دورِ حاضر میں پریم چند کی معنویت وافادیت،مضمون نگار:صغیر افراہیم

July 6, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، جولائی 2026:

پریم چندکی افسانوی شخصیت قدیم و جدید افکار و نظریات کا سنگم تھی۔ ایک طرف وہ ان صحت مند روایات و اقدار اور تہذیب و تمدن کے پاسدار تھے جو ماضی کے ہندوستان کی شناخت تھی، دوسری طرف وہ نئے علوم و فنون کے دلدادہ اور اپنے ہم وطنوں میں انھیں رائج کرنے کے خواہاں تھے۔ اِسی لیے ہندوستانی ادب میں ان کی ہمہ جہت فکری اور فنی کاوشوں کو ایک مستقل عنوان کی حیثیت حاصل رہی ہے، جس کا سلسلہ ہنوز بر قرار ہے۔ ان کی جدّتِ طبع اور نُدرتِ اظہار کا اعتراف یوں تو ان کی زندگی ہی میں ہونا شروع ہو گیا تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی ارضیت پسندی، انسان دوستی اور ادبی وسیع النظری کا اعتراف بڑھتا ہی گیا ہے۔
برس بعد بھی ان کی اہمیت و انفرادیت کا یہ سب سے بڑا اظہار ہے کہ روایتی ادب ہو یا حقیقت پسندی کا دور، رومانی طرزِ احساس ہو یا ترقی پسند رُجحان، جدیدیت کا زمانہ ہو یا ما بعد جدیدیت، پریم چند کی تفہیم ہر دور اور ہر ادبی رُجحان کے تناظر میں کی گئی ہے۔ مختلف نقطہ ہائے نظر رکھنے والوں نے مختلف زاویہئ نگاہ اختیار کیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ سماج و ادب کی اصلاح سے تعلق رکھنے والے مصلحین و مبلغین نے ہی نہیں بلکہ علم وفن کے دانشوروں نے پریم چند کو کسی نہ کسی زاویے سے اپنایا ہے اور یہی ایک بڑے تخلیق کار کا اعزاز ہوتا ہے کہ دوسرے فن کار اپنے تخلیقی تجربوں کو اس کے آئینے میں دیکھنے کی سعی کرتے ہیں۔
ایک چھوٹی مگر اہم مثال پیش کرنا چاہتا ہوں۔ صنف افسانہ میں پریم چند کے ساتھ راشد الخیری کا بڑا نام سامنے آتاہے۔ یا راشد الخیری کے ساتھ پریم چند منظرِ عام پر آتے ہیں۔ دونوں فنکار1936میں اِس دُنیا سے رُخصت ہوئے۔ راشد الخیری کے 27/افسانوی مجموعوں، 11/معاشرتی اور 10/نیم اسلامی ناولوں کے ساتھ تاریخ وسیرت پر آٹھ، شاعری کے دو اور مضامین کے نو مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے ادب کا محور مشرقی روایات اور تہذیب کو قائم رکھنے کی کوشش، نیز طبقہئ نسواں کی فلاح رہا ہے۔ دونوں نے عملی جدوجہد میں بھی حصّہ لیا۔ پریس لگایا، اخبار ورسائل نکالے۔ ایک نے مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کو نمایاں کرنے کی کوشش کی تو دوسرے نے عام انسانی عظمت کو بنیادی موضوع بنایا۔ ایک کے یہاں دُرافشانی ہے تو دوسرے نے عام فہم الفاظ کے ذریعے معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھا اور کارآمد نسخہ تجویز کیا۔ اِس طرح بیسویں صدی کے ابتدائی ایام سے آج تک کے افسانوی ادب (اس میں غیر افسانوی ادب بھی شامل کرسکتے ہیں) کا تجزیاتی محاکمہ کریں تو پریم چند کی حیثیت ایک ایسے نقیب کی اُبھرتی ہے جو شش جہت آزادی، خوشحالی، یکجہتی اور مساوات کا متلاشی رہاہے۔ انھوں نے بدلتے ہوئے وقت کے مطابق ادب کی اہمیت اور افادیت کو محسوس کرتے ہوئے 9اپریل 1936کو اپنے خطبہئ صدارت میں کہا تھا:
”— جس ادب سے ہمارا ذوق صحیح بیدار نہ ہو، روحانی اور ذہنی تسکین نہ ملے، ہم میں قوت وحرکت پیدا نہ ہو، ہمارا جذبہ حسن نہ جاگے، جو ہم میں سچا ارادہ اور مشکلات پر فتح پانے کے لیے سچا استقلال پیدا نہ کرے، وہ آج ہمارے لیے بیکار ہے۔ اس پر ادب کا اطلاق نہیں ہوسکتا“۔(روشنائی، سجاد ظہیر، ص:118)
ترقی پسند مصنفین کی پہلی کُل ہند کانفرنس میں پیش کیا جانے والا یہ تاریخی خطبہ آج بھی پریم چند شناسی کے خلا کو پُر کرنے کی کامیاب سعی ہے۔ وہ نہ صرف قصہ کہانی کو محل سراؤں سے نکال کر چوپال کی طرف لائے بلکہ اس کو اعتبار واعتماد بھی عطا کیا۔ یہی جدّت ہمیں ان کی کردار نگاری میں بھی نظر آتی ہے کہ انھوں نے ان کرداروں کو عظمت کادرجہ دیاجن کا سماج میں کوئی مقام نہیں تھا اور انسانی نقطہ نظر سے عموماً ان کو نظر انداز کیا جاتا تھا۔ زبان وبیان کے اظہار میں بھی وہ ایسی تبدیلیاں لائے جو لائق فخرو قابلِ ستائش ہیں۔ یہی بنیادی وجہ ہے کہ پریم چند کی صفات وکمالات کی تعریف وتوصیف ترقی پسندوں کے علاوہ رومانی طرز کے عاشقوں، حلقہئ ارباب ذوق، جدیدیت اور مابعد جدیدیت سے وابستہ دانشورانِ ادب کے طبقوں نے کی ہے اور یہ سلسلہ ہنوز برقرار ہے۔ چنانچہ ان کا اتباع محض تخلیقی فنکاروں ہی نے نہیں کیا بلکہ ناقدین بھی نئے نئے نکات کے تئیں پریم چند کی تحریروں کا معروضی مطالعہ کررہے ہیں۔
تخلیقی ادب میں سدرشن، اعظم کریوی، علی عباس حسینی، حامد اللہ افسر، حکیم یوسف حسن، رشید جہاں، اوپندر ناتھ اشک، عزیز احمد، احمد ندیم قاسمی، دیویندر ستیارتھی، رام لعل، بلونت سنگھ، قاضی عبدالستار، رتن سنگھ، عارف نقوی کے بعد نئی نسل تک یہ سلسلہ دراز ہے۔ خواتین میں شیورانی دیوی، سرلادیوی، کوشلیا اشک، ساوتری گوسوامی، جیلانی بانو، رینوبہل، ناصرہ شرما، نمیتا سنگھ، گیتانجلی شری، ثروت خان کے یہاں پریم چند کا تتبع نمایاں ہے۔ سُریندر پرکاش، شوکت حیات، انور قمر، سلام بن رزّاق کے علاوہ جن فکشن نگاروں نے پریم چند کی تخلیقات کو مرکز ومحور بناکر قصّہ کو نئی شکل میں آگے بڑھایا ہے ان میں علی ضامن کا ناول ”گؤدان کے بعد“ اور اسلم جمشید پوری کا افسانہ ”عید گاہ سے واپسی“ بہت نمایاں ہیں۔
تنقیدی زاویہئ نگاہ سے دیکھیں تو فن پاروں کو نت نئے انداز سے پرکھنے کا سلسلہ عہد پریم چند سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ نیاز فتح پوری، دیانرائن نگم، پیارے لال شاکر میرٹھی، سجاد ظہیر، وقار عظیم، واجد قریشی، لطیف الدین احمد، عزیز احمد، رشید احمد صدیقی، عابد حسین، صالحہ عابد حسین، ممتاز حسین، احتشام حسین، آل احمد سرور، اصغر علی انجینئر، رام لال نابھوی، قمر رئیس، یوسف سرمست، محمدحسن، ابواللیث صدیقی، شکیل الرحمن، عتیق احمد، گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی، صادق، جعفر رضا زیدی، سلیم اختر، مدن گوپال، ہنس راج رہبر، شمیم نکہت، ابوالکلام قاسمی، پردیپ جین، علی احمد فاطمی، ارتضیٰ کریم، سیما صغیر تک دراز ہے۔ پیارے لال شاکر میرٹھی ان کے عکس ونقش کو اِس طرح اُبھارتے ہیں:
”پریم چند کو مطالعے کا بہت شوق تھا۔ شاید ہی کوئی موضوع ایسا ہو جس پر ایک آدھ کتاب ان کی نظر سے نہ گزری ہو۔ اس کے ساتھ ہی حافظہ بھی بلا کاتھا—“۔
ل-احمد (لطیف الدین احمد) کے مطابق:
”پریم چند کی توجہ زیادہ تر معاشرتی مسائل پر مرکوز رہی اور انھوں نے بالعموم ادنیٰ اور متوسط طبقہ کی زندگی کو پیش کیا ہے—“۔
رشیداحمد صدیقی لکھتے ہیں:
”پریم چند کے ناولوں اور کہانیوں میں ان کے عہد تک کے ہندوستان کی معاشی، سیاسی، طبقاتی اور عوامی کشمکش کا بڑا واضح اور تابناک نقشہ ملتاہے“۔
سید احتشام حسین رقم طراز ہیں:
”پریم چند کا ذہن ارتقا پذیر تھا۔ ان کا فن حالات کے ساتھ ترقی کررہا تھا۔ ان کے خیالات،واقعات کی رفتار کا ساتھ دے رہے تھے۔ وہ ہندوستانی عوام کی روح میں اُتر کر ان کے دکھ درد، ان کے کرب واضطراب، ان کی مایوسی اور اُمید، ان کے خوابوں اور خیالوں کو دیکھ سکتے تھے۔ وہ انھیں اُس جال سے نکال کر ایک بہتر زندگی کا خلعت دینا چاہتے تھے جس میں وہ صدیوں سے جکڑے ہوئے تھے“۔
قمر رئیس لکھتے ہیں:
”پریم چند پہلے ادیب ہیں جن کی نظر حیاتِ انسانی کے اس انبوہ میں ان مجبور اور مقہور انسانوں تک پہنچی جو قدرت کے دوسرے بے زبان مظاہر کی طرح صدیوں سے گونگے اور بے زبان تھے۔ پریم چند نے انھیں زبان دی“۔
آل احمد سرور نے ان کے فن پاروں کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے:
”ہم اپنے سماج کے زخموں اور ناسوروں سے، اپنی جہالت اور پراگندگی سے منھ چھپا کر بیٹھنا چاہتے ہیں مگر پریم چند ہماری خلوتوں اور پناہ گاہوں میں گھس کر ہمارے دلوں پر کچوکے لگاتے ہیں —“۔
پریم چند نے اپنے کالم ”ہمارے نتیاؤں کی بہکی باتیں“ (ہنس، اپریل 1931)، ”رشوت کی گرم بازاری“ (ہنس، 31/جولائی 1933)، ”نیائے میں وِلمب انیائے ہے“ (جاگرن، 14مئی 1934) یا اداریہ ”جرمنی میں یہودیوں کا اتیاچار“ (جاگرن،10اپریل 1933) یا پھر مضامین ”قوتِ بیانیہ“ (مخزن 1908) ”ناول کا فن“ (زمانہ اکتوبر 1922)، ”ناول کا موضوع“ (زمانہ جنوری 1925)، ”مختصر افسانے کافن“ (مضامین پریم چند مرتبہ عتیق احمد، انجمن ترقی اردو پاکستان 1981)، میں نقدونظر کے میزان ومعیار کا جو سلسلہ شروع ہوگیا تھا، ان میں جدید مغربی رجحانات ونظریات کے توسط سے عصرِ حاضر کے صحافی اور ناقدین رنگ وروغن بھررہے ہیں۔
