کلام غالب میں لفظ ’’ناخن‘‘ کی انفرادیت،مضمون نگار:غزالہ فاطمہ

August 20, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، اگست 2026:

کلام غالب میں لفظ ’ناخن‘ کا استعمال مختلف مقامات پر ملتا ہے اسے عام طور سے تشبیہ ، استعارہ یا علامت کے طور پر لایا گیا ہے۔ مرزا غالب کے یہاں ’ناخن‘ ایک استعارہ ہے جو مختلف جذبات اور کیفیات کو ظاہر کرتا ہے۔ بے قراری، زخموں کو کریدنے ، لاچاری مایوسی اور محبوب کے ظلم و ستم کی ایک علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ مثلاً ؎
دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا
زخم کے بھر نے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا
مذکورہ شعر میں ناخن کو اس کے حقیقی معنی میں برتا گیا ہے۔ یعنی شاعر استفہام انکاری کے طور پر کہتا ہے کہ میں غم میں مبتلا ہو کر اپنے ناخن سے اپنے وجود کو زخمی کیے جارہا ہوں اور میرے دوست میری غمخواری کرتے ہوئے میرے ناخن کاٹ رہے ہیں یہ کتنی عجیب بات ہے۔ کیا میرے دل کے زخم بھرنے سے پہلے ناخن پھر نہ بڑھ جائیں گے کیا اور جب بڑھ جائیں گے تو میں پھر سے اپنے وجود کو زخمی کروں گا، تو اس غمخواری سے کیا فائدہ۔
اس شعر میں ’’ناخن نہایت بلیغ اور گہری معنویت کا حامل ہے۔ ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا‘‘ میں وقت کے گزرنے کا ذکر بھی ہے۔ جب تک دوست کچھ کریں گے ، تب تک ناخن بڑھ جائیں گے۔ یہ ایک پہلوئے طنز بھی رکھتا ہے کہ ان کے وعدے صرف زبانی ہیں، عمل میں تبدیل ہونے تک وقت گزر چکا ہو گا۔ یہ شعر محض محبوب یا دوستوں کے وعدوں پر طنز ہی نہیں، بلکہ انسانی فطرت پر ایک گہر ا تبصرہ بھی ہے۔ لوگ غم خواری کے دعوے تو بہت کرتے ہیں، مگر جب تک وہ عمل میں آتے ہیں ، زخم یا تو بھر چکے ہوتے ہیں یا درد سہنے والا خود اس کا عادی ہو چکا ہوتا ہے۔
غالب نے اپنے کلام میں ناخن کا استعمال اضطراب، بے بسی، غم اور دل کی کیفیت کو ظاہر کرنے کے لیے کیا ہے ؎
کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوز
ناخن پہ قرض، اس گرہ نیم باز کا
یہ معرفت الٰہی کا شعر ہے جس میں شاعر نے سالک کی اس کیفیت کی طرف اشارہ کیا ہے جب کہ وہ معرفت الٰہی یعنی حقیقت مطلق سے آشنائی کے قریب تر پہنچ گیا ہو۔ سالک کی زبان میں شاعر کہتا ہے کہ میر ادل ایک گانٹھ کی صورت بندھا ہوا تھا جس کو میں نے غم فراق یار کے ناخن سے کرید کر نیم باز یعنی ادھ کھلا کر دیا ہے۔ اب بھی پورا نہیں کھلا ہے چنانچہ ناخن کے ذمہ گرہ کو پوری طرح کھولنے کا قرض باقی ہے۔ لہٰذا دل ناخن سے تقاضہ کرتا ہے کہ اس گرہ کو مکمل طور پر کھول دے اور اپنا قرض ادا کرے تا کہ مجھے کھلے دل سے معرفت الٰہی کا حصول ہو جائے۔
