اردو ناول تنقید کے ابتدائی نقوش،مضمون نگار: اعجاز حسین شاہ

August 18, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،اگست 2026:

اردو ناول کی روایت کے تانے بانے مغربی ادب سے جوڑتے ہوئے دیکھیں تو ڈپٹی نذیر احمد نے ڈینیل ڈیفو کے ناول ’’رابنسن کروسو (Robinson Crusoe ) کے تتبع میں بچیوں کی تربیت کی خاطر اصغری اور اکبری کا قصہ رقم کیا اور یوں اردو کا پہلا ناول ’’مراۃ العروس‘‘ (1869 ) منظرعام پر آیا۔ اگرچہ اردو ناول کی ابتدا ڈپٹی نذیر احمد کے ہاتھوں دلی میں ہوئی لیکن لکھنو میں عبد الحلیم شرر نے پہلی بار اپنے مضامین میں ناول کا لفظ استعمال کیا۔ انیسویں صدی کے اختتام تک ہندوستانی فکر و شعور میں واضح طور پر تبدیلی آ چکی تھی۔ داستان کے خیالی قصوں سے حقیقت نگاری کی طرف سفر بڑی تیزی سے طے ہو رہا تھا اور ہندوستان میں اردو ناول لکھنے کی روایت با قاعدہ قائم ہو چکی تھی۔ آغاز میں اردو ناول نگاری کے ساتھ سانحہ یہ رہا کہ ناول کی ابتدا ان ناول نگاروں کے ہاتھوں ہوئی جواصلاحی،تبلیغی اور مقصدی نقطہ نظر رکھتے تھے اور ناول کے فنی لوازمات سے پوری طرح آگاہ نہ تھے، دوسرا اس صنف سے پہلے شاعری کی کئی صدیوں پر محیط مستحکم روایت موجود تھی۔ یہ ناول نگار بھی اپنے ناولوں میں شاعری کی سی تاثیر پیدا کر کے عوامی توجہ حاصل کرنے کے خواہاں تھے ، اسی لیے ابتدائی ناولوں میں زندگی کا مشاہدہ تو ہے لیکن پیش کش سطحی ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد ، پنڈت رتن ناتھ سرشار، عبدالحلیم شرر اور مرزا ہادی رسوا کے بعد اردو ناول کی ایک مضبوط روایت قائم ہوگئی۔
اردو میں صنف ناول کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی اس پر تنقید بھی شروع ہو گئی ۔ ناولوں کے دیباچوں، تبصروں اور تقریظوں کی صورت میں ناول کی تنقید کے ابتدائی نمونے منظرِ عام پر آئے۔
ان دیباچوں ، تبصروں اور تقریظوں کے علاوہ ناول کی پیدائش سے لیکربعد کی آٹھ دہائیوں تک اس صنف کی تنقید میں کوئی معتبرتصنیف اور کوئی جامع تحریر سامنے نہیں آئی۔ اس کی ایک وجہ یہ رہی کہ اس عرصہ میں کسی نقاد کے لیے شاعری پر لکھنا ہی معتبر تنقیدی پیمانہ سمجھا جاتا تھا اور نثر پربات کرنا ادبی شان کے خلاف تھا اور دوسری وجہ یہ رہی کہ یہ صنف ابھی ابتدائی دور سے گذر رہی تھی اور اس کے لیے تنقیدی پیمانے رائج ہورہے تھے۔ دوسری بات اس لیے بھی قرین قیاس ہے کہ ابتدا میں شاعری کے فنی اور موضوعاتی پیمانوں کو فکشن کے لیے بھی برتا جاتا رہا ہے حالاں کہ فکشن کی تنقید کے تقاضے شاعری کی تنقید سے منفرد ہیں۔
اردو ناول کی تنقید کا پہلانقش جس کی طرف بہت کم ناقدین نے توجہ دی ہے وہ مولوی کریم الدین کا ’پیشانی‘ کے عنوان سے لکھا گیا ان کی تصنیف ’’خط تقدیر‘‘ کا دیباچہ ہے۔ عمومی طور پر ناقدین نے ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں کے دیباچوں کو اردو ناول کی تنقید کا آغاز قرار دیا ہے۔ جب کہ ان سے کچھ عرصہ قبل مولوی کریم الدین نے اپنے تحریر کردہ قصے ’’خط تقدیر (1862)‘‘ کے دیباچے ( پیشانی) میں جدید کہانی (ناول) کے بارے میں جدید تنقیدی نظریات بیان کیے۔ قطع نظر اس کے کہ یہ قصہ پہلا ناول ہے یا نہیں لیکن اس قصے کا دیباچہ اردو ناول کی تنقید کا نقش اولیں ضرور ہے۔ مولوی کریم الدین نے اس دیباچے میں پرانے لکھنے والوں پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ جدید قصے کے متعلق اس وقت کے لحاظ سے دو بنیادی اور اہم باتوں کو پیش کیا ، اول داستان کے برعکس جدید کہانی میں مافوق الفطرت عناصر کو قصے سے خارج کیا جائے ، دوسرا کہانی کی اثر پذیری کو وضاحت سے بیان کرتے ہوئے اس سے مفید کام لینے کا مشورہ دیا۔ ان کے نزدیک ہر پڑھنے یا سننے والا ذہن لاشعوری طور پر کہانی سے متاثر ضرور ہوتا ہے۔
’’ پرقصہ نویسی کے نتیجہ اہم اور غرضِ اعظم کی طرف ان کا ذہن نہ گیا ، وہ یہ تھا کہ جس طرح پر قصہ خوانی سے دل بہلتا ہے اور آدمی کا غم ٹلتا ہے اسی طرح طبائع انسانی پر اثر بھی اس قصہ کا اسی طرح پر ہو جایا کرتا ہے جس روش کی باتیں اس کہانی میں درج ہوتی ہیں یا ان کے مطابق پڑھنے اور سننے والوں میں ایسی عادات بد یا نیک پیدا ہو جاتی ہیں کہ ان کو خبر بھی ہر گز نہیں ہوتی کہ ہم میں عادات بد یا نیک پیدا ہو گئی ہیں‘‘۔ 1
وہ کہانی کی دوسری فنی خوبیوں کے متعلق مزید رقم طراز ہیں :
’’کہانی ایسے طور پر ہو کہ جو شخص پڑھے یا سنے اس کو خیال ہو کہ قصہ میرے ہی حسب حال لکھا گیا ہے۔ اور زبان اس قصہ کی اردو خالص اور سلیس، اور محاورات دلچسپ،روزمرہ ٹھیک ، اشعار حسب موقع قابل یا د رکھنے کے ہوں تا کہ اس زمانہ کے طلبا کوشوق نئی تصنیف کرنے اور مضامین حقیقہ لکھنے کی ترغیب ہو‘‘۔ 2
مولوی کریم الدین کے یہ پیش کردہ نظریات وبیانات جدید تنقیدی نقطہ نظر کے حوالے سے اہمیت کے حامل ہیں۔ مولانا حالی کی کتاب ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ مولوی کریم الدین کی اس تحریر سے تقریبا تیس سال بعد شائع ہوئی۔ جس میں شاعری کا سماج و معاشرے سے رشتہ جوڑنے کی بات کی گئی۔ شاعری کے سابقہ موضوعات جس میں گل و بلبل ، ہجر و وصال اور عشق و عاشقی کے قصے نمایاں تھے۔ ان کی جگہ مشورہ دیا گیا کہ گل و بلبل اور ہجر و وصال کی باتیں بہت ہو چکیں ہیں اب شاعری کو زندگی کی حقیقتوں سے جوڑا جانا چاہیے۔ اس طرح کے خیالات کا اظہار مولوی کریم الدین 1862میں کر رہے ہیں جو جدید تنقیدی نقطہ نظر سے اولیت کا درجہ رکھتے ہیں۔ وہ قصے کی تاثیر کے ساتھ ساتھ محیرالعقول واقعات اور مافوق الفطرت عناصر کو کہانی سے خارج کرنے کے حق میں ہیں اور زور دے رہے ہیں کہ کہانی میں مضامین حقیقی بیان ہونے چاہییں۔ انھوں نے نئے انداز کی کہانی کے خدوخال واضح کرتے ہوئے جن باتوں کی طرف توجہ دلائی ان کا خلاصہ درج ہے۔
(الف) ایشیائی قصوں کی پرانی روش اور طرز چھوڑ کر نئے طریقے سے کہانی لکھنا۔
(ب) قصے کا پیرایہ ایسا ہو جس کا اثر انسان کی طبع پر ہو۔
(ج) جو شخص پڑھے، اسے اپنے حسب حال معلوم ہو یعنی واقعتاً کہانی زمین پر بسنے والے انسانوں کی ہو۔
(د) قصہ خوانی انسان کو مسرت و انبساط کے علاوہ بصیرت و بصارت بھی عطا کرے۔
