امیر خسرو قوالی اور قو می یکجہتی کے علمبر دار ،مضمون نگار: آمینہ بیگم

August 20, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، اگست 2026:

تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان زمانۂ قدیم ہی سے علم و فن کا گہوارہ رہا ہے۔ مسلم حکمرانوں نے ہمیشہ ماہرینِ فن کی سرپرستی کی۔ بعض لوگ مسلمانوں کی اس بیش بہا تہذیبی دین کا اعتراف نہیں کرتے، حالانکہ مسلمانوں نے نہ صرف ہندوستانیوں کی طرزِ فکر کو متاثر کیا بلکہ ان کے بھکتی مارگ، طرزِ معاشرت، آدابِ محفل، لباس، فنِ تعمیر، مصوری، ادبیات اور موسیقی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ انھوں نے ہندوستانیوں کو اُس نزاکت، لطافت اور سلیقے سے روشناس کرایا جو ایرانی تمدن کا خاصہ ہے۔
ہندوستان کے رسم و رواج، گھریلو زندگی، لباس، خانہ داری کے اطوار، شادی بیاہ کی رسومات، موسیقی، گنبد اور مینار کا رواج ترکوں کے ذریعے ہندوستان میں آیا۔ 1ایرانی تمدن نے اس انداز سے آرائش و زیبائش کو فروغ دیا اس کے نتیجے میں ہندوستانی معاشرے میں تہذیب و تمدن اور فنونِ لطیفہ مذید تنوع حاصل ہو۔ ہندوستانی موسیقی مشترکہ قومیت، قومی و سماجی روایات اور قومی یکجہتی کی روشن علامت ہے۔ اگر قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہے تو یہ صرف اتحاد و اتفاق کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
امیر خسرو کے اسلاف
یہاں امیر خسرو کے اسلاف کا مختصر جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ غوری کی وفات کے بعد قطب الدین ایبک نے دہلی میں اپنی خودمختاری کا اعلان کیا۔ ایبک کے بعد اس کا ترک غلام شمس الدین التمش دہلی کا سلطان بنا۔ اس نے منگولوں کے حملوں کو روکا اور پناہ گزینوں کے لیے دہلی کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے۔ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا گیا اور انھیں مناسب عہدے عطا کیے گئے۔ التمش کی دریا دلی اور فراخ دلی کے باعث کثیر تعداد میں لوگ دہلی کا رخ کرنے لگے۔ یہی وجہ تھی کہ دہلی کو ’’عروس البلاد‘‘ کہا جانے لگا۔ امیر خسرو کے والد امیر سیف الدین محمود بھی انہی پناہ گزینوں میں شامل تھے۔2
امیر خسرو کے والد لاچین قبیلے کے ترک تھے۔ اُس زمانے میں سپاہیوں کو ہزار، پانچ ہزار اور دس ہزار جیسے عہدے دیے جاتے تھے۔ ایک ہزار سپاہیوں کے دستے یا لشکر کو جس علاقے سے تعلق ہوتا، وہی اس قبیلے کی شناخت بن جاتا اور وہ علاقہ ’’ہزارہ‘‘ کہلاتا تھا۔ ہندوستان کے شمال مغربی حصے میں ایک علاقہ ’’ہزارہ‘‘ کے نام سے معروف تھا۔ جب چنگیز خان نے جلال الدین خوارزم شاہ کا تعاقب کرتے ہوئے ہندوستان کی طرف پیش قدمی کی تو ہزارہ قبیلے کے کچھ ترک یہاں آکر آباد ہوگئے۔ انہی ہزارہ ترکوں میں خسرو کے والد امیر سیف الدین محمود بھی شامل تھے۔ ان کے قبیلے کا نام ’’ہزارہ لاچین‘‘ تھا۔3
