تلخیص
تاریخِ عالم میں فکری اور سماجی انقلابات کو جنم دینے، قوموں کے مزاج بدلنے اور علمی سرمایے کو محفوظ رکھنے میں ترجموں کا کردار نہایت کلیدی رہا ہے۔ ترجمہ محض کوئی بلا مقصد عمل نہیں، بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا، علمی اور تہذیبی عمل ہے جو مختلف قوموں کے درمیان معاشرتی اور فکری نظام کی باہمی تفہیم کا بنیادی وسیلہ بنتا ہے۔ دنیا کا قدیم ترین ادبی شہ پارہ ’داستانِ گلگامیش‘ عکادی زبان میں ہونے والے ترجمے کی بدولت ہی عنقا ہونے سے بچ سکا۔ اسی طرح، مصر میں ’روزیٹا اسٹون‘ پر کندہ یونانی ترجمے کی مدد سے ہی ماہرین کے لیے قدیم مصری تصویری خط (ہیروگلیفس) کو ڈی کوڈ کرنا اور اس قدیم تہذیب کو سمجھنا ممکن ہوا۔ اسکندریہ کے کتب خانے نے دنیا بھر کے علمی اثاثوں اور عبرانی بائبل کا یونانی میں ترجمہ کروا کے علمی و مذہبی تراجم کی تاریخ کا اوّلیں نشان قائم کیا۔ ہندوستان سے بدھ مت کے سنسکرت صحیفوں کے چینی زبان میں تراجم نے نہ صرف چین کی کایا پلٹ دی بلکہ ہندوستان کے بہت سے ایسے قدیم نسخے جو یہاں ضائع ہو چکے تھے، انہی تراجم کی بدولت محفوظ رہ گئے۔ عباسی دور میں بغداد کے ’بیت الحکمت‘ نے یونانی، سنسکرت اور پہلوی کتابوں کو عربی میں منتقل کر کے مسلمانوں کو سائنس و فلسفے کا سرخیل بنایا، جس نے آگے چل کر یوروپ کی روشن خیالی اور سائنسی ترقی کے لیے زمین ہموار کی۔ مغل شہنشاہ اکبر نے اپنے مکتب خانے کے ذریعے مہابھارت، رامائن اور پنچ تنتر جیسی کتابوں کے فارسی تراجم کروا کر سماجی رواداری اور مشترکہ گنگا جمنی تہذیب کی بنیادیں استوار کیں۔ یورپ کے فکری دھارے میں مارٹن لوتھر کی طرف سے بائبل کا جرمن ترجمہ چرچ کی بالادستی توڑنے، پروٹیسٹنٹ تحریک کے آغاز اور جدید روشن خیال یورپ کی تعمیر کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ بیسویں صدی میں کارل مارکس اور اینگلز کی تحریروں کے روسی اور چینی تراجم نے تاریخ کے سب سے بڑے نظریاتی دھماکے کا کام کیا، جس سے روس اور چین میں زبردست اشتراکی انقلابات برپا ہوئے۔ ہندوستان میں فورٹ ولیم کالج کے تراجم نے سلیس اور سادہ اردو نثر کی بنیاد رکھی جس نے آگے چل کر سرسید احمد خان کی سائنسی اور فکری نثر کے لیے راستہ صاف کیا۔ سرسید احمد خان کی سائنٹفک سوسائٹی نے جدید مغربی علوم اور سائنسی کتب کے اردو تراجم کروا کے نوآبادیاتی ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیمی اور فکری بیداری میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا۔ چھاپہ خانے کی ایجاد نے علم کو امرا کی اجارہ داری سے نکال کر عوام تک پہنچایا اور پریس کو چلانے کے لیے ضروری فکری ایندھن اردو ترجمہ نگاری نے ہی فراہم کیا۔ عہدِ حاضر میں کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت (AI) کی آمد سے ترجمہ نگاری ایک تیز رفتار اور مربوط دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں معلومات حاصل کرنے سے زیادہ تجزیاتی ذہن کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
کلیدی الفاظ
ترجمہ، تاریخ،تہذیب و تمدن، سمیریا، بابل و نینوا، داستان گلگامیش، آشور بنی پال، مصر، روزیٹااسٹون، کتب خانہ اسکندریہ، بیت الحکمت، پنچ تنتر، کلیلہ و دمنہ، سنسکرت، عربی، فارسی کتب، راماین، مہابھارت، اتھرو وید، چرک سنہتا، نالندہ، بودھ صحیفے، چینی تہذیب، اکبر کا مکتب خانہ، بائبل کا ترجمہ، مارٹن لوتھر، کارل مارکس، اینگلز، یورپ، روس، انقلاب، چھاپہ خانہ، فورٹ ولیم کالج، سرسید احمد خاں، ترقی پسند تحریک ، مصنوعی ذہانت وغیرہ۔
———
اردو کے معروف افسانہ نگار اسد محمد خاں نے اپنے ایک مضمون ’ ٹکڑوں میں کہی گئی کہانی‘ میں لکھا تھا:
’’تصنیف وتالیف کی طرح ترجمہ ایک خیر کا کام ہے، اور یہ ان خیر کے کاموں میں سے ہے جو خاصے مشکل ہوتے ہیں، شاید تصنیف سے ایک درجہ مشکل۔‘‘
اس بیان سے ایک بات بالکل واضح ہے، وہ یہ کہ ترجمے کا کام نہ تو بلا مقصد ہوتا ہے اور نہ یہ کوئی ’الہام‘ یا ’آورد‘ کا عمل ہے جیسا کہ تخلیقی ادب کے بارے میں اکثر دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔ یعنی، اگر آپ ترجمے کو ایک ارادتاً کیا گیا، سوچا سمجھا، بامقصد، ایک سنجیدہ اور نتیجہ خیز عمل سمجھتے ہیں تو آپ کو چند سوالوں پر غور کرنا ہوگا: اوّل، ترجمہ کیوں کیا جائے؟ دوم، کس تحریر کا ترجمہ کیا جائے؟ سوم، کن کے لیے کیا جائے ؟ اور آخری سوال یہ کہ کس طرح کیا جائے؟ اوّلیں تین سوال ترجمے کے مقاصد متعین کرتے ہیں اور آخری سوال ترجمے کے فن سے متعلق ہوا۔
لیکن ان سوالوں سے بھی پہلے یہ واضح رہنا ضروری ہے عام طور سے غیر کو جاننے کا تجسس ہمیں غیر زبانوں کے علمی اور ادبی سرمایے کو پڑھنے کی جانب راغب کرتا ہے۔ اگر مطالعے کا یہ کام ہم کسی ایسی زبان کے وسیلے سے کرتے ہیں جو ہماری مادری زبان نہیں ہے، تو مطالعے میں آنے والی بعض تحریریں ہمیں ترغیب دیتی ہیں کہ ہم اپنے ہم زبان قارئین کو ان کے مطالعے میں شریک کریں یا اپنی زبان کی عمدہ تحریروں کو کسی دوسری زبان کے قارئین تک پہنچائیں۔ ظاہر ہے یہ شوق سب کو نہیں ہوتا لیکن جن کے دل میں یہ سودا سماتا ہے وہ ترجمہ نگاری کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ترجمے کا کام محض شوق نہ رہ کر پروفیشن بھی بن جاتا ہے۔
اگر ہم یہ کام محض شوقیہ کر رہے ہیں تو یہ طے کرنا ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم کس طرح کی تحریروں کو قابلِ اعتنا سمجھتے ہیں۔ ہمارے اندر کا بیدار ذہن قاری، اپنی تنقیدی بصیرت سے ہماری ترجیحات طے کراتا ہے۔ مثلاً ہم اپنی پسند کی بنیاد پر بچوں کی کہانیاں، تفریحی یا عوامی ادب، سنجیدہ قسم کی علمی کتابیں، سیاسی و ثقافتی مطالعات کی کتابیں، ادبِ عالیہ، سوانحی تحریریں، فکشن، شاعری وغیرہ کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
یہ انتخاب دراصل یہ بھی طے کرتا ہے کہ ہم کس قسم کے قارئین کے لیے ترجمہ کر رہے ہیں اور جب ہم کسی تحریر کو قارئین کے کسی مخصوص حلقے تک پہنچانا چاہتے ہیں تو ہمارا مقصد ہوتا ہے کہ اس تحریر سے محظوظ ہوں، یا اپنے علم میں اضافہ کریں، یا کسی خاص زاویۂ فکر سے متعارف ہوں، یا (تخلیقی ادب کی حد تک) نئے اور انوکھے بیانیوں، اسالیب اور تکنیک کے تجربوں سے لطف اندوز ہوں۔
مختصر یہ کہ ترجمہ ایک علمی، تہذیبی اور نفسیاتی ضرورت ہے، اور تجسس کے اپنے فطری تقاضے کے باعث انسان جب اپنی جغرافیائی اور لسانی سرحدیں پھلانگنا چاہتا ہے تو سیاحت اور مطالعے کی مدد سے ایسا کرتا رہا ہے، اور عہدِ حاضر میں ویب کے ذریعے بھی بصری، سمعی اور فکری دنیا کا مشاہدہ کرتا ہے۔ غیر زبانوں کی علمی اور ادبی کتابیں وہ عموماً ترجموں کی مدد سے ہی پڑھتا ہے۔ ترجمہ شدہ ادب چونکہ مختلف قومیتوں اور ثقافتوں کو جاننے کا موقع فراہم کرتا ہے، دو ثقافتوں کے درمیان معاشرتی اور فکری نظام کی باہمی تفہیم کا بنیادی وسیلہ بنتا ہے اس لیے کہہ سکتے ہیں کہ یہ زبانوں کے بیچ میں کھڑی دیواروں میں دریچے کھولتا ہے جن میں سے ہم ایک دوسرے کے آنگن میں جھانک لیتے ہیں اور اچھے ہمسایوں کی طرح تبادلۂ خیال کر لیتے ہیں۔ اور بعض اوقات یہ دریچے اپنی ہی ذات کے اندرون میں بھی کھلتے ہیں، اور مشاہدۂ ذات کا وسیلہ بن جاتے ہیں۔ خود کی تلاش، خود کو سمجھنے کی کوشش میں بھی ہم مطالعے کی جانب مائل ہوتے ہیں اور اپنے اس تجربے میں جب دوسروں کو شریک کرنا چاہیں تو لکھتے ہیں اور ترجمے کرتے ہیں۔
