اردو دنیا، مئی 2026:
سرزمین کرناٹک تاریخی، تہذ یہی اور ثقافتی لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے۔ زمانہ قدیم سے یہاں کئی سلاطین نے حکمرانی کی ہے۔ نداس، موریہ، چالوکہ، راشٹر کوٹا، سلطنتِ وجئے نگر، بہمنی ، قطب شاہی اور سلطنت خداداد کے حکمرانوں نے اس زمین کو نہ صرف تہذ یبی وثقافتی اعتبار سے فروغ دیا بلکہ ادب کی سرپرستی اور اس کی آبیاری میں کوشاں رہے۔ آزادی وطن سے پہلے کرناٹک کا اصل نام ریاست میسور تھا، جو برطانوی اقتدار کا ایک حصہ تھا۔1973 میں ریاستِ میسور کا نام بدل کر ریاست کرناٹک کر دیا گیا۔ یہاں کی علاقائی زبان کنڑاہے مگر مشترکہ زبان اردو ہے جو زمانۂ قدیم سے بہمنیوں اور خاص طور پر عادل شاہی عہد کی دکنی زبان ریاست کرناٹک کے تمام علاقوں میں اپنا اثر قائم کر چکی ہے۔ دکنی اردو دکن اور کرناٹک کی زندہ زبان ہے اور زندہ زبان اسی وقت مٹتی ہے جب اس کے بولنے والے نہ رہیں۔ ادب میں دکنی اردو کا استعمال نہ رہا مگر عوام میں روز مرہ کی حیثیت سے دکنی اردو زندہ زبان کی حیثیت سے آج بھی فروغ پارہی ہے۔مجھے امید ہے کہ دکنی ادب کو اگر دوبارہ اہم رسائل کے ذریعہ فروغ دیا جائے تو تلنگانہ سے زیادہ کرناٹک سے اس کا ذخیر ہ سامنے آئے گا۔ کیونکہ ابھی دکنی کا استعمال اسلوب میں صر ف مزاح کے لیے ہوتا ہے۔ اور نگ آباد اور حیدرآباد کی زبان اس معاملہ میں بہت ہی زیادہ سہل پسند واقع ہوچکی ہے جب کہ کرناٹک میں بیدر، گلبرگہ، شیموگہ اور جیسے جیسے میسور کی جانب سفر کریں گے آپ کو لفظیات میں بہت ہی زیاہ تنوع دیکھنے کو ملے گا۔ اس سے اردو زبان وادب کے ذخائر میں اضافہ ہی ہوگا، شاید ہی کسی قسم کا نقصان ہو۔
بہر حال اردو زبان و ادب کے فروغ کا جب بھی تذکرہ چھڑے گاتو میر سر زمین کرناٹک کے ذکر کے بنا مکمل نہیں ہوگا۔
ہندوستان کی دوسری ریاست کی طرح کرناٹک میں بھی شعروادب کا مذاق عام ہے۔ اس وقت کرناٹک میں تین نسلوں کے قلمکار و فنکار سر گر م عمل ہیں اور اردو زبان و ادب کی نمائندگی کر رہے ہیں۔کرناٹک میں سب سے سرگرم اور محترم ادیب و شاعر کی حیثیت سے خلیل مامون صاحب یاد کیے جاتے تھے۔جو چند مہینے پہلے اللہ کو پیارے ہو گئے۔وہ نظموں کے سب سے منفرد اور توانا شاعر تھے۔ اور ’نیا ادب‘ کے نام سے کتابی سلسلہ بھی نکالتے تھے۔ وہ نیا ادب کے نام سے ہر مہینے ادبی پروگرام بھی کیا کرتے تھے جن سے کرناٹک میں ادبی چہل پہل برقرار تھی۔ان کے گزر جانے کے بعد ایک طرح کے سناٹے کا احساس ہوتا ہے۔یہاں انھیں یاد کرنا بطور خراج عقیدت بھی ہے۔
