ہندی سے اردو میں ترجمے کے ضوابط و مسائل،مضمون نگار:جانکی پرساد شرما

September 10, 2026 0 Comments 0 tags

تلخیص

ہندی و اردو زبانوں میں جو قربتیں ہیں، اس کی مثالیں دنیا کی کن ہی دو زبانوں میں شاذ و نادر ہیں۔ دونوں کے قواعد یکساں ہیں۔ نیز زخیرہ ٔ الفاظ میں بھی شراکت ہے۔ اس لیے ہندی سے اردو میں ترجمے کے ضوابط و مسائل دیگر ہندوستانی زبانوں سے مختلف ہیں۔ یہاں رسم الخط کا کردار بہت اہم ہو جاتا ہے۔ متن کی اقسام کے لحاظ سے ترجمے کی تکنیک طے ہوتی ہے۔ کویتا کی صنف میں صرف تبدیلیِ رسم الخط کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے اور سنسکرت گزیدہ شبدوں کے مطالب حاشیے میں دینا چاہیے۔ حسب ضرورت متن میں کسی ثقیل لفظ کو آسان اردو لفظ سے بدلا جا سکتا ہے۔ افسانوں ادب کے معاملے میں عموماً دیو ناگری کو اردو رسم الخط میں منتقل کر دینا کافی ہوتا ہے۔ مقامی بولیوں کے مکالموں و محاوروں کو ترجمہ کرنے کے بجائے ہو بہو رکھنا واجب ہوگا، کیوں کہ بولیاں ہماری زبان کی بڑی طاقت ہیں۔ ہندی تنقید و تحقیق کا مسئلہ الگ ہے۔ تنقید کا اپنا ایک مخصوص ڈسپلن ہے۔ اس میں اصطلاحوں کے ترجمے کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ ہندی تنقید کی اصطلاحیں سنسکرت سے مستعار ہیں اور اردو تنقید کی اصطلاحوں کی بنیاد عربی و فارسی پر ہے۔ ایسے میں ہندی اصطلاح کے اردو مترادف کی تلاش میں مشکل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ دیگر اصناف کی بنسبت ہندی تنقید کے اردو تراجم بہت کم ہوئے ہیں ۔ ہر قسم کے متن کو اردو میں منتقل کرتے وقت یہ احتیاط بہت ضروری ہے کہ ہندی الفاظ کو درست املا کے ساتھ اردو میں کیسے لکھا جائے؟ اردو میں ہندی کی طرح الگ سے مصوتے نہیں ہوتے۔ یعنی حروفِ علّت ’ا‘، ’و‘ اور ’ی‘ سے مصوتوں کا کام لیا جاتا ہے۔ اس صورت میں ہندی کے متعدد الفاظ ہیں جنھیں اصل ہندی تلفظ کے ساتھ اردو میں لکھا ہی نہیں جا سکتا۔ قارئین اپنے تجربے سے اس کی صحیح قرأت کر لیتے ہیں ۔ غرضیکہ ہر رسم الخط کا ایک مخصوص نظام ہوتا ہے ۔
کلیدی الفاظ
ترجمہ، اردو متن، ہندی متن، دیوناگری، اردو رسم الخط، سنسکرت اشلوک، رام چرت مانس، پرتھی راج راسا، تلسی داس، پرتھی راج راسا، بھیشم ساہنی، پریم چند، آچاریہ ہزاری پرساد دویدی، وشوناتھ پرساد تیواری، کملیشور، کویتا، افسانوی ادب،تنقید و تحقیق، غیرافسانوی نثری،
ادب کی درجہ بندی جس طرح کی جاتی ہے اس میں طبع زاد کے مقابلے ترجمے کو ثانوی حیثیت حاصل ہے۔ یعنی اسے ایک Subsidiary art مانا جاتا ہے۔ ہمیں اس تعصب سے باہر آکر ترجمے کو ایک تخلیقی عمل کے روپ میں سمجھنا ہوگا۔ دنیا کی زبانوں کی شاہکار تصانیف سے ہماری واقفیت ان کے تراجم کے ذریعے ہی ہوئی ہے۔ ہمارے عظیم ملک کی لسانی و تہذیبی تکثیریت کی شناخت مختلف ہندوستانی زبانوں میں تخلیق کردہ ادب کے مطالعے سے ہی بنتی ہے۔ لیکن ایک قاری کا سبھی زبانوں پر عبور حاصل کرنا عملاً ناممکن ہے۔ ایسی صورت میں اگر ہم ہندوستانی زبانوں کی متنوع تخلیقیت سے آشنا ہونا چاہتے ہیں تو ترجمہ اس کا ایک معتبر وسیلہ ہے۔
ہندی الفاظ کو اردو میں صحیح املا کے ساتھ لکھتے ہوئے مصوتوں کا خاص دھیان رکھا جاتا ہے۔ اردو میں ہندی کی طرح الگ سے مصوتے نہیں ہوتے۔ یعنی حروفِ علت ا، و، ي سے مصوتوں کا کام لیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان سے شائع پروفیسر گوپی چند نارنگ کی کتاب Urdu: Readings in Literary Prose ضرور پڑھی جانی چاہیے۔ اس کے انگریزی حصے کا ہندی ترجمہ میں نے کیا تھا۔ اس کے دیباچے میں نارنگ صاحب نے اردو علم التہجی یا املا (Orthography) پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ 1؎ ہندی الفاظ کو اردو میں درست املا میں کیسے لکھا جائے اس عمل میں یہ کتاب بہت معاون ثابت ہوتی ہے۔
یہ بات خاطر نشین رہے کہ ہندی کے متعدد ایسے الفاظ ہیں جنھیں صحیح تلفظ کے ساتھ اردو میں لکھا ہی نہیں جاسکتا۔ ایسے الفاظ بہت ہیں جن کے اخیر میں زیر کی آواز ہے۔ مثلاً कवि, रवि وغیرہ، لیکن اردو میں زیر کی آواز پر ختم ہونے والے شبد نہیں ہوتے۔ اس لیے ان کے لکھنے کا اہتمام نہیں ہے۔ لہٰذا اردو میں ’کوِ‘ کے بجائے کوی لکھنا ہوگا۔ اس نوع کے اور بھی شبد ہیں جنھیں ہندی کے اصل تلفظ سے الگ ہٹ کر اردو میں کچھ اور لکھا جاتا ہے، لیکن ہم اپنے تجربے سے ان کی صحیح قرأت کرلیتے ہیں۔
