فینٹسی فلموں میں داستانوی عناصر،مضمون نگار:محمد فیضان

September 17, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،ستمبر 2026:

داستان انسانی تہذیب کی قدیم ترین بیانیہ روایات میں سے ایک ہے۔ انسان نے اپنی تخیلاتی قوت، متعجب احساسات اور نامعلوم دنیا کو جاننے کی خواہش کے اظہار کے لیے داستانوں کو وسیلہ بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تقریبا ہر تہذیب میں ایسی داستانیں ملتی ہیں جن میں جادو، طلسم، دیو، پریاں، عجیب و غریب مخلوقات اور حیرت انگیز واقعات شامل ہیں۔ جدید دور میں جب فلم ایک طاقتور بصری وسیلہ بن کر سامنے آئی تو اس نے داستانی روایت سے گہرا رشتہ قائم کیا۔ خصوصا فینٹسی فلموں نے داستان کے انھیں عناصر کو سنیما کی زبان میں پیش کیا۔ جدید بصری تکنیک، کمپیوٹر گرافکس، اینیمیشن اور وی ۔ایف۔ایکس جیسی ٹیکنالوجی نے ان عناصر کو اس انداز سے پیش کیا کہ ناظر خود کو ایک خیالی مگر قابل یقین دنیا میں محسوس کرنے لگا۔ اس طرح فینٹسی فلمیں داستانی روایت کے تسلسل کی ایک جدید صورت بن گئیں۔ فینٹسی فلموں کی مقبولیت کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ انسانی تخیل کو وسعت دیتی ہیں اور حقیقت کی حدود سے آگے ایک ایسی دنیا تخلیق کرتی ہیں جہاں ناممکن بھی ممکن دکھائی دیتا ہے۔ اور یہی خصوصیت انھیں داستان سے قریب کرتی ہے، کیونکہ داستان کا بنیادی وصف بھی حیرت اور تجسس کی فضا قائم کرنا ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے فینٹسی فلموں میں داستانوی عناصر کا مطالعہ نہ صرف ادبی اہمیت رکھتا ہے بلکہ فلمی بیانیے کی ساخت اور اس کی جمالیات کو سمجھنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔
فینٹسی فلمیں داستانوی روایت کی بصری توسیع ہیں۔ اگر داستان لفظوں کے ذریعے حیرت پیدا کرتی ہے تو فینٹسی فلم تصویر اور آواز کے ذریعے اسی حیرت کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے۔
داستان اور فینٹسی کے درمیان سب سے مضبوط رشتہ تخیل کا ہے۔ دونوں اصناف حقیقت کی حدود سے آگے بڑھ کر ایک ایسی کائنات تشکیل دیتی ہیں جہاں خیر و شر کی کشمکش، ہیرو کی مہم، جادوئی اشیا اور پراسرار مقامات کہانی کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ فرق صرف اظہار کے وسیلے کا ہوتا ہے، جہاں داستان زبان اور بیان کے ذریعے اپنے اثرات مرتب کرتی ہے تو وہیں فینٹسی فلم انھیں عناصر کو بصری اور سمعی پیکر عطا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فینٹسی سنیما داستانوی روایت کے ارتقائی سفر کی ایک نئی منزل ہے۔ اس نظریاتی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ فینٹسی فلموں میں موجود داستانوی عناصر کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل ادبی اور ثقافتی روایت کا تسلسل ہیں، جس نے مختلف ادوار میں نئے ذرائع اظہار اختیار کرتے ہوئے اپنی معنویت کو برقرار رکھا ہے۔