کرناٹک کے فنکاروں نے ہر صنف میں طبع آزمائی کی ہے۔ شاعری، فکشن،تحقیق و تنقید میں ان کی خدمات نمایاں ہیں۔مجتبیٰ حسین، سلیمان خطیب، محمود ایاز، اکرام باگ، م۔ن سعید،خالد سعید، ڈاکٹر طیب انصاری، وہاب عندلیب، خلیل مامون،میمونہ تسنیم، ممتاز شیریں، حلیمہ فردوس ان تمام نامور ادیب و شاعر نے کرناٹک کی ادبی تاریخ میں اپنا نام روشن کیا ہے اور ہمارے یہاں کا معاصر ادبی منظر نامہ انہی سب سے روشن ہے۔
فکشن نگاری کے حوالے سے کرناٹک کا ادب سرسبز وشاداب ہے۔ یہاں کے فکشن نگاروں کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو ایک لمبی فہرست نظر آتی ہے۔کرناٹک کی فکشن نگاری کی تاریخ کا دور کم و بیش 81 سال کا رہاہے۔اس مختصر سے عرصے میں ریاست کرناٹک کے تقریبا 15 ناول نگار اور 150 افسانہ نگاروں نے ادبی نثر کے فروغ میں اپنی خدمات پیش کی ہیں۔روایت، عصریت، جدیدیت اور مختلف رجحانات،تحریکات و میلانات کا امتزاج یہاں کے فکشن میں نمایاں ہے۔ اسلوب، آہنگ اور لب و لہجہ کے اعتبار سے یہاں کے فنکاروں نے اپنی پہچان بنائی ہے۔ فکشن میں میمونہ تسنیم، ممتاز شیریں، حناروحی،یوسف عارفی،انل ٹھکر، م ن سعید، اکرام باگ، وحید انجم جیسی نامور شخصیات کا ذکر ملتاہے۔
اکرام باگ کا شمار کرناٹک کے صف اول کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے کرناٹک کی افسانہ نگاری کو نئی فنی تبدیلوں سے آشنا کروا یا۔ان کے افسانوں میں پوشیدہ تلخ حقائق نے مطالعہ کے شوقین قاری کواپنے فنکارانہ سحر میں باندھے رکھا۔ ان کے افسانے جدیدیت،تجریدیت اور علامت نگاری کے نئے باب سے روشناس کرواتے ہیں۔ اکرام باگ کے افسانوں کے متعلق شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں:
’’اکرام باگ کے افسانے بنیادی طور پر ذاتی المیے کی داستانیں ہیں۔ انھوں نے تجرید اور شدتــ تاثر سے بھرے ہوئے افسانے لکھے ہیں۔ ان کے افسانے میں علامت کے پردے میں تمام تر رعنائی اور رنگینی کے ساتھ باہر کی روشنی اور اندر کی روشنی کویکجا چھان کرنئے رنگوں میں پیش کرتے ہیں۔
اکرام باگ کے افسانوں کا مجموعی تاثر زیاں اور گزران کے ماتم کا ہے۔ دنیا کا رگاہ عمل تو ہے لیکن اس کے عمل زیادہ تر زیاں، گمشدگی کی طرف لے جاتے ہیں۔ انسان اپنی تمام ذہنی اور علمی قوتوں کے باوجود دنیا میں پوری طرح قائم نہیں ہوتا۔ اس کے دوست اور چاہنے والے ہی اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کی تحریروں نے جدیدیت اورــــــــــ شب خون کو اعتبار بخشا۔ اگرچہ میں ان کے بارے میں کبھی کچھ لکھ نہ سکا لیکن جدید ادب کی جدو جہد ان کے بغیر کامیاب نہ ہوتی۔‘‘
(اندوختہ: اکرام باگ، ص12)