کچھ شارحین غالب نے دل کی شکل کی گرہ سے مشابہت کو سامنے رکھ کر اس شعر سے معنی اخذ کیے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمارا دل گانٹھ کی صورت بندھا ہوا تھا ہم نے غم کے ناخنوں سے کرید کرید کر اسے کافی حد تک کھول دیا ہے۔ بس تھوڑی سی کسر باقی ہے گرہ اب نیم باز ہوگئی ہے ۔ ناخن کے ذمے تھا دل کو کھولنا گو یا ناخن دل کا مقروض تھا۔ سواب دل تقاضا کرتا ہے کہ ناخن گرہ کو پوری طرح کھولے اور یوں اپنا باقی کا قرض بھی ادا کرے۔
دیگر شارحین نے گرہ نیم باز کو یار کے ادھ کھلے بند قبا سے ملا دیا ہے۔ ناخن پر قرض تھا یار کے بند قبا کھولنا اور حسن یار کو آنکھوں پر پوری طرح آشکار کرنا۔ شاعر کا دل ناخن سے متقاضی ہے کہ بند قبا جو اب نیم کھلا ہے اسے پورا کھول دے۔ غالب یہاں ’ناخن‘ کو قرض چکانے کے استعارے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ عام طور پر ناخن کو کاٹنا یا چبانا اضطراب، بے چینی، یا فکر کی علامت ہوتا ہے۔ مگر یہاں ’ناخن پر قرض‘ کہہ کر شاعر نے قرض کی شدت اور تکلیف کو غیر روایتی انداز میں بیان کیا ہے ؎
درماندگی میں غالب کچھ بن پڑے تو جانوں
جب رشتہ بے گرہ تھا، ناخن گرہ کشا تھا
کہتے ہیں جب کسی کے حالات خراب ہوں تو اس کی عقل کام کرنا بند کر دیتی ہے۔
پہلے مصرعے میں غالب کہتے ہیں کہ اگر میں مشکلات اور بے بسی کے عالم میں کچھ کر سکوں ، تب ہی میری اصل صلاحیت کا اندازہ ہو گا۔ ’’درماندگی کا مطلب ہے لاچاری، یا ایسی صورت حال جس میں انسان کے پاس کوئی راستہ نہ بچے۔ اس میں یہ حقیقت بھی اجاگر ہورہی ہے کہ کامیابی تب ہی معنی رکھتی ہے جب حالات ساز گار نہ ہوں۔
یہ شعر انسانی عزم اور قوت ارادی کی آزمائش پر زور دیتا ہے۔ اصل کامیابی وہی ہوتی ہے جو مشکلات کے باوجود حاصل کی جائے۔
دوسرا مصرع : جب رشتہ بے گرہ تھا نا خن گرہ کشا تھا رشتہ بے گرہ کا مطلب ہے کہ جب کوئی معاملہ بالکل سیدھا اور واضح تھا، یعنی اس میں کوئی پیچیدگی یاالجھن نہیں تھی۔ناخن گرہ کشا کا مطلب ہے وہ ناخن جو گرہ کھولنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی وہ چیز یا صلاحیت جو مشکل کو حل کرنے میں مدد دے۔
یعنی جب کوئی پیچیدگی یا گرہ ہی نہیں تھی، جب تو میرے ناخن میں گرہ کھولنے کی صلاحیت تھی، لیکن جب واقعی مشکل آن پڑی تو وہ صلاحیت کارآمد نہ رہی۔
اس شعر میں استعاراتی اور طنزیہ بیان بھی نمایاں ہے کہ بعض لوگ صرف آسان مواقع پر اپنی قابلیت و صلاحیت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن جب اصل مشکل پیش آتی ہے، تو ان کی صلاحیت بے اثر ہو جاتی ہے۔
غالب کا انداز بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ ’ناخن‘ ایک عام لفظ ہوتے ہوئے بھی ایک گہری معنویت اور وسیع استعاراتی رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ کلام غالب ہی نہیں بلکہ اردو شاعری میں لفظ ’ناخن ‘ ایک علامتی استعاراتی اور صنائع بدائع کا مظہر ہے ؎
واں ہجومِ نغمہ ہائے سازِ عشرت تھا اسد
ناخن غم یاں سر تارِ نفس مضراب تھا
