ظریف الطبع شاعر: طیش مارہروی ،مضمون نگار:کامران مارہروی

April 8, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، اپریل 2026:

طیش مارہروی کا تعلق مارہرہ ضلع ایٹہ کے مشہور و معروف کمبوہ خاندان سے تھا۔ پورا نام محمد یوسف حسن تھا۔ فصیح الملک مرزا داغ دہلوی کے شاگرد تھے۔ احسن مارہرویؒ کے بیان کے مطابق سنہ ولادت1870 1؎ کے آس پاس ہے۔ ابتدا میں رعایت اسمی کے لحاظ سے عزیز تخلص رکھتے تھے بعد میں طیش تخلص اختیار کیا۔ مارہرہ کے جملہ تلامذئہ داغ میں سب سے پہلے یہی داغ کی شاگردی سے سرفراز ہوئے۔ مولف تذکرہ خم خانہ جاوید نے آپ کا ذکر یوں فرمایا ہے:
’’محمدیوسف حسن مارہروی، شاگرد حضرت داغ مرحوم۔ ابتدائی عمر سے شعر کہتے ہیں۔ پہلے عزیز تخلص تھا، اب طیش ہے۔ ریاست رام پور کے درباری شعرا میں رہ چکے ہیں۔ محاورات و روزمرہ کی طرف زیادہ توجہ فرماتے ہیں۔ شعر مزیداراور دلنشین کہتے ہیں۔
اپنے استاد کے رنگ کو خوب پہچانتے ہیں۔ ‘‘
(جلد پنچم صفحہ455)
طیش اردو و فارسی دونوں زبانوں میں اچھی دستگاہ رکھتے تھے۔ حافظہ نہایت قوی تھا اور شعرائے متقدمین کے کلام پر گہری نظر رکھتے تھے۔ اس سلسلے میں مولوی محمد مہدی اسسٹنٹ مہتمم دفتر تاریخ بھوپال فرماتے ہیں:
’’میں نے اپنی عمر میں دو شخصوں کو دیکھا جن کی باتیں سننے سے دل سیر نہیں ہوتا، ایک آغا کمال الدین سنجر، دوسرے حضرت طیش۔ اپنے اور اساتذہ فارس و ہندوستان کے اشعار زیادہ تر ہم ردیف و قافیہ اس قدر آپ کی نوک زبان پر ہیں کہ صبح سے شام اور شام سے صبح ہو جائے گی لیکن ذخیرہ ختم نہ ہوگا اور اس بات میں مبالغہ نہیں ہے کہ اگر شعر خوانی کا سلسلہ ایک سال تک رہے تو بھی بحر سخن میں کمی نہ ہوگی۔ ‘‘ 2؎
طیش کا شمار اپنے زمانے کے پختہ مشق شعرا میں ہوتا تھا۔شاعری میں ان کا رنگ کلاسیکی تھا۔ کلام میں بلا کی شوخی اور دلکشی تھی ۔ محاورات و روزمرہ کو بڑے سلیقے سے انھوں نے برتا ہے۔ اشعار میں تراکیب کی ندرت اور بیان کی لطافت بدرجہ اتم موجود ہے۔ حسرت موہانی نے اپنے رسالے محاسنِ سخن میں جا بجا طیش کے اشعار بطور سند پیش کیے ہیں۔ طیش کا کلام سادگی و پرکاری ،سلاست و روانی کا بہترین مرقع ہے۔
چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎
مسکرانا اس کا اور قدموں پہ گر جانا مرا
اس نے یوں مانا اگر کہنا کبھی مانا مرا

جان بھی لیتی ہے عاشق کا تو کس پیار کے ساتھ
شمع آغوش میں لے لیتی ہے پروانے کو

مے کی تعظیم بھی کرتا ہوں دمِ بادہ کشی
پہلے آنکھوں سے لگا لیتا ہوں پیمانے کو
ہم امتحان ترا کر چکے ہیں خوب اے موت
پڑے جو وقت کسی پر کبھی نہ تو آئے
سحر ہوئی کہ خرابات جاگ اُٹھے اِک بار
پکارتے ہوئے میکش سبو سبوآئے

ہم یہی پوچھتے پھرتے ہیں زمانے بھر سے
جن کی تقدیر بگڑ جاتی ہے کیا کرتے ہیں
جانا بھی قیامت ہوا اس غنچہ دہن کا
بو ہو کے اُڑا جاتا ہے سب رنگ چمن کا

یہ جان لیا اُس پہ کوئی حادثہ گزرا
صد کو ہوئی دیر تو ماتھا مرا ٹھنکا

تمنائے ہم آغوشی میں بھی ہم سے سوا نکلے
وہی جو شام سے بیٹھے تھے سرتا پا حیا بن کر

کس تکلف سے لب رنگیں کی چاہی اس نے داد
پہلے دکھلایا گیا لعل بدخشانی مجھے
کوئی تنکا پڑا اڑ کر یہ ہے صیاد کا حیلہ
کھٹکتا ہے ضرور آنکھوں میں اُسکی آشیاں کوئی

