اردو دنیا، مئی 2026:
دربھنگہ کی سرزمین زمانۂ قدیم سے علم و ادب کا گہوارہ رہی ہے،اس کی خاک سے بڑے بڑ ے جید علما، صوفیا، اطبا،شعرا وادبا پیدا ہوئے، انھیں میں سے ایک عبقری شخصیت مولانا ابو الخیر ر حما نی کی بھی تھی جو دنیائے ادب میں خیر بہیروی کے نام سے جانے جاتے تھے،موصوف انیسویں صدی کے صاحب دیوان شاعر، بلند پایہ ادیب ا ورصحافی بھی تھے، تاحیات علمی وادبی کاموں میں کافی سرگرم اور فعال رہنے کے باوجود آپ کی زندگی میں کوئی دیوان شائع نہیں ہوسکا،جب کہ آپ نے اپنے شاگرد نواب سعادت علی خاں پیغمبر پوری کے ’دیوان سعادت‘ کو اپنی نگرانی میں بڑے تزک واحتشام کے ساتھ 1907 میں کلر فل ’منشی نول کشور پریس‘، لکھنؤ سے شائع کرایا جس میں ’حالات مصنف‘ کے تحت آپ کی تحریر نواب صاحب کی شخصیت اور شاعری پرمشتمل دیوان میں شامل ہے۔ اسی طرح مولوی سید عبدالودود بسمل کے دیوان کوبھی بڑی محبت ومحنت سے ترتیب دے کر شائع کیا۔ اس دیوان میں بھی قطعۂ تاریخ کے ساتھ آپ کی جامع تحریر شامل ہے۔ ’دیوان بسمل‘ 1905 میں مطبع اخبار بانکی پور،پٹنہ سے شائع ہوا۔
خیر رحمانی کے تمام منظوم و منثور علمی وادبی اثاثے کو ڈاکٹر افتخار احمد (شعبۂ فارسی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد) نے کئی سال کی جدوجہد اور ان تھک کوششوں کے بعد تخلیقات وتبرکات خیر کو’کلیات خیر‘ کی شکل میں شائع کرکے ایک عظیم ادبی ورثے کو محفوظ کردینے میں کامیابی حاصل کی،ڈاکٹر افتخار احمد کا یہ تاریخ ساز کارنامہ دربھنگہ اور مدھوبنی کے تمام شعرا و ادبا کی جانب سے فرض کفایہ سے کم نہیں۔ یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھاجو سوسال بعد ہوا،خیر! دیر آید درست آید۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ خیر رحمانی بہیروی انیسویں صدی کے کہنہ مشق اور صاحب دیوان شاعر تھے تذکرہ کی مشہور کتاب’تذکرہ ہزار داستان‘ کے مصنف لالہ سری رام نے’خمخانۂ جاو ید‘(جلد سوم)کے صفحہ 100 پر موصوف کی شخصیت اور شعری نمونے بھی تحریر کیے ہیں۔
مولانا خیر رحمانی دربھنگہ سے چند کیلومیٹر فاصلے پرواقع قاضی بہاری(موسوم بہ قاضی بہیرہ) کے رہنے والے تھے۔ڈاکٹر افتخار احمد لکھتے ہیں:
’’ابوالخیر وجیہ الاسلام محمد صفی الدین، تاریخی نام مظہر عالم (1286ھ) اور خیر تخلص تھا۔ چوں کہ مولانا خیر، حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ کے دامنِ عاطفت وسلسلۂ ارادت میں تھے لہٰذا خانقاہ رحمانیہ مونگیر کی مناسبت سے لفظ ’رحمانی‘کو اپنے نام میں برکت کے طور پر استعمال کیے اور دنیائے شعر و ادب میں خیر رحمانی کے نام سے متعارف ہوئے۔ ان کی ولادت موجودہ ضلع دربھنگہ کے مذکورہ قاضی بہیرہ نامی قصبہ میں21 اکتوبر1869 بمطابق 5؍ رجب المرجب1286ھ کو ہوئی۔ ان کے والد ماجد کا نام محمد شفیع الدین اور جد امجد کا نام ولایت حسین تھا۔‘‘
(کلیات خیر:مرتب ڈاکٹر افتخار احمد،ص50)