علامت نگاری میں جہاں انتظار حسین اور سلام بن رزاق کا نام آتا ہے وہیں یوسف عارفی کا بھی نام لیا جاتا ہے۔ تہذیبوں کا زوال اور انسانیت کی مٹتی ہوئی قدروں کو علامتی انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کا ایک افسانوی مجموعہ ’آج کے بعد‘منظر عام پر آچکا ہے۔ اس مجموعہ کی ادبی شہرت کے باعث 2002 میں کرناٹک اردو اکادمی نے انھیں بہترین افسانہ نگار کے ایوارڑ سے نوازا۔یوسف عارفی نے بہت کم لکھا اور جو بھی تحریر کیا وہ معیاری ہے۔
ریاست کرناٹک کے ایک اہم فکشن نگار انل ٹھکر ہیں۔ ان کے تین افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔ ہندوستان کی تہذیب،فرقہ وارانہ فسادات،فرد کے مسائل ان کے افسانوں کے اہم موضوعات ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے ناول نگاری میں بھی اہم مقام حاصل کیا ہے۔ دور جدید میں سلمیٰ صنم،کوثر پروین،ضیا ء جعفر، ضیاء کرناٹکی اور طاہرہ نورانی کے افسانے رسالوں کی زینت بن رہے ہیں۔ افسانوں کے بمقابل ناول کا سرمایہ کم ہے۔تاہم اہم ناول نگاروں کا ذکر ضروری ہے۔حسنیٰ سرور(سیما) انل ٹھکر(پس اشک)برجس بیگم (کفارہ) فریدہ رحمت اللہ(قسمت کے خریدار) قابل ذکر ہیں۔
اس موقع پر اگر صرف انل ٹھکر کے بارے میں بات کروں تو یہ کہہ سکتی ہوں کہ وہ کرناٹکا کے واحد ہمہ جہت فنکار ہیں جنھوں نے نثری تخلیقات میں ناول، افسانہ اور ڈرامے میں کرناٹک کی عمدہ نمائندگی کی ہے۔ لیکن انھیں خاطرخواہ پذیرائی نہیں ملی۔ اپنی زندگی میں وہ اپنی تحریری اور ذاتی نمائندگی رسائل و سمینار میں کراتے رہے لیکن جو تخلیقات انھوں نے چھوڑی ہیں ان پر سنجیدگی سے بھی غور کرنا چاہیے۔ انھوں نے اردو ادب کو نصف صدی سے زائد دیا ہے۔ ایسے میں مجھے امید ہے کہ اہم رسائل میں چند صفحات ضرور انھیں دیے جائیں گے، تاکہ ان کی شمع جلتی رہے۔بہر حال ان کے افسانہ نگاری کے متعلق حامدی کاشمیری لکھتے ہیں:
’’انل ٹھکر ایک اچھے افسانہ نگار ہیں ان کے افسانے کہانی پن کی زندہ مثال ہیں۔ وہ افسانے پرکہانی کو طاری کرنے کے لیے کدو کاوش نہیں کرتے بلکہ غیر معمولی خلاقی سے افسانہ کی خلقی افسانویت کو دریافت کرنے کے عمل کو روا رکھتے ہیں۔ دریافت کے اس اکتشافی عمل میں وہ مصنف کی حیثیت سے پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور افسانہ خود اپنی افسانویت کی یافت اور تحفظ کرتے ہوئے اپنے کلی وجود کا اثبات کرتا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جو افسانے کو افسوں بناتا ہے اور قاری غیر ارادی طور پر اس کے حاوی اثر کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ اس نکتے کی قدرے تفصیل بیان کی جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ کہ انل ٹھکر افسانہ نگار کی حیثیت سے افسانے پر حاوی ہوتے ہیں نہ اس میں دخل اندازی کرتے ہیں۔ افسانہ ان کی تخلیقی شخصیت جو ثقافتی علامتی اور اساطیر ی عناصر کا مرکب ہے، سے تمام تر آب و رنگ کشید کرکے فنی لوازم کا احترام کرتے ہوئے اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے اور ایک زندہ، خود کفیل اور حرکی وجود کی طرح دھڑکتا ہے، پھیلتا ہے اور آس پاس کی فضا کو مرتعش اورمنور کرتا ہے۔ ‘‘ ( موسمی پرندے : انل ٹھکر، ص10)
