اٹھارہویں صدی کی اردو غز ل اور شاہ مبارک آبر و،مضمون نگار:مہر فاطمہ

June 5, 2026 0 Comments 0 tags

تلخیص:


اٹھارہویں صدی اردو غزل کا سب سے زریں اور زرخیز دورہے،جس میں آبرو، ناجی، تاباں، فغاں، حاتم، فائز، جان جاناں،یقین،قائم،میر،درد،سودا، مصحفی،انشا،جرات،رنگین، میر حسن، یہاں تک کہ نظیر اکبرآبادی بھی اپنی اپنی منفرد خصوصیات کے باوجود یعنی مذاق شعر کے فرق اور رنگوں کے اختلاف کے باجود بھی ایک ہی صف میں کھڑے ہونے کے قابل ہیں۔ ان میں سے اگر ایک کو بھی حذف کردیا جائے تواس دور کی تصویر کا ایک رخ حذف ہوکر رہ جائے گا۔ سب نے اپنے اپنے طور پر متاخرین میں کچھ نہ کچھ اثر چھوڑا اور بعد کے ادوار میں کسی نہ کسی طرح ان سے استفادہ لازمی کیا گیا۔ ولی کا دیوان1720 میں جب دہلی پہنچا اور ان کے اشعار جب زبان زد خاص و عام ہوئے، تو جن لوگوں نے سب سے پہلے ریختہ کو اپنے شعر ی اظہار کا ذریعہ بنایا ان میں فائز، مضمون، ناجی اور آبرو سر فہرست ہیں۔ ولی کے تتبع میں اس وقت کے تمام شاعروں نے اپنی اپنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق کوشش کی۔ اس کوشش میں سب سے زیادہ کامیابی آبرو کے حصے میں آئی۔ انھوں نے دہلی کے شاعروں میں اپنا دیوان بھی سب سے پہلے مرتب کرایا۔مگر آبرو نے محض تقلید ولی کو اپنا شعار نہیں بنایا،بلکہ نئے تجربے بھی کیے۔ان کو’ آبروئے شعر ریختہ‘سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ ان کے دور میں ان کو ’صائب وقت ‘ بھی کہا جاتا تھا،کیونکہ صائب اپنے سبک ہندی یا مثالیہ شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔ایسی شاعری میں پہلے مصرعے میں کوئی دعویٰ کیا جاتا ہے اور دوسرے مصرعے میں اسی دعوے کو کسی شاعرانہ دلیل کے تحت ثابت کیا جاتا ہے۔آبرو کی شاعری میں یہ طرز سخن اکثر و بیشتر نظر آجاتا ہے۔آبروکو ایہام کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے،لیکن آبرو کے اسلوب کی شناخت اور تعین کے لیے صرف ایہام کی اصطلاح کافی نہیں ہے۔ اس طرح کی شاعری کو رعایات اور تلازمات کی شاعری کہاجائے تو زیادہ بہتر ہے،کیونکہ محض ایہام کی اصطلاح کے سہارے یہ شاعری اپنے تمام ابعاد کے ساتھ سامنے نہیں آسکتی۔ اس خیال کو ذہن میں رکھ کر اگر ہم آبرو کے کلام پر دوبارہ غور کریں تو حیرت انگیز نتائج سامنے آتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ایہام کے علاوہ اور بھی خصوصیات ہیں،یعنی ایک ہی شعر میں کئی کئی صنعتیں موجود ہیں۔
کلیدی الفاظ
اردو غزل، شاہ مبارک آبرو، تمثیلی طرز بیان، سبک ہندی، رعایات و تلازمات،آبروئے شعر ریختہ، صائب وقت،یک چشم، شوخ، مستغنی مزاج، ندرت بیان،معنی آفرینی،ایہام گوئی، ایہام تناسب، رعایت لفظی، تجنیس،محمد شاہی دور،حسن پرستی،عشق بازی، بزم آرائی، عیش کوشی، نشاط انگیزی، شراب و شباب، رقص و موسیقی، کیف و سرور،نکدار،بانکا، مختلف الخیال،سند،تقلید ولی، طرز نگارش، بے تکلفی، بے ساختگی، تذکرے،بانکپن،ہندوستانی اساطیر، تخلیقی مآخذ، عقلی مدرکات و تصورات، قلبی واردات وکیفیات۔
————
شمالی ہند میں اردو شاعری کو رواج دینے والوں میں آبرو کو اولیت حاصل ہے۔ ان کو ’ ریختہ کی آبرو ‘ یا ’ آبروئے شعر ریختہ‘ سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے دور میں ان کو ’صائب وقت ‘ بھی کہا جاتا تھا۔ صائب ایرانی النسل شاعر تھے اور فارسی ادبیات میں تمثیلی طرز بیان یا سبک ہندی کے سب سے بڑے شاعر تسلیم کیے جاتے تھے۔ ولی کا دیوان1720 میں جب دہلی پہنچا اور ان کے اشعار زبان زد خاص و عام ہوئے تو جن لوگوں نے سب سے پہلے ریختہ کو اپنے شعر ی اظہار کا ذریعہ بنایا ان میں فائز، مضمون، ناجی اور آبرو سر فہرست ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان سب میں آبرو کا ایک خاص مقام ہے۔ وہ اپنے زمانے میں ریختہ کے مسلم الثبوت شاعراور صاحب ایجاد شمار ہوتے تھے اور آج بھی ہم انھیں ریختہ کے مسلم الثبوت شاعر اور صاحب ایجادشاعروں میں شمارکرتے ہیں۔ دیگر قدیم ادبا اور شعرا کی طرح ان کے بھی ابتدائی حالات زندگی پردۂ خفامیں ہیں۔ کہیں کہیں تذکرو ں میں کچھ کچھ معلومات درج ہیں۔ جن میں ’سفینۂ خوشگو ‘ اور ’ نکات الشعرا‘ وغیرہ ہیں۔ سفینۂ خوشگو کے مصنف بندرا بن داس خوشگو ہیں۔ خوشگو مشہور صوفی شیخ سعد اللہ گلشن کے شاگرد تھے اور سعداللہ گلشن حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی کے پوتے شاہ قل کے مرید اور مرزا عبدالقادر بیدل عظیم آبادی کے شاگرد رشید تھے۔ یہ بیدل بھی وہی بیدل ہیں جن کے لیے غالب کا شعر ہے ؎
طرز بیدل میں ریختہ کہنا
اسداللہ خاں قیامت ہے