اردو دنیا میں عموماً ان کی ادبی جہات کا دائرہ کار افسانوں، ناولوں اور ڈراموں پر رہا ہے۔ کسی حد تک انشائیہ نگاری پر بھی توجہ دی گئی ہے مگر اکیسویں صدی کے آغاز سے ایک ناقد، مکتوب نگار، صحافی اور مترجم کی حیثیت سے بھی ان پر تحقیقی وتنقیدی کام شروع ہوا ہے۔ اردو میں ان کے اِس کم معروف پہلوؤں پر مدلل اور مسلسل گفتگو سے پریم چند کی مجموعی تخلیقی شخصیت پر مزید تحقیقی اور تنقیدی کام کرنے میں نئی نسل کوآسانیاں فراہم ہورہی ہیں۔ اِن پہلوؤں پر یکسوئی اور دلجمعی سے کام کرنے (کتاب ”پریم چند- ایک نقیب“- ”پریم چند کی تخلیقات کا معروضی مطالعہ“) کی بنا پر مستقبل میں پریم چند کی قدروقیمت صرف اِس معیار سے متعین نہیں کی جائے گی کہ انھوں نے اردو کے افسانوی ادب کو معیار واعتبار بخشا، بلکہ اُس وسیع ادبی ذخیرے کابھی مطالعہ کیا جائے گا کہ پریم چند نے فکشن کے علاوہ غیر افسانوی ادب میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے جدّت ونُدرت سے کام لیاہے۔ 1
تفصیل سے گُریز کرتے ہوئے یہاں محض یہ واضح کرنا ہے کہ پریم چند نے خوف و دہشت کی روش اور ظالموں کے طور طریق کے نتیجے میں جن پیش آنے والے حالات کی بظاہر اُس عہد میں جب کہ اس کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی، ان خطرات کو بھانپنے کی کوشش کی ہے، نیز انھوں نے مظلوم طبقے کے ردِّعمل کے تصور کی شدت کا احساس دلا کر معاشرے کو خبر دار کیا ہے۔ مثلاً”گھاس والی“ کی ملیا،”مندر“ کی سُکھیا’، گؤدان کا ہر کھو، ذات پات کی تفریق اور انسانوں سے غیر انسانی سلوک کی واضح مثال ہیں۔انھوں نے افسانہ ”صرف ایک آواز“ میں ببانگِ دہل کہا ہے کہ ظالم کسی شکل میں، کسی بھی طبقے کا ہو، اس کو تختہئ مشق بنانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔وہ ناول ”میدانِ عمل“ میں اِس حقیقت کو تفصیل سے، طنز ملیح کے انداز میں بیان کرتے ہیں۔افسانہ ”معصوم بچہ“، ”نجات“ اور ”سوا سیر گیہوں“ میں پروان چڑھنے والے ذہنوں کی تیکھی نشاندہی کرتے ہیں۔ طنز ملیح کا تہہ دار انداز ”کفن“ میں نہایت وسیع اور بھرپور انداز میں جلوہ گر ہے، جس کو گوپی چند نارنگ، وارث علوی، شمس الرحمن فاروقی، ابوالکلام قاسمی اور سیما صغیر نے اپنے اپنے زاویہئ نگاہ سے پیش کیا ہے، بلکہ کووِڈ-19کے بعد اِس کو نئے نئے انداز میں تخلیق کا موضوع بھی بنایا جارہا ہے۔ وجہ یہ کہ ”کفن“ کا مرکزی خیال نوآبادیاتی نظام کے دریچوں سے گزرتا ہوا، اُس استحصال سے روشناس کراتا ہے جو طبقہ وارانہ نظام کے تحت سب سے پچھڑے طبقے کے ساتھ روا رکھا گیا اور جس کے نتیجے میں گھیسو اور مادھو جیسے کرداروجود میں آئے، جن کی نفسیات عام لوگوں سے قطعی مختلف ہے اور جن کے افعال و اعمال اتنے غیر متوازن ہیں کہ ان کی سچائی مشکوک معلوم ہوتی ہے، اور قاری کی تمام توجہ بُدھیا کی طرف ملتفت ہوتی ہے۔ تکنیک کے روایتی انداز کو توڑنے والی اِس تہہ دار کہانی میں بہت سے رموز اُس وقت آشکارا ہوتے ہیں جب نشہ گھیسو، مادھوپر غالب آکر، ان کی ظاہری شخصیت کو تہ و بالا کر دیتا اور ان پر چڑھے ہوئے غلاف کو اُتار پھینکتا ہے۔