شب فرقت بھی جو سامان قضا کا نہ ہوا
بولی سر پیٹ کے تقدیر کہ اچھا ّنہ ہوا
ٰٖفیصلہ کر گئے جب سے ترے ناوک آکر
جگر و دل میں پھر اُس روز سے جھگڑا نہ ہوا
طیش کی لاش چھپائی گئی یوں راتوں رات
شہر بھر میں کہیں اس قتل کا چرچا نہ ہوا
شعر کہنے کی طرح طیش کے پڑھنے کا انداز بھی اچھوتاتھا۔ اس پر مولوی صاحب مذکور یوںرقم طراز ہیں:
’’آپ کا طرز شعر خوانی اس قدر دل پسند ہے کہ شعر سے زیادہ آپ کے پڑھنے میں لطف آتا ہے شبلی مرحوم کہا کرتے تھے کہ شعر کو سب سے اچھا پڑھنے والا میں نے اپنی مدت العمر میں ایک تو مسز سروجنی نائیڈو کو دیکھا دوسرے یوسف حسن طیش کو۔ ‘‘ 3؎
طیش 1909 میں بعہد نواب حامد علی خاں دربار رامپور سے وابستہ ہوئے اور نواب صاحب کے زمرئہ مصاحبین میں جگہ پائی۔ اپنی طبع رسا اور خداداد شعری و علمی صلاحیت کے جوہر دکھا کر کچھ ہی عرصے میں نواب صاحب والی رام پور و دیگر مقربین دربار پر ایک رنگ چڑھانے میں کامیاب رہے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ دوسرے درباری شعرا اور مصاحبوں کی صورت میں انھوں نے اپنے حریف بھی پیدا کر لیے جن سے ان کی خوب چشمک رہا کرتی تھی۔ ان میں منشی حیات بخش رساکا نام قابل ذکر ہے۔
طیش کے متعدد خطوط راقم الحروف کے پاس محفوظ ہیں جن سے ان چشمکوں اور چھیڑ چھاڑ کا حال بخوبی معلوم ہوتاہے۔ طیش نے یہ خطوط مولانااحسن مارہروی کورامپورسے لکھے تھے جو تاحال غیر مطبوعہ ہیں۔ ان خطوط کی زبان برجستہ اور طرز بیان از حد دلکش ہے۔ طیش کے متعلق لکھنے والوں نے لکھا ہے کہ ان کے سینے میں لطائف و ظرائف کا ایک سیل رواں تھا ۔ اور ان کا یہ وصفِ خاص ان کے خطوط سے خوب جھلکتا ہے۔ دلچسپ واقعات کا بیان اور اس پر طیش کی ظرافتِ طبع، بزلہ سنجی اور لطیفہ گوئی نے اِن میں ایک خاص لطف پیدا کر دیا ہے۔
ذیل میں بطور نمونہ چند خطوط پیش کیے جاتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:
رامپور 7 جون
مخدومِ ِطیش رنجور
آداب نیاز۔ سخت وحشت اور پریشانی تھی کہ آپ نے اپنی خیریت سے کیوں نہ مطلع فرمایا۔ خط لکھنے کے تہیہ میں تھا کہ پرسوں حافظ جی نے خط دیا جس سے تسکین ہوئی۔ اگر میرے خط میں دیر ہوا کرے گی تو محض عدیم الفرصتی کی وجہ سے۔ حتی الامکان جلد ہی جواب دے دیا کروں گا۔ وہی اوقات ہیں۔ تمام دن سونا تمام رات جاگنا۔
پرسوں اپنے حریف4؎ کو ایسا چاروں شانے چت پچھاڑا کہ سب ہڈیاں پسلیاں چور چور ہو گئیں۔ دو نظمیں ایسی تڑپتی ہوئی پڑھیں کہ سب پھڑک گئے۔ اب تک میں نے حجاب نہ اٹھایا تھا اور بدایوں کا للا بنا ہوا تھا۔ اس دن جوہر دکھادیے اور ظاہر کر دیا کہ طیش کیا چیز ہے۔ بعد نظموں کے ایسی چلی ایسی چلی کہ توبہ بھلی ہے۔ مردود کھسیا گیا اور سخت بدحواس ہو گیا۔ میں داد سے لاد دیا گیا۔ اس کی ہیچ مدانی اور ہرزہ سرائی کھل گئی غرض ثابت ہو گیا کہ وہ پاجی ایک مضمحل اور دبلی چیل ہے اور طیش ایک شہزور شہباز۔ بڑی داستان ہے کہاں تک لکھوں، زبانی اس معرکہ کا حال بیان کروں گا۔۔۔۔۔
طیش
طیش کے بیشتر خطوط میں وقائع نگاری کا عنصر نمایاں ہے، ان مکاتیب میں انہوں نے دربارِ رامپور کی شعری محافل کا احوال بالتصریح بیان کیا ہے۔ ایک طویل خط جو 1910 کا مرقومہ ہے ،ملاحظہ ہو :
مخدو م طیش۔ آداب نیاز۔ عجب اتفاق ہوا کہ میں نے پہلے کارڈ کے جواب کا انتظار ختم نہ ہونے دیا کہ آج دوسرا کارڈ ڈاک میں چھوڑوایا۔ لڑکا ابھی واپس نہ ہوا تھا کہ آپ کا کارڈ نمودار ہوا۔ ہاں ہاں شادا ں آپ سے رنجیدہ اور منشی صاحب بے لطف ہیں۔ سب زبانی عرض کروں گا۔ آپ کا یہ لکھنا کہ تو نے جو لکھا بجا لکھا صریح حریف کی طرف داری پر دال ہے ۔ مجھے تو خیال تھا کہ آپ کا دل اس نامعقول نوٹ کو پڑھ کر ضرور گرما گیا ہوگا ۔ لیکن دیکھا تو ٹھنڈا پڑا ہے ۔ آپ کا اس معاملے میں چاب چاب کر گفتگو کرنا اور دھیمی آواز میں مجھے تسلی دینا بس یہی قیامت ہے۔ کیا اس نوٹ سے آپ کی اور جملہ شاگردان داغ کی توہین ثابت نہیں ہوتی، گویا آپ کی خاموشی پکار رہی ہے کہ بیشک ہم سب کی غزلیں ہذیان اور خرافات تھیں اور لاجواب غزل رسا کی تھی اگر آپ کو کسی طرح اس میں حصہ لینا منظور نہیں اور آپ ایسے ہی حریف سے دبے ہوئے ہیں توعزیزی محمد امین 5 ؎ کی طرح میاں افتخار عالم صاحب 6 ؎ ہی کو گدگدایے کیونکہ وہ ہمیشہ سے حریف کے مداح ہی ہیں۔ ان کو بھی کل پرچے جلوہ یار کے ملاحظہ کرایے اور انصاف کی درخواست کیجیے اگر وہ میرے غلبے کو تسلیم کر لیں تو اپنے دل ہی تک نہ رکھیں پبلک میں حقیقت نفس الامری ظاہر کریں۔
ناظم علی ہجر بھی بدمعاش اور شہدا نکلا، اس کو حریف نے8(آٹھ آنے)بھیجے۔ اپنے پرچے7 ؎ میں خصوصیت سے حریف کی تعریف لکھ دی آپ نے ملاحظہ کی ہوگی ۔ چالاکی تو دیکھیے کہ مجھے پرچہ نہ بھیجا اور سب کو بھیجا۔ مجھے ایک کارڈ دیا اور غزل مانگی۔