(ر) نئے لکھنے والوں کو حقیقی مضامین کی ترغیب ہو۔
مذکورہ بالا نکات سے یہ بات صاف ظاہرہوتی ہے کہ مولوی کریم الدین نہ صرف ناول کی تنقید کے نقش اولیں ہیں بلکہ اردو ادب کی تاریخ کے پہلے جدید نقاد بھی ہیں۔ مزید حقیقت نگاری کی روایت میں بھی ان کی اولیت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔
بہت سے ناقدین نے نذیر احمد کے ناول ’’مراۃ العروس‘‘ (1869) کے دیباچے میں لکھے گئے ان الفاظ کو اردو ناول کی تنقید کا ابتدائی نقش مانا ہے جس میں نذیر احمد ناول کے صرف مقصدی پہلوؤں کو ہی اجاگر کر رہے ہیں۔
پنڈت رتن ناتھ سرشار نے اردو ناول کی بنیاد کو مضبوط کیا۔ اردو ناول کی تاریخ میں ان کے ناول ’’فسانہ آزاد‘‘ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ ناول پہلی مرتبہ 1880میں نول کشور پریس لکھنو سے شائع ہوا جس کے دیباچے میں مصنف نے تین اہم باتوں کا ذکر کیاہے۔
الف۔ ناول کی اصطلاح پورے اعتماد کے ساتھ استعمال کی گئی ہے۔
ب۔ یہ کہ فسانہ آزاد انگریزی ناولوں کے ڈھنگ پر لکھا گیا ہے۔
ج۔ یہ کہ فسانہ آزاد کا کوئی واقعہ بعید از قیاس نہیں بلکہ تمام واقعات حد ممکنات میں ہیں ۔3
سرشار کے بارے میں احسن فاروقی کی رائے ہے:
’’ناول سے سچا ذوق حاصل کرنے والے کے لیے اور سچے مذاق کی ناول لکھنے والے کے لیے پہلے سرشار کے پیر چھو لینا ضروری ہے‘‘۔4
عبدالحلیم شرر نے معاشرتی اور تاریخی ناول لکھ کر اردو ناول کی روایت کو مستحکم کیا۔ انھوں نے ہی اردو میں پہلی بار اپنی تصنیفات کے لیے ناول کا لفظ استعمال کیا اور ناول کے متعلق مضامین بھی لکھے۔ رسالہ دل گداز میں چھپنے والے ناول کے حوالے سے شرر کے مضامین بھی اردو ناول کی تنقید کے ابتدائی نقوش ہے۔ جس میں انھوں نے ناول کے آغاز اور اس کے فن پر سرسری انداز میں بات کی ہے۔
ناول کی تنقید کے ابتدائی نقوش کے سلسلے میں ایک اور اہم حوالہ مرزا ہادی رسوا کے تنقیدی نظریات ہیں۔ انھوں نے اپنے ناول ’’افشائے راز‘‘(1894 ) اور اس کے بعد ’’ ذات شریف‘‘ (1900) کے دیباچوں میں ناول نگاری کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان دیباچوں کے علاوہ ان کے تنقیدی مضامین میں بھی فن ناول نگاری کے متعلق بعض آرا مل جاتی ہیں، یہ مضامین ناول کی تنقید میں ابتدائی نقوش کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مرزا رسوا کی یہ تحریریں بتاتی ہیں کہ وہ ناول کا کس قدر جدید شعور رکھتے تھے:
’’ نظم ایک طرف ، نثر میں بھی جہاں تک میں نے خیال کیا ہے یہی نقص پایا جاتا ہے۔اکثر ناول جو اس زمانہ میں لکھے گئے ان سب میں ایک ہی طرح کے منظر ہوتے ہیں، اور وہی ہر پھر کے آتے ہیں۔ جیسے اس شہر میں ایک غریب تھیٹر تھا جسے لوگ مذاق سے چھیڑ اکمپنی کہتے تھے، اس میں چند پردے تھے خواہ مخواہ تماشہ میں وہی پر دے بار بار دکھائے جاتے تھے خواہ ان کا محل ہو یا نہ ہو۔ اکثر تقلید پیشہ ناول نویسوں نے رینالڈکے ناول انگریزی میں پڑھے ہیں، اس کے مضامین جس قدر یاد رہ گئے ہیں اس کو اپنے ناولوں میں صرف کرتے ہیں۔ قصہ میں بھی کوئی جدت نہیں ہوتی۔ میں نے کسی انگریزی کتاب میں انگلستان کے ناول نویسوں کے پلاٹ (قصہ ) کی یک عام صورت پڑھی تھی۔ اس کا ذکر اس موقعہ پر لطف سے خالی نہیں۔ واقعی ناولوں میں اس کے سوا ہوتا ہی کیا ہے‘‘۔5