ایک بیدار ذہن انسان عام طور سے ایسی معاشرتی زندگی کا ایک تصور رکھتا ہے جس میں ریشنلٹی اور روشن خیالی، رواداری اور باہمی احترام، نیز عدل و انصاف کی اقدار کو اہمیت حاصل ہو۔ اگر وہ ادب دوست بھی ہے اور عمدہ کتابیں پڑھنے میں یقین رکھتا ہے تو وہ کتابوں کو معاشرے کی تفہیم کا بہترین وسیلہ اور بہترین مدرس بھی جانتا ہے۔ اس کے نزدیک عمدہ کتاب ہمارے خیالات کو انگیز کرتی ہے، ہماری فکر کو مربوط کرتی ہے، انسانی ذہن اور معاشرت کے نئے پہلوؤں سے روشناس کراتی ہے۔ اس کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ کسی عمدہ کتاب کو پڑھنے کے بعد ہم وہ نہیں رہتے جو پڑھنے سے پہلے ہوتے ہیں۔ عرصہ پہلے کہیں پڑھا تھا، غالباً روسی ادیب نکولائی اوستروفِسکی کے حوالے سے، کہ جب اس نے دوستوئیوسکی کا ناول ’کرامازوف برادرس‘ پڑھا تو اس کا تصورِ حیات ہی بدل گیا۔ یعنی بنیادی سوال فکر کو متاثر کرنے اور اس میں تبدیلی لانے کا ہے۔ کارل مارکس نے فیوئرباخ پر لکھے اپنے گیارہویں تبصرے (تھیسس الیون آن فیوئرباخ) میں لکھا تھا کہ فلسفیوں نے دنیا کی محض صراحت کی ہے، لیکن بنیادی سوال اس کو بدلنے کا ہے۔ اس کا یہ بنیادی نکتہ دراصل فکر کو عمل کی دھرتی پر اتارنے سے متعلق تھا۔
جب کتابیں فکر کو متاثر کرنے اور تبدیلی لانے کا وسیلہ سمجھی جائیں تو ان کا ترجمہ کرنا اپنے آپ میں ایک علمی اور سیاسی عمل بن جاتا ہے۔ ایک بیدار ذہن، حساس انسان کے لیے بقول اسد محمد خان، یہ عمل خیر کا کام بن جاتا ہے۔ فکری اور سماجی تبدیلی کا اوزار بن جاتا ہے۔
ترجموں کے وسیلے سے علم و دا نش کے باہمی لین دین کا دریا کبھی سیکڑوں سال تک خاموشی سے بہتا رہتا ہے اور کبھی پرشور موجوں میں تبدیل ہوکر ساحلوں سے ٹکراتا اور تاریخ کے رخ کو موڑ دیتا ہے۔ اگر ہم تاریخ کے مختلف ادوار پر نظر ڈالیں تو انسانی تہذیب و تمدن کی قدیم ترین تاریخ سے لے کر عہدِ حاضر تک ایسے متعدد مقامات کی نشاندہی کی جاسکتی ہے جب ترجمے عظیم فکری اور ثقافتی تغیرات اور انقلابات کا محرک بنے یا تبدیلی کا طاقتور اوزار بنے۔
چنانچہ یہاں میں کچھ ایسے تاریخی واقعات اور اداروں کا ذکر کروں گی جو اپنے آپ میں فینومینا بن گئے، یا بعض ایسی کتابوں کا ذکر کروں گی جنھوں نے قوموں کے اجتماعی مزاجوں کی تشکیل میں، لوگوں کی ذہن سازی میں، اور عظیم تحریکات کو وجود میں لانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ بعض ایسے ادارے بھی وجود میں آئے جن کی بنیاد میں دانشور ادیبوں، سائنس دانوں اور فلسفیوں اور مترجمین کی بصیرتیں شامل ہیں۔ انھوں نے قدیم اور معاصر علوم کے ترجموں کی مدد سے اپنے قومی مزاج کی تشکیل کی۔ مختصر یہ کہ اس تحریر کا مقصد تاریخ کے ایسے مقامات کی نشاندہی کرنا ہے جب ترجمے کے عمل نے تاریخ کے اوراق پر انمٹ نقوش بنائے۔
آئیے سب سے قدیم دور سے بات کی شروعات کرتے ہیں—دنیا کی تین قدیم ترین تہذیبوں سے۔ اوّل، سمیری اور بابل و نینوا کی تہذیب، جہاں ترجمے کے عمل نے ایک تاریخی کتاب کو مستقبل کے لیے محفوظ کر دیا؛ دوم، قدیم مصری تہذیب، جہاں سے برآمد ہونے والی ایک سنگی لوح پر نقش تین زبانوں کے متن میں، یونانی ترجمے کی مدد سے قدیم مصری رسم خط کو ڈی سائفر کیا جا سکا؛ اور سوم، قدیم ہند و چین کی تہذیب جہاں چینی بودھ بھکشوؤں کی سیاحت اور بودھ صحیفوں کے تراجم نے بدھ مت کو چینی تہذیب کا جزوِ لائنفک بنا دیا۔
داستانِ گلگامیش
آج نقشے پر جس جگہ عراق ہے، اسی خطے میں قدیم دور میں دو قوموں کی تہذیبیں وجود میں آئیں—سمیریا کی تہذیب اور بابل و نینوا کی تہذیب۔ اسے میسوپوٹامیا کی تہذیب بھی کہا جاتا ہے۔ سُمیریوں نے دنیا کا پہلا باقاعدہ نظامِ تحریر ایجاد کیا تھا جو میخی یا مسماری رسم خط (Cuneiform) کہلاتا ہے۔ آغاز میں یہ تصویروں کی شکل میں تھا، جو بعد میں نوکیلی علامات میں تبدیل ہو گیا۔ تحریر لکڑی، سرکنڈے یا ہڈی کے قلم سے گیلی مٹی کی تختیوں پر نقش کی جاتی تھی۔ یہیں دنیا کی سب سے قدیم کتاب وجود میں آئی۔ ’داستانِ گلگامیش‘ (Epic of Gilgamesh) ایک طویل نظم کی صورت میں سمیری زبان میں لکھی گئی جس میں اُرُک (موجودہ عراق) کے حکمران گلگامیش کے کارناموں کا بیان ملتا ہے۔ اس داستان کا زمانۂ تحریر 2100 سال قبل مسیح کا مانا جاتا ہے، جب کہ گلگامیش نے 2500-2700 سال قبل مسیح کے دوران کسی زمانے میں ارک پر حکمرانی کی تھی۔
تقریباً 2000 قبل مسیح میں سُمیری بطورعوامی بول چال کی زبان ختم ہونا شروع ہو گئی اور اس کی جگہ عکادی (Akkadian) نے لے لی۔ سمیری زبان کا زوال ہوا لیکن اس کے مٹنے سے پہلے داستانِ گلگامیش کو عکادی زبان میں منتقل کرلیا گیا تھا جو قدیم میسوپوٹامیا کی سرکاری زبان تھی۔ اسی زبان سے بعد میں عبرانی اور عربی زبانوں کا ارتقا ہوا۔
اس داستان کا قدیم ترین نسخہ جوعکادی میں محفوظ رہ گیا،اٹھارہویں صدی قبل مسیح کا ہے۔ لیکن مکمل ترین اور معیاری نسخہ اسوری خاندان کے حکمراں اشور بنی پال کے کتب خانے (نینوا) سے برآمد ہوا، جسے ’سینلیقی اونّینی‘ (Sin-liqe-unninni) نے ترتیب دیا تھا۔ آج کے بیشتر انگریزی تراجم اسی متن پر بنیاد رکھتے ہیں۔ اشور بنی پال کا دور ساتویں صدی قبل مسیح کا ہے۔ اس کا کتب خانہ پندرہ سے تیس ہزار لوحوں پر مشتمل تھا جن میں گلگامیش کی داستان بھی 12 لوحوں پر منقش ملی ہے۔ 612 قبل مسیح میں جب بیبیلونی، میدیسی اور اسکوتی قوموں کی متحدہ فوجوں نے نینوا پر فتح پائی تو شہر کو آگ لگا دی۔ کتب خانہ بھی جل گیا لیکن اس عمل میں مٹی کی لوحیں آگ میں اچھی طرح پک گئیں اور ان پر لکھی تحریریں ڈھائی ہزار سال کے بعد دریافت کیے جانے تک محفوظ پڑی رہیں۔ انیسویں صدی میں نینوا کی کھدائی کے دوران اس داستان کی بھی بازیافت ہوئی۔ یہ لوحیں اب برٹش میوزیم میں محفوظ ہیں۔
بازیافت کی اس دلچسپ داستان کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ سمیریوں کی داستان کو سامیوں نے اپنی زبان میں منتقل کیا تھا اور ترجمے کے اس عمل نے دنیا کے قدیم ترین شہ پارے کو عنقا ہونے سے بچا لیا۔ نیز یہی داستان ترجمہ شدہ ادب کا قدیم ترین نمونہ بن گئی۔
داستانِ گلگامیش پہلی بڑی ادبی دریافت تھی جس کا ترجمہ 1872 میں جارج اسمتھ نے انگریزی میں کیا۔ اس میں طوفانِ نوح اور حضرت خضر کے ہمراہ حضرت موسیٰ کے بحری سفر، نیز آب حیات کی تلاش میں سکندر اور خضر کے بحرِ ظلمات کے سفر سے ملتی جلتی کہانیاں موجود ہیں۔ داستانِ گلگامیش میں یہ کردار اُتناپشتیم اور اُرشانبی کے نام سے متعارف ہوئے ہیں۔ یعنی یہودی، عیسائی اور اسلامی صحیفوں میں موجود ان داستانوں کے اوّلیں آثار داستانِ گلگامیش میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
سمیری اور عکادی زبانوں کے حوالے سے یہ بات واقعی حیرت انگیز ہے کہ کس طرح علم ایک تہذیب سے دوسری تہذیب کو منتقل ہوا اور ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔
داستانِ گلگامیش کی میخی یا مسماری خط میں سیلابِ عظیم کی لوح (ماخذ: ویکیپیڈیا)
روزیٹا اسٹون اور اسکندریہ کا کتب خانہ