میں نے کل اس کو لکھ دیا تیری شکل گہگو کی سی، یا الّو کی سی، یا تو بن مانس ہے۔ میں نے اس کو دغا باز مکار سالوس اور منافق بھی لکھا، یہ بھی لکھا کہ تو نے بے شک بدایوں میں اس عدیم الفرصتی کی حالت میں حریف سے (منہ کالا کرایا)۔
اب آپ جلوہ یار اور اس پاجی ہجر سے قطع تعلق کریں اور تبادلہ موقوف کریں اور غزل دینا یک لخت چھوڑ دیں اور جتا دیں کہ ہم طیش کے مربی اور طرفدار ہیں۔ اور نوح8 ؎ کو بھی آپ لکھیں کہ دونوں پاجیوں کو غزل نہ دیا کریں اور علاوہ اس کے شاگردان داغ میں ایک جوش پیدا کریں لیکن میں خوب جانتا ہوں کہ آپ ایسا نہ کریں گے۔ اور کچھ نہ کریں گے مگر مجھے تو ہر طرح آپ کو کھولنا اور دکھانا ہے کہ آپ حاسد کے طرفدار ہیں۔
دونوں غزلیں مرسل ہیں۔ دم نہیں9 ؎ ۔ اس میں رسا کی غزل سراسرہذیان ہے۔ امیر احمد سے آپ منگوا سکتے ہیں ضرور منگوائیے۔ میری حسرت نکل جائے گی۔
ملیح آباد کا گو مصمم قصد نہیں تاہم ضعیف سا ارادہ تو ہے ہی۔ اس صورت میں بھی آپ مجھے طلب فرما لیں، میں بخوشی حاضر ہو سکتا ہوں کیونکہ آج کل سرکار والا پہاڑ پر ہیں۔ دس پندرہ دن مارہرہ رہ کر آپ کے ہمراہ چلا چلوں گا۔ مارہرہ میں یہ دن تفریح اور لطف میں گزریں گے۔ مجھے حسرت ہے کہ کبھی اتنا لمبا سفر آپ کے ہمراہ کروں، واللہ آپ کو بھی لطف آ جائے گا۔ ایک ہفتہ لکھنؤ رہیں گے۔ حضرت دلیر10 ؎ سے بھی چھیڑ چھاڑ شروع کر دیجیے اگر آپ چاہیں گے اور مجبور کریں گے تو بے شک وہ اٹھ کھڑے ہوں گے، اگر آپ ہی نے ڈھیل ڈالی تو کچھ نہ ہوگا۔
یہ آپ نے کیا غضب کیا کہ عزیزی محمد امین صاحب کو صرف جلوئہ یار میں مقابلتہََ دونوں کا کلام دکھا دیا۔ خدا کے واسطے آپ ابھی ابھی فریقین کی غزلیں کسی سے نقل کراکے ان کے حوالے کیجیے۔ جب ان کے پاس اسلحہ نہ ہوں گے تو وہ کیا خاک پڑھیں گے۔ لیکن شاید یہ بھی آپ سے مشکل سے بن پڑے اس لیے کہ لگی تو میرے دل کو ہے اور آپ کا دل صبر و سکون کی حالت میں پڑا ہے۔
اب میں یہاں زبردست پوائنٹ دیتا ہوں جس کے بل پر وہ مضمون لکھ سکیں واضح ہو کے حاسد کو منیر کا یہ مطلع از بس پسند ہے اور احباب میں پڑھا بھی کرتے ہیں مطلع ؎
کیا کروں جامہ دری بے سر و ساماں ہوں میں
شرم آئے تو کہاں سر بگریباں ہوں میں
اس کی خرابی یوں لگائی اور سرقہ کرنا بھی نہ آیا ؎
میں کہاں سر در گریباں ہوں گریباں ہی نہیں
منفعل ہو کر بھی ہوتی ہے پشیمانی مجھے
کیوں پختہ ہے یا نہیں۔ میرا ایک شعر محبوب الکلام میں سات برس ہوئے کہ چھپ چکا ہے اس کا اس طرح ستیاناس کیا ؎
یہ بھول ہوئی ساقی ہم منہ سے لگا بیٹھے
آنکھوں سے لگانا تھا پیمانے کو کیا کہیے 11؎
میرا شعر یہ تھا ؎
مے کی تعظیم بھی کرتا ہوں تو د م بادہ کشی
پہلے آنکھوں سے لگا لیتا ہوں پیمانے کو
داغ کا ایک شعر ہے ؎
محوآرائش و زینت ہی رہے آٹھ پہر
تجھ کو اللہ کرے فرصت بیداد نہ ہو
ا س کا یہ حال بنایا ؎
ہم کو غرض کہ فرصتِ بیداد دیں تمھیں
آئینہ کیوں ہٹائیں تیرے روبرو سے ہم
اس کے علاوہ ایک غضب اور بھی دیکھا۔ حال کے جلوئہ یار میں ایک مصرع بحر سے خارج ہے۔ تعجب ہے کہ آپ کی نگاہ نہیں پڑی۔ فرماتے ہیں ؎ خودی ہو کس طرح ہم میکشوں میں اے زاہد
ذرا سی اور چڑھا لی جو بے خودی نہ رہی
اور لیجیے ؎
رسا کا پاؤں جمتا گر نہ ایسا ناتواں ہوتا
یہ ظالم وہ خدائی خوار ہے جانے کہاں ہوتا
خدا جانے جانے کہاں کی زبان ہے۔ پبلک میں پیش کرنے کے قابل ضروری واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ ہوم صاحب بہادر کے دربار میں بڑے بڑے عمائد اور سخندان جمع تھے۔ میں نے ایک خاص بات پر چیخ چیخ کر نہایت غیظ کی حالت میں حریف سے مخاطب ہو کر کہا کہ جس زمین میں آپ بدایوں میں غزل پڑھ آئے ہیں اس میں نصاب،التہاب، مہاب قافیہ تھے، جو لوگوں نے پڑھے تھے آپ ان کے معنی بتائیے اور کریمہ کا یہ شعر پڑھا ؎
یکے بر حصیر و یکے برسریر
یکے در پلاس و یکے در حریر
اور اس کے بھی معنی پوچھے ،یہ بھی کہا کہ صرف حصیراور پلاس ہی کے معنی بتائیے اگر بتا دیے تو میں خود ایک سیاہ لنگڑے گدھے پر سوار ہو کر تمام شہر میں گشت کر کے رام پور کو چھوڑ دوں گا ورنہ تمہارا حال ایسا بنایا جائے گا اور قسم دلائی کہ معنی بتانے میں کچھ اٹھا نہ رکھنا۔ تمام جلسہ دنگ اور انگشت بدنداں تھا۔ بس چہرہ فق ہو گیا اور نرمی سے یہی جواب دیا کہ اب تو آپ کے بھی دل کی بھڑاس نکل گئی اب تومجھ کو بھی سب کچھ کہہ لیا۔ میں آپ سے بہت کم ہوں اور اپنے عجز کو تسلیم کرتا ہوں۔ مجھے آپ سے کب دعوائے ہمسری ہے۔ اس کے بعد میں نے ہوم صاحب بہادر سے عرض کیا کہ روزانہ ایک طرح عطا ہوا کرے اور دونوں کو حکم ہو۔ چند روز میں حال کھل جائے گا۔ ظاہر ہے کہ حریف کی یہ کسر نفسی نہ تھی بلکہ عجز تھا اگر معنی معلوم ہوتے تو زنہار کسر نہ اٹھا رکھیّ جاتی۔ محمد امین صاحب کو یہ سب حوالے کر دیجیے اور غزلیں ضرور نقل کرا کے ان کو دینا چاہیے۔
