قومی اردو کونسل کے طبِ یونانی پینل کی میٹنگ،اہم کتابوں کی اشاعت پر غور و خوض

March 22, 2023 0 Comments 0 tags

 

نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی فروغِ اردو کے ساتھ اردو سے جڑے تہذیبی و علمی  ورثے کے فروغ و تحفظ کے لیے بھی سرگرم ہے۔ انسانی بیماریوں کے علاج کے قدیم و مفید ترین طریقوں پر مشتمل طبِ یونانی کا بیشتر علمی سرمایہ اردو زبان میں ہے اور اس شعبے میں نئی نئی دریافتیں بھی سامنے آرہی ہیں ، کونسل اس سرمایے کے تحفظ کے ساتھ طب یونانی کے نئے پہلووں پر باقاعدہ ایک پینل کی رہنمائی میں کام کر رہی ہے، چنانچہ اب تک اس موضوع اور اس کے متعلقات پر درجنوں اہم کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ اس حوالے سے جاری علمی و اشاعتی سرگرمیوں کا جائزہ لینے اور نئے موضوعات پر غور و خوض کے لیے آج کونسل کے طب یونانی پینل کی میٹنگ کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت پینل کے صدر محترم ڈاکٹر خالد صدیقی نے کی۔ اس موقعے پر انھوں نے طب یونانی کے فروغ میں کونسل کے کردار کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ڈائرکٹر صاحب اور متعلقہ ذمے داران کی توجہ کی بدولت اب تک بہت سی قیمتی کتابیں یہاں سے شائع ہوچکی ہیں اور ہمیں خوشی ہے کہ پینل کے ذریعے کئی اہم علمی و اشاعتی منصوبوں پر کام ہورہا ہے جو عنقریب منظر عام پر آجائے گا۔  قبل ازیں کونسل کے ریسرچ آفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ نے پینل کے تمام ممبران کا خیر مقدم کیا اور پینل کے زیر نگرانی چل رہے منصوبوں کی صورتِ حال سے انھیں واقف کروایا۔ انھوں نے بتایا کہ تشریح البدن (تین جلدیں) شائع ہوچکی ہے جبکہ جراحت، امراض نسواں و قبالہ، کلیات ادویہ اورامراض اطفال جیسی کتابوں پر کام جاری ہے،ان میں سے بیشتر کتابیں تقریباً آخری مرحلے میں ہیں ۔ پینل کے ممبران نے ان کتابوں کی موجودہ سٹیٹس کا جائزہ لیا اور قابل ترمیم امور کی نشان دہی کے ساتھ ان کی جلد اشاعت پر زور دیا۔ انھوں نے طب یونانی اور میڈیکل سائنس کے شعبے میں ہونے والی نئی تبدیلیوں/ترقیات پر نظر رکھنے اور ان کی روشنی میں نئی علمی و تحقیقی کتابوں کی تیاری پر بھی توجہ دلائی۔ میٹنگ میں پینل کے ممبران ڈاکٹر محمد آفتاب، ڈاکٹر محمد اکرم اور کونسل کی ریسرچ اسسٹنٹ ذیشان فاطمہ وغیرہ بھی شریک رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ماہر عروض و لغت ڈاکٹر شعور اعظمی سے گفتگو، از عزادار ساجد

 ماہنامہ اردو دنیا، اپریل 2024 عزادار ساجد: آپ کی پیدائش کب اور کہاں ہوئی؟ شعور اعظمی: میرا تاریخی نام ’سید کلیم اختر‘ ہے۔ اس طرح 1374 ھ سنہ پیدائش ہے۔

آندھرا پردیش میں دکنی تحقیق اور تدریس،روایت اور معاصر صورت حال، مضمون نگار: ستار ساحر

 اردو دنیا، اکتوبر2024 اردو ادب کے وزن و وقار‘ اعتبار اور رنگ و نکھار کا شاندار قصر دکنی شعر و ادب کی بنیاد پر تعمیر ہوا ہے۔ ہمارے جن بزرگوں

ابن صفی کے تنقیدی خیالات، مضمون نگار: محمد طیب علی

 ماہنامہ اردو دنیا، مئی 2024   ابن صفی شاعر تھے، طنز و مزاح نگار تھے اور جاسوسی ناول نگاری کی وجہ سے انھیں شہرت، مقبولیت اور عظمت حاصل ہوئی۔وہ تنقید