ترجمے کے دوران دیوناگری اور اردو رسم الخط کے مخصوص مزاج کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔ رسم الخط زبان کو درج کرنے کا ایک Visual mediumہے، بذاتِ خود زبان نہیں۔ زبان اصل میں بولی جاتی ہے اور رسم الخط صرف اسے کاغذ پر اتارنے کا ایک ذریعہ ہے۔ کوئی اگر یہ کہتا ہے کہ میں اردو زبان سے واقف نہیں ہوں تو اس کا یہ قول اس لیے غلط ہے کہ اردو تو وہ بول ہی رہا ہے۔ کہنا یہ چاہیے کہ میں اردو رسم الخط سے نابلد ہوں۔ لسانیاتی اعتبار سے دیکھیں تو دنیا کی کسی زبان کا رسم الخط ایسا نہیں ہے جس میں کوئی نقص یا کمی نہ ہو۔ علی سردار جعفری نے اپنی مرتب کردہ کتاب ’دیوانِ غالب‘ (دیوناگری) کے دیباچے میں بجا فرمایا ہے کہ ’’کوئی بھی رسم الخط کامل نہیں ہے۔ انسان کے گلے، زبان اور ہونٹوں میں اتنی متنوع، باریک اور لاتعداد آوازیں ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی رسم الخط ان تمام آوازوں کو کلی طور پر اپنے اندر سمیٹنے یا کاغذ پر منتقل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ رسم الخط محض ایک اشارتی نظام (Sign System) ہے جو آوازوں کو قریب ترین علامتیں فراہم کرتا ہے۔‘‘ 2؎
سب سے پہلے ہم ہندی ادبِ عالیہ کی دو شاہکار تصانیف کے تراجم کا جائزہ لیں گے۔
رام چرت مانس
اردو رسم الخط میں ’رام چرت مانس‘ کے قدیم ترین قلمی نسخے کی جانکاری مجھے ہندی کے عہدساز کوی ہری ونش رائے بچن کی خودنوشت ’کیا بھولوں کیا یاد کروں‘ سے ملی۔ بچن جی نے لکھا ہے کہ اردو میں انھوں نے رام چرت مانس کا قلمی نسخہ بچپن میں اپنے نانا کے گھر دیکھا تھا۔3؎ بچن جی خود اردو و فارسی کا اچھا ذوق رکھتے تھے۔ اس اطلاع کے مطابق اٹھارہویں صدی میں رام چرت مانس کے اردو ترجمے کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ وہ قلمی نسخہ کیا ہوا، اس کی کوئی اطلاع نہیں ملتی۔ اس پر 1176 ھ (1759عیسوی) کی تاریخ لکھی ہوئی ہے۔
تلسی داس کی رام چرت مانس کا باقاعدہ اردو ترجمہ بہ عنوان ’رامائن بھاکھا‘ 1864 میں منشی نول کشور پریس لکھنؤ سے شائع شبدوں کے ہجّے سے متعلق کئی اہم نکات کی طرف توجہ مبذول کرتا ہے۔ علاوہ ازیں ’مانس‘ میں مستعمل متعدد عربی و فارسی الفاظ کے اودھی روپ کی جانکاری بھی ملتی ہے۔ تلسی نے فراخ دلی سے عربی و فارسی الفاظ کو اپنایا ہے۔ اصل اودھی اور اردو متون کا موازنہ کرتے ہوئے میں نے یہ پایا کہ تلسی نے ان زبانوں کے الفاظ کو خطۂ اودھ کے مقامی تلفظ کے ساتھ استعمال کیا ہے اور یہ بات قابل توجہ ہے کہ مترجم نے ان الفاظ کو ہوبہو نقل کردیا ہے، یعنی اردو ہجّے کو ترجیح نہیں دی ہے۔ چند مثالیں بہت معلومات افزا اور دلچسپ ثابت ہوں گی۔
اس شہرۂ آفاق تصنیف کے شروعاتی حصے میں تلسی داس بڑی عاجزی سے کہتے ہیں کہ مجھے شاعری کا ذرا بھی شعور نہیں، میں کورے کاغذ پر صحیح کرکے لکھ دیتا ہوں ؎
کبِت ببیک ایک نہینہ مورے
ست کہوں لکھ کاگد کورے
مترجم نے اصل کاگد کو اردو ہجے کاغذ سے نہیں بدلا ہے۔
تلسی داس کے لیے رام غریب نواز ہیں، لیکن وہ ان الفاظ کے مقامی تلفظ کو اہمیت دیتے ہوئے ان کے اودھی روپ کا استعمال کرتے ہیں ؎
گئی بہور گریب نواجو
سرل سبل صاحب رگھوراجو
یہاں تلسی داس نے صاحب لفظ اصل عربی املا کے ساتھ لکھا ہے۔ اس سے اس خیال کی تصدیق ہوتی ہے کہ عام طور پر منقوطہ الفاظ کا ہی مسخ شدہ روپ پرانی ہندی میں ملتا ہے۔ صاحب لفظ میں بھی نقطہ ہے، پر ب کی آواز ہندی میں بھی ہے۔
رام چرت مانس میں کئی مقامات پر عربی لفظ وداع کا استعمال ہوا ہے۔ ہر جگہ کوی نے مقامی تلفظ کو ملحوظ رکھا ہے۔ مترجم نے ہوبہومنتقل کرنا بجا سمجھا۔ انھوں نے وداع کے بجائے وِدا ہی لکھا ہے ؎
دِن اُٹھ وِدا اودھ پتی مانگا
راکھیئو جنک سہت انوراگا
فارسی لفظ بازار کے ساتھ بھی یہی بات ہے۔ رام اور سیتا کی شادی کے بعدبرات اجودھیا لوٹ کر آتی ہے۔ نگر کے ایک ایک بازار کو سجا دیا جاتا ہے۔ مترجم نے اودھی روپ بجار ہی لکھا ہے، بازار نہیں ؎
بنا بجار نہ جائی بکھانا
تورن کیت پتاک بِتانا
رام چرت مانس کی ابتدا سنسکرت اشلوک سے ہوتی ہے۔ پہلا دوہا اودھی بھی اس طرح ہے جس میں گنیش جی کی اِستوتی (دعا) کی گئی ہے ؎
جیہہ سُمرت سدھ ہوئے گن نا یک کِربر بدن
کرہو انوگرہ سوئے بُدھی راشی شُبھ گن سدن
