فورٹ ولیم کالج اور’اخلاق ہندی‘ کی ادبی و لسانی اہمیت،مضمون نگار:محمد علی حسین شائق

June 2, 2026 0 Comments 0 tags

تلخیص:


مضمون میں فورٹ ولیم کالج کے قیام کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔ اس کالج نے جدید نثر کی بنیا د رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یوں تو اردو نثر کا آغاز دکن میں پہلے ہی ہوچکا تھا لیکن وہ نثر مقفیٰ تھی فورٹ ولیم کالج کے قیام کے ساتھ ہی آسان نثرکی بنیاد بھی پڑ گئی۔ اس کالج کے قیام کے جو اہم مقاصد تھے وہ یہ تھے کہ انگریزوں کو یہاں کی مقامی زبان سے آشنا کیا جائے تاکہ ہندوستانیوں سے رابطے میں دشواری نہ ہو۔ لہٰذا اس کالج کا قیام عمل میں آیا اور بنگال سے باہر کے منشیوں کو انگریزوں نے ترجمے کے کام پر معمور کیا۔ ان منشیوں میں میر بہادر علی حسینی، میر امن دہلوی کے علاوہ اور بھی دیگر مصنفین کو دعوت دی گئی اور انھیں ترجمے کا کا م سونپاگیا۔ اس طرح جدید اردو نثر کی بنیاد یہاں پڑ گئی ۔
میر بہادر علی حسینی نے ’ اخلاق ہندی ‘ کا فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا۔ لہٰذا اس مضمون میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ اس وقت میر بہادر علی حسینی نے جس طرح ترجمہ کیا اس کی ادبی اور لسانی اہمیت کو واضح کیا جائے، ہر مضمون اسی کوشش پر مبنی ہے۔
کلیدی الفاظ
تمثیلی، کھڑی بولی، مربوط تصنیف، روضتہ ا لشہداء، کربل کتھا، ثقالت، تالیف، قربت، منشیوں ، ھتوپدیش، ادبی نگارشات، مفروح القلوب، تحریری و فنی محاسن، اخلاق ہندی، پنچ تنتر ، صرف و نحو، اسلوبیاتی، لسانی، بد وضعی ۔
———
یوں تو ادب میں اردو نثر کا آغاز فورٹ ولیم کالج کے قیام کے 165 برس پہلے 1635 میں سب رس کے ذریعے ہو چکا تھا اور اسداللہ وجہی جسے ملا وجہی کے نام سے جا نا جا تا ہے، نے سب رس لکھ کر اردو نثر کی بنیاد رکھ دی تھی۔یہ سترہویں صدی کا زمانہ تھا۔سب رس کو اردو نثر کی پہلی غیر مذہبی نثر کہا جاتا ہے۔ڈاکٹر جاویدو شسٹ نے ملا وجہی کو اردو کا پہلا انشائیہ نگار قرار دیا۔ ساتھ ہی سب رس کا مطالعہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ دکنی زبان کی پہلی داستان ہی نہیں بلکہ ایک تمثیل بھی ہے۔ حالا نکہ سب رس سے پہلے بھی اردو نثر کے نمونے بندہ نواز گیسو دراز کی معراج العاشقین سے ملتے ہیں لیکن اس کے بارے میں اختلاف پا یا جاتا ہے۔اگر یہ سب رس سے پہلے کی تخلیق ہے بھی تو یہ مذہبی نثر کے زمرے میں آتی ہے جب کہ غیر مذہبی نثر کے بارے میں ’سب رس‘ کو ہی اولیت کا درجہ حاصل ہے۔ ’سب رس‘ کا ماخذ سنسکرت کا ڈرامہ ’پربودھ چندر اودے ‘ہے جس کا مصنف کرشن مشر ہے۔مولوی عبدالحق کی تحقیق کے مطا بق سب رس کو ملا وجہی نے محمد یحییٰ سیبک فتاحی نیشا پوری کی نثری تصنیف ’حسن و دل‘ سے لیا ہے۔ معا ملہ جو بھی ہو اس بات پر سبھی اتفاق کرتے ہیں کہ ’سب رس‘ اردو نثر کی پہلی تخلیق ہے۔
سب رس کا اسلوب اور انداز بیان نہایت ہی شگفتہ ہے۔ اس کا لسانی دائرہ بھی بہت وسیع ہے۔ اس میں شمالی ہند کی زبانوں برج بھا شا، گوا لیاری،راجستھا نی،اور دوسری زبانوں کے محاورے، ضرب الا مثال وغیرہ پائے جا تے ہیں۔پروفیسر شیرانی سب رس کے حوالے سے رقمطراز ہیں :
’’جو چیز ’سب رس‘ کو ہماری نگاہوں میں سب سے زیادہ قیمتی بناتی ہے وہ اس کے اسا لیب ہیں۔ جب ہم ان اسالیب کا موجودہ زبان سے مقا بلہ کرتے ہیں تو آج کی زبان میں اور اس زبان میں خفیف سا فرق معلوم ہوتا ہے۔‘‘
جہاں تک اس کا اسلوب اور لسانی اہمیت کا معا ملہ ہے تو اس کی سب سے بڑی خوبی قصے کی اور زبان و بیان کی دلچسپی، جذبات کی فراوانی اور اسلوب کی ندرت ہے اور ساتھ ہی اس میں مقفیٰ و مسجع نثر کا خوبصورت التزام بھی نظر آتا ہے۔اس میں حسن و عشق کے معرکے کو تمثیلی قصے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔
سترہویں صدی کے بعد جب اردو نثر اٹھا رہویں صدی میں داخل ہوئی تو شمالی ہند میں 1731 میں فضلی کی کربل کتھا ہمارے سامنے آئی۔کر بل کتھا شما لی ہند میں اردو نثر کی پہلی کتاب ما نی جا تی ہے۔ یہ کتاب محمد شاہی عہد میں تصنیف کی گئی۔ در اصل یہ کتاب ’روضتہ الشہدا‘ کا اردو ترجمہ ہے جو فارسی میں لکھا گیا ہے۔جس کے مصنف ملا حسین واعظ کا شفی ہیں جو ایک پا ئے کے بزرگ اور مفسر بھی تھے۔ کربل کتھا میں کربلا کے واقعات اور شہادت کا پر درد بیان ہے۔ اس میں عربی اور فارسی کے الفاظ کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ساتھ ہی دکنی اردو کے کچھ الفاظ اور محاوروں کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔
’کربل کتھا‘ کو سب سے پہلے مولوی کریم الدین نے اردو نثر کی ایک مستقل کتاب کی حیثیت سے متعارف کرایا تھا اور بعد میں تقریباتمام ناقدین، محققین اور مورخین ادب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شمالی ہند کی سب سے پہلی اور مربوط تصنیف ’ کر بل کتھا ‘ ہی ہے۔ ’ کربل کتھا ‘ کی بنیا دی اہمیت یہ ہے کہ یہ کھڑی بولی کی پہلی نثری تصنیف ہے۔ اس سے پہلے کھڑی بولی کے جتنے بھی نمونے دستیاب ہوئے ہیں وہ نہایت ہی مختصر یا منظوم ہیں لیکن ’ کر بل کتھا‘کھڑی بولی کے سرمائے میں اضافے کا درجہ رکھتی ہے۔
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اردو نثر کا با قاعدہ آغاز سترہویں صدی میں ہی ہو چکا تھا اور اس کو وسعت فضلی نے اٹھارہویں صدی میں کربل کتھا لکھ کر دی۔یہ الگ بات ہے کہ ابتدا میں ان دونوں کتابوں کی لسانی اور ادبی اہمیت آج کی کتابوں سے مختلف تھی۔
