخت ہوئی۔ رسمی تعلیم حاصل کرنے کے بعدان کا رجحان شعر و شاعری کی طرف ہوا۔پھر والی نے مرزا محمد فاخر مکین کی شاگردی اختیار کی اور ان سے اپنی شاعری پر اصلاح لینے لگے۔ والی کو نواب آصف الدولہ کے عہد میں راجہ پٹرچند کے توسل سے ’راے‘ کا خطاب حاصل ہوا اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزاری۔ بھگوان داس لکھتے ہیں :در عہد نواب آصف الدولہ مرحوم بوساطت راجہ پٹرچند خطاب رای یافتہ،بعزت و وقار بسر می بردند۔27؎دالی نے ایک دیوان بھی ترتیب دیا تھا۔ان کا کلام فنی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے خاص طور سے فصاحت و بلاغت کا بہترین نمونہ ہے ؎
گر چہ امروز چون آن شوخ جفاکاری نیست
پیش من بہتر از و ہیچ وفاداری نیست
غیر او در ہمہ افاق مرا یاری نیست
با چنین حسن کہ او یافتہ دلداری نیست28؎
ترجمہ:’’ اگر چہ آج تم سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے (مکین) میرے سامنے اس سے بہتر کوئی وفادار نہیں ہے،اس کے علاوہ دنیا میں میر ا کوئی یار نہیں لیکن ایسے حسن کے باوجود اس کو کوئی عاشق میسر نہیں ہوا۔‘‘
لالہ سیتل داس کا تخلص مختار تھا۔وہ کایستھ سکسینہ قوم سے تھے۔چونکہ مختار کے چچا جنگ راے نواب آصف الدولہ کی سرکار میں راجہ پٹرچند کے ملازم تھے۔ انھوںنے مختار کو اچھی تعلیم کی غرض سے اپنے آبائی وطن سے لکھنؤ بلالیا۔ مروجہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ شعر و شاعری کی طرف مائل ہوئے پھر انھوںنے اپنے کلام میں اصلاح کے لیے مرزا محمد فاخر مکین کی شاگردی اختیار کر لی،انیس لکھتے ہیں’’در لکھنوملازمت اکسیر خاصیت ارشاد پناھی حاصل نمودہ و مشغول تحصیل لوازم شعر و شاعری بودہ و کلام خود را بہ اصلاح رسانیدہ‘‘۔29؎ ابتدا میں انھوںنے’ تابع‘تخلص اختیار کیا لیکن پھر نواب آصف الدولہ کے کہنے پر’مختار‘ تخلص کر لیا۔مختار کی وفات لکھنؤمیں 1107ھ مطابق 1783 میں ہوئی۔نمونہ کلا م ؎
دل خون شد و تا کی دھد دلدار آزار این چنین
یارب چہ سازم چوں کنم دل آنچنان یار این چنین
ترجمہ:’’محبوب کے ظلم و ستم سے دل خون ہو گیا ہے محبوب کب تک اس طرح سے تکلیف دیتا رہے گا۔یا خدا میں کیا کروں دل ایسا ہے اور محبوب اس طرح کا رویہ اپنائے ہے۔‘‘
چشم سیاھش پر فسوں دل می طپد در خاک و خون
صیاد بیرحم آنچنان صید دل افگار این چنین30؎
ترجمہ:’’اس کی جادو بھری کالی کالی آنکھوںکی وجہ سے دل خون اور خاک میں تڑپتا ہے۔بے رحم شکاری ایسی ظالمانہ خو رکھتا ہے اور زخمی دل کی یہ کیفیت ہے۔‘‘