سنسکرت کے جن شبدوں میں ’ش‘ آتا ہے، اودھی میں اس کی جگہ ’س‘ جاتا ہے، جیسا کہ تلسی داس نے کیا ہے۔ لیکن مترجم خوشتر صاحب نے سنسکرت ش کو ترجیح دی ہے۔ تلسی نے ’راسی‘ اور ’سُھ‘ لکھا ہے۔ مترجم نے یہ احتیاط برتی ہے کہ جہاں ش ضروری ہے، وہاں ش ہی لکھا جائے تاکہ اردو قارئین ان الفاظ کو بہ آسانی تلاش کرسکیں۔ دوہے میں ’بدن‘ لفظ سے مغالطہ ہوسکتا ہے۔ یہ عربی بدن بہ معنی جسم نہیں ہے، بلکہ سنسکرت ’ودن‘ کا مسخ شدہ اودھی روپ ہے جس کے معنی منہ (مُکھ) ہوتے ہیں۔ گنیش جی کرِبر بدن یعنی ہاتھی جیسے منہ والے تھے۔
رام چرت مانس کی شروعات میں سات سنسکرت اشلوک ہیں۔ مترجم نے سنسکرت اقتباس کو اردو رسم الخط میں مستقل نہیں کیا ہے کیونکہ یہ کسی بھی صورت میں ممکن نہیں تھا۔
پرتھی راج راسا
’پرتھی راج راسا‘ ہندی کا اولین رزمیہ ہے۔ اردو دنیا کو ہندی کے اس پہلے مہاکاویہ سے متعارف کرانے کا سہرا پروفیسر محمود خان شیرانی کے سر جاتا ہے۔ شیرانی کا تعلق راجستھان کی ریاست ٹونک سے تھا۔ راجستھانی زبان سے ان کی کما حقہ واقفیت ایک فطری بات ہے۔ ان کی کتاب ’پرتھی راج راسا‘ انجمن ترقی اردو ہند سے 1943 میں شائع ہوئی۔ اس میں راسا کے چھندوں کے مطالب بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے تاریخی پہلو پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔ حسبِ ضرورت بہت سے اقتباسات کا ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔ تراجم کے جو نمونے اس کتاب میں ملتے ہیں، ان سے ہندی سے اردو میں ترجمے کے بنیادی اصولوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ جس زمانے میں راسا لکھا گیا، تاریخ ہندی ادب میں وہ ویر گاتھا کال یعنی بہادر لوگوں کی داستانوں کا دور تھا۔ اجمیر کے راجا پرتھوی راج چوہان کے درباری کوی چندر بردائی نے اپنے سرپرست کی شجاعت کی داستان نظم کے پیرائے میں بیان کی ہے۔ اس کا سنہ تصنیف تیرہویں صدی بتایا جاتا ہے۔ آٹھ نو سال پرانی ہندی کے متن کی قرأت ایک مشکل کام تھا، جسے شیرانی نے بڑے حسن سے انجام دیا ہے۔ پرتھی راج راسا جس زبان میں لکھا گیا ہے، لسانیات کی اصطلاح میںا سے ڈِنگل اور پنگل کہا جاتا ہے۔ ڈِنگل سے مراد راجستھانی سے ہے اور پنگل برج بھاشا کو کہتے ہیں۔ یعنی راجستھانی اور برج بھاشا کا امتزاج اس زبان کا خاصہ ہے۔ شیرانی نے اسے دیسی زبان کہا ہے۔ دیباچے میں لکھتے ہیں ’’راسا کے لیے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ چند برداتی کی تصنیف ہے۔ اسی بنا پر اسے دیسی زبانوں میں سب سے قدیم تصنیف کا درجہ حاصل ہے۔‘‘4؎ سب سے پہلے اس کے نام کے ترجمے کو ہی لیں۔ شیرانی نے راسو کے بجائے راسا لکھا ہے۔ ہندی میں اس کا ’پرتھوی راج راسو‘ نام رائج ہے۔ راسا اور راسو میں صرف صوتی فرق ہے۔ اردو روایت میں راسو کو راسا کہا جاتا ہے۔ لہٰذا شیرانی نے اس تصنیف کو پرتھی راج راسا نام سے پیش کیا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ شیرانی نے پرتھوی کے بجائے پرتھی لکھا، کیونکہ اصل تصنیف کے متن میں راجا کا نام پرتھی راج آیا ہے۔ جیسے ؎
بھیت نِسا دِس مُدِت تم اُڈ نِرپ تیج براج
کتھِت ساتھ کتھ سے کتھا سکھ سین پرتھی راج
کوی چند بردائی نے شہاب الدین محمد غوری کو گوری لکھا ہے۔ اسی تلفظ کو شیرانی نے برقرار رکھا ہے۔ پرتھی راج کو گرفتار کرنے والے غزنی کے سپاہیوں کے نام راجستھانی تلفظ میں دیے گئے ہیں اور وہ ایسے ہیں کہ صحیح نام کا اندازہ کرپانا ممکن ہے۔ شیرانی نے اردو قارئین کی سہولت کے لیے بریکٹ میں صحیح نام لکھ دیے ہیں۔ مثلاً آکھوب (یعقوب) اور اُسیپ (یوسف)۔
عام طور پر انھوں نے عربی کے راجستھانی تلفظ کو تبدیل نہیں کیا ہے۔ ’آتس‘ کو آتش نہیں لکھا ہے ؎
جبر بھور ہتھ ناری بھار
آتس چرت ادبھُت پار
یہاں جنگ میں استعمال کیے گئے آتشیں ہتھیاروں کی طرف اشارہ ہے۔
یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ راسا میں ’اردو‘ لفظ بھی آیا ہے۔ جسے ’اردھو‘ لکھا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ زبان کے بجائے لشکر کے معنی میںا ستعمال ہوا ہے۔ کسی ہندی Text میں پہلی بار یہ لفظ داخل ہوا ہے ؎
دو سین ساجے راجے رودھو
ٹھڈے سو آئے آسو اردھو
یعنی لشکر سجے ہوئے ہیں اور دشمن کا راستہ روکے ہوئے ہیں۔
