اردو دنیا،اگست 2026:
رشید حسن خاں اردو ادب کے مایہ ناز محقق اور بے پایاں مدون ہیں۔ گیان چند جین نے انھیں خدائے تدوین کہا ہے۔ رشید حسن خاں کی ولادت شاہ جہاں پور (یو پی) میں 1925کو ہوئی (تعلیمی اور ملازمتی رکارڈ میں تاریخِ ولادت 30جنوری 1930درج ہے جسے خود انھوں نے غلط قرار دیا ہے۔ )
’’ تعلیمی کاغذات میں تاریخِ ولادت 30جنوری 1930لکھی ہوئی ہے یہ تاریخ کس نے لکھائی تھی، مجھے نہیں معلوم۔ صحیح سالِ ولادت 1925ہے، دسمبر کا مہینہ، تاریخ کا علم نہیں۔‘‘ 1
تحقیق و تدوین کے میدان میں رشید حسن خاں اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں۔ باغ و بہار،فسانہ عجائب، سحرالبیان، گلزارِ نسیم،مثنویاتِ شوق،مصطلحات ٹھگی وغیرہ کی تدوین و ترتیب ان کے ایسے مایہ ناز کارنامے ہیں جو انھیں تحقیق و تدوین کی دنیا میں ہمیشہ زندہ و پائندہ رکھیں گے اور ہر عہد کے محقق و مدون کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوں گے۔ ڈاکٹر ظفر احمد صدیقی اپنے مضمون ’’رشید حسن خان : ایک معتبر نام‘‘ میں رقم طراز ہیں۔ ’’قحط الرجال کے اس دور میں جناب رشید حسن خاں کی ذاتِ گرامی مغتنماتِ روزگار میں ہے۔ وہ مولانا امتیاز علی عرشی اور قاضی عبدالودود کی صالح روایت کے امین ہیں۔ دراصل تحقیق ان کے یہاں پیشہ ورانہ مجبوری نہیں، بلکہ روحانی تسکین اور مسرت و بصیرت کا سامان ہے۔ اس لیے پیشہ ور اور بالجبر محققوں سے ان کا اندازِ تحقیق بھی مختلف ہے۔‘‘2
اسی طرح ابنِ کنول رشید حسن خاں کے جوہرِ تحقیق کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
’’موجودہ عہد میں بعض محققین ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں ان میں رشید حسن خاں کا نام سرِ فہرست ہے۔ انہوں نے انتہائی محنت اور لگن سے نہ صرف قدیم متون کو ترتیب دیا ہے بلکہ اردو املا، قواعد زبان اور لغت کے بارے میں بھی بہت کچھ تحریر کیا ہے۔‘‘3
مثنویاتِ شوق کو رشید حسن خاں نے کو تحقیق و تدوین کے اصول و ضوابط کی روشنی میں مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب بابائے اردو مولوی عبدالحق سیریز 4اور سلسلہ مطبوعاتِ انجمن ترقی اردو ہند (اردو گھر) 1474کے زیرِ اہتمام انجمن ترقی اردو (ہند)نئی دہلی سے سن 1998میں شائع کی گئی۔ اس وقت اس کتاب کی قیمت130روپے تھی اور اس کی طباعت کا اہتمام اخترالزماں کے زیرِ نگرانی ثمر آفسٹ پرنٹرز نئی دہلی سے کیا گیا۔ رشید حسن خاں نے مثنویاتِ شوق کی فہرست کو 7خاص اور مختلف ذیلی عنوانات کے تحت تیار کیا ہے۔ جس سے محض فہرست کو دیکھ کر ہی پوری کتاب کا خاکہ بہ آسانی سمجھ میں آ جاتا ہے۔ سب سے پہلے ڈاکٹر خلیق انجم کا لکھا پیش لفظ شاملِ کتاب ہے پھر پہلا عنوان ’’ مقدمہ مرتب ‘‘ کے عنوان سے درج ہے جس میں 13ذیلی عنوانات قائم کیے گئے ہیں جس کے گیارہویں عنوان میں مزید دو ذیلی عنوان شامل ہیں۔ کتاب کا دوسرا عنوان ’’ متنِ مثنویات‘‘ ہے جس میں مرزا شوق کی تینوں مثنویوں کا متن پیش کیا گیا ہے۔ اس کے بعد چار عنوان چار ضمیموں کی صورت میں شامل کتاب کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد کتاب کا ساتواں اور آخری عنوان ’’فرہنگ‘‘ کے نام سے شامل ہے۔