(اگر آپ نے ہجر اور جلوہ یار کو غزل دی اور نوح وغیرہ کو برگشتہ نہ کیا تو میں یقیناً زہر کھا لوں گا اور پھر یہ منحوس شکل نہ دکھاؤں گا )
طیش۔ رامپور
مئی 1910
ایک غلغلہ بلند ہو رہا ہے کہ مارہرہ میں طاعون۔ طاعون۔اب لکھیے کہ اس کی کہاں تک اصلیت ہے۔ بدایوں سے واپس آکر میں نے آپ کے خط کا انتظار کیا، اب تھک کر سبقت کرتا ہوں۔ عیسیٰ قم سے جلاتے تھے اور آپ نے ڈھائی روپیہ دے کر جلا دیا۔ واللہ سخت ضرورت مند تھا اور یہی تمناّ لے گئی تھی۔ حیران ہوں کہ اس کا شکریہ کس طرح ادا کروں ۔ اسی طرح مجھے خوش رکھنا چاہیے تاکہ ہر انجمن میں مدح گستر رہوں۔ کیونکہ میرے پاس زبان ہی ہے۔ دلیر میاں نے بھی بڑی ذرہ نوازی فرمائی شکریہ ادا کیجیے۔ اب میں آپ سے ایسا خوش ہوں کہ اگر روس آپ کا مخالف بن جائے تو بلا تکلف فوراً اس سے بھڑ جاؤں۔ اگر جاپان آنکھ اٹھا کر دیکھے تو دونوں آنکھیں نکال لوں۔ قسم قرآن کی اب آپ کے کلام میں ایک کیفیت پیدا ہو گئی ہے جس کا احساس شاید آپ کو نہیں۔ اب ایک کام کیجیے، کلام کا کل ذخیرہ نکالیے اور کسی کھلاڑی کو سنانا شروع کیجیے اور گہرانتخاب ہو۔ بس عطر کھینچ لیجیے، باقی کو تلف کیجیے۔ پھر دیوان چھپوا دیجیے۔ لاجواب نسخہ ہوگا۔ مگر میرے سوا اس کام کے شایان آپ کس کو خیال فرما سکتے ہیں۔ ہر پھر کر احقرہی پر نظر پڑے گی۔ میرے اور حریف کے متعلق آپ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔جلوہ یار میں پیدا نہ ہوا۔ غزل ملاحظہ فرمائیے میاں آزاد کو مقابلتہََــــ کلام دکھایے۔ اور ان کے دل سے اس کی وقعت دور کیجیے۔ اب مجھے کب بلائیں گے۔ تڑپ رہا ہوں۔
طیش
رام پور میں اس زمانے میں ایک انگریز خاتون فلورا (Miss Mary Flora)نامی اقامت پذیر تھیں۔ شاعری سے بھی شغف تھا اور شریر تخلص کیا کرتی تھیں۔ آسی لدنی نے اپنی کتاب’’تذکرۃ الخواتین‘‘ میں ان کا ذکر فرمایا ہے۔ کثرت شراب نوشی کے سبب کم عمری ہی میں فوت ہوئیں۔ عمائدین اور شعرا کی توجہ کا مرکز رہیں۔ رامپور میں ان کے ہونے سے مقامی شعرا کے مابین چھیڑ چھاڑ کی ایک فضا ہموار ہو چلی تھی نتیجتاً ہزلیات کا بازار بھی گرم تھا جس کا محور بھی اکثر یہی رہا کرتی تھیں۔
اسی ضمن میں طیش کے ایک خط کا اقتباس درج ذیل ہے جس میں َمس فلورا اور ان کے معاشقے کا احوال مذکور ہے، ملاحظہ ہو۔
رام پور اسٹیٹ بازار، ملا ظریف 10 مارچ1913
معظم و محتشم زادلطفکم۔
آداب نیاز۔ خیال فرمایا ہوگا کہ طیش روپیوں کے لیے بے قرار تھا۔ اب منی آڈر پہنچ گیا۔ وصول کر کے بیٹھ رہا۔
لاحول ولا۔ میں جیسا نیاز مند اور ادنیٰ خادم ہوں۔ آپ پر بھی ظاہر ہے۔ جب تک رام پور میں رہوں گا اس خیال سے ضرور بے قرار رہوں گا کہ آپ یہاں نہیں۔ میں کیا کروں موقع ہر وقت ایسے پیش نظر رہتے ہیں جس سے تڑپ کر رہ جاتا ہوں۔ کیا کہوں کہ آپ کس قدر یاد آ جاتے ہیں۔ کوئی لغت میرے پاس ہو تو روپیوں کے شکریہ کے لیے الفاظ تلاش کروں۔ خدا کی قسم بڑا لطف فرمایا۔ بہت ممنون فرمایا۔ اس نوازش کو نہ بھولوں گا۔ اب یہاں کے حالات جو آپ پر مجہول ہیں بیان کرتا ہوں۔
یہ توآپ کو معلوم ہی تھا کہ بزم اور فلورا دونوں ۔۔۔۔ گئے تھے لیکن جس تاریخ سے فلورا جدا ہوئی تھی اسی دن سے محمد حسین گویاّ اور حضرت رسااس کی جستجو میں سرگرم تھے اور اِس کی کسی کو خبر نہ تھی۔ بار بار سفر سے واپس آ آ کر پان پان سو چہہ چہہ سو لے جاتے تھے۔ اوریہی کہتے تھے کہ ہم اب لائے،آخر ایک مرتبہ لائے۔ صرف دو روز رہنے پائی تھی کہ میر علی رضا مہتمم پاندان خانہ و امام باڑہ وغیرہ اسے لے اڑے۔ خدا جانے ان سے کب کی گھٹی ہوئی تھی کسی کو نہ معلوم تھا، اور علی رضا نے بھوپال جا کر اس سے نکاح کر لیا اور ریاست کو خط لکھ بھیجا۔ریاست مولوی صاحب کے خلاف ہو گئی اور فلورا کے اڑا لانے میں زیادہ جد وجہد شروع ہو گئی۔ آخر رسااور محمد حسین گویاّ جو اس کام پر مدت سے تعینات تھے دونوں شاہجہاں پور جا کر ناظم علی خاں ہجر سے ملے اور کہا کہ آپ بھوپال سے اس کو اڑا لائیں آپ کے حق میں بہت کچھ ہوگا۔ چنانچہ ہجر صاحب بھوپال برابر آتے جاتے رہے اور آخر 17 جنوری کو یہاں لے آئے۔ ہجر صاحب بھی ہمراہ آئے اور اب تک امیدوارانہ رسا کے مکان پر مقیم ہیں۔ دیکھیے ان کے حق میں کیا ہوتا ہے۔ بزم کی اور فلورا کی تنخواہ کھل گئی، اب تک سرکاری مکان میں سب مقیم ہیں۔ فلورا یہاں حاملہ آئی اور صبح و شام میں بچہ ہونے والا تھا لیکن پندرہ بیس دن کے بعد لڑکا پیدا ہوا اور دو روز جی کر مر گیا۔ اب میر علی رضا ٹامک ٹوئی مارتے پھرتے ہیں اور کچھ بتاتے نہیں ہیں۔