کئی جگہ شیرانی نے اصل متن کو اردو متن سے منتقل کرکے اس کے مطالب بھی بیان کیے ہیں۔ قنوج سمے میں راجا جے چند کے دربار کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ سمے یعنی باب۔ اقتباس درج ذیل ہے ؎
مرن بھان بھانن دُلیجے براجے
تِنن دیکھ رنگن دھنن پنتی لاجے
گھتے رکت پٹنّ پنّ سوئی ڈوری ہمّن
منوجھم روی کرن ملنچل ہی تمّن
’رنگین قالینوں کے تھان کے تھان بچھے ہیں، جن کو دیکھ کر قوس قزح کے رنگ شرماتے ہیں۔ ریشمی دھاگے سنہری تاروں کے ساتھ گتھے ہوئے ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے زمین سورج کی شعاعوں سے منور ہوتی ہے۔‘‘
ایک اقتباس میں راجا پرتھی راج کا مصاحب اس کی شجاعت کی تعریف کرتے ہوئے خدا سے دعا مانگتا ہے ؎
اچھو ای چوہان گاجی (غازی)
کھلک (خلق) تو کھگ راجی (راضی)
میوات مار باجی (بازی)
پرو تو سرن ساجی
’’اے غازی چوہان خلق خدا تیری شمشیر سے خوش رہے۔ تو میوات کا فاتح کہلاتا ہے۔ خدا تجھے اپنی حفاظت میں رکھے۔ تمام اولیا اور پیغمبر دعا گو ہیں۔ جب تک گنگا و جمنا اور چاند و سورج قائم ہیں، تب تک تو دلّی کے تخت پر برقرار رہے۔‘‘
ایک چوپائی میں مسلمانوں کے مذہبی عقائد کا ذکر بھی آیا ہے ؎
پنج بیس پنج دن کریں نواجو
حق احق دست جن نہیں کاجو
پنج بیس یعنی تیس، نواج یعنی نماز اور کاج یعنی کام۔ مراد یہ ہے کہ مسلمان تیسوں دن نماز ادا کرتے ہیں اور کوئی ناحق کام نہیں کرتے۔ ایسے اقتباسات کو مدنظر رکھتے ہوئے شیرانی نے لکھا ہے:
’’راسا میں مسلمانی الفاظ پر نظر ڈالنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا مصنف فارسی کے مبادیات سے ضرور واقف ہے۔ مسلمانوں کے بعض مذہبی معاملات سے بھی اس کو آگاہی ہے۔‘‘5؎
پرتھی راج راسا کے چند اقتباسات کے تراجم اور حسبِ ضرورت ان کی تشریح سے گزرنے کے بعد ہم محمود خان شیرانی کے اس منفرد کارنامے کی اہمیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ پرانی ہندی کے جو الفاظ ہماری سماعت سے نہیں گزرتے ہیں، انھیں درست تلفظ کے ساتھ اردو میں منتقل کرنے کا کام اصل متن پر غیرمعمولی قدرت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔
متن کی مختلف اقسام اور ترجمے کے ضابطے
ہندی سے اردو ترجمے میں کسی ایک تکنیک کو عمل میں نہیں لایا جاسکتا۔ متن کی نوعیت کے مطابق ترجمے کی تکنیک طے کرنی ہوتی ہے۔ ہر صنف ادب کا ایک مخصوص مزاج اور ہیئت ہوتی ہے۔ صنف کی توقعات خود بخود تکنیک کی راہ نکال لیتی ہیں۔ جیسا متن، ویسے اس کے ترجمے کے ضابطے۔ ہم یہاں بطور خاص معاصر ہندی کویتا، افسانوی ادب، تنقید و تحقیق اور غیرافسانوی نثر کے تراجم کے دوران پیش آنے والے مسائل اور ضروری احتیاط پر مختصر گفتگو کریں گے۔
کویتا
معاصر ہندی کویتا مختلف فارم میں لکھی جارہی ہے۔ کویتا کسی بھی فارم میں ہو، اس کا لفظ بہ لفظ ترجمہ کرنا واجب نہیں ہے۔ ہندی و اردو کا پڑوس کا معاملہ ہے۔ اس لیے صرف رسم الخط بدل دینا چاہیے۔ ثقیل الفاظ کے معنی اور تفصیل حاشیے میں دے دینا چاہیے۔ اسی طریقے سے میں نے کئی ہندی کویتاؤں کے ترجمے کیے ہیں۔ فقط ایک دو کا ذکر ناگزیر ہوگا۔ ممتاز ہندی کوی وشنو کھرے کے مجموعے ’کال اور اودھی کے درمیان‘ میں ’گنگ محل‘ عنوان سے ایک طویل نظم ہے جو بادشاہ اکبر کی زبان سے متعلق ایک تجربے پر مبنی ہے۔ میں نے اس نظم کے بارے میں افتخارا مام صدیقی کو بتایا تو انھوں نے اصرار کیا کہ میںا س نظم کو اردو رسم الخط میں لکھ کر انھیں بھیج دوں۔ میں نے ایک حرف بدلے بغیر انھیں ارسال کردی۔ اس طرح یہ کویتا ’شاعر‘ کے اپریل 1999 شمارے میں میری تقریظ کے ساتھ شائع ہوئی۔ ’شاعر‘ کے قارئین نے ترجمے کی پذیرائی اس لیے کی کہ صرف بول چال نہیں تخلیقی سطح پر بھی ہندی و اردو ایک دوسرے کے قریب تر ہورہی ہیں۔
کبھی کبھی متن کے لحاظ سے ایک مختلف تجربے سے گزرنا پڑتا ہے۔ جن کویتاؤں میں سنسکرت گزیدہ زبان کاا ستعمال کیا گیا ہے، وہاں ایک بیچ کا راستہ اختیار کرنا ہوتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں میں نے اوڑیا کی معروف شاعرہ گایتری بالا پنڈا کے مجموعے ’دیاندی‘ کے ہندی ترجمے کا اردو ترجمہ ساہتیہ اکادمی کے لیے کیا ہے۔ ہندی متن کی زبان سنسکرت گزیدہ ہے۔ میں نے ترسیل کے مسئلے کا دھیان رکھتے ہوئے یہ بہتر سمجھا کہ دقیق سنسکرت الفاظ کو متن میں آسان اردو الفاظ سے بدل دینا چاہیے۔ غرض یہ کہ متن کی نوعیت سے ترجمے کا طریقہ طے ہوتا ہے۔