414صفحات پر مشتمل مثنویاتِ شوق میں رشید حسن خاں نے پہلے عنوان ’’ مقدمہ مرتب‘‘ کے تحت جو 13ذیلی عنوان قائم کیے ہیں ان میں پہلا ذیلی عنوان’’ تمہید ‘‘ کے نام سے شامل کیا ہے جسے ہم مثنویاتِ شوق اور معاشرتِ لکھنؤ کی تمہیدی گفتگو کا باب کہہ سکتے ہیں۔ اس میں انھوں نے لکھنؤ کے قدیم معاشرے، نوابوں کی عیش پرستی، مسلمانوں کی زبوں حالی اور اس دور کے لکھنؤ کی بد عنوانیوں کا ذکر مختلف دلائل کی روشنی میں کیا ہے۔ اس تمہیدی گفتگو میں لکھنؤ کی تاریخ کا مختصر خاکہ بھی پیش کیا گیا ہے جس کے آیئنے میں مثنویاتِ شوق کا مطالعہ کیا جائے تو قاری کے لیے اس کے مقصدِ تحریر اور اندازِ تحریر سے واقفیت حاصل کرنا نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ مرتب نے عبدالحلیم شرر کی کتاب ’’ گزشتہ لکھنؤ‘‘ کے مختلف اقتباسات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھنؤ کی زبوں حالی اور نوابینِ لکھنؤ بالخصوص شجاع الدولہ، آصف الدولہ، نصیر الدین حیدر اور واجد علی شاہ وغیرہ کی عیش پرستی اور بے راہ روی پر روشنی ڈالی ہے۔
مرزا شوق کی مثنویاں لکھنؤ کے اسی معاشرے کا آئینہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا شوق کی مثنویوں پر لگائے جانے والے فحاشی کے الزامات کی نفی کرتے ہوئے ان کو ادب کا حصہ اور اپنے معاشرے کا ترجمان مانتے ہیں۔ کہتے ہیں۔
’’ معاشرہ جیسا ہوگا ترجمانی بھی ویسی ہی ہوگی اور تصویر بھی ویسی ہی بنے گی ۔‘‘ 4
اس ضمن میں مرتب مولانا جامی کی ’’یوسف زلیخا‘‘، خواجہ میر اثر کی ’’ خواب وخیال‘‘ اور مومن کی مثنویوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کو مرزا شوق کی مثنویوں سے زیادہ مبتذل اور فحش بتاتے ہیں۔ ان کے نزدیک مرزا شوق کی مثنویاں عشق و محبت اور وصل و فراق کی داستان سے زیادہ لکھنؤ کی زبان، تہذیب و تمدن، امرا و سلاطین اور طرزِ معاشرت کی عکاس ہیں۔
مقدمے کا دوسرا ذیلی عنوان ’’ حالاتِ زندگی ‘‘ ہے جس میں مرزا شوق کے اصل نام، تخلص، تاریخِ ولادت، تاریخ وفات اور ان کی زندگی کے مختصر حالات مع حوالوں کے قلم بند کیے گئے ہیں۔ ولادت اور وفات کے تحقیقی شواہد مرتب کو بہ مشکل حاصل ہو سکے اور ان کی حقیقت پر انھیں خود بھی شبہ ہے، لیکن جو کچھ حاصل ہو سکا اسے جانچ پرکھ کے بعد انھوں نے بیان کیا ہے اور اس سے متعلق جو ان کے شبہات ہیں ان کا مفصل ذکر صفحے کے آخر میں لکیر کھینچ کر حوالے کو طور پر کر دیا ہے جس سے قاری حاصل شدہ شواہد اور مرتب کی ان پر رائے سے بخوبی واقف ہو سکے۔ مرتب نے مختلف مقامات پرشوق کے پہلے سوانح نگار عطاء اللہ پالوی کی کتاب’’ تذکرہ شوق‘‘ اور ڈاکٹر سید محمد حیدر کے تحقیقی مقالے’’ حیاتِ شوق ‘‘ سے حوالے اخذ کیے ہیں۔ لیکن جہاں جہاں وہ پالوی صاحب اور حیدر صاحب سے اتفاق نہیں رکھتے ہیں اس کا ذکر نیچے حوالے میں ساتھ ہی ساتھ کر دیتے ہیں۔ مرتب کے تحقیقی مزاج کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ انھیں جن روایات پر شبہ ہے ان کا ذکر تو حوالے میں کیا ہی ہے لیکن جن کی صداقت پر انھیں ذرا سا بھی اعتبار نہیں ان کا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا ہے مثلاً مرزا شوق کے مدفن سے متعلق مختلف روایات ’’ تذکرہ شوق ‘‘ اور ’’حیاتِ شوق‘‘ میں درج ہیںلیکن تحقیق کی نظر سے وہ قابلِ اعتبار نہیں سو انھوں نے ان کا ذکر کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا اور محض اس پر اکتفا کیا ہے کہ شوق کا مدفن لکھنؤ میں ہی کہیں واقع ہے لیکن اصل جگہ نا معلوم ہے۔
