اردو دنیا،جولائی 2026:
اردو فکشن کے باب میں قاضی عبدا لستار کا نام محض اس لیے اہم اور غیر معمولی نہیں کہ انھوں نے شکست کی آواز ، شب گزیدہ، مجو بھیّا، صلاح الدین ایوبی ، بادل ، غبار شب، دارا شکوہ ، غالب ، حضرت جان، خالد بن ولید جیسے گرانقدر ناول اپنی یاد گاریں چھوڑی ہیں اور اردو ناول نگاری کی تاریخ میں بیش بہا اضافے کیے ہیں بلکہ اس لیے بھی ان سے صرف نظرنہیں کیا جا سکتا کیونکہ انھوں نے اپنے فن سے کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ بغور دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ بیسوی صدی کے نصف آخر میں جن فنکاروں نے اپنی تخلیقات کی بدولت اپنی ایک منفرد بلکہ بالکل جداگانہ روش پر چل کر اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ان میں قاضی عبد الستارکا نام سر فہرست تسلیم کیا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنی نگارشات سے جہاں ایک طرف اردو فکشن کے سرمایے میں قابل قدر اضافے کیے وہیں اپنے منفرد بیانیہ اور انداز و اسلوب سے قارئین کو چو نکایا بھی۔اردوفکشن نگاری میں قاضی عبدالستار کی شناخت ایک افسا نہ نگار سے کہیں زیادہ ایک ناول نگار کے طور پر زیاد ہ مضبوط و مستحکم ہے اور ان کے متعدد ناولوں کو کلاسک کا درجہ حاصل ہے ۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ انھوں نے صرف ناول نگاری تک ہی اپنا دائرہ محدود کر لیا بلکہ برخلاف اس کے ان کے افسانوں کی دنیا بھی کافی وسیع ہے اور ان میں وہ سارے اوصاف موجود ہیں جو انھیں اردو افسانہ نگاری کے باب میں ایک عظیم مقام پر فائزکرتے ہیں۔
بہت سے دیگر تخلیق کاروں کی طرح قاضی عبد الستار نے بھی اپنے ادبی سفر کا آغازفکر سخن سے ہی کیا تھا مگرجلد ہی ان کا رجحان نثر کی طرف ہو گیا اور پھر تاحیات وہ اسی کے ہو کر رہ گئے۔ درجن کے قریب ناول اورمتعدد افسانوں کے علاوہ بڑی تعداد میں ان کے مضامین و مقالات نثری اور تخلیقی و تنقیدی شکل میں موجود ہیں۔ قاضی عبدالستار کو بچپن سے ہی شاعری کے ساتھ ساتھ کہانیاں بھی پڑھنے کا شوق تھا۔ لیکن جلد ہی ان کا میلان کہانیاں لکھنے کی طرف ہو گیا اور ان کی پہلی کہانی ’’اندھا‘‘ کے عنوان سے محض چودہ سال کی عمر میں 1946میں شائع ہوئی جبکہ وہ ابھی ثانوی درجات کے طالب علم تھے۔ان کا یہ افسانہ پہلی بار لکھنؤ سے نکلنے والے رسالہ ’’جواب‘‘ میں اس کے مدیر شارب لکھنوی کے آدھے صفحے کے ادارتی نوٹ کے ساتھ شائع ہوا تھا۔ مگر باوجود اس کے قاضی عبد الستار کی افسانہ نگاری کا آغاز 1964سے ان کی کہانی ’’پیتل کا گھنٹہ‘‘ سے تسلیم کیا جاتا ہے جو کہ 1964 میں ماہنامہ کتاب (لکھنؤ)میں چھپی تھی۔اس کہانی کی اشاعت کے بعد قاضی عبد الستار بہت سے ناولوں کے ساتھ ساتھ ایک سے بڑھ کر ایک افسانے بھی لکھتے چلے گئے۔