راے ٹیکارام متخلص بہ تسلی۔ان کے والد کا نام گوپال راے تھا جو نواب آصف الدولہ کے پاس بخشی گری کرتے تھے۔ تسلی کے دادا راجہ خوشحال رائے سر فراز الدولہ میرزا حسن رضا خان بہادرکے نائب تھے۔31؎ان کا اصل وطن اٹاوہ کے پاس قصبہ ’کرہل‘ تھا، لیکن تسلی کی پیدائش لکھنؤ میں ہوئی۔یہیں پر ان کی تعلیم و تربیت ہوئی۔فطری طور پر یہ نہایت شریف اور با اخلاق انسان تھے۔ان کو شعر و سخن سے خصوصی لگاؤ تھا اکثر وہ ادبی محفلوں میں جاتے اور اپنے اشعار سناتے تھے۔انیس ’انیس الاحبا‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’فاخر مکین اگر چہ اپنے احباب و تلامذہ کے گھر نہیں جاتے تھے لیکن وہ تسلی کے گھر دسہرہ، دیوالی، ہولی اور بسنت جیسے تہواروں کے موقع پر ضرور جاتے تھے‘‘۔32؎ تسلی نے دو دیوان مرتب کیے تھے،ایک فارسی میں دوسرا ریختہ میں۔تسلی فارسی اور ریختہ گو شعرا کے کلام کے انتخاب کا بھی شوق رکھتے تھے،مصحفی کہتے ہیں کہ تسلی کے اصرار پر انھوں نے خود اپنے ریختہ اور فارسی اشعار کے دو دیوان تسلی کو انتخاب کے لیے دیے تھے۔ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے چنانچہ اردومیں مصحفی اور فارسی کلام میں استاد مرزا فاخر مکین سے اصلاح لی۔تسلی1863 میں اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔نمونہ کلام ؎
منت کش سحاب نیم اندرین چمن
ازآب دیدہ تازہ شود گلستان ما
ترجمہ: ’’اس چمن (کی آبیاری کے لیے)میں بادلوں کے احسان کا منتظر نہیں ہوں (ہجر میں )آنکھوں سے (بہنے والے)پانی (یعنی آنسوؤں ) سے میرا چمن ہرا بھرا ہے)‘‘
رام بخش نام اور تخلص’ مطیع‘ تھا۔مطیع کایستھ قوم سے تھے۔ان کے والد کا نام بنسی گوپال تھا۔ مطیع کے اجداد قنوج کے تھے جو وہاںصوبہ دار کی حیثیت رکھتے تھے۔پھر کچھ دنوں بعد وہ لوگ لکھنؤ منتقل ہو گئے اور میر قدرت علی خاں رسالہ دار کے یہاں دیوانی کے عہدے پر فائز ہوئے۔33؎ ان کے بعد مطیع کے والد نے یہ عہدہ سنبھالا۔مطیع لکھنؤ میں ہی پیدا ہوئے اور اپنے والد سے ہی تعلیم حاصل کی اور اسی دوران انھوںنے قدما کے دیوان کا بھی مطالعہ کیا۔اس کے بعدمرزا فاخر مکین کے تلامذہ میں شامل ہو گئے اور انھوں نے شروع میں روزی تخلص اختیار کیا اور ایک قطعہ فاخر مکین کی نذر کرتے ہوئے ایک درخواست کی ؎
ای کہ از آفتاب عالم تاب
رای والای تست روشن تر
گربہ بخشی تخلص ز کرم
نام ور می شوم من احقر
ترجمہ: ’’اے (استاد)آپ کی رائے دنیا کو روشن کرنے والے سورج سے بھی زیادہ روشن ہے۔اگر اپنے کر م سے مجھے (کوئی)تخلص عطا کر دیں میں حقیر مشہور ہو جاؤں)‘‘
اس کے جواب میں استاد نے یہ ارشادفرمایا ؎
از بس بہ ا طاعت و نیاز آمدہ ای
زیبد بتوگر خطاب بخشیم مطیع34؎
ترجمہ: ’’تونے دنیا میں بہت اطاعت اور نیاز مندی کی ہے اس لیے یہ زیب دیتا ہے کہ ہم تجھ کو’مطیع‘ خطاب عطا کریں(یہاں خطاب سے تخلص مراد ہے)۔‘‘
اس بار رام بخش نے مطیع تخلص اختیار کر لیا۔زندگی کے آخری ایام میںان کی خواہش تھی کہ وہ حیدری تخلص اختیار کریں لیکن اس سے پہلے ہی ان کا استسقا کی بیماری سے انتقال ہو گیا۔ان کے چچا بزرگوار نے لفظ ’لالہ رام بخش‘ سے تاریخ وفات 1209 ھ نکالی ہے۔مطیع نے فارسی میں عمدہ اور اچھے اشعار کہے ہیں ؎