مولانا کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی،بعدہٗ ایشیا کی عظیم درسگاہ دارالعلوم دیوبند سے 1886 میں مولانا کی فراغت ہوئی،دارالعلوم دیوبند میں حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حضرت مولانا یعقوب نانوتویؒ جیسے اکابر اساتذہ سے مستفید ہونے کا موقع میسر ہوا۔ مولانا زمانۂ طالب علمی ہی سے کافی ذہین و فطین تھے،عربی،فارسی اور اردو زبان میں آپ کو یدِ طولیٰ حاصل تھا،عالم باعمل ہونے کے ساتھ شعر و ادب کا ذوق اور ملکہ فطری طور پر آپ کو حاصل تھا، ڈاکٹر افتخار احمد کے مطابق شعر و ادب کی اصلاح کے لیے حضرت داغ دہلوی سے آپ نے مراسلت کی اسی طرح امیر مینائی اور علامہ ظہیر احسن شوق نیموی سے بھی آپ کوشرف تلمذ حاصل تھا، مولانا مشاق شاعر کے ساتھ ایک بہترین ادیب، بالغ النظر صحافی، محقق،ناقد اور فکاہیہ نگار بھی تھے،متعدد رسائل کی ادا ر ت بھی آپ نے بحسن وخوبی نبھائی،حکیم سید احمد اللہ ندوی ’تذکرہ مسلم شعرائے بہار‘ میں مولانا ابو الخیر رحمانی سے متعلق لکھتے ہیں،اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’اکثر نامی اخباروں کے نامہ نگار اور اخبار ’الپنچ‘ بانکی پور، پٹنہ کے عرصہ تک ایڈیٹر بھی رہے۔ آپ کی ادارتی تحریرسے’الپنچ‘کی مقبولیت میں بیش بہا اضافہ ہوا۔ اردو نثر نویسی میں ید ِطولیٰ حا صل تھا،آپ کے دلکش اور دلر با مضامین سے نظم کا لطف آتا تھا، شعر و سخن کا بھی کمال شوق تھا۔ مولانا شو ق نیموی کے شاگرد تھے۔ آپ کی تالیفات سے ’رجم الشہاب‘نام کا ایک رسالہ چھپ چکا ہے، نمونہ کلام یہ ہے ۔‘‘
ستم بیجاکیے ہم پر، رقیبوں سے وہ درگزرے
ہمارے دل دکھانے میں جو کرنا تھا وہ کر گزرے
ہاتھ میں کیوں لیے ہو تم خنجر
لاؤ اس کو گلے لگائیں ہم
(تذکرہ مسلم شعرائے بہار: (حصہ دوم)مؤ لف حکیم سید احمد اللہ ندوی،سال اشاعت:1966، ص 23)
خیر رحمانی اردو کے علاوہ فارسی زبان میں بھی اعلیٰ شاعری کے نمونے چھوڑے موصوف کا فارسی زبان میں ایک دیوان بھی موجود ہے۔
موصوف تادم حیات معلم واتالیق کی حیثیت سے درس وتدریس کے فرائض انجام دیتے رہے،آپ کے لائق و فائق شاگردوں کی ایک لمبی فہرست ہے،ان شاگردوں میں نواب سعادت علی خان پیغمبر پوری،سید شاہ محمد حسن بسمل عظیم آبادی،سید شاہ جعفر حسین صادق، سید مظہر امام (گیا)کے نام اہم ہیں۔
مولانا کسب معاش کے لیے مختلف مقامات میں قیام پذیر رہے،مگر افسوس کہ علم وادب کے اس انمول رتن کی جیسی پذیرائی اور قدر ومنزلت ملنی تھی نہیں مل سکی۔ پروفیسر محمد کاظم مولانا سے متعلق بڑی اہم بات ’کلیات خیر‘ کے پیش لفظ میں تحریرکی ہے اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’مرزا اسد اللہ خاں غالب کے انتقال کے ٹھیک آٹھ مہینے بعد اردو کے نام نہاد دبستا نو ں سے دور لیکن ایک مردم خیز علاقے دربھنگہ میں ایک ایسی شخصیت نے 12 اکتوبر 1869 کو اس دنیا میں قدم رکھا جس کی شاعری کئی اصناف پر مشتمل ہے۔ جو غالب کی ہی مانند اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہتا رہا ہے۔ ہاں جنھیں غالب کی مانندان کی زندگی میں شہرت توکیا پہچان بھی نہ ملی کیونکہ انھیں حالی جیسا شاگرد جو نہ ملا۔ ہاں انھیں حالی و شبلی جیسا معاصر عالم وادیب ضرور ملا۔ ان کے جونیئر معاصر جید عالم دین اور آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد ان کے شائقین میں شامل رہے ہیں۔ وہ شخصیت فارسی اور اردو دونوں میں عمدہ کلام کہنے پر قادر تھی۔‘‘