طنز و مزاح میں کرناٹک کے تخلیق کاروں کی ایک طویل فہرست ملتی ہے۔ مجتبیٰ حسین، سلیمان خطیب، حلیمہ فردوس، رؤف خوشتر، منظور وقار، مشتاق سعید کے نام قابل ِ داد ہیں۔ جنھوں نے طنز و مزاح کو اپنے فن کا خاص وصف بنایا ہے۔ ان سب میں نمایاں نام مجتبیٰ حسین اور سلیمان خطیب کے ہیں۔ آفاقی شہرت ِیافتہ طنز و مزاح نگارمجتبیٰ حسین کا تعلق شہر گلبرگہ سے ہے۔ شہرگلبرگہ اردو زبان وادب کے سلسلے میں آج بھی بہت زرخیز ہے۔ مجتبیٰ حسین اس شہر کے سپتر ہیں۔ آج ہندوستان کے طنز و مزاح کا سنہر ا باب انہی کے نام سے روشن ہے۔ چودہ کتابوں کے مصنف ہیں۔ جن میں سے سات کتابیں مزاحیہ مضامین پر مبنی ہیں۔ تکلف بر طرف، آخرالغرض، آخر کار، قطع کلام، قصہ مختصر اور بہرحال، خالص مزاحیہ مجموعے ہیں۔ آزادی کے بعد خاکوں کا بار صرف کرناٹک نے اٹھائے رکھا ہے۔ اس سرزمین میں خاکہ نگاروں کی ایک طویل فہرست شامل ہے۔ اس سلسلے میں بھی مجتبیٰ حسین کے خاکے طنزو مزاج کا بہترین مرقع ہیں۔ آدمی نامہ، سو ہے وہ بھی آدمی اور ہوئے ہم دوست جس کے ٗمیں پیش کردہ خاکے ہماری توجہ کا مرکز ہیں۔ مجتبیٰ حسین کی ادبی اہمیت کا انداز اس بات سے لگا لیں کہ آپ کے انتقال کے بعد ادب کی قدآور شخصیت شمس الرحمن فاروقی کے قلم سے ایک طویل مضمون رقم ہوا اور رسالوں کا زینت بنا-گوپی چند نارنگ نے بھی آپ کے فن کے بارے میں خوبصورت رائے دی ہے۔
’’ جتنے بھی گُرہیں اس فن کے مجتبیٰ حسین اس سب میں واقف ہیں اور ان حربوں کو وہ نہایت سہولت سے فطری طور پر برتتے رہے ہیں۔اس لحاظ سے دیکھیں تو وہ’Born Humourist‘ہے۔‘‘
(مجتبیٰ حسین:فن کے چند پہلو،گوپی چند نارنگ)
طنز و مزاح میں اور ایک اہم نام سلیمان خطیب کا ہے۔ جن کی طنزیہ شاعری نے دور جدید کے دکنی ادب پر اپنا گہرا نقوش مرتب کیا ہے۔ زندگی کے معمولی سے پہلو جس کوہم کبھی نظر انداز کر دیتے ہیں ان پہلوؤں کو سلیمان خطیب اتنی جاذبیت کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ ہم ان کے دلدادہ بن جاتے ہیں۔طرہ ّیہ کہ اس میں دکنی زبان کا تڑکہ سونے پہ سہاگے کا کام کرتا ہے۔ دکنیات کے ضمن میں جتنی قدر قلی قطب شاہ، ملاو جہی،غواصی کو حاصل ہے اتنی ہی عزت سلیمان خطیب کی ہے۔ دور جدید میں بھی دکنی میں اتنی خو بصورت نظمیں پیش کی ہیں وہ بے مثال ہیں۔ہنستے ہنستے سماج کی برائیوں و کمزوریوں پر بہت گہری چوٹ کرتے ہیں کہ انسان اپنے اندر پوشیدہ عیبوں پر نادم ہوجاتا ہے۔نظم تجارت شادی کے یہ چند مصرعے دیکھیے ؎