خوشگو اور آبر و میں گہرے مراسم تھے۔ دونوں میں اس درجہ قربت تھی کہ آبرو اکثر خوش گو کے گھر آتے اور رات کو وہاں ٹھہر بھی جاتے تھے اور آبرو کو ’آبروئے شعر ریختہ‘ کے نام سے پہلی بار خوشگو نے ہی اپنے تذکرے میں یاد کیا ہے۔ حالانکہ اس تعلق خاطر، مراسم اور قربت خاص کے باوجودبھی خوشگو نے آبرو کے سلسلے میں معلومات اس طرح سے درج نہیں کیے ہیں۔ آبر و کی سیرت، صورت، ولدیت اور سالِ ولادت کے بارے میں کوئی معلومات موجود نہیں ہے۔ نام اور تخلص کے علاوہ حسب ونسب کے تعلق سے صرف اتنے ہی ذکر پر اکتفاکرتے ہیں کہ پیرزادگان میں تھے اور سراج الدین علی خاں آرزو سے قرابت داری اور شاعری کے سبب کافی قربت تھی۔ دوسرا تذکرہ جس میں آبرو سے متعلق معلومات درج ہیں وہ میر کا نکا ت الشعرا ہے۔ نکات الشعرا میں میر نے لکھا ہے کہ میاں نجم الدین عرف شاہ مبارک آبرو، وطن گوالیار ہے۔ حضرت محمد غوث گوالیاری کا نواسہ ہے۔ ابتدائے جوانی میں شاہجہاں آباد آگیا تھا۔ چنانچہ مشق سخن بھی اسی مقام پر کی۔ خاں صاحب سراج الدین علی خاں کا شاگرد ہے۔ دجالِ زمانہ کی چشم پوشی سے اس کی ایک آنکھ بیکار ہوگئی تھی۔ ریختہ کا بے مثال شاعر ہے۔ اس کا مزاج شوخ ہے۔میرکے اس بیان نے خوشگو کی اطلاعات پر اس قدر اضافہ کردیا ’کہ ’ حضرت محمد غوث گوالیاری کا نواسہ ہے ‘۔
جیسا کہ میر نے بھی بتایا آبرو یک چشم، شوخ اور مستغنی مزاج تھے۔ آغاز جوانی میں دہلی آگئے تھے۔ اس کے علاوہ قائم کا تذکرہ ’مخزنِ نکات‘ میرحسن کا تذکرہ ’ تذکرہ شعرائے اردو ‘ اور قدرت اللہ شوق کا تذکرہ ’طبقات الشعرا‘ تینوں میں آبرو کا ذکر تو ضرور ملتا ہے لیکن خوشگو کے بیان پر ان میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ البتہ سید فتح علی گردیزی کے ’ تذکرہ ریختہ گویاں ‘ سے آبرو کے حالات کے متعلق ایک اہم بات یا اہم کڑی کا علم ہوتا ہے کہ وہ شاہی ملازمت کے تحت ایک مدت تک گردیزی کے والد سید عوض علی کے ہمراہ نارنول میں مقیم رہے۔ اس تذکر ے کے بعد شیخ غلام ہمدانی مصحفی نے، اس کے باوجود کہ آبروکے زمانے سے ان کے زمانے کا فاصلہ نسبتاً زیادہ ہے۔’ تذکرۂ ہندی ‘ میں بعض نئی معلومات فراہم کی ہیں۔ اس تذکرے سے معلوم ہوتا ہے کہ آبرو کی داڑھی تھی وہ اپنے ہاتھ میں عصا رکھتے تھے اور ایک خاص بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ گھوڑے کی دولتی کے سبب ان کی موت واقع ہوئی تھی۔ گویا وہ کسی مرض میں مبتلا ہوکر طبعی موت نہیں مرے بلکہ ان کی موت ایک حادثاتی موت تھی۔ کسی بھی تذکرہ نگار نے یہاں تک کہ بندرا بن داس خوشگو جو آبرو کے ہم عصر اور دوست تھے۔ ان کی تاریخ ولادت کی وضاحت نہیں کی ہے۔ صرف تاریخ وفات بتائی ہے۔ خوشگو نے آبرو کی جوتاریخ وفات 24ر جب المرجب1146 ھ مطابق1733 بتائی ہے اس کی تائید شاکر ناجی کے درج ذیل شعر سے بھی ہوتی ہے ؎
بتاں ہیں سنگ دلی، تاریخ کا مصرع
کہ بے لطفی جن کی آبرو نے جی دیا مرمر
اس شعر کے مصرع ثانی سے1146ھ برآمد ہوتے ہیں۔مصحفی نے اپنے تذکرے میں لکھا ہے کہ ان کی عمر پچاس سے متجاوز ہوئی ہوگی کہ گھوڑے کی دولتی سے زندگی ختم ہوگئی۔ در گاہ سید حسن رسول نما کے پاس دفن ہوئے۔ آبرو کی تاریخ وفات معلوم ہونے کے بعد اس قیاس آرائی کی روشنی میں کہ وفات کے وقت ان کی عمر کم و بیش 52بر س تھی۔ محققین نے ان کی پیدائش کا سال متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ جمیل جالبی تار یخ ادب اردوجلد دوم میں لکھتے ہیں کہ اگر وفات کے وقت ان کی عمر52سال مان لی جائے تو آبرو کا سال ولادت1094ھ مطابق 1683 متعین ہوتاہے،جب کہ:
’’ مشہور محقق قاضی عبدالودود نے1095ھ مطابق1684 متعین کیا ہے۔‘‘
(بحوالہ تاریخ ادب اردو،جلد دوم،جمیل جالبی،ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، دہلی، 2017)
جمیل جالبی نے یہ بھی لکھا ہے کہ’’میراور قائم نے آبرو کو شیخ محمد غوث گوالیاری کا نواسہ قرار دیا ہے، مگر شیخ کے سال وفات970 ھ اور آبرو کے سنہ ولادت1095ھ کے مابین تقریباً ایک سو پچاس برس کا وقفہ حائل ہے۔ اس لیے آبرو شیخ موصوف کے حقیقی نواسے نہیں ہوسکتے البتہ رشتے کے نواسے ہوسکتے ہیں۔ ‘‘ دوسرے رشتہ دار یعنی استاد سراج الدین علی خاں آرزو ہیں جو خان آرزو کے نام سے مشہور ہیں۔ مرزا علی لطف (گلشن ہند) میر قطب الدین باطن (گلستان بے خزاں ) نواب مصطفی خاں شیفتہ ( گلشن بے خار ) اور حکیم سید عبد الحی (گل رعنا ) جیسے تذکرہ نویسوں نے آبرو کا شاگرد اور رشتہ دار بتایا ہے۔ خود آرزو کے بیان سے بھی اس رشتہ کی تصدیق ہوتی ہے۔ مجمع النفائس میں آرزو مولانا نسبتی تھانیسری کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ شاہ مبار ک،آبرو تخلص، فقیر آرزو کے قرابت دار بھی ہیں اورشاگرد بھی ہیں۔ فن ریختہ کے بے مثل استاد ہیں۔ اس قربت اور قرابت داری کے ساتھ ہی آبرو اور آرزو کا ننھیالی سلسلہ شیخ محمد غوث گوالیاری سے (جن کا اوپر ذکر آچکا ہے) جا ملتا ہے۔ یہ دونوں رشتے آبرو کے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ آرزو جیسے صاحب علم و کمال نے اسے فن ریختہ کا بے مثل استاد ہونے کی سند عطا کی تھی۔ قائم چاند پوری کے بقول : آرزو کے اخلاق کی وسعت کا یہ عالم تھا کہ میاں آبرو کے شعر پر اصلاح بھی کرتے اور کبھی کبھی ان کی خاطر خود بھی اس قبیل کے دو تین بیت کہہ لیا کرتے تھے۔ آرزو کی ندرت بیان اور خیال آفرینی کا جلوہ ا ن اشعارسے بھی عیاں ہوتا ہے ؎
داغ چھوٹا نہیں یہ کس کا لہو ہے قاتل
ہاتھ بھی دکھ گئے دامن ترا دھوتے دھوتے
مے خانے بیچ جاکر شیشے تما م توڑے
زاہد نے آج اپنے دل کے پھپھولے پھوڑے
ہر صبح آوتا ہے تیری برابری کو
کیا دن لگے ہیں دیکھو خورشید خاوری کو
تیرے دہن کے آگے دم مارنا غلط ہے
غنچے نے گانٹھ باندھا آخر سخن ہمارا
وعدے تھے سب دروغ جو اس لب سے ہم سنے
کیا لعل قیمتی دیکھو چھوٹا نکل گیا
رکھے سیپارہ گل کھول عندلیبوں کے
چمن میں آج گو یا پھول ہیں تیر شہیدوں کے
خان آرزو کی شخصیت کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے پورے عہد پر چھائے ہوئے ہیں۔ ان کی علمی اور ادبی شخصیت نے اردو شعر و ادب پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کیے ہیں۔ آبرو، ناجی، مضمون اور یکرنگ ان کے شاگرد تھے تو سودا، میر اور دردبھی ان کے تربیت یافتہ تھے۔ آرزو کی عظمت یہ ہے کہ انھوں نے ان دونوں مکتبوں کے ذہن و ذوق کی یکساں طور پر آبیاری کی ہے جو فکری اور فنی سطح پر مختلف الخیال تھے۔ آرزو نے اس خوبی کے ساتھ ان دونوں طرزوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا کہ ہر تخلیقی ذہن انہی کے بنائے ہوئے راستوں پر چل نکلا۔ میر اور بعد کے تمام محققین نے ان کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ اس لیے آرزو جیسے صاحب علم و کمال کی طرف سے فن ریختہ کا بے مثل استاد ہونے کی سند عطا ہونا ہی آبروکے مقام و مرتبہ کے تعین کی ایک بے حد اہم دلیل ثابت ہوتا ہے۔
آبرو کی تعلیمی لیاقت یا علمی استعداد کا ذکر بھی قدیم تذکروں میں صراحتاً نہیں ملتا۔ خوشگو کے بیان کے مطابق وہ فارسی سے بخوبی واقف تھے۔یہاں تک کہ فارسی میں شعر بھی کہہ لیا کرتے تھے۔ خوشگو نے ان کے تین شعر بھی نقل کیے ہیں۔ ان کی عربی دانی کے بارے میں محمد حسین آزادنے بھی لکھاہے کہ ان کے کلام کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عربی کے صرف و نحو سے بخوبی واقف تھے اور مسائل علمی سے بے خبر نہ تھے۔ ڈاکٹر ظفر احمد صدیقی نے مقدمہ انتخاب کلام آبرو میں آبرو کے تین ایسے اشعار نقل کیے ہیں، جن میں عربی زبان کے غیر معروف ثقیل اور اردو شاعری کے صریحاً اجنبی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جنھیں صحیح طور پر وہی شاعر بر وئے کار لا سکتا ہے جنھیں عربی زبان کی بنیادی باتوں کا علم ہو۔وہ اشعار درج ذیل ہیں ؎
زاہدوں کے تئیں اگر جو ہوتا ایک مقدار علم
چھوڑ کر شملے کو کیوں ہوئے وہ اصحاب الشمال
کرتا ہوں اس کی عقل پر افسوس ہاتھ مل
جو برگ گل کہے تری آنکھوں کی فی المثل
عشق کی آتش میں بے معجزہ عیسیٰ کا ہے
زندہ اس کے دم سے ہوہے شمع جو لاعظیم رجیم
ان اشعار میں اصحاب الشمال، فی المثل اور عظیم رجیم جیسے خالص عربی الفاظ فنی چابکدستی کے ساتھ استعمال کیے گئے ہیں۔بعض روایات کے مطابق وہ1706 کے آس پاس دہلی آگئے تھے اور دہلی میں ہی شاہی ملازمت سے وابستہ ہوگئے۔ ظاہر ہے کہ اسی ملازمت کے سلسلے میں کچھ عرصہ فتح علی گردیزی کے والد کی معیت میں نارنول میں بھی رہے۔ اس کے بعد دہلی واپس آگئے۔ جس کا ذکرپہلے بھی آچکا ہے۔
آبرو کے تلامذہ کے حوالے سے چمنستان شعرا،مجموعۂ نغز اور نکات الشعرا وغیرہ میں جن لوگوں کے نام ہیں۔ان میں عبدالوہاب یکرو،سبحان،محمد حسن فدوی،سید غلام غلام،شہاب الدین ثاقب،محمد عارف عارف اور میر سجاد اکبر آبادی کے نام قابل ذکر ہیں۔جمیل جالبی نے بھی تاریخ ادب اردو(جلد دوم) میں انہی لوگوں کے نام درج کیے ہیں۔ظفر احمد صدیقی نے اپنی کتاب’انتخاب کلام آبرو ‘کے مقدمے میں اس سے متعلق یہ اضافہ کیا ہے کہ آبرو کے دو شاگرد یکرو اور سجاد کے دواوین پروفیسر شمیم احمد نے پٹنہ سے شائع کرائے ہیں۔
