زبانیں محض ذریعۂ اظہار نہیں ہوتیں بلکہ تہذیبی شناخت کا حوالہ ہوتی ہیں : سکینہ ایتو

April 24, 2026 0 Comments 0 tags

پریس ریلیز،اپریل 2026

جموں / نئی دہلی : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور شعبۂ اردو جموں یونیورسٹی کے باہمی اشتراک سے ’ جموں و کشمیر کی علاقائی زبانوں سے اردو کا رشتہ‘ کے عنوان سے جموں یونیورسٹی کے بریگیڈیئر راجندر سنگھ آڈیٹوریم میں یک روزہ سمینار کا انعقاد عمل میں آیا جس میں خطے کی مختلف زبانوں سے اردو کے رشتوں کے مختلف پہلوؤں پر اہم مقالات پیش کیے گئے اور اہل علم و دانشوران نے قیمتی خیالات کا اظہار کیا ۔
اس سمینار کے افتتاحی اجلاس میں بطور مہمان خصوصی جموں و کشمیر کی وزیر برائے تعلیم، صحت و طبی تعلیم اور سماجی بہبود محترمہ سکینہ ایتو نے شرکت کی ۔ انھوں نے اپنے خطاب میں اس سمینار کے انعقاد پر قلبی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سمیناروں کا انعقاد اپنی جڑوں کی تلاش کی بہترین کوشش اور مشترکہ تہذیبی اقدار کا سنگ میل ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ایسے موضوعات پر گفتگو وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ زبانیں محض اظہار کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ تہذیبی شناخت کا نمونہ ہوتی ہیں، اس لیے ہمیں اپنی تہذیبی شناخت کے تحفظ کے لیے اپنی زبانوں کی بھی حفاظت کرنی ہوگی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اردو کی پیدائش اور ترقی میں ہندوستان کے دیگر علاقوں کے ساتھ جموں و کشمیر کا بھی ناقابل فراموش کردار ہے اور اردو نے اس علاقے کی زبانوں کے الفاظ و محاورات لیے ہیں اور بدلے میں انھیں ایک مربوط پلیٹ فارم دیا ہے۔ اردو اس خطے میں مختلف سماجی اکائیوں کو جوڑنے والے ایک پل کی حیثیت رکھتی ہے جو سرکاری سرپرستی میں پھل پھول رہی ہے۔
اجلاس کے صدر اور جموں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر امیش رائے نے اپنے خطاب میں کہا کہ لسانی سطح پر اردو نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ ہندوستان کے دوسرے خطوں کو بھی جوڑتی ہے۔ ہمیں ہندوستان کی تمام زبانوں کو اسی اعتبار سے دیکھنا چاہیے اور ان کے فروغ کے لیے کوشش کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے توقع ہے کہ یہ سمینار اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا اور جموں و کشمیر کی زبانوں کے ساتھ اردو کے رشتوں پر نہایت مفید باتیں سامنے آئیں گی۔ انھوں نے نئی نسل کو تکنیکی چیلنجز سے نمٹنے کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ آج اگر ہمیں اپنی زبانوں کو زندہ رکھنا ہے تو نئے تکنیکی وسائل کے استعمال کے طریقوں کو سیکھنا ہوگا۔
اس سے قبل قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے تمام مہمانوں کا استقبال کیا۔ انھوں نے کہا ہندوستان ایک کثیر لسانی و کثیر ثقافتی ملک ہے اور اس ملک کی کئی ریاستیں اس تنوع کے خوب صورت نمائندگی کرتی ہیں جن میں ریاست جموں و کشمیر سرفہرست ہے۔ انیسویں صدی میں اردو کو یہاں سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج نہ صرف یہاں کی مقامی زبانوں جیسے کشمیری، گوجری، پہاڑی، ڈوگری، شینا ، بلتی وغیرہ میں بہت سے اردو الفاظ و تعبیرات پائے جاتے ہیں بلکہ اردو میں بھی ان زبانوں کے بہت سے الفاظموجودہیں۔ انھوں نے کہا کہ نئی ایجوکیشن پالیسی نے ہندوستان کی تمام مادری و علاقائی زبانوں کے فروغ کی راہیں روشن کی ہیں، جن سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں بائیس شیڈولڈ زبانیں ہیں یعنی ان سب کو آئینی حیثیت حاصل ہے،لہٰذا ہمیں مل جل کر اپنی زبانوں کے فروغ کی کوشش کرنی چاہیے اور مل کر اپنے ملک کو خوب صورت بنانا چاہیے۔