داستانوں کی طرح فینٹسی فلموں میں بھی طلسم یا جادو کا مقصد صرف بصری حیرت پیدا کرنا نہیں ہوتا بلکہ یہی طلسم اور جادو پوری کہانی کی ساخت، کرداروں کے باہمی تعلقات اور واقعات کے تسلسل کو منظم کرتے ہیں۔ مرکزی کردار کو اکثر اسی طلسمی دنیا میں داخل ہونا پڑتا ہے، جہاں اسے مختلف آزمائشوں مثلا پراسرار مقامات اور غیر معمولی دشمنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح طلسم یا جادو داستانی بیانیے کو مسلسل حرکت میں رکھتے ہیں اور ناظر کے تجسس کو بھی برقرار رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہالی وڈ کی Harry Potter کی جادوئی دنیا ، The Lord of the Rings کی مڈل ارتھ اور The Chronicles of Narnia کی نارنیا، ایک ایسی طلسمی فضا قائم کرتی ہیں جو داستانوی روایت کے طلسمات کی یاد تازہ کرتی ہے۔ اسی طرح بالی وڈ کی Aabra Ka Daabra مکمل طور پر جادوئی دنیا، جادوئی تعلیم اور غیر معمولی قوتوں کے گرد گھومتی ہے۔ فلم میں جادو سیکھنے کے مراحل، جادوئی مقابلے اور جادوئی ماحول داستانوی روایت کے اس تصور کو تقویت دیتے ہیں کہ جادو صرف طاقت کا اظہار نہیں بلکہ کردار کی قابلیت، اخلاق اور بصیرت کا امتحان بھی ہے۔ دکنی ہندوستانی فلم Puli میں جادو داستانوی بیانیے کی مرکزی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آتا ہے۔ فلم میں جادوگرنی، طلسمی سلطنت، مافوق الفطرت طاقتیں اور جادوئی ہتھیار پوری کہانی کے ارتقا کو متاثر کرتے ہیں۔ مرکزی کردار کو ایسی جادوئی قوتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کو صرف جسمانی طاقت سے شکست نہیں دی جاسکتی بلکہ عزم، ذہانت اور اخلاقی برتری کی بھی ضرورت ہے۔ اس طرح فلم جادو کو خیر و شر کی علامتی کشمکش کے ساتھ مربوط کرتی ہے، جو کہ داستانوں کی نمایاں خصوصیت رہی ہے۔ ان تمام فلموں میں طلسم اور جادو صرف منظر آرائی تک محدود نہیں رہتے بلکہ کرداروں کی نفسیات اور خیر و شر کی کشمکش کا بنیادی پس منظر بھی بن جاتے ہیں۔ اس اعتبار سے فینٹسی سنیما نے داستانوی طلسم یا جادو کو نئی بصری اور فنی جہت عطا کی ہے، تاہم اس کی بنیادی ساخت اور مقصد وہی ہے جو داستانوں میں ملتا ہے۔
داستانوں کی طرح فینٹسی فلموں میں بھی مافوق الفطرت کردار سامنے آتے ہیں۔ فلموں میں اس کی شکلیں مختلف ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر Avatar میں ناوی اور پینڈورا کے روحانی و فطری وجود ایک منفرد مافوق الفطرت دنیا کی تشکیل کرتے ہیں۔ جب کہ Alice in Wonderland میں بولنے والے جانور، سفید خرگوش، چیشائر بلی اور ہیٹر جیسے غیر معمولی کردار ایک ایسی خیالی دنیا تخلیق کرتے ہیں جو مکمل طور پر داستانوی مزاج کی آئینہ دار ہے۔ اسی طرح بالی وڈ فلم Hatim Tai میں بھی مافوق الفطرت کردار داستانی بیانیے کی بنیاد ہیں۔ اس فلم میں گلنار پری اور پری بانو جیسی پریاں حسن اور روحانی قوت کی نمائندگی کرتی ہیں، جب کہ جادوگر کملاق اپنی طاقتوں کے ذریعے مرکزی کردار کے لیے مسلسل رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جنات، دیو ہیکل مخلوقات اور طلسمی محافظ جیسے مافوق الفطرت کردار بھی کہانی میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ ان تمام کردار میں کچھ ہیرو کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں تو کچھ اس کی مدد کرتے ہیں، جس سے پوری فلم میں حیرت و تجسس کی فضا قائم رہتی ہے۔