نیست ممکن کہ بود گلبدنی بہتر ازین
گل نیاید بنظر در چمنی بہتر از ین
ترجمہ: ’’اس سے بڑھ کر کوئی گلبدن ممکن نہیں ہے اور چمن میں اس سے زیادہ خوبصورت پھول نظر نہیں آتا ہے)۔‘‘
بھگوان داس ہندی بارہویں صدی ہجری میں فارسی زبان وادب کے ایک معروف شاعر اور ادیب تھے وہ پہلے بسمل تخلص کرتے تھے اور بعد میں انھوں نے ہندی تخلص اختیار کیا۔ان کی پیدائش 1162 ھ/ 1749میں صدرپور نامی گاؤں میں ہوئی جہاں ان کے نانا کاگھر واقع تھا۔ان کے نانا لالہ غلام رائے ایک قانون داں تھے۔ہندی کے والد کا نام دلپت داس بن ہربنس رائے تھا۔ان کے خاندان کے اکثر افراد ملازمت پیشہ تھے، ان کا تعلق کائستھ سریواستو قوم سے تھا۔ یہ اصلاً اتر پردیش کے شہر کالپی کے رہنے والے تھے ان کے اجداد میں سے لال من،کالپی سے اترپردیش کے شہر سوند منتقل ہوگئے اور پھر وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔لال من نے سوندمیں ایک خوبصورت عمارت بنوائی جس میں وہ خوش وخرم زندگی کے ایام گزارتے تھے۔ہندی دو سال نانا کے گھر رہنے کے بعد لکھنؤ آئے، جہاں کچھ دنوں بعد ان کی والدہ کا انتقال ہو گیااور ان کے والد نے ان کی پرورش بہت محبت اور شفقت سے کی۔ہندی نے اپنے حالات ’سفینۂ ہندی‘ میں مفصل طور پر درج کیے ہیں۔35؎ ہندی نے ابتدائی تعلیم اپنے خاندانی استاد حق دار خان سے حاصل کی جو افغانستان سے تعلق رکھتے تھے،اس کے بعد جب اپنی عمر کے نو سال کے مرحلے پر پہنچے تو مزید حصول تعلیم کے لیے ان کو اپنے وقت کے فاضل استاد مولوی یوسف سہارنپوری کے حوالے کردیا گیا جہاں انھوںں نے چار سال تک ان کی خدمت میں رہ کر علمی استفادہ کیا۔ ہندی نے فارسی زبان بھی سیکھی اس کے علاوہ اخلاق، صرف اور نحو کی کتابیں بھی انھیںسے پڑھیں، رسمی تعلیم کے حصول کے بعد عبد القادر بیدل اور محمد علی حزین لاہیجی وغیرہ جیسے بزرگ شاعروں کے دواوین،تاریخی کتابوں اور فارسی شعرا کے تذکروں کا مطالعہ شروع کیا اور ساتھ ہی سرب سکھ دیوانہ کی تربیت میں دو تین سال شعر گوئی کی مشق کی۔انیس لکھتے ہیں:در سہ سال برای صاحب سرب سکھ دیوانہ کلام خود نمودہ‘‘ ۔36؎ ابتدا میںبھگوان داس نے اپنا تخلص بسمل اختیار کیا لیکن جب مرزا فاخر مکین سے فیض حاصل کرنے کی غرض سے ان کی شاگردی اختیار کی تو مکین کے کہنے پر انھوں نے اپنا تخلص ہندی رکھ لیا۔ جیسا کہ انھوں نے خود اس کا ذکراپنے تذکر ہ ’سفینۂ ہندی‘ اور’ حدیقۂ ہندی‘ میں کیا ہے ؎
باعث فخر آسمان وزمین
عارف کامل اکمل شعرا
وصف او در دھان نمی گنجد
می گنجد بہ کوزہ ای دریا37؎
ترجمہ:’’آسمان و زمین کے لیے (ایسے)عارف کامل اور کامل ترین شاعر (یعنی فاخر مکین) باعث فخر ہیں۔ان کی تعریف زبان سے ادا نہیں ہو سکتی (جبکہ )دریا کوزہ میں سما سکتا ہے)۔‘‘