قاضی عبدالستار کے ناولوں اور افسانو ں میں موضوعات کا بڑا تنوع پایا جاتا ہے ۔ تاریخی، تہذیبی، سماجی، نفسیاتی، شخصیتی، جنسی اور رومانی ہر قسم کے موضوعات کو بنیاد بنا کر انھوں نے اپنی کہانیاں اور ناول لکھے ہیں۔ مگر ان کے افسانوں کی انفرادیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انھوں نے سماج کے صرف انھیں مسائل و موضوعات کو اپنی تخلیقات کا حصہ بنایا ہے جن کو انھوں نے بہت قریب سے دیکھا سمجھا بلکہ ان کے ساتھ جیا اور وہ ان کے افکار و خیالات اور مشاہدات و تجرات میں رچ بس چکے تھے۔ اگر عمومی طور پر قاضی عبدا لستار کے افسانوں کا جائزہ لیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے پریم چند کے بعد سب سے زیادہ ہندوستان کے گاؤں دیہات کی زندگی کو پیش کیا ہے۔ لیکن ان کے یہاں ان مسائل کو پیش کرنے کا ہر گز مقصد وہ نہیں تھا جو پریم چند یا ان کے متبعین کی کہانیوں میں دیکھنے کو مل جاتے ہیں بلکہ اس کے ذریعے انھوں نے دراصل اودھ یا پھر پورے ہندوستان کے اس زمیندار انہ نظام اور تہذیبی و ثقافتی زندگی کے خاتمے کا ماتم پیش کیا ہے جو ان کے سامنے کی باتیں تھیں۔ نیز ان کے ذریعہ انھوں نے ہندوستان کی اس تہذیب و معاشرت پر اظہار تاسف بھی کیا ہے جو نہ صرف زوال آمادہ ہیں بلکہ ان کی جگہ نئی تہذیبیں اور اقدار و روایات لے رہی ہیں۔ قاضی عبدالستار کے افسانوی مجموعے’ ’آئینہ ایام ‘‘کے مقدمے میں محمد غیاث الدین لکھتے ہیں:
’’قاضی عبدالستار کے افسانوں کی سب سے بڑی خوبی اس کی Authenticity ہے ۔ ا ن کی ہرکہانی کسی نہ کسی سچے واقعات پر مبنی ہوتی ہے ۔ انھوں نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی پر افسانہ لکھا ہے ۔ ان کا تعلق سیتاپور کے زمیندار گھرانے سے رہا ہے اس لیے زمینداروں کی زندگی کا تجربہ اور مشاہدہ انھوں نے بہت قریب سے کیا ہے ۔ ان کے زیادہ تر افسانوں میں زمینداروں اور تعلقداروں کا کردار ہی بنیادی ہوتا ہے ۔ ‘‘1
لیکن اگر بغور دیکھا جائے تو اندازہ ہوگا کہ اردو افسانوں میں پریم چند اور ان کے متقدمین و متاخرین کے یہاں دیہات اور زمینداروں کو پیش کرنے کا جو تصور تھا وہ اس طور پر عامیانہ تھا کہ اس میں سماج کے خلاف ان کے ایک رخ یعنی ظلم و جبر کو ہی موضوع بنایا گیاتھا لیکن برخلاف اس کے قاضی عبد الستار نے اپنے افسانوں میں ان کے دوسرے رخ یعنی ان کی مظلومیت کو بھی بڑی فن کاری اور چابکد ستی سے سامنے لایاہے ۔ قاضی عبد الستار کا عندیہ ہے کہ یہ ذی حیثیت زمین دار بھی ہمدر د ، منصف، رحم دل اور انسان دوست ہوتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں زمین داروں کی گذشتہ آن بان اور شان کی جگہ صرف ان کا نام و نشان رہ گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں رہا۔ ترقی پسندافسانہ نگاروں نے اپنی تخلیقات میں گاؤں اور دیہات کی زندگی کو پیش کیا ہے اور قاضی عبدالستار نے بھی۔ لیکن دونوں کی پیش کش میں بڑا فرق پایاجاتا ہے ۔ قاضی صاحب کے دیہات میں کل کا زمین دار اور چو دھری آج خود ذلیل و خوار نظر آتا ہے۔ وہ نہ صرف روزی روٹی ، لباس وپوشاک اور گھر بارکا محتاج ہیں بلکہ ان کا حال کل کے مفلس ، غریب ، مزدور اور نوکر سے کچھ زیادہ بہتر نہیں اوراس کے بر خلاف کل کے وہی کمزور و مظلوم لوگ آج سر پنچ ، لالہ ، سرمایہ دار،منصف، مکھیا، پر دھان ، بی ڈی او، آئی اے ایس، ایم ایل اے ، ایم پی اور وزیر بن گئے ہیں۔