ڈیڑھ سو سال بعد جب ہندوستان پر انگریزوں کا تسلط بڑھا اور با لخصوص بنگال پر جب انگریزوں کا تسلط قائم ہوا، ایسی صورت میں ہندوستانیوں اور انگریزوں کے در میان زبان کا مسئلہ سا منے آگیا۔ اس رکاوٹ کے سد باب کے لیے لا رڈولزلی نے کلکتے میں ایک کالج کے قیام کی تجویز رکھی اور 1800 میں فورٹ ولیم کالج قائم کرکے اس مسئلے کو ختم کر دیا۔ چونکہ اس سے قبل مغلیہ حکمرانوں کے زمانے میں فارسی یہاں کی دفتری زبان تھی۔جس میں ثقالت تھی، اس لیے لوگوں کی زبان پر آسانی سے نہیں چڑھ پا تی تھی۔ دوسری بات یہ کہ کلکتہ رفتہ رفتہ غیر ملکیوںکی آمد کی وجہ سے بین الا قوامی حیثیت حاصل کر نے لگا تھا ساتھ ہی کا روبار کا مرکز بھی ہو نے لگا تھا۔اس کی سب سے خاص وجہ یہ تھی کہ یہ شہر گنگا ندی کے کنارے آباد تھا۔ وسائل اور آمد و رفت کی آسانی سے حصولیابی نے بھی اس شہر کی اہمیت میں اضافہ کیا۔ ایسی صورت حال میں ایک طرف مشنریوں کی آمد اور ہندوستا ن میں عیسائی مذہب کی تبلیغ، دوسری طرف ایسٹ انڈیا کمپنی کے تجارتی معاملے نے انگریزوں کوزبان کے مسئلے کو حل کرنے کی طرف توجہ دینے کی دعوت دی اور10جولائی1800 کو فورٹ ولیم کالج کا قیام عمل میں آیا۔ڈاکٹر جان گلکرسٹ، ڈیوڈ برائون کو اس کالج کا پہلا پرنسپل مقرر کیا گیا۔ کالج کے قیام کے ساتھ اردو داں طبقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی لیکن اس کے پس پردہ انگریزوں کا اپنا مقصد پوشیدہ تھا۔در اصل انگریز اردو کا فروغ نہیں چاہتے تھے بلکہ وہ اردو زبان سیکھ کر اپنے کا روبار کے مسائل کو حل کرنا چاہتے تھے، اس کے ساتھ عیسائی مذہب کی تبلیغ کا مقصد بھی شامل تھا۔
باوجود اس کے مقصد چاہے جو بھی رہا ہو، کالج کے قیام سے کچھ حد تک اردو کو فروغ حاصل ہوا۔ کالج کے قیام کے ساتھ ولزلی نے بہتر تعلیم کا انتظام بھی کیا تاکہ سول افسران کو یہاں اپنے فرائض کی ادائیگی میں پریشا نی نہ ہو۔ ولزلی نے کالج کی بنیاد ڈالنے کے ساتھ ہی اس کے اصول و ضوابط مقرر کر دیے اور کالج کے لیے مناسب جگہ کی تلاش بھی شروع کر دی۔ لکشمی ساگر وارشنے اس ضمن میں رقمطراز ہیں:
’’ولزلی کے منصوبے کے مطابق ہر کام شروع ہوا۔ 18 ستمبر 1800 کو پر دھان سرکار منتری جی ایچ بار لو نے میدیکل بورڈ کو کیپٹن وائٹ کے ذریعے کالج کی عمارت بنانے کی نیت سے گارڈن ریچ کا معائنہ کر نے اور وہ جگہ پر فضا ہے یا نہیں یہ معلوم کرنے کے لیے کہا۔جگہ نا مناسب لگی تو دوسری جگہ تلاش کرنے کا حکم بھی تھا۔ 23 ستمبر کو میڈیکل بورڈ کو ایک اور ممبرجے فلیمنگ نے اپنے خط کے ذریعے گارڈن ریچ کو کالج کے لیے نا قابل بتایا۔اس لیے 4 اکتوبر 1800 کو بارلو نے بورڈ آف ریونیوکو گارڈن ریچ میں جتنے کسان رہتے تھے ان کی ایک فہرست تیار کرنے اور انھیں وہاں سے ہٹانے کا انتظام کرنے کو کہا۔ 21 نومبر کو بورڈ آف ریو نیو نے سرکاری منتری چوبیس پرگنہ کلکٹر کے پاس زمین کی قیمت آنکنے اور کالج کے لیے نئی سڑک بنانے کی خاطر ایک انجینئر کے بھیجے جانے کی اطلاع دی۔‘‘
( فورٹ ولیم کالج از لکشمی ساگر وارشنے، الہ باد یونیورسٹی ، ص 17)
اس طرح ولزلی نے پوری طرح کمر کس لی کہ فورٹ ولیم کا لج میں بہتر تعلیم کا انتظام ہو اور اس کے لیے اس نے زور و شور سے کام شروع کردیا۔ کالج کے قیام کے بعد اس میں پروفیسر، اسسٹنٹ پروفیسر اور دیگر ٹیچر کی تقرری عمل میں آئی۔ فورٹ ولیم کالج میں چار پروفیسروں کی تقرری عمل میں آئی جن میں ایچ، ٹی کول بروک،سنسکرت کے پروفیسر تھے، جان ہارنگٹن فارسی کے پروفیسر، آئی، ڈبلیو،آئی اوزولی عربی اورفارسی کے پروفیسر، جے،ڈبلیو،ٹیلر ہندوستانی زبان کے پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 8 اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری عمل میں آئی جن میں اٹکنس جیمس اور سیمویل کو لتھاڈ کو عربی فاسی اور جان لیڈن، لفٹننٹ مارٹن رسل،لفٹننٹ ولیئم پرائس،تھامس روبک،ڈی رڈل، ایڈوارڈ اسکاٹ وارنگ ہندوستانی زبان کے اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر مقرر کیے گئے۔کچھ لوگوں کو سکنڈ اسسٹنٹ کے عہدے پر بحال کیا گیا۔ کچھ کو ٹیچر کے عہدے پر مامور کیا گیا۔۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی لوگ تھے جو بعد میں ترقی کر کے ٹیچر اور اسسٹنٹ پروفیسر سے پروفیسر تک کے عہدے کو پہنچ گئے۔
اس کے علاوہ ہندوستانی شعبے میں ہیڈ منشی،سکنڈ منشی،اور منشی کے عہدے پر بھی فائز ہو ئے۔ میر بہادر علی حسینی کو ہیڈ منشی، تارنی چرن متر کو سکنڈ منشی،اور مر تضی خاں،غلام اکبر، نصراللہ، میر امن، غلام اشرف، ہلال الدین،محمد صادق،رحمت اللہ خان، غلام غوث،کندل لال،کاشی راج،وغیرہ کو منشی کے عہدے پر فائز کیا گیا۔دھیرے دھیرے منشیوں کی تعداد میں ضرورت کے تحت اضافہ بھی کیا گیا۔لارڈ ولزلی نے نہایت ہی منظم طریقے سے فورٹ ولیم کا لج کی بنیاد ڈالی اور اس کی ترقی کے لیے کو شاں رہے۔
ایک بات کی وضاحت اور بھی ضروری ہے کہ فورٹ ولیم کالج میں صرف یوروپین کو ہی پروفیسر اور ٹیچر کے عہدے دیے جا تے تھے۔یہاں لارڈ ولزلی کے جانب دارانہ مزاج کا پتہ چلتا ہے۔اونچے اونچے عہدوں پر غیر ملکی ہی فائز رہتے تھے اور ان کی تنخواہیں بھی زیادہ ہوا کرتی تھیں۔
ملا حظہ کیجیے ڈاکٹر شہناز نبی کے یہ جملے:
’’جہاں تک عہدے کا سوال ہے فورٹ ولیم کالج میں صرف یوروپین ہی پروفیسر اور ٹیچر کے عہدے پر فائز کیے جاتے تھے۔پروفیسر کی ما ہا نہ تنخواہ1500روپئے اور ٹیچر کی 1000 روپئے ما ہانہ ادا کرتی تھی۔پروفیسر جان بیلی کو سب سے زیادہ تنخواہ ملتی تھی،یعنی 1600 روپئے ماہانہ اس کے علاوہ 1000 روپئے عربی مترجم کی حیثیت سے ‘‘
(حسن اختلاط از شہناز نبی ، ص 19)
جہاں تک ہندوستانیوں کا تعلق ہے تو ان کی منشی کے عہدے پر تقرری ہوتی تھی۔ انگریزوں نے بلا شبہ فورٹ ولیم کالج قائم کرکے تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا لیکن ہندوستانیوں کے تئیں ان کی ذہنیت صاف نہیں تھی اور ہندوستانیوں کے تعلیمی میدان میں قابل ہو نے کے باوجود اونچے عہدے نہیں دیے جاتے تھے۔انھیں منشیوں کے عہدے تک ہی محدود رکھا جاتا تھا۔ اس سلسلے میں ششیر کمار داس نے اپنی کتاب ’صاحب اور منشی‘ میں اعتراض بھی جتایا ہے اور کہا ہے کہ انگریز پروفیسر کا عہدہ اپنے لیے رکھتے تھے اور علم و زبان کے ماہر ہندوستانیوں کو منشی کا درجہ دیا جاتا تھا۔
ڈاکٹر شہناز نبی کے ان جملوں کو بھی دیکھیں:
’’ فورٹ ولیم کالج میں ہندوستانیوں کی تقرری صرف منشی، سرٹیفیکٹ منشی، چیف منشی کے اعتبار سے کی جاتی تھی۔
29اپریل 1801 میں کالج کونسل نے تجاویز پیش کیں کہ درج ذیل درجات اور تنخواہ کے اعتبار سے منشیوں کی تقرری کی جائے:
چیف منشی: 200 روپئے ماہانہ
سکنڈ منشی: 100روپئے ماہانہ
ماتحت منشی: 40روپئے ماہانہ
اس کے علاوہ certified منشی بھی ہواکرتے تھے جن کی تنخواہ 30 روپئے ماہانہ ہوا کرتی تھی۔ منشیوں کا انتخاب ٹیچر اور پروفیسر کرتے تھے۔‘‘
(فورٹ ولیم کالج اور حسن اختلاط، ص 19)
کالج کے منشیوں میں میر بہادر علی حسینی، میر شیر علی افسوس،حیدر بخش حیدری، میر امن دلی والے، مظہر علی خان و لا، میر کا ظم علی جواں،حفیظ الدین بردونی،خلیل علی خاں اشک، نرائن جہاں، للو لا ل جی، تارنی چرن متر،نہال چند لاہوری، باسط خان، مرزا علی لطف، مرزا جان طپش وغیرہ کے نا م اہم ہیں۔
ان منشیوں نے ایماندارانہ طریقے سے کام کرتے ہوئے بہترین کتابیںترجمے اور تالیف کیے، جن میں نثر بے نظیر،اخلاق ہندی،تاریخ آسام،رسالہ گلکرسٹ( میر بہادر علی حسینی)، آرائش محفل، باغ اردو (میر شیر علی افسوس )قصہ حاتم طائی عرف آرائش محفل، گلشن ہند،توتا کہانی (حیدر بخش حیدری) باغ و بہار، گنج خوبی ( میر امن دہلوی )، بیتال پچیسی،، ہفت گلشن ( مظہر علی ولا)، سنگھاسن بتیسی ( مظہر کاظم علی جواں )اس طرح کی اور بھی بہت سی کتابیںان منشیوں نے تالیف کیںجس سے اردو ادب کو فرغ حاصل ہوا۔
ایک بات کی وضاحت اور ضروری ہے کہ فورٹ ولیم کالج کے قیام کے بعد ہندوستان کے مختلف صوبوںسے اہل علم بنگال کا رخ کرنے لگے تھے۔اس کے پیچھے کچھ تو ان کی اردو نوازی کام کر رہی تھی، اور کچھ روزگار کا معاملہ بھی تھا، ساتھ ہی کچھ کوصاحبان عالیشان سے قربت کا جذبہ کار فرما تھا۔ ہندوستا ن کے مختلف صوبوں سے آنے والوں میں سے کچھ منشیوں کو تو انگریزی سرکار نے خود بلوایا تھا اور کچھ خود ہی آئے تھے۔ان میں سے کچھ لوگ با ضابطہ فور ٹ و لیم کالج میں منشی کے عہدے پر فائز ہوگئے تھے اور چند ایسے تھے جنھیں با قاعدہ ملازمت نہیں ملی لیکن ان سے ترجمے اور تالیف کا کام لیا جاتا تھا۔ ایسے منشیوں میں بینی نرائن، مرزا علی لطف، نہال چند لاہوری،مرزا جان طپش،باسط خان وغیرہ کے نام شامل ہیں۔
میر بہادر علی حسینی فورٹ ولیم کالج کے منشیوں میں ایک تھے۔ بہادر علی حسینی نے چار کتابیں تالیف کیں۔ اس کے علاوہ بھی انھوں نے دیگر مصنفین کے ساتھ ترجمے اور تالیف کا کام کیا لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ان کے حوالے سے زیادہ معلومات حاصل نہیں ہو سکی کیونکہ اس وقت شاید اس طرح کا کوئی رواج نہیں رہا ہوگا اس لیے بہت مختصر جانکاری ان کے حوالے سے دستیا ب ہے۔اتنی بات دستیاب ہے کہ یہ شاہ گنج قصبہ کے نزدیک موضع بڑا گائوں جونپور کے رہنے والے تھے اور موضع موئی میں خاندان حسین سادات کے ایک بزرگ تعلقہ دار اور مشہور حکیم و طبیب حکیم مولا علی حسینی کے داماد تھے۔ ان کے والد کے حوالے سے بھی اختلاف رائے ہے۔ ان کے والد کا نام سید عبداللہ کاظم بتایا جاتا ہے۔ تذکرہ نگاروں نے انھیں شاعر کے طور پر بھی ادب میں متعارف کرایا ہے لیکن اس کی تصدیق مکمل طور سے نہیں ہو سکی ہے۔تاہم نثر نگاری کے میدان میں ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
4 مئی 1801 کوان کی تقرری فورٹ ولیم کالج میں ہوئی اور انھوں نے اردو ادب کے لیے بہت کام کیا۔میر امن دہلوی کی تقرری بھی انہی کی وساطت سے ہوئی۔انھوں نے فورٹ ولیم کالج میںکئی کتابیں لکھیں جن میں ’نثر بے نظیر‘، ’ اخلاق ہندی‘، ’تاریخ آسام‘ اور ’ رسالہ گلکرسٹ‘ اہم ہیں۔ بہادر علی حسینی دلی کے رہنے والے تھے اور فورٹ ولیم کالج میں بحیثیت منشی ان کی تقرری ہوئی تھی۔ ایسا بھی قیاس اغلب ہے کہ کالج میں سب سے پہلے انہی کی تقرری ہوئی۔ گلکرسٹ نے درس و تدریس کے علاوہ ان منشیوں سے تصنیف و تالیف کا کام بھی لینا شروع کیا۔ اور کتابیں شائع کرنے کی داغ بیل ڈالی۔ گلکرسٹ نے میر بہادر علی حسینی کی صلاحیت کو بھانپ لیا تھا یہی وجہ تھی کہ انھوں نے ترجمہ اور تالیف کی ذمے داری میر بہادر علی حسینی کے ذمے دے دیا تھا۔
ڈاکٹر وحید قریشی نے میر بہادر علی حسینی کے بارے میں ڈاکٹر گلکرسٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ کس طرح میر بہادر علی حسینی کو پوری ذمے داری سونپی تھی تاکہ ترجمہ و تالیف کا کام آگے بڑھ سکے۔ ملاحظہ کیجیے ان جملوں کو:
’’ گلکرسٹ نے درس و تدریس کے علاوہ ان منشیوں سے تصنیف و تالیف کا کام لینابھی شروع کیا اور کتابیں شائع کرنے کی داغ بیل ڈالی۔ اس سلسلے میں 12جنوری، 16 جنوری اور پھر 20 جنوری 1802 کو اس نے کالج کونسل سے خط و کتابت کی اور آخری تاریخ کو شرطیں پیش کیں۔ ان میں بہادر علی حسینی کے بارے میں لکھا ہے۔ ’’تالیف و ترجمہ اور نقل کے تمام اخراجات میرے ذمے ہوں گے لیکن حکومت میر بہادر علی حسینی کو اپنے مصارف پر میری ماتحتی میں ہندوستانی کتابوں کے مقابلے اور ان کی تصحیح کے کام پر بحال رکھے۔‘‘ (اخلاق ہندی،مقدمہ ڈاکٹر وحید قریشی، ص19)
اس طرح بہادر علی حسینی کو کتابوں کی تالیف اور ترجمے کی ذمے داری سونپی گئی اور جب تک گلکرسٹ فورٹ ولیم کالج میں رہے، بہادر علی حسینی نے ترجمے اور تالیف کا کام کیا۔انھوں نے گلکرسٹ کی فرمائش پر ’اخلاق ہندی ‘ کا سہل اور آسان زبان میں ترجمہ کیا۔ اخلاق ہندی کی کہانیاں سنسکرت زبان میں لکھی گئی تھیں اور سنسکرت سے اسے فارسی میں مفتی تاج الدین نے ترجمہ کیا اور فارسی سے میر بہادر علی حسینی نے اردومیں ترجمہ کیا۔ مفتی تاج الدین کی کتاب ’مفرح القلوب‘ سے اسے ’اخلاق ہندی ‘ کے نام سے اردو میں ترجمہ کیا۔ اردو میں ترجمہ ہونے کے بعد یہ کتاب بہت مقبول ہوئی۔ اس کے ساتھ انھوں نے ’نثر بے نظیر‘ میر حسن کی مشہور زمانہ مثنوی سحر البیان کی کہانی کو بہترین نثر میں بیان کیا۔ پھر ’تاریخ آسام ‘ شہاب الدین طالش ابن ولی محمد کی فارسی کتاب’تاریخ آسام ‘ کا اردو ترجمہ بہادر علی حسینی نے کیا اور اس کے بعد ’رسالہ گلکرسٹ‘کے نام سے ڈاکٹر گلکرسٹ کی کتاب ’ ہندوستانی زبان کے قواعد‘ کا خلاصہ پیش کیا۔