جس کی بچی جوان ہوتی ہے
کس مصیبت میں جان ہوتی ہے
بوڑھے ماں باپ کے کلیجے پر
ایک بھاری چٹان ہوتی ہے
جی میں آتا ہے اپنی بچی کو
اپنے ہاتھوں سے خود ہی دفنا دیں
خالص طنز و مزاح میں ایک اہم نام حلیمہ فردوس کا ہے۔ اتفاق سے ان کا تعلق بھی شہرگلبر گہ سے ہے۔ تنقید وتحقیق میں جتنی پارکھی نظر رکھتی ہیں طنز و مزاح پر اتنی ہی مضبوط گرفت رکھتی ہیں اور بچوں کے ادب سے بھی آپ کو خاصی دلچسپی ہے۔ طنز و مزاح پرمبنی مضامین کے دو مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں اور تنقیدی مضامین کا مجموعہ’ارج‘کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ تلمیحات اقبال، کرشن چندر، فیض اور عصمت کے فن پر آپ کے مضامین توجہ کے طالب ہیں۔
ابھی تک جن مصنفین کا ذکر کیا ہے ان کا ایک خاص وصف یہ بھی کہ اپنے ریاستی یا غیر ریاستی ادب کو اردو کے قلب میں ڈھالاہے اور اردو کے دامن کو وسیع سے وسیع تر بنانے میں کوشاں ہیں۔ اس سلسلے میں ترجمہ نگاری کے فن میں ماہر منصور، پرفیسر م۔ن سعید، حمید الماس، شادباگل کوٹی،ساغر کرناٹکی کی خدمات بھی نا قابل فراموش ہیں۔ پروفیسر م ن سعید’خواب نامہ ٹیپو سلطان‘ گریش کارناڈ کی تخلیقThe Dreams of Tippu Sultanکا ترجمہ ہے۔ یہ ترجمہ نگاری کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نصابی کتابوں میں یہ ڈرامہ شامل ہے۔ اس ضمن میں ایک اہم نام ماہر منصور کا ہے۔ تقریباً چالیس کتابوں کو اردو کے قالب میں منتقل کیا ہے۔کنڑ اور دوسری زبانوں کے ایوارڈیافتہ کتابوں کا انتخاب ماہر منصور نے کیا اور اردو میں ترجمہ کیا انھوں نے اتنا کام کر لیا کہ شاید ایک صدی میں اتنا کام نہیں ہوسکتا۔ ترجمہ نگاری کا آغاز بھی ریاست کرنا ٹک سے عبارت ہے۔ ابن عاصی اپنے مضمون اردو ادب میں فن ترجمہ نگاری کی روایت میں لکھتے ہیں:
’’کہا جاتا ہے کہ اردو زبان میں ترجمہ نگاری کے حوالے سے سب سے پہلی کتاب’ نشاۃ العشق‘ ہے۔ یہ ایک صوفی بزرگ عبداللہ حسینی جو حضرت بندہ نواز گیسودراز کے پوتے تھے نے اردو ترجمہ کی۔‘‘
(کرناٹک میں اردو ماضی اور حال، ص41)
دنیا خلیل مامون کو بطور شاعر پہچانتی ہے۔لیکن وہ جتنے بڑے شاعر ہیں اتنے ہی بڑے ترجمہ نگار بھی۔ خلیل مامون کی ادبی خدمات پر ایک ضخیم کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ شہرہ آفاق انگریزی نظموں کا ترجمہ انیس لیلیٰ نظمیں کے عنوان سے 1989 میں شائع ہوا علاوہ ازیں ’کنڑادب شاعری اور فکشن کا ترجمہ‘ 1994 میں شائع ہوا۔ اور تاثرات کے عنوان سے ان کے تنقید کی مضامین کا مجموعہ منظر عام پر آیا۔ ان کے تنقیدی نظریات مغربی ادب کو بہتر طور سمجھنے اور پر کھنے میں معاون ہیں۔