آئیے اب مصر کی طرف چلتے ہیں، کیونکہ ترجمے اور تحریر کی تاریخ میں مصر کا مقام بھی منفرد ہے۔ قدیم مصری زبان، جو ہیروگلیفس (Hieroglyphs) رسمِ خط میں لکھی جاتی تھی، روزیٹا اسٹون (Rosetta Stone) کے سبب پڑھی جا سکی۔ سنگ رشید یا روزیٹا اسٹون سیاہ سنگ مرمر کا ایک پتھر ہے جو دریائے نیل کی ایک شاخ کے کنارے رشید یا روزیٹا کے مقام پر 1799 میں فرانسیسی فوج کے کاروندوں کو اتفاقاً ملا۔ یہ پتھر بطلیموس پنجم کی یاد میں 196 ق م میں نصب کیا گیا تھا۔ اس میں ایک ہی عبارت تین مختلف زبانوں کے خط (مصری تصویری خط یا ہیروگلیفس، مصری عوامی یا ڈیموٹک خط اور یونانی خط) میں کندہ ہے۔ 1822 میں ایک فرانسیسی اسکالر ژان فرانسوا شمیلیون نے ان تین زبانوں کا تقابلی جائزہ لے کر مصری تصویری خط کی کلید ڈھونڈ نکالی۔ تصویری لکیروں پر مبنی یہ نظامِ تحریر اہرامِ مصر کی دیواروں پر موجود تو تھا لیکن ہزاروں سال تک کوئی نہیں جانتا تھا کہ کیا لکھا گیا ہے۔ چونکہ ماہرین یونانی زبان سے پہلے ہی سے واقف تھے اور وہ کبھی عنقا نہیں ہوئی تھی، اس لیے انھوں نے یونانی عبارت کی مدد سے ہیروگلیفس کو ڈی کوڈ کر لیا۔ انسانی تمدن کی تاریخ میں یہ ترجمے کی بہت بڑی کامیابی تھی جس نے قدیم مصری تہذیب کے دروازے نئی دنیا پر کھول دیے۔ نیز قدیم مصر کی باقی تحریروں کو پڑھنا بھی ممکن ہو گیا جو مصر بھر کے اہراموں میں دیواروں پر ملی ہیں، یا وہ مقدمہ جو ایک غداری کی داستان کے بارے میں تھا اور جس کے تحریری شکل میں مسودات ملے ہیں۔ اس طرح مصری تہذیب دیواری تصویروں اور مدفنوں سے باہر نکل آئی۔
یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ قدیم مصری لوگ لکھنے کے لیے مٹی کی تختیوں کے بجائے ایک خاص پودے سے بنے کاغذ کا استعمال کرتے تھے۔ یہ پیپرس (Papyrus) کہلاتا تھا۔ آج کا انگریزی لفظ ’پیپر‘ اسی پر بنیاد رکھتا ہے۔
مصر کا دوسرا بڑا عجوبہ اسکندریہ کا کتب خانہ ثابت ہوا۔ یہ ایسا عظیم علمی مرکز تھا جس کا عروج اور زوال کئی صدیوں پر محیط ہے۔ اس کا زمانہ بنیادی طور پر تیسری صدی قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ اس کتب خانے کی بنیاد بطلیموس اوّل (Ptolemy-I) نے رکھی جو سکندرِ اعظم کا جرنیل تھا۔ تاہم، اس کو عروج بطلیموس دوم کے دور میں حاصل ہوا۔ اس کتب خانے کا مقصد دنیا بھر کی کتابوں کا یونانی زبان میں ترجمہ کرانا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں پیپرس کے چار سے سات لاکھ طومار موجود تھے۔
تقریباً ڈھائی سو سال تک یہ کتب خانہ دنیا کا سب سے بڑا تحقیقی مرکز بنا رہا۔ یہاں ارشمیدس (Archimedes) اور اقلیدس (Euclides) جیسے عظیم ماہرینِ ریاضی اور سائنس دانوں نے کام کیا۔ یہاں دنیا بھر سے کتابیں لائی جاتی تھیں اور ان کا یونانی میں ترجمہ کیا جاتا تھا۔ اس کتب خانے کی ایک پالیسی تھی کہ اسکندریہ کی بندرگاہ پر جو بھی جہاز آتا، اس کی تلاشی لی جاتی اور اگر کوئی کتاب ملتی تو اسے کتب خانے لے جایا جاتا۔ وہاں اس کی نقل تیار کی جاتی، نقل جہاز کے مالک کو دے دی جاتی اور اصل کتاب کتب خانے میں رکھ لی جاتی تھی۔ یہیں پہلی بار عبرانی بائبل یا عہد نامۂ قدیم کا یونانی زبان میں ترجمہ کیا گیا تاکہ وہ لوگ بھی اسے پڑھ سکیں جو عبرانی نہیں جانتے تھے۔ یہ مذہبی تراجم کی تاریخ کا اوّلیں نشان ہے۔
قدیم مصر کا روزیٹا اسٹون ، 196 سال قبل مسیح (ماخذ: ویکیپیڈیا)
بدھ صحیفوں کے تراجم اور بدھ مت کا فروغ
ہندوستان کی تاریخ میں بھی ایسے واقعات پیش آئے جنھوں نے قومی مزاج کی تشکیل میں اہم حصہ لیایا تاریخ بدل ڈالی۔ مہاتما گوتم بدھ کا روحانی مشن بھی ایسا ہی واقعہ ثابت ہوا۔ یہ ان کا نجی ’وجودی بحران‘ کو حل کرنے کا عمل تھا جس کے نتیجے میں ایک عظیم فلسفۂ حیات وجود میں آیا۔ جسے ہم روحانیت، عرفانِ ذات یا تلاشِ حق کہتے ہیں۔
مہاتما بدھ کے فلسفۂ زندگی کو جب سمراٹ اشوک نے اپنایا تو اس کے پرچار کے لیے اس نے خصوصی کوششیں کیں ۔ یہ واقعہ تیسری صدی قبل مسیح کا ہے جب کالنگا (اڑیسہ) کی خونریز جنگ سے تائب ہوکر اشوک بودھ تعلیمات کی جانب مائل ہوا اور عدم تشدد کی پالیسی اختیار کی۔ اس نے بدھ کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے مختلف زبانوں اور اس کے رسم الخط کا سہارا لیا۔ (خود بدھ مت کی نہاد میں سنسکرت کے بجائے پالی اور پراکرتوں کا اہم رول تھا۔ عوامی زبانوں کا یہ استعمال اپنے آپ میں ایک انقلابی قدم تھا۔) اشوک نے بدھ مت کی تعلیمات کو کئی زبانوں اور اسکرپٹوں میں سنگی کتبوں اور ستونوں پر کندہ کرایا اور مختلف علاقوں میں یہ لاٹیں نصب کرائیں۔ اپنی بہن سنگھ مترا کو بدھ کا پیغام پہنچانے کے لیے سری لنکا بھیجا اور اس طرح مختلف زبانوں کی مدد سے بدھ کے پیغام کوجنوب میں سری لنکا سے لے کر شمال میں افغانستان تک عام کیا۔
لیکن پہلی صدی عیسوی کے آس پاس ایک اور بڑا واقعہ پیش آنا شروع ہوا۔ یہ واقعہ شاہراہِ ریشم کے ذریعے بدھ مت کے چین تک پہنچنے کا تھا۔ ابتدائی دور میں چینیوں کے لیے ہندوستانی تصورات کو سمجھنا بہت مشکل کام تھا کیونکہ سنسکرت ان کے نزدیک ایک انتہائی مختلف، پیچیدہ اور فلسفیانہ زبان تھی جب کہ چینی کا تعلق زبانوں کے ایک الگ ہی خاندان سے تھا۔ لیکن بعد میں بدھ مت کے جفاکش پیروکاروں نے ان صحیفوں کا سنسکرت اور پالی سے چینی زبان میں ترجمہ کیا جو تاریخِ عالم کا وہ عظیم الشان واقعہ بن گیا جس نے نہ صرف چین کی کایا پلٹ دی بلکہ ہندوستان کی علمی و فلسفیانہ دانش کو پورے مشرقی ایشیا (جاپان، کوریا، ویتنام) تک وسعت دی۔
دوسری صدی عیسوی میں ’لویانگ‘ (Luoyang) میں چین کا پہلا باقاعدہ ترجمہ مرکز قائم ہوا جہاں وسطی ایشیا سے آنے والے بھکشوؤں نے کام کرنا شروع کیا۔ بدھ مت سے متعلق صحیفوں کے تراجم کا کام سیکڑوں برس کو محیط مانا جاتا ہے۔ چینی تراجم کی تاریخ میں کماراجیوا (چوتھی صدی عیسوی) کو وہی مقام حاصل ہے جو بعد میں عربی تراجم کی تاریخ میں حنین ابن اسحاق کو حاصل ہوا۔ کماراجیوا ایک کشمیری پنڈت کے بیٹے تھے اور انھوں نے چینی زبان میں مہارت حاصل کی۔ انھوں نے ترجمے کا ایک نیا اسلوب وضع کیا جسے ’مفہوم پر مبنی ترجمہ‘ کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے لفظ بہ لفظ ترجمے کے بجائے مفہوم پر توجہ دی تاکہ چینی عوام بدھ مت کے پیچیدہ تصورات کو اپنی روزمرہ زبان میں سمجھ سکیں۔ چینیوں نے تراجم کے لیے ایک ’ترجمہ کمیٹی‘ کا نظام وضع کرکے اسے اجتماعی کارگاہ کی صورت دی جس میں کوئی ایک عالم اصل سنسکرت متن پڑھتا، دوسرا اسے چینی میں زبانی منتقل کرتا، اور تیسرا اسے لکھتا جاتا۔ چوتھا اس کی لسانی اصلاح کرتا اور زبان کی نوک پلک درست کرتا تھا تاکہ وہ متن ادبی سطح پر بھی دلکش بن سکے۔
قدیم ہندوستان میں نالندہ یونیورسٹی کے قیام نے بدھ مت کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا اور اسے ایک منظم فلسفے کے طور پر دنیا بھر میں متعارف کرایا۔ یہ محض تعلیمی ادارہ نہیں تھا بلکہ فکری انقلاب کا مرکز تھا۔ پانچویں صدی عیسوی (تقریباً 427 عیسوی) میں قائم ہونے والی یہ یونیورسٹی آٹھ سو سال تک دنیا کا عظیم ترین علمی مرکز بنی رہی، یہاں تک کہ 1193عیسوی میں بختیار خلجی کے حملے سے تباہ ہوگئی۔ نالندہ کی خدمات کے چند نمایاں پہلو یہ ہیں کہ یہاں مہایان بدھ مت کو منظم نصاب، منطق اور مابعد الطبیعیات کی شکل میں فلسفے کی تدریس کا حصہ بنایا گیا۔ اس نے ناگارجن (نظریہ شونیتا)، دھرم کیرتی، دِگ ناگ اور شانتی دیو جیسے بودھ علما پیدا کیے۔ یہاں کی لائبریری ’دھرم گنج‘ علم کا سب سے بڑا ذخیرہ تھی، جہاں سے سنسکرت کتب کے تراجم پوری دنیا میں پہنچے۔ اس دانش گاہ میں چین، تبت، کوریا اور جاپان کے طلبہ آتے تھے۔