ہیرو داستان کا مرکزی کردار ہوتا ہے جس کے گرد پوری داستان تشکیل پاتی ہے۔ فینٹسی فلموں میں بھی ہیرو کا داستانوی سفر کہانی کی بنیادی ساخت کو منظم کرتا ہے۔ اگرچہ ہر فلم کا ثقافتی اور فنی پس منظر مختلف ہوتا ہے، لیکن مرکزی کردار کی آزمائشیں اور اس کی فکری یا روحانی نشوونما تقریبا ہر فینٹسی بیانیے کا لازمی حصہ ہوتی ہیں۔ اور یہی سفر فلم کو حیرت انگیز مناظر کے مجموعے سے آگے بڑھا کر ایک مربوط داستانوی تجربہ بنا دیتا ہے۔
بالی وڈ فینٹسی فلم Brahmastra: Part One-Shiva میں مرکزی کردار شیوا ابتدا میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں سے ناواقف ہوتا ہے، لیکن حالات اسے ایک ایسی مہم میں داخل کر دیتے ہیں جہاں اسے اپنی قوت اور اپنی ذمہ داری کا ادراک ہوتا ہے۔ یہ سفر داستانوی روایت کے اس ہیرو کی یاد دلاتا ہے جو اپنی اصل حقیقت کو مختلف آزمائشوں کے بعد دریافت کرتا ہے۔ چینی فلم The Monkey King میں سن ووکونگ کا کردار طاقت، غرور، بغاوت اور بعد ازاں خود شناسی کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ اس کا سفر صرف جسمانی فتوحات تک محدود نہیں رہتا بلکہ روحانی ارتقا کی بھی علامت بن جاتا ہے۔ اسی طرح ایک اور چینی فلم Journey to the West: Conquering the Demons میں مرکزی کردار مسلسل آزمائشوں سے گزرتا ہے اور تجربات کے ذریعے اپنی شخصیت کو مکمل کرتا ہے۔ یہ سفر چینی داستانوی روایت میں ہیرو کی تربیت اور اخلاقی تکمیل کے تصور کو نمایاں کرتا ہے۔ جاپانی اینیمیشن فلم Princess Mononoke کا اشیتا ایک ایسے سفر پر روانہ ہوتا ہے جس میں ذاتی مفاد کے بجائے فطرت اور انسانی طاقت کے درمیان توازن تلاش کرنا اس کا اصل مقصد بن جاتا ہے۔ اس طرح یہ جاپانی فینٹسی فلم ہیرو کی کامیابی، دشمن کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ اخلاقی بصیرت کا بھی مظاہرہ کرتی ہے۔ مذکورہ ان تمام مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ فینٹسی فلموں میں ہیرو کا سفر صرف ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کا عمل نہیں بلکہ خود شناسی، اخلاقی ارتقا، ذمہ داری کا احساس اور اجتماعی بھلائی کے لیے جدوجہد کی علامت ہے۔ داستانوں میں بھی ہیرو کی اصل کامیابی دشمن کو شکست دینے سے زیادہ اپنی شخصیت کی تکمیل میں مضمر ہوتی ہے۔ فینٹسی سنیما نے اسی داستانوی روایت کو نئے ثقافتی، فنی اور بصری اسلوب میں پیش کیا ہے۔
جادوئی اشیا بھی داستانوی ادب کا اہم عنصر ہیں، جو ہیرو کی مہم اور واقعات کے تسلسل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ اردو داستانوں، بالخصوص الف لیلیٰ اور طلسم ہوش ربا میں جادوئی اشیا مختلف صورتوں میں سامنے آتی ہیں۔ ان کے ذریعے حیرت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ کہانی کی ساخت اور کرداروں کی نفسیاتی تشکیل بھی کی جاتی ہے۔ اکثر مرکزی کردار کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار کسی مخصوص جادوئی شے پر ہوتا ہے، جس کی تلاش یا حفاظت پوری فلم کو آگے بڑھاتی ہے۔