”کفن“ کے علاوہ پریم چند کی دو اور کہانیاں بھی سنگِ میل قرار پاتی اور شاہکار تخلیق کے زمرے میں آتی ہیں۔ایک ”روشنی“ اور دوسری ”عیدگاہ“۔ ”روشنی“ میں ایک آئی سی ایس افسر اور ایک دیہاتی بیوہ کو مرکزی کردار بنا کر پریم چند نے ایک غریب بیوہ کی اخلاقی جرأت، جذبہ ایثار اور اعلیٰ انسانی اقدار پر بھرپور روشنی ڈالی ہے۔ بیانیہ تکنیک پر مبنی اس افسانہ کا اسلوب سیدھا سادا، صاف ستھرا اور دل کو چھو لینے والا ہے۔ پند و موعظت سے بھرے ہوئے چھوٹے چھوٹے جملے قدیم ہندوستانی اقدارکو اُجاگر کرتے ہیں۔ دراصل پریم چند نے مذکورہ افسانہ کے ذریعہ ادنیٰ واعلیٰ کی تمیز وتخصیص کو ختم کرتے ہوئے انسانی ہمدردی اور خلوص ومحبت کی شمع جلائے رکھنے کی کوشش کی ہے، وہ شمع جس کی روشنی میں تہذیبیں پروان چڑھتی ہیں۔
”عیدگاہ“ غربت وامارت کا ایک استعارہ ہے۔ اس کا مرکزی کردار حامد یتیم ہے۔ وہ غربت کی گود میں پل کر بے حد حساس اورباشعور ہوچکا ہے جب کہ دیگر ساتھی دنیا ومافیہا سے بے خبر کھیل کی دنیا میں گم ہیں۔ دوستوں کے ساتھ کھلونے خریدتے ہوئے حامد کا یہ احساس کہ روٹی پکاتے وقت دست پناہ نہ ہونے کی وجہ سے دادی کا ہاتھ جل جاتا ہے تو کیوں نہ ایسی چیزخریدی جائے جو بامقصد اور کارآمد ہو، قاری کو سنجیدہ غوروفکر کی طرف لے جاتاہے۔ چھوٹے چھوٹے جملوں میں لکھا گیا یہ افسانہ امیری وغریبی کی کشمکش، اتحاد واخوت، یتیموں اور بیواؤں کی بے چارگی اور بچوں کی نگہہ داشت اور پرورش کے ساتھ ان کی خواہشات ونفسیات پر مشتمل چونکا دینے والا اشاریہ ہے۔ مذکورہ افسانہ میں اس بات کا بالواسطہ اعلان ہے کہ اگر غریب، حساس اور بیدار ہوجائے تو وہ ’دست پناہ‘ کے مانند فولادی ہوجائے گا جس کے سامنے طاقتور اور جابر طبقے جو افسانہ کے منظر نامے پر سپاہی، وکیل جیسی شکلوں میں نظر آرہے ہیں، ٹوٹ، پھوٹ کر خاک میں مل جائیں گے۔ ذرا حوصلہ ہو تو فتح کا پرچم فولادی دست پناہ کی طرح غریب کے ہاتھ میں ہوگا۔ عوامی اقتدار اور جمہوری نظام کی یہ ایک بشارت بھی ہے جسے پریم چند نے نہایت سادگی کے ساتھ صفحہئ قرطاس پر اُتارا ہے۔یہی جدّت، نُدرت اور بے باکی ان کے بیشتر ناولوں (اسرارِ معابد، بازار حسن، چوگانِ ہستی، میدانِ عمل، گؤدان اور نامکمل ناول منگل سوتر) میں ہے جو آج بھی حسّاس قاری کو اپنی طرف متوجہ کررہے ہیں اور فنکار ان پر مزید تعمیرات کررہے ہیں۔
صارفیت کے اِس دور میں، کووِڈ-19کی آفتِ ناگہانی کے بعد استحصالی نظام اور فرسودہ روایات کے چٹخنے اور ٹوٹنے کی آواز بہت صاف سنائی دے رہی ہے۔ بالواسطہ طور پر یہ تبدیلی مرہونِ منت ہے اُس فنکار کی، جس نے انسانی حقوق کی سر فرازی کے لیے اپنے قلم کا سارا زور وقف کیا، اور وہ جتن کیے جن سے انسان کا انسان سے ایسا رشتہ بر قرار ہو جو انسانیت کا وقار بلند کرے۔ ہندی کے ممتاز نقاد پروفیسر کے.پی.سنگھ ”پریم چند- ایک نقیب“ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