تحقیق و تنقید کے حوالے سے کرناٹک کا ادب ترقی کے راستے طے کر رہا ہے۔ کرناٹک کی چند معتبر ادبی شخصیات نے تحقیق و تنقید کے میدان میں اپنی چھاپ چھوڑی ہے۔ تحقیق و تنقید کے حوالے سے اہم نام پروفیسر م ن سعید کا ہے۔ ان کی تحقیقی تصانیف میں ’حضرت خواجہ بندہ نوازسے منسوب دکنی رسائل‘، ’حیات وجہی‘،’قطب مشتری تحسین وتخمین‘، ’دُرالاسرار‘ شامل ہیں۔ ان کے تنقیدی و تحقیقی نظریات اور صلاحیتوں کا اعتراف اردو ادب کی قدآور شخصیات نے کیا ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ نو رانی نے اپنے مقالے ’’پر وفیسر م ن سعید کی تحقیقی اور تنقیدی خدمات ‘‘میں لکھتی ہیں کہ ’’بابائے اردو مولوی عبدالحق نے معراج العاشقین کے دیباچے میں اردو کے پہلے نثر نگار کی حیثیت سے خواجہ بندہ نواز کا تعارف کر ایا۔ بابائے اردو مولوی عبد الحق کی تقلید میں خواجہ بندہ نواز کو اردو کا اولین نثر نگار تسلیم کر لیا اس میں مولوی نصیر الدین ہاشمی، پروفیسر گوپی چند نارنگ اور خلیق انجم جیسے نام شامل ہیں۔‘‘ پروفیسرم،ن سعید نے تیرہ قلمی نسخوں کے حوالے سے یہ بات ثابت کردی کے معراج العاشقین خواجہ بندہ نواز کی تصنیف نہیں ہے۔ دکنی ادب کی تحقیق ہو یا تحقیق کے اصول وضوابط پر مبنی تحقیق ہو اس میں پہلا نام پروفیسر م،ن سعید کا آتا ہے۔ پروفیسر گیان چند جیسی قد آور شخصیت نے ان کے تحقیقی کام کو سراہا ہے۔ لکھتے ہیں کہ:
’’…ان کا مقالہ تحقیقی حزم و احتیاط اور تحقیقی تجزیے کا بہت اچھا نمونہ ہے۔ انھوں نے ایک ایک اردو رسالے کو جانچ کر یہ طے کیا کہ خواجہ صاحب نے اردو میں کوئی رسالہ نہیں لکھا۔‘‘
(عصر حاضر میں جنوبی ہند کے ممتاز اردوناقد اور محقق: ڈاکٹر تمیم احمد۔وی)
تحقیق کے سلسلے میں ایک اور اہم نام ڈاکٹر فہمیدہ بیگم کا ہے۔ آپ کی تحقیقی تصانیف ’ریاست میسور میں اردو مثنوی کا ارتقا ‘،’کرناٹک میں اردو مثنویاں‘، ’میسوری اردو اور علامت فاعل‘،’شعورزبان‘، ’قدیم اردو نظم‘ شامل ہیں۔ انھوں نے تقریباً تین سو مثنویوں کے متن کا تقابلی مطالعہ کیا اور وہ رائے قائم کی کہ اردوداں طبقے نے اس کا اعتراف کیاہے۔ ڈاکٹر فہمیدہ بیگم کی تحقیق کے بارے میں خواجہ احمد فاروقی لکھتے ہیں :
’’ان کا کوئی مضمون ایسا نہیں ہے جس کا ہر صفحہ غوروفکر کی دعوت نہ دیتاہو۔ جس میں انھوں نے زبان کے مطالعہ کو نفسیات،عمرانیات اور دوسرے سانئسی علوم سے جوڑنے کی کوشش نہ کی ہو۔ان کی علمی دنیا بھی مضبوط ہے اس لے انھوں نے اردو کے کلاسیکی ادب کا مطالعہ بہت محنت سے کیاہے۔ ان کے یہاں جو تاریخی، تحقیقی اور فلسفیانہ تعلیم ہے وہ بھی عام دسترس سے باہر۔‘‘ (شعورزبان، ص13)