ہالی وڈ فینٹسی فلم Stardust میں آسمان سے گرا ہوا ستارہ محض ایک فلکیاتی جسم نہیں بلکہ ایک جاندار اور جادوئی وجود کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جب کہ ایک طلسمی ہار اور دیگر پراسرار اشیا اقتدار کی خواہش اور لالچ کی علامت بن کر کہانی کو آگے بڑھاتی ہیں۔ اور The Lord of the Rings میں عصا کے ذریعے رونما ہونے والی مختلف توانائیاں اور جادوئی انگوٹھی کی حفاظت جادوئی اشیا کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔ اسی طرح Mirror Mask میں جادوئی نقاب حقیقت اور خواب کی دنیا کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنتا ہے اور مرکزی کردار کی خود شناسی کے سفر میں بنیادی کردار بھی ادا کرتا ہے۔ چینی فینٹسی فلم The Yin-Yang Master میں مختلف روحانی تعویذات، جادوئی مہریں اور طلسمی ہتھیار مافوق الفطرت قوتوں سے مقابلے کا وسیلہ بنتے ہیں۔ یہ اشیا اس فلم میں صرف جنگی طاقت کی علامت نہیں بلکہ روحانی توازن اور کائناتی نظم کی بھی نمائندگی کرتی ہیں۔ اسی طرح The Monkey King میں سن ووکونگ کا جادوئی عصا محض ایک ہتھیار نہیں بلکہ اس کی غیر معمولی شخصیت اور قوت کا استعارہ ہے۔ جب کہ بالی وڈ کی فلم : Part One-Shiva Brahmastra میں ’برہماستر‘ ایک ایسی الوہی اور غیر معمولی طاقت ہے جس کے گرد پوری کہانی گردش کرتی ہے۔ یہاں جادوئی شے ایک ہتھیار کے ساتھ ساتھ ذمہ داری، تحفظ اور تباہی کے امکانات کا استعارہ بھی بن جاتی ہے۔ اسی طرح جاپانی اینیمیشن فلموں میں بھی جادوئی اشیا کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ Howl’s Moving Castle میں جادوئی ہار، متحرک قلعہ اور آتشی روح داستانوی بیانیے کو متحرک کر دیتے ہیں، اور The Boy and the Beast میں مخصوص اسلحے اور تربیتی اوزار مرکزی کردار کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کی علامت بن جاتے ہیں۔ ان تمام مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ فینٹسی فلموں میں جادوئی اشیا داستانوی روایت کی ایک زندہ و جاوید علامت ہیں۔
خیر و شر کی کشمکش بھی داستانوں کا ایک بنیادی عنصر ہے، جس کے بغیر بیشتر داستانیں اپنی معنوی تکمیل حاصل نہیں کرتیں۔ جدید سنیما نے اس تصور کو زیادہ نفسیاتی اور سماجی جہتوں کے ساتھ پیش کیا ہے۔ کئی فلموں میں خیر و شر مطلق اور یک رخی نہیں رہتا بلکہ اس کے پس منظر اور داخلی تضادات کو بھی نمایاں کیا جاتا ہے، جس سے کہانی میں معنوی گہرائی پیدا ہوتی ہے۔
ہسپانوی فلم Pan’s Labyrinth میں خیر و شر کی کشمکش ایک منفرد انداز میں سامنے آتی ہے۔ فلم میں ایک طرف معصوم بچی اوفیلیا کی تخیلاتی دنیا ہے، جو امید اور معصومیت کی نمائندگی کرتی ہے تو دوسری طرف فاشسٹ اقتدار اور جبرو تشدد کی علامت کیپٹن ویدال موجود ہے۔ یہاں خیر و شر کا تصادم صرف خیالی دنیا تک محدود نہیں بلکہ سیاسی اور انسانی حقیقت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ چینی فلم Painted Skin میں خیر و شر کی سرحدیں زیادہ پیچیدہ صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ ایک شیطانی وجود انسانی جذبات کی خواہش رکھتا ہے، جس سے ناظر یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ شر ہمیشہ فطری ہوتا ہے یا بعض اوقات حالات اور خواہشات بھی اسے جنم دیتے ہیں۔ اس طرح یہ فلم داستانوی کشمکش کو نفسیاتی سطح تک وسعت دیتی ہے۔ جب کہ بالی وڈ فلم Bulbbul میں خیر و شر کا تصور روایتی داستانوں سے مختلف زاویے سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ تمام مثالیں واضح کرتی ہیں کہ فینٹسی فلموں نے خیر و شر کی داستانوی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں نئی فکری جہتیں شامل کی ہیں۔ داستانوں میں یہ کشمکش نسبتا واضح اور دو ٹوک ہوتی ہے جب کہ فینٹسی فلمیں اسے نفسیاتی اور سماجی تناظر میں بھی سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس کے باوجود بنیادی مقصد وہی رہتا ہے جو داستانوی روایت کا وصف ہے، یعنی انسان کو اخلاقی ذمہ داری اور انصاف کی اہمیت کا شعور دینا۔
فینٹسی فلموں میں مہم جوئی یا جستجو خاصی اہمیت رکھتی ہے۔ مرکزی کردار کو کسی غیر معمولی مقصد کے لیے اپنی مانوس دنیا سے نکل کر ایک اجنبی، پراسرار اور خطرناک دنیا میں داخل ہونا پڑتا ہے، جس میں وہ مہم جوئی اور جستجو کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو پہچانتا اور مشکلات پر قابو پاتا ہے۔
ہالی وڈ فینٹسی فلم The Never Ending Story میں ایک لڑکا کتاب کے ذریعے ایک خیالی دنیا میں داخل ہوتا ہے، جہاں اس کی جستجو صرف اس دنیا کو بچانے تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ اپنی ذات، خوف اور امید کو بھی نئے انداز میں سمجھنے لگتا ہے۔ یہاں مہم جوئی داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر وقوع پذیر ہوتی ہے۔ بالی وڈ فلم Jajantaram Mamantaram میں مرکزی کردار ایک ایسے جزیرے میں پہنچ جاتا ہے جہاں دیوقامت انسان بستے ہیں۔ یہ اجنبی دنیا اسے مسلسل نئے تجربات، غیر متوقع حالات اور مختلف آزمائشوں سے گزارتی ہے۔ ان حالات سے نبرد آزما ہوتے ہوئے وہ نہ صرف اپنی بقا کو یقینی بناتا ہے بلکہ اعتماد، قیادت اور دانش مندی جیسی صفات بھی حاصل کرتا ہے۔ اس طرح فلم داستانوی مہم کو کردار سازی کے عمل سے جوڑ دیتی ہے۔ جب کہ چینی فلم Monster Hunt میں مرکزی کردار کا سفر ابتدا میں ذاتی بقا سے شروع ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ وہ انسانوں اور مافوق الفطرت مخلوقات کے درمیان امن اور بقائے باہمی کی جدوجہد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس فلم میں مہم جوئی صرف جسمانی خطرات سے نبرد آزما ہونے کا نام نہیں بلکہ خوف اور باہمی عدم اعتماد پر قابو پانے کی علامت بھی ہے۔ اسی طرح جاپانی فلم Spirited Away میں چیہیرو کا سفر ایک جادوئی دنیا میں داخل ہونے سے شروع ہوتا ہے، جہاں اسے مسلسل مختلف آزمائشوں اور غیر متوقع حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان تجربات کے ذریعے وہ خوف زدہ اور کمزور بچی سے ایک ذمہ دار اور باہمت شخصیت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ داستانوں ہی کی طرح فینٹسی سنیما میں بھی اصل اہمیت منزل سے زیادہ سفر کو حاصل ہوتی ہے کیونکہ یہی سفر کردار کو نئے تجربات، نئی بصیرت اور نئی شناخت عطا کرتا ہے۔