’اخلاق ہندی ‘ ایک ایسی ترجمہ شدہ کتا ب ہے جس کو بہادر علی حسینی نے 1802 میں لکھا اور 1803 میں اسے شائع کیا۔یہ اردوکی سب سے پہلی کتاب ہے جو چھاپہ خانہ سے چھپ کر نکلی۔ یہ کتاب مختلف سبق آموز حکایتوں کا مجموعہ ہے۔ اس کے دیباچے کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ بہادر علی حسینی نے گلکرسٹ کی فرمائش پر نہایت ہی سہل زبان میں اسے ترجمہ کیا جس کی وجہ سے اسے بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ جو ادبی و لسانی اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے۔
ایک فرانسیسی ادیب جس نے 84 سال کی عمر پائی اور اس نے 155سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ اس نے ان کتابوں کو تین زمرے میں بانٹا ہے۔ پہلا اردو ادب کے بارے میں فرانسیسی زبان میں لکھا، دوسرا اردو کی ادبی نگارشات کی تدوین اور تیسرا کئی مشہور اردو ادبی مجموعات کا فرانسیسی ترجمہ ہیں۔ گارساں دتاسی نے تین جلدوں میں ہندوستانی ادب کی تاریخ کے عنوان سے فرانسیسی زبان میں سب سے پہلے اردو ادب کی تاریخ لکھی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ایسا کوئی تاریخی مواد موجود نہیں تھا۔ بہر حال گارساں دتاسی نے میر بہادر علی حسینی کی تحریری و فنی محاسن و صلاحیت کے بارے میں فرانسیسی زبان میں لکھا ہے جس کا اردو ترجمہ لئیق بابری نے ڈاکٹر وحید قریشی کی درخواست پر کی ہے ملاحظہ کیجیے:
’’میر بہادر علی حسینی ہندوستانی زبان کے بڑے قابل توقیر اہل قلم ہیں۔ آپ مشہور و معروف (شاعر) میر حسن کی مثنوی بے نظیر اور بدر منیر کی نقل کے مصنف ہیں۔یہ 1802 میں گلکرسٹ کی زیر نگرانی میر شیر علی افسوس کی نظر ثانی کے بعد کلکتے میں شائع ہوئی۔ اس کا نام ’ نثر بے نظیر‘‘ ہے۔
اس نثری قصے میں شعروں کی بھی ملاوٹ ہے۔ بے نظیر سحر البیان کے ہیرو کا نام ہے۔ 1802 میں اس کا ایک ایڈیشن شائع کرنے کا اہتمام کیا جسے بیاض ہندی کا ایک حصہ بننا تھا مگر اس کے صرف 48 صفحات شائع ہوئے۔ دوسرے ایڈیشن کی نوبت 1803 میں آئی۔
آپ ہندوستانی گرامر پر ایک رسالے کے بھی مصنف ہیں جس کا عنوان قواعد ہندی یا قواعد اردو، یعنی ہندوستانی زبان کے اصول ہے۔یہ گلکرسٹ کی گرامر کا ملخص ہے کیونکہ یہ کلکتہ میں گلکرسٹ کے نام سے چھپا (گلکرسٹ نے پھر اسے رسالہ گلکرسٹ کے نام سے چھپوایا )
آپ ھتوپدیش کے ہندوستا نی ترجمے کے بھی مصنف ہیں جسے آپ نے ’اخلاق ہندی‘ یعنی انڈین ایتھیکس کے نام سے 1802 میں لکھا۔ بہار کے نواب شاہ نصیرالدین کے حکم سے اس کا فارسی ترجمہ ہوا جس کا نام ’مفرح القلوب ‘ہے۔حسینی کے نسخے کا بھی یہی عنوان ہے۔ (جس کا مطلب روح کو نشاط پہنچانے والا ہے )ہمیں یہ کتاب ایسٹ انڈیاہائوس کے قیمتی کتب خانوں برٹش میو زیم اور دوسری جگہوں پر بھی ملتی ہے۔ ہندوستانی ترجمہ کلکتے میں 1803 میں اور مدراس میں دوبار چھپا۔ اس کے کچھ اجزا1828میں ایس آر نو کی وساطت سے لندن میں بھی چھاپے گئے۔اس ترجمے کا خلاصہ تارنی چرن متراور کلکتے کے ڈبلیو پرائس کے ہندی اور ہندوستانی انتخاب میں بھی ملتا ہے۔اس تصنیف کے اور بھی ہندوستانی ترجمے ہیں۔کنگزکالج لندن کے پروفیسر ایم۔ ڈی۔ فوربز کے پاس ترجمے کا ایک نسخہ ہے جو بہادر علی والے نسخے سے بالکل مختلف ہے۔یہ ترجمہ محض لفظی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ بنگالی میں ہوا ہے۔ بد قسمتی سے اس کے مصنف کا نام نہیں ملتا:
کلکتے میں 1803 میں اعلان ہوا کہ ھتوپدیش کا ٹھیٹھ ہندی میں ایک ترجمہ زیر طبع ہے۔مجھے علم نہیں کہ یہ وہی ہے جس کی ایک کاپی کلکتے کی ایشیاٹک سوسائٹی کے پاس ہے اس کا ذکر بنگال کی ایشیا ٹک سوسائٹی کے جرنل میں (بہ زبان انگریزی) اس عنوان کے تحت کیا گیا ہے۔Hitopadesi:with a Hindie translation made by a pundit of the Raja of Bharatpur
میری ذاتی لائبریری میں بھی ھتوپدیش کا ایک مخطوطہ ہے جس میں ہندوستانی ترجمے کے ساتھ سنسکرت اصل بھی ہے۔یہ شلوک در شلوک ترجمہ کیا گیا ہے۔ ایک چھوٹی سی in folio پر دیو ناگری رسم الخط میں ہے۔کتابت بہت اچھی ہے۔‘‘
(مقدمہ ڈاکٹر وحید قریشی، ص 14)
مولوی کریم الدین نے بھی اپنے تذکرے میں اس کا ذکرکیاہے۔ملاحظہ کیجیے:
’’میر بہادر علی حسینی بہت ذی قدر شاعر تھے۔اس نے سحرالبیان کے طور پر ایک کتاب تصنیف کی ہے جس میں بدر منیر اور بے نظیر کا قصہ مشہور بیان کیا ہے۔اس کتاب کا نام ’نثر بے نظیر‘ ہے۔مگر نظم بھی اس میں ملا ہوا ہے۔درمیان 1802 کے کلکتہ میں چھپی تھی اور ایک رسالہ ’ قواعد اردو ‘ جو کہ بنام ’ رسالہ گلکرسٹ‘اردو زبان کے صرف و نحو چھپایا گیا تھا۔تیسرا ترجمہ ہندوستانی’ھتوپدیش‘کا بنام ’اخلاق ہندی‘ جو اس نے درمیانی 1802 کے ایک فارسی ترجمے سے جو بہ حکم شاہ نصیر الدین حیدر نواب بہار کے بنام ’ مفرح القلوب‘ کے تیار ہوا تھا اس نے کیا تھا۔‘‘ (مقدمہ از ڈاکٹر وحید قریشی، ص 16)
اس طرح دیکھا جائے تو میر بہادر علی حسینی نے ابتدائی زمانے میں فارسی سے اردو زبان میں ترجمہ کرکے اردو ادب کے فروغ میں اہم کردار اداکیا۔ ایسا نہیں کہ ان کے ترجمے بھونڈے الفاظ سے مزین ہیں بلکہ ان کے ترجمے میں روانی ہے۔ کہیں کہیں اسلوبیاتی طور پر کمی کا احساس ہوتا ہے تاہم اس زمانے کی مروج زبان کو اگر سامنے رکھیں تو ہمیں مایوسی نہیں ہوگی۔
سب سے پہلے علی حسینی نے ’نثر بے نظیر‘ کا ترجمہ کیا اس کے بعد ’اخلاق ہندی ‘ کا ترجمہ کیا۔ جدید نثر کے فروغ کے لیے سب سے اہم اور خاص بات یہ ہے کہ انگریزوں کو اردو سے آشنا کرانا تھا اور اس کے لیے آسان زبان کی ضرور ت تھی جو انھیں اردو میں نظر آئی اور پھر فورٹ ولیم کالج کا قیام عمل میں آیا اور میر بہادر علی حسینی پہلے منشی کے طور پر مقرر ہوئے۔ ’اخلاق ہندی‘ سنسکرت الاصل مختصر اخلاقی حکایات کا مجموعہ ہے۔ کلیلہ و دمنہ کے تین مستند ترجمے اردو میں پائے جاتے ہیں۔ ’خود افروز‘، ’بستان حکومت ‘، اور ’اخلاقی ہندی ‘لیکن اصل سنسکرت ماخذ کی بھی تین روایتیں موجود ہیں۔پنچ تنتر، ھتوپدیش اور ’کتھا سرت ساگر ‘کلیلہ وددمنہ کی اصل اور قدیم ترین روایت پنچ تنتر ہے۔ ھتوپدیش بعد کی روایت ہے جو نرائن بھٹ نے لکھی۔‘‘ (اردو کی نثری داستان از گیان چند جین ، ص 20-21)