امیر خسرو نے اپنی کئی تصانیف اور خودنوشت تحریروں میں خود کو ’’لاچین‘‘کے نام سے یاد کیا ہے۔ ’’لاچین‘‘ ایک ترکی لفظ ہے جس کے معنی باز یا شاہین کے ہیں۔ ان کے آباو اجداد سلطان شمس الدین التمش کے دربار سے وابستہ تھے۔ ضیاء الدین برنی کی تصنیف سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے والد کو بارہ ہزار تنکہ سالانہ وظیفہ مقرر تھا اور مومن پورہ، پٹیالی، ضلع ایٹہ کی جاگیر عطا کی گئی تھی، جہاں انھوں نے سکونت اختیار کی۔ محمد سیف الدین محمود کی شادی عمادالملک کی بیٹی دولت ناز سے ہوئی، جن کے بطن سے چار اولادیں پیدا ہوئیں:4تین لڑکے اور ایک لڑکی۔ لڑکوں کے نام اعزاز الدین علی شاہ، ابو الحسن یمین الدین خسرو اور حسام الدین تھے۔
امیر خسرو کی پیدائش 1252 میں پٹیالی میں ہوئی۔ اصل نام ابو الحسن یمین الدین ۔ ’’خسرو‘‘ ان کا تخلص اور ’’امیر‘‘ خطاب تھا۔ بعد میں وہ اپنے والد کے ساتھ دہلی منتقل ہوگئے۔ محمد سیف الدین محمود پچاسی برس کی عمر میں ایک جنگ میں شہید ہوئے۔ والد کے انتقال کے بعد امیر خسرو کی تعلیم و تربیت ان کے نانا عمادالملک نے کی۔ امیر خسرو فارسی، ترکی اور عربی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ میدانِ جنگ کے بھی شہسوار تھے اور فنِ حرب میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔اگر ہم درویشوں سے ان کی محبت کا جائزہ لیں تو وہ اس میدان میں بھی صفِ اول میں نظر آتے ہیں۔ شاہی دربار میں ان کا کوئی ہم پلہ نہ تھا۔ شاعری اور موسیقی میں ان کی اختراعات اور ایجادات ایسی تھیں کہ بعد کے لوگ بھی ان میں ترمیم کی ہمت نہ کرسکے۔ امیر خسرو کو یہ ذوق بچپن ہی میں اپنے نانا عمادالملک کی مجالس میں شرکت سے حاصل ہوا۔ ان محفلوں میں شعرا، ادبا اور علما شریک ہوتے تھے۔ بارہ برس کی عمر تک ان میں غیر معمولی صلاحیتیں پیدا ہوچکی تھیں۔
امیر خسرو نے اپنے عہد کے گیارہ بادشاہوں کا زمانہ دیکھا اور سات بادشاہوں کی ملازمت بھی کی۔ ان کی تصانیف تیرہویں اور چودہویں صدی کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی مناظر پیش کرتی ہیں۔ امیر خسرو ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ وہ بہترین شاعر، انشاپرداز، تاریخ نویس، زبان دان، معاملہ فہم، موسیقار اور ظاہری و باطنی علوم کے ماہر تھے۔ تہذیبی و قومی یکجہتی اور حب الوطنی جیسے اوصاف میں بھی وہ نمایاں مقام رکھتے تھے۔
امیر خسرو کو دنیا بھر میں مقبول بنانے والی سب سے بڑی چیز ان کا جذبہ حب الوطنی تھا۔ انھیں ہندوستان سے والہانہ محبت تھی۔ یہاں کے رسم و رواج، طور طریقے، تہذیب، قوم، موسیقی اور ہندوستان کی سرزمین کے ذرے ذرے سے انھیں عشق تھا، جس کا ذکر انھوں نے اپنی تصانیف میں جا بجا کیا ہے۔ ان کی وطن دوستی کے بارے میں مختلف محققین نے اظہارِ خیال کیا ہے۔ ’’خسرو شناسی‘‘ کے مصنف ڈاکٹر منیرالحق لکھتے ہیں کہ امیر خسرو نے اپنی ایجادات، افکار، نظریات، تصانیف اور کردار کے ذریعے ہندوستانیوں میں قومی شعور کو پروان چڑھایا۔ امیر خسرو کی وطن سے محبت منطقی حدود سے بھی آگے بڑھ جاتی تھی۔ اسی جذبے کے تحت امیر خسرو نے اپنی مشہور تصنیف ’’نہ سپہر‘‘ میں ہندوستان کی عظمت اور اس سے اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کیا ہے۔
امیر خسرو پہلے ایسے شخص تھے جنھوں نے حب الوطنی کے نغمے گائے۔ انھوں نے اپنی ایجادات، تصانیف، خیالات اور نظریات کے ذریعے ہندوستانیوں میں قومی جذبے کو فروغ دیا۔ اس مقصد کے تحت انھوں نے موسیقی، قوالی، تصوف اور شاعری کو وسیلہ بنایا۔ امیر خسرو نے قومی یکجہتی، رواداری، انسان دوستی، محبت اور اخوت کا پیغام عام کیا۔