ساتویں صدی عیسوی میں مشہور چینی سیاح اور عالم ہوان سانگ ہندوستان آئے۔ ان کا مقصد بدھ مت کے اصل مسودات حاصل کرنا تھا۔ وہ سترہ سال ہندوستان میں رہے، نالندہ میں تعلیم حاصل کی اور واپسی پر اپنے ساتھ سنسکرت کے سینکڑوں مسودات لے کر گئے۔ چین پہنچ کر انھوں نے شہنشاہ کی سرپرستی میں ایک اہم ترجمہ مرکز قائم کیا جہاں ہزاروں بھکشوؤں نے مل کر کام کیا۔ ان کے تراجم کو آج بھی متن کی درست منتقلی کی وجہ سے مستند مانا جاتا ہے۔
ہندوستانی دانش کے اس پھیلاؤ نے چین میں کئی بڑی تبدیلیاں پیدا کیں۔ ہزاروں الفاظ سنسکرت سے چینی زبان میں شامل ہوئے (جیسے ’نروان‘، ’سنسار‘، کرما، دھیان، دھم، سوتر، اپسرا وغیرہ)۔ بدھ مت کے فروغ کے ساتھ تراجم کی وسیع پیمانے پر مانگ نے چین میں چھاپہ خانے کی ایجاد کو مہمیز دی۔ دنیا کی پہلی مطبوعہ کتاب ’ڈائمنڈ سوترا‘ ایک بودھ تحریر کا ترجمہ ہی ہے
ان تراجم کی بدولت ہندوستان کا قدیم علم (منطق، طب، ریاضی اور فلسفہ) نہ صرف محفوظ ہو گیا بلکہ چین کی تہذیب کا حصہ بن گیا۔ آج بہت سے ایسے قدیم سنسکرت نسخے جو ہندوستان میں ضائع ہو چکے تھے، انہی چینی تراجم کی بدولت دنیا میں موجود ہیں۔
بدھ مت کے تراجم چین کے فکری نظام میں اہم تبدیلیاں لائے کماراجیوا اور ہیون سانگ کی کوششوں سے چین کو مابعد الطبیعیات، منطق اور ’چن‘ (Zen) جیسے نئے افکار ملے۔ ان تراجم نے چینی ادب، فنِ تعمیر اور سماجی مساوات کے تصور کو بھی جلا بخشی۔
بغداد کا بیت الحکمت اور سائنسی انقلاب
بغداد میں ’بیت الحکمت‘ (House of Wisdom) کا قیام عباسی دور میں عمل میں آیا جہاں یونانی، ہندی اور سریانی زبانوں کے علمی ذخائر کو عربی میں منتقل کیا گیا۔ بیت الحکمت کا قیام تاریخِ انسانی کا وہ سنہری باب ہے جس نے علم کی شمع کو اندھیروں سے نکال کر پوری دنیا میں پھیلایا۔ یہ محض ایک لائبریری نہیں تھی، بلکہ ایک بین الاقوامی دانش گاہ اور ترجمہ گاہ تھی۔ فلسفے اور سائنسی علوم کے اوّلیں ستون ارسطو، افلاطون اور اقلیدس کے تراجم اسی دانش گاہ میں کیے گئے۔ ان علوم کی روشنی سے عرب علما نے پورے جوش و خروش سے استفادہ کیا۔ انھوں نے ان کتابوں کے ترجمے کیے، ان پر تفصیلی تبصرے لکھے اور علم و دانش کو آگے بڑھایا۔ ان سرگرمیوں نے عرب مسلمانوں کو سائنس، فلسفہ اور طب کے شعبوں میں سرخیل بنا دیا۔ اس زمانے میں یورپ چرچ کی متشدد بالادستی کے سبب علمی اعتبار سے تاریکی کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس طویل دور میں ان کے علوم کا بہت سا ذخیرہ ضائع ہو گیا۔ بعد میں عربی تراجم جب لاطینی زبان میں منتقل ہوئے تو اہل یورپ نے اپنے علما کو ایک طرح سے از سرِ نو دریافت کیا۔ بعد ازاں لاطینی کے وسیلے سے یورپ کی جدید زبانوں تک پہنچے تو یورپ کی تاریکی کا دور ختم ہوا اور سائنسی ترقی کی بنیاد پڑی۔
بیت الحکمت کی بنیاد خلیفہ ہارون الرشید (786-809 عیسوی) کے دور میں پڑی، جنھوں نے شاہی لائبریری کے طور پر اسے قائم کیا تھا۔ خلیفہ مامون الرشید (813-833 عیسوی) نے اسے باقاعدہ ایک اکیڈمی کی شکل دی اور دنیا بھر کے علما کو یہاں جمع کیا۔ اس عظیم ادارے کا اختتام 1258عیسوی میں ہوا جب ہلاکو خان کی قیادت میں منگولوں نے بغداد پر حملہ کیا اور اس کے علمی ذخیرے کو دریائے دجلہ میں بہا دیا۔
بیت الحکمت اپنے عہد کا سب سے بڑا علمی مرکز تھا جہاں علم کی کوئی سرحد نہیں تھی۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد یونانی، سنسکرت، پہلوی اور سریانی زبانوں کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کرنا تھا۔ ارسطو، افلاطون، اقلیدس اور بطلیموس کی تحریریں اسی ادارے کے ذریعے محفوظ ہوئیں۔ اسے ’ ترجمہ کی تحریک‘ کا نام بجا طور پر دیا جاتا ہے۔
اس دانش گاہ کا ماحول حقیقتاً کثیر ثقافتی پہلو رکھتا تھا۔ یہاں مسلمان ہی نہیں، مسیحی، یہودی، صابئین، پارسی اور ہندو علما مل کر کام کرتے تھے۔ علمی سرگرمی کو مذہب سے بالاتر سمجھا جاتا تھا۔ علمی شعبہ جات میں فلسفہ، طب ، فلکیات ، ریاضی، کیمیا اور جغرافیہ پر تحقیق کی جاتی تھی اور مختلف علوم کی کتابیں ترجمہ کی جاتی تھیں۔ ترجمے کو اس قدراہمیت حاصل تھی کہ ایک روایت کے مطابق خلیفہ مامون الرشید مترجم کو اس کی ترجمہ شدہ کتاب کے وزن کے برابر سونا بطور معاوضہ دیا کرتے تھے۔
اس ادارے سے وابستہ کئی ایسے نام ہیں جو اپنے اپنے شعبہ ہائے علم کا روشن ستارا بن گئے۔ بابائے جبر و مقابلہ (الجبرا)، الخوارزمی نے ریاضی کی دنیا میں انقلاب برپا کیا۔ حنین ابن اسحاق ایک مسیحی مترجم تھے جنھیں مترجمین کا شیخ کہا جاتا ہے، انھوں نے یونانی طب کے بڑے حصے کو عربی میں منتقل کیا، یہی طب یونانی ایک مستقل ڈسپلن بن کر پوری دنیا میں عربی تراجم کے سبب ہی پہنچی۔ الکندی ’عربوں کا فلسفی‘ کہلایا جس نے یونانی فلسفے کو اسلامی فکر کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ بنو موسیٰ برادران اپنی ایجادات اور انجینئرنگ کے شاہکاروں کے لیے مشہور ہوئے۔
سنسکرت سے عربی میں ہونے والے تراجم نے اسلامی دنیا میں سائنس، ریاضی اور طب کی بنیاد گزاری میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ خلیفہ منصور اور خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں ہندوستان سے کئی پنڈت اور ماہرین بغداد بلائے گئے تھے۔ سنسکرت کی کئی اہم کتابیں وہاں ترجمہ ہوئیں، جن میں بعض نہایت اہم کتابیں شامل ہیں۔ ریاضی اور فلکیات پر برہم گپت کی ’براہما اسپھُٹ سدھانت‘ (Brahma-sphuta-siddhanta) کے ذریعے عربوں کو شونیہ یعنی صفر یا زیرو اور اعدادِ شمار یا ہندسوں (Decimal System) سے واقفیت ہوئی، جسے بعد میں دنیا نے ’عربی ہندسے‘ کہا۔ برہم گپت کی ایک اور کتاب ’کھنڈ کھادیَکا‘ (Khanda-Khadyaka) ترجمہ کی گئی جس کا موضوع ستاروں کی حرکت اور وقت کا حساب تھا۔ علاوہ ازیں قدیم ہندوستانی آیوروید کی بنیادی کتاب ’چرک سنہتا‘ (Charaka Samhita) کا ترجمہ خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں ہوا اور بیت الحکمت کے طبی ماہرین نے اس کتاب سے جڑی بوٹیوں کے خواص اور علاج کے طریقے سیکھے۔ سرجری یا جراحت پر مبنی ایک اہم کتاب ’سوشرت سنہتا‘ (Sushruta Samhita) بھی سنسکرت سے عربی میں منتقل ہوئی۔ اس میں جراحی کے آلات اور آپریشن کے طریقوں سے متعارف کرایا گیا تھا۔
’پنچ تنتر‘ (عربی عنوان ’کلیلہ و دمنہ‘) اگرچہ خالص سائنسی کتاب نہیں تھی جس کو عرب ترجمے کے لیے منتخب کرتے۔ لیکن یہ ادب پارہ اخلاقیات اور سیاست پر مبنی حکایتوں کا مجموعہ تھا جس میں علم و دانش اور اخلاقی اصولوں کی باتیں جانوروں کی جبلت کے وسیلے سے انسانوں کی فطرت اور اخلاقیات پر منطبق کرکے حکایتوں کی شکل میں پیش کی گئی تھیں۔ تمثیلی پیرائے کا یہ شاید دنیا کی قدیم ترین ادبی شاہکار ہے جس نے عالمی ادب میں اپنا منفرد مقام بنایا۔ اسے تیسری صدی قبل مسیح میں پنڈت وشنو شرما نے ایک بادشاہ کے تین کند ذہن بیٹوں کی تربیت کے لیے لکھا تھا۔