یہ کتاب پہلی بار1804 میں سی رام پور سے زیور طباعت سے آراستہ ہوئی پھر1830 میں کلکتے سے1871 میں کلکتے سے ایک اور ایڈیشن شائع ہوا۔ جانسن نے ہرٹ فورڈسے 1847 میں پہلا ایڈیشن اور 1864 میں دوسرا ایڈیشن نکالا۔ جانسن نے اس سنسکرت کتاب کا ترجمہ بھی ہرٹ فورڈسے 1848 اور 1864 میں شائع کیا۔ جرمن تراجم میکس مولر اورشون برگ نے شائع کیے۔
’’ کتاب کی اولین اشا عت در اصل دیو ناگری رسم الخط میں ہوئی تھی۔‘‘
(گلکرسٹ اور اس کا عہد از محمد عتیق صدیقی، ص 145)
12 جنوری کو گلکرسٹ نے جو فہرست کالج کونسل کو دی تھی اس میں اخلاق ہندی کی تعداد 500 صفحات 228 رسم خط ناگری تخمینہ اخراجات 4500 روپئے ٹیلی گراف پریس میں چھپائی شروع ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔19 اگست 1802 کو ہندوستانی مصنفین کی حوصلہ افزائی کے لیے گلکرسٹ نے انعامات کی سفارش کی۔ اس میں اخلاق ہندی کے 160 صفحات کی اشاعت کی خبر دی گئی ہے اور 150 روپے کا انعام تجویز کیا گیا لیکن کالج کے مستقل ملازم ہونے کی وجہ سے بہادر علی حسینی کو انعام نہ دیا گیا۔
(A Cat. of Hindi, Punjabi and Hindustani : Miss in the library of British Museumby Blumhardt ed 1899 page 55)
اس بات کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ فارسی میں ھتوپدیش کے دو ترجمے ہوئے ہیں ایک ’نگار دانش ‘کے نام سے اور دوسرا ’مفرح القلوب کے نام سے
(A cat. of the Hindi, Punjabi ,and Hindustani :Miss in the library of British Museum by Blumhardt ed1899 p .55)
ان دو روایتوں کے بارے میں سید محمد لکھتے ہیں:
’’ نگار دانش اور مفرح القلوب کے تقریباتمام قصے ایک ہی ہونے کے باوجود اشخاص قصہ کے اسما کے اعتبار سے جداگانہ ہیں اور ایک دوسرا فرق یہ ہے کہ نگار دانش میں بید پائے برہمن وایشلم ( دیو آشرم )سے قصے بیان کرتا ہے اور مفرح القلوب میں اب قصوں کا راوی پنڈت بشن سرما ( وشنو شرما ) ہے۔‘‘ (ایضاً، ص12-22)
(A Cat. of Persian Miss. in the library of India by HermannEtho Vol.I ed 3091 page 3011)
مزید بر آںاخلاق ہندی کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے زیادہ تر کردار پرنداور چرند ہیں جو انسانی سرشت کے بعض پہلوؤں کو پیش کرتے ہیں۔ ان کے یہاں بھی انسانوں کی طرح ہنسنے، بولنے، مصائب و آلام کا شکار ہونے، دکھ درد سے نبرد آزما ہونے، مسائل کے سامنے بے دست و پا ہونے اور پھر کسی نہ کسی غیبی مدد سے اس سے باہر نکلنے کی سبیل نظر آتی ہے۔ ان حکایتوں میں شامل کرداروں میں شیر، گیدڑ، بندر،لومڑی،کوا، ہاتھی کلنگ،سارس، مرغابی، کچھوا، سانپ، مینڈک،مچھلی وغیرہ ہیں جو انسانی زندگی کے ابتدائی نقوش کی وضاحت کرتے ہیں۔ابتدائی زمانے کی تاریخ کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ابتدا میں انسان نہ رہنا جانتا تھا، نہ کھانا جانتا تھا، نہ بولنا جانتا تھا، غرض کہ اس کی زندگی جانوروں کی سی تھی۔ انہی تمام حالات کو تشبیہاتی انداز میں اخلاق ہندی میں پیش کیا گیا ہے۔ ‘‘ ملا حظہ کیجیے:
’’ انسان کی ابتدائی نشو و نما اور زندگی کی وہ حالت جب وہ چوپایوں کی سی بود و باش رکھتا تھا۔غاروں میں رہتابستا تھا، جنگلوں میں درختوں کے پتوں کو کھا کر گزارا کرتا تھا،تمدن کے مہیا کردہ صنعتی وسائل سے آشنا نہ تھا۔ابھی اس کی زندگی نے وہ تنوع اور واقعات تہہ در تہہ گہرائی حاصل نہ کی تھی کہ جذبات کی پیچیدہ صورتیں، احساسات کے انوکھے روپ اور حالات کی بھول بھلیاں اس کی عملی زندگی میں در آئیں۔‘‘
( اخلاق ہندی کا تجزیاتی مطالعہ از وحید قریشی )
چونکہ ’اخلاق ہندی ‘ ایک ترجمہ شدہ کتاب ہے اور اس کے متن میں باغ و بہار کی طرح سلیس، مقفیٰ اور مسجع نثر اگر تلاش کریں گے تو نہیں ملے گی لیکن اس کی تاریخی حیثیت سے انکار نہیںکیا جا سکتا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اخلاق ہندی جن میںکرداروں کا استعمال ہوا ہے وہ بطور علامت ہے تاکہ نثر کا حسن برقرار رہے۔ساتھ ہی جن علامتوں کا استعمال ہوا ہے اس میں ثقالت نہیں ہے اس لیے کہ قاری کے لیے ترسیل کا مسئلہ نہ پیدا ہو جائے۔اس لیے ’اخلاق ہندی ‘ میں شامل کردار علامتی ہیں۔ جیسے شیر کا استعمال بطور ہمت اور دلاوری کے لیے ہوا ہے۔اس کے ساتھ ہی شیر کو بطور بادشاہ کی علامت میں بھی استعمال ہوا ہے۔کوے کا استعمال، گیدڑ کا استعمال علامتی طور پر مکاری کے لیے ہوا ہے۔ جو گی کا علامتی استعمال ظاہری طور پر حرص وہوس اور زہد کی علامت کے طور پر کیا گیا ہے۔ عورت کو مظلوم ذات کی علامت کے طور پر کیا گیا ہے۔لیکن اس کہا نی میں جس طرح عورتوں کے کردار کو مظلوم اور غلامی کی علامت کے طور پر کیا گیا ہے وہ اکثر و بیشتر سماج کے نچلے طبقے کی عورتیں ہوا کرتی ہیں۔ان جملوں کو دیکھیں:
’’ اخلاق ہندی ‘ کے کردار علامتی ہیں شیر دلاوری اور اخلاقی اصولوں سے الگ ہوکر زندگی بسر کرنے کی علامت ہے اور ساتھ ہی بادشاہ کی علامت بھی ہے۔گیدڑ اور کوا مکاری اور دانش وری کی علامت ہیں۔جوگی حرص و ہوس اور زہر کے ظاہری روپ کی علامت ہے۔عورت ہر جگہ قدیم معاشرے کی وہ ستم زدہ عورت ہے جسے ہندو سماج ہمیشہ موم کی مریم جانتا رہا ہے۔اور جس کی اخلاقی زندگی کے بارے میں برہمن طبقہ کبھی مطمئن نہیں رہا لیکن یہ عجیب بات ہے کہ یہ عورتیں اکثر نچلے طبقے کی عورتیں ہیں۔‘‘
(اخلاق ہندی کا تجزیاتی مطالعہ از وحید قریشی ، ص 44-45)
یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ ’اخلاق ہندی‘ کی زبان باغ و بہار کی زبان کی طرح چاق و چوبند نہیں ہے۔لیکن اس میں جملے، عبارتیں مربوط اور صحیح ہیں، اس کے باوجود وہ قاری کے ذہن و فکر پر کوئی خوش گوار اثر نہیںچھوڑ پاتی ہیں۔لیکن ایک بات ضرور ہے کہ اخلاق ہندی تدریسی ضرورتوں کو پوری کرتی ہے اور اس کی زبان بھی تدریسی ہے جو باغ و بہار میں نہیں ہے۔باغ و بہار کی زبان میں فصاحت اور سلاست ہے جو قاری کو تخیل کی دنیا میں بہت جلد لے کر چلی جاتی ہیں اور قاری وہاں پہنچ کر تخیل کی دنیا میں گم ہو جاتا ہے۔لیکن تدریس کا وہاں فقدان نظر آتاہے۔ اردو نثر اس زمانے میں جس دور سے گزر رہی تھی اس وقت اخلاقی تدریس کی ضرورت تھی۔تاکہ ایک منظم اور بہتر سماج وجود میں آسکے۔ اس لیے اخلاق ہندی کو ایک درسی ضرورت کی کتاب کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ملاحظہ کیجیے ان جملوں کو:
’’اخلاق ہندی کی زبان ایک ایسی درسی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔یہ زبان باغ و بہار کی زبان کی طرح چاق و چوبند اور تخلیقی ادب پارے کا درجہ نہیں رکھتی۔ اس میں وہ بیانیہ صلاحیت بھی نہیں ہے جو شیر علی افسوس کوآرائش محفل میں حاصل تھی۔ ترکیب کے بدلے ترکیب اور جملے کے مقابلے میں جملہ لکھا گیا ہے۔صرف کہیں کہیں معمولی انحراف کیا گیا ہے۔اور وہاں بھی ضرب االمثل یا کسی محاورے کے کھپانے کا شوق ہے جس نے الگ ہونے پر مجبور کیا ہے اس کی عبارتیں مربوط اور صحیح ہونے کے باوجود خوشگوار اثر نہیں چھوڑتی جو باغ و بہار کو حاصل ہے۔‘‘
(اخلاق ہندی کا تجزیاتی مطالعہ از وحید قریشی، ص 46-47)
’اخلاق ہندی ‘کی ابتداء بسم اللہ سے ہوتی ہے۔میر بہادر علی حسینی نے اس میں خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے جس نے تمام خلقت میں انسان کو فضیلت عطا فرمائی اور عقل کے تاج مرصع سے دین و دنیا میں اس کے سر زیب و زینت بخشی ہے اسی میں موصوف نے یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کتاب میں شامل حکایات ایسی ہیں جسے سن کر یا پڑھ کر انسان اپنی ذہنی و فکری، اور عملی زندگی میں تبدیلیاں لائے اور ہوشیار ہو جائے۔ابتدائی زمانے میں حکایات اسی مقصد کے لیے سنائے جاتے تھے۔ ان جملوں کو دیکھیں:
’’ غرض ایسے عجیب و غریب قصوں میں قصے لپٹے ہوئے ہیں جن کے دیکھنے اور سننے سے آدمی دنیا کے کاروبار میں بہت ہوشیار، نہایت چالاک ہو جاوے، علاوہ اس کی بھلی بری حرکتیں ہر ایک کی نظر آویں‘ (اخلاق ہندی، ص14)
’اخلاق ہندی ‘کا دوسرا حصہ ’احوال کتاب کا اور ابتدائی قصہ ‘ ہے جس میں فاضل مصنف نے کتاب کے حوالے سے احوال بیان کیا ہے۔اس کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کہانی کے پس منظر کا زمانہ چندر سین کا تھا۔اور گنگا ندی کے کنارے بسا شہر جس کا نام مانک پور تھا۔ چندر سین وہاں کا بادشاہ تھا۔ ساتھ ہی اس کے مطالعے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس کے بیٹے اس کے سامنے بے ادبوںکی طرح کھڑے رہتے تھے۔ وہیں یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اگر انسان کے پاس علم نہیں ہو تو اس کی زندگی جانوروں کی طرح ہو جاتی ہے۔اسے نہ جینے کا سلیقہ آتا ہے،نہ بیٹھنے کا، نہ کھا نے کا اور نہ بولنے وغیرہ کا۔ اس لیے اس کتاب میں وضاحت کی گئی ہے کہ علم ایک ایسی چیز ہے جسے کوئی چرا نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی اسے چھین سکتا ہے بلکہ اس کو جتنا بانٹا جائے گا یہ اتنا ہی بڑھے گا۔۔ ذرا ان جملوں کو دیکھیے:
’’ہند میں گنگا کنارے ایک شہر تھا نام اس کا مانک پور اور راجاوہاں کا چندر سین تھا اور جتنے ذات بھائی اس کے برابر تھے سب اس کے حکم میں رہا کرتے تھے۔ ایک دن راجا اپنی سلطنت کے تخت پر بیٹھا تھا اور بیٹے اس کے پاس بے ادبوں کی طرح سامنے کھڑے تھے۔ایک شخص یہ بد وضعی ان کی دیکھ کرکہنے لگا۔ جس کو علم نہیںوہ اندھا ہے۔ اگرچہ آنکھوں سے دیکھتا ہے لیکن علم وہ چیز ہے کہ جس کی قوت سے مشکلیں حل ہو جاتی ہیں اور غنی وہ ہے جس کو علم کی دولت ہو کیونکہ نہ اسے کوئی چور لیوے نہ اس پر کوئی دعوی کر سکے اور نہ کسی پر معلوم ہوکہ وہ رہتی کہاں بلکہ جتنی خرچ کیجیے اتنی ہی بڑھے کسی طرح کم نہ ہو۔‘‘ (اخلاق ہندی ، ص6)
راجہ کے محل میں بیٹھے ہوئے جتنے عقلمند اور علم داں انسان تھے سبھوں نے یکے بعد دیگرے راجا کے سامنے اچھی اچھی با تیںبتائیں ایک عقل مند نے کہاکہ لڑکا علم اپنی ماں کے پیٹ سے لے کر پیدا نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ اس دنیا میں آکر سیکھتا ہے۔ایک برہمن نے کہا کہ وہ راجا کے لڑکے کو جہالت کے بھنور سے نکال کر علم کی کشتی میں سوار کر سکتا ہے۔اور اس کے بیٹوں کو چھ مہینے میں قابل کر دے گا۔اس کے بعد راجا کے لڑکوں نے اس طرف توجہ دی اور حکایت آگے بڑھنے لگی اور ایک کتاب کی شکل میں وجود میں آگئی۔
’اخلاق ہندی ‘ کل چار ابواب میں منقسم ہے۔ پہلے باب میں 9 حکایتیں ہیں۔ دوسرے باب میں 13حکایتیں، تیسرے باب میں 11 حکایتیں اور چوتھے باب میں 9 حکایتیں ہیں اس طرح کل ملا کر اس کتاب میں 42 حکایتیں شامل ہیں۔
پہلے باب میں شامل حکایتیں اس طرح ہیں: متر لابھ یعنی فائدہ جو یاروں سے یاروں کو حاصل ہو،لگ پتنگ کوے اور چڑی مار کی داستان،حکایت بوڑھے باگھ اور مسافر کی، حکایت سبدھ کوے اور ہرن، اور چھدر بدھ گیدڑ کی،نقل ایک گدھ اور بلی کی،نقل چندر سین بنیا اور کیلاوتی بنیے کی بیٹی اور منوہر بقال کی،نقل پرمان نام حاکم اور ارتھ لوبھی گیدڑ کی، نقل تنکبیر نام کے ایک شخص اور نوجوبنا بقال کی بیٹی کی، نقل دھول تلک ہاتھی اور آتمانام گیدڑ کی۔
پہلے باب میں شامل کوے اور چڑی مار کی داستان ہے جس میں کبوتروں کا بادشاہ اپنی فوج لے کر میدان میں آپہنچااور زمین پر بکھرے ہوئے دانوں کو چننے کی خواہش ہوئی اتنے میں چتر گریو نے دوسرے کبوتروں سے کہا کہ اس جنگل میں دانے کہاں سے آگئے لگتا ہے کوئی شکاری، شکار کرنے کے لیے یہ گرایا ہے تاکہ دانہ کھا نے کے لیے اترنے والے کبوتروں کو جال میں پھنسا کر پکڑ لیا جائے۔ اس لیے اس دانے میں فریب ہے۔ اس لیے حکایت کے بیان میں جس زبان کا استعمال ہوا ہے وہ، اس زمانے کی مروج زبان تھی۔ اس لیے اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ان جملوں کو دیکھیے:
’’آخرش کچھ ایک آگے بڑھ کر تھوڑے چاول جھولی سے نکال کر ایک جگہ پر درخت کے نیچے چھٹکائے اور اپنے کاندھے کا جال اس پر بچھاکر آپ ایک گوشے میں چھپ رہا۔‘‘ (کوے اور چڑی مار کی داستان، ص10)
