تلخیص
ہندوستان اورفارسی دنیا کے باہمی روابط ہزاروں سال پر مشتمل ہیں اور دونوں تہذیبوں نے ایک دوسرے کی تہذیبی، ثقافتی، ادبی و لسانی گوشوں کو متاثر کیا ہے۔ خود ترجمہ کے حوالے سے بھی اس باہمی تہذیبی رشتے کی تاریخ عظیم ہے۔ ساسانی عہد میں متعدد کتابوں کے پہلوی میں ترجمے، ایرانی دانشوروں کی ہندوستان آمد اور یہاں کے اہل علم و دانش سے ربط و ارتباط کے بہت سارے حوالے ملتے ہیں۔ ہندوستان میں عہدِمملوک میں ترجمے کی طرف توجہ ہوئی، اور خاص طور پر فیروز شاہ تغلق کے زمانے میں متعدد سنسکرت کتب کے ترجمے فارسی میں کیے گئے۔ ان میں بطور خاص ضیاء الدین نخشبی کا ترجمہ ’طوطی نامہ‘ سب سے اہم اور قابل توجہ کارنامہ ہے۔ یہ ترجمہ سنسکرت کی ایک کتاب’ شُک سپتتی‘ یا طوطے کی 70کہانیوں پر مشتمل ہے۔
اکبر نے ایک عظیم ادارہ یعنی دارالترجمہ قائم کیا اور اپنے عہد کے ممتازترین علما، دانشوروں اور پنڈتوں کو اس ادارہ سے منسلک کیا۔ ان میں بطور خاص ملّا عبدالقادر بدایونی، فیضی، پنڈت شیخ بھاون، حاجی ابراہیم سرہندی، نقیب خاں، ملّا شیرازی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ملّا بدایونی ایک عظیم مورخ ہونے کے ساتھ ساتھ عظیم مترجم بھی تھے۔ انھوں نے ہی اتھروید ، رامائن، مہابھارت(رزم نامہ)، اور سنگھاسن بتیسی وغیرہ کا سنسکرت سے فارسی میں ترجمہ کیا۔ فیضی نے باضابطہ بنارس میں رہ کر سنسکرت اور ہندی علوم وغیرہ کی تعلیم حاصل کی تھی، اور اسی نے گیتا کا فارسی میں ترجمہ کیا۔کرشن کی زندگی پر مشتمل کتاب ’ہربنس‘ کا فارسی ترجمہ مولانا شیری نے کیا۔ اس کے علاوہ عربی سے بھی فارسی میں متعدد کتابوں کے ترجمے ہوئے۔
فارسی کی تقریباً تمام کلاسیکی کتب بشمول مثنوی مولانا رومی، گلستان، دیوان حافظ، چہارمقالہ، دیگر کتب مذہبی، ادبی ، تاریخ و ثقافت اردو میں ترجمہ ہوئی ہیں۔ موجودہ دور میں بھی اردو ترجموں کا کام بدستور جاری ہے، اس میں ہندوستانی فارسی کتب اور دیگر نگارشات کے ساتھ ساتھ ایران اور دیگر فارسی ملکوں کی تحریریں بھی شامل ہیں۔چنانچہ فارسی اردو کا یہ لسانی، ادبی و تہذیبی رشتہ صدیوں سے جاری ہے، اور ہمیشہ رہے گا۔
کلیدی الفاظ
ترجمہ، سنسکرت ، فارسی، اردو، عربی، ہندوستانی تہذیب، فلسفیانہ روایات، اپنشد، پنچ تنتر، کلیلہ و دمنہ، ہربنس، طوطی نامہ، نہ سپہر، اعجاز خسروی،دارالترجمہ،ملّا عبدالقادر بدایونی، فیضی، پنڈت شیخ بھاون، داراشکوہ، حاجی ابراہیم سرہندی، نقیب خاں، ملّا شیرازی،ملا داؤد، عبدالقدوس گنگوہی عرف الکھ داس، کبیر، جائسی ۔
———