موضوعاتی سطح پر قاضی عبدا لستار کے اس نوع کی فکرو عمل سے اردو افسانے کے موضوعات میں ایک خاص وسعت و گہرائی پیدا ہوئی اور سماج کے اس پہلو کوسامنے لایا گیا جس کو بالکلیہ نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ پیتل کا گھنٹہ، میراث، ممواں لالہ، کھا کھا، رضوباجی ، ٹھاکر دوارہ، سایہ ، گرلہو میں غلطاں ، مجری وغیرہ اس حوالے سے قاضی عبدالستار کی خاص کہانیاں شمار کی جاسکتی ہیں ۔ ان افسانوں میں گاؤں دیہات اور زمیندارانہ ماحول اور اس کے احوا ل و کوائف کو جہاں موضوع بنایا گیا ہے وہیں ان میں ان تہذیبی و ثقافتی اقدار و روایات کو بھی جگہ دی گئی ہے جن کے ٹوٹ پھوٹ جانے کا افسوس اس نسل کے بیشتر لوگوں کو تھا اور اب بھی ہے ۔ افسانہ ’’پیتل کا گھنٹہ‘‘ سے لیا گیا ذیل کا اقتباس ملاحظہ ہو:
’’ یو۔۔۔یو بھسول ہے۔‘‘
بھسول کا نام سنتے ہی مجھے اپنی شادی یا د آگئی ۔ وہ کلاسکی کاٹ کی بانات کی اچکن اور پورے پائچے کا پاجامہ اور فر کی ٹوپی دیے میرے سامنے کھڑے تھے ۔ میں نے سر اٹھا کر ان کی سفید پوری مونچھیں او ر حکومت سے سینچی ہوئی آنکھیں دیکھیں ۔ انھوں نے سامنے کھڑے ہوئے خدمت گاروں کے ہاتھوں سے پھولوں کی بدھیا لے لیں اور مجھے پہنا نے لگے۔ میں نے بل کھا کر اپنی بنارسی کی پوت کی جھلملاتی ہوئی شیروانی کی طر ف اشارہ کر کے تلخی سے کہا۔’’ کیا یہ کافی نہیں تھی؟‘‘ ۔۔۔وہ میری بات پی گئے ۔ بدھیا برابر کیں ۔ پھر میرے ننگے سر پر ہاتھ پھیرا اور مسکرا کر کہا۔۔۔’’ا ب تشریف لے جائیں۔‘‘ میں نے ڈیوڑھی پر کسی سے پو چھا کہ یہ کون بزرگ تھے ۔ بتایا گیا کہ یہ بھسول کے قاضی انعام حسین ہیں۔ بھسول کے قاضی انعام حسین ، جن کی حکومت اور دولت کے افسانے میں اپنے گھر میں سن چکا تھا۔ میرے بزرگوں سے ان کے جو مراسم تھے مجھے معلوم تھے۔ جب میں چلنے لگا تو انھوں نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا ، مجھے بھسول آنے کی دعوت دی اور کہا کہ اس رشتے سے پہلے بھی تم میرے بہت کچھ تھے لیکن اب تو داما د ہو گئے ہو۔ اس قسم کے رسمی جملے سبھی کہتے ہیں لیکن اس وقت ان کے لہجے میں خلوص کی ایسی گرمی تھی کہ کسی نے یہ جملے میرے دل پر لکھ دیے ۔‘‘‘‘2
یہ افسانہ در حقیقت قاضی انعام حسین کے برے وقت کی کہانی ہے ۔ایک وہ زمانہ تھا کہ اس کے ہاتھ میں نظام حکومت تھااور اس کے پاس ہر طرح کی عیش و عشر ت ، آن بان اور شان تھی۔ مگر اب اس کی زندگی ایک ایسے پڑاؤ پر ہے کہ جہاں امیدوں کے چراغ کب کے بجھ چکے ہیں اور زندگی کے ہر سو میں اندھیر ا ہی اندھیرا چھا چکا ہے اوربقول رتن سنگھ’ تبھی تو ایک کھر درے ہاتھ والا دیہاتی بڑی بے تکلفی سے اپنی بیڑی سلگانے کے لیے مصنف کے ہاتھ سے آدھی جلی ہوئی تیلی چھین لیتا ہے ۔یہ بھی در اصل قاضی انعام حسین کی زندگی میں آئی خستہ حالی کی ہی کہانی کہتا ہے۔ایسا اس لیے ہوا کیونکہ جس مصنف نے اچھے دنوں میں قاضی انعام حسین کی حکومت سے سینچی ہوئی آنکھیں دیکھی تھیں وہ کیا دیکھتے ہیں کہ۔۔۔’ڈیوڑھی سے قاضی صاحب نکلے۔۔۔ڈوریے کی قمیض، میلاپاجامہ ۔۔۔ٹائر کے تلووں کا پراناپمپ پہنے ہوئے ۔‘