ہندی نے تین مثنویاں لکھیں جن میں پہلی’سلسلۃالمحبت‘ جو ’سلسلۃالذھب‘، دوسری’مظہر الانوار‘ نظامی کی ’مخزن الااسرار‘ اور تیسری ’بھاگوت مسمیٰ بہ مہرضیا‘، ’یوسف زلیخا‘ کے وزن پر لکھی ہیں۔اور دو دیوان ’شوقیہ‘ دوسر ا’ذوقیہ‘ جوقصائد،اور ترجیع بند کی ہئیت میں ترتیب دیے ہیں۔ ہندی کے دیوان میں غزل، قصائد،اور رباعیاں شامل ہیں۔ہندی نے نثر میں دو نہایت قیمتی تذکرے لکھے جن میں پہلا تذکرہ ’حدیقہ ہندی‘ہے جس میں تمام ماضی اور حال کے فارسی گو شعرا کا ذکر کیا ہے۔اس کے بعد دوسرا تذکرہ ’سفینہ ہندی‘ تالیف کیا۔اس تذکرہ میں 1220ھ یعنی کہ 1805 تک کے تمام فارسی گو شعرا کا احاطہ کیا گیا ہے۔تاریخی نقطئہ نظر سے یہ تذکرہ اہمیت کا حامل ہے۔ہندی کے فارسی کلام کا نمونہ ؎
منجم طالعم چون دید در طفلی کشید آہی
کہ این بابا بہ عشق لیلی مجنون شود روزی38؎
ترجمہ: ’’بچپن میں جب منجم نے میرا طالع دیکھا تو ایک آہ کھینچی (اور یہ کہا)کہ ارے بابا یہ بچہ ایک دن لیلیٰ کے عشق میں مجنوں (ضرور)ہوگا)۔‘‘
رائے چنی لال قریب انوپ چند کے بیٹے تھے۔انوپ چند نواب منور خان کے دیوان تھے،ان کے چھوٹے بھائی دیا کشن تھے یہ کایستھ سکسینہ قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ان کا وطن شاہجہان آباد تھا اور محمد شاہ کے زمانے میں وہ لکھنؤ آ گئے۔چونکہ رائے دیا کشن راجہ پورن چند کے داماد تھے اور نواب آصف الدولہ کی حکومت میں اخبار نویسی کے عہدے پر فائز تھے اس لیے عوام میں ان کی بہت عزت تھی۔انیس لکھتے ہیں: رای دیا کشن’بواسطہ راجہ پورنچندخسر خود‘ کہ بہ کار اخبار در سرکار نواب آصف الدولہ بہادر عز امتیاز داشت رشد پیدا کرہ۔چنی لال قریب کی وفات مرگی کی بیماری کی وجہ سے ہوئی۔قریب بہت ہی خوش فکر،خوش گو اور سادہ انسان تھے بھگوان داس ہندی نے بھی اپنے تذکرہ ’سفینہ ہندی ‘ میںچنی لال قریب کا ذکر کیا ہے۔ قریب اپنے فارسی اشعار میں مرزا فاخر مکین سے اصلاح لیتے تھے۔ان کے کلام کا نمونہ دردجہ ذیل ہے ؎
سر از تنم جدا شدو جان زو جدا نشد
بیگانہ شد دل از من داد آشنا نشد39؎
ترجمہ: ’’میرا سر جسم سے الگ ہو گیا ہے لیکن اس سے جدا نہیں ہوا،دل مجھ سے بیگانہ ہو گیا ہے (لیکن)وہ میرا آشنا نہ ہو سکا۔‘‘
رادھے کشن نام اور تخلص شائق تھا۔ان کے والد گلاب رائے کایستھ سری واستو تھے۔ان کے اجدادسے پہلے پرگنہ سانڈی خیرآباد صوبہ اختر نگر اودھ میں رہتے تھے۔شایق الٰہ باد میں پیدا ہوئے اور نشو ونما لکھنؤ میں ہوئی۔وہ راجہ ٹکیت رائے کے انتظام سلطنت سے منسلک تھے۔40؎ انیس ان کے بارے میں رقم طراز ہیں:از کتب تحصیل تا مطول و در طب از قانونچہ تا کلیات قانون خواندہ،بتوجہ موفور مہاراجہ الدھراج تکیت رای۔41؎ شایق نے بھی شاعری میں مرزا فاخر مکین سے استفادہ کیا،انھوں نے غزلیں،قصیدے،مثنوی اور رباعیاں بھی لکھیں ہیں۔نمونہ کلام ؎