تیسرا ذیلی عنوان’’ مثنویاتِ شوق کی تعداد‘‘کے نام سے شامل ہے۔ جس میں مرتب نے مثنویاتِ شوق کی تعداد پر مفصل بحث کی ہے اور اس عمومی خیال کی تردید کی ہے کہ مرزا شوق کی چار مثنویاں ہیں جن میں فریبِ عشق ، بہارِ عشق اور زہرِ عشق کے ساتھ ساتھ لذتِ عشق کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ انھوں نے دلائل اور شواہد کی بنیاد پر لذتِ عشق کو اس فہرست سے خارج کر دیا ہے۔ کیونکہ یہ مثنوی مرزا شوق کی نہیں بلکہ ان کے بھانجے آغا حسن نظم کی ہے جس کا مقطع مثنوی کے آخر میں’’ نظم ‘‘ تخلص کے ساتھ شامل ہے۔ ان سب کے ساتھ مرتب نے اس غلط فہمی کی مختلف وجوہات پر بھی روشنی ڈالی ہے جس کے تحت لذتِ عشق کو مرزا شوق کی مثنوی سمجھا جاتا رہا ہے۔ جس میں خصوص طور پر نول کشور پریس کا چھپا ہوا مجموعہ مثنویات ہے۔ جس میں 1869مثنویاتِ شوق کا مجموعہ پہلی بار شائع ہوا تھا۔ اس میں شوق کے نام سے مندرجہ بالا چاروں مثنویاں شامل ہیں۔ بقول مرتب یہیں سے اس غلط فہمی کی ابتدا ہوتی ہے کہ لذتِ عشق بھی مرزا شوق کی مثنوی ہے لیکن یہ محض ایک غلط فہمی ہے اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔
چوتھا ذیلی عنوان ’’ مثنویات کا زمانہ تصنیف‘‘ ہے۔ اس میں تینوں مثنیوں کی تاریخِ تحریر اور تاریخِ اشاعت پر مفصل بحث کی گئی ہے۔ مختلف مورخوں کی آرا اور دلائل کو شامل کرتے ہوئے اور تحقیقی زاویہ نظر سے ان کو رد اور قبول کیا گیا ہے۔ پانچواں ذیلی عنوان ’’منعِ اشاعت‘‘کے نام سے ہے۔ جس میں مرتب نے اس نقطے پر بحث کی ہے کہ مثنویاتِ شوق کی اشاعت پر پابندی عائد ہوئی تھی یا نہیں۔ انھوں نے اس عنوان کے تحت مولانا حالی کی ’’ مقدمہ شعر و شاعری ‘‘ اور سر سید رضاعلی کی کتاب’’ اعمال نامہ‘‘ کے مختلف اقتباسات نقل کیے ہیں جن میں یہ بات کہی گئی ہے کہ مرزا شوق کی مثنویوں پر مخرب الاخلاق ہونے کی وجہ سے حکومت نے ان کی اشاعت پر پابندی لگا دی تھی۔ لیکن ان دونوں حضرات نے کسی تحقیقی دلائل اور ثبوت کا ذکر نہیں کیا ہے جس کے سبب مرتب نے ان دونوں حضرات کے اقوال کو محض مفروضہ مانا ہے اور عدم ثبوت کی بنا پر رد کر دیا ہے۔ انھوں نے یہ بحث بھی اٹھائی ہے کہ بعض لوگوں کے مطابق فریبِ عشق اور بہارِ عشق پر فحش نگاری کی وجہ سے پابندی عائد ہوئی اور بعض کے یہاں زہرِ عشق پر پابندی کا بیان ہے جس کا سبب اس میں بیان غم و اندوہ اور آہ و بکا کے مناظر ہیں۔ ان لوگوں کے مطابق جب اس مثنوی کو اسٹیج پر دکھایا گیا تو ان مناظر کو دیکھ کر ناظرین میں غم کی فضا چھا گئی اور کئی لوگوں نے خود کشی کا ارداہ کرلیا ان حالات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اس مثنوی کوا سٹیج کرنے اور شائع کرنے پر بھی پابندی لگا دی۔ لیکن مرتب کے نزدیک یہ تمام بیانات عدم ثبوت کی بنا پر محض مفروضے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چونکہ رشید حسن خاں بہت باریک بین اور تحقیق کے معاملے میں نہایت محتاط شخصیت کے مالک تھے وہ تنکے کی بنا پردریا تلاش کرنے کا جوہر رکھتے تھے لہٰذا جن اصحاب نے شوق کی مثنویوں پرپابندی کی بات کہی ان میں سے کسی نے بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیاہے سوائے نظامی بدایونی کے جنھوں نے زہرِ عشق کے اپنے پاکٹ ایڈیشن کے دیباچے میں زہرِ عشق پر لگی پابندی کا ذکر کیا ہے اور گورنمنٹ کی طرف سے اس آرڈر کا نمبر بھی درج کیا ہے جس میں یہ پابندی لگائی گئی تھی۔ رشید حسن خاں کے تحقیقی مزاج نے اس نمبر کو پڑھ کر اس پر قناعت کرنے اور اسے مان لینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اس بیان کی مزید تحقیق کی اور شمس الرحمٰن فاروقی کی مدد سے الہ آباد کے سرکاری محافظ خانے میں منسوخی کے اس آرڈر کو تلاش کروایاجس کی نشاندہی نظامی صاحب نے کی تھی۔ بہت تلاش و جستجو کے بعد بھی اس نمبر کی کوئی فائل اس محافظ خانے سے دستیاب نہ ہو سکی جس وجہ سے نظامی کا دیا ہوا ثبوت شک و شبہ کے گھیرے میں آ گیا۔ اس بحث میں وہ ان تمام حضرات کے اقوال و آرا کو پیش کرتے ہیں جنھوں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ شوق کی مثنویوں پر پابندی لگی تھی لیکن وہ کسی سے بھی متفق نظر نہیں آتے جس کا سبب ان کا تحقیقی مزاج اور تحقیقی وفاداری ہے جو بنا ثبوت کے محض شہرت کی بنا پر کسی بات کو قبول نہیں کرتا ۔ کہتے ہیں۔
’’ میرا خیال ہے کہ ممنوع الاشاعت ہونے کی روایت بہت کچھ ’’ شہرت ‘‘ پر رہی ہے۔ یہ عام تجربہ ہے کہ ایسی ہر ’’ شہرت‘‘ بہت جلد اور بہت دور تک پھیل جایا کرتی ہے اور اس پر یقین کرنے والوں کی کمی نہیں ہوتی۔ ایسی شہرت سے ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ وہ کتاب بکتی خوب ہے۔ میں اس پر بھر پور زور دینا چاہتا ہوں کہ شہرت واقعیت کی مرادف نہیں۔شہرت غلط بھی ہو سکتی ہے اور صحیح بھی ایسی روایتوں کو لازمی طور پر قبولِ روایت کے آداب کے تحت ہی تسلیم کیا جا سکتا ہے، محض شہرت کی بنیاد پر نہیں۔‘‘5
چھٹا عنوان ’’ مطبوعہ نسخے ‘‘ کے نام سے شامل ہے۔ جس میں مرتب نے تینوں مثنویوں کے حاصل شدہ مطبوعہ نسخوں کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ ان کو فریبِ عشق کے تین مطبوعہ نسخے حاصل ہو سکے جن میں قدیم ترین نسخہ 1272ھ(1886) کا ہے۔ اسی طرح بہارِ عشق کے آٹھ اور زہرِ عشق کے چھ مطبوعہ نسخے حاصل ہوسکے۔ ان مطبوعہ نسخوں سے متعلق تمام ضروری معلومات انھوں نے نہایت محققانہ انداز میں اس عنوان کے تحت درج کر دی ہیں۔ ساتواں ذیلی عنوان ’’ ذیلی عنوانات‘‘ ہے۔ اس میں انھوں نے مرزا شوق کی مثنویوں میں شامل کیے گئے ذیلی عنوانات پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق مرزا شوق کی مثنویوں میں صرف بہارِ عشق کے دوسرے ایڈیشن میں جو خود مصنف کی نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوا تھا ایک ذیلی عنوان ’’ ترغیبِ عشقِ حقیقی‘‘ کے تحت 123اشعار کا اضافہ ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بعد کے مرتبین نے جن ذیلی عنوانات کا اضافہ کیا ہے اس کا مصنف اور قدیم نسخوں سے کوئی تعلق نہیں۔ نسخہ نظامی میں 6ذیلی عنوانات، نسخہ مجنوں میں14اور نسخہ شاہ عبدالسلام میں 15ذیلی عنوانات قائم کیے گئے ہیں جو تحقیق کی رو سے ناقابلِ قبول ہیں ۔
آٹھواں ذیلی عنوان ’’ ہیروئنوں کے نام‘‘ سے قائم کیا گیا ہے۔ اس میں مرتب نے شوق کی مثنویوں میں ہیروئنوں کے نام کی بحث اٹھائی ہے اور مختلف دلائل کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ شوق کی مثنویوں میں مرتبین نے ہیروئنوں کے جو نام رکھ دیے ہیں محض مفروضے ہیں اور مرتبین کی کی کم فہمی کی طرف اشارہ کرتے ہیں الغرض حقیقت سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔ قابل محققین مجنوں گورکھپوری، سید محمد حیدر اور آل احمد سرور نے محض کلمہ صفت کے طور پر استعمال کیے گئے تعریفی الفاظ کو مثنوی کی ہیروئن کا نام مان لیا ہے جو کہ سراسر غلط بیانی ہے۔ ان سب کی تردید کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں۔
’’شوق کی تین مثنویاں ہیں،ان کے لحاظ سے تین ہیروئنوں کے نام ( ضرورتاً) تراش لیے گئے۔ ہم کو یہ بات واضح طور پر سمجھ لینا چاہیے کہ اصلاً کسی مثنوی کی ہیروئن کا کوئی نام نہیں، مہ پارہ، مہ جبیں، ماہ لقا فرضی نام ہیں۔‘‘ 6