ایرانی اور عربی موسیقی مسلمانوں کے ساتھ ہندوستان آئی۔ اس تعلق سے انور عنایت اللہ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ جب مسلمان عرب اور ایران سے ہندوستان آئے تو وہ اپنے ساتھ ایک نئی اور ترقی یافتہ تہذیب لائے، جس میں موسیقی بھی شامل تھی۔ امیر خسرو کو موسیقی سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ فارسی زبان میں ’’موسیقی‘‘ کا لفظ ایک پرندے ’’ققنس‘‘ سے ماخوذ بتایا جاتا ہے، جس کی چونچ سے راگ راگنیاں نکلتی ہیں۔ عبرانی زبان میں یہ لفظ دو الفاظ ’’موسا‘‘ اور ’’قی‘‘ سے مرکب ہے۔ ’’موسا‘‘کے معنی’’ہوا‘‘ اور ’’قی‘‘ کے معنی ’’گرہ‘‘ کے ہیں، یعنی ’’ہوا میں گرہ لگانا‘‘۔ عربی زبان میں اسے ’’موسیقی‘‘ یا ’’غنا‘‘ کہا جاتا ہے، جس کے معنی نغمہ، سرور یا خوشی میں گانا کے ہیں۔امیر خسرو نے ایرانی موسیقی میں نئی نئی راگیں ایجاد کیں۔ بڑے بڑے صاحبِ کمال موسیقار اور گویے آپ کی شاگردی کو باعثِ فخر سمجھتے تھے۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دکن کا ایک مشہور موسیقار گرو گوپال نایک تھا، جس کے تقریباً بارہ سو شاگرد تھے۔ اس کے شاگرد استاد کا تخت اٹھا کر چلتے تھے۔ جب اس کی شہرت کا چرچا علاؤالدین خلجی تک پہنچا تو اسے دربار میں طلب کیا گیا۔ اس محفل میں امیر خسرو بھی اپنے شاگردوں کے ساتھ موجود تھے۔
گوپال نایک پہلے ہی امیر خسرو کی شہرت سن چکا تھا، اس لیے اس نے امیر خسرو سے راگ سنانے کی خواہش ظاہر کی۔ مگر امیر خسرو نے انکساری سے کہا کہ وہ ہندوستانی موسیقی کے بارے میں کم علم رکھتے ہیں، اس لیے پہلے گوپال نایک اپنی راگ پیش کرے۔ گوپال نایک نے کئی راگ سنائے، جنھیں سن کر امیر خسرو نے فرمایا کہ یہ راگ دراصل میرے ایجاد کردہ ہیں، اور ساتھ ہی ان کی چند غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی اصلاح بھی کی۔ یہ سن کر گوپال نایک حیران رہ گیا۔ امیر خسرو ہندی اور فارسی دونوں موسیقیوں پر یکساں قدرت رکھتے تھے، اسی لیے انھوں نے راگ اور موسیقی کی دنیا میں ایک نئی ہلچل پیدا کردی۔ گوپال نایک بھی امیر خسرو کے علم و کمال سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے آپ کی شاگردی اختیار کرلی۔5
امیر خسرو عالم، فاضل اور بلند پایہ شاعر تھے، بلکہ ایک ماہر موسیقار بھی تھے۔ انھیں ہندوستانی اور ایرانی موسیقی دونوں میں کمال مہارت حاصل تھی۔ ہندوستانی موسیقی امیر خسرو کی مرہونِ منت ہے۔ امیر خسرو بے نظیر محبِ وطن تھے۔ یہاں کے رسم و رواج، طور طریقے، تہذیب، قوم، موسیقی، الغرض ہندوستان کے ذرے ذرے سے ان کو عشق تھا، جس کا ذکر انھوں نے اپنی تصانیف میں جابجا کیا ہے۔ انھوں نے کئی راگ اور راگنیاں ایجاد کیں۔ قوالی کے بھی موجد مانے جاتے ہیں۔ قوالی کے ذریعے امیر خسرو نے قومی یکجہتی کا پیغام عام کیا۔ وہ عالمی بھائی چارے کے علمبردار تھے۔ قومی یکجہتی دراصل وحدتِ انسانیت کی مضبوط کڑی ہے۔ اگر قوالی کو وحدتِ انسانیت کی ایک اہم ضرورت تصور کیا جائے تو قوالی کی حقیقت کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ قوالی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اپنے آغاز سے لے کر آج تک یہ قومی اتحاد اور باہمی محبت کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