چھٹی صدی عیسوی میں نوشیروان عادل کے طبیب برزویہ نے اسے ہندوستان سے ایران منتقل کیا اور پہلوی زبان میں ترجمہ کیا۔ پھر آٹھویں صدی عیسوی میں عبداللہ ابن المقفع نے بیت الحکمت میں رہ کر اسے پہلوی سے عربی میں منتقل کیا۔ ابن المقفع کا یہ ترجمہ اتنا شاندار تھا کہ اسے عربی نثر کا شاہکار مانا گیا اور بعد میں ہونے والے تمام عالمی تراجم کی بنیاد یہی عربی متن بنا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امتدادِ زمانہ کے ساتھ ہندوستان میں اس کا اصل سنسکرت متن گم ہو گیا۔ اگر پہلوی اور عربی زبانوں میں اس کے ترجمے نہ ہوئے ہوتے تو یہ قدیم کتاب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ضائع ہو گئی ہوتی۔اس طرح بیت الحکمت نے بے شمار علمی شاہکاروں کو عربی میں منتقل کرکے انھیں ضائع ہونے سے بچا لیا۔ اگر یہاں یونانی علوم کا عربی میں ترجمہ نہ ہوتا، تو شاید آج ہم قدیم فلسفے اور سائنس کے بنیاد گزاروں کے کارناموں سے محروم ہی ہوتے۔ یہی علوم بعد میں اسپین (اندلس) کے راستے یورپ پہنچے اور عقل و دانش اور سائنسی ترقی کی نئی لہر پیدا کی۔
خلیفہ ہارون الرشید کا قائم کردہ بیت الحکمت ایک خالص علمی تلاش اور تجسس کے جذبے کے تحت قائم کردہ ادارہ تھا جو علم کو بطور اوزار استعمال کر کے اپنے معاشرے اور اس کے طرز فکر پر اثر انداز ہو رہا تھا۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ مسلمانوں کا خلیفہ بغداد میں بیٹھ کر ہاؤس آف وزڈم قائم کرتا ہے اور دنیا بھر کے پنڈتوں، پادریوں ، فلسفیوں اور زبان دانوں کو جمع کرتا ہے، ان کے ملکوں سے کتابیں منگواتا ہے اور ترجمے کراتا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔ جدید یورپ کی تعمیر میں بیت الحکمت کا علمی تعاون تاریخ کا ایسا اہم واقعہ ہے جس کی دوسری مثال ملنا مشکل ہے۔ اغلب ہے کہ بیت الحکمت اور اس میں ترجمہ نگاری کو دی گئی اہمیت ہی سے تحریک پاکر اکبر بادشاہ نے ہندوستانی علوم کو فارسی میں منتقل کرانے کا بیڑا اٹھایا ہو۔
پنچ تنتر کے عربی ترجمے (تیرہویں صدی) کا ایک باتصویر ورق (ماخذ: ویکیپیڈیا)
شہنشاہ اکبر کا مکتب خانہ
مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کی بصیرت کا اعتراف کون نہیں کرے گا جس نے تلاشِ علم میں عربی، فارسی، ترکی، یونانی، سنسکرت اور دیگر زبانوں کے عالموں سے اپنے دربار کو آراستہ کیا، ان سے کتابیں لکھوائیں اور فارسی زبان میں ترجمے کرائے۔ اس کا مقصد مذہبی اور علمی کتابوں کو فارسی (جو اس وقت کی سرکاری اور علمی زبان تھی) میں منتقل کرنا تھا تاکہ مختلف مذاہب کے درمیان فاصلوں کو کم کیا جا سکے، جہالت سے پیدا ہونے والی نفرتیں کم ہوں اور علمی ہم آہنگی پیدا ہو۔ وہ بطور حکمران اپنے لیے ایک ایسا رول تراش رہا تھا جس سے سماج میں بڑی تبدیلیاں لائے، علم و دانش کے لیے ماحول سازگار کرے، علم کے وسیلے سے لوگوں کو روشن خیال بنائے۔ ان سرگرمیوں کو وہ سیاسی استحکام کا وسیلہ بنا رہا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ اکبر خود ان پڑھ تھا، لیکن اسے سننے کا بے حد شوق تھا۔ وہ ان تراجم کو دربار میں بلند آواز سے سنتا تھا اور اکثر مترجمین سے بحث و مباحثہ بھی کرتا تھا۔ اس کی لائبریری میں اس وقت تقریباً 24,000 سے زائد قلمی نسخے موجود تھے۔
اکبر کو ہندوستانی فلسفے اور داستانوں میں گہری دلچسپی تھی۔ اس کے دور میں اہم ترین کیب کے فارسی میں تراجم ہوئے جن میں مہابھارت، راماین اور اتھر وید کے ترجمے بھی شامل ہیں۔ مہابھارت اکبر کے دور کا سب سے بڑا منصوبہ تھا۔ نقیب خان، بدایونی اور فیضی نے مل کر اس کا فارسی ترجمہ کیا۔ اکبر نے اس کی سیکڑوں تصویریں بھی بنوائیں تاکہ درباری اسے دیکھ اور سمجھ سکیں۔ ملا عبد القادر بدایونی نے کئی سال کی محنت کے بعد رامائن کا فارسی میں ترجمہ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بدایونی ایک سخت گیر عالم تھے، لیکن اکبر کے حکم پر انھوں نے یہ کام مکمل کیا۔ بھاسکر اچاریہ اور دیگر پنڈتوں کی مدد سے اتھر وید کا ترجمہ کیا گیا۔ معروف شاعرفیضی نے ریاضی کی مشہور کتاب لیلا وتی کا سنسکرت سے فارسی میں ترجمہ کیا؛ اور مشہور عالم ابوالفضل نے پنچ تنتر کا ترجمہ ’عیارِ دانش‘ کے عنوان سے کیا (جس کا عربی ترجمہ ’کلیلہ و دمنہ’ کے نام سے پہلے ہی معروف ہو چکا تھا۔
دیگر زبانوں سے تراجم میں ’تزکِ بابری‘ (ترکی سے فارسی) اور یونانی اور عربی علوم کی کتابیں شامل ہیں۔ اکبر کے دادا بابر کی آپ بیتی اصل میں چغتائی ترکی میں تھی۔ اکبر نے عبدالرحیم خانِ خاناں کو حکم دیا کہ وہ اسے فارسی میں منتقل کریں تاکہ اسے وسیع پیمانے پر پڑھا جاسکے۔
اکبر کے مکتب خانے میں علما رزم نامہ ’مہابھارت‘ کے ترجمے پر محوِ گفتگو ہیں۔ تصویر : دھانو 1598-1599
یہ بات ہوئی بعض کتابوں اور دانش گاہوں کی جن کے ترجموں کی تاریخ نہایت مسحور کن ہے۔ ترجموں کے سبب بعض کتابیں ضائع ہونے بچ گئیں، بعض کے سبب قدیم زبانوں نے اپنے بھید کھولے اور بعض ترجموں نے قوموں کے مزاج بدل ڈالے۔ بدھ مت سے متاثر ہونے والوں نے ترجمے کو اپنا نصب العین بناکر بودھ صحیفوں پر اس طرح کام کیا کہ ان کے اثرات چین سے لے کربرما، تھائی لینڈ، جاپان اور سری لنکا تک پھیل گئے؛ نیز شمال میں تبت اور افغانستان تک بھی۔ تاریخ کا یہ سفر ایک طرح سے ترجمہ نگاری کا سفر ہے، فلسفے کا، علم و فنون کا سفر ہے۔ یہ آرٹ اور کلچر کا، رامائن اور مہابھارت کا، آیوروید اور پنچ تنتر کا بھی سفر ہے جنھوں نے اپنی اپنی لسانی سرحدوں کو توڑا اور شہرتِ دوام حاصل کی۔ عہدِ وسطیٰ میں اوّلاً بغداد کے دارالحکمت نے علم و دانش اور سائنسی تحقیقات کے میدان میں کام کرکے یورپی روشن خیالی کے لیے زمین ہموار کی تو دوسری طرف ہندوستان میں اکبر کے مکتب خانے نے علم و دانش کے ساتھ ساتھ روشن خیالی اورمذہبی رواداری کو اپنا ہدف بنایا جس کے بطن سے شمالی ہند کی گنگا جمنی تہذیب نے جنم لیا۔
آئیے اب ہم ایک اور تاریخی دور پر نظر ڈالیں جس میں یورپ ایک جدید ذہن اور سائنسی فکر کے ساتھ بیدار ہوا۔ اس بیداری میں دو واقعات یا انقلابات بہت اہمیت کے حامل ہوئے، اور دونوں انقلابات نے تاریخ کے دھارے کو ایک نیا موڑ دیا۔ ان میں ایک واقعہ تھا بائبل کا جرمن زبان میں ترجمہ ہونا اور دوسرا تھا کارل مارکس کی تحریروں کا متعدد زبانوں میں ترجمہ ہونا اور اشتراکی انقلاب کا آنا۔
مارٹن لوتھر اور بائبل کا ترجمہ
سولہویں صدی تک بائبل صرف لاطینی زبان میں دستیاب تھی جسے عام آدمی نہیں سمجھ سکتا تھا۔ مارٹن لوتھر نے اس کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا جس کے سبب بائبل کی رسائی عام لوگوں تک ہوئی، اور مذہب کی تفہیم لوگ خود کرنے لگے۔ اس ترجمے نے جب متن کو عام لوگوں تک براہِ راست پہنچایا تو غور و فکر اور مباحث کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا۔ پادری کی ثالثی حیثیت ختم ہو گئی اور یہ نظریہ قائم ہوا کہ انسان اپنے عقیدے میں خود مختار ہے۔ اس سے کیتھولک چرچ کی سیاسی اور فکری گرفت کمزور ہوئی اور پروٹیسٹنٹ (Protestant) تحریک کا جنم ہوا۔ پروٹیسٹنٹ تحریک نے یہ لازمی قرار دیا کہ ہر مرد اور عورت کو بائبل پڑھنا آنی چاہیے۔ اس کے نتیجے میں جرمنی اور شمالی یورپ میں اسکولوں کا جال بچھ گیا اور خواندگی کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہوا۔
اس ترجمے کے اثرات اتنے ہمہ گیر تھے کہ اس سے نہ صرف اصلاحِ مذہب (Reformation) ہوئی بلکہ اس نے نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے فکری دھارے کو آگے بڑھایا اور جدید یورپ کی تعمیر میں محرک کا کردار ادا کیا۔نشاۃ ثانیہ کا ایک بنیادی وصف انسان دوستی اور دوسرا قدیم علمی ماخذ کی طرف واپسی تھا۔ اس نے انسان کو خود پر، اپنی عقل پر اور اپنی زبان پر بھروسا کرنا سکھایا تھا۔ لوتھر کے ترجمے نے اس فکری لہر کو عملی جامہ پہنایا۔ چرچ کی عالمگیر سیاسی طاقت کے کمزور ہونے سے یورپ کے مقامی بادشاہوں اور شہزادوں کو اپنے اپنے علاقوں میں خودمختاری حاصل کرنے کا موقع ملا۔