ای شوخ ندیدیم بحسن تو کسی را
دیدیم ز خوبان جہان گر چہ بسی را
ترجمہ:’’اے شوخ (محبوب) اگر چہ میں نے دنیا میں بہت سے حسین دیکھے ہیں لیکن حسن میں کوئی تجھ جیسا نہیں ہے)۔‘‘
جیکوپال لایق ولد کیول کشن اور رادھے کشن کے بڑے بھائی تھے۔جیکو پال لائق لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ نہایت خوش مزاج اور سادہ انسان تھے۔ انھوںنے مرزا فاخر مکین سے اپنی شاعری پراصلاح لی۔شعر ؎
سخت حیرانم چہ باشد چارہء بیماریم
بو علی حیرانم شود بیند چو بیمار ترا42؎
ترجمہ:’’میں نہایت حیران ہوں کہ میری بیماری کا علاج کیا ہے(کیونکہ بو علی و سینا جیسا حکیم) تیرے بیمار کو دیکھ کر حیران رہ گیا )۔‘‘
نام رام سہاے اور جلیس تخلص کرتے تھے۔جلیس موہن لعل انیس کے بیٹے تھے۔ انیس نے اپنے تذکرہ’انیس الاحبا‘ کو جب 1209ھ میںاضافوں کے ساتھ دوبارہ لکھنا شروع کیا تو اس میں انھوں نے اپنے بیٹے کا بھی نام شامل کیا ہے۔جلیس ایک ہنرمند شاعر تھے،وہ اکثر ہندو مذہب کی کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے جیسے سریمدبھاگوت گیتااور راماین وغیرہ۔ڈاکٹر سید عبداللہ نے اپنی کتاب ’ادبیاتِ فارسی میں ہندوں کا حصہ‘ میں جلیس کا ذکر کیا ہے:’’جلیس لکھنوی بن موہن لال انیس‘‘43؎
مظفر حسین صبا نے جلیس کا حال اپنے تذکرہ ’روز روشن‘میں کچھ اس طرح کیا ہے:
’’جلیس لکھنو ی پسر موہن لعل انیس است کہ در عنفوان شباب با آتش مرگ کباب گردید۔‘‘44؎
انیس لکھتے ہیں کہ ’’ جلیس ایک ذہین شاعر اور خوش اخلاق طبیعت کے مالک تھے خدا کی عبادت کرنا اورمذہبی کتابیں جیسے گیتا، سریمد بھگوت گیتا اور رامائن پڑھنا اور سننا پسند کرتے تھے۔ جلیس کی وفات عین شباب چوتیس سال کی عمر میںفالج کی وجہ سے ہوئی۔انیس اپنے بیٹے کی اس ناگہانی موت سے بہت متاثرہوئے تھے۔اور اس حادثے پر ایک قطعہ تاریخ وفات بھی انھوںنے کہاتھا۔ جلیس کا سال ِوفات 1233 ھ ہے۔
جلیس بھی اپنی شاعری میںاصلاح مرز افاخر مکین سے لیتے تھے۔
نمونہ کلام ؎
ز ناز نازنینان بی نیازم کرد ناز او
چہ ناز است انکہ دارم نازہم در جان نیاز او45؎
ترجمہ:’’اس کے ناز نے مجھ کو نازنینوں کے ناز سہنے سے بے نیاز کر دیا ہے کیا ناز ہے جو میں اپنی جان میں دیکھتا ہوںوہ در اصل اس کا نیاز( بھی) ہے)۔‘‘
متھو لال مضطر قوم کایستھ سریواستو تھے۔ابتدائی عمر میں ہی انھوں نے انگریزی سرکار کی ملازمت اختیار کی اور تحصیلدار ہو گئے۔مضطر محبت کرنے والے لوگوں میں سے تھے۔وہ ایک ذہین،بلند خیال اور لائق شفیق انسان تھے۔ وہ اصلاََغزل کے شاعر تھے اور عشقیہ مضامین باندھنے میں ید طولیٰ رکھتے تھے مرزا فاخر مکین کے خاص شاگردوں میں تھے۔نمونہ کلام ؎
مست و مدہوش شراب شوقم آگہ نیستم
از دل و دلبرندانم دل کجا دلدار کو46؎