نوا ںذیلی عنوان ’’ اشعار کی کمی بیشی‘‘کے نام سے شامل ہے۔ اس میں مرتب نے تینوں مثنویوں کے مختلف نسخوں میں اختلافِ شعر پر روشنی ڈالی ہے اور جس ایڈیشن میں جس جس شعر کا اضافہ کیا گیا ہے ان کی نشاندہی کی ہے۔ بلا شبہ یہ ان کے تحقیقی مزاج کی ہی دین ہے کہ اس قدر باریک بینی سے مطالعہ کرکے ایک ایک شعر کی ترمیم و اضافے کی وضاحت کر دی ہے۔ دسواں ذیلی عنوان ’’ تکرار‘‘ ہے جس میں شوق کی تینوں مثنویوں میں اشعار کی جو تکرار پائی جاتی ہے اس کی نشاندہی ملتی ہے۔ ایک ہی مضمون ایک ہی خیال اور ایک ہی رنگ کے اشعار تینوں مثنویوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں جس سے تینوں مثنویوں میں تکرار کا پہلو نکلتا ہے۔ مثال کے طور پر انھوں نے جو اشعار پیش کیے ہیں درج ذیل ہیں۔
1۔ گو مجھی پر نہیں ہے یہ افتاد
سب کے ماں باپ ہوتے ہیں جلاد (بہارِ عشق)
کچھ تمہیں پر نہیں یہ افتاد
سب کے ماں باپ ہوتے ہیں جلاد ( زہرِ عشق)
2۔ کیا چرایا تھا دم معاذاللہ
میرے تو ہوش اڑ گئے واللہ(فریبِ عشق)
بل بے فقرہ ترا معاذ اللہ
میرے تو ہوش اڑ گئے وللہ ( بہارِ عشق) 7
گیارہواں ذیلی عنوان ’’مثنویاتِ شوق کے مآخذ‘‘ کے نام سے شامل ہے۔ اس عنوان کے تحت مرزا شوق کی مثنویوں کے مآخذ پر بحث کی گئی ہے کہ ان مثنویوں کے اشعار و مضامین کا مآخذ کیا ہے۔ بعض محققین مثلاً مولانا حالی اور مجنوں گورکھپوری کے نذدیک ان کا مآخذ میر اثر کی مثنوی ’’ خواب و خیال ‘‘ ہے۔ جس کی وجہ فریبِ عشق اور بہارِ عشق کے بیشتر اشعار کی خواب و خیال کے اشعار سے مماثلت ہے۔ لیکن مرتب اس دلیل سے اتفاق نہیں رکھتے ان کے نزدیک شوق نے اپنی مثنوی لکھتے وقت خواب و خیال کو سامنے ضرور رکھا ہوگا لیکن کلی طور پر خواب و خیال کو اس کا مآخذ نہیں کہا جا سکتا۔اس بحث میں وہ گیان چند جین کی اس رائے سے اتفاق رکھتے ہیں کہ مرزا شوق نے اپنی مثنویاں تحریر کرتے وقت میر، اثر،مومن اور شاید قلق کی مثنویوں سے استفادہ کیا۔ لیکن اس میں بھی وہ آخرالذکر سے متفق نہیں کیونکہ قلق کی مثنوی ’’ طلسمِ الفت‘‘ کا زمانہ تحریر و طباعت متعین نہیں جس وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ شوق نے قلق سے استفادہ کیا ہے یا قلق نے شوق سے۔ اس عنوان کے تحت دو مزید ذیلی عنوانات کو شامل کیا گیا ہے۔ الف: ’’کیا مثنویاں شوق کی سر گزشت ہیں۔‘‘، ب: ’’ وجہ ِتصنیف‘‘۔ ان عنوانات کے تحت انھوں نے اس موضوع پر بحث کی ہے کہ ان مثنویوں کے ہیرو مرزا شوق ہیں یا نہیں۔ مرزا حالی، مجنوں گورکھپوری اور پالوی صاحب کے نقل کردہ اقتباسات سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ ان کے ہیرو خود مرزا شوق ہی ہیں لیکن ان حضرات کے بیان خود شک و شبہ کا شکار اور قطعیت سے عاری ہیں سو مرتب ان پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ مختلف تحقیقی دلائل کی بنا پر یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ یہ محض شوق صاحب کا اندازِ بیان تھا جس نے واقعات کو حقیقی اور مثنویوں کو ان کی آپ بیتی بنا دیا ہے اس میں حقیقت کی کوئی گنجائش نہیں۔ بقول مرتب ۔
’’بہارِ عشق، فریبِ عشق اور زہرِ عشق تینوں مثنویوں میں شوق نے ایک ہی پیرایہ اظہار اختیار کیا ہے کہ اپنے آپ کو ہیرو بنا کر پیش کیا ہے اور پوری کہانی سنائی اس طرح جیسے آپ بیتی ہو، یہ بیان کا ایک خاص انداز ہے۔ اس طرح کہانی میں حقیقت کا رنگ نمایاں ہو سکتا ہے اور سننے والوں پر زیادہ اچھا اور گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔اس پیرایہ بیان کو حقیقت بیانی پر محمول کرنا اور سچ مچ اسے بیان کرنے والے کی آپ بیتی سمجھ لینا اندازِ بیان کے اسرار و رموز سے نا آشنائی کااعلان کرتا ہے۔‘‘8