آبر و کی شخصیت اور کلام دونوں ہی محمد شاہی دور کی سرمستی میں ڈوبے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ کھیلوں میں گنجفہ اور کبوتر بازی کا شوق اور اچھے لباس نیز قیمتی پوشاکوں کی شوقین مزاجی جا بجا جھلکتی ہے۔ جس سے ان کی شخصیت کے ساتھ ان کے عہد کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ آبرو نے جس ماحول میں آنکھیں کھولیں وہ کچھ اسی قسم کا تھا۔ آبرو کا عہد محمد شاہ کا عہد تھا جسے اس کی رنگ رلیوں کے باعث ’رنگیلے ‘ کے خطاب سے یاد کیا جاتاہے۔ اس کے عہد میں حسن پرستی عشق بازی، بزم آرائی، عیش کوشی، نشاط انگیزی، شراب و شباب، رقص و موسیقی اور کیف و سرور کا بازار ہمہ وقت گرم رہتا تھا۔ بادشاہ، امرا،وزرا، عوام الناس، سبھی نہ صرف سر شاری و سر مستی کے عالم میں سر شار رہتے، بلکہ اس کے بر ملا اقرار و اعتراف میں بھی کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے تھے۔ انھیں امر د پرستی کے فخریہ اظہار میں بھی کوئی شر م محسوس نہیں ہوتی تھی۔بے خوف و خطر اظہار کرتے اور اس کی داد بھی وصول کرتے تھے۔ آبرو اس دور کے بڑے شاعر تھے۔ان کے کلام میں اپنے عہد کے تمام رنگ اور سارے انداز واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ جس کی مثال اس سے قبل بھی پیش کی جاچکی ہے۔چند شعر ؎
صباحت بیچ گویا ماہ کنعانی ہے وہ لونڈا
ملاحت بیچ سرتاپا نمک دانی ہے وہ لونڈا
بدن مخمل سیتی اس کا صفا اور نرم و رنگیں تر
گویا سر تا قدم بانات سلطانی ہے وہ لونڈا
مذاق شوق کوں دے ہے مٹھاس اس کی مزے داری
تمام عالم کے خوباں بیچ خوبانی ہے وہ لونڈا
دیوانِ آبرو کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور کی دو اہم خصوصیات جن پر سب سے زیادہ توجہ دی جاتی تھی،وہ یہ تھی کہ ایسی بات کہی جائے جس سے مزا آئے اور طبیعت خوش ہوجائے یا پھر ایسی بات ہو جس میں بے ثباتیِ دہریا زمانہ کی بے وفائی کا ذکر ہو، تا کہ احساس غم سے نشاط زیست کے لیے ذہن کو تیار کیا جاسکے۔ یعنی اندھیرے کی اہمیت اس لیے ہے کہ جب روشنی ہو تو اس سے زیادہ لطف اٹھایا جاسکے۔ دراصل یہ مزے کو دوبالاکرنے کا ایک طریقہ تھا۔شراب کی کثرت،رقص و موسیقی، قوالی، ناٹک،بہروپ اور سوانگ،سجاوٹ اور روشنی پر زور،مخصوص انداز کی عاشق مزاجی اور حسن پرستی وغیرہ اسی حظ کوحاصل کرنے کی مختلف صورتیں تھیں۔خوش وقتی کے ان تمام لوازمات کے ساتھ ساتھ مجلس آرائی بھی اس وقت کاایک اہم اور قابل ذکر وسیلہ ہے،جس کے ذریعے عوام اپنا غم غلط کرنے اور حظ حاصل کرنے میں مصروف رہتے تھے۔ آبرو کی شاعری میں بھی یہ سب پہلو موجود ہیں۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ آبرو بھی اسی مزے اور مجلس کا شاعر ہے۔یہ مجلس کیا ہے؟اس کاجواب آبرو کے ہی اس شعر سے مل جاتا ہے ؎
مجلس میں دل خوشی کو جو چاہئے سو شے تھی
میں تھا و یار تھے سب،معشوق تھا و مے تھی
یہی مجلس اس دور کا مرکزی تہذیبی ادارہ ہے۔آبرو کی شاعری اسی مجلس کی داستان گو بھی معلوم ہوتی ہے۔ایہام گوئی،رعایت لفظی،مزے دار باتوں اور روزمرہ کے مشاہدات کا اظہار اسی مجلسیت کا حصہ ہے۔اسی لیے آبرو کے یہاں ایسی باتوں کا اظہار زیادہ ملتا ہے جو کہ اہل مجلس کا تجربہ یا مشاہدہ ہے تاکہ وہ ان کو سن کر ایسا محسوس کریں کہ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا۔غرضیکہ آبرو کی شاعری میں وہ سب لوازمات موجود ہیں،جنھیں اس دور کا مجلسی انسان دل سے چاہتا تھا۔موسیقی بھی اسی مجلسیت کا ایک حصہ تھی۔اسی لیے آبرو کی شاعری میں موسیقی کی اصطلاحیں اور موسیقاروں کا ذکر کثرت سے ملتا ہے مثلاًنعت خان سدا رنگ کی تعریف میں بھی کئی اشعار ملتے ہیں۔ اسی طرح کئی غزلوں میں اس دور کی کئی اورموسیقاررطوائفوں مثلاًممولا اور پنّاکا ذکربھی ملتا ہے۔آبرو کے یہاں رعایت لفظی اور تجنیس کی وہ صورت بھی نظر آتی ہے جو ان سے آگے کے دور یعنی انیسویں صدی میں لکھنوی شعرا کے کلام میں زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔اگر آبرو کے ان اشعار کو انیسویں صدی کے ان شعرا کے کلام میں ملا دیا جائے تو پہچاننا مشکل ہوگا۔مثلاً ؎
رخسار کے گل اوپر شبنم ہے یہ پسینا
کیا سرخ ڈانک پر ہے الماس کا نگینا
کم مت گنو یہ بخت سیاہوں کا رنگ زرد
سونا وہی جو ہووے کسوٹی کسا ہوا
انداز سیں زیادہ نپٹ ناز خوش نہیں
جو خال حد سیں زیادہ بڑھا سو مسا ہوا
صنائع اور ردیف و قافیہ کے التزام و اہتمام کے علاوہ آبرو کے کلام کی یہ خصوصیت بھی ہے کہ اس میں فارسی شاعری کی طرح مترادفات کو ایک ساتھ استعمال کرکے حسن بیان کو مزید نکھارنے کی کوشش ملتی ہے ؎
بے وفا ہے شوخ ہے بے رحم ہے بیزار ہے
جو کہو سب ہے و لیکن کیجیے کیا،یار ہے
عبث بے دل کرو مت آبرو کو
مسافر ہے،شکستہ ہے،گدا ہے
یار سوں جاکے مرے درد کا بستار کہو
غم کہو،رنج کہو،حسرت و آزار کہو