اس بات کی مزید وضاحت کے لیے معروف ہندی کوی سُدیپ بنرجی کی پرتی ندھی کویتائیں (مرتبہ وشنوناگرو لیلا دھرمنڈلوئی) کے ترجمے کی مثال لے سکتے ہیں۔ سدیپ بنرجی کی نمائندہ نظمیں عنوان سے ڈاکٹر صادق نے یہ ترجمہ ساہتیہ اکادمی کے لیے کیا ہے۔ کتاب کے دیباچے میں صادق نے بہ حیثیت مترجم اپنا تجربہ یوں بیان کیا ہے ’’ان کویتاؤں کو اردو میں منتقل کرتے ہوئے بسااوقات مجھے بڑی الجھن ہوئی۔ کئی جگہ پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ قریب 60 فیصد اردو الفاظ پر مشتمل ان کویتاؤں کو اردو کے قالب میں پیش کرتے وقت میں نے کئی بار عجب مشکل میں پایا۔ کسی مصرعے کے ہندی لفظ کا اردو مترادف رکھنے کی کوشش کرتا تو مفہوم مجروح ہوجاتا اور ویسے ہی رہنے دیتا تو بے اطمینانی محسوس کرتا۔ یہ فکر لاحق ہوجاتی کہ اردو کے بعض قاری اسے سمجھ نہیں سکیں گے… لفظوں کے سامنے انسان کی بے بسی کا تجربہ بھی عجیب چیز ہے۔‘‘6؎
صادق نے بولیوں کے لفظ نہیں بدلے ہیں،جیسے ؎
کتنوں نے ممنون کیا
کتنوں نے نظرانداز کیا
پھر بھی زندگی رہی ویسی ہی اکارت
اکارت کے معنی فضول، بے معنی لیے جاسکتے ہیں، لیکن مترجم نے بولی کے ذائقے کو برقرار رکھا ہے۔
افسانوی ادب
اردو کے ذخیرۂ الفاظ کا بڑا حصہ اب ہندی میں جذب ہوچکا ہے اور اس نے ہندی کے حسن کو دوبالا کیا ہے اور یہی بات ہندی کے ذخیرۂ الفاظ کو لے کر صادق آتی ہے۔ اس لیے ترجمے میں قصداً ہندی شبدوں کے اردو مترادف دینا مناسب نہیں ہے۔ متعدد ہندی ناولوں اور افسانوں کے تراجم منظرعام پر آچکے ہیں۔ سلمیٰ صدیقی نے پھنیشور ناتھ رینو کے ’میلا آنچل‘ حیدر جعفری سید نے شانی کے ’کالا حل‘ منیری سورتی نے یش پال کے ’میری تیری اس کی بات‘ راشد سہسوانی نے شری لال شکل کے ’راگ درباری‘ خورشید عالم نے کملیشور کے ’کتنے پاکستان‘ شہلہ نقوی نے بھیشم ساہنی کے ’تمس‘ اور احسن ایوبی نے چترامدگل کے ’پوسٹ باکس نمبر 203 نالا سوپارا‘ ناولوں کے ترجمے کیے ہیں۔ ہر ترجمہ نگار کا ایک مخصوص طریقِ کار ہوتا ہے۔ مختصر میں چند مثالیں ملاحظہ کیجیے۔ پھنیشور ناتھ رینو کے ’میلا آنچل‘ کے دیباچے کا پہلا جملہ ہے ’’یہ ہے میلا آنچل ایک آنچل اُپنیاس۔‘‘ سلمیٰ صدیقی نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے ’’یہ ہے ’میلا آنچل‘ ایک ناول مقامی رنگ لیے ہوئے۔‘‘ میلا آنچل میں میتھلی کے الفاظ کا کثرت سے استعمال ہے۔ مترجم نے اپنے پیش لفظ میں لکھا ہے ’’اس میں شک نہیں، رینو کی زبان میں میتھلی کے الفاظ ان کے اصل تلفظ میں قلمبند ہیں لیکن یہ تجربہ روانی عطا کرنے میں روک نہیں مددگار ہے کیونکہ ان کے بغیر رینو کی تصویر صاف نہیں ہوتی۔ ترجمے میں اس تصویر کو اتارنا مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔‘‘ 7؎
شانی کے ناول کالا جل کا ترجمہ تخلیقی سطح پر ہندی و اردو کی شراکت کے لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ناول ہندی افسانوی ادب کے ایک بڑے خلا کو پر کرتا ہے۔ یہ متوسط طبقے کے دو مسلم خاندانوں کی المناک داستان ہے اور مصنف شانی نے ان خاندانوں کے تہذیبی پس منظر سے ہی زبان کو اخذ کیا ہے۔ اس لیے اصل اور ترجمے کی زبان میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہے۔ ناول کے تین ابواب ہیں— الفاتحہ لوٹتی ہوں لہریں، بھٹکاؤ: دِشائیں چومتی سروتسوِنی اور ٹھہراؤ۔ مترجم نے پہلے اور تیسرے باب کو جوں کا توں رکھا ہے۔ صرف دوسرے باب کا ترجمہ ’سمتیں چومتے سرچشمے‘ کرنا مناسب سمجھا ہے۔ چھوٹی پھوپھی کے گھر پر شب برات کے دن فاتحہ کی رسم سے ناول شروع ہوتا ہے:
’’دائرے نما اور سفیدی سے پتی پاک زمین پر ان تمام چیزوں کا پھیلاؤ تھا جو فاتحہ کے لیے ضروری تھیں… کانچ کے ایک گلاس میں بھرا اچھوتا پانی، چھوٹی کٹوری میں صندل، اس میں گلاب کے پھول، مدھم پڑتے انگاروں والی عود دانی، کاغذ کی پڑیا میں پسا ہوا لوبان اور بیچوں بیچ جلتی اگربتیوں سے اٹھنے والی خوشبو۔‘‘
چھوٹی پھوپھی نے تام چینی کی ایک رکابی میں دو روٹیاں اورحلوا رکھ کر فاتحہ کے لیے میری جانب سرکا دی۔ میں نے وہ فہرست اٹھائی۔ سب سے پہلے مرزا کرامت بیگ کا نام تھا۔‘‘
اس اقتباس میں صرف پہلا لفظ بدلا ہوا ہے۔ اصل میں گولاکار لفظ تھا، جسے مترجم نے ’دائرے نما‘ کردیاہے۔ باقی زبان میں خاص فرق نہیں ہے۔