شعبہ اردو جموں یونیورسٹی کے صدر پروفیسر شہاب عنایت ملک نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو کشمیر سے پہلے جموں میں داخل ہوئی اور ڈوگرہ حکمرانوں کے زمانے میں اس زبان نے سرکاری حیثیت حاصل کی جس کی وجہ سے یہاں اسے پھلنے پھولنے کا خوب موقع ملا۔ انھوں نے بتایا کہ آج بھی کشمیر اور جموں کے عوام کے مابین رابطے کی سب سے مضبوط زبان اردو ہے۔ تحریکِ آزادی میں اس زبان کے قابل فخر کردار کی طرف بھی انھوں نے کچھ اہم اشارے کیے۔
بزرگ ناقد و محقق پروفیسر قدوس جاوید نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر آج اردو زبان کا سب سے مضبوط قلعہ ہے اور یہاں کی مقامی زبانیں اس قلعے کی ستون ہیں۔ انھوں نے کہا کہ زبان کوئی بھی ہو اس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا البتہ اس کی اپنی تہذیب ہوتی ہے، لہٰذا ہمیں سبھی زبانوں کا احترام کرنا چاہیے جو در اصل ان کے اندر چھپی تہذیبوں کا احترام اور خود اپنے مہذب ہونے کی علامت ہے۔
معروف فکشن نگار خالد حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو نے جموں و کشمیر کی مقامی زبانوں سے خوب استفادہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی مقامی زبانوں کی ماں پنجابی زبان ہے اور اردو پر بھی اس کے اثرات ہیں، جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔
اس اجلاس کی نظامت شعبۂ اردو جموں یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر فرحت شمیم نے کی اور پروفیسر محمد ریاض احمد کے اظہارِ تشکر پر اس کا اختتام عمل میں آیا۔
سمینار کے پہلے تکنیکی سیشن کی صدارت ڈاکٹر شفق سوپوری اور پروفیسر عباس رضا نیر ( لکھنؤ یونیورسٹی) نے کی، مہمان اعزازی پروفیسر محمد علی جوہر (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی )تھے جبکہ اس سیشن میں ڈاکٹر ٹی آر رینا، ڈاکٹر مشتاق حیدر ( کشمیر یونیورسٹی) ، ڈاکٹر لیاقت علی ( اگنو ، دہلی) نے جموں و کشمیر کی مختلف علاقائی زبانوں سے اردو کے رشتوں کے مختلف پہلوؤں پر اپنے مقالے پیش کیے۔ اس سیشن کی نظامت ڈاکٹر چمن لال نے کی۔
دوسرے تکنیکی سیشن کی صدارت پروفیسر مشتاق احمد (سی ایم کالج ، دربھنگہ) ، ڈاکٹر ٹی آر رینا، ڈاکٹر عبداللہ امتیاز ( ممبئی یونیورسٹی) نے کی ، جبکہ مہمان اعزازی ڈاکٹر زرینہ زریں (کلکتہ یونیورسٹی) تھیں۔ جبکہ مقالہ نگاروں میں پروفیسر اسداللہ وانی ، ڈاکٹر کوثر رسول ، ڈاکٹر آصف ملک علیمی ، ڈاکٹر جگ موہن اور ڈاکٹر شہناز قادری شامل تھے ۔ ڈاکٹر عبدالرشید منہاس نے اس سیشن کی نظامت کی۔
سمینار کے بعد ایک خوب صورت شام غزل کا بھی اہتمام کیا گیا۔
(رابطہ عامہ سیل )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

شعبہ اردو پٹنہ کالج و قومی اردو کونسل کے باہمی اشتراک سے یک روزہ سمینار

پریس ریلیز قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور شعبۂ اردو، پٹنہ کالج، پٹنہ کے باہمی اشتراک سے یک روزہ سمینار بعنوان ’بہار کی علاقائی زبانوں سے اردو کا رشتہ‘

قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے دن تین اہم تکنیکی اجلاس کا انعقاد

پریس ریلیز: نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے زیر اہتمام عالمی اردو کانفرنس بہ عنوان ’کثیر لسانی ہندوستان میں اردو زبان و تہذیب‘ کے موضوع پرانڈیا انٹرنیشنل

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کی جانب سے تین روزہ عالمی اردو کانفرنس کا افتتاحی اجلاس

پریس ریلیز: نئی دہلی: آج وزیراعظم میوزیم، تین مورتی مارگ،دہلی میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی جانب سے منعقد کیے جانے والے عظیم الشان تین روزہ عالمی اردو