اردو داستانوں میں خیالی دنیا کی تشکیل کا بہترین نمونہ طلسم ہوش ربا میں ملتا ہے، جہاں طلسمی شہر، پراسرار قلعے، جادوئی باغات، زیر زمین محلات، عجیب مخلوقات اور حیرت انگیز مقامات ایک خیالی کائنات تشکیل دیتے ہیں۔ اس دنیا کی اپنی داخلی منطق اور ترتیب ہوتی ہے، جس کی وجہ سے قاری اسے محض تخیل نہیں بلکہ ایک مکمل حقیقت کے طور پر قبول کرتا ہے۔ یہی خصوصیت داستان کو عام قصے سے ممتاز کرتی ہے۔ فینٹسی فلموں نے بھی اس داستانوی عنصر کو سنیمائی امکانات کے ذریعے مزید وسعت دی ہے۔ جدید بصری ٹیکنالوجی کے ذریعے فلم ساز ایسی دنیا تخلیق کرتے ہیں جو بیک وقت حیرت انگیز اور جمالیاتی طور پر مربوط ہوتی ہے۔ اور اس تخیلاتی دنیا کا ہر مقام، ہر کردار اور ہر شے ایک وسیع داستانوی نظام کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔
ہالی وڈ فلم Avatar میں سیارہ پینڈورا ایک ایسی خیالی دنیا کے طور پر سامنے آتا ہے جس کی اپنی حیاتیاتی ساخت، نباتات، حیوانات، زبان، رسوم اور روحانی عقائد ہیں۔ فلم کا تخیلاتی حسن صرف بصری مناظر تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس تخیلاتی دنیا کی داخلی تنظیم بھی حقیقت کا احساس دلاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پینڈورا محض فلم کا مقام نہیں بلکہ ایک زندہ داستانوی کائنات بن جاتا ہے۔ جب کہ چینی انیمیشن فلم Big Fish Begonia میں سمندر، ارواح کی دنیا اور انسانی دنیا ایک دوسرے سے مربوط مگر الگ الگ کائناتوں کی صورت میں پیش کی گئی ہیں۔ فلم ان دنیائوں کے درمیان تعلق اور توازن کو اس انداز میں واضح کرتی ہے کہ ناظر اس خیالی نظام کو ایک مکمل حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔ اسی طرح بالی وڈ فلم Paheli میں راجستھانی لوک روایت، دیہی ماحول اور روحانی وجود مل کر ایک ایسی دنیا تشکیل دیتے ہیں جس میں مافوق الفطرت واقعہ ایک فطری حقیقت کے طور پر قبول ہونے لگتا ہے۔ یہ تمام مثالیں واضح کرتی ہیں کہ فینٹسی فلموں میں خیالی دنیا کی تشکیل صرف تخلیقی مہارت کا اظہار نہیں بلکہ داستانی بیانیے کی بنیادی ضرورت ہے۔ جس طرح داستان اپنے طلسمی ماحول اور حیرت انگیز مقامات کے ذریعے قاری کو ایک نئی کائنات میں داخل کرتی ہے۔ اسی طرح فینٹسی فلمیں بھی جدید بصری زبان کے ذریعے ناظر کے سامنے ایک مکمل متبادل دنیا پیش کرتی ہیں۔
وقت اور مکان ہر داستان کی بنیادی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن داستانوی ادب میں یہ دونوں عناصر حقیقت پسندانہ ادب کی طرح محدود اور جامد نہیں ہوتے بلکہ داستانوں میں وقت اپنے معمول کی رفتار سے آزاد ہوتا ہے اور مکان جغرافیائی حدود سے ماورا ایک ایسی وسعت اختیار کر لیتا ہے جہاں طلسمی شہر، پراسرار جزیرے، آسمانی دنیا اور نامعلوم سرزمینیں ایک ہی بیانیے میں جمع ہو جاتی ہیں۔ فینٹسی فلموں میں بھی داستانوی وقت و مکان ایک بنیادی اور اہم عنصر ہے۔ فلم ساز حقیقی دنیا کے ساتھ ساتھ ایسی متبادل دنیا تخلیق کرتے ہیں جہاں وقت کا بہاؤ اور فاصلوں کا تصور عام انسانی تجربے سے مختلف ہوتے ہیں۔ اور یہی خصوصیت ناظر کو ایک داستانوی کائنات میں داخل ہونے کا احساس دلاتی ہے۔