”— پریم چند مذہب اور معاشرے کے نام پر قدامت پرستانہ خیالات کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ وہ فرسودہ رسوم ورواج کے بھی شدید مخالف ہیں۔ معاشرے میں مذہب کا کردار آج کیا ہونا چاہیے، اِس موضوع پر وہ بہت بے باکانہ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا سارا ادب ہندوستانی معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کاعلامیہ ہے۔ وہ سماجی تنظیموں کے حدود اور صلاحیتوں کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں اور ان کے کردار پر خط کھینچتے ہیں —“۔
پریم چند کی افسانوی اور غیر افسانوی تخلیقات نے قاری کو شدت سے احساس دلایا ہے کہ زندگی کے حُسن و جمال کو قائم رکھنے کے لیے، انسانی رشتوں کو توانائی بخشنے کے لیے،جبر و استحصال اور خوف و دہشت کا رویہ ترک کرنا ہوگا__حق تلفی آج بھی ہو رہی ہے۔ مساوات اور ذہنی آزادی کے لیے ان گنت افراد اب بھی ترس رہے ہیں مگر آج وہ مظلومی، محرومی اورمحکومی سے اُس طرح دو چار نہیں جیسا کہ ماضی میں ہوا کرتا تھا۔ شاید اِس وجہ سے بھی کہ آج عدالت کے دروازے سب کے لیے کھُلے ہوئے ہیں __ جمہوری نظام کی بدولت ہر فرد کے حوصلے بلند، خواب خوبصورت اور مستقبل کو خوشگوار بنانے کا عزم ہے،اور یہی عزم و اعتماد پریم چند کی تخلیقات کی معنویت و افادیت کو دوبالا کرتا ہے۔ اردو، ہندی کے اِس ادیب کے ادب کے تفصیلی مطالعے سے جو اہم نکات سامنے آتے ہیں، وہ اس طرح ہیں:
1۔ پریم چند نہ صرف کامیاب تخلیقی فنکار (ناول، افسانہ، ڈرامہ نگار) تھے بلکہ وہ مکتوب نگار، مترجم، صحافی اور انشائیہ نویس بھی تھے۔
2۔ وہ نہ صرف کثیر المطالعہ ادیب تھے بلکہ اپنے عہد کے بیشتر رُجحانات اور تقاضوں سے پوری طرح با خبر اور ان سے ہم آہنگ بھی تھے۔
3۔ وہ حالاتِ حاضرہ پر مختلف اور چونکادینے والے عنوانات سے تبصرہ کرنے کے بجائے دو ٹوک گفتگو کے قائل تھے۔
4۔ نئی کتابوں، مذاکروں اور مباحثوں پر، رسمی طور پر نہیں بلکہ باقاعدگی سے رائے دیتے تھے۔
5۔ ادبی سرگرمیوں میں پوری دلچسپی لیتے تھے اور اپنے مشوروں سے احباب کو نوازتے تھے۔
6۔ خواتین میں رائج معاشرتی سلوک پر وہ آبدیدہ ہوتے اور ان کی خوشحالی کے ساتھ ساتھ عزت واحترام کے بھی کوشاں رہتے، انھوں نے عملی طور ایسا کرکے دکھایا بھی تھا۔
7۔ بیماری اور ذہنی الجھنوں میں گھِرے رہنے کے باوجود ہشاش بشاش رہنے کی کوشش کرتے تھے۔
8۔ ہندی میں ’ہنس‘ اور ’جاگرن‘ کی بقا اور ہندی اردو کے صحافتی وقار کے فروغ کے لیے ممکن جتن کرتے رہتے تھے۔
9۔ عصرِ حاضر کے شعور اور تقاضوں کے تحت ذاتی تجربہ کو ابلاغ مدعا کے لیے بنیادی ضرورت سمجھتے تھے، جسے آج کے تناظر میں بڑی اہمیت دی جارہی ہے۔
10۔ ان میں گہری تنقیدی وتحقیقی صلاحیت تھی جس کا استعمال واظہار وہ نہایت محتاط انداز میں کرتے تھے۔
11۔ جون 1757سے مئی 1857کی انقلابی جدوجہد کے ساتھ ساتھ وہ سوراج کے مطالبہ اور سودیشی بائیکاٹ کے بھی ہم نوا تھے۔
12۔ ان کا شمار ان ادیبوں میں ہوتا ہے جو ممکنہ حد سے کہیں آگے کی ادبی کاوشوں سے اپنے آپ کو باخبر رکھتے ہیں۔