ہندوستان اورفارسی دنیا کے باہمی روابط ہزاروں سال پر مشتمل ہیں اور دونوں تہذیبوں نے ایک دوسرے کی تہذیبی، ثقافتی، ادبی و لسانی گوشوں کو متاثر کیا ہے۔ خود ترجمہ کے حوالے سے بھی اس باہمی تہذیبی رشتے کی تاریخ عظیم ہے۔ ساسانی عہد میں متعدد کتابوں کے پہلوی میں ترجمے، ایرانی دانشوروں کی ہندوستان آمد اور یہاں کے اہل علم و دانش سے ربط و ارتباط کے بہت سارے حوالے ملتے ہیں۔ مثلاً تیسری چوتھی صدی میں ایک کتاب کا سراغ ملتا ہے جو پہلوی ساسانی زبان میں شطرنج کے متعلق ’ماتیگانِ چتورنگ‘ کے عنوان سے لکھی گئی۔ اس حوالے سے علما کی آرا میں اختلاف پایا جاتا ہے، البتہ ایک غالب نظریہ ہے کہ یہ اس فن سے متعلق کسی ہندوستانی کتاب کا ترجمہ ہے۔اسی طرح چھٹی صدی میں ساسانی بادشاہ نوشیروان ، جو نوشیروانِ عادل کے نام سے مشہور ہے، ان کے دربارسے وابستہ برزوے یا بزرگمہر نامی دانشور ، بادشاہ کی ایما پر ایک ایسی جڑی بوٹی کی تلاش میں ہندوستان آیاکہ جس کے کھا لینے سے مبینہ طور پر انسان دستِ فنا سے نجات پالیتا تھا۔ برسوں اسی جستجو میں گھومتا رہا، جو نہ ملنی تھی نہ ملی۔ آخرکار ایک دانشمندسے اس کی ملاقات ہوئی، جس سے اس نے اس مسئلہ کا ذکر کیا۔ اس نے بزرگمہر سے پوچھا کہ آیا اس نے اپنے ہندوستان قیام کے دوران لوگوں کو بیمار ہوتے اور مرتے دیکھا، بزرگمہر نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر اس دانشمند نے کہا کہ اگر ایسی کوئی دوا ہوتی تو ہندوستانی کیونکر موت کا شکار ہوتے، اور اس نے کہا حقیقت میں ایسی کوئی چیز یہاں نہیں، البتہ انسانی ذات کی ابدیت اور جاودانگی کا راز اس کے اخلاق و کردار میں پنہاں ہے، اور ایسی اخلاق ساز کتاب ’پنچ تنتر‘ ہے۔ چنانچہ اس نے اس کتاب کا ترجمہ پہلوی زبان میں ’کرتک و دمنک‘ کے نام سے کیا۔ بعد میں یہ کتاب عربی زبان میں ’کلیلہ و دمنہ‘ کے نام سے ترجمہ ہوئی اور عرب دنیا میں اس کی شہرت اور مقبولیت آج تک ہے، اور اسے درسی کتاب کے طور پر بھی پڑھایا جاتا رہا ہے۔ دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس کا عربی مترجم عبداللہ ابن مقفع ایک ایرانی تھا، جس نے عربی زبان سیکھی تھی۔ فارسی زبان میں یہ کتاب بار بار ترجمہ ہوتی رہی بلکہ اس نے فارسی ادب بالخصوص نثر کو بے حد متاثر کیا۔ گلستان، بہارستان، انوار سہیلی وغیرہ بلکہ مثنوی مولانا رومی پر اس کے گہرے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔اس کے بعد انہی تراجم کے زیر اثر دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے۔ڈاکٹر ایجرٹن نے درست ہی کہا تھا کہ تاریخ میں بہت کم ایسی کتابیں ہوئی ہیں، جنھیں اتنی مقبولیت حاصل ہوئی اور جن کے اثرات دنیابھر کی مختلف ادبی روایات پر اتنے گہرے رہے ہیں۔