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ کارل مارکس نے جب بیسویں صدی کے انقلابات کو فکری مواد فراہم کیا، اس سے قبل مارٹن لوتھر کا بائبل کا ترجمہ اس کی تیاری کی زمین تیار کر چکا تھا۔ اس جدید یورپ کی بنیاد اس طرح ڈالی کہ اس نے پوپ کی بالادستی توڑ کر فرد کی آزادی، مقامی زبانوں کے عروج، اور قومی ریاستوں کے قیام کی وہ بنیاد رکھی جس پر آج کا ترقی یافتہ اور روشن خیال یورپ کھڑا ہوا ہے۔
مارکس اور اینگلز کی کتابوں کے تراجم اور اشتراکی انقلابات
کارل مارکس اور اینگلز کی کتابوں کے تراجم جب روسی اور دیگر زبانوں میں ہونے لگے تو وہ ایک انقلابی نوعیت کے سیاسی اور سماجی شعور کا پیش خیمہ بنے۔
کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کی تحریروں— بالخصوص ’کمیونسٹ مینوفیسٹو‘ (1848) اور ’داس کیپیٹل‘ (1867) — کے مختلف زبانوں میں ہونے والے تراجم نے انسانی تاریخ کے سیاسی اور فکری دھارے کو یکسر بدل دیا۔ یہ محض کتابوں کا ترجمہ نہیں تھا، بلکہ اس نے محنت کش طبقے کو ایک ایسا فکری ہتھیار فراہم کیا جس نے بیسویں صدی میں دنیا کی ایک تہائی آبادی کو انقلابی تحریکوں کی لپیٹ میں لے لیا۔
روس میں مارکسی افکار کی منتقلی اور وہاں کی فکری تشکیل میں ترجمے کا کردار سب سے زیادہ ڈرامائی اور انقلابی رہا۔ میخائل باکونن (Mikhail Bakunin) نے ’کمیونسٹ مینوفیسٹو‘ کا پہلا روسی ترجمہ (1869) شائع کیا۔ اگرچہ وہ خود انقلاب پسند اینارکسٹ تھے، لیکن اس ترجمے نے روسی دانشوروں میں مارکس کے خیالات کا بیج بو دیا۔ روسی مارکسزم کے بانی جارجی پلیخانوف نے مینوفیسٹو کا نیا اور زیادہ درست ترجمہ 1882 میں کیا اور 1872 میں ’داس کیپیٹل‘ کا روسی ترجمہ منظرِ عام پر آیا۔ یہ کسی بھی غیر ملکی زبان میں ان جلدوں کا پہلا ترجمہ تھا۔
ان تراجم نے روس کے کسانوں اور زار شاہی کے مظالم سے پسے ہوئے طبقے کو ایک سائنسی نظریہ دیا۔ ولادیمیر لینن نے انہی تراجم کا گہرا مطالعہ کیا، مارکسی فکر کو روسی حالات کے مطابق ڈھالا اور بالآخر 1917 کے انقلابِ روس (بالشویک انقلاب) کے رہنما بن کر نمایاں ہوئے۔اس انقلاب نے دنیا کی پہلی سوشلسٹ ریاست (سوویت یونین) کی بنیاد رکھی۔
مارکس، اینگلز اور لینن سے متاثر ہوکر دوسرا انقلاب چین میں برپا ہوا جو ماؤسٹ انقلاب (1949) کہلاتا ہے۔ چین کی فکری کایا پلٹنے میں بھی ترجمے نے کلیدی کردار ادا کیا۔ چن وانگ وا (Chen Wangdao) نے ’کمیونسٹ مینوفیسٹو‘ کا چینی زبان میں پہلا مکمل ترجمہ 1920 میں کیا۔ اس ترجمے نے چین کے نوجوان دانشوروں کو، جو شاہی نظام کے خاتمے کے بعد ایک نئے راستے کی تلاش میں تھے، بے حد متاثر کیا۔ اسی فکری بیداری کے نتیجے میں 1921 میں ’چینی کمیونسٹ پارٹی‘ قائم ہوئی۔ ماؤ زے تنگ نے انہی تراجم سے نظریاتی غذا حاصل کی اور مارکسزم کو چین کے دیہی اور زرعی سماج پر منطبق کر کے 1949 کا چینی فکری و سیاسی انقلاب ممکن بنایا۔
یہ وہ انقلابات تھے جن سے روس اور چین کا نظامِ حکومت بدل گیا۔ ساتھ ہی دنیا بھر کے بے شمار خطوں میں مارکسزم اور لیننزم کے فکری سطح پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ جرمن، انگریزی اور فرانسیسی تراجم ہونے کے بعد یورپ کی صنعتی ریاستوں میں مارکس کی تحریروں کے پھیلاؤ نے وہاں کے سیاسی ڈھانچوںمیں بنیادی تبدیلیاں پیدا کیں۔ جرمنی اور فرانس میں ان تحریروں کے تراجم اور دستیابی نے پہلی بار مزدوروں کو ٹریڈ یونینیوں اور سیاسی جماعتوں کی شکل میں منظم کیا۔ یورپ میں ان تراجم کی وجہ سے پیدا ہونے والے فکری دباؤ کا نتیجہ تھا کہ سرمایہ دارانہ حکومتیں محنت کشوں کے حالات بہتر کرنے کے لیے کام کے اوقات (8 گھنٹے روزانہ) متعین کرنے، اجرت کی معیاربندی کرنے اور صحت و بیمہ جیسے قوانین بنانے پر مجبور ہوئیں، تاکہ کسی ممکنہ متشدد انقلاب کا راستہ روکا جا سکے۔
بیسویں صدی کے اوائل میں جب مارکس کی تحریروں کے ترجمے انگریزی، ہسپانوی، اور بعد میں ان سورس زبانوں سے دیگر مقامی زبانوں میں ہوئے، تو اس نے نوآبادیاتی نظام کے خلاف آزادی کی تحریکوں کو ایک بالکل نیا زاویہ عطا کیا۔ مارکس اور لینن کے سامراجیت مخالف نظریات کے تراجم نے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے انقلابیوں کو یہ سمجھایا کہ نوآبادیاتی نظام دراصل سرمایہ داری ہی کی ایک بدترین شکل ہے۔ ہندوستان میں ایم این رائے، بھگت سنگھ اور ترقی پسند مصنفین کی تحریک (Progressive Writers’ Movement) پر مارکسی تراجم کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ بھگت سنگھ اپنی آخری راتوں میں بھی لینن کی کتاب (جو کہ مارکسی فکر کا تسلسل تھی) کا ترجمہ اور مطالعہ کر رہے تھے۔ لاطینی امریکہ اور کیوبا میں فیدل کاسترو اور چے گویرا کی گوریلا وار اور انقلاب کے پسِ پشت میں بھی انہی تراجم کی فکری غذا موجود تھی۔
کارل مارکس کی تحریروں کے تراجم محض ایک لسانی مشق نہیں تھے، بلکہ انھوں نے تاریخ کے سب سے بڑے ’نظریاتی دھماکے‘ کا کام کیا۔ ان تراجم نے دنیا کے مظلوموں کو سکھایا کہ ان کا غریب اور نادار رہ جانا کسی تقدیر کا فیصلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک معاشی نظام (سرمایہ داری) کا پیدا کردہ نقص ہے، نیز یہ کہ اس نظام کو بدلا جا سکتا ہے۔ کارل مارکس کا وہ مشہور جملہ کہ ’’فلسفیوں نے دنیا کی محض تشریح کی ہے، جب کہ اصل کام اسے بدلنا ہے‘‘، ترجمے کی قوت کے ذریعے ہی دنیا بھر کے انقلابیوں کا منشور بنا۔
کارل مارکس کی اپنی تحریر میں کمیونسٹ مینی فیسٹو (1848)
کے اوّلیں ڈرافٹ کا واحد ورق جو محفوظ رہ گیا۔
جدید ہندوستان کی تعمیر میں ترجمہ کا کردار: فورٹ ولیم کالج اور سرسید تحریک
فورٹ ولیم کالج (قائم شدہ: 1800) میں ترجمے انگریزوں نے بے شک اپنے انتظامی مفادات یعنی نوآبادیاتی ضرورتوں کے لیے کروانے شروع کیے تھے، لیکن ان ترجموں نے شمالی ہندوستان کی فکری، ادبی اور لسانی تشکیل میں ایک مستقل اور انقلابی کردار ادا کیا۔ یہ اثرات محض لسانی منتقلی تک محدود نہیں رہے، بلکہ انھوں نے آنے والے دور کے سیاسی، سماجی اور فکری مزاج کی بنیادیں استوار کیں۔
فورٹ ولیم کالج سے قبل شمالی ہندوستان میں فکری اظہار کا بڑا ذریعہ یا تو فارسی زبان تھی یا دقیق قسم کی مقفیٰ و مسجع اردو نثر۔ جان گلکرسٹ کی ہدایت پر میر امن (باغ و بہار)، حیدر بخش حیدری (آرائشِ محفل) اور للو لال (پریم ساگر) جیسے مترجمین نے سنسکرت، فارسی اور عربی کے قصوں اور علمی متون کو عوامی، سادہ اور روزمرہ کی بامحاورہ زبان میں منتقل کیا۔ ساتھ ہی فلسفے، اخلاقیات، سیاست اور تاریخ کے قدیم متون کو بھی عوامی زبانوں میں منتقل کیا گیا۔ اس سے سادہ اور سلیس نثر کا رواج شروع ہوا اور لکھنے والوں کی نفسیات میں زبان کے دروبست سے زیادہ خیالات کے درست اور قابلِ فہم اظہار کو اہمیت حاصل ہوئی۔ اس میں اب پیچیدہ افکار ظاہر کیے جا سکتے تھے، سیاسی اور تعلیمی بحثیں کی جا سکتی تھیں۔ اسی نثر نے آگے چل کر سرسید احمد خان کی سائنسی اور فکری نثر کے لیے راستہ ہموار کیا۔