قومی یکجہتی کو سمجھنے سے پہلے لفظ ’’قوم‘‘ کو سمجھنا ضروری ہے۔ ’’قوم‘‘ اردو میں عربی زبان سے ماخوذ ہے، جس کے معنی انسانوں کے ایک گروہ کے ہیں۔ سیاسی اور جغرافیائی اعتبار سے ایک مخصوص خطۂ ارض، جو ملک کہلاتا ہے، وہاں مختلف رنگ، نسل، فرقے، طبقے، زبانیں اور مذاہب رکھنے والے تمام باشندوں کے مجموعے کو قوم کہا جاتا ہے۔ مذکورہ بالا تمام جماعتیں اجزائے قوم کہلاتی ہیں، اور ان اجزا کے درمیان ہم آہنگی ہی کو قومی یکجہتی کہا جاتا ہے۔ ملک کی ترقی کا دارومدار قومی یکجہتی پر منحصر ہوتا ہے۔ آج دنیا کا ہر ملک قومی یکجہتی کے تصور کو تسلیم کرچکا ہے اور قومی شعور کی بیداری اور قومیت کے استحکام کے لیے کوشاں ہے۔ قومی یکجہتی کے جذبے کو پروان چڑھانے کے لیے سب سے پہلے فرد کی اصلاح ضروری ہے، اور اصلاح کا کام مذہب سے بہتر کوئی اور ذریعہ انجام نہیں دے سکتا۔ اس مقصد کے لیے فرد کو اپنے مذہب کا سچا پیروکار بنانا اور مذہبی تعلیمات کے ذریعے یہ شعور دینا ضروری ہے کہ انسان کا انسان سے کیا تعلق ہے۔ جب یہ شعور بیدار ہوجائے تو انسان سچا قوم پرست بن جاتا ہے۔
فرد کو قوم سے جوڑنے کے لیے مذہبی تعلیمات کے ساتھ ساتھ فنونِ لطیفہ بھی نہایت موثر ذریعہ ہیں۔ قوالی کی محفلیں اپنے آغاز سے لے کر آج تک قومی اتحاد کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ قوالی کی ایجاد ہندوستان میں ہوئی، اُس وقت ہندوستان مختلف صوبوں اور ریاستوں میں تقسیم تھا۔ اگر دہلی ہی کی مثال لی جائے تو وہاں ہندوؤں، مسلمانوں اور دیگر قوموں کی مختلف تہذیبیں، عقائد اور زبانیں موجود تھیں۔ یہ لوگ جنگ، جشن، عیدین اور تہواروں کے مواقع پر ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔ انھوں نے ایک ساتھ فتوحات اور شکستیں دیکھیں، ماتم بھی منایا اور خوشیاں بھی بانٹیں۔ ان تمام اختلافات کے باوجود معاشی، تہذیبی اور سماجی ضروریات کے پیشِ نظر لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر قومی یکجہتی کے خواہاں تھے۔ اس مقصد کے لیے ملک کا دانشور طبقہ ایسے مواقع تلاش کرتا رہتا تھا جہاں ہر رنگ، نسل، ذات پات اور فرقے سے بالاتر ہوکر لوگ ایک جگہ جمع ہو سکیں۔ اس کا سب سے مؤثر ذریعہ فنونِ لطیفہ تھا، کیونکہ فن پرستوں کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے، نہ کوئی ملک اور نہ کوئی قوم۔ فن میں ایسی کشش ہوتی ہے کہ پوری دنیا اس کی جانب کھنچی چلی آتی ہے۔ اسی لیے موسیقی کو فنونِ لطیفہ میں سب سے زیادہ مؤثر مانا گیا ہے۔
چونکہ قوالی کی ایجاد ہندوستان میں ہوئی اور اس کے سننے والے بھی ہندوستانی تھے، اس لیے اس زبان کا انتخاب کیا گیا جو سب کے لیے قابلِ فہم ہو۔ اس زمانے میں فارسی، ہندی اور سنسکرت زبانیں رائج تھیں، لیکن موسیقی کے لیے رسم الخط کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی بنا پر اردو ایک موزوں زبان ثابت ہوئی۔ اگرچہ اُس وقت تک اردو کو ادبی حیثیت حاصل نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی ہندوؤں اور مسلمانوں نے اسے مکمل ادبی زبان کے طور پر قبول کیا تھا، اس کے باوجود امیر خسرو نے قوالی کی ابتدا عربی نثر سے کی اور بعد میں اسے فارسی تک وسعت دی۔ چونکہ عوام عربی کے مقابلے میں فارسی سے زیادہ آشنا تھے، اس لیے فارسی کو زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔
امیر خسرو پہلے شخص تھے جنھوں نے اردو کو ایک ادبی زبان کے طور پر استعمال کیا، اسی لیے انھیں اردو کے اولین مصنفین میں شمار کیا جاتا ہے۔ انھوں نے قوالی میں اردو کے چند دوہے بھی شامل کیے۔ اردو ایسی زبان تھی جسے ہر طبقے کے لوگ سمجھتے تھے۔قوالی کے موجد امیر خسرو اور اس کے اولین سرپرست نظام الدین اولیا کے نمایاں کارناموں میں حب الوطنی اور قومی یکجہتی سرفہرست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قوالی کا اثر ہر مذہب اور ہر ملت کے افراد پر یکساں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ آج بھی قوالی کی محفلوں میں بلا تفریقِ مذہب و ملت ہر طبقے کے لوگ جوق در جوق شریک ہوتے ہیں۔
قوالی امیر خسرو کی ایجاد مانی جاتی ہے۔ امیر خسرو خود کہتے ہیں کہ ’’ہندوستان میرا مولد اور میرا وطن ہے‘‘، اسی لیے قوالی کا مقامِ ایجاد بھی ہندوستان ہی قرار پاتا ہے۔ صوفیائے کرام کے عقائد اور تعلیمات نے ہندوستان کی تہذیب میں قابلِ قدر تبدیلیاں پیدا کیں، جن کے مذہبی اور سماجی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ صوفیا نے انسانوں کی مساوات، انفرادیت کی عظمت اور نظامِ عالم میں الوہیت کے تصور کا درس دیا۔قوالی دراصل قومی یکجہتی اور عوامی بھائی چارے کی علمبردار ہے۔ قوالی کی ایجاد امیر خسرو کے عہدِ حیات کے درمیانی دور ، خلجی عہدِ حکومت میں ہوئی۔ امیر خسرو نے صوفیانہ طریقۂ سماع میں بہت سی نئی باتیں اور اصول شامل کرکے اسے ’’قوالی‘‘ کے نام سے موسوم کیا۔
قوالی کو سمجھنے سے پہلے ’’سَماع‘‘ اور ’’سِماع‘‘ کے فرق کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ ’’سَماع‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ’’سننا‘‘ کے ہیں۔ اسی مناسبت سے لفظ ’’سِماع‘‘ تشکیل پایا، جس کے مجازی معنی راگ سننے کے لیے جاتے ہیں۔ اصطلاحی طور پر ’’سِماع‘‘ کے معنی قرآنِ مجید کی آیات سننے کے ہیں، لیکن صوفیاء کے نزدیک ’’سِماع‘‘ ایک مخصوص طرزِ عبادت کا نام ہے، جس میں راگ اور نغمات کا سننا بھی شامل ہوتا ہے۔6
دراصل قوالی کی بنیاد صرف موسیقی پر نہیں بلکہ اس کے مضامین اور پیغام پر ہے۔ قوالی میں سر کے مقابلے میں تال کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ قوالی ایک فن ہے، یعنی موسیقی کی ایک مخصوص صنف، جس میں چند خوش آواز افراد مشترکہ طور پر راگ، راگنی اور تالیوں کی ہم آہنگی کے ساتھ کلام پیش کرتے ہیں۔ تالی کے ساتھ دف، ستار، طبلہ اور ڈھولک کی آوازیں بھی شامل ہوتی ہیں۔
’’مَن کُنتُ مَولاہُ فَعَلِیٌّ مَولاہُ‘‘
ترجمہ: ’’میں جس کا مولا ہوں، علیؑ بھی اس کے مولا ہیں۔‘‘