بے نظیر شاہ صاحب بحصول رخصت چھ ماہ وطن گئے ہوئے تھے۔ حال میں آئے ہیں اور حضرت رسا ہی کے مکان پر وہ بھی مقیم ہیں۔ ہجرصاحب کا خوان جاری ہے اور سواری بھی مقرر ہے۔ میں کبھی کبھی ہو آتا ہوں۔ حضرت رسا کی علالت تو دائمی ہے لیکن اب حالت زیادہ نازک ہو گئی ہے۔ پاؤں پر ورم بھی آ گیا ہے چلنے پھرنے سے معذور، علاج کے نام سے نفرت، ڈاکٹر یا حکیم کو فیس کے خوف سے نہیں بلاتے اور ڈولی میں خود یوں نہیں جاتے کہ ڈولی کے کرایہ کا صدمہ کون اٹھائے گا۔ بہرحال ان کا حال اچھا نہیں لیکن یہ عجیب بات ہے کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ میری حالت کس قدر سقیم ہے ۔خیر وہ جانے ان کا کام جانے۔ ہمیں کیا ۔
روزانہ شب کو جناب شوق صاحب ہی سے بات چیت رہتی ہے آپ کی محبت و اخلاق کے بڑے مداح اور مشکور ہیں مگر آدمی نرے اول جلول ہیں۔
فلورا کے آ جانے سے نظموں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ ہم لوگوں کی بات چیت کا ذریعہ اور درِ عالی تک رسائی ہو جانے کا وسیلہ بس یہی کلام ہے۔ اسی میں ترقی بھی ہو جاتی ہے اور ہو بھی چکی ہے۔ اگر آپ اس موقع پر چند غزلیں کہہ کر روانہ کریں گے تو میں جی جاؤں گا۔ میں برابر فکر سخن میں مصروف ہوں اپنے امکان بھر کوشش کرتا ہوں اور بہت کہتا ہوں، تا ہم جتنی ضرورت ہے اس سے بہت کم کہتا ہوں، اگر اس مرتبہ آپ نے مدد دے دی تو گویا ایک سلطنت بخش دی۔ حضرت دلیر کو بھی شامل کر دیجیے، فکر بٹ جائے گی تو آسانی ہو جائے گی۔ اب خمسوں کی قید نہیں رہی صرف غزل۔ میں خیال کرتا ہوں کہ آپ ایک منٹ میں ایک غزل تیار کر سکتے ہیں، ماشا ء اللہ طبیعت میں دریا سے زیادہ روانی ہے۔ طرح کے چار مصرعے پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ایک ہفتے میں غزلیں بھیج کر سرفراز فرمایا جائے گا۔ یہ واضح رہے کہ فلورا کا نام اصلی ببّی ہے اور اشعار میں برابر باندھا جاتا ہے۔ مولوی علی رضا پر بھی تبرے ہوتے ہیں۔
مصرع ہائے طرح۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 12 ؎
اب سوائے فلورا کے اور کسی کے متعلق نظم نہ ہوگی، سب بوچھار اسی پر ہے۔ کہیں کہیں۔۔۔۔ کو بھی یاد کر لیا جائے۔ علی رضا سے عقد کرنا اور زچہ خانہ۔ اور بچہ جننا۔ یہ سبجیکٹ خوب ہے۔ گویا میدان وسیع ہو گیا۔اور چار شعر صرف اس زمین میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ زمین استاد کی ہے ضرورت آ پڑی ہے۔ صرف چار شعر عمدہ کہہ کر بھیج دیجیے۔ اس کے علاوہ دو ایک زمینیں چلتی ہوئی آپ خود تجویز فرما لیں۔ جب تک غزلیں آئیں گی میں بے چین رہوں گا، اس لیے عرض ہے کہ اس عریضہ کی رسید میں بواپسی ایک کارڈ روانہ فرما کر ممنون فرمائیں۔
یوسف حسن طیش
طیش کا کلام اپنے زمانے کے موقر رسائل و جرائد میں شائع ہوا۔ ان میں ریاض سخن (مارہرہ)، نیرنگ رامپور، تصویر مشاعرہ (رامپور)، کمال دہلی (دہلی)، فصیح الملک (مارہرہ)، جلوہ یار( میرٹھ)، محبوب الکلام (دکن)، گلدستہ نسیم سخن( قنوج)،اردوئے معلی( علی گڑھ)، زمانہ (کانپور)، وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
ان کی یاد میں ایک مجموعہ بنام ’’حدیقہ نعت‘‘ موجود ہے جس میں حضرت محسن کاکوروی کے مشہور زمانہ نعتیہ قصیدہ’ نظم دل افروز‘ پر تضامین شامل ہیں، دیگر مشاہیر کے کلام پر اور خود طیش کے کلام پر بعض شعرا نے جو تضمینیں کہیں وہ بھی شامل کتاب ہیں۔ طیش نے غزل کے علاوہ مرثیہ و سلام میں بھی طبع آزمائی کی لیکن افسوس اس کا کوئی نمونہ دستیاب نہ ہو سکا ان کی مرثیہ گوئی پر قدرت کا اندازہ اس سے بآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت محسن کاکوروی اپنے ایک مکتوب بنام احسن مارہروی میں لکھتے ہیں
’’میں نے اس لڑکے میں وہی صلاحیت پائی جو مرزا دبیر اور انیس میں تھی‘‘۔ 13 ؎  
طیش صاحبِ اولاد تھے اور انہوں نے تین بیٹے اپنی یادگار چھوڑے۔ ان کے تینوں بیٹے شاعری کا مذاق رکھتے تھے اور فن شعر میں اپنے والد ہی سے اصلاح لیا کرتے تھے۔ طیش کے بڑے بیٹے کا نام محمد اشتیاق حسن تھا اور افسرتخلص۔ خلف اوسط محمد مشتاق حسن شریر اور چھوٹے بیٹے محمد محبوب حسن تھے جو وارث تخلص کیا کرتے تھے۔ محبوب حسن وارث نے بعد میں احسن سنبھلی سے سلسلہ تلمذ استوار کیا۔ وارث کا کلام رسالہ زمانہ( کانپور) میں خصوصیت سے شائع ہوا کرتا تھا۔ وہ کانپور کی ایک ادبی انجمن موسوم حلقہ ادبیہ کے فعال رکن بھی رہے۔
طیش مارہروی کے اشعار رواں اور زبان پر چڑھنے والے ہوتے تھے۔ معروف شعرا کے بعض مشہور ِزمانہ اشعار ایسے بھی دیکھنے میں آتے ہیں جو اپنے مضمون یا خیال کے اعتبار سے طیش کے بعض شعروں سے مناسبت رکھتے ہیں، بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ طیش ہی کے شعروں سے استفادے کا نتیجہ معلوم ہوتے ہیں۔ ذیل میں صرف دو مثالیں پیش کی جاتی ہیں :
وہ شہرہ آفاق شعر جسے عام طور پر میر سے منسوب کیا جاتا ہے یعنی ؎
وہ آئے بزم اتنا تو میر نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