ہندوستان میں عہدِمملوک میں ترجمے کی طرف توجہ ہوئی، اور خاص طور پر فیروز شاہ تغلق کے زمانے میں متعدد سنسکرت کتب کے ترجمے فارسی میں کیے گئے۔ ان میں بطور خاص ضیاء الدین نخشبی کا ترجمہ ’طوطی نامہ‘ سب سے اہم اور قابل توجہ کارنامہ ہے۔ یہ ترجمہ سنسکرت کی ایک کتاب’ شُک سپتتی‘ یا طوطے کی 70کہانیوں پر مشتمل ہے۔ اس کے متعدد معاصر اور متاخر مخطوطات دستیاب ہیں، البتہ اکبر کی زیر سرپرستی بڑے اہتمام سے تیار کردہ اور مینیاتوری نقاشیوں سے آراستہ مخطوطہ سب سے بیش بہا اور نایاب ہے ، جسے 1550 عیسوی میں آمادہ کیا گیا۔ اس میں 250 نقاشیاں شامل ہیں۔ 1؎ سنسکرت کتب اور مروجہ علمی زبانوں اور علوم سے آشنائی اس عہد کے علما میں عام بات تھی۔ حضرت امیر خسرو نے بھی واضح طور پر سنسکرت زبان سے آشنائی اور سنسکرت علمی روایات سے آگاہی کا واضح اشارہ دیا ہے اور اس کا ذکر بطور خاص نہ سپہر، اعجاز خسروی اور دیباچۂ غرۃ الکمال میں بھی کیا ہے۔ البتہ بادشاہ اکبر کی سرپرستی میں ترجمہ اور بین المذاہب مباحث کو باضابطہ تحریک کی شکل میں ابھرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ اکبر نے اس مقصد کے لیے باضابطہ ایک عظیم ادارہ یعنی دارالترجمہ قائم کیا اور اپنے عہد کے ممتازترین علما، دانشوروں اور پنڈتوں کو اس ادارہ سے منسلک کیا۔ ان میں بطور خاص ملّا عبدالقادر بدایونی، فیضی، پنڈت شیخ بھاون، حاجی ابراہیم سرہندی، نقیب خاں، ملّا شیرازی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ملّا بدایونی ایک عظیم مورخ ہونے کے ساتھ ساتھ عظیم مترجم بھی تھے۔ انھوں نے ہی اتھروید ، رامائن، مہابھارت(رزم نامہ)، اور سنگھاسن بتیسی وغیرہ کا سنسکرت سے فارسی میں ترجمہ کیا۔ فیضی نے باضابطہ بنارس میں رہ کر سنسکرت اور ہندی علوم وغیرہ کی تعلیم حاصل کی تھی، اور اسی نے گیتا کا فارسی میں ترجمہ کیا۔کرشن کی زندگی پر مشتمل کتاب ’ہربنس‘ کا فارسی ترجمہ مولانا شیری نے کیا۔ اس کے علاوہ عربی سے بھی فارسی میں متعدد کتابوں کے ترجمے ہوئے، ان میں دمیری کی معروف زمانہ ’کتاب الحیوان‘ بھی شامل ہے۔ اس کا ترجمہ شیخ مبارک نے کیا۔ خود جہانگیر سے منسوب ایک سنسکرت کتاب’یوگ وششٹ‘ کا فارسی ترجمہ ہے، جو اس نے زمانۂ شہزادگی میں انجام دیا۔متعدد کتابوں کے ترجمے دوبارہ کیے گئے اور ان کی تسہیل کا کام کیا گیا۔ مثلاً ابوالفضل نے پنچ تنتر کو دوبارہ ’عیار دانش‘ کے نام سے ترجمہ کیا۔ اسی طرح کتھا سرت ساگر کا ترجمہ کشمیری حکمران زین العابدین کے زمانے میں ملا احمد کشمیری نے کیا تھا۔ یہ وہی صوفی منش حکمراں ہیں جو بڈشاہ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔کتھا سرت ساگر کے مذکورہ ترجمہ کو ملا بدایونی نے اکبر کی فرمائش پر دوبارہ سلیس زبان میں تالیف و تکمیل کی اور اس کا نام ’دریائے اسمار‘ رکھا۔اس تسہیل شدہ کتاب کو بڑی مقبولیت ملی اور آج تک فارسی دنیا میں شائع ہوتی رہتی ہے۔ بدایونی نے دوسرے مترجمین کے ساتھ مل کر علامہ حموی کی کتاب ’معجم البلدان‘ کا ترجمہ کیا۔اسی طرح ہندوستان میں لکھی گئی تاریخ کی پہلی کتاب’راج ترنگنی‘ کا ترجمہ بھی کیا۔