تحقیق و تنقید کے میدان میں جن محققین و ناقدین نے اپنی خدمات انجام دیں ان میں ڈاکٹر طیب انصاری (عہدآصفیہ اردو نثر) خالدسعید (بارہ مضامین) وہاب عندلیب(تحقیق و تجزیہ) پروفیسر عبدالرب استاد (درِادب)۔ نئی نسل کے لکھنے والوں کی فہرست میں ڈاکٹر طاہرہ نورانی اور ڈاکٹر رمیشاقمر کے نام قابل ذکر ہیں۔ ڈاکٹر طاہرہ نورانی کی تحقیقی کتاب ’ریاست کرناٹک میں تعلیم و تدریس ایک جائزہ ‘ منظرعام پرآچکی ہے۔ انھوں نے شمس الرحمن فاروقی کے فکشن پر کام کیا ہے۔ ان کی کتاب ’شمس الرحمن فاروقی اور ان کے افسانے‘ 2014 میں شائع ہوئی۔
شاعری کے ضمن میں بات کریں تو ریاست میں بیش بہا سرمایہ موجود ہے۔ محمود ایاز،حمید الماس،خلیل مامون،خالد سعید،راہی فدائی، سلیمان خطیب،تنہا تماپوری کی شاعری نے ایک صدی کو متاثر کیا ہے۔ مندرجہ بالا سطور میں خلیل مامون اور سلیمان خطیب کا ذکرآ چکاہے۔یہاں خالد سعید کی شاعری کے بھی چند کلمات ضروری ہیں جس میں بدلتی نئی تہذیب کا المیہ اور اس نئی تہذیب میں انسان کی زندگی کا عکس خالد سعید کی شاعری کا خاصہ ہے۔انھوں نے کیا خوب لکھا ہے ؎
ہمارے بستی میں کون پھر معتبر رہے گا
کہ آئینوں میں اُتر رہا ہے غبار سا کچھ
اک تو کہ سود و نفع کا قائل ہے ہر گھڑی
اک میں کہ خرچ ہوتا ہوں بے کار بے سبب
سلیمان خمار، راہی قریشی، ساغر کرناٹکی،کے مدنامنظر، ساجدحمید، اکرم نقاش اور حامد اکمل ایسے کئی نام میں جنھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے عہد سازی کی ہے۔ میں نے رواروی میں حافظ کرنا ٹکی کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا، کیونکہ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن اور ادب اطفال کے لیے تحریک کی حیثیت ر کھتے ہیں۔
جامعاتِ کرناٹک میں تحقیق کا کام اپنے عروج پر ہے۔ آنے والے دور میں نئی تحقیق ہمارے پیش نظر ہوگی۔ تخلیقی میدان میں بھی نئے نام جگمگا رہے ہیں۔
مآخذ و مصادر
1 اندوختہ:اکرام باگ
2 آج کے بعد:یوسف عارفی
3 موسمی پرندے:انل ٹھکر
4 کرناٹک میں اردو ماضی اور حال: پروفیسر خواجہ اکرام الدین، ڈاکٹر رمیشاقمر
5 عصر حاضر میں جنوبی ہند کے ممتاز اردوناقد اور محقق- ڈاکٹر تمیم احمد۔وی
6 جنوبی ہند میںاردو کی ابتدا، ارتقا اور مسائل: انجمن ترقی اردو (ہند) کرناٹک
7 کلیاتــ میمونہ تسنیم:پروفیسر م ن سعید
8 گیسوئے اردو:ڈاکٹر منظوراحمددکنی
9 شعورزبان: ڈاکٹر فہمیدہ بیگم
Dr. Anupama Pol
Assistant Professor & Head Department of Urdu Bangalore University
Mob. 8123504051
Email: anupama388@gmail.com