ہالی وڈ فلم Alice in Wonderland میں ایلس خرگوش کے بل کے ذریعے ایک ایسی دنیا میں داخل ہوتی ہے جہاں وقت اور مکان کے اصول بدل جاتے ہیں اور وقت ایک علامتی عنصر بن جاتا ہے، جو فلم کے تخیلاتی مزاج کو تقویت دیتا ہے۔ ساتھ ہی کرداروں کا طرز عمل اور مقامات کی ساخت خواب اور حقیقت کے درمیان ایک داستانوی فضا پیدا کرتی ہے۔ جب کہ چینی فلم The Yin-Yang Master میں انسانی دنیا اور ارواح کی دنیا ایک دوسرے کے ساتھ متوازی طور پر نظر آتی ہیں۔ ان دونوں جہانوں کے درمیان مختلف زمانی و مکانی قوانین اور ان کے باہمی تعلقات فلم کے داستانوی ڈھانچے کو تشکیل دیتے ہیں۔ اور ساتھ ہی اس فلم سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ فینٹسی سنیما مکان کو جغرافیائی تصور کے ساتھ روحانی اور مابعد الطبیعیاتی حقیقت کے طور پربھی پیش کر سکتا ہے۔ اسی طرح بالی وڈ فلم : Part One-Shiva Brahmastra میں اگرچہ کہانی حقیقی ہندوستانی شہروں میں وقوع پذیر ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ایک ایسی پوشیدہ دنیا بھی موجود ہے، جہاں قدیم اساطیری قوتیں، خفیہ تنظیمیں اور غیر معمولی طاقتیں سرگرم ہیں۔ اس طرح فلم حقیقی اور خیالی مکان کو ایک دوسرے میں مدغم کر کے داستانوی فضا قائم کرتی ہے۔ اسی طرح ایک اور بالی وڈ فلم Aladin میں ایک جادوئی چراغ اور جن کی موجودگی عام شہری ماحول کو ایک ایسی داستانوی دنیا میں تبدیل کر دیتی ہے جہاں حقیقت اور تخیل ایک دوسرے میں مل جاتے ہیں۔ اور جادوئی عناصر کے باعث کردار مختلف زمانی اور مکانی تجربات سے گزرتے ہیں، جس سے فلم کا بیانیہ داستانوی وقت و مکان کی خصوصیات اختیار کر لیتا ہے۔ در اصل فینٹسی فلموں میں داستانوی عناصر کی یہ موجودگی اس حقیقت کی غماز ہے کہ داستانوی روایت اپنی قدامت کے باوجود آج بھی انسانی تخیل اور اجتماعی شعور میں زندہ ہے۔ اگرچہ ذرائع اظہار بدل چکے ہیں اور زبانی و تحریری داستانوں کی جگہ بڑی حد تک سینما نے لے لی ہے تاہم داستان کے بنیادی اجزا اپنی اصل معنویت کے ساتھ آج بھی فینٹسی فلموں میں موجود ہیں۔
داستانیں ہمیشہ اپنے عہد کے فکری، تہذیبی اور سماجی تصورات کی نمائندہ رہی ہیں۔ داستانوں میں جادو، طلسم، دیو، پریاں، غیر معمولی ہیرو اور طویل مہمات محض تفریح کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ ان کے ذریعے خیر و شر، عدل و ظلم، وفاداری، قربانی اور انسانی حوصلے جیسے تصورات کو علامتی انداز میں پیش کیا جاتا تھا۔ فینٹسی فلمیں بھی انھیں موضوعات کو نئے عہد کے تناظر میں پیش کرتی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب ان تصورات کو الفاظ کے بجائے متحرک تصاویر اور جدید بصری تکنیک کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ فینٹسی فلموں کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ مختلف تہذیبوں کی داستانوی، اساطیری اور لوک روایات کو ایک عالمی ثقافتی مکالمے میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر چینی فینٹسی فلمیں بدھ مت، تاؤ مت اور قدیم چینی اساطیر سے اثر قبول کرتی ہیں، جاپانی فینٹسی فلمیں شنتو عقائد، دیومالائی مخلوقات اور لوک کہانیوں کو نئی تعبیر دیتی ہیں، جب کہ ہندوستانی فینٹسی سنیما قدیم اساطیری روایات، ہندو دیومالائی عقائد اور داستانوی عناصر کو فینٹسی سنیمائی اسلوب میں پیش کرتا ہے۔ اسی طرح مغربی فینٹسی فلمیں یورپی لوک داستانوں اور قرون وسطیٰ کی رزمیہ روایات سے اپنے موضوعات اخذ کرتی ہیں۔ اس تنوع کے باوجود ان تمام فلموں میں داستانوی عناصر کی بنیادی ساخت حیرت انگیز طور پر مشترک دکھائی دیتی ہے۔