اس شعر کی بابت یہ امر محقق ہے کہ یہ شعر میر کا نہیں،اس شعر کے متعلق اکثرشہادتیں فکر رامپوری کے حق میں ہیں۔ یہ شعر فکر کی ایک غزل کا مقطع بتلایا جاتا ہے جو اس طرح ہے ؎
وہ آئے بزم میں اتنا تو فکر نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
طیش کی ایک غزل جو اسی زمین میں ہے مارچ واپریل 1910کے جلوئہ یار میں شائع ہوئی ہے۔ جلوہ یار ایک ماہوارگلدستہ تھاجس میں شعرا کا بیشتر طرحی کلام شائع ہوتا تھا، اس گلدستے کو نواب رام پور کی سرپرستی حاصل تھی اور شعرائے رامپور کا کلام اس میں خصوصیت سے شائع ہوا کرتا تھا۔ مذکورہ شمارے کے لیے مصرعِ طرح یہ تھا ؎
خیالِ یار رہا دل میں بیکسی نہ رہی
طیش کی غزل26 اشعار پر مشتمل ہے ،مطلع اور چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎
غضب ہے گر ترے خنجر کی دل لگی نہ رہی
ہماری جان کا کیا ہے رہی رہی نہ رہی
ہزار بار یہ دیکھا کہ ان کے چہرے سے
نظر جو ہٹ گئی آنکھوں میں روشنی نہ رہی
ہزار نقشِ کفِ پائے غیر دیکھے ہیں
ہمارے سجدوں کے قابل تری گلی نہ رہی
اس طرح میں متعدد شعرا نے طبع آزمائی فرمائی ہے لیکن صرف تین شعرا نے روشنی کا قافیہ باندھا ہے اور ان تین میں بھی صرف طیش نے ’’چراغوں میں روشنی‘‘ کا مضمون ادا کیا ہے۔ طیش کا شعر یہ ہے ؎
بیان تیرگیِ شام ہجر۔ تابہ کجا
خلاصہ یہ کہ چراغوں میں روشنی نہ رہی
قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ طیش کے مصرع ثانی میں کس قدر روانی اورسلاست ہے۔
فراق گورکھپوری کا ایک مشہور شعر ہے ؎
کھو دیا تم کو تو ہم پوچھتے پھرتے ہیں یہی
جس کی تقدیر بگڑ جائے وہ کرتا کیا ہے
طیش کی ایک غزل جونومبر 1909کے جلوہ یار میں شائع ہوئی اس کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
ہم یہی پوچھتے پھرتے ہیں زمانے بھر سے
جن کی تقدیر بگڑ جاتی ہے کیا کرتے ہیں
سطور بالا سے ظاہر ہے کہ ان اشعار میں مذکورہ مضمون اور خیال کو برتنے میں طیش ہی نے مسابقت کی ہے۔
طیش ایک قادر الکلام اور پختہ گو شاعر تھے ۔ ان کے کلام میں بلاشک وہ تمام تر فنی محاسن موجود ہیں جو ایک اچھی شاعری کا لوازمہ تصور کیے جاتے ہیں، لیکن ان کو وہ شہرت حاصل نہ ہو سکی جو اُن کے بعض خواجہ تاش اور دیگر ہمعصر شعرا کے حصے میں آئی۔ شعرائے رامپور یا دربار رامپور سے متعلق جو تذکرے ابھی تک منظر عام پر آ چکے ہیں ان میں بھی طیش کا ذکر نہیں ملتا اور اگر کہیں ملتا بھی ہے تو برائے نام۔
ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو والے اپنے ان باکمالوں کو بھی یاد کرتے رہیں جن کو ا ب قر یب قریب بھلا دیا جا چکا ہے۔
آخر میں طیش مارہروی کے کلام کا انتخاب ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو ؎
غزل
میں ہاتھ اٹھا دوں تو یہ ساماں نظر آئے
خود دوڑ کے آغوش دعا میں اثر آئے
مجھ تک ہی شرارت سے نہ یہ فتنہ گر آئے
ہاں تیر تمہارے ادھرآئے ادھر آئے
کچھ دیر کہیں حال طبیعت کا کسی سے
کچھ دیر کو قابو میں طبیعت اگر آئے
میں ہوش میں آیا تو وہ بولے شبِ وعدہ
ہم آپ کے آنے سے یہاں پیشتر آئے
اپنی بھی تو صورت پہ تمہارا ہی گماں ہے
آئینہ جو دیکھا تو تمھیں تم نظر آئے
یہ خیر ہے چھپ جاتے ہیں دکھلا کے وہ جلوہ
عاشق تو حواسوں میں نہ دو دو پہر آئے
وہ روٹھ کے بیٹھے ہیں مجھے دیکے یہ دھمکی
جو آئے مرے پاس سمجھ سوچ کر آئے
کی خوف زدہ ہوکے جو فریاد کسی نے
نالے مرے افلاک پہ چڑھ کر اتر آئے
اس نے بھی اسی وقت چنی مانگ میں افشاں
جب کاہکشاں میں اسے تارے نظر آئے
کیا کرتے ہیں اغیار طواف اس کے مکاں کا
چکر مجھے اے طیش یہ کیوں رات بھر آئے
( ماخوذ از کمال دہلی ستمبر 1909 )
غزل
نہ کہہ کہ مجھ پہ ترا اختیار کیا ہوگا
جو تو ہی کرنے لگا مجھ کو پیار کیا ہوگا
ادھر کھچی ہوئی تو اس طرف خفا قاتل
ہمارا فیصلہ اے جان زار کیا ہوگا
یہاں تو اٹھ نہ رہی کچھ کسر ہمارے ساتھ
یہ دیکھنا ہے کہ زیر مزار کیا ہوگا
گلے میں ڈال لو باہیں مری تو لطف آئے
گلے میں ڈال کے پھولوں کا ہار کیا ہوگا
کرے گا ہجو جو ممبر پہ مے کی او زاہد
لپٹ پڑے جو تجھے بادہ خوار کیا ہوگا
یہ سوز دل کی ہے چنگاریوں سے خوف مجھے
اڑے نکل کے اگر یہ شرار کیا ہوگا
شباب لائیں کہاں سے کہ پھر مریں تم پر
یہ ایک بار ہوا بار بار کیا ہوگا
مری فغاں سے پڑی ہے فلک پہ اک ہلچل
فرشتے کہتے ہیں پروردگار کیا ہوگا
مرے گناہ تو ہیں بے شمار اے زاہد
شمار ان کا بروز شمار کیا ہوگا
کہے گا دابنے کو پاؤں کوئی کیوں ہم سے
کسی کو ہم پہ بھلا اعتبار کیا ہوگا
حیا و شرم سے جکڑے ہوں دست و پا جس کے
وہ کھل کے وصل کی شب ہمکنار کیا ہوگا
ستم اٹھائے عدو کے بڑی متانت سے
تمہاری طرح کوئی بردبار کیا ہوگا
یہ مجھ سے پوچھتی ہے بار بار حسرت وصل
نہ آئے وہ تو شب انتظار کیا ہوگا
مکاں سجایا ہے اے طیش کس لیے تو نے
بتا تو آج ترے گھر میں یار کیا ہوگا
(ماخوذ از گلدستہ جلوئہ یار بابت ماہ ستمبر 1909)