آبرو کے ناقدین نے اس سلسلے میں یہ اعترا ف کیا ہے کہ بلاشبہ آبرو نے ولی کا تتبع کیا ہے، لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ان کی شاعری صرف اسی حد تک محدود ہے،بلکہ آبرو کی تخلیقی اپچ اپنے معاصرین کے مقابلے کہیں زیادہ تھی۔ اس لیے انھوں نے شاعری میں نوع بہ نوع تجربات کیے ہیں۔جن میں سے ایک رخ ولی سے اثر پذیری اور تقلید کا بھی ہے۔دوسری طرف انھوں نے متاخرین شعرائے فارسی کے بھی اثرات قبول کیے۔جس کی ایک مثال مثالیہ شاعری یاسبک ہندی کے طرز کی بھی ہے۔جس کا ذکر آگے آ ئے گا۔آبرو کی شاعری کے مطالعے کے دوران کئی الفاظ اپنی طر ف متوجہ کرتے ہیں۔جس میں سے دو’نک دار‘اور’بانکا‘اہم ہیں۔ آبرو نے نکدار ی اور بانکپن کو ایک ہی شعر میں یو ں بیان کیا ہے ؎
ہر ایک نگہ میں ہم سے کرنے لگی ہیں نوکیں
کچھ تو تری آنکھوں نے پکڑا ہے طور بانکا
سر بسر تعریف ہے اس چہرۂ نکدار کی
سب کے دل کیوں چبھ نہ جاں آبرو تیرے نکات
مل گیا تھا باغ میں معشوق ایک نک دار سا
رنگ و رو میں پھول کی مانند،سج میں خار سا
آبرو کے اسلوب بیان یا طرز نگارش میں جو بے تکلفی، بے ساختگی اور روانی ہے وہ لفظی صناعی کے باوجود بھی قائم رہتی ہے وہ ایہام گوئی کے بادشاہ سمجھے جاتے ہیں،لیکن ان کی سادہ بیانی بھی کم جادونہیں جگاتی ہے ؎
نین سے نین جب ملائے گئے
دل کے اندر مرے سمائے گئے
نازنین جب خرام کرتے ہیں
تب قیام کا کام کرتے ہیں
پھرتے تھے دشت،دشت دوانے کدھر گئے
وے عاشقی کے ہائے زمانے کدھرگئے
تاہم یہ بھی سچ ہے کہ یہ مثالیں بطور مشتے از خر وارے ہیں۔آبرو کے کلام کی بنیاد فکر ی بلندی سے زیادہ لفظی ہنرمندی اور سادگی سے زیادہ صنعت گری پر استوار ہوتی ہے اور ایہام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔یہ کہنا بھی درست معلوم ہوتا ہے کہ ایہام کے معاملے میں وہ بادشاہ ہیں۔ظاہر ہے کہ ایہام گوئی بھی اس تہذیبی فضا کا ایک اہم حصہ ہے۔ایہام گوئی میں شاعر ایک طرف ذومعنی لفظ یا الفاظ تلاش کرکے استعمال کرتا ہے تو دوسری طرف ان میں معنوی ربط پیدا کرتا ہے۔ یہ عمل لاکھ مصنوعی سہی،لیکن اس میں خون جگر صرف کرنا پڑتا ہے،تب جا کر کہیں کچھ بات بن پاتی ہے۔جس کے لیے نہ صرف علم کی ضرورت پڑتی ہے بلکہ فکرو تخیل کے ذریعہ معنی پیدا کرنے کی صلاحیت کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔تب جاکر شعر میں کچھ دلچسپی کا سامان یا ندرت پیدا ہوتی ہے اور ایہام گوئی کے ذریعے سامعین میں حیرت اور معنوی لحاظ سے دلچسپی پیدا کرنا ہی اس کا فن تھا۔آبرو نے اس تلاش میں ہندوی الفاظ کو کھنگالا،فارسی و عربی لغات کوٹٹولا،دوہروں اور کبت کے عمومی مزاج کو اپنی شاعری میں سمویا،اور اس دور کے تہذیبی تقاضوں کو اپنی تخلیقی صلاحیت سے پوراکیا۔جس کا نتیجہ یہ ہواکہ اردو شاعری کا میدان وسیع ہوا اوراس میں تنوع پیدا ہوا۔ ایہام کی جتنی ممکنہ صورتیں ہوسکتی تھیں،وہ سب آبرو کی شاعری میںکم و بیش موجود ہیں۔ چند مثالیں ؎
قول آبرو کا تھا کہ نہ جاؤں گا اس گلی
ہوکر کے بے قرار دیکھ آج پھر گیا
لب اس کا مے اگر دیکھے تو ہوجا شرم سے پانی
کب اس کو منھ لگایا بوجھ لو جھوٹا ہے یہ پیالہ
آبرو کے قتل پر حاضر ہوا کس کر کمر
خون کرنے کو چلے عاشق کو تہمت باندھ کر
تم اور گل رخاں سے اب آنکھ جو لگائے
بادام کو پیارے پھولوں کے بیج باسا
سجن اوروں کا تشنہ ہوکے سنتا اورسب کہتا
مگر اک آبروکی بات جب کہتے ہیں تو پی جاتا
رہتے ہیں جیو میں مصرعِ دلچسپ کی طرح
گھر بار ہوئے سرو قداں کا برائے بیت
جہاں تجھ خو کی گرمی تھی، نہ تھی کچھ آگ کو عزت
مقابل اس کے ہوجاتی تو آتش لکڑیاں کھاتی
ان اشعار میں ایہام یا ایہام تناسب پایا جاتا ہے۔ پھر گیا، تہمت باندھ کر، باسا، پی جاتا، برائے بیت، لکڑیاں کھاتی، دہریا، اٹک دریا جیسے الفاظ سے ایہام پیدا کیا گیا ہے۔ آبرو کے اسلوب کی شناخت اور تعین کے لیے صرف ایہام کی اصطلاح کافی نہیں ہے۔ اس طرح کی شاعری کو رعایات اور تلازمات کی شاعری کہاجائے تو زیادہ بہتر ہے،کیونکہ محض ایہام کی اصطلاح کے سہارے یہ شاعری اپنے تمام ابعاد کے ساتھ سامنے نہیں آسکتی۔ اس خیال کو ذہن میں رکھ کر اگر ہم آبرو کے انہی اشعار پر دوبارہ غور کریں تو حیر ت انگیز نتائج سامنے آتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ایہام کے علاوہ اور بھی کئی صنعتیں موجود ہیں۔واقعی آبرو نے زبان کے تخلیقی استعمال میں جوحیرت انگیزکامیابی حاصل کی ہے وہ ان کے ہم عصروں میں کسی اور کو حاصل نہ ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ خیال کی ندرت ہویا لفظ کی پہلوداری، پیکر تراشی ہویا مضمون آفرینی ان کے ہرانداز کی بازگشت ناجی، مضمون، یکرنگ، اور حاتم سے ہوتی ہوئی میر و مصحفی اور غالب و مومن تک سنی جاسکتی ہے۔ اس اعتبار سے آبرو کایہ دعویٰ غلط نہیں معلوم ہوتا ؎