فورٹ ولیم کالج کے ترجمہ بیورو میں ہندو اور مسلم دانشوروں نے یکجا ہو کر کام کیا۔ سنسکرت کے متون کا اردو (ریختہ) میں اور فارسی و عربی کے متون کا برج بھاشا یا کھڑی بولی میں ترجمہ کیا گیا۔ اس عمل نے شمالی ہندوستان کے فکری نظام میں ایک ایسے ‘مشترکہ ثقافتی دھارے’ یا گنگا جمنی تہذیب کو مستحکم کیا جس کی بنیاد اکبر کے مکتب خانے میں پڑی تھی۔ یہاں بھی سنسکرت کے کلاسکی متون، جیسے ’ہتوپدیش‘ کا ترجمہ ’اخلاقِ ہندی‘ (میر بہادر علی حسینی) کے عنوان سے ہوا۔ ’سنگھاسن بتیسی‘ اور ’بیتال پچیسی‘ جیسے متون کا ترجمہ اردو اور ہندی میں کیا گیا۔ اس علمی تبادلے نے شمالی ہندوستان کے متوسط طبقے کو اپنے ہی خطے کے قدیم اخلاقی اور فکری ورثے سے ایک بالکل نئے اور آسان اسلوب میں روشناس کرایا۔
کالج کے ترجمہ پروجکٹ کے تحت لالو لال اور سدل مشر جیسے علما نے سنسکرت آمیز کھڑی بولی میں ترجمے کیے۔ ان تراجم نے جدید ہندی نثر کو ایک الگ صورت عطا کی، جس سے آگے چل کر انیسویں صدی کے آخر میں جدید ہندی وجود میں آئی۔
فورٹ ولیم کالج کے تراجم کی اشاعت کے لیے کلکتہ میں پریس کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوا۔ ان ترجمہ شدہ کتابوں کے سینکڑوں نسخے تیار ہو کر شمالی ہندوستان کے تعلیمی اداروں اور نجی کتب خانوں تک پہنچے۔ چھاپہ خانے نے علم و دانش کو بالادستوں کے ’ایکسکلوژِو کلب‘ سے نکال کر عام لوگوں تک پہنچایا۔ فورٹ ولیم کالج کے تراجم وہ اوّلیں ’خام مال‘ تھے جس نے شمالی ہندوستان میں کتاب پڑھنے اور خریدنے کے کلچر کو فروغ دیا، اور جس سے عوامی بیداری اور ذہن سازی کا عمل تیز تر ہوا۔ فورٹ ولیم کالج کے ترجمے بلا شبہ ایک محدود مقصد کے تحت کرائے گئے تھے لیکن ان کے نتیجے دور رس ثابت ہوئے۔ شمالی ہندوستان میں ان سرگرمیوں سے وہ ماحول تیار ہوا جس میں آگے چل کر دہلی کالج، سرسید تحریک اور جدید ہندوستانی صحافت کے فکری انقلاب کا وجود میں آنا ممکن ہو سکا۔
سرسید احمد خان کی علی گڑھ تحریک (انیسویں صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی) کا بنیادی مقصد نوآبادیاتی ہندوستان میں مسلم اشرافیہ کی فکری، تعلیمی اور سماجی کایا پلٹ کرنا تھا۔ اس پورے مشن کو نظریاتی اور عملی طور پر مستحکم کرنے میں ترجمے کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی مانند تھا، جس کے بغیر جدید علوم کی منتقلی اور نو عمر نسل کی ذہن سازی ناممکن تھی۔
سرسید احمد خان نے علی گڑھ تحریک کو منظم کرنے کے لیے سب سے پہلا بڑا ادارہ جاتی قدم سائنٹیفک سوسائٹی کے قیام کی شکل میں اٹھایا۔ اس سوسائٹی کا واحد اور بنیادی مقصد ہی مغربی علوم کا اردو میں ترجمہ کرنا تھا۔ اس سوسائٹی کے تحت تاریخ، معاشیات، جغرافیہ، زراعت، کیمیا اور دیگر سائنسی علوم کی چالیس سے زائد معرکہ آرا انگریزی کتابوں کے اردو تراجم کیے گئے۔ مثال کے طور پر مِل (Mill) کی پولیٹیکل اکانومی، رولن کی تاریخِ قدیم، اور ایلیاٹ کی تاریخِ ہند کے تراجم نے اردو دان طبقے کو پہلی بار جدید طرزِ تحقیق اور سائنسی استدلال سے متعارف کروایا۔
ان کا دوسرا بڑا قدم ایم اے او کالج قائم کرنا تھا جس کا مقصد جدید تعلیم فراہم کرنا تھا۔ انگریزی زبان سیکھنا اور سکھانا خود ترجمے کے متواتر عمل پر مبنی تھا۔ کالج کے ابتدائی دور میں انگریزی کتب کے خلاصے، اصطلاحات اور سائنسی تصورات کو ترجمے کے ذریعے اساتذہ اور طلبہ کے مابین مشترکہ فکری زبان بنایا گیا۔ اس نے مسلم اشرافیہ کے بچوں کو اس احساسِ کمتری سے نکالا کہ جدید علوم صرف انگریزوں کی جاگیر ہیں۔
علی گڑھ تحریک سے پہلے کی اردو نثر مقفیٰ و مسجع اسلوب میں لکھی جاتی تھی، جس میں سنجیدہ سائنسی یا فکری گفتگو کرنا ممکن نہیں تھا۔ جب انگریزی کی معلوماتی، فلسفیانہ اور سائنسی تحریروں کے ترجمے شروع ہوئے، تو اردو زبان میں قدرتی طور پر سادگی اور سلاست پیدا ہوئی۔ سرسید، ڈپٹی نذیر احمد، مولانا الطاف حسین حالی، اور علامہ شبلی نعمانی کی نثری اصطلاحات اور اسلوب دراصل انگریزی فکر کو اردو قالب میں ڈھالنے کی کوششوں کا نتیجہ تھے۔
غرضیکہ علی گڑھ تحریک کی رگوں میں دوڑنے والا خون دراصل ترجمے کا عمل ہی تھا۔ اگر سائنٹیفک سوسائٹی اور علی گڑھ کے مصنفین انگریزی علوم و افکار کو ترجمے کے ذریعے مقامی زبان اور مزاج کا حصہ نہ بناتے، تو جدید تعلیم کی قبولیت کا وہ ماحول کبھی تیار نہ ہوتا جس نے بیسویں صدی کی مسلم بیداری اور برِصغیر کی سیاست کا رخ بدل دیا۔
چھاپہ خانوں کا قیام اور ترجموں کی بڑھتی ضرورت
ہندوستان میں چھاپہ خانے (پرنٹنگ پریس) کی آمد اور تجارتی پیمانے پر کتابوں کی اشاعت نے نہ صرف عوامی سطح پر مطالعے کا ذوق پیدا کیا، بلکہ اردو میں ترجمہ نگاری کو ایک باقاعدہ صنعت اور ناگزیر علمی ضرورت بنا کر مستحکم کیا۔ چھاپہ خانے کی ایجاد سے قبل علم پر ایک ’ایکسکلوژو کلب‘ کی اجارہ داری تھی۔ کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں، کاتبوں سے ان کی نقلیں تیار کروانا بے حد مہنگا اور دقت طلب کام تھا، اس لیے علم صرف شاہی کتب خانوں، امرا، بااختیار شہریوں اور علما کی جاگیر تھا۔ چھاپہ خانے نے اس منظرنامے کو کئی اعتبار سے بدل ڈالا۔
مشین نے کتابوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار یعنی ماس پروڈکشن کو ممکن بنایا۔ جو کتاب مہینوں میں تیار ہوتی تھی، اب اس کی ہزاروں کاپیاں چند دنوں میں سستے داموں دستیاب ہونے لگیں۔ اس صورتِ حال نے متوسط اور غریب طبقے کے لیے بھی کتاب خریدنا اور پڑھنا ممکن بنا دیا۔
پریس کی بدولت عوامی ادب کو فروغ حاصل ہوا۔ قصے، کہانیاں، مذہبی رسائل اور اخبارات گلی محلوں تک پہنچے۔ نجی کتب خانوں کا رواج ہوا اور پڑھنا محض ایک علمی ضرورت کے بجائے ایک عوامی ذوق اور تفریح کا ذریعہ بن گیا۔
علاوہ ازیں چھاپہ خانے نے اخباروں اور کتابوں کے ایک ایسے بازار اور تجارتی نیٹ ورک کو جنم دیا جہاں بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے پبلشرز کو مسلسل نئے مواد کی ضرورت پڑتی تھی۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ انیسویں صدی کے ربع اوّل میں ہندوستان کی اہم زبانوں میں شروع میں کئی طرح کے اخبارات (ہفت روزہ ، پندرہ روزہ اور ماہنامے) کی اور پھر روزناموں کی اشاعت شروع ہوگئی۔ پہلا اخبار ’سماچار درپن‘ بنگالی میں 1818میں شروع ہوا اور اردو میں ’جامِ جہاں نما‘ 1822 میں۔ دونوں ہی کولکاتا سے شائع ہوئے۔ مولوی محمد باقر کا ’دہلی اردو اخبارُ اردو کا پہلا روزنامہتھا، جس کا اجرا 1837 میں عمل میں آیا۔ اخباروں اور کتابوں کی بڑھتی مقبوبلیت اور ضرورت نے اردو میں ترجمہ نگاری کو پبلشنگ انڈسٹری کی ریڑھ بنا دیا اور ادبی صحافت اور ترجمہ نگاری کا چولی دامن کا ساتھ ہو گیا۔
’جامِ جہاں نما‘ جون 1826 کے ایک شمارے کا پہلا صفحہ
پبلشرز نے عوامی دلچسپی کو برقرار رکھنے کے لیے سنسکرت، فارسی، عربی اور انگریزی کے مشہور قصوں اور علمی کتابوں کے ترجمے کروانے شروع کیے۔ لکھنؤ، دہلی، کلکتہ، کانپور، بنارس، الہ آباد اور میرٹھ جیسے شہروں کے چھاپہ خانوں کی ابتدائی فہارسِ کتب کا اگر جائزہ لیا جائے (مثلاً منشی نول کشور اور صدیق بک ڈپو کی فہرستیں، تو ان میں بے شمار کتابیں تراجم پرمبنی ملیں گی۔ داستانِ امیر حمزہ، الف لیلہ، طلسمِ ہوشربا کی داستانیں، دیگر ماخوذ و طبع زاد قصے، نیز مہابھارت و رامائن کے اردو تراجم انہی چھاپہ خانوں کے ذریعے عوام تک پہنچے۔