اس کہانی میں قاضی عبد الستار نے قاضی انعام حسین کی اس زندگی کو بھی پیش کیا ہے جو اس نے اپنی زمین دارانہ دور حکومت میں گزاری تھی اور بڑی فن کاری اور خوبصورتی سے اس باقی زندگی کی بھی عکاسی کی ہے جس میں اسے ہر چیز سے حرماں نصیبی کا سامنا ہے اور اس کی زندگی میں کوئی بھی امید کی کرن نہیں بچی ہے۔
اسی طرح ان کے دیگر افسانے بھی دیکھے جا سکتے ہیں ۔ عام طور پر قاضی عبد الستار کے افسانوں کو تین خانوں میں رکھ کر دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ پہلی قسم وہ افسانے آتے ہیں جن میں دیہات، اس کی زندگی اور مسائل و معاملات کو پیش کیا گیا ہے۔ دوسرے خانے میں شہری زندگی اور اس کی سرگرمیو ں سے متعلق افسانے ہیں اور تیسرے میں وہ افسانے آتے ہیں جن کا تعلق تاریخ و تہذیب سے ہے ۔ دیہات پر لکھے گئے افسانوں میں روپا،سینگ، سایہ ، نومی، دھندلے آئینے، گرم لہو میں غلطاں، وراثت ، کھاکھا، دیوالی، ٹھاکر دوارہ ،قد آدم مشعل، مجری، میراث ، گھسو، پیتل کا گھنٹہ، مالکن، رضو باجی، دو گانواں ، واپسی ، گھسو، ایک کہانی، ساملی ، ممواں لالہ، نازو، پر چھائیاں وغیرہ اہم ہیں ۔ سوچ، ماڈل ٹاؤن، تحریک، داغ، کتابیں ، ایک دن ، جنگل ، مشین، آڑے ترچھے آئینے، پہلی موت وغیرہ ایسے افسانے ہیں جنھیں ہم شہری زندگی کے زمرے میں رکھ کر دیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح ان کی کچھ کہانیاں مثلاً نیا قانون،سات سلام ، غادرہ ، آنکھیں، بھولے بسرے وغیرہ وہ ہیں جن کو افسانہ نگار نے تاریخ کو اپنا موضوع بنا کر تخلیق کیا ہے ۔
مذکرہ بالا افسانوں کے علاوہ ان کی دیگر تخلیقات کو بھی ہم اگر اس طرح دیکھیں توقاضی عبدا لستار کے فکرو فن کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔ خواہ دیہات کے موضوع پر ان کے افسانے ہوں یا شہر ی زندگی کے مسائل پر یا پھر تاریخ پر مبنی ہر ایک میں ان کے بیان کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے ۔حالات و ظرو ف کے اعتبار سے نہ صرف قاضی عبدا لستار الفاظ اور جملوں کا انتخاب کرتے ہیں بلکہ ان کا اسلوب بھی تخلیقات کے پس منظر اور ماحول کے اعتبار سے تبدیل ہوتارہتا ہے۔ کسی بھی فنکار کے لیے یہ تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب اس کے فنی کمالات اپنے عرو ج پر پہنچ چکے ہوں ۔ قاضی عبدا لستار اردوکے ایک منجھے ہوئے اور صاحب اسلوب افسانہ نگار ہیں ان کے یہاں یہ کمال بدرجہ اتم موجود ہے ۔ دیہات کی زندگی ہو یا شہر کی یا پھر تاریخی موضوعات ہر ایک کو پیش کرنے میں قاضی عبدا لستارکو بڑا کمال حاصل ہے۔ محمد غیاث الدین لکھتے ہیں