ترجمہ: ’’شراب شوق میں اتنا مست و مدہوش ہوں کہ دل اور معشوق میں سے کسی سے آگاہ نہیں اور یہ بھی نہیں جانتا کہ دل کہاں ہے اور دلدار (معشوق) کہاں ہے؟ )۔‘‘
تذکرہ ’انیس الاحبا‘ استاد مرزا محمد فاخر مکین کے تلامذہ کا ایک ایسا گلدستہ ہے جس میں گوناگوں خوشرنگ پھول ہیں انھوںنے ہندو اور مسلم شعرا کی ایک ساتھ آبیاری کی اور زبان و ادب کو سنوارنے میں نمایا ںکردار اد اکیا۔موہن لعل انیس نے اپنے استاد اور ان کے شاگردوںکا ایک ایسا جامع نگار خانہ مرتب کیا جس میں استاد اور ان کے شاگرد دونوںکی خصوصیات کو نمایا ںکیا ہے یہ ایک ایسا مرقع ہے جو اس دور کے فارسی شعرا خصوصاً اودھ میں مقیم شعرا کے حالات اور ان کے کلام سے ہمیں روشناس کراتا ہے۔ اس سے نہ صرف اس دور کی فارسی شاعری کے رویوں کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ اودھ خاص طور پر لکھنؤ میں فارسی زبان وادب کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں اہم اطلاعات فراہم ہوئی ہیں آخر میں یہ عرض کرنا حقیقت ہر مبنی ہوگا کہ فارسی ادب میں اودھ کی تاریخ ان شعرا کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی ہے۔
مراجع و مصادر
1 ہندی،بھگوان داس،تذکرہ ’سفینہ ہندی‘مرتبہ سید شاہ محمد عطاء الرحمن کاکوی،پروفیسر شعبہ فارسی ادارئہ تحقیقات عربی و فارسی،پٹنہ (بہار)لیبل لیتھو پریس رمنہ روڈ پٹنہ،مارچ 1958، ص181
2 آزاد،محمد حسین،آب حیات،سابق پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور،اسلامیہ سٹیم پریس لاہور یکی دروازہ 1917،ص 169
3 انیس، موہن لعل،تذکرہ ’انیس الاحباء‘،ترتیب و تقدیم پروفیسر انوار احمد شعبۂ فارسی،پٹنہ یونیورسٹی،خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری،پٹنہ،1996،1999،ص 63
4 ایضاً
5 تذکرہ ’سفینۂ ہندی‘، ص 181
6 مصحفی ،غلام ہمدانی،مرتبہ مولوی عبدالحق،تذکرہ ’عقدِ ثریا ‘انجمن ترقی اردو،اورنگ آباد، 1934،ص250
7 تذکرہ ’انیس الاحباء‘،ص 123
8 تذکرہ ’سفینۂ ہندی‘، بھگوان داس ہندی،ص 182
9 تذکرہ ’انیس الاحباء‘، ص 77
10 ایضاً، ص 78
11 تذکرہ ’سفینۂ ہندی‘، ص 182
12 تذکرہ ’ریاض الفصحا‘ غلام ہمدانی مصحفی،مرتبہ مولوی عبد الحق، انجمن ترقی اردو، اورنگ آباد (دکن) 1934،ص30
13 تذکرہ ’انیس الاحبا‘، ص 208
14 تذکرہ ’سفینۂ ہندی‘، ص17
15 ـــپروفیسر نبی ہادی ’ڈکشنری آف انڈوپرشین لٹریچر‘، اندرا گاندھی نیشنل سنٹر فار دا آرٹس،1995، ص82
16 مصحفی ،غلام ہمدانی،مرتبہ مولوی عبدالحق،تذکرہ ’عقدِ ثریا ‘انجمن ترقی اردو،اورنگ آباد، 1934،ص12
17 نظامی بدایونی’قاموس المشاہیر‘،خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری،پٹنہ، 2004،ص241
18 تذکرہ ’سفینۂ ہندی‘، ص16,17
19 تذکرہ ’انیس الاحبا‘، مقدمہ ص8
20 تذکرہ ’انیس الاحبا‘، ص 167
21 انیس،موہن لعل،دیوان انیس،مصححہ ڈاکٹر فرحینہ: نیو پرنٹ سینٹر،دریا گنج،نئی دہلی2014، ص 117