مذکورہ شعر میں غالب نے ناخن کو مضراب کی تشبیہ بلیغ بنا کر پیش کیا ہے۔ یعنی وہ مضراب جس سے ساز کے تار کو چھیڑ کر نغمے کے سر پیدا کیے جاتے ہیں وہ ہمارے غم کا ناخن ہے جو سانسوں کے تار کو چھیڑ کر غم ناک نغمے چھیڑ رہا ہے۔ جب کہ میرے محبوب کو اس کی کوئی پرواہ نہیں اس کی محفلوں میں تو عیش و عشرت کے نغمے چھیڑے جارہے ہیں ؎
ناگہاں اس رنگ سے خوں نابہ ٹپکانے لگا
دل کہ ذوقِ کاوش ِناخن سے لذت یاب تھا
مذکورہ شعر میں کاوش ناخن سے مراد غم کی کشمکش ہے اور ناخن کو غم کا استعارہ بنا کر برتا گیا ہے اور خوں نابہ کا معنی خون خالص اور اس سے مراد غزل کے دوسرے اشعار کا وجود میں آنا۔ خون ناب یا خون خالص یہاں کنایہ ہے اشعار درد ناک سے۔ اب شعر کا مطلب ہوا کہ دل میں جب غم نے ہلچل مچائی تو اشعار کی آمد شروع ہوئی جیسے، ناگہاں ٹپکنے لگے یہاں تک ہوتے ہوتے غزل مکمل ہوگئی ؎
خوں ہے دل خاک میں احوال بتاں پر ، یعنی
ان کے ناخن ہوئے محتاج حنا میرے بعد
مذکورہ شعر میں ناخن کا محتاج حنا ہونا سے مراد سوگ میں مبتلا ہونا ہے۔ اب شاعر کہتا ہے کہ میر ادل خاک میں یعنی قبر میں خون ہو رہا ہے یعنی یہ دیکھ کر پریشان ہو رہا ہے کہ میرے مر جانے کے بعد حسیناؤں نے مہندی لگانا چھوڑ دیا ہے اور میرے مرنے کا غم منارہی ہیں اور میرے سوگ میں مبتلا ہیں۔
اردو شاعری میں ناخن کا استعمال پامسٹری کی تعبیرات سے کافی حد تک مطابقت رکھتا ہے۔ اس میں ناخن کو غم ، صبر ، محبت ، اضطراب اور محنت کے علامتی اظہار کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو پامسٹری میں ناخنوں سے جڑے مختلف مزاج اور جسمانی پہلوؤں سے ہم آہنگ ہے۔ پامسٹری میں لمبے اور چمکدار ناخن محبت اور حساسیت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ غالب نے بھی ناخن کے حوالے سے شعر کہے ہیں۔
اردو شاعری میں ناخن کا استعمال پامسٹری کی تعبیرات سے کافی حد تک مطابقت رکھتا ہے۔ اس میں ناخن کو غم، صبر، محبت، اضطراب اور محنت کے علامتی اظہار کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو پامسٹری میں ناخنوں سے جڑے مختلف مزاج اور جسمانی پہلوؤں سے ہم آہنگ ہے۔ پامسٹری میں لمبے اور چمکدار ناخن محبت اور حساسیت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ غالب نے بھی ناخن کے حوالے سے شعر کہے ہیں۔
کلام غالب کی طرح یہ ایک مستقل شعبہ ہے، جو زبان کے آغاز و ارتقا کا سائنسی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ شاید مضمون نگار کا مقصد ’بول چال‘ ہے۔ ناخن محاوروں، استعاروں اور علامتوں میں استعمال ہوتا ہے جو عمومی طور پر سخت محنت ، چالا کی ، تکلیف یا پریشانی کی علامت بنتے ہیں۔ جیسے اردو میں ’ناخن چبانا‘، ’ناخن سے گوشت جدا ہونا‘ وغیرہ۔ مثال کے طور پر ؎
دل سے مٹناتری انگشت حنائی کا خیال
ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا
اس شعر میں ناخن کا گوشت سے جدا ہو جانے کو مشبہ بہ بنایا گیا ہے اور مشبہ کے طور پر مصرع اولی کو استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی محبوب کی حنائی انگلیوں کا خیال دل سے مٹ جانا ویسا ہی ہے جیسے ناخن گوشت سے الگ ہو جائے اور ایسی صورت میں ناخن یا تو مر جاتا ہے یادر د بہت ہوتا ہے۔ اسی طرح جب دل سے تیری حنائی انگلیوں کا خیال مٹنے لگے گا تو دل ، دل ہی نہیں رہے گا یا بے پناہ درد ہو گا۔
