اردو دنیا، مئی 2026:
راج کپور(1924-1988) لوگوں کے چہیتے اداکار تھے اور باذوق فلم بینوں میں اپنی تکنیکی صلاحیتوں، ترقی پسندی، اور کہانی کے موضوع کے ساتھ کامیاب برتاؤ کی وجہ سے بے حد مقبول تھے۔ جتنا کچھ راج کپور ہمیں دے گئے اُس سے سوا اور اس سے بہتر دینے کا ارمان ان کے دل میں تھا۔
ایک کلیپر بوائے سے لے کر ہیرو بننے تک کا سفر انھوں نے بڑے پُر پیچ راستوں سے طے کیا اور ہیرو کا مقام حاصل کرنے سے پہلے سنیما تکنیک کے ہر ہر پہلو پر دسترس حاصل کر لی تھی۔ اس علم نے بعد میں اداکاری، ہدایت کاری، منظر نامہ نگاری، صدا بندی، ادارت، موسیقی اور فوٹوگرافی کے شعبوں میں اُن کی بہت مدد کی۔ اپنے والد پرتھوی راج کپور یا اساتذہ کیدار شرما اور وی شانتا رام وغیرہ کے لیے راج کپور ساری عمر ایک سعادت مند اولاد اور شاگرد ہی بنے رہے۔ اور پرستاروں کی نیک خواہشات کے علاوہ ماں باپ اور بزرگوں کی دعاؤں کے طفیل دولت اور عظمت بیک وقت حاصل کرتے رہے۔
راج کپور نے جب ہوش سنبھالا اور ’’آگ‘‘ اور ’’آہ‘‘ فلم کے تجربوں کے ناکام پہلوؤں پر غور کیا تو اپنی اداکاری اور ہندوستانی فلم سازی میں ایک نئی طرز کو جنم دیا جسے فلمی تجارت میں فارمولا کہتے ہیں۔ اور جس کی بدولت بعد میں انھیں ہندی فلمی صنعت کے ’’شومین‘‘ کا لقب دیے دیا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ’’فارمولا‘‘ اور ’’شومین‘‘ سنجیدہ کام کرنے والوں کے لیے یہ کچھ غیر مناسب اور محض تجارتی اصطلاحیں ہیں۔ کیونکہ فلسفہ فارمولا نہیں ہوتا اور زندگی کو زندگی کی طرح پیش کرنا ’’شومینی‘‘ یا دکھاوا نہیں بلکہ آرٹ ہے۔ راج کپور کو شومین کہنا ایک طرح سے عظیم فلم ساز و اداکار کی ذہانت کو پس پشت ڈال دینا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ راج کپور نے اپنے تئیں شومین نہیں کہلانا چاہا بلکہ اپنے کیرئیر کے ذریعہ یہ بتانا چاہا ہے کہ یہ دنیا ’’شو ورلڈ‘‘ ہے۔ یا بقول شیکسپیئر دنیا ملنے اور بچھڑنے کا اسٹیج ہے۔
راج کپور نے اداکاری کو تخلیق کیا، اسے پہنا اور اوڑھا نہیں۔ ان کے جوتے جاپانی، پتلون انگلستانی اور ٹوپی روسی ضرور تھی لیکن انکا دل ہندوستانی ہی تھا۔ جب انھیں یہ ادراک حاصل ہوا کہ ہندوستان کے لاکھوں اور کروڑوں معصوم اور ناخواندہ لوگوں سے ان کا واسطہ پڑنے والا ہے اور ان کے دلوں میں انھیں گھر کرنا ہے تو سب سے پہلے انھوں نے اپنے ہم وطنوں کی سادگی اور معصومیت پر غور کیا۔ پھر اس پر غور کیا کہ کس طرح وہ خود کو اور اپنی فلموں کو ان سادہ لوح عوام کے لیے قابل قبول بنائیں۔ انھوں نے ضرور یہ سوچا ہوگا کہ وہ اپنی فلموں میں آج کے ’سپر مین‘ کے برخلاف پردۂ فلم پر ایک معمولی انسان کے روپ میں نظر آئیں گے تو عوام ان کے بارے میں پُر مسرت ہوکر کہیں گے کہ ’’یہ ہم میں سے ایک ہے۔ اور ہمارے جیسا ہے‘‘۔ راج کپور کو اپنے ناظرین کی مسرت اور محبت سے اٹوٹ رشتہ قائم کرنا تھا۔ اس کے لیے انھوں نے اپنی ذہانت کو بروئے کار لاکر مشہور زمانہ مزاحیہ اداکار چارلی چپلن کے انداز کی ٹوپی اور پتلون کا استعمال کرنا شروع کیا۔ یہ استحصال اس وقت بہت مقصدی اور تخلیقی ثابت ہوا۔ راج کو کردار کی باطنی سادگی اور معصومیت کے اظہار کے لیے ایک موثر لباس مل گیا جسے آج اُن کی ایک لازمی پہچان قرار دیا جاتا ہے۔ یہی لباس جب کامیڈین نور محمد چارلی نے ٹھیک چارلی چپلن کی نقالی کے لیے استعمال کیا تو وہ انھیں چپلن کے نقال کی حیثیت سے تو مشہور کر گیا لیکن نور محمد کے کردار میں کوئی مستقل اور دیرپا تخلیقی رنگ نہیں بھر سکا۔ دوسری طرف راج کپور نے چارلی چپلن سے مستعار لی ہوئی ٹوپی اور پتلون کے بغیر بھی سادگی اور معصومیت کا راست اظہار ’’جاگتے رہو‘‘ اور ’’تیسری قسم‘‘ فلموں میں انتہائی کامیابی سے کیا ہے۔ ان فلموں میں وہ دھوتی پہنے ہوئے گنوار نظر آتے ہیں۔
رومانس اور راج کپور—– اس موضوع کا ذکر راج کپور کے حوالے سے ’’برسات‘‘ فلم سے لے کر آج تک ہوتا چلا آرہا ہے۔ حالانکہ خود راج کپور کو رومانس کے ذکر سے زیادہ پردۂ فلم پر دکھائے جانے والے رومانس کی فکر رہا کرتی تھی۔ انھوں نے ایسے ہیرو اور ہیروئن تخلیق کیے جو لوگوں کا خواب اور آئیڈیل ہوتے ہیں۔ جوان، خوبصورت، ایک دوسرے پر فدا ہونے اور مر مٹ جانے والے، دیوارِ دولت کو محبت کے بیچ سے گرا دینے والے، دنیاوی رسم اور مصلحت کی حدوں کو پار کرنے والے ہیرو اور ہیروئن۔ لاکھوں کروڑوں ناآسودہ نوجوانوں کے دلوں کا ارمان کہ وہ کسی کو چاہیں اور خود انھیں چاہا جائے۔ اس خواب کے پورا ہونے سے تسکین و مسرت اور ناکام ہونے سے حزن و ملال کی کیفیت کو پردۂ فلم پر راج کپور نے دیدنی بنا کر پیش کیا۔ راج کپور نے پیار کرنے والوں کے جذبۂ محبوبیت کو سمجھا تھا۔ اور محبتیں جی کر اپنے کردار نبھائے تھے۔ ادھوری محبت زندگی میں افسانوی رنگ بھر دیتی ہے۔ راج کپور نے پہلے نرگس کے ساتھ اپنے نشاط قرب کو فلم میں منتقل کیا اور پھر برسات، آوارہ، شری 420 کے بعد اپنی ناکام اور کھوئی ہوئی محبت کی بازیافت میں سرگرداں رہے۔ سنگم، جس دیش میں گنگا بہتی ہے وغیرہ میں انھوں نے بھرپور نسائیت ضرور دکھائی لیکن نرگس کی محبوبانہ نرگسیت وہ دوبارہ پیش نہ کرسکے۔ حالانکہ ان کی یہ کھوج برابر جاری رہی۔ ڈمپل کپاڈیہ کے چہرے میں نرگس سے تھوڑی سی مشابہت ان کی فلم ’’بوبی‘‘ میں کسی حد تک کام بھی آئی اور ’’بوبی‘‘ سے بہ حیثیت پروڈیوسر انھوں نے بے پناہ دولت کمائی لیکن اس کھوئے ہوئے چہرے کا انبساط وہ کبھی نہ پاسکے جو ایک دفعہ زندگی میں آکر کھو چکا تھا اور بعد میں انھیں ٹکڑا ٹکڑا تو ہر کہیں ملتا رہا لیکن مجسم ایک شکل اور ایک روپ میں دوبارہ میسر نہ ہوا۔ اگر ’’میرا نام جوکر‘‘ کے بعد آر کے فلمز کے ہیرو نہ بدل گئے ہوتے تو لوگوں کو اس کا احساس بہتر طور پر ہوتا اور اس کا نفسیاتی ردِعمل یقینا ظاہر ہوتا۔ مگر راج کپور نے اچھا کیا کہ ’’میرا نام جوکر‘‘ کے بعد لوگوں پر اپنے آپ کو تھوپا نہیں۔ اور یہ بھی اچھا ہوا کہ انھیں اپنی عمر کے بڑھنے کا احساس ہوگیا اور اس کے بعد انھوں نے کیرکٹر رول نبھانا شروع کر دیے جن کے لیے ان کی ایک دم سے سنجیدہ ہو جانے والی شخصیت خوب کام آئی حالانکہ ’’کل آج اور کل‘‘، ’’دھرم کرم‘‘ وغیرہ کے سنجیدہ رول کے علاوہ ’’دو جاسوس‘‘ میں کافی دلچسپ اور تفریحی رولز ادا کیے۔
راج کپور میں تازگی اور نئے پن کے لیے ایک زبردست للک پائی جاتی تھی۔ گرچہ ان کی ہر فلم محبت کے تھیم پر بنتی تھی لیکن ہر محبت کے پس منظر میں ایک جیتا جاگتا اور سچا ماحول ایک نہ ایک سماجی پرابلم کے ساتھ ضرور دکھایا جاتا تھا۔ آوارہ اور شری420میں یہ خصوصیات واضح ہیں جن میں محبت کے پس منظر میں سوسائٹی کے گرے ہوئے اور مفلس بنائے گئے لڑکوں کی نفسیات کو اجاگر کرنے کے لیے طبقاتی کشمکش کو سیلولائڈپر کامیابی سے دکھایا گیا۔ ان دو فلموں نے راج کپور کو سوشلسٹ فلم ساز کے طور پر روس میں زبردست مقبولیت دلا دی۔ ہر چند کہ راج کپور کی فلموں میں سماجی شعور کی کارگذاری کو صرف اُن کی اپنی اپج نہیں کہا جا سکتا۔ وہ بیشتر خواجہ احمد عباس کے قلم کی دین تھی جن کی طرز فکر سے راج کپور ذہنی طور سے ہم آہنگ تھے۔ ’’میرا نام جوکر‘‘ واقعی خواجہ احمد عباس کا ایک تحریری کرشمہ تھی۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ خواجہ احمد عباس خود اپنے لیے کامیاب تجارتی فلمیں کیوں نہیں بنا سکتے تھے۔ عباس صاحب بھی مانتے تھے کہ وہ خود اپنی کہانی پر اتنی کامیاب فلم نہیں بنا سکتے تھے۔ وہ معترف تھے کہ سنیما کی مصلحتیں سمجھنے کے باوجود وہ اپنے آپ کو اس کی مصلحتوں میں نہیں ڈھال پاتے تھے۔ 50 اور 60کے دہوں میں ترقی پسند ادب پورے شباب پر تھا۔ اسی دور میں راج کپور نے ترقی پسند نظریات کا خوبصورت تجارتی استعمال کیا مگر عباس صاحب یہ کام خود نہ کرسکے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ بعض آپریشن مریض کو بے ہوش یا سُن کرنے کے انجکشن لگانے کے بعد کرنا پڑتے ہیں، وہ راست آپریشن کرنے لگتے تھے۔ لہٰذا ان کی فلمی پیشکش کو اشتراکی پروپیگنڈا سمجھ لیا جاتا تھا۔ راج کپور فلم بنانے کے دوران کسی ایک طبقے کو نہیں بلکہ مجموعی طور پر عام لوگوں کو ذہن میں رکھتے تھے۔ اس لیے تفریح اور رومانس کے ذریعہ سنیما بینوں کو پہلے ایک NEUTRAL نقطے تک لاتے تھے پھر انھیں وہ کچھ دیتے تھے جس کے لیے فلم بنانا ہوتی تھی۔ راج کپور نے اپنی فلموں میں طبقاتی کشمکش کو موثر ڈھنگ سے دکھایا ہے۔ لیکن انھوں نے پیغام کو پروپیگنڈا نہیں بننے دیا۔ عباس صاحب اور راج کپور کی ترقی پسندی میں یہی فرق تھا۔ عباس صاحب سوچتے تھے کہ سوشلزم کا فرض کہاں ادا ہوتا ہے، راج کپور سوچتے تھے کہ نظریہ قبول کہاں اور کس حد تک ہوتا ہے؟۔ عباس صاحب اور ان جیسے کئی ڈائرکٹر فلمیں تیار کرتے وقت ناظرین کی کم اور ایوارڈوں کی زیادہ سوچتے تھے۔ ’’چار دل چار راہیں‘‘ عباس صاحب کی ایک مقصدی ملٹی کاسٹ فلم تھی جس میں چار ہیروز میں سے مین ہیرو راج کپور تھے۔ مگر پھر بھی فلم تجارتی طور سے ناکام رہی۔ عباس صاحب سوشلزم کی منزل کے لیے سڑک کھودتے رہے اور راج کپور فرہاد کی صورت شیریں کے لیے نہر کھودنے کا کام کرتے رہے۔ شاید راج صاحب ادب کے ناقابلِ عمل حصہ کو فلم سے خارج کر دیا کرتے تھے۔ دستوفسکی کے روسی ناول ’’جرم و سزا‘‘ کے مرکزی خیال پر مبنی ہندی فلم ’’پھر صبح ہوگی‘‘ میں راج کپور سے بڑا فائدہ اٹھایا جاسکتا تھا۔ لیکن اس فلم کا بیشتر حصہ ہیرو کے ارتکابِ جرم اور سزا کے اندیشوں کے مابین ضمیر کی کشمکش اور خیروشر کے ٹکڑاؤ کے لیے وقف رہا۔ اس میں شک نہیں کہ راج کپور نے ’’پھر صبح ہوگی‘‘ میں ایک مجرم کی ذہنی و جذباتی کشمکش کی اداکاری میں حقیقت کا رنگ بھر دیا تھا۔
راج کپور کی فلموں میں لوکیشن، کیمرے کے زاویے، سنگیت اور گیت بڑی اہمیت رکھتے تھے۔ سنگیت پر راج کپور کو اچھا خاصا ملکہ حاصل تھا۔ رام کمار گنگولی اور شنکر جے کشن سے لے کر لکشمی کانت پیارے لال اور رویندر جین تک نے آر کے فلمز کے لیے جو موسیقی ترتیب دی اس قسم کی موسیقی وہ دوسرے پروڈیوسرس کی فلموں میں ترتیب نہ دے سکتے تھے اگرچہ دوسروں کے لیے بھی انھوں نے بہت اچھی اچھی دھنیں تیار کیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ راج کپور کے ہوم پروڈکشن میں سنگیت کا ایک علیحدہ مزاج روا رکھا جاتا تھا جو ان کی اپنی ہر فلم میں نمایاں رہتا تھا۔ یہ بات پس منظر کی موسیقی کے لیے اور بھی خصوصیت سے کہی جاسکتی ہے۔ یہ بات مجھے خواجہ احمد عباس مرحوم سے ہی معلوم ہوئی تھی۔ راج کپور کو ایک ساز اکارڈئین سے بڑی محبت تھی اگرچہ انھوں نے دَف بھی اکثر و بیشتر استعمال کیا ہے۔ شاید ان دونوں سازوں کے استعمال کی ایک خاص وجہ یہ رہی ہو کہ یہ دونوں ساز روس میں ہندوستان سے زیادہ رائج تھے جہاں راج کپور کے بینر کی فلمیں لوگ شوق سے دیکھتے تھے۔ راج کپور نے اپنے لیے ایک مخصوص آواز کے انتخاب میں بھی بڑی سمجھداری سے کام لیا۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مکیش کی آواز کو کے ایل سہگل کے اثر سے نکال کر راج کپور نے ایک الگ پہچان دے ڈالی۔ راج کپور کی فلموں میں گیت بہت معمولی اور آسان بول والے ہوتے تھے جو ظاہر ہے کہ پچاس سے سو الفاظ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ گیت ان کی کہانیوں اور سچویشنز میں پیوست ہوا کرتے تھے۔ ان گیتوں کو شاعری نہیں بلکہ تُک بندی ہی کہا جاسکتا ہے۔ لیکن آر کے فلمز کے گیتوں کے بولوں سے کسی بات اور کسی کیفیت کی ترسیل ضرور ہوتی تھی خصوصاً شیلندر کے گیت حسّی سطح کو چھوتے تھے۔ حسرت جے پوری کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ صحیح اردو الفاظ کو مسخ کر کے مقبول گیت لکھنے میں کامیاب تھے۔لیکن شیلندر کو ان کی دیگر تکنیکی صلاحیتیں بلند کر دیتی ہیں۔ ان کی فلم ’’تیسری قسم‘‘ اس کا ثبوت ہے جس کے گیت انھوں نے لکھے اور جس میں راج کپور نے ایک سادہ لوح دیہاتی کا کردار بڑی خوبی سے ادا کیا۔ پھنیشور ناتھ رینو کے ناول کے اس کردار میں راج کپور کے علاوہ کوئی دوسرا اداکار اتنا موثر اور موزوں یقیناً نہ ہوتا۔
راج کپور نے آر کے فلمز کے علاوہ دیگر بینرز کی فلموں میں بھی کامیاب اداکاری کی ہے۔ مثلاً پرساد فلمز کی ’’شاردا‘‘ کو لیجیے۔ جس میں محبوبہ مینا کماری ہیرو کی سوتیلی ماں بن کر گھر میں آتی ہے۔ محبوب خان کی فلم ’’انداز‘‘ میں راج کپور نے دلیپ کمار کے مقابل نرگس کے حاسد عاشق اور پھر شکی مزاج شوہر کا کردار بڑی خوبی سے نبھایا۔ ایک اور مدراسی پروڈکشن ’’نذرانہ‘‘ میں راج کپور نے دوسرے نصف حصے میں ایک بجھے ہوئے اور ناکام رومانی ہیرو کا اچھا تاثر پیش کیا۔ اس قسم کے سنجیدہ رولز کے علاوہ راج کپور نے رشی کیش مکھرجی کی ہدایت میں بنی ’’اناڑی ‘‘ اور ایک اور دوسرے ہدایت کار کی فلم ’’دلھا دلھن‘‘ میں سادھنا کے مقابل سادہ اور چنچل کردار نبھائے (یہ فلم انگریزی فلم ’’رومن ہولیڈے‘‘ سے اخذ کی گئی تھی)۔ اور پھر کئی ایک ہلکے اور سطحی رول بھی کیے۔
ان فلموں کے ذکر سے ہٹ کر ایک فلم ایسی ہے جو اس اداکار نے اپنی مختلف شناخت اور خاص اپنی تسکین کے لیے بنائی لیکن جس نے اسے نیلام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ یعنی ’’میرا نام جوکر‘‘۔ یہ فلم راج کپور کا بڑا عزم تھی۔ اس کے ذریعہ انھیں ناظرین سے بہت کچھ کہنا تھا، ایک باضبط، زخم خوردہ اور جہاں دیدہ محبت پیش کرنا تھی۔ میں نے شروع میں لکھا تھا کہ راج کپور کا ہیرو سادگی اور معصومیت کا اظہار ہوتا تھا۔ لیکن تب یہ بات میں نے سادگی اور معصویت کے سامنے کوئی خطِ فاصل قائم کیے بغیر کہی تھی۔ جس طرح المیہ کے سامنے طربیہ اور مسرت کے مقابل غم اٹل ہوتا ہے اسی طرح شاطرانہ پن اور عیاری کے پس منظر سے نیک دلی اور محبت کی سچائی ایک نبروآزما قوت کے طور پر ابھرتی ہے۔ ’’میرا نام جوکر‘‘ خواجہ احمد عباس نے لکھی بھی خوب تھی اور راج کپور نے بنائی بھی خوب تھی۔ لیکن افسوس وہ بیشتر فلم بینوں کے لیے ایک ناخوشگوار ثابت ہوئی۔ اس فلم نے یہ ثابت کر دکھایا کہ ہمارے فلم بین چارلی چپلن کی ٹوپی اور لباس سے زیادہ دور اب تک نہیں جاسکے ہیں اور ایک جوکر کے رنگے ہوئے چہرے اور ہیٹ کی معنویتSignificance تک پہنچنے میں انھیں اب بھی وقت لگے گا۔ اس میں شک نہیں کہ راج کپور کی اس ناکامی کے دکھ میں ان کے پرانے پرستار ان کے برابر کے شریک رہے۔ اور پھر اپنے ارادے کے برخلاف اس طویل فلم کا دوسرا حصہ راج کپور نے پروڈیوس نہیں کیا۔ شاید ہمارے فلم بینوں میں ابھی وہ شعور پیدا نہیں ہوا ہے جو ایسی فلموں کا متحمل ہوسکے۔ یا شاید یہ فلم ہندوستان میں قبل از وقت بن گئی تھی۔ اس فلم میں ’’جوکر‘‘ کا کردار بہت معنی خیز اور بہ یک وقت ’حسیت‘ اور ’بے حسی‘ کا علامیہ تھا۔ تین ناکام محبتوں کے بعد عاشق محسوس کرتا ہے کہ ایک مکمل جوکر بن چکا ہے۔ اس میں ایک سنگدلانہ قناعت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک دل پھینک کی طرح راجوؔ کا دل اچھلتا رہتا ہے، ہر بار ایک کاری زخم لگتا ہے اور ہر صدمے کے بعد وہ اپنے دل کو بڑا ہوتا محسوس کرتا ہے۔
فلم تین حصوں میں ہے۔ ہر حصے کے کلائمکس میں قدیم یونانی ڈراموں کی سی ایک دھیمی دھیمی اداسی پائی جاتی ہے۔ فلم کی ناکامی کا ایک سبب یہ تھا کہ اتنے منجھے ہوئے فن کی توقع لوگوں کو راج کپور سے نہیں تھی۔ اس فلم کے ہر ہر سین میں خاموش ہدایت کاری کے بہترین نمونے بھی دیکھے گئے۔ مثلاً جوکر کی کوششوں سے جب اس کی تیسری محبوبہ پدمنی ایک معمولی چورنی سے قوالہ اور پھر قوالہ سے فلمی ہیروئن بن جاتی ہے اور اسے اور جوکر کو پروڈیوسر راجندر کمار ہوائی جہاز سے بمبئی کی فلم نگری میں لے جاتا ہے تو اڑان بھرتے ہوئے جہاز میں پروڈیوسر (راجندر کمار) کے ہاتھ میں انگریزی رسالہ ’’ٹائمز‘‘۔ پدمنی کے ہاتھ میں ’’فورچون‘‘ دکھایا گیا ہے جبکہ جوکر ’’لائف‘‘ میگزین دیکھ رہا ہے۔ اسی طرح اولین جدائی میں جوکر کو روتا دکھایا گیا ہے لیکن بعد میں ہر جدائی کے منظر میں ناکام عاشق یعنی جوکر کی آنکھوں پر دھوپ کا رنگین چشمہ لگا دکھا کر مغمومیت کے تاثر کو بے پناہ کر د یا گیا ہے۔ ہر دو عشقیہ واردات کے درمیان منجھا ہوا سنیما ٹوگرافر رادھو کرمکار جسے بجا طور پر راج کپور کی تیسری آنکھ کہا جاتا ہے، راجوؔ کی رنگین عینک پر سے جھلملاتا ہوا ایک رنگین بونا جوکر پردہ فلم پر لے آتا ہے جو اپنے وجود کی اداسی سمیت بڑھتے پورے اسکرین پر چھا جاتا ہے۔ یہاں خاموش سنیما فوٹوگرافی کا فن خود کو محسوس کراتا ہے۔