واضح رہے کہ ابتدائی ناول نگاروں نے ناولوں کے دیباچوں میں کہانی کی وضاحت اور مقصد کو بیان کرنے کی حد تک ہی اکتفا کیا ہے۔ ان ابتدائی تنقیدی نقوش میں تنقید کی گہری بصیرت موجود نہیں جو ناول کے موضوع اور فن کو گرفت میں لے سکے۔ اسی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر رفیعہ سلطانہ 1973میں منظرِ عام پر آنے والی یوسف سرمست کی کتاب ’’بیسویں صدی میں اردو ناول‘‘ کے تعارف میں لکھتی ہیں کہ:
’’اْردو میں تنقید کا وجود اقلیدس کا فرضی خیالی نقطہ اور معشوق کی موہوم کمر ہو نہ ہو ناول کی تنقید کا جہاں تک تعلق ہے یہ بیان حقیقت بن جاتا ہے۔ اْردو میں ناول پر تحقیق تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ تحقیق کی کم مائیگی نے تنقید کی راہیں بھی نا ہموار کر دیں۔ ایک عرصہ تک تو اس جدید صنف یعنی ناول کو جو بجائے خود ایک ’’وحدت‘‘ ہے داستان اور قصص کی کثرت میں گم کر دیا گیا۔ یعنی اسے داستان اور قصے ہی کے مماثل قرار دے دیا گیا اور ممیز نہیں کیا گیا۔ بالآخر اس کی سمت متعین ہوئی۔ اور تکنیک کے اعتبار سے اس کو علاحدہ صنف مانا گیا ‘‘۔6
اردو ناول کی ابتدائی تنقید کے ضمن میں جو مضامین منظر عام پر آئے ان میں لاہور سے چھپنے والے رسالہ ’’اوراق‘‘ میں ذکاء الدین شایان کا مضمون ’’ ناول کی زبان‘‘ اور پرویز پروازی کا مضمون ’’ ناول کے عناصر ترکیبی‘‘ کو ایک اہم اہمیت حاصل ہے۔ چونکہ یہ دونوں پہلے ایسے مضامین ہیں جن میں ناول کے فن پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ ذکاء الدین شایان کا مضمون ’’ ناول کی زبان ‘‘ پہلا ایسا مضمون ہے جس میں ناول کے ایک اہم جز ’زبان‘ کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ اس مضمون میں ذکا الدین شایان نے اردو ناول میں استعمال کی جانے والی زبان اور دیگر نثری اصناف کی زبان کے مماثل اور امتیاز پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔وہ ناول کے لیے شاعرانہ زبان کو اہمیت دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سیدھی سادی زبان بغیر تشبیہات و استعارات کے داستان کی زبان ہو سکتی ہے مگر ناول کی نہیں۔ ناول نگار کو کسی واقعے ، جذبے یا احساس میں شدت پیدا کرنے لیے شعری لوازمات کا سہارا لینا پڑتا ہے۔اس لیے وہ ناول کے مقصد کا تعین کرتے ہوئے ناول کی زبان کو نثر اور شاعری کے درمیان کی زبان قرار دیتے ہیں:
’’ناول کی زبان کا تعین اس وقت تک نا ممکن ہے جب تک کہ اس صنف اور اس کے مقصد کا تعین نہ کرلیا جائے ناول اپنی ہئیت کے اعتبار سے نثر کی صنف میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے جملوں کی ساخت اور تراکیب میں ہی اصول کارفرما ہوتے ہیں جو نثر کے لیے ضروری قرار دیے جاتے ہیں۔ ناول نگار خواہ قصہ بیان کرے ، خواہ کرداروں کے اعمال اور نفسیات کی تشریح کرے یا ماحول کا خاکہ کھینچے ، اسے نثرہی کا میڈیم اختیار کرنا پڑتا ہے۔ ناول کی نثر کا انداز کیسا ہونا چاہیے عام نثر اور ناول کی نثر میں کیا فرق ہے ؟ تخلیقی نثر اور علمی نثرکے کیا حدود ہیں ؟ اور پھر نثر یہ شاعری اور شاعرانہ نثر کہاں کہاں اور کس کس طرح مختلف ہوتے ہوئے بھی تخلیقی عمل کے دوران ایک دوسرے سے مل جاتی ہیں ، ان سب باتوں کو ذہن میں رکھے بغیر ناول کی زبان پر کوئی فیصلہ صادر کر دینا بے سود ہوگا۔