سب سے بڑا مسئلہ جو آج ہمارے سامنے نظر آرہا ہے وہ یہ ہے کہ صدیوں سے جاری علم و ادب اور تہذیب وثقافت کے مشترکہ ورثے کی دھارا کو جھوٹی شناختوںسے جوڑ کر تقسیم کے رویے کی حوصلہ افزائی کرنا۔ یہ ہماری تاریخ کی سب سے بڑی ستم ظریفی ہے ۔ہماری اپنی اس پوری روایت کی تفہیم کے لیے ہمیں قبل از نوآبادیاتی دور کے رسم و رواج اور ثقافتی رویوں کا جائزہ لینا ہوگا۔
اس حوالے سے صوفیوں کے پیام اور بغیر کسی بھیدبھاؤ کے تمام قوم و نسل کے لوگوں کے ساتھ محبت، خلوص اور دلسوزی کا رویہ، امیرخسرو کے علمی و تخلیقی کارنامے، ضیاء الدین نخشبی کے ترجمے، ملا داؤد، عبدالقدوس گنگوہی عرف الکھ داس، کبیر، جائسی کے ہندوی اور علاقائی زبانوں میں نغمے، اکبر اور ان کے دربار سے وابستہ علما اور پنڈتوں کے ترجمے، دارا کی علمی فتوحات بطور خاص اس کے تراجم کے ساتھ ساتھ مذکورہ اور ان جیسی شخصیات، ان کے فلسفے، ان کے فکری اورعلمی رویوں کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے۔
یہاں یہ بھی دیکھنا دلچسپ ہے کہ ملا بدایونی اور بہت سے دیگر علما، پنڈت اور ادبی و علمی شخصیات اپنی ذاتی زندگی میں روایتی طور پر مذہبی لوگ تھے، لیکن اس کے باوجود وہ دوسرے مذاہب کی مذہبی کتب کا مطالعہ اور ترجمہ کررہے تھے۔اس سے یہ واضح عندیہ ملتا ہے کہ سامراجی حکومت سے پہلے علوم اور زبانیں شناختوں سے جوڑ کر نہیں دیکھی جاتی تھیں، بلکہ انھیں صرف علم کا حصہ سمجھا جاتا تھا، اور جسے موقع اور مقدور دستیاب ہوتا وہ بغیر کسی تفریق کے سیکھتا تھا۔ شناختوں سے جوڑ کر زبانوں کو دیکھنے کا رویہ برطانوی سامراجی حکومت کی تقسیم کی سیاست کا نتیجہ ہے۔
ترجموں کی اس روایت اور ہندوستانی تہذیب اور فلسفیانہ روایات کی تفہیم کے حوالے سے جس شخص نے تاریخی کارنامہ انجام دیا، وہ داراشکوہ تھا۔تفہیم ادیان کے حوالے سے مجمع البحرین کی تالیف کے ساتھ ساتھ 50 سے زائد اپنشدوں کی ترتیب و تدوین اور ترجمہ کا کارنامہ ، اس حوالے سے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ بہت سے لوگ اسے ایک ہارے ہوئے شہزادے کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے وقت کا بڑا عالم ، صوفی اور شاعر بھی تھا۔ اس تاریخی حقیقت کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ تیموری (جو غلط طور پر مغل کے بطور مشہور ہیں) بادشاہوں ، شہزادوں اور شہزادیوں میں علم و ادب کا رواج عام تھا۔وہ ترکی کے ساتھ ساتھ عام طور سے فارسی ، عربی ، سنسکرت اور عام ہندوستانی زبان وغیرہ میں بھی مہارت حاصل کرتے تھے۔ ان میں متعدد شخصیات نے بڑے ادیب اور شاعر کی حیثیت سے بھی شہرت حاصل کی۔ وسطی ایشیا بالخصوص ازبکستان میں بابر کی پہچان در اصل ایک عظیم ادیب کے طور پر ہی ہے۔ بہت کم لوگ اسے ایک حکمران کے طور پر جانتے ہیں۔ اسی طرح ہمایوں اور اس کا بھائی مرزا کامران، دارا شکوہ اور شہزادہ زیب النسا بھی صاحب دیوان شعرا ہیں۔ زیب النسا کو یہ بھی فخر ہے کہ وہ فارسی ادب کی تاریخ میں پہلی صاحب دیوان شاعرہ ہیں۔ ان کے علاوہ تقریباً تمام تیموری بادشاہوں، شہزادوں، شہزادیوں نے شاعری کی شکل میں کچھ نہ کچھ حصہ دیا ہے۔