حواشی:
1 اردوئے معلیٰ علی گڑھ بابت اپریل 1913
2 حدیقئہ نعت مصنفہ طیش مارہروی مطبوعہ 1922
3 ایضاََ
4 منشی حیات بخش رسا شاعر دربار رامپور ۔
5 قرین قیاس ہے کہ منشی محمد امین زبیری مارہروی مرادہیں۔
6 سید افتخار عالم آزاد مارہروی مصنف حیات النذیر متوفی 1924۔
7 اس رسالے کا نام زبانِ اردو تھا، ناظم علی خاں ہجر شاہجہاںپوری متوفی 20 جون 1914 کی ادارت میںشاہجہاں پور سے نکلتا تھا۔
8 نوح ناروی ۔
9 یہ طرح مشاعرہ کانفرنس بدایوں منعقد ہ 1910 کی ہے ۔
10 سید امیر حسن دلیر مارہرو ی شا گرد داغ متوفی 1958۔
11 اس زمین میں رساو طیش کی غزلیں 1909 کے تصویر مشاعرہ میں چھپی تھیں ۔
12 شوق قدوائی۔
13 ’’ تخمیسیں‘‘ یعنی تضمین نظمِ دل افروز مصنفئہ احسن مارہروی مطبوعہ علی گڑھ۔