صوفیائے کرام ہمیشہ محبت اور اخوت کا پیغام عوام تک پہنچاتے رہے۔ وہ بلا تفریقِ مذہب و ملت تمام انسانوں کو بھائی چارے اور محبت کی تعلیم دیتے تھے۔ امیر خسرو چونکہ نظام الدین اولیا کے مرید و شاگرد تھے، اس لیے انھوں نے قوالی کے ذریعے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو ایک ساتھ بیٹھنے اور محبت و رواداری کے ماحول میں شریک ہونے کے مواقع فراہم کیے۔اس کے ذریعے وہ بزرگانِ چشت اور قرآنِ مجید کے ان احکامات پر عمل پیرا ہوسکتے تھے جن میں انسانوں کے درمیان میل جول اور عوامی بھائی چارے کی تاکید کی گئی ہے۔ صوفیا کے نزدیک عبادت دو قسم کی ہے: ایک وہ عبادت جس کا فائدہ صرف عبادت کرنے والے کو پہنچے، اور دوسری وہ جس کا فائدہ دوسروں کو بھی پہنچے، جیسے حسنِ سلوک، صلح کرانا اور انسانوں کے درمیان محبت پیدا کرنا۔ قوالی اسی دوسری قسم کی عبادت کا ایک مؤثر ذریعہ تھی، کیونکہ اس کی محفلوں میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوتے تھے۔
چنانچہ امیر خسرو نے قوالی کو مختلف مذاہب کے لوگوں کو جوڑنے کا وسیلہ بنایا۔ حضرت نظام الدین اولیا کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان محبت اور اتحاد پیدا کرنا عبادت ہے۔ اسی مقصد کے تحت قوالی کو دو مذاہب کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ قوالی کو عام مقبولیت حاصل ہوئی۔ امیر خسرو نے ہندوؤں کے بھجنوں کے بعض اثرات کو بھی قوالی میں شامل کیا۔ ان کا مقصد قوالی کے ذریعے ہندو مسلم اتحاد کی راہیں ہموار کرنا اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان خوشگوار تعلقات پیدا کرنا تھا۔ یہی وہ جذبہ تھا جس کے تحت قوالی کی بنیاد رکھی گئی۔
صفدر علی بیگ اپنی تصنیف ’’صوفیا کی تعلیم اور امیر خسرو کا نظریۂ حیات‘‘ میں لکھتے ہیں کہ حضرت نظام الدین اولیا نے کبھی قوالی کو محض یادِ الٰہی کا درجہ نہیں دیا، بلکہ اس کی ایک اہم خصوصیت مذہبی ہم آہنگی بھی تھی۔ الغرض، امیر خسرو قوالی کے ذریعے قومی اتحاد کو فروغ دینا چاہتے تھے۔ 7 آبِ حیات میں مولانا آزاد نے امیر خسرو کی تصانیف کے حوالے سے لکھا ہے کہ قوالی بھی امیر خسرو کی ایجاد ہے اور آج بھی اسی طرز سے گائی جاتی ہے۔ اسی لیے سلطان المشائخ نے انھیں ’’مفتاح السماع‘‘ کا خطاب عطا کیا۔8 اگر امیر خسرو قوالی کو صرف مذہبی فریضہ قرار دیتے تو وہ مسجد کا رخ کرتے، جہاں صرف مسلمان جمع ہوتے، مگر انھوں نے خانقاہوں کا انتخاب کیا، جہاں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ خسرو کے خیالات اپنے پیر و مرشد اور بزرگانِ چشت کے مذہبی رواداری کے نظریے کا حصہ تھے۔
قوالی چونکہ ایک فن ہے، اس لیے امیر خسرو نے اس فن کے ذریعے حب الوطنی، مذہبی ہم آہنگی اور اپنے عہد کے سماجی و سیاسی تقاضوں کو عملی شکل دی۔ قوالی کی ابتدا خانقاہ سے ہوئی، مگر وہیں محدود نہ رہی۔ خانقاہ سے نکل کر یہ شاہی درباروں تک پہنچی اور پھر عوام میں مقبول ہوگئی۔ یوں قوالی قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ایک مؤثر ذریعہ بن گئی۔ مذہبی اجارہ داروں کی ہزارہا کوششوں کے باوجود قوالی خانقاہوں تک محدود نہ رہ سکی، کیونکہ اس کا بنیادی مقصد خدمتِ خلق اور انسانوں کو محبت و اخوت کے رشتے میں جوڑنا تھا۔قوالی دراصل راگ، راگنی، خیال، قول اور ترانے کا مجموعہ ہے۔ قوالی کی ابتدائی زبان عربی تھی اور اس کا انداز نثری تھا۔ ستار کو بھی امیر خسرو کی ایجاد قرار دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں عبدالحلیم جعفر خاں اپنی تصنیف ’’امیر خسرو اور ہندوستانی موسیقی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ستار کی ایجاد حضرت نظام الدین اولیا کے دربار میں ہوئی اور امیر خسرو اپنے کلام کی پیش کش میں ستار کا استعمال کیا کرتے تھے۔