اس میں ’’ناخن کا لسانیاتی پہلو کئی جہات رکھتا ہے۔ غالب نے ’ناخن‘ کو ایک عام جسمانی عضو سے بڑھا کر ایک استعاراتی اور جذباتی علامت میں تبدیل کر دیا ہے، جو ان کے شعری اسلوب کی گہرائی کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ لفظ لسانی، صوتی، اور معنوی سطح پر شعر میں ایک گہرا اثر چھوڑتا ہے ، اور یہی کلام غالب کی خصوصیت ہے کہ وہ عام الفاظ کو غیر معمولی معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔
مذکورہ اشعار کے علاوہ بھی کلام غالب میں بہت سے اشعار مل جاتے ہیں جن میں لفظ ناخن کو مختلف معنوں میں برتا گیا ہے ؎
بسکہ حیرت سے زپا افتادۂ زنہار ہے
ناخنِ انگشت تبخالِ لبِ بیمار ہے
یعنی حیرت اتنی شدید ہے کہ وہ گو یا زمین پر گرنے کے قریب ہے، یعنی حیرت نے اسے بالکل بے بس اور لاچار کر دیا ہے۔ ز پا افتادۂ زنہار کا مطلب ہے کہ حیرت کی شدت سے قدموں میں لرزش آگئی ہے اور سنبھلنا مشکل ہو گیا ہے۔ دوسرے مصرعے میں شاعر نے تشبیہ دی ہے کہ انگلی کا ناخن ایسے نازک اور کمزور ہو چکا ہے جیسے کسی بیمار کے لب پر پڑا ہوا تبخال ( چھالا) تبخال عام طور پر بیماری کی حالت میں ہونٹوں پر آجاتا ہے اور بہت حساس اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔ یہاں ناخن انگشت سے تشبیہ دے کر شاعر نے بے بسی، ناتوانی اور کمزوری کو انتہائی بلیغ انداز میں بیان کیا ہے۔
غالب نے غزل کے علاوہ اپنے قصیدے منقبت حیدری میں لفظ ’ناخن‘ کا استعمال بطور تشبیہ کیا ہے ؎
کاٹ کر پھینکے ناخن جو باند از ِبلال
قوت نامیہ اس کو بھی نہ چھوڑے بیکار
دوسرے قصیدے ’مدح شاہ ‘ صبح دم دروازہ خاور کھلا ، میں کہتے ہیں ؎
وہ کہ جس کے ناخن تاویل سے
عقدہ احکام پیغمبر کھلا

Ghazala Fatma
Asst. Professor, Dept of Education in Language
NCERT
New Delhi- 110016
Mob.: 7530972798
Email: ghazalaamuu@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

قیصر الجعفری کی غزلیہ شاعری،مضمون نگار: محمد اویس سنبھلی

اردودنیا،جنوری 2026 اردو غزل کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جو اپنی فکری وسعت، فنی مہارت اور اسلوب کی ندرت کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ان ہی

ساحرلدھیانوی کی غزل گوئی،مضمو ن نگار:قسیم اختر

اردو دنیا،اپریل 2026: ترقی پسند شعرا میں ساحر کی شخصیت بھی مجاز کی شخصیت کی طرح ہمیشہ سے دلچسپی کا مرکز رہی ہے۔ جس طرح مجاز کی شخصیت کی تعمیر

نند لعل گویا کی فارسی شاعری اور متقدمین شعرا ،مضمون نگار:امیر عباس خان

اردو دنیا، مئی 2026: سترہویں اور اٹھارہویں صدی کے ممتاز عالم، مفکر، ادیب، انشا پرداز اور صوفی شاعرمنشی نند لعل متخلص بہ گویا 1633 میں پیدا ہوئے۔ عہد شاہجہانی میں