چھاپہ خانے کی دستیابی نے ہی تعلیمی اداروں میں بھی ترجمے کے کام کو مستحکم کیا۔ سر سید کی سائنٹفک سوسائٹی، دہلی کالج کی ورنیکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی، جامعہ عثمانیہ کا دارالترجمہ جیسے اداروں نے چھاپہ خانے کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے مغربی علوم، ریاضی، تاریخ اور فلسفے کی انگریزی کتابوں کو وسیع پیمانے پر اردو میں ترجمہ کرایا اور شائع کیا۔ اگر پریس موجود نہ ہوتا، تو یہ تراجم صرف بعض کتب خانوں کے چند کمروں تک محدود رہ جاتے۔ پریس نے ان تراجم کو پورے شمالی ہندوستان کی درسگاہوں اور دانشوروں تک پہنچا کر اردو کو علمی زبان کے طور پر مستحکم کیا۔
جب چھاپہ خانے کی وجہ سے قارئین میں حقیقت پسندانہ اور تفریحی ادب کا ذوق بڑھا، تو مغربی ادب کے تراجم (بالخصوص انگریزی ناولوں) تک ان کی رسائی ہوئی ادیبوں کو ان اصناف میں لکھنے کی تحریک ملی۔ ڈپٹی نذیر احمد کے ناول (جیسے مراۃ العروس، توبۃ النصوح) اور بعد میں رتن ناتھ سرشار کا ’فسانۂ آزاد‘ (جو اخبار اودھ پنچ میں قسط وار چھپتا تھا) مغربی طرزِ نگارش اور تراجم کے تجربات سے متاثر تھے۔ یہ سوال آج حیرت میں ڈالتا ہے کہ اس دور میں جب خواندگی عام نہیں تھی، نذیر احمد کے ناول ’مراۃالعروس‘(1869) کی ایک لاکھ کاپیاں کیوں کر فروخت ہوئیں۔ اس کا جواب غالباً یہی ہے کہ چھاپہ خانے نے پڑھنے کا ایک والہانہ شوق پیدا کر دیا تھا۔ اس مانگ کو پورا کرنے کے لیے انگریزی کے تفریحی اور مہماتی ناولوں، جاسوسی ادب اور تاریخی قصوں کے تراجم وسیع پیمانے پر ہوئے اردو کے نثری سرمایے کا مستقل حصہ بن گئے۔
چھاپہ خانہ وہ ٹیکنالوجی تھی جس نے علم کو املاکِ خاص نہ رہنے دیا اور اسے عوام کی ملکیت میں دے دیا۔ عام قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی پیاس بجھانے کے لیے ترجمہ نگاری سب سے بڑا اور آسان وسیلہ بنی۔ چنانچہ یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ چھاپہ خانے کی مشین کو چلانے کے لیے جس فکری ایندھن کی ضرورت تھی، وہ اردو ترجمہ نگاری نے ہی فراہم کیا، اور اسی عمل نے اردو نثر کو حیاتِ نو بخشی۔
ٹیکنالوجی کا ارتقا اور ترجموں کا نیا دور
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی آتی ہے، پرانے طریقوں اور روزگار کو یکسر بدل دیتی ہے، یہاں تک کہ پرانا دور تاریخ کے صفحات کی زینت بن جاتا ہے۔ اشاعت گھروں نے جب علم کو متوسط طبقات تک پہنچایا تو اس نے کاتبوں اور خطاطوں کے روایتی روزگار کو ختم نہیں کیا تھا کیونکہ کتابت کے عمل سے گزر کر ہی کتابیں شائع ہوتی تھیں۔ لیکن کمپیوٹر کی آمد کے بعد کتابت اور خطاطی بحیثیت روزگار زوال پذیر ہو گئے، گو کہ کمپیوٹر نے کتابوں تک رسائی کو آسان بھی بنا دیا۔ جس طرح ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ٹیلی فون کی لینڈ لائن کا دور گیا اور موبائل فون کی آمد ہوئی، پھر انٹر نیٹ کے ذریعے کمیونی کیشن کے نئے اور سستے وسیلے ملنے لگے۔ یہ سب تبدیلیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ٹیکنالوجی پرانے ذرائع کو تیزی سے نگل لیتی ہے۔
آج ٹیکنالوجی کے تیز رفتار ارتقا کے سبب مصنوعی ذہانت عوامی زندگی میں داخل ہو چکی ہے اور اسے کمپیوٹر کی ایجاد جیسی یا اس سے بھی بڑی زقند کہا جا رہا ہے کیونکہ اس نے علم اور اطلاعات کے پورے نظریے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ترجمہ نگاری بھی ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ ماضی میں ترجمہ ایک محنت طلب ہنر سمجھا جاتا تھا جس میں مترجم کے لیے ضروری تھا کہ زبان و محاورہ پر مہارت اور پیرایۂ اظہار پر گرفت رکھتا ہو، جس کا ذخیرۂ الفاظ وسیع ہو، نیز الفاظ، مترادفات، اصطلاحات اور ان کے درست استعمال کے تئیں حساس ہو۔ یہ میدان ایسا ہے جس میں مترجم آہستہ آہستہ، تجربہ بڑھنے کے ساتھ مہارت حاصل کرتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ آج مصنوعی ذہانت نے مترجم کو اس مشقت سے بچا لیا ہے اور وہ کسی بھی نوآموز اور بعض اوقات تجربہ کار مترجم کے مقابلے میں زیادہ عمدگی اور درستی سے ترجمہ کر رہی ہے، کم از کم سیدھی سادی نثری تحریروں کا۔ اغلب ہے کہ بازار میں اب صرف ایسے ہنرمندوں کی ضرورت رہ جائے گی جو زبان، محاورے اور مخصوص سیاق و سباق کی فہم رکھتے ہوں تاکہ وہ اے آئی کے کیے ہوئے ترجمے کو ایڈٹ کرکے اس کی نوک پلک درست کر سکیں۔
یہ صورتِ حال جہاں مترجموں کے رول کو بے حد محدود کر رہی ہے، وہیں دوسری جانب اچھے مترجمین کومواقع بھی فراہم کر رہی ہے کہ وہ اپنی کارکردگی میں تیزی لا سکتے ہیں اور کم وقت میں زیادہ کام کر سکتے ہیں۔ اے آئی ڈیجیٹل ڈیٹا کا تجزیہ انسانی قدرت سے زیادہ تیزی سے کرتی ہے اور خود کار طریقے سے معلومات کا تجزیہ کرتی ہے لیکن اس کے ماہرانہ استعمال کا رخ انسان ہی طے کرتا ہے۔ ادیب اور مترجم بھی اس کو بہتر ریسرچ ٹول کی طرح استعمال کر سکتے ہیں۔ یعنی اگر مثال دیں تو مصنوعی ذہانت دراصل ایک آئینے کی مانند ہے۔ ہم اس کے سامنے جس حلیے میں جاتے ہیں، ویسا ہی اپناعکس آئینے میں دیکھتے ہیں۔ البتہ یہ ہمارے ظاہر کا نہیں، ذہن کا آئینہ ہے۔ ہم اپنے علم سے جس طرح بھی آراستہ ہوکر اس سے معمولی یا گہرے سوالات کرتے ہیں، اسی سطح کے جواب ملتے ہیں۔اگر ہم ایک وسیع مطالعہ، منطقی ذہن انسان کے طور پر اے آئی کے سامنے جائیں گے، تو وہ آئینے کی طرح ہمارے فکری عکس کو مزید مربوط بناکر پیش کرے گی۔ اگر ہمارے سوالات سطحی ہوں گے تواے آئی کے جواب بھی سطحی نوعیت کے ہوں گے۔
آج زبانوں کی سرحدیں ٹوٹ چکی ہیں اور ہم ریئل ٹائم میں مشینی ترجموں کی مدد سے دنیا کے جدید ترین علوم اور اطلاعات تک رسائی پاتے ہیں۔ اطلاعات یا انفارمیشن کا حصول، جسے ہم اب تک اتنی اہمیت دیتے آئے ہیں کہ ہماری تعلیمی پالیسی میںابتدائی درجات سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے نصابات محض معلومات کو رٹنے اور اُگلنے پر مبنی ہو چکے ہیں،اب کم اہم ہوتا جائے گاکیونکہ معلومات اب ایک کلک پر فراہم ہو جاتی ہیں۔چنانچہ تجزیاتی ذہن رکھنے والے باعلم لوگ ہی زیادہ اہمیت پائیں گے۔ ساتھ ہی ٹیکنالوجیز پر زیادہ سے زیادہ انحصار کرتی دنیا میں ایسی اخلاقیات اور قوانین کو بھی وضع کیا جائے گا جس سے ان کے ضرر رساں استعمال کو کم کیا جا سکے اور باہمی اشتراک ، رواداری اور انسان دوستی کی بنیادی قدروں کا زیاں نہ ہو۔ ایسے اعتدال کا راستہ ہی زندگی کا سنہری اصول بن سکتا ہے جس میں جدید انسان ٹیکنالوجی کا غلام بھی نہ بنے اور بشر دوستی کے اصولوں پر قائم رہ کر انسان ہونے کا ثبوت بھی دیتا رہے۔
مآخذ و مصادر
1. سبطِ حسن، ماضی کے مزار، مکتبہ دانیال، کراچی، 1986
2 .اینڈریو جارج (مترجم)،The Epic of Gilgamesh، پینگوئن بکس، 1999
3. سعید اختر مرزا ،The Monk, the Moor & Moses Ben Jalloun، فورتھ ایسٹیٹ، 2012
4. ضیاء الدین خاں ابن ایشان بابا خان، سوویتوں کی دھرتی میں اسلام اور مسلمان (مترجم شمیم فیضی)، پیپلز پبلیشنگ ہاؤس، نئی دہلی، سنہ ندارد (انگریزی ترجمہ 1980)
5. چینی فکروتہذیب کے بنیادی تصورات، رائل کولنز پبلیشرز پرائیوٹ لمیٹڈ، نئی دہلی 2019
6. سید محمد لطیف، آگرہ، اکبر اور اس کا دربار، تخلیقات، لاہور، 1995
7. گوگل ٹولز اور ویکیپیڈیا بھی اس مضمون کے بعض حقائق اور تفصیلات فراہم کرنے میں معاون ہوئے۔
Prof. Arjumand Ara
Dept of Urdu
Delhi University
Delhi- 110007
arjumandara@hotmail.com