ناول کی زبان کے بارے میں عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اسے صرف نثر کی زبان سمجھا جاتا ہے۔ نثر کا خیال آتے ہی ہمارے دماغ سے وہ شعری لوازم یک لخت غائب ہو جاتے ہیں جو شاعری کے لیے نہ صرف ضروری ہیں بلکہ اس کا حسن اور زیور ہیں اور جو نثر کے لیے بے کار سمجھے جاتے ہیں۔ یعنی رموز و علائم ، اشارات ، تشبیہات اور استعارات و غیرہ، فنکار جب کوئی بات نثر میں کہتا ہے تو وہ صنائع شعری کا التزام نہیں کرتا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اپنے مافی الضمیر کو آسان اور عام فہم زبان میں قاری تک پہنچا دے۔ نثرکا قاری بھی فنکار سے اتنا ہی مطالبہ کرتا ہے۔ اگر قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ مصنف اپنی بات کے بیان میں بے جا لفاظی حالانکہ اس کا بھی تعین کرنا پڑے گا کہ بے جا لفاظی کیا ہوتی ہے، سے کام لے رہا ہے یا اپنے خیال کو خواہ مخواہ استعاروں میں الجھا رہا ہے تو اسے کوفت ہونے لگتی ہے اور وہ ایسی نثر اور ایسے نثر نگار کو اچھا نہیں سمجھتا۔ اس میں شک نہیں کہ ناول نگار ایک حیثیت سے نثر نگار ہی ہوتا ہے۔ اس کی نثر اگر نثر کے مروجہ اصولوں سے انحراف کرتی ہے تو غلط ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ناول کی نثر کیا محض نثر ہوتی ہے یا اس کے دائرے میں شاعری کا بھی دخل ہے۔‘‘7
پرویز پروازی نے اپنے مضمون ’’ ناول کے عناصر ترکیبی‘‘ میں ناول کے تمام فنی اجزا کہانی، پلاٹ ، کردار نگاری، زمان و مکاں، محاکات، فلسفہ حیات، نظریہ حیات اور مکالمہ پر وضاحت سے گفتگو کرتے ہوئے اردو ناول میں ان فنی لوازمات کے برتاؤ اور استعمال کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی ہے۔ نظریہ حیات پر بات کرتے ہوئے وہ رقم طراز ہیں کہ:
’’ناول میں نظریہ حیات کا وجود ضروری ہے۔ اس کی تبلیغ ضروری نہیں۔ ناول نگار کھلم کھلا تبلیغ پر اتر آئے تو ناول اپنے فن کی بلندیوں کو نہیں چھو سکتا۔ زندگی کا انقلاب سبک رو ہے۔ فرد کا انقلاب دھیما او ر قدم قدم ہوتا ہے۔ اس لیے نظریۂ حیات کا ارتقا پذیر ہونا ضروری ہے۔ نظریہ آہستہ آہستہ تشکیل اور ارتقا پذیر ہوتاہے۔ اس فطری طریق انقلاب کو ناول میں بھی قائم رہنا چاہیے۔ نظریاتی اور مقصدی ناولوں میں اس عنصر کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔ آغا ز کار میں ہی یہ جتا دینا کہ اس ناول میں فلاں امر کی تبلیغ کی جائے گی تنافر (REPULSION) پیدا کرتا ہے ۔ ناول میں فلسفہ حیات پر بات پیش کرنے کے دو طریق ہیں۔ اول یہ کہ ناول نگار کسی ایسے مسئلہ پر اظہار رائے کرے جو اخلاقیات سے تعلق رکھتا ہو۔ اخلاقیات کا تصور چونکہ اضافی ہے۔ اس لیے قاری کو اس سے صرف اس حد تک دلچسپی ہوتی ہے کہ وہ مصنف کے نظریات ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے مسائل پر رائے دیتے وقت ناول نگار بڑا محتاط ہو- بلکہ حد سے زیادہ محتاط ہو۔ کردار چوں کہ مصنف کا آلہ کار ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ ان کی حرکات و سکنات میں سے کسی ایک حرکت یاسکون پر زیادہ زور دیتا ہے۔ اس طرح اپنے نقطۂ نظر کو اجاگر کر لیتا ہے۔ یا پلاٹ میں ایسی گنجائشیں پیدا کر لیتا ہے کہ تنافر کی صورت پیدا نہ ہو۔‘‘8
اردو کے پہلے ناول نگار ڈ پٹی نذیر احمد کی ناول نگاری پر متعدد تنقیدی مضامین علی گڑھ سے نکلنے والے سہ ماہی رسالہ ’’فکر و نظر‘‘1994( ڈپٹی نذیر احمد نمبر ) میں چھپے۔
ان تنقیدی مضامین میں ڈپٹی نذیر احمد جو کہ اردو کے پہلے ناول نگار تسلیم کیے گئے ہیں، کی ناول پر مبنی تخلیقات کا تجزیاتی مطالعہ اور ان کے فن کو ناول نگاری کے متعین کردہ اصولوں کی کسوٹی پر پرکھنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ یہ اردو ناول کی تنقید کے وہ ابتدائی نمونے ہیں جو کسی مخصوص ناول نگار کی تخلیقات اور اس کے فن پر دلالت کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر پروفیسر خورشید احمد کے مذکورہ بالا مضمون بعنوان ’’ نذیر احمد کا فکشن ، فکری وفنی تناظر‘‘ کا یہ اقتباس دیکھیے جس میں وہ نذیر احمد کے ناولوں کی کردار نگاری کے متعلق آل احمد سرور کی رائے کی تردید کرتے ہوئے دلائل کے ساتھ نذیر احمد کے ناولوں کے کرداروں کو حالات و وقتی تقاضوں کے بموجب اور تابع بتاتے ہیں۔
نذیر احمد کے ناولوں کی حقیقت اور غایت کو نظر انداز کرنے کے سبب مختلف قسم کی فنی غلط فہمیاں ہماری تنقید میں راہ پاگئی ہیں۔مثال کے طور پر پروفیسر آل احمد سرور کو اس امر کا احساس تو ہے کہ نذیر احمد کی کہانیاں تعلیمی اخلاقی اور مذہبی نقطہ نظر سے لکھی گئی تھیں۔ یہ شروع سے مقصدی تھیں اور اصلاحی، لیکن اس کے باوصف وہ نذیر احمد کی کردار نگاری سے مطمئن نہیں۔ ان کا خیال ہے اور اس خیال کو اردو میں بہت شہرت ملی کہ نذیر احمد کردار نگاری کے گر سے پوری طرح واقف نہیں۔ ان کے کردار فرشتے ہوتے ہیں یا شیطان اگر افسانوی کرداروں سے بحث کرنے کے لیے حقیقی زندگی کے کرداروں کو معیار تسلیم کر لیں تو سرور صاحب کی شکایت بجا معلوم ہوتی ہے۔ لیکن بیانیہ کے جدید نظریہ ساز اس طریقہ تعبیر کو درست نہیں سمجھتے۔ وہ افسانوی اشخاص اور حقیقی زندگی کے اشخاص کو الگ الگ تصور کرتے ہیں۔ اْن کا خیال ہے کہ فکشن میں کردار تفاعلی حیثیت رکھتے ہیں یعنی اْن کی تشکیل کسی خاص مقصد کے لیے ہوتی ہے جب کہ حقیقی افراد اپنی انفرادی خود مختاری کے حامل ہوتے ہیں۔اسے ثابت کرنے کے لیے جدید نظریہ ساز کئی طرح کی دلیلیں پیش کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ حقیقی اشخاص اپنے ماحول کے پیداوار ہوتے ہوئے بھی اْس سے ماورا جا سکتے ہیں لیکن فکشن کے کرداروں کو ان کے ماحول سے جدا انہیں کیا جا سکتا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر ہم سوال کریں کہ حقیقی زندگی میں زید اگر کسی صورت حال سے دوچار ہو تو اس کا طرز عمل کیا ہو گا ؟ اس سوال کے جواب میں معقول حد تک قیاس آرائی کی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر پوچھا جائے کہ توبتہ النصوح کا کلیم ابن الوقت کی صورت حال میں کیسا برتاؤ کرے گا تو اس کا نتیجہ نا قابل توثیق قیاس آرائیوں کی شکل میں ظاہر ہو گا۔ اس کی دوسری دلیل یہ ہے کہ افسانوی کردار کے تجزیے سے متعلق معمولی سے معمولی تفصیل بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور اْسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔ مگر حقیقی افراد کے بارے میں کوئی فیصلہ دیتے وقت ہم کئی باتوں کو غیر ضروری اور اتفاقی سمجھ کر نظر انداز کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی حقیقی شخص کے نام کے بارے میں ہم یہ توقع نہیں کرتے کہ وہ نام اْس شخص کی سیرت پر کوئی روشنی ڈالے گا لیکن افسانوی فرد کے نام سے ہم بجا طور پر یہ توقع کرتے ہیں کہ یہ نام اس افسانوی شخص کے کسی مخصوص وصف کا اشاریہ ہوگا۔
ڈاکٹر اشفاق محمد خان کی کتاب ’’ نذیر احمد کے ناول (1979)‘‘ میں شامل تین مضامین ’’نذیر احمد کے ناول اور ان کے موضوعات‘‘ ، ’’بحیثیت ناول نگار نذیر احمد کی خامیاں‘‘ اور ’’اردو ناول میں نذیر احمد کی اولیت‘‘ کو ناول کی تنقید کے ابتدائی مضامین کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ ان مضامین میں انھوں نے نذیر احمد کے فن اور ان کے ناولوں کے موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ انھوں نے نذیر احمد کے ابتدائی زمانہ ناولوں میں واقعات،پلاٹ اور کرداروں میں پائی جانے والی خامیوں کی نشان دہی کو اس طرح بیان کیا ہے:
’’نذیر احمد کا پہلا ناول ’’مراۃ العروس‘‘ ہے۔ یہ ناول انھوں نے بچیوں کے لیے لکھا تھا۔ اس کے دو حصے ہیں۔ پہلے میں اکبری کا قصہ ہے اور دوسرے میں اس کی چھوٹی بہن اصغری کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ دونوں قصے الگ ہیں جن میں اکبری اور اصغری ہی مرکزی کردار ہیں۔ نذیر احمد نے ان دونوں آزاد قصوں کو جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ یہ تکنیک ہمیں داستانوں کے قصوں میں جا بجا ملتی ہے۔ اس طرح اس کا پلاٹ نہایت سادہ ہے۔ جدید ناول کی طرح ہمیں اس میں منازل حیات اور احساس تناسب نہیں ملتا۔ قصے کے درمیانی حصے میں ایک حکایت اور دور اندیش خان کے دو نصیحت آمیز خطوط پورے قصے کا جز نہیں بن سکے۔ دوسرے خط پر قصے کا خاتمہ غیر فطری معلوم ہوتا ہے۔
دوسرا ناول ’’توبتہ النصوح‘‘ ہے اس میں پہلے ناموں کی بہ نسبت فنی نزاکتوں کا قدرے اہتمام ملتا ہے لیکن واقعات کی تنظیم میں ناول کی طرح ربط نہیں ہے۔ داستانوں سے مشابہ اس قصے کی بنیاد ایک طویل خواب پر رکھی گئی ہے۔ داستان نویس بھی اکثر اپنے مقصد کے حصول کے لیے ہیرو کو خواب دکھا کر محبوب کے گھر کی طرف سفر کراتے تھے۔‘‘ 10