دعویٰ ہے جس کوں شعر کی قوت کا آبرو
مضمون کے آگے بوجھ اٹھاوے ہمن کے نال
آبرو کے کلام کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میںجہاں دیگر صنائع و بدائع کی بہتات ہے، وہیں استعارات بہت کم استعمال ہوئے ہیں۔اس طرف ظفر احمد صدیقی نے بھی اشارہ کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں:
’’آبرو کے یہاں استعارات نہ ہونے کے برابر ہیں۔تشبیہات سے بھی انھیں چنداں شغف نہیں،لیکن جابجا نظر آجاتی ہیں۔ان پر غور کرنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہ محسوسات کے دائرے سے باہر جانا پسند نہیں کرتے،پھر محسوسات میں بھی بصریات سے زیادہ مانوس ہیں۔چنانچہ جانبین تشبیہ ان کے یہاں بالعموم محسوسات و مبصرات ہوتے ہیں۔ عقلی مدرکات و تصورات یا قلبی واردات وکیفیات ان کی شاعری میں خال خال ہیں۔ اسی لیے وہ خاص سطح سے اوپر نہیں جاتے اور یہی ان کے یہاں استعارات کے فقدان کا سبب بھی ہے۔ ‘‘
(مقدمہ انتخاب کلام آبرو،ظفر احمدصدیقی،اتر پردیش اردو اکادمی،لکھنو،1997)
کلام آبرو میں استعارات کے فقدان کی جو وجہ بتائی گئی،و ہ ان کی شاعری کا ایک اہم پہلو اور قابل غور نکتہ ہے،جس سے صرف نظر ممکن نہیں۔بہرحال ایہام گوئی،مضمون آفرینی، رعایت لفظی، روزمرہ، ضرب الامثال کے استعمال،اور ہندوی شاعری کے اثرات کے ساتھ ساتھ جو خصوصیت آبرو کے یہاں اکثر و بیشتر ملتی ہے وہ یہ کہ وہ فارسی شاعر صائب کے اثرات کو قبول کرتے ہیں۔صائب اپنے سبک ہندی یا مثالیہ شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔ایسی شاعری میں پہلے مصرعے میں کوئی دعویٰ کیا جاتا ہے اور دوسرے مصرعے میں اسی دعوے کو کسی شاعرانہ دلیل کے تحت ثابت کیا جاتا ہے۔آبرو کی شاعری میں یہ طرز سخن اکثرو بیشتر نظر آجاتا ہے ؎
شوق بن دل سیں نہیں دم مار سکتے آہ گرم
تب دھواں چلم سے نکلے جب چلم پر ہوئے آگ
نہ تھی دم مارنے کی ہم کوں قدرت جب چلا اٹھ کر
کہ اول بند ہوتی ہے زباں تب جی نکلتا ہے
جھمک منہ کی گھٹی تب سیں گھٹا آرام لوگوں کا
کہ کم ہوتی ہے گرمی جس قدر خور شید ڈھلتا ہے
دو مصرعہ پر بھواں کے خال یہ ظالم جو بیٹھا ہے
ملی ہے آج شامی کو حکومت اہل بیت اوپر
صائب کے اس مخصوص رنگ کا اثر اس دور کے کم و بیش سارے شعرا کے یہاں نظرآتا ہے۔ آبرو کی خاصیت یہ ہے کہ اس نے اس رنگ میں ایہام کو ملا کر ایک ایسی صورت بنادی، جس میں اس دور کا مزاج و مذاق شامل ہوگیا ہے۔ ان کی شاعری کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے جمیل جالبی لکھتے ہیں:
’’ان کے اشعار میں وہی مزاج ہے جو ہندی گیتوں اور دوہوں کا مزاج ہے۔ یہاں محبوب مرد ہے اور عاشق عورت،جو بھاکا شاعری کی خصوصیت ہے۔ امرد پرستی کے باوجود آبرو اس اثر کو قبول کرتا ہے۔بحیثیت مجموعی آبرو کی شاعری میں فارسی و ہندوی الفاظ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے نظر آتے ہیں۔ٹیسو کے پھول اور گل نسترن ایک ساتھ ہیں۔ عید و شب برات،بسنت رت اور ہولی،سیام کنھی اور علی و پیغمبر،سب مل جل کر ایک ہورہے ہیں اور ایک ایسا کینوس تیار ہورہاہے جس سے ابلاغ سہل ہورہا ہے اور تخلیقی ذہن یہ محسوس کر رہا ہے کہ اب اس کی صلاحیتیں فارسی کے مقابلے میں زیادہ فطری طور پر بروئے کا ر آرہی ہیں اور ساتھ ساتھ عوام سے بھی اس کا براہ راست رشتہ قائم ہوگیا ہے۔یہ تہذیبی اثرات صرف شاعری تک محدود نہیں ہیں بلکہ موسیقی، رقص، مصوری، آداب مجلس،رسوم ورواج اور زندگی کے سب امور میں مقبول ہوکر معاشرے کی ہیئت اوراس کے رنگ روپ بدل رہے ہیں۔شاعری میں آبرو انہی میلانات کا ترجمان ہے۔‘‘ (تاریخ ادب اردو، جلد دوم،جمیل جالبی،ص173)
آبرو کی شاعری مندرجہ بالا صفات سے متصف ہے۔اس میں اپنے دور کی حقیقی عکاسی ملتی ہے۔ کوئی معمولی شاعر اپنے دور کا ممتاز نمائندہ اس وقت تک نہیں بن سکتاجب تک کہ اس میں اعلیٰ درجے کی تخلیقی صلاحیتیں موجود نہ ہوں، اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے دور کی تہذیب میں پوری طرح رچا بسا ہوا ہو۔اپنے ماضی سے واقف ہو اور اس کو حال میں سمونا یا اس کو تبدیل کرکے نئی شکل دینا جانتا ہو۔ وہ اپنی روایت کا پاسدار ہو اور اس کو آگے بڑھانے میں کوشاں بھی رہے۔آبرو میں یہ خصوصیات اپنے معاصرین کے مقابلے زیادہ پائی جاتی ہیں۔ آبرو کا اصل میدان تو غزل ہے۔ مگر انھوں نے مثنوی، مرثیہ، واسوخت، مخمس اور مستزاد پر بھی طبع آزمائی کی ہے۔آبرواوردیگر شعرا کے چند ہم معنی اور ہم مزاج اشعار کی بھی مثالیںدیکھیے ؎
دور خاموش بیٹھا رہتا ہوں
اس طرح حال دل کا کہتا ہوں