13۔ وہ عوام کے علم و عمل، تہذیب و معاشرت اور جذبات و محسوسات کو ادیب کے مطالعے اور مشاہدے کے لیے نہایت ضروری سمجھتے تھے۔
14۔ وہ گاؤں کو آباد، خوشحال اور ترقی یافتہ دیکھنے کے خواہش مند تھے۔
15۔ ہندوستانی زبان و ادب یعنی اردو، ہندی کو بین الاقوامی سطح پر اُبھرتا ہوا دیکھنے کے آرزو مند تھے اور اِس کے لیے انھوں نے علمی اور عملی جتن کیے۔
اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ پریم چند کے ناول، افسانے، ڈرامے، مضامین،تبصرے، اداریے اور خطوط کسی دیومالائی کردار کی نہیں بلکہ ایک عہد ساز شخصیت کے فن کی بھر پور نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ پُر وقار شخصیت جس نے اپنا زورِ قلم غلام دیس کو آزاد کرانے، تعلیم کی اہمیت کو اُجاگر کرنے، اردو، ہندی کو قریب لانے، بھائی چارے کو فروغ دینے، جاگیردارانہ نظام اور اُس کے اندر پنپنے والی ذہنیت کا پردہ فاش کرنے، استحصال پسندوں کو بے نقاب کرنے،ذات پات کی تفریق کا انسداد کرنے، قدیم فرسودہ رسوم کو مٹانے اور عورتوں کو ان کا سماجی مرتبہ دلانے پر صرف کیا۔ پریم چند کی ہشت پہل شخصیت، ان کی وسیع النظری اور دھرتی سے اٹوٹ لگاؤ کو جاننے بلکہ ان کے عہد کو مکمل طور سے سمجھنے کے لیے موصوف کی تمام افسانوی اور غیر افسانوی تحریروں کا ایک ساتھ وسیع تر تناظر میں پڑھنے کی ضرورت ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ اس کا چلن بڑھ رہا ہے۔ شاید اِس وجہ سے بھی کہ آج کے ادب نواز دوستوں اور دانشوروں نے سمجھ لیا ہے کہ اب محض عقیدت اور مفروضوں سے بات بننے والی نہیں ہے۔
کتابیات
1- مضامین: 27سوانحی (اردو میں)، دس تنقیدی مضامین اردو میں، 18ہندی میں
2- تبصرے: 17(اردو میں)
3- انشائیے: 32(اردو میں ۳۱،ہندی میں 19)
4- اداریے: 450(آج، مریادا، ہنس، جاگرن وغیرہ)
5- کالم: 150(مادھوری، پرتاپ، جاگرن، ہنس وغیرہ میں)
6- خطوط: 695(اردو میں 465، ہندی میں 225، انگریزی میں 5)
7- ترجمے: دس

Saghir Afrahim
(AMU)
Mob.
Email: s.afraheim@yahoo.in

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

جلال لکھنوی کی غیر مطبوعہ داستان بالا باختر: ایک تعارف، مضمون نگار: محمد سعید اختر

جلال لکھنوی (1834-1909) کا شمار اردو کے ممتاز شعرا میں ہوتا ہے۔ شاعری کے علاوہ لغت نویسی، تاریخ گوئی اورزبان دانی کے حوالے سے بھی ان کی اہم خدمات ہیں۔

حسین الحق کی ناول نگاری ،مضمون نگار:زبیدہ نسیم

اردو دنیا، مارچ 2026: جدیداردو ناول نگاروں میں حسین الحق ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا شمار 1960 کے بعدآنے والے فکشن نگاروں کی صف میں ہوتاہے۔ انھوں نے

اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو / قرۃ العین حیدر

لگا کے کاجل چلے گوسائیںؐ ___ بھورے قوال کی فلک شگاف تان سے چراغ کی لو بھی تھرا گئی۔ ارے لگا کے کاجل چلے گوسئیاںؐ___ بھورے خاں کے دس سالہ