یہاں ’آخرش ‘ بمعنی آخر استعمال ہوا ہے۔’آپ ایک گوشے میں چھپ رہا‘ بمعنی ایک گوشے میں خود کو چھپالیا تاکہ چڑیوں کی نظر اس پر نہ پڑے۔اس چھوٹی سی حکایت میں پنڈت وشنو شرما نے یہ سبق دینے کی کوشش کی کہ انسان کو اگر کسی چیز میں فائدہ نظر آئے تو پہلے اس پر غور و خوض کرنا چاہیے کہ کہیں اس کے پیچھے کوئی سر کشی کا راز تو نہیں ہے اس کے لیے علم کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لیے انسان کو علم کے حصول کے لیے ہمیشہ کوشاں رہنا چاہیے۔ پہلے باب کی اگلی حکایت ’بوڑھے باگھ اور مسافر کی‘ ہے۔ یہ حکایت عام ہے نچلے درجے میں اس کہانی کو بطور سبق پڑھایا جاتا ہے۔اس حکایت کے ذریعہ انسانی فطرت کی عکاسی کی گئی ہے۔کہ انسان چاہے جس عمر کو پہنچ جائے اس کی فطرت نہیں بدل سکتی ہے اس لیے انسان کو اس کی فطرت سے بچ کر رہنا چاہیے دوسری بات جو اس حکایت میں پیش کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسان اگر اپنے اندر سے حرص و طمع کو نکال دے تو مشکلات میں پڑنے سے بچ سکتا ہے۔ بوڑھے باگھ اور مسافر کی کہانی اسی بات کو درشاتی ہے۔ایک باگھ بوڑھا ہو چکا تھا اور اب وہ شکار نہیں کر سکتا تھا اس کے پاس ایک سونے کا پایل تھا وہ ایک چشمے کے کنارے بیٹھ گیا اور جو مسافر وہاں سے گزرتا اسے پایل دینے کی لالچ دیتا، لوگ اس سے ڈرتے لیکن شیر کہتا کہ وہ اب بوڑھا ہو چکا ہے اس لیے اب شکار نہیں کرتا۔ لالچ میں آنے کے بعد جو اس کے پاس جاتاشیر اسے مار کر کھا جاتا۔ اسی طرح اور بھی دیگرکہانیاں ہیںملاحظہ کیجیے ایک اقتباس تاکہ اخلاق ہندی کی لسانی اہمیت بھی واضح ہوجائے:
’’ قضاکار ایک روزکسی مسافر اجل گرفت کو یہ ہوس ہوئی کہ اس زیور کو شیر سے لیا چاہیے۔ دل میں خیال کیا ایسا مال مفت پھر کہاں ہاتھ آوے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ میرے بخت نے یاوری کی اور طالعوں نے مدد کی۔ یہ سمجھ کر چاہا کہ باگھ کے پاس جاوے پھر جان کی دہشت سے اندیشہ کرنے لگا کہ یکایک دشمن کی میٹھی بات پر بھروسا نہ کیا چاہیے۔ اگرچہ اس کے نزدیک پایل ہے پر اسے کیوں کر لوں۔ چنانچہ زہر کے ساتھ چند شہد ملا ہوتا تاہم ا س میں خطرہ جان کا ہے اور جس برائی میں بھلائی شامل ہو وہ بھی خوب نہیں۔ پھرمن میں سوچا جہاں گنج تہاں مار، جہاں پھول تہاں خار اور زر کے محتاج کو ہر جگہ خوف ہے۔‘‘ (اخلاق ہندی، ص11 )
اس کی لسانی اور ادبی اہمیت اس لیے مسلم ہے کہ یہ نثر ابتدائی زمانے کی ہے۔جب اردوکا رواج دھیرے دھیرے عام ہورہا تھا۔ فارسی سے اردو میں ترجمے کی بابت یہ ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ چناچہ میر بہادر علی حسینی کو جب یہ ذمے داری دی گئی تو انھوں نے جس طرح سہل زبان میں فارسی سے اس کا ترجمہ اردو میں کیا کہ پڑھنے سے پتہ نہیں چلتا ہے کہ اس اس کا ترجمہ فارسی سے کیا گیا ہے۔اس نثر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے اندر روانی بھی ہے اور سلاست بھی۔ ثقیل الفاظ کے استعمال سے اجتناب بھی برتا گیا ہے۔اب رہی بات دھیرے دھیرے ہر چیز مشکل سے آسان ہو جاتی ہے اور وہی حال لسان کا بھی ہوتا ہے۔ اس وقت بہادر حسینی نے جن الفاظ کا استعمال کیا جیسے’مفت کہاں ہاتھ آوے گا‘، ’ یہ سمجھ کر چاہا کہ باگھ کے پاس جاوے‘، ’ میٹھی بات پر بھروسا نہ کیا چاہیے‘، ’پھر من میں سوچا جہاں گنج تہاں مار،جہاں پھول تہاں خار‘ وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جو آج کے مقابلے غیر استعمال شدہ لگتے ہیں لیکن ان دنوں ایسے ہی الفاظ کا رواج تھا اور لوگ اسے خوب پسند کرتے تھے۔ علی حسینی کے الفاظ کے استعمال میں مشکل پسندی نہیں ہے۔ ’ہاتھ آوے گا‘بمعنی ’ہاتھ آئے گا‘، ’ باگھ کے پاس جاوے ‘ بمعنی ’باگھ کے پاس جائے‘، میٹھی بات پربھروسا نہ کیا چاہیے‘بمعنی بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، ’جہاں پھول تہاں خار‘ بمعنی جہاں پھول وہاں خار استعمال ہوئے ہیں۔ اس طرح اخلاق ہندی میں استعمال زبان وبیان کی اہمیت سے انکار نہیں کیاجا سکتا۔ ہے۔میر بہادر علی حسینی نے ترجمے کے وقت اخلاق ہندی کی حکایتوں میں ضرب المثل کا بھی استعمال کیا ہے۔جس سے اس کی نثر کی لسانی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔مثال کے طور پر اسے دیکھیں:’اگر دن برا آتا ہے تو نیک کام بھی بد ہوجاتا ہے‘، ’ گوالا جب گائے دوہتا ہے تب بچھڑے کے گلے کو گائے کے پائوں سے باندھ دیتا ہے اس وقت وہی پائوں بچھڑوں کے لیے بیڑی ہوتا ہے اور وہ گوالا اپنا مطلب حاصل کرلیتا ہے ‘، ’فراغت میں ہر کوئی کہتا ہے کہ میں تمہارا دوست ہوں‘۔ ایسے ضرب المثل ہیںجس کو آج بھی روزانہ کی زندگی میں کہیں نہ کہیں استعمال کیا جاتا ہے۔اس سے اس بات کا اندازہ ہوتاہے کہ ’ اخلاق ہندی ‘ کی زبان سہل ہے، نثر میں روانی ہے اور لفظوں کے استعمال میں احتیاط برتی گئی ہے۔اور جیسے تیسے کتاب کا ترجمہ نہیں کردیا گیا ہے۔
دوسرے باب میں کل 13 حکایتیں شامل ہیں۔ان میں ’داستان بھاگ بھرتا بنیے اور سنجوگ اور نندوک بیل کی‘ ، ’حکایت سنجوگ اور پنگل نام شیر کی‘، ’حکایت دو گیدڑ دوتک و کرتک کی‘ ، ’ نقل ایک بڑھئی اور بندر کی‘، ’ نقل شام بھگت گدھے اور کنجو دھوبی کی ، ’ نقل کرپاکنور اور دھنپت چوپڑ باز کی‘ ، ’ نقل گندھر کنیت اور نندو نائی اور ساد کنوار کی ‘ ، ’ نقل ساد کنوار اور پنڈ کی کسی کی ‘ ، ’ نقل سیتا رام اور اس کی بہن کی ‘ ، ’ نقل ایک مالن اور اس کے یاروں اور اس کے خصم کی ‘، ’نقل ایک کوے اور ایک سانپ کی ‘ ، ’ نقل ایک خرگوش اور ایک شیر کی ‘ ، ’ نقل استاد اور شاگرد کی‘شا مل ہیں۔
دوسرے باب میں ’ بھاگ بھرتا بنیے اور سنجوگ اور نندوک بیل کی ‘یہ جو حکایت بہادر علی حسینی نے پیش کی ہے وہ بہت ہی سبق آموز ہے۔ انسان کے پاس اگر ہمت ہو تو وہ مشکل سے مشکل کام یا مشکل حا لات میں بھی کامیاب ہو سکتا ہے۔سنجوگ جسے بنیے نے معذور سمجھ کر جنگل کے قریب چھوڑ دیا تھا وہاں کھا کر صحت مند ہوگیا اور اس جنگل سے ایک روزشیرپانی پینے کے لیے ندی کے کنارے آیا اور اس نے اس شیر کو دیکھ کر اپنی سینگیں زمین پر مارنے لگا اور زور زور سے دھاڑے مارنے لگا۔ یہ دیکھ کر شیر ڈر گیا اور خوف کے مارے بھاگ گیا۔ جب کہ شیر اور بیل کے درمیان مقابلے کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ شیر ہر حال میں طاقت ور ہوتا ہے اور بیلوں اور گائیوں کو مار ڈالتا ہے ۔لیکن اگر کوئی اپنی کمزوری کے باوجود عزم مصمم رکھتا ہو تو وہ کامیاب ہوتا ہے۔ یہ کہاوت آج بھی مشہور ہے۔اور کا م آتی ہے۔ ان جملوں کو دیکھیے:
’’ ایک روز وہ ندی کے کنارے چرتا تھا کہ پنگل نام ایک شیر ( جو اس جنگل کی بادشاہت کرتا تھا ) پانی پینے کے لیے آنکلا۔ بیل اس شیر کو دیکھ کر مارے مستی کے کھور وکرنے اور سینگوں سے زمین کھودنے لگا اور جیسا بادل گرجتا ہے ویسا ہی ڈکارنے۔ شیر نے جو اسے اس طرح دیکھا تو اس کے ڈر کے مارے بھاگ کر اپنی آکھری میں جا گھسا اور جی میں کہنے لگا کہ آج خدا نے میری جان بچائی۔ کئی برس سے میں اس جنگل کی بادشاہت کرتا ہوں لیکن ایسی بلا اور ایسا مہیب جانور میں نے آج لگ نہیں دیکھا۔‘‘
(اخلاق ہندی، حکایت سنجوگ اور پنگل نام شیر کی، ص40)
اس حکایت کے بیان میں سلاست بھی ہے اور روانی بھی اور سبق بھی شامل ہے۔ حکایتوں کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ قاری اسے پڑھے اور پڑھ کر کچھ سبق حاصل کرے اور اس کو اپنی زندگی میں اتارنے کی کوشش کرے۔ لہٰذا اس کتاب کی لسانی اور ادبی اہمیت مسلم ہے اور آج بھی اس کتاب کا مطالعہ کیا جائے تو لگتا نہیں ہے کہ یہ بہت پہلے کی ترجمہ شدہ کتاب ہے۔ اس کی چاشنی اور تازگی اب بھی برقرار ہے۔ہاں اتنی بات ہے کہ باغ وبہار کے مقابلے اس کی ادبی اہمیت کچھ کم ضرور ہے لیکن تدریسی سطح پر یہ باغ و بہار پر سبقت لے جاتی ہے۔
تیسرے باب میںکل 11 حکایتیں شامل ہیں۔ ان میں ’ نقل قاز اور ہدہد کی ‘ ، ’نقل ایک بندر اور پرندوں کی‘ ، ’ نقل پارس ناتھ دھوبی اور اس کے گدھے اور ہرن کی ‘ ، ’ نقل ایک حجام اور اس کی فاحشہ جورو کی ‘ ، ’ نقل ایک مسافر اور ہنس اور کوے کی‘، ’نقل ایک کمینے اور صوفی اور اہیرنی کی ‘ ، ’نقل نروتم کمھار اور اس کی جورو بدکارہ کی ‘، ’نقل رائے مدن پال سارنگ کی‘ ،’ نقل رائے منڈوک اور بیربل راجپوت کی‘، ’ نقل کرنا بھاٹ اور برہمنوں کی ‘، اور ’نقل نرند بڑھئی اور گورکھ ناتھ جوگی کی ‘ شامل ہیں۔
چوتھے باب میں شامل حکایتیں کل 9ہیں۔ ان میںنقل ’دو قاز کچھوے اور مچھوے کی ‘، ’نقل ایک کچھوے اور بنیائن ار غلام کی ‘، ’نقل ایک سانپ اور بگلے کی ‘، ’ نقل ایک جوگی اور چوہے کے بچے کی ‘، ’نقل ایک بوڑھے بگلے اور مچھلیوں کی ‘، ’نقل شادی نام ایک بنیے اور الوالی نعل بند کی‘، ’نقل ایک ملتانی اور رندوں کی ‘، ’نقل ایک سانپ اور مینڈکوں کے بادشاہ کی ‘، ’ اور نقل ایک برہمن اور نیولے کی ‘۔
اس طرح کل ملاکر 42 حکایتیں اس کتاب میں شامل ہیں اور ان حکایتوں کے ذریعہ عام انسانوں کو یہ جانکاری فراہم کی گئی ہے کہ اگر انسان اپنی زندگی کو کامیابی کے ساتھ گزارنا چاہتا ہے تو اسے علم کو علم کی طرح حاصل کرنا ہوگا اور عقل کے گھوڑوں کا صحیح استعمال کرنا ہوگا نہ کہ راجا کے ان بے ادب بیٹوں کی طرح۔ پیسہ، مال دولت سب کچھ نہیں ہوتا ہے بلکہ مال و دولت کی حفاظت کے لیے بھی علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یہ سب نہ ہوں تو دولت کو برباد ہونے میں وقت نہیںلگتا ہے۔
جب پنڈت بشن شرما نے پوری حکایت راجا کے بیٹو ں کو سنائی اور انھیں سمجھایا بجھایا کہ کس طرح زندگی گزارنی چاہیے تاکہ آبا و اجداد کے مریادائوں کو بچا کر رکھا جا سکے۔ راجا بہت خوش ہوا اور اس نے پنڈت کو بہت سارا دان دچھنا دیا اور بہت ہی تعظیم کے ساتھ رخصت کیا۔
مختصر یہ کہ پنڈت بشن شرما نے ابتدا سے آخر تک یکے بعد دیگرے حکایات کو بیان کر دیا۔ داستان کی جو ایک صفت رہی ہے کہ ایک کہانی کے اختتام پر دوسری کہانی اس سے جڑ جاتی ہے وہی چیز ہمیں یہاں دیکھنے کو ملی۔چونکہ اس کتاب کا نام اخلاق ہندی ہے اس لیے ان حکایتوں میں مافوق الفطری عناصر،وغیرہ کی کار فرمائی کم نظر آتی ہے۔ اس میں طوالت ہے، بیانیہ پن ہے۔ اس کی تہذیبی قرأت اپنی جگہ مسلم ہے اس کی لسانی اور ادبی اہمیت ان معنوں میں بھی برقرار رہے گی کہ اس کی نثر سادہ اور رواں ہے کیونکہ اس میں فارسی و عربی کے ثقیل الفاظ کے بجائے ہندوی اور عام فہم الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ کتاب فورٹ ولیم کالج کے تعلیمی مقاصد کے مطابق گلکرسٹ کی فرمائش پر لکھی گئی جس سے اردو کی تعلیم اور ادبی اہمیت بڑھی۔ اس کتاب کی سب سے اہم بات یہ بھی ہے کہ اردو ہندی کا اشتراک اس میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔سنسکرت کی حکایات پر مبنی ہونے کی وجہ سے اس میں مشترکہ تہذیب اور زبان کا رنگ جھلکتا ہے جو اردو اور ہندی کے باہمی اشتراک کی ایک مثال ہے۔ ساتھ ہی اس کتاب نے اردو میں اخلاقی اور حکایتی داستانوں کی روایت کو مستحکم کیا ہے۔ مختصر یہ کہ اخلاق ہندی زبان کی سادگی، روزمرہ زبان کے استعمال اور فارسی کے اثرات سے نکل کر مقامی رنگ اختیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔اس لیے اس کی لسانی اور ادبی اہمیت نمایاں ہے۔


Dr. Mohammad Ali Husain Shaiq
Kashan-e-Mustafa, Block No: 3, Room No: 2/1
Thana Road, Jagtadal
24 Pargana (Shimal) (West Bengal)
Mob.: 9831530259
mahshaiq@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ہندوستان میں سماجیات اور تاریخ کے جدید رجحانات، از عائشہ بیگم

 ماہنامہ اردو دنیا، جون 2024 سماجیات ہندوستان کے ذیلی براعظم میں سماجیات کی تاریخ بہت ہی مختصر ہے۔ سب سے پہلے 1919 میں بمبئی یونیورسٹی میں سرپیٹرک گڈس کا تقرر

نیر مسعود کے افسانوں کی انفرادیت، مضمون نگار: آصفہ زینب

 اردو دنیا، اکتوبر 2024 نیر مسعود کا شمار برصغیر میں فارسی ادب کے علاوہ اردو ادب کے چند اہم دانشوروں میں کیا جاتا ہے۔ ان کی نثر بظاہر بہت صاف

متن، معنی اور نقد بنیادی مسائل و مباحث مضمون نگار:۔ شاکر علی صدیقی

متن، معنی اور نقد  بنیادی مسائل و مباحث    شاکر علی صدیقی تنقیداصلاً عربی لفظ’نقد ‘سے مشتق ہے۔اس کے لغوی معنی کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کرنا ہے۔ حالانکہ لفظ’