(آبرو )
دور بیٹھا غبار میر اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا

(میر)
یوں آبرو بنادے دل میںہزار باتیں
جب روبرو ہو تیرے گفتار بھول جاوے
اب رو برو ہے یار نہیںبولتا سو ں کیوں
قصے وہ آبرو کے بنانے کدھر گئے

(آبرو)
جی میں تھا اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے میر
پر جب ملے تو رہ گئے نا چار دیکھ کر
کہتے تو ہیں یوں کہتے، یوں کہتے جو یار آتا
سب کہنے کی باتیں ہیں، کچھ بھی نہ کہاجاتا

(میر)
مٹک چلنا سجن کا بھولتا نئیں اب مجھ کو
طرح وہ پاؤں دھرنے کی مری آنکھوں میں پھرتی ہے

(آبرو)
آتا ہے کس انداز سے ٹک ناز تو دیکھو
کس دھج سے قدم پڑتا ہے انداز تو دیکھو

(مصحفی)
چوپڑ کے کھیلنے کا سارا ہے یہ خلاصہ
شاید کبھی وہ لڑکا بیٹھے ہمارے پاس آ

(آبرو)
سیکھے ہیں مہ وشوں کے لیے ہم مصوری
تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے

(غالب)
کیا تھا غیر کے ہنس بولنے کو ہم عتاب اس کوں
دیا سن کر سخن میر محبت سے جواب اس کوں

(آبرو)
میں نے کہا کہ بزم ناز غیر سے چاہیے تہی
سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھادیا کہ یوں

(غالب)
لگے ہیں شیریں اُس کے ساری اپنی عمر کی تلخی
مزہ پایا ہے جس عاشق نے تیرے سُن کے گالی کا

(آبرو)
کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھاکے بے مزہ نہ ہوا

(غالب)
بر چھی کی طرح توڑ جگر پار ہوگئی
تیری نگہ نے جب کیا آبرو پہ وار

(آبرو)
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
دونوں کو اک ادا میں رضامندی کرگئی