بارہواں ذیلی عنوان ’’ زبان و بیان ‘‘ہے۔ اس میں نے مرزا شوق کی مثنویوں کی زبان اور اندازِ بیان پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ خود مرزا شوق کا یہ بیان ہے کہ انھوں نے اپنی مثنویوں میں بیگماتِ محل کی زبان اور محاوروں کا کثرت سے استعمال کیا ہے۔ مرتب یہاں مختلف مثالوں کے ذریعے مرزا شوق کے اس قول کی تصدیق کرتے ہیں۔ جہاں مرزا شوق کی زبان دہلی کی یاد دلاتی ہے انھوں نے مثالوں کے ذریعے اس کی بھی نشاندہی کر دی ہے جس سے بہ آسانی ان کی زبان کی شوخی اور انداز کی رنگارنگی سے قاری کو واقفیت حاصل ہو جاتی ہے۔ مقدمہ مرتب کا تیرہواں اور آخری ذیلی عنوان ’’ طریقہ کار‘‘ ہے۔ اس میں نے اپنے طریقہ کارِ تدوین پر روشنی ڈالی ہے۔ مثنویوں کے جو نسخے ان کو حاصل ہو سکے اور جہاں سے حاصل ہو سکے اور جس کے ذریعے حاصل ہوئے ان تمام صاحبان کے نام انھوں نے ان کے شکریے کے ساتھ درج کر دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ابتدائے کتاب سے لیکر آخری حصے تک جن جن عنوانات کے زیرِ بحث کتاب کو مرتب کیا ہے ان سب کا مختصر بیان ’’طریقہ کار‘‘ عنوان کے تحت شامل کر دیا ہے۔ طریقہ کار کے ساتھ ہی مقدمہ مرتب مکمل ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ رشید حسن خان نے مرزا شوق کی مثنویوں کا متن شاملِ کتاب کیا ہے۔ تینوں مثنویوں کے متون جو قدیم نسخوں میں ان کو حاصل ہوئے ان کو اسی صورت میں نقل کیا گیا ہے۔ بعد کے مرتبین نے جو ذیلی عنوانات قائم کیے ہیں انھوں نے ان عنوانات کو شامل نہیں کیا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ وہ مصنف کے قائم کردہ عنوانات نہیں اور جن کے ہیں ان کے دیے گئے عنوانات کو مصنف کے متن کے ساتھ شامل کرنا ان کے نزدیک تحقیق کے اصول کے خلاف اور سخت نا پسندیدہ ہے۔ مرتب نے متون کو اسی ترتیب سے رکھا ہے جو ان کی تحریر کی ترتیب ہے یعنی پہلے فریبِ عشق پھر بہارِ عشق اور آخر میں زہرِ عشق کا متن شامل کیا ہے۔ خاں انھوں نے اشعار پر نمبر بھی درج کیے ہیںجن کی ترتیب یہ رکھی ہے کہ پہلی مثنوی کا پہلا شعر نمبر ۱ سے شروع ہوتا ہے اور یہی نمبر تسلسل کے ساتھ آخر تک جاری رہتا ہے اور زہرِ عشق کے آخری شعر پر یہ نمبر ختم ہوتا ہے۔ اس میں دو طرح سے نمبروں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ایک تو یہ کہ تینوں مثنویوں کا ایک مسلسل نمبر رکھا گیا ہے ۔ مثلاً فریبِ عشق شعر ۱ سے 418تک ہے تو بہارِ عشق کے پہلے شعر کا نمبر ہوگا 419 اور بہارِ عشق کے آخری شعر کا نمبر ہے 1261تو زہرِ عشق کے پہلے شعر کا نمبر ہے 1262اور زہرِ عشق کے آخری شعر کا نمبر ہے 1819 جو کہ تینوں مثنویوں کا آخری شعر ہے۔اس التزام کی وجہ مرتب نے یہ بتائی ہے کہ ضمیمہ تشریحات میں ہر شعر کا نمبر درج کرکے اس کی تشریح کی گئی ہے تاکہ پورا شعر دوبارہ نقل نہ کرنا پڑے اور قاری کو وہ شعر بہ آسانی نمبر کی مدد سے مل سکے۔دوسرا التزام جو انھوں نے کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہر مثنوی کے مسلسل نمبر کے ساتھ اس کے ہر دسویں شعر پر نیچے چھوٹی سی لکیر کھینچ کر مثنوی کا اپنا نمبر بھی درج کر دیا ہے جس سے کہ قاری ہر مثنوی کے اشعار کی تعداد بھی بہ آسانی دریافت کر سکے مثلاً بہارِ عشق کے پہلے شعر کا نمبر اس طرح درج ہے (1:419) دسواں شعرنمبر(10:428) بیسواں شعر (20:438)۔ اسی طرح زہرِ عشق کے پہلے شعر کا نمبر(1:1261) دسواں شعر(10:1270) بیسواں شعر ( 10:1280 ) اس طرح ہمیں تینوں مثنویوں کے کل اشعار کی تعداد بھی معلوم ہو جاتی ہے اور ہر مثنوی کے الگ الگ اشعار کی تعداد بھی۔ تینوں مثنویوں کے اشعار کی مجموعی تعداد 1819ہے فریبِ عشق کے اشعار کی تعداد 418، بہارِ عشق کے اشعار کی تعداد 842، اور زہرِ عشق کے اشعار کی تعداد 559ہے۔ مرتب نے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ متن میں کوئی ترمیم نہ کی جائے جیسا اصل نسخوں میں دستیاب ہوا ہے جوں کا توں پیش کر دیا جائے۔
متن کے بعد نے چار ضمیمے شاملِ کتاب کیے ہیں جن میں پہلا ضمیمہ ’’ تشریحات‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس ضمیمے میں نے تینوں مثنویوں کے مختلف اہم اشعار کی تشریح کی گئی ہے جس سے قاری کو اگر کسی شعر کو سمجھنے میں مشکل درپیش ہو تو وہ بہ آسانی اس کی تشریح پڑھ کر شعر کا مفہوم سمجھ سکتا ہے۔ تشریح کے ساتھ ساتھ نے مشکوک الفاظ کی تذکیر و تانیث کی بحث بھی قائم کی گئی ہے اور مختلف لغات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی وضاحت کل کی گئی ہے۔ ساتھ ہی اشعار میں مستعمل تلمیحات اور محاورات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ مرتب نے اس میں تمام اشعار کی تشریح نہیں کی ہے بلکہ جو اشعار ذرا مشکل اور وضاحت طلب تھے ان کی تشریح کرکے معنی واضح کیے ہیں تاکہ قاری کی مشکل آسان اور الجھن دور ہو سکے۔دوسرا ضمیمہ ’’ تلفظ اور املا‘‘ کے عنوان سے شامل ہے جس میں متن میں شامل خاص خاص الفاظ کے تلفظ اور املا پر بحث کی گئی ہے۔ نے اس ضمیمے میں مختلف لغات مثلاً امیراللغات، غیاث اللغات، سراج اللغات، نور اللغات اور فرہنگ آصفیہ کا حوالہ دیتے ہوئے متعدد الفاظ کے صحیح املا اور تلفظ کی نشاندہی کی ہے۔ تیسرا ضمیمہ ’’اختلافِ نسخ‘‘ ہے جس میں مثنویاتِ شوق کے مختلف نسخوں میں جو اختلافات پائے گئے ہیں ان پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چوتھا ضمیمہ ’’ الفاظ اور طریقِ استعمال‘‘ کے عنوان سے ہے جس میں مثنوی میں آئے مختلف الفاظ اور ان کے استعمال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان چاروں ضمیموں کے بعد نے ایک اور عنوان ’’ فرہنگ‘‘ کے نام سے قائم کیا ہے۔ یہ مثنویاتِ شوق مرتبہ رشید حسن خاں کا آخری عنوان ہے جس میں مثنویوں کے متعدد الفاظ معنیٰ کے ساتھ درج ہیں ۔ گویا رشید حسن خاں نے ایک فرہنگ لکھ کر کتاب کے آخر میں شامل کر دی ہے اور اکثر الفاظ کے آگے اس شعر کا نمبر بھی لکھ دیا ہے جس شعر میں وہ لفظ استعمال ہوا ہے جس سے قاری کو بہ آسانی وہ شعر بھی مل جائے اور لفظ کے معنیٰ کی فراہمی بھی ہو جائے۔اسی فرہنگ کے ساتھ کتاب اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔
رشید حسن خاں کا طریقہ کار تحقیق کو اعلیٰ درجے پر فائز کرتا ہے۔تحقیق وتدوین کے اصول گویا کی زندگی کے اصول تھے وہ ثبوت اور دلائل کی عدم موجودگی میں کسی بات یا مفروضے کو قابلِ قبول نہیں مانتے تھے۔ بقول پروفیسر شارب رودولوی۔
’’رشید حسن خاں تحقیق کے معاملے میں قاضی عبدالودود کی طرح کسی مروت یا رعایت کے قائل نہیں ہیں اور کسی بھی سلسلے میں جب تک سارے شواہد جمع نہ کر لیں قلم نہیں اٹھاتے۔‘‘9