قوالی میں ڈھولک کی ایجاد بھی امیر خسرو سے منسوب کی جاتی ہے۔ ڈھولک قوالی کا ایک اہم جز ہے۔ ’’قوالی ڈھولک کے بغیر ادھوری ہے۔‘‘ 9
اسی طرح طبلہ بھی قول اور ترانے کی ضرورت کے تحت ایجاد کیا گیا اور اسے خاص طور پر قوالی کے لیے موزوں سمجھا گیا۔ قوالی میں تال کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اگرچہ اسلامی روایت میں مردوں کے تالی بجانے کے حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں، لیکن قوالی میں تالی ایک فنی حیثیت رکھتی ہے اور یہی اس کی شناخت بن چکی ہے۔ بعض محققین کے مطابق قوالی میں تال اور تالی کے بعض انداز ہندو بھجنوں سے اخذ کیے گئے۔ اسی طرح ایرانی ساز ’’تنبور‘‘ سے ’’بینا‘‘ کی ایجاد کا ذکر بھی ملتا ہے۔امیر خسرو نے قوالی میں ترانے کے بول شامل کیے تاکہ راگنی کی اصل صورت برقرار رہے۔ قوالی کے ابتدائی مضامین اقوالِ رسول ؐ پر مشتمل تھے، یعنی حضور اکرم ؐکے وہ مبارک ارشادات جو عربی نثر میں منقول ہیں۔ ان اقوال میں خصوصاً حضرت علیؓ کے ارشادات کو بھی شامل کیا گیا۔
قوالی میں کلمۂ طیبہ ’’لا اِلٰہَ اِلَّا اللہ‘‘ اور ‘‘اللہ ہو‘‘ جیسے اذکار شامل کیے گئے، جس کے باعث قوالی مسلمانوں میں بے حد مقبول ہوئی۔ حضور اکرمؐ کے اقوال اور کلمۂ طیبہ کے بعد امیر خسرو نے اپنے عربی اقوال بھی قوالی میں شامل کیے۔ امیر خسرو نے عوام و خواص کی زبان، یعنی اردو یا ہندوی، کو بھی قوالی کا حصہ بنایا، کیونکہ یہ زبان قومی یکجہتی کے فروغ کی زبان سمجھی جاتی تھی۔ انھوں نے اپنے اردو اور ہندی دوہے، جو حمد، نعتِ رسولؐ اور نظام الدین اولیا کی مدح پر مشتمل تھے، قوالی میں پیش کیے۔ یہی نہیں بلکہ امیر خسرو نے تصوف کے مضامین کو بھی قوالی میں شامل کیا، جن کے ذریعے تمام مخلوق کو خالقِ حقیقی کی طرف رجوع کرنے کا پیغام دیا گیا۔ تصوف کی اسی خصوصیت نے قوالی کو ہر مذہب میں مقبولیت عطا کی، یہاں تک کہ بے شمار غیر مسلم بھی قوالی میں دلچسپی لینے لگے۔
امیر خسرو نے سب سے پہلے قوالی کو حضرت نظام الدین اولیا کے دربار میں پیش کیا اور یہیں سے قوالی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ صوفیائے کرام کی دلچسپی کے پیشِ نظر قوالی میں صوفیانہ کلام بھی شامل کرلیا گیا۔ اس طرح قوالی نے قومی یکجہتی اور بھائی چارے کے جذبات کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ بعد میں مزاروں پر بھی قوالی کی محفلیں سجنے لگیں، جن میں تمام مذاہب کے ماننے والے شریک ہوتے تھے۔