’’قاضی صاحب نے اود ھ کے دیہات اور جاگیر دارانہ تہذیب کے علاوہ شہری مسائل پر بھی افسانے لکھے ہیں۔ ایسے افسانوں کی تعداد کم ہے۔ ان افسانوں میں ان کا وہ رنگ نظر نہیں آتا جو دیہات اور تاریخ پر مبنی افسانوں میں ملتا ہے ۔ چہ جائیکہ ان کے شہری افسانے دیہات کے افسانوں کے مقابلے میں دوئم درجے کے ہیں تاہم ان کی بھی اپنی ایک الگ اہمیت ہے ۔ یہاں نئے تجربے ملتے ہیں ۔ سوچ، ماڈل ٹاؤ ن ، جنگل ، ایک دن ، کتابیں ، تحریک ، بلاعنوان ، پہلی موت ، آڑے ترچھے آئینے ، مشین اور داغ میں شہروں کی بدلتی ہوئی قدروں ، جذبوں ، رشتوں اور روایتوں کی بڑی حقیقی عکاسی کی گئی ہے ۔‘‘‘‘3
قاضی عبدالستار کے افسانوں میں نہ صرف موضوعات کا تنوع دیکھنے کو ملتا ہے بلکہ ان کے یہاں نئے نئے تجربے بھی ملتے ہیں۔بادل، سوچ، جنگل، داغ، دھندلے آئینے ، زنجیریں وغیرہ جیسے افسانوں میں قاضی عبدالستار کے یہاں شعور کی رو کا خوبصورت استعمال دیکھنے کو ملتا ہے ۔اس کے علاوہ قاضی عبدا لستار کے افسانوں کا ایک بڑا امتیازان کی زبان و بیان ہے ۔ان کی زبان کاایک بڑا وصف یہ ہے کہ وہ جہاں تخلیقات کی آرائش و زیبائش میں بڑ ی مستعدی سے اپنے فرائض انجام دیتی ہے وہیں وہ اپنے قارئین کے لیے اس حد تک رہنما بھی ثابت ہوتی ہے کہ مصنف نے اس کو جس مقصد و معنی کے لیے استعمال کیا ہے اس تک قاری بڑی آسانی سے پہنچ جاتا ہے اور اس پر اس کے معنی و مفاہیم بڑی آسانی سے واضح ہو جاتے ہیں ۔ مو قع و محل کے اعتبار سے ایجاز و اختصار کے علاوہ تشبیہات و استعارات اور پیرا ڈاکس جیسے فنی حربوں کے استعمال نے ان کی زبان میں ایک نمایاں وصف پیدا کر دیا ہے ۔قاضی عبدالستار کی زبان و بیان کے اس وصف پر روشنی ڈالتے ہوئے شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں :
’’قاضی عبدالستار Paradoxesکے بادشاہ ہیں۔ ان کا فن ایڈگرایلن پو کی یاددلاتا ہے ۔ ان کے قلم میں گذشتہ عظمتوں اور کھوئے ہوئے ماحول کو دوبارہ زندہ کرنے کی حیرت انگیز قوت ہے ۔ ان کی سب سے بڑی قوت ان کی حاضراتی صلاحیت ہے جو دو جملوں میں کسی مکمل صورت حال کو زندہ کردیتی ہے۔ ایڈگرایلن پو کی طرح اس سے انتہائی مختلف سیاق و سباق میں وہ نفسیات کو اجاگر کرنے کے بادشاہ ہیں۔‘‘4
آگے مزید ان کے فکر و فن پر اظہار خیال کرتے ہوئے سید محمد اشرف لکھتے ہیں کہ :
’’قاضی عبدالستار نے اپنے فکشن میں جاگیر دارانہ نظام کے خاتمے کا ماتم نہیں کیا ہے ۔ ان کا دکھ در اصل یہ ہے کہ اُس نظام کے زوال کے بعد وہ اقدار اُبھر کر سامنے نہیں آسکیں جن کی توقع معاشرے نے کی تھی۔ اُ س نظام کے زوال کا ماتم دار’شب گزیدہ ‘،’غبار شب‘ اور’بادل‘جیسے ناولوں کا انجام نہیں لکھ سکتا تھا۔ صناع مطلق نے انھیں اسلوب کے ضمن میں یک رنگ نہیں ، ہفت رنگ خلعتیں عطافرمائی ہیں۔ وہ اردو کے واحد فکشن نگار ہیں جن کا قلم اپنے موضوع کی مناسبت سے اسلوب تلاش کر لیتا ہے، تراش لیتا ہے ۔’’خالد بن ولید ‘‘کا اسلوب ’’صلاح الدین ایوبی‘‘ اور ’’ دارا شکوہ ‘‘ سے مختلف ہے اور ’’غالب ‘‘ کا اسلوب ان دونوں اسالیب سے الگ ہے۔ ’’تاجم سلطان‘‘ ایک علیحدہ پیرائے میں لکھا گیا ہے جب کہ ’’شب گزیدہ ‘‘ ، ’’ پہلا اور آخری خط‘‘ اور’’غبار شب‘‘ اودھ کے قصبات اور دیہات کی تہذیب سے اپنا اسلوب وضع کرتے ہیں۔‘‘5