تقسیم کے سانحے پر مبنی بھیشم ساہنی کے ’تمس‘ ناول کے ترجمے کی اردو میں خوب پذیرائی ہوئی۔ شہلہ نقوی نے اس کا’تاریکیاں‘ عنوان سے اردو میں ترجمہ کیا جو 1987 میں نیشنل بک ٹرسٹ سے شائع ہوا۔ اس ترجمے کا پاکستانی ایڈیشن 2002 میں منظرعام پر آیا۔ اس ایڈیشن میں اصل نام تمس کو ہی رکھا گیا ہے۔ بھیشم ساہنی تقسیم کے دوران ہندوستان آئے ہندی ادبا کی اس پیڑھی سے تعلق رکھتے ہیں جن کی سرشت میں اردو و پنجابی شامل تھی۔ لہٰذا ’تمس‘ کی زبان میں ہندی و اردو کے امتزاج کا عام فہم لہجہ موجود ہے۔ یہ لہجہ ترجمے میں بھی نظر آتا ہے۔ مترجم نے ناول میں مستعمل پنجابی گیتوں کو اصل تلفظ کے ساتھ بحال رکھا ہے ؎
اوئے اڑی اڑی کیا تکئے
ماپڑ سُتھنے نے چوڑیا
(کیوں، تم جھک جھک کرمیری شلوار کی چوڑیوں کو کیوں گھورے جارہے ہو؟)
ہندی میں نئی کہانی تحریک کے بانیوں میں شمار کملیشور کے ناول ’کتنے پاکستان‘ کا ترجمہ خورشید عالم نے کیا ہے۔ ہندوستان کے ثقافتی ارتقا پر مبنی یہ ایک بڑے کینوس کا ناول ہے۔ سنیما اور دور درشن سے وابستگی کی وجہ سے کملیشور کی زبان میںا ردو کی شیرینی موجود ہے۔ مترجم نے اس لیے بہت کم مقامات پر اصل زبان کو بدلا ہے۔ ناول کا اختتام ایک اثرانگیزمقام پر ہوتا ہے۔ا نسانیت کو امن کی ضرورت ہے۔ اس مقام پر ایک کردار کبیر کہتا ہے: ’’بودھی برکش کی جڑیں نیل کنٹھ کی طرح سارا وِش پی لیتی ہیں۔‘‘ خورشید عالم نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے:
’’معرفت کے درخت کی جڑیں نیل کنٹھ کی طرح سارا وِش پی لیتی ہیں۔‘‘ یہاں کلیدی لفظ بودھی بِرکش ہے جو ایک تلمیح ہے۔ بودھی برکش کے نیچے بیٹھ کر گوتم بدھ نے علم معرفت حاصل کیا تھا جسے ترجمے میں معرفت کا درخت کہا گیا ہے۔‘‘
ہندی کی ایک اہم خاتون فکشن نگار چترامدگل کے ناول ’پوسٹ باکس نمبر 203 نالاسوپارا‘ کو احسن ایوبی نے منتقل کیا ہے۔ ترجمے کی زبان اصل متن سے قریب تر ہے۔ کئی بار ہندی کے کچھ آسان لفظ بھی بدلنے پڑ جاتے ہیں، جنھیں اردو رسم الخط میں لکھنے پر صحیح قرأت کا مسئلہ پیش آتا ہے۔ مثلاً اس ناول کی شروعات میںا ٓتا ہے: ’’میری با! اس سنکری گلی کے سنکرے چھور پر پلستر اُدھڑی دیواروں والے گھر کی سینچوں والی اکلوتی کھڑکی کے پار، دلی کے میگھ برس رہے ہیں۔‘‘
اردو ترجمہ: ’’میری با! اس پتلی گلی کے تنگ سرے پر پلاسٹر ادھڑی دیواروں والے مکان کی سلاخوں والی اکلوتی کھڑکی کے پار، دلی کے میگھ برس رہے ہیں۔‘‘ ہندی کے مزاج کے لحاظ سے میگھ لفظ کو بحال رکھا گیا ہے۔ یہ ٹھیک ہے۔ سنکری کو ’تنگ‘ لکھنا بھی مناسب ہے۔ لیکن سینچوں اور پلستر الفاظ کو بدلنا میری نظر میں غیرضروری ہے۔
اگر ہم ہندی افسانوی ادب کی بات کریں تو ان کے تراجم اردو رسالوں و جریدوں میں گاہے بگاہے شائع ہوتے رہے ہیں۔ کئی انتخابات بھی شائع ہوئے ہیں۔ بطور خاص یہاں نیشنل بک ٹرسٹ سے شائع ’ہندی افسانے‘ مرتبہ نامور سنگھ و مترجم اگرسین نارنگ اور اسی ادارے سے شائع ’ عصری ہندی کہانیاں‘ مرتبہ دھننجے ورما کا ذکر کیا جاسکتا ہے جس کا ترجمہ سلام بن رزاق نے کیا ہے۔ سلام بن رزاق نے مراٹھی کہانیوں کے تراجم بھی کیے ہیں۔ نامور سنگھ اور دھننجے ورما کے مرتب کردہ انتخابات میں ابتدا سے بیسویں صدی کی نویں دہائی تک کے نمائندہ افسانے شامل ہیں۔ ’ہندی کہانیاں‘ مرتبہ بھیشم ساہنی کو ہم اس سلسلے کی اگلی کڑی کہہ سکتے ہیں، ساہتیہ اکادمی کے لیے جس کا ترجمہ خورشید عالم نے کیا ہے۔ اس سلسلے میں میرا کام بھی سامنے آیا ہے۔ میرے تراجم کی کتاب ’منتخب ہندی افسانے (کتھا یاترا)‘ عنوان سے دو جلدوں میں شائع ہوئی۔ اس کے مرتب سنتوش چوبے ہیں۔ ان کے ترجمے میں میں نے ہر افسانے کے مخصوص مزاج کو دھیان میں رکھا ہے۔ لہٰذا میں نے ہندی کے صرف ان مرکب الفاظ اور اصطلاحوں کو ہی اردو میں منتقل کیا ہے جو قارئین کو مشکل گزرے، لیکن ہندستانی سنگیت کی اصطلاحوں کے مترادفات تلاش کرنا مجھے واجب نہیں لگا۔ اردو میں یہ ہوبہو مستعمل ہیں منوج روپرا کے ’احساس‘ اُدے پرکاش کے ’اورانت میں پرارتھنا‘ اور سنتوش چوبے کے ’نو نقطوں کا کھیل‘ افسانوں میں ان اصطلاحوں کو برتا گیا ہے۔