قوالی مزاروں سے نکل کر مختلف میلوں، عرسوں اور اجتماعی تقریبات تک پہنچ گئی۔ خواجہ معین الدین چشتی کے عرس پر بھی قوالی کی محفلیں منعقد ہونے لگیں۔ مزاروں پر سماع کی طرح قوالی کا سلسلہ جاری ہوا اور اس نے اتنی مقبولیت حاصل کی کہ خانقاہوں اور مزاروں سے نکل کر گھروں تک جا پہنچی۔ گیارہویں شریف، فاتحہ، نیاز اور شادی بیاہ کے مواقع پر بھی قوالی کی محفلیں سجائی جانے لگیں۔ ان محفلوں کا بنیادی مقصد بھائی چارہ، اتحاد اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا تھا۔الغرض، امیر خسرو نے قوالی کے ذریعے مختلف قوموں اور مذاہب کے لوگوں کو جوڑنے کا کام کیا۔ قوالی کا فن قومی یکجہتی کا علمبردار ہے اور اپنی ایجاد سے لے کر آج تک قومی اتحاد کا مرکز بنا ہوا ہے۔ موجدِ قوالی امیر خسرو اور اس کے اولین سرپرست نظام الدین اولیا کے نمایاں کارناموں میں قومی یکجہتی کو خاص مقام حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلا تفریقِ مذہب و ملت، قوالی کا اثر ہر فرد پر یکساں طور پر ہوتا ہے، اور آج بھی اس کی محفلوں میں ہر مذہب کے لوگ جوق در جوق شریک ہوتے ہیں۔
امیر خسرو نے اپنے ہم وطنوں کو نہ صرف قومی یکجہتی کی ترغیب دی بلکہ رواداری، بے تعصبی، حب الوطنی، وسیع النظری، اخوت، محبت اور انسان دوستی کا درس بھی دیا۔ عصرِ حاضر میں بھی امیر خسرو کا پیغام ہمارے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔اس مضمون کو تحریر کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ عوام کو قوالی کی اس خصوصیت، یعنی قومی یکجہتی، سے روشناس کرایا جائے اور اہلِ قلم کو اس موضوع پر غور و فکر کی دعوت دی جائے۔
اے شیخ و برہمن! مل بیٹھو، فطرت کو دوئی منظور نہیں
قرآن سے گیتا دور سہی، انسان سے انسان دور نہیں
حوالہ جات
1. Edwards, A History of India, 1961, p. 129
2۔ محی الدین اظہر، ”امیر خسرو اور علی غڑھ ” نسرین پبلیکشن ، علی گڑھ ,1981, صفحہ نمبر۔4
3۔ کے۔ کے ۔ کھلر، امیر خسرو ، سمنت پرکا شن ، نئی دہلی،1983 صفحہ نمبر۔23
4. life Times & words of Amir Khusrou Dehalavi, Idare I Adbiyat Urdu, Hyderabad, p.4
5۔ امیر خسرو اور مو سیقی، نیشنل کمیٹی برائے سات سو سالہ تقریباتامیر خسرو، پاکستان، 1975 صفحہ نمبر ۔2
6۔ سید عا بد علی ،”مو سیقی میں مسلمانوں کا حصہ ” صفحہ نمبر ۔ 5
7۔ سید صبا ح الدین عبد الر حمٰن،’’ہندوستان امیر خسرو کی نظر میں ‘‘ معارف پر یس اعظم گڑھ 1686
8۔ ڈاکٹر وحید میرزہ ‘ امیر خسرو 2006، ایجو کیشنل پبلیکیشن ہو ز،نئی دہلی۔
9۔ سید صباح الدین عبدالرحمٰن، ہندوستان امیرخسرو کی نظر میں، معارف پریس، اعظم گڑھ، 1966۔

Dr. Amena Begum
Assistant Professor, Department of History, Mehboob Nagar
Mob. 8919414213
Email: amenabegum.s777@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اردو اور کنڑا کا لسانی اور ثقافتی ارتباط،مضمون نگار:حلیمہ فردوس

اردو دنیا، اپریل 2026: عالمی سطح پر ہمارے ملک کی شناخت کثیرلسانی اور کثیرثقافتی مزاج کے طورپر قائم ہے۔ یہاں سینکڑوں بولیاں اورزبانیں رائج ہیں۔ کسی مستشرق نے ’’ہندوستان کو

جسمانی صحت اورفلسفہ یوگ،مضمون نگار:اسعداللہ

اردو دنیا، جون 2026: ہندومیتھالوجی کے مطابق یوگا بنیادی طور پر ایک انتہائی لطیف سائنس پر مبنی روحانی نظام ہے جو دماغ اور جسم کے درمیان ہم آہنگی لانے پر

دھرمیندر:انسانیت اوراداکاری کا سنگم،مضمون نگار: منتظر قائمی

اردودنیا،جنوری 2026: دھرمیندرکا فلمی سفر بھی سندباد جہازی کی داستانوں سے کم دلچسپ اور تجسس آمیز نہیں ہے۔کہاں پنجاب کا ایک دور افتادہ گاؤں سانہوال اور کہاں بمبئی کی چمک