علاوہ ازیں ان کے مزاج میں یہ اکڑ اور غرور بھی نہیں کہ جو بات میرے قلم سے نکل گئی گویا وہی پتھر کی لکیر ہے،وہی حتمی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ آگے آنے والے محققین کے لیے راہ ہموار کرتے ہوئے اپنی بات کہہ جاتے ہیں۔ ان کا یہ انداز نہیں ہوتا کہ جو تلاش انھوں نے کی ہے وہی آخری ہے کوئی اور اب اس میں کچھ نہیں کر سکتا بلکہ وہ ہر بات کو بیان کرتے ہوئے ایک محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں مثال کے طور پر مثنوی فریبِ عشق کا جو بنیادی نسخہ انھیں حاصل ہو سکا اس کے متعلق کہتے ہیں۔’’ اس مثنوی کا اس سے بہتر اور اس سے قدیم نسخہ موجود نہیں، یعنی ہمارے علم میں نہیں۔‘‘10 گویا وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کوئی تحقیقی مزاج رکھنے والا شخص اگر اس سے بھی قدیم نسخہ ڈھونڈ لے تو یہ ممکن ہے کہ اسے کامیابی مل جائے لیکن اب تک ان کی تلاش کے مطابق اس سے قدیم نسخہ موجود نہیں۔
رشید حسن خاں نے جس محققانہ انداز میں مثنویاتِ شوق کی تدوین کی ہے وہ تحقیق کے میدان میں بت شکنی کی حیثت رکھتی ہے۔ عرصے سے مرزا شوق کو بدنام شاعر اور ان کی مثنویوں کو مخرب الاخلاق مانا جاتا رہا ہے انھوں نے ان باتوں کی تردید بڑے محققانہ انداز میں کی ہے۔ اردو ادب کے سنجیدہ قاری کوخاں ان کی تدوین کردہ مثنویاتِ شوق کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ اس کے دو فائدے ہیں ایک تو یہ کہ مرزا شوق اور ان کی مثنویوں سے متعلق جو عام آرا اور غلط فہمیاں ہیں وہ تمام اس کے مطالعے سے دور ہو جائیں گی دوسرا یہ کہ قاری کو تحقیق و تدوین کے طریقہ کار اور اہمیت و افادیت سے شناسائی حاصل ہوگی۔
جس طرح ادب تحقیق کے بغیر اور تحقیق صداقت کے بغیر نا مکمل ہے اسی طرح رشید حسن خاں کے ذکر کے بغیر تحقیق کی بات ادھوری ہے۔ رشید حسن خان کا نام اردو ادب و تحقیق کا ناقابلِ فراموش جز ہے۔ اردو تحقیق کو آسمان کی بلندیوں پر پہچانے کا سہرا رشید حسن خاں کے ہی سر ہے۔ مجموعی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ رشید حسن خاں نے متعدد قدیم متون کی تدوین کر کے اور اردو املا اور تلفظ کے عنوان پر نادر معلوماتی کتابیں اور متعدد دوسری اہم کتابیں تحریر کر کے اردو ادب کے خزانے کو بیش قیمتی نگینوں سے سرفراز کیا ہے جس کے لیے دنیائے اردو ادب ہمیشہ خاں صاحب کی احسان مند رہے گی اور اردو ادب کے آسمان پر ان کے نام کا ستارہ غیر معمولی آب و تاب کے ساتھ چمکتا رہے گا۔
حوالہ
1- (مضمون: کچھ اپنے بارے میں : رشید حسن خاں) رشید حسن خاں تحریروں کے آئینے میں ( جلد دوم) مرتبہ: ابراہیم افسر ، ایچ ، ایس،آفسٹ پرنٹرس، دہلی 2019( ص 56)
2- (مضمون : رشید حسن خاں: ایک معتبر نام: پروفیسر ظفر احمد صدیقی) رشید حسن خاں تحریروں کے آئینے میں (جلد دوم) مرتبہ ابراہیم افسر ، ایچ ، ایس، آفسٹ پرنٹرس ، دہلی 2019 (ص 171)
3- (مضمون : رشید حسن خاں : ایک منفرد محقق : پروفیسر ابنِ کنول) ایضاً (ص 188)
4- مثنویاتِ شوق مرتبہ : رشید حسن خاں ، انجمن ترقی اردو( ہندی) نئی دہلی 1998 (ص22)
5- ایضاً ( ص108)
6- ایضاً (ص111)
7- ایضاً (ص117)
8- ایضاً (ص135)
9- (مضمون : رشید حسن خاں اور اردو تحقیق : پروفیسر شارب رودولوی) رشید حسن خاں تحریروں کے آئینے میں( جلد دوم) ابراہیم افسر ،ایچ، ایس ، آفسٹ پرنٹرس، نئی دہلی 2019(ص 149)
10- مثنویاتِ شوق مرتبہ: رشید حسن خاں، انجمن ترقی اردو (ہندی) نئی دہلی1998 (ص157)
Farheen Shakeel
Urdu Scholar (Urdu), Aligarh Muslim University, Aligarh
Address – Colony, Begum Aziz-un-Nisa Hall, Aligarh Muslim University, Aligarh
Mob. 9045607628
Email: farheenshakeelf684@gmail.com