فینٹسی فلمیں اس اعتبار سے بھی اہم ہیں کہ وہ جدید انسان کو ایسی دنیا سے روشناس کراتی ہیں جہاں حقیقت اور تخیل ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ یہ فلمیں اس تصور کو تقویت دیتی ہیں کہ تخیل محض حقیقت سے فرار کا ذریعہ نہیں بلکہ حقیقت کو نئے زاویوں سے سمجھنے کا وسیلہ بھی ہے۔ اسی لیے فینٹسی سنیما میں تخلیق کی جانے والی خیالی دنیا اکثر حقیقی دنیا کے اخلاقی، سماجی، ماحولیاتی اور انسانی مسائل کی علامتی تعبیر بن جاتی ہے۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو داستانوی عناصر آج بھی انسانی فکر کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ جدید فلمی صنعت میں کمپیوٹر گرافکس، وی، ایف، ایکس تکنیک، بصری اثرات اور مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجی نے فینٹسی فلموں کے اظہار کو بے مثال وسعت عطا کی ہے لیکن ان تمام تکنیکی امکانات کے باوجود کسی بھی فینٹسی فلم کی اصل قوت اس کے داستانوی بیانیے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر مضبوط کہانی، مؤثر کردار، مربوط خیالی دنیا اور بامعنی کشمکش موجود نہ ہو تو محض بصری چمک دمک فلم کو دیرپا اہمیت نہیں دے سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ کامیاب فینٹسی فلمیں ہمیشہ اپنے داستانوی ڈھانچے کی مضبوطی کی وجہ سے یاد رکھی جاتی ہیں۔ اس طرح فینٹسی فلموں میں داستانوی روایت کی معنویت صرف ادبی یا فلمی مطالعے تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ مختلف تہذیبوں کی حفاظت اور انسانی اقدار کے تسلسل کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ فینٹسی سنیما نے داستان کے بنیادی عناصر کو نئے فنی وسائل کے ساتھ ہم آہنگ کرکے انھیں نئی نسلوں تک منتقل کیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ داستان ایک زندہ روایت ہے جو ہر عہد میں اپنے اظہار کے لیے نئے ذرائع اختیار کرتی رہتی ہے۔ اور یہی تسلسل فینٹسی فلموں کو تفریحی ذریعہ کے ساتھ داستانوی ورثے کی جدید اور مؤثر تعبیر بھی بناتا ہے۔

Mohd. Faizan
Near Laal Masjid, Pipalsana, Moradabad, Uttar Pradesh – 244402, India
Mob. 9536439838
Email: mohdfaizan2024@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

حسین الحق: فکشن کے ایک روشن باب کا خاتمہ – مضمون نگار: محمد شارب

  حسین الحق کو پہلی بار دسمبر2016  میں قریب سے دیکھنے کا موقع میسر آیا جب ونوبا بھاوے یونیورسٹی، ہزاری باغ(جھارکھنڈ) کے شعبۂ اردو میں ’اردو شاعری میں قومی یکجہتی

ہندوستانی مشترکہ تہذیب اور اردو سفرنامہ (آزادی کے بعد) مضمون نگار: الطاف احمد

ہندوستانی مشترکہ تہذیب اور اردو سفرنامہ (آزادی کے بعد) الطاف احمد تہذیب سے ہر وہ شے مراد ہے جس کے مختلف عناصر دورانِ حیات انسان اپنی ذات میں جذب کر

جاں نثار اختر کی طویل نظمیں۔ مضمون نگار:۔ صدیق محی الدین

جاں نثار اختر کی طویل نظمیں صدیق محی الدین اُردو کی شعری روایت میں مثنوی، مرثیہ اور قصیدہ یوں تو طوالت کی حامل شعری اصناف ہیں لیکن موضوعات اور تخلیقی