بطورِ خاص کچھ افسانوں کے تراجم میں میں نے ایک مخصوص طریقے پر عمل کیا ہے۔ مثلاً سنجیو کے ’جرم‘ (اپرادھ) افسانے کے کئی کردار بانگلہ میں مکالمے ادا کرتے ہیں۔میں نے ترجمے میں بانگلہ کے ضائقے کو محفوظ رکھا ہے۔ اس کے علاوہ ممتاکالیہ کے ’ہرجائی‘ پربھو جوشی کے ’آکاش میں درار‘ میکش ورما کے ’کھیلن پور‘ اور مہیش کٹارے کے ’چھچھیا بھرچھاچھ‘ ایسے افسانے ہیں جن میں مقامی بولیوں کا باکثرت استعمال کیا گیا ہے۔ ’ہرجائی‘ میں برج بھاشا، آکاش میں درار، میں مالوی، ’کھیلن پور‘ میں پنجابی اور ’چھچھیا بھرچھاچھ‘ میں بندیلی بولی میں مکالمے لکھے گئے ہیں۔ بولیوں کے مکالموں کو میں نے معمولی تصرف کے ساتھ من و عن ہی منتقل کردیا ہے۔ ان تراجم میں میں نے ہندی و اردو کے دو آب کی زبان کو برتا ہے۔ جن کے لیے ہم لکھ رہے ہیں، بات ان تک پہنچنی چاہیے۔
تنقید و تحقیق
میرے محدود مطالعے کے مطابق تنقید و تحقیق کی کتابوں کے تراجم کی بات کریں تو مایوسی ہاتھ لگے گی۔ ایک بڑا سوال ہے کہ ہندی تنقید و تحقیق کے ترجمے کی سمت میں خاطرخواہ کام کیوں نہیں ہوا ہے؟ اس کی واضح وجہ تو یہ ہے کہ شاعری اور افسانوی ادب کی کتابیں عام قارئین کی پسند پر زیادہ رہتی ہیں۔ یعنی ان کا بازار نسبتاً برا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ تنقید کی کتاب کے ترجمے کے لیے جو ذہنی تیاری اور وسیع مطالعہ درکار ہے، عام طور پر اس کا فقدان نظر آتا ہے۔ تنقید کا اپنا ایک ڈسپلن ہوتا ہے۔ اس کی زبان ادبی اصطلاحوں سے مزین ہوتی ہے۔ تنقیدکا ترجمہ نسبتاً مشکل گزرتا ہے۔ اسی لیے اردو میں ہندی تنقید کے ترجمے کمیاب ہیں۔ بطور بانگی کچھ تراجم کا ذکر کرنا چاہیں گے۔ سب سے پہلے ہم اس کتاب کی بات کرتے ہیں جو براہ راست ترجمہ نہیں ہے، لیکن جس کا بڑا حصہ ترجمے پر مبنی ہے۔ ہماری مراد انجمن ترقی اردو (ہند) علی گڑھ سے 1955 میں شائع کردہ ڈاکٹر محمد حسن کی کتاب ’ہندی ادب کی تاریخ‘ سے ہے۔ یہ آچاریہ رام چندر شکل کے ’ہندی ساہتیہ کا اتیہاس‘ کا لفظ بلفظ ترجمہ نہیں ہے، لیکن خود ڈاکٹر محمد حسن نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے ہندی ادب کے ادوار کی تقسیم رام چندر شکل کے اتیہاس کے مطابق کی ہے۔8؎ ہر دور کی کویتا کے جو نمونے شکل جی نے دیے ہیں، انھیں موصوف نے نہیں بدلا، صرف اردو رسم الخط میں لکھ دیا ہے۔
ہندی تنقید کے باقاعدہ ترجمے کے سلسلے میں معروف ہندی نقاد و دانشور مینیجر پانڈے کی کتاب ’ساہتیہ کے سماج شاستر کی بھومیکا‘ کا ترجمہ قابل ذکر ہے۔ سرورالہدیٰ نے اس کا ترجمہ ’ادب کی سماجیات‘ نام سے کیا ہے، جس کی اشاعت 2006 میں ہوئی۔ اس ترجمے کے تجربے کو انھوں نے ’عرضِ مترجم‘ میں اس طرح بیان کیا ہے: ’’دراصل ادبی سماجیات کی اصطلاحیں پہلی بار انگریزی سے ہندی میں داخل ہورہی تھیں۔ ہندی میں ترجمہ کرتے ہوئے بہت سی اصطلاحیں پانڈے جی کو اپنے ہی طور پر وضع کرنی پڑیں۔ مغربی مفکروں کے خیالات کو ہندی میں پیش کرنا بھی ایک مشکل مرحلہ تھا… اس کتاب کی بہت سی اصطلاحیں اردو والوں کے لیے بھی نامانوس ہیں۔ مجھے بھی اسے اردو میں منتقل کرتے ہوئے آزمائش سے گزرنا پڑا ہے… لفظی ترجمے اور تخلیقی ترجمے کی ضرورت کب، کہاں اور کتنی ہے، یہ خود مترجم کے شعور پر منحصر ہے۔‘‘9؎
ہندی کے عظیم نقاد و فکشن نگار آچاریہ ہزاری پرساد دویدی پر وشوناتھ پرساد تیواری کے مونوگراف کا اردو ترجمہ اس لیے اہم ہے کہ اس میں مختلف اصنافِ ادب ہندی کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مترجم ایس اے رحمن نے ہر صنف کے لیے ایک جدا تکنیک کا استعمال کیا ہے۔ کیونکہ دویدی جی نے تنقید کے ساتھ ساتھ الگ انداز کے انشائیے اور ناول بھی تحریر کیے ہیں۔ ہندی تنقید کی زبان کو اردو محاورے میں منتقل کرتے ہوئے مترجم نے بہت احتیاط برتا ہے۔ ترجمے کی زبان کی بانگی دیکھیے :
’’دویدی جی کی شخصیت بطور نقاد دوسرے نقادوں سے اس لیے نمایاں ہوتی ہے، ایک تو ان میں عالمانہ وقار ہے اور دوسری طرف گہرے مشاہدے، تفکر و تجربے کا یہ امتزاج کم ہی ادیبوں میں ملتا ہے۔‘‘
اس ضمن میں میرا ایک ذاتی تجربہ ہے۔ میں نے ہندی افسانہ و ناول نگار شانی پر لکھے اپنے مونوگراف کا اردو ترجمہ ساہتیہ اکادمی کے لیے کیا ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ اپنے ہی ہندی متن کے لفظی ترجمے سے بات نہیں بننے والی ہے۔ لہٰذا اردو تنقید کی زبان کا استعمال میں نے ضروری سمجھا۔ غرض یہ کہ ترجمے کے دوران ہر متن آپ سے ایک الگ سلوک کی مانگ کرتا ہے۔
غیرافسانوی نثر