مذکورہ بالا دونوں اقتباسات اگر ایک طرف قاضی عبدالستار کے فکر و فن کی گواہی دیتے ہیں تو وہیں یہ ان کی فکشن نگاری کے ان اوصاف کی بھی نشاندہی کرتے ہیں جن کی بدولت انھیں اردو کے افسانوی ادب میں ایک خاص امتیاز و افتخار حاصل ہے۔ قاضی عبدالستار صرف مختلف اسالیب کے ہی خالق نہیں بلکہ انھیں اپنی زبان و بیان پر بھی غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔ اگروہ اپنی بات کو بڑے پر اثر انداز میں بیان کرنے پر قادر تھے تو انھیں انسانی نفسیات کی پیش کش پر بھی مہارت تھی ۔ کرداروںکے انتخاب و تخلیق اور ان کی نفسیات میں اتر کر سوچنے کا جو ملکہ انھیں حاصل تھا وہ شاید ہی کسی اور کے یہاں موجود ہو ،نیزوہ ان کرداروں کے ذریعے ہی وہ ساری باتیں بیان کر دیتے ہیں جن کے متقاضی وقت اور حالات ہوا کرتے ہیں ۔
مختصراًیہ بات کہی جا سکتی ہے کہ آزادی کے بعد جن تخلیق کاروں نے اپنی تخلیقات کے ذریعہ اردو فکشن کو مالا مال کیا اور اس میں فکری و فنی ہر دوسطحوں پر اپنے اثرات مرتب کرنے میں کامیاب رہے ان میں قاضی عبدالستار کی حیثیت ایک روشن مینار کی ہے۔ انھوں نے جہاں اپنے ناولوں میں موضوعات کی سطح پر ایک منفرد دنیا کا انتخاب کیا وہیں انھوں نے اپنے افسانوں میں بھی ایسے ایسے مسائل و معاملات کو جگہ دی جن کی طرف اس سے قبل بہت کم تخلیق کاروں کی نظریں گئی تھیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قاری کو ان کی کہانیوں میں حقیقی زندگی کا عکس نظر آتا ہے اور ان میں بیان کر دہ واقعات وحادثات اور مسائل و معاملات خود اس کے یا اس کے سما ج کے معلوم ہوتے ہیں اور ان کی آپ بیتی میں بھی اسے ایک جگ بیتی کا احساس ہوتا ہے ۔
حواشی
1۔ مقدمہ ، محمد غیاث الدین ، آئینہ ٔ ایام ( قاضی عبدالستار کے بہترین افسانے)ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی،1995 ،ص 12
2۔ کہانی پیتل کا گھنٹہ ، آئینہ ٔ ایام ( قاضی عبدالستار کے بہترین افسانے) ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی،1995 ،ص 51
3۔ مقدمہ ، محمد غیاث الدین ، آئینہ ٔ ایام ( قاضی عبدالستار کے بہترین افسانے)ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی،1995 ،ص 13
4۔ بحوالہ جدید اردو افسانہ : اردو -ہندی،طار ق چھتاری، براؤن بک پبلی کیشنز، نئی دہلی، 2019، ص66
5۔ فلیپ،قاضی عبدالستار کی افسانہ نگاری (تنقیدی محاکمہ) مہناز عبید، رابطہ مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 2018
Dr. Abdur Razzaque Ziyadi
D-14(2nd Floor) Lane No.07, Johari Farm Noor Nagar Extn. Jamia Nagar, Okhla,
New Delhi-110025
Mob. +91 9911589715
E-mail: arziyadi@gmail.com