ان متذکرہ مضامین کے علاوہ اردو زبان وادب کے دیگر ممتاز رسائل و جرائد میں ناول کے فن اور ناول نگاروں کی تخلیقات پر چیدہ چیدہ تنقیدی مضامین چھپتے رہے ہیں جن کی اہمیت و افادیت مسلم ہے اور جنھیں بعد کی تنقید کا پیش خیمہ کہا گیا ہے۔ جن میں صلاح الدین احمد کا مضمون ’’اردو ناولوں میں طوائف کا کردار، (ادبی دنیا لاہور، مارچ 1947)‘‘، سوہن راہی کا مضمون ’’کرشن چندر (ماہنامہ قومی آواز کراچی، 1977)‘‘ اس مضمون میں سوہن راہی نے کرشن چندر کے افسانوں اور ناولوں کے موضوعات پر تفصیلی تبصرہ کیا ہے۔ ڈاکٹر صادق اور خلیل الرحمن اعظمی کا مشترکہ مضمون ’’ عصمت چغتائی عصر حاضر کی ایک بے مثال تخلیقی فنکار (ماہنامہ قومی زبان اگست 1981)‘‘ ، ڈاکٹر قمر رئیس کا مضمون ’’عصمت چغتائی کا ناول ٹیڑھی لکیر (ماہنامہ قومی زبان ، اگست 1981)‘‘ وغیرہ خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔
ان تنقیدی مضامین سے قطع نظر کسی ناول نگار کی خدمات پر لکھی جانے والی پہلی کتاب سید افتخارعالم بیگدامی ثم المارہروی کی ’’حیات النذیر‘‘ ( 1912) ہے۔
حوالہ جات
1۔ محمود الہی۔ اردو کا پہلا ناول خط تقدیر دانش محل لکھنو 1965ص 38
2 ۔محمود الٰہی۔ اردو کا پہلا ناول خط تقدر دانش محل لکھنو 1965ص 37
3۔ اسلم آزاد۔ اردو ناول آزادی کے بعد سیمانت پرکاش نئی دہلی 1990ص 26
4۔ احسن فاروقی۔ اردو ناول کی تنقیدی تاریخ(دوسرا ایڈیشن)۔ ادارہ فروغ اردو لکھنؤ، ص 99
5۔مرزا ہادی رسوا۔ مرزا رسوا کے تنقیدی مراسلات، دیباچہ و تعلیقات، ڈاکٹر محمد حسن، ادار و تصنیف علی گڑھ 1961
6۔ ڈاکٹر یوسف سرمست بیسویں صدی میں اردو ناول (تعارف) ترقی اردو بیورو، نئی دہلی 2000ص 9
7۔رسالہ اوراق لاہور ، شمارہ خاص 1968مضمون نگار ذکا الدین شایان ، مضمون ’’ ناول کی زبان ‘‘ ص 97
8۔ رسالہ اوراق لاہور، سالنامہ جنوری 1967مضمون نگار پرویز پروازی مضمون ’’ ناول کے عناصر ترکیبی‘‘ ص 168
9۔ رسالہ فکر و نظر ( سہ ماہی) علی گڑھ خصوصی شمارہ، ڈپٹی نذیر احمد نمبر 1994ص 51
10۔ ڈاکٹر اشفاق محمد خان ’’ نذیر احمد کے ناول ‘‘ جمال پریس، دہلی 1979ص 192-193

Dr. Ajaz Hussain Shah
Assistant Professor
Govt. PG College Rajouri-185133
Mob. 7051773278
Email: ajazh9004@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

پریم چند کی کہانیاں

زبان اور اس کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے ادب کو سمجھنا، جاننا اور اس کی بازدید بھی ایک اہم عمل ہے، منشی پریم چند کا شمار اردو کے

اقبال مجید کی افسانہ نگاری کا تخلیقی تجزیہ،مضمون نگار: ریاض توحیدی کشمیری

اردو دنیا،دسمبر 2025: ’’تخلیقی عمل کی طرح تخلیقی مطالعہ بھی ہوتا ہے۔‘‘ (آرڈبلیو ایمرسن) تخلیقی کام جتنا معیاری ہوگا اتنا ہی اس کا تجزیہ تخلیقی نوعیت کا ہونا چاہیے کیونکہ

رابندر ناتھ ٹیگورکی افسانہ نگاری ،مضمون نگار:سراج انور محمد میراں

اردو دنیا،مارچ 2026: ہندوستانی ادبیات میں اردو اور بنگلہ ادب کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ بنگلہ زبان تقریباً سوسے زیادہ بولیوں کوملاکرایک زبان کی شکل میں وجودمیں آئی۔ اسی طرح