میں نے راج کپور کے سلسلے میں ابھی چارلی چپلن کا ذکر کیا ہے۔یہاں میں یہ بھی کہوں گا کہ راج کپور کے بعض کاسٹیوم اور اطوارManners چارلی چپلن سے مستعار تھے۔ جیسے آوارہ، شری 420، اناڑی اور سب سے بڑھ کر میرا نام جوکر( کسی حد تک ’’سپنوں کا سوداگر ‘‘ میں بھی) میں راج کپور کے ملبوسات اور اطوار کو بغور دیکھیں تو شاید آپ خود کو مجھ سے متفق پائیں گے۔ لیکن ہم اسے نقالی نہیں کہہ سکتے کیونکہ راج کپور کے ٹوپی اور پتلون پہننے اور مینرز برتنے میں ایک فرق تھا۔ وہ یہ کہ چارلی چپلن (میں نے اس کی کئی خاموش فلمیں دیکھی ہیں) ان چیزوں کو کامیڈی کے لیے استعمال میں لاتا تھا جبکہ راج کپور نے انھیں قصداً بالانجام ٹریجڈی کے تاثر کو ابھارنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ ایک اور فرق میں نے محسوس کیا ہے۔ وہ یہ کہ چارلی چپلن کی خاموش فلموں میں بیک گرائونڈ میوزک جو اکثر کتے، بلّی اور ہجوم کے ساتھ بھاگ دوڑ کے مناظر میں تیز Sharp ہو جاتی ہے اور مغمومیت کے مناظر میں سست وائلن کے ساتھ مدھم ہو جاتی ہے اس انداز کا سنگیت اکثر راج کپور اپنی فلموں میں شنکر جے کشن کے ذریعہ استعمال میں لاتے تھے۔راج کپور اپنی فلموں کی موسیقی پر اپنی پسند کو حاوی رکھتے تھے ۔
بہرحال، راج کپور نے ’’میرا نام جوکر‘‘ کی ناکامی کے بعد شاید یہ طے کرلیا تھا کہ اب اونچا فن ہندوستانی فلم بینوں کے سامنے پیش نہیں کرنا ہے۔ فلم ’’بوبی‘‘ خواجہ احمد عباس نے ہی لکھی اور ’’میرا نام جوکر‘‘ کے نقصان کو عبور کرنے کے لیے بنائی گئی۔ نوجوان محبت کو لے کر اس فلم میں کچھ سماجی مسائل پیش کیے گئے اور اس کا تھیم قدرے جرأت مندانہ تھا لیکن ’’ستیم شِوم سندرم‘‘ اور ’’رام تیری گنگا میلی‘‘ میں راج کپور کافی سمجھوتہ پرست نظر آنے لگے۔ ان فلموں میں ضرورت سے زیادہ چمک دمک اور شہوانیت (EROTICISM) کے جذبے کے اظہار سے باذوق فلم بینوں نے راج کپور کے فن کو روبہ انحطاط ہوتے ہوئے دیکھا۔ شاید اس کے بعد فلم ’’حنا‘‘ میں مسلم سوشل تھیم کی وجہ سے وہ کسی قدر حجاب و تکلف اور مسلم کلچر کا نمونہ پیش کرتے اور انھیں ان کی کھوئی ہوئی فنی عظمت دوبارہ مل جاتی۔ فلم بہرحال بہت کامیاب رہی۔ لیکن اس کامیابی کو راج کپور کی آنکھیں نہیں دیکھ سکیں۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ بین الاقوامی ذوق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بنائی گئی اپنے زمانے کی ناکام باکس آفس فلم ’’میرا نام جوکر‘‘ آج ایک بڑی کلاسِک ہندی فلم سمجھی جاتی ہے۔
موت اور آخری انعام راج کپور کے لیے ایک ساتھ پہنچے۔ مئی1988کی بات ہے۔ صدر جمہوریہ شری وینکٹ رمن سے دہلی میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ حاصل کرنے سے قبل ہال میں بیٹھے بیٹھے راج کپور کو دمہ کا دورہ پڑا اور ایوارڈ لیتے ہی وہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں داخل کر دئے گئے جہاں ایک ماہ زندگی اور موت کی کشمکش کے بعد 2 جون 1988کو ان کا انتقال ہوا۔
Fay Seen Ejaz
Editor Mahnama Insha
(Distinguished International Urdu Magazine)
25B, Zakaria Street, Kolkata-700073
Mob : 9830483810
email: inshapublcations@yahoo.co.in