ہندی کے غیرافسانوی ادب کی دو اہم تصانیف کے تراجم نے اردو قارئین کا ایک نیا طبقہ پیدا کیا ہے جو سوانح عمری کی صنف سے دلچسپی رکھتا ہے۔ وشنوپربھاکرکی کتاب ’آوارہ مسیحا‘ مشہور بانگلہ ناول نگار شرت چندر کی سوانح عمری ہے، جس کا ترجمہ راشد سہسوانی نے 1987 میں نیشنل بک ٹرسٹ کے لیے کیا ہے۔ انھوں نے کتاب کے تینوں ابواب کے نام اس طرح رقم کیے ہیں۔ پہلی فصل راہ سے بے خبر (دِشاہارا)، دوسری فصل سمت کی تلاش (دِشا کی کھوج) اور تیسری فصل منزل کی طرف (دِشانت)۔
’قلم کا سپاہی‘ منشی پریم چند کی سوانح عمری ہے جس کے مصنف ان کے چھوٹے فرزند امرت رائے ہیں۔ یہ پریم چند کی عظیم شخصیت سے روبرو ہونے کا سب سے معتبر ماخذ ہے۔ اس کا ترجمہ حکم چند نیر نے کیا ہے جو 1992 میں ساہتیہ اکادمی سے شائع ہوا ہے۔ امرت رائے اردو کے ماحول میں پلے بڑھے تھے۔ زبان کے متعلق وہ منشی جی کے اصولوں کے قائل تھے۔ اس لیے ان کی نثر میں سادگی کا حسن برقرار ہے، جو اس کتاب کے ہر جمے میں نمایاں ہے۔ ان کی نثر جتنی ہندی ہے، اتنی ہی اردو۔ ترجمے سے ایک ابتدائی اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’جنوب کے ایک ہندی دوست چندر ہاسن پریم چند سے ملنے کاشی آئے۔ پتا لگا کر شام کے وقت ان کے مکان پر پہنچے۔ باہر تھوڑی دیر ٹھہر کر ’کھاں کھوں‘ کرنے پر بھی جب کوئی نظر نہیںا ٓیا تو دورازے پر آئے اور کمرے میں جھانک کر دیکھا۔ ایک آدمی جس کا چہرہ بڑی بڑی مونچھوں میں کھویا ہوا سا تھا، فرش پر بیٹھ کر بڑی محویت سے کچھ لکھ رہا تھا۔ آنے والے نے سوچا پریم چند شاید اس آدمی کو بول کر لکھاتے ہوں گے۔ آگے بڑھ کر کہا، میں پریم چندجی سے ملنا چاہتا ہوں۔ اس آدمی نے جھٹ نظر اٹھا کر تعجب سے آنے والے کی طرف دیکھا— قلم رکھ دیا اور ٹھہاکہ لگا کر ہنستے ہوئے کہا، کھڑے کھڑے ملاقات کریں گے کیا؟ بیٹھیے اور ملاقات کیجیے!‘‘
ترجمے کے مندرجہ بالا اقتباس میں صرف تین شبد بدلے ہوئے ہیں۔ جنوب(दक्षिण)، محویت(तन्मे-भसव)اور آنے والے (आगन्तुक)۔ باقی سب اصل متن ہے۔ پوری کتاب کے ترجمے میں زبان کا یہی رچاؤ موجود ہے۔
ایک مختصر مضمون میں ہندی کی تمام اصنافِ ادب کے اردو تراجم کا احاطہ ناممکن ہے۔ جن اہم اصناف پر یہاں گفتگو ہے، ان سے متعلق تفصیلات کو بھی خوفِ طوالت کے باعث چھوڑ دیا گیا ہے۔ میں نے مختلف اصناف کے تراجم کے ضوابط اور پیش آنے والے مسائل پر حسبِ استطاعت روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ آخر میں یہ بات پھر سے دوہرانا چاہتا ہوں کہ ہندی و اردو متون کے باہمی ترجمے میں رسم الخط کا کردار سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
حواشی
1. گوپی چندنارنگ:Urdu : Readngs in Literary Urdu Prose، این سی پی یو ایل 2003، ص 5-7
2. دیوانِ غالب (دیوناگری)، مرتبہ علی سردار جعفری، دیکھیے دیباچہ۔
3. ہری ونش رائے بچن: کیا بھولوں کیا یاد کروں، 1971، ص 164
4. محمود خان شیرانی: پرتھی راج راسا، انجمن ترقی اردو (ہندی) 1943، ص 10
5. ایضاً، ص 228
6. ڈاکٹر صادق: سدیپ بنرجی کی نمائندہ نظمیں، ساہتیہ اکادمی، 2008، ص 18-19
7. سلمیٰ صدیقی: ترجمہ ’میلا آنچل‘ نیشنل بک ٹرسٹ، 1975، پیش لفظ، ص 8
8. ڈاکٹر محمد حسن: ہندی ادب کی تاریخ، انجمن ترقی اردو علی گڑھ، 1955، دیباچہ، ص 10
9. سرورالہدیٰ: ادب کی سماجیات (ترجمہ) انجمن ترقی اردو ہندی، 2006، ص 23


Dr. Janki Prasad Sharma
B-330, Ashok Nagar, Shahdara
Delhi- 110093
Mob.: 9811517897
Email: jphindiurdu@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

پپیتا : طبی افادیت سے بھرپور ایک خوش ذائقہ پھل مضمون نگار: عبدالناصر فاروقی

پپیتا : طبی افادیت سے بھرپور ایک خوش ذائقہ پھل عبدالناصر فاروقی پپیتا جسے انگریزی میں پپایا (Papaya) اور Tree melon اور نباتی زبان میں Carica papaya کہتے ہیں، ایک

بوکر انعام یافتہ ناول نگار: عبدالوہاب عیساوی – مضمون نگار: جسیم الدین

  الجزائرکی سرزمین حالیہ دنوں میں عربی ناول نگاری کے لیے زرخیز ثابت ہورہی ہے ، یہاں مرد ناول نگاروں کی جہاں بڑی تعداد ہے ، وہیں خواتین ناول نگاربھی

ادبی متن کی قرأت اور غزل کے تفہیمی مسائل:محمد ریحان

 پڑھنے کے عمل کو قرأت کہتے ہیں۔ قرأت کے ذریعے ہی متن کی اہمیت طے کی جاتی ہے کیونکہ متن اپنے آپ میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ وولف ایزر نے