22 انیس، موہن لعل،تذکرہ ’انیس الاحبا‘، ترتیب و تقدیم پروفیسر انوار احمد شعبۂ فارسی،پٹنہ یونیورسٹی،خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری،پٹنہ،1996، 1999،ص 170
23 صبا،مظفر حسین،تذکرہ ’روز روشن‘، مرتب سید شاہ عطاء الرحمن، عطا کاکوی،رئیس ادارئہ تحقیقات عربی و فارسی، پٹنہ،ص30
24 تذکرہ ’انیس الاحبا‘، ص 171
25 تذکرہ ’سفینۂ ہندی‘، ص73
26 سندیلوی،شیخ احمد علی خاںہاشمی،تذکرہ ’مخزن الغرائب‘ جلد دوم،مرتب محمد باقر پرنسپل یونیورسٹی اوینٹل کالج،پروفیسر و ہیڈ شعبئہ فارسی پنجاب یونیورسٹی،پبلیکشن اورینٹل فنڈ، لاہور 1970 م،ص187
27 ایضاً، ص 238
28 تذکرہ ’انیس الاحبا‘، ص177
29 ایضاً، ص 178
30 تذکرہ ’سفینۂ ہندی‘، ص194، تذکرہ ’انیس الاحبا‘، ص179
31 تذکرہ ’انیس الاحبا‘، ص181
32 ایضاً، ص 182
33 تذکرہ ’سفینۂ ہندی‘، ص206
34 تذکرہ ’انیس الاحبا ‘ ،ص 191
35 تذکرہ ’سفینۂ ہندی‘، ص141,142
36 تذکرہ ’انیس الاحبا‘،ص194
37 ہندی بھگوان داس، تذکرہ ’حدیقۂ ہندی‘مقدمہ و تصحیح شریف حسین قاسمی،نیشنل مشن فار مین اسکرپٹس، دہلی، 2015م
38 تذکرہ ’انیس الاحبا‘، ص195
39 ایضاً، ص200
40 ڈاکٹر نریندر بہادر سریواستو ا ’’نوابی عہد کے ہندوئوں کا فارسی ادب میں یوگدان،ڈسٹرک انفارمیشن آفسر(ضلع بدایوں)
41 تذکرہ ’انیس الاحبا‘، ص 202 42 ایضاً، ص 204
43 ڈاکٹر سید عبداللہ،’ادبیات فارسی میں ہندوئوں کا حصہ‘، مجلس ترقی ادب کلب روڈ،لاہور،ص226
44 صبا،مظفر حسین،تذکرہ ’روز روشن‘،مرتب سید شاہ عطاء الرحمن،عطا کاکوی،رئیس ادارئہ تحقیقات عربی و فارسی، پٹنہ،ص30
45 انیس، موہن لعل،تذکرہ ’انیس الاحبا‘، ترتیب و تقدیم پروفیسر انوار احمد شعبۂ فارسی،پٹنہ یونیورسٹی،خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری،پٹنہ،1996، 1999،ص206
46 ایضاً، ص 205


Arshi Bano
PL. No: 10-A, Roshan Nager
New Haider Ganj
Campwell Road, Balaganj
Lucknow- 226003 (UP)
Mob.: 8318825906
arshiba06@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

فن خودنوشت:تحقیق و تنقید،مضمون نگار:محمد شمشیر علی

تلخیص خودنوشت سوانح حیات ایسی صنف ہے جس میں صاحب سوانح نے اپنے حالات بقلم خود نثر میں تحریر کیے ہوں۔ خودنوشت نگاری کے لیے آج تک باضابطہ اصول وضوابط

منتخب فرانسیسی ڈراموں کے اردو تراجم کا تنقیدی مطالعہ،مضمون نگار:محمد ریحان

تلخیص فرانسیسی ڈراما نگاری کی شاندار اور طویل روایت ہے، جس نے صدیوں سے تھیٹر کی دنیا کو اپنی تخلیقی جہات سے متاثر کیا ہے۔ فرانسیسی ڈرامے کا آغاز قرونِ

فارسی قصیدہ : روایت اور امتیازات،مضمون نگار: لئیق احمد

تلخیص یہ مضمون دراصل فارسی قصیدہ نگاری میں ہیئت، اسلوب اور موضوع کے تنوع کو دیکھنے کی ایک کوشش ہے، تاکہ ہم اس بات کو تجزیاتی انداز میں بہتر طور