Mr. Syed Kamran Ali
Maulvi Tola,
Near-Jama Masjid Shamsi
Badaun (U.P)
Mob.:8265813657
E-mail: syedkamranali739@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ساحرلدھیانوی کی غزل گوئی،مضمو ن نگار:قسیم اختر

اردو دنیا،اپریل 2026: ترقی پسند شعرا میں ساحر کی شخصیت بھی مجاز کی شخصیت کی طرح ہمیشہ سے دلچسپی کا مرکز رہی ہے۔ جس طرح مجاز کی شخصیت کی تعمیر

رضا نقوی واہی: اب جارہا ہوں یاس کی دنیا لیے ہوئے،مضمون نگار:عبدالحئی

اردو دنیا،اپریل 2026: اردومیں طنزومزاح کی روایات زبان کے ارتقاکے ساتھ ہی نموپانے لگی تھی۔ ولی دکنی اور جعفر زٹلی کے کلام میں مزاح نظر آجاتا ہے۔ جعفر زٹلی کے

جدتِ خیال اور ندرتِ بیان کا شاعر: غالب،مضمون نگار:فیصل خان

اردو دنیا،دسمبر 2025: مرزا غالب کی شاعری افکار ومعانی کا مخزن ہے جو زمان ومکان کی قید سے آزاد ہے۔ اس کی تفہیم وتعبیر کسی چیلنج سے کم نہیں جس