(غالب)
ان اشعار میں کہیں الفاظ و تراکیب میں یکسانیت پائی جاتی ہے یاپھر دونوں شعرا کی زمین ایک ہی ہے،یااس کے علاوہ مضامین میں بھی مشابہت موجود ہے۔جس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان شعرا کے یہاں آبرو کا کلام ایک مآخذ کے طور پر موجود تھا۔خاص طور سے غالب کے یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ جب وہ طرز بیدل میں ریختہ کہہ رہے تھے، تو ان کے سامنے تخلیقی مآخذ کے طور پرآبرو کا کلام بھی موجود تھا۔جس کے کئی شواہد موجود ہیں۔جس کی ایک مثال یہ بھی ہوسکتی ہے کہ غالب نے شاعری کی دوسری اصناف مثلاً منقبت،مدح اور مرثیہ آبرو ہی کی طرح غزل کی ہیئت میں لکھا ہے۔ جس سے یہ و اضح ہے کہ آبرو کی شاعری کے اثرات بہت دور رس ثابت ہوتے ہیں اورانہی وجوہات کی بنا پر آبروکو ولی کے بعد اردو شاعری کا اولین اور اہم رکن تسلیم کیا جاتا ہے۔ظاہر ہے کہ آبرو ایک باشعور اور باکمال شاعر تھا۔اس نے زبان کو سلیقے اور احتیاط سے استعمال کیا۔اردو غزل کو ایک منفرد لہجہ عطا کیا جو کہ ولی سے قریب ہوتے ہوئے بھی مختلف ہے۔آبرو کے کلام میں زبان و بیان کا واضح ارتقا محسوس کیا جاسکتاہے۔لسانی اعتبار سے بھی آبرو کے کلام میں تقریباً وہ تمام خصو صیات موجود ہیں،جن کا اس دور کی زبان کے حوالے سے ذکر کیا جاتا ہے۔اس لیے ان کی زبان کا مطالعہ محمد شاہی دور کی زبان کے مطالعے کا درجہ رکھتا ہے۔آبرو کی زبان پر مختلف زبانوں مثلاً بھا کا،کھڑی بولی، پنجابی، ہریانوی، راجستھانی، ہندوی اور دکنی اردو کے ملے جلے اثرات نمایاں ہیں۔کلام آبرو کے مطالعے کے بعد یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ آبرو کی زبان اوردکنی اردو میں بنیادی طور پر کوئی بڑا فرق نہیں ہے۔بنیادی فرق صرف لہجے اور کچھ الفاظ کا تھا مثلاً نکو،اتال،سٹنا،بیگ،یا انپڑنا وغیرہ۔ظاہر ہے کہ یہ الفاظ شمال کے بجائے دکن میں رائج تھے۔دراصل آبرو کی زبان کے مطالعے کے بعد یہ خیال یا نظریہ بھی غلط ثابت ہوتا ہے کہ دکنی اردو شمال کی اردو دونوں الگ مختلف زبانیں تھیں۔اس بات کی دلیل کے لیے آبرو کے اشعارکافی ہیں۔ دو شعر دیکھیے ؎
کیونکر بھرن انجھو کی انکھیاں سیتی پڑی نئیں
عاشق کوں آپڑی ہے ہجراں کی رات بھرنی
قدر بوجھو دل خوں خوارئہ عاشق کی اگر
سر چڑھا گل کے نمن زینت دستار کرو
آبرو نے الفاظ، محاورات اور روزمرہ کو اسی طرح استعمال کیا، جس طرح وہ عوام میں رائج تھے۔ مثلاً ’آگرہ‘ کوعام طور پر ’آگرے‘ بول دیاجاتا ہے۔ آبرو نے بھی اس لفظ کو اسی طرح استعمال کیا ہے۔ جیسے’’تم آگرے چلے ہو سجن کیا کریں گے ہم۔‘‘
خلاصہ کلام یہ ہے کہ آبرو کے کلام میں زبان و بیان کا واضح ارتقا محسوس کیا جاسکتا ہے۔ لسانی اعتبار سے بھی آبرو کے کلام میں تقریباً وہ تمام خصو صیات موجود ہیں،جن کا ذکر اس دور کی زبان کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔اس لیے ان کی زبان کا مطالعہ محمد شاہی دور کی زبان کے مطالعے کا درجہ رکھتا ہے۔اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ آبرو کے کلام میں سادہ اور سہل کلام کے نمونے بھی اچھی خاصی مقدار میں موجود ہ ہیں،لیکن انھوں نے جس مشاقی،ہنرمندی اورجگر کاوی کا ثبوت اپنی رعایات و مناسبات والی شاعری میں کیا ہے،وہ ان کی سادہ سہل والے کلام میں مفقود ہے۔اس لیے انھیں شہرت بھی رعایات و مناسبات والی شاعری سے ہی ملی ہے۔ مختصراً یہ کہ آبرو صرف ایک ایہام گو شاعر نہیں ہے بلکہ ان کی شاعری رعایات و مناسبات کی شاعری ہے۔ان کے مخصوص اسلوب کی وضاحت کے لیے ان کے کلام سے بہت سی مثالیں پیش کی گئیں،جس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ایہام گوئی ان کے کلام کا صرف ایک پہلو ہے،جب کہ دوسری لفظی و معنوی صنعتیں ان کے یہاں وافر مقدار میں موجود ہیں۔اس بات کی بھی وضاحت ہوگئی کہ ولی کا تتبع بھی آبرو کی شاعری کا صرف ایک پہلو ہے۔غرضیکہ اپنی انہی خصوصیات کی بنا پرآبرو نے اپنے معاصرین میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا اور ان کے اثرات بعد کے ادوار میںبھی بہت واضح طور پر مرتب ہوتے نظر آتے ہیں۔بقول ناجی ؎
ناجی سخن ہے خوب ترا گرچہ مثل شمع
لیکن زباں مزے کی لگی آبرو کے ہاتھ
مآخذ و مصادر
1. سفینہ خوشگو،بندرابن داس خوشگو،مرتبہ عطا کاکوی، ادارہ تحقیقات عربی و فارسی پٹنہ بہار،1959
2. نکات الشعرا،میر تقی میر،مرتبہ حبیب الرحمن خان شروانی،نظامی پریس بدایوں،1922
3. مخزن نکات،قائم چاند پوری،مرتبہ اقتدا حسن،مجلس ترقی ادب،1966
4. مجموعہ نغز،میر قدرت اللہ قاسم،مرتبہ محمود شیرانی،ترقی اردو بورڈ دہلی،1973
5. گلشن ہند،مرزا علی لطف،دارلاشاعت،لاہور،1906
6. تذکرہ ریختہ گویاں،سید فتح علی گردیزی،انجمن ترقی اردو اورنگ آباد،1933
7. دستور الفصاحت،سید احمد علی یکتا،مرتبہ امتیاز علی خان عرشی،ہندوستان پریس رامپور،1943
8. تذکرہ ہندی،غلام ہمدانی مصحفی،انجمن ترقی اردو اورنگ آباد،1933
9. دیوان آبرو،شاہ مبارک آبرو
10. تاریخ ادب اردو،جلد دوم،جمیل جالبی،ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس،دہلی،2017
12. عیارستان،قاضی عبدلودود،سلسلہ مطبوعات ادارہ تحقیقات اردو،پٹنہ بہار،1957
13. کلیات میر،میر تقی میر،مرتبہ کلب علی فائق،مکتبہ جدید پریس،نوائے وقت ہائوس لاہور،1986
14. کلیا ت مصحفی،غلام ہمدانی مصحفی،بتصحیح نثار احمد فاروقی،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، جون2003
15. دیوان غالب،مرزا اسد اللہ خاں غالب،مرتبہ علی سردار جعفری،اردو اکادمی دہلی،2001
16. انتخاب کلام آبرو،مرتبہ ظفر احمد صدیقی،اتر پردیش اردو اکادمی،لکھنو،1997
17. آب حیات،محمد حسین آزاد،گورنمنٹ بک ڈپو پنجاب،1887
18. شعرائے اردو کے تذکرے،حنیف کیفی،نسیم بک ڈپو،لکھنو،1976


Dr. Mahar Fatima
A-404, Saptagiri Sampada Apartment
Hoskote
Banglore- 562114 (Karnataka)
Mob.: 9555949032
meharekta004@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

,عجائباتِ فرنگ میں غیرافسانوی طرز وضاحت کی جھلکیاں ، مضمون نگار:مجید بیدار

تلخیص جس دور میں محمدیوسف کمبل پوش نے انگلستان کا سفر کیا، اس دور کی خاصیت یہ تھی کہ عربی ہی نہیں، بلکہ فارسی اور اردو زبان میں ان ایشیائی

سفینۃ الاولیاء‘ کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ،مضمون نگار:محشر کمال

تلخیص سفینۃالاولیاء تذکرہ نویسی کے فن میں محمدداراشکوہ کی ایک شاہکار تصنیف ہے۔ اس تذکرے میں مجموعی طور پر 416 اولیائے کرام کے تذکرے ہیں۔ ان میں مصنف نے بغیر

مثنوی’سیف الملوک و بدیع الجمال‘کا ادبی و تہذیبی مطالعہ،مضمون نگار:آصف مبین

تلخیص پیش نظر تحریر کی بنیادسلطنت دکن کے ملک الشعرا غواصی کی مثنوی ’سیف الملوک و بدیع الجمال‘ کے ادبی و تہذیبی مطالعے میں مضمر ہے۔اس مثنوی کے مرتب میر