دارا شکوہ (1615-1669) عام طور پر جانشینی کی جنگ اور اس میں اس کی شکست کے حوالے سے دیکھا اور جانا جاتا ہے ، لیکن اس کی اصل شناخت اس کا تجسس اور صوفی روایت میں گہری دلچسپی ، علما، پنڈتوں اور عارفین کے ساتھ تعلق ہے اور اس کے نتیجے میں ، اسلام کے ساتھ ساتھ سناتن اور دیگر روایات کا گہرا مطالعہ ، 52 اپنشدوں کا فارسی ترجمہ ، اور اسی طرح صوفی روایات پر اہم کتابیں جیسے سکینۃ الاولیا ، سفینۃ الاولیا ، رسالۂ حق نما تالیف کیں۔ اس تجسس کی سب سے نمایاں مثالیں فارسی میں ’مجمع البحرین‘ اور سنسکرت میں ’سمدرسنگم‘ جیسی کتابیں ہیں جو کہ برصغیر پاک و ہند میں دو عظیم مذہبی روایات کو سمجھنے کی فلسفیانہ اور سنجیدہ کوششیں ہیں۔ اسی طرح حضرت محب اللہ الہ آبادی، میاں میر، ملا شاہ بدخشی ، سرمد ، بابا لال جیسے عظیم سنتوں اور بنارس کے پنڈتوں جیسے بڑے باباؤں کے ساتھ ان کی وابستگی اور تعلق اس کا ثبوت ہے۔ ساتھ ہی وہ ایک اہم ہندوستانی فارسی شاعر بھی ہیں۔
اپنشدوں کا فارسی ترجمہ بعنوان سر اکبر یا سرالاسرار، داراشکوہ کا ایک عظیم علمی کارنامہ ہے۔ سرِّ اکبر یعنی سب سے بڑا راز۔ اس کا دوسرا نام سرّالاسرار ہے ، یعنی رازوں کا راز۔ یہ اپنشدوں کا فارسی ترجمہ ہے۔ اس نے اس ترجمہ میں بڑی دقت نظری ، تفہیم ادیان، وسیع اور گہرے تہذیبی ادراک کا مظاہرہ کیا ہے۔اس کارنامہ کا اختصاص سنسکرت سے آسان فارسی زبان میں گہرے فلسفیانہ مطالب کے بیان کے ساتھ،مطالب کے پیشکش میں تخلیقی انداز کا اپنانا بھی ہے۔ اسی لیے اس کتاب کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے یہ ترجمہ نہیں بلکہ تالیف ہے۔ اس کے ذریعے مسلمانوں کو سناتن روایات سے روشناس کرانابھی تھا۔ وہ خود لکھتے ہیں کہ اس نے سناتن درشن کا مرکز یعنی بنارس میں رہنے والے پنڈتوں اور سنیاسیوں کو جمع کیا اور ان کی مدد سے دہلی میں چھ ماہ میںاس کا فارسی میں ترجمہ کیا۔ یہ ترجمہ 52 اپنشدوں پر مبنی ہے ، جس کی جمع آوری اور ترتیب و تہذیب کا سہرا بھی دارا شکوہ کو جاتا ہے۔اس ترجمہ نے مغرب میں ہندشناسی کا در وا کرنے میں اہم رول ادا کیا۔
البتہ ترجموں کے حوالے سے یہ سلسلہ جاری رہا، اور بعد میں سنسکرت اور عربی زبانوں سے فارسی میں ترجمے کی یہ روایت اردو اور دیگر جدید ہندوستانی زبانوں میں بھی جاری رہی۔ اردو میں متعدد کتابیں ترجمہ ہوتی رہی ہیں اور آج بھی ہورہی ہیں۔ اردو میں مذکورہ زبانوں کے علاوہ خود فارسی سے بے شمار کتابیں ترجمہ ہوتی رہی ہیں۔فارسی کی تقریباً تمام کلاسیکی کتب بشمول مثنوی مولانا رومی، گلستان، دیوان حافظ، چہارمقالہ، دیگر کتب مذہبی، ادبی ، تاریخ و ثقافت اردو میں ترجمہ ہوئی ہیں۔ اس میں خاص طور پر بیسویں صدی کے علما و ادبا کا اہم رول رہا ہے۔ اس ضمن میں حیدرآباد ریاست کی سرپرستی میں قائم دارالترجمہ کا بڑا اہم رول رہا ہے۔ وہاں فارسی اور کلاسیکی زبانوں کے علاہ بطور خاص مختلف موضوعات پر انگریزی اور یورپی کتابیں بڑی تعداد میں ترجمہ ہوئیں۔یہ ادارہ پہلی اردو یونیورسٹی یعنی عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد سے متصل ادارہ تھا، اور ترجمہ کی تاریخ کے حوالے سے اس کی خدمات بے نظیر رہی ہیں۔
دہلی، کشمیر، اودھ، حیدرآباد،عظیم آباد، مرکزی ہندوستان وغیرہ کے علاوہ راجستھان میں بھی تراجم کا کام بڑے پیمانے پرانجام دیا گیا۔ اس میں عربی، فارسی، انگریزی، سنسکرت سے اردو میں بڑے پیمانے پر ترجمہ کا کام ہوا۔ اس سلسلے میں سب سے اہم اور وقیع کام فارسی کتب کے تراجم ہیں۔ ان میں بیشتر تاریخی کتب شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تصوف، طب، ادب، داستان وغیرہ سے متعلق کتابیں بھی ترجمہ ہوئیں۔ تاریخ کی کتابوں میں بطور خاص توزک جہانگیری، زیب التواریخ، تاریخ راجستھان، تاج المآثر، آئین اکبری، طبقات شاہجہانی وغیرہ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
موجودہ دور میں بھی اردو ترجموں کا کام بدستور جاری ہے، اس میں ہندوستانی فارسی کتب اور دیگر نگارشات کے ساتھ ساتھ ایران اور دیگر فارسی ملکوں کی تحریریں بھی شامل ہیں۔چنانچہ فارسی اردو کا یہ لسانی، ادبی و تہذیبی رشتہ صدیوں سے جاری ہے، اور ہمیشہ رہے گا۔ ساتھ ہی ان زبانوں اور ان زبانوں کے تراجم کے توسط سے ہندوستان کی تہذیبی، ثقافتی، علمی، ادبی، لسانی اور تاریخی وراثت بھی نہ صرف محفوظ ہے، بلکہ دنیا بھر میں اس ورثہ کو پہنچانے میں معاون ہے۔
حوالہ جات
1. AND Haksar, Shuka Saptati: Seventy Tales of the Parrot, archived from the original on 23, 2, 2012
2. شیرانی، عزیز اللہ شیرانی، راجستھان میں اردو تراجم، جے پور، 2011
منابع و مصادر
l. چندرشیکھر، مطالعات ہند و ایران: متون و ترجمہ ہا،شعبۂ فارسی، دہلی یونیورسٹی، دہلی، 2007
2. داراشکوہ، سراکبر، تہران، 1969
3. داراشکوہ،مجمع البحرین، کلکتہ، 1929
4. داراشکوہ، سفینۃ الاولیاء، نولکشور
5. شیرانی، عزیز اللہ شیرانی، راجستھان میں اردو تراجم، جے پور، 2011
6. مفتی غلام سرور،خزینۃ الاصفیا، لاہور، 1410ھ
7. افضل الدین سرخوش ، کلمات الشعراء، تہران، 2010
8. A.N.D Haksar, Shuka Saptati: Seventy Tales of the Parrot, archived from the original on 23, 2, 2012
9. Ahan, Akhlaque Ahmad, Darashukoh, CCRT, Ministry of Culture, Delhi, 2022
Prof. Akhlaque Ahmad Ahan
Professor & Chairperson
Centre of Persian and Central Asian Studies
School of Language, Literature & Culture Studies
Jawaharlal Nehru University
New Delhi-110067, India
Mob.: 9911311417
akhlaque.ahan@gmail.com