(کلیاتِ خیر، مرتب: ڈاکٹر افتخار احمد، 2024، ص 39)
مولانا کے بزرگ معاصرین میں علامہ اقبال، داغ، امیر مینائی، اورشاد عظیم آبادی کے نام درج ہیں۔ معاصرین میں عبد الحمید پریشاں،سید امداد امام اثر، نصیر حسین خیال،فضل حق آزاد،مبارک حسین مبارک عظیم آبادی، شوق نیموی، عنایت حسین امداد، محمدباقر، شیخ علی باقر، عبدالغفور شہباز، مولانا نذر الرحمن حفیظ، سید رحیم الدین، بیتاب اور موج وغیرہ کے نام شامل ہیں۔
مذکورہ معاصرین سے مولانا کی علمی وادبی آفاقیت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
جیسا کہ ماقبل ذکر کیا گیا کہ مولانا متعدد رسائل و جرائد کی ادارت فرماتے رہے اور کئی رسالے خود شائع بھی کیے طوالت کی وجہ سے سے سبھوں کا ذکر اس مختصر مضمون میں مشکل ہے، ہاں البتہ ’الپنچ‘کے حوالے سے آپ کی ادارت اور صحافت کا ذکر ضروری ہے موصوف ’الپنچ‘ کی وابستگی سے قبل منشی پریم چند کی طرح مختلف قلمی نام سے لکھتے رہے،آپ نے کبھی ابو ظرفا،قہر نگار، اور ہنٹر پھٹکار نا مو ں سے سنجیدہ اور فکاہیہ مضامین تحریر کرتے رہے۔
خیر رحمانی کی درجن بھر سے زائد کتابیں، مجموعے اور دواوین کے قلمی نسخے ان کی زندگی ہی میں مرتب تھے،جو شائع نہیں ہوسکے، بس ایک دو کتابیں ہی شائع ہوسکیں، ڈاکٹر افتخار احمد نے ’کلیات خیر‘ میں ’تصنیفات خیر‘ کے تحت مولانا کی چودہ کتابوں کا تعارف پیش کیا ہے،ملاحظہ فرمائیں۔
(1) حسنات خیر(نسخۂ خطی):یہ خیر رحمانی کا پہلا دیوان ہے اس میں تقریباً دوسو چالیس غزلیں ہیں۔ غزل مسلسل اور اشعار کی تعداد کی وجہ سے یہ کافی ضخیم ہے۔ فن خطاطی کا عمدہ نمونہ پایا جاتا ہے۔ دیوان کے آغاز میں پہلے ورق کی پیشانی پر ایک قلمی تاج بنایا گیا ہے جو پہلی غزل کے مصرع ثانی میں لفظ تاج لا کر بسم اللہ سے منسوب کیا گیا ہے۔
(2) لمعات خیر (نسخۂ خطی):یہ خیر رحمانی کا دوسرا دیوان ہے۔ اس دیوان میں غزل کے علاوہ نظم بھی شامل ہے۔ غزلوں میں نعتیہ غزلیں بھی ملتی ہیں اور مفردات میں بہت سے اشعار شامل ہیں۔ ’لمعات خیر‘ کے مادئہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دیوان1351ھ میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔
(3) سخن تازہ اخباری (نسخۂ خطی): اس مجموعے میں ’کیا نام کہ‘کے عنوان کے تحت تکیہ کلام پر مبنی اشعار ملتے ہیں۔ کہہ مکرنیاں نظمیں، مسلک حاضرہ اور فکاہیات وغیرہ پر مبنی کلام ملتے ہیں۔ تازی سخن اخباری کے مادئہ تاریخ سے یہ واشگاف ہوتا ہے کہ1937 میں مولانا خیر نے اسے ترتیب دے کر کامل کیا تھا۔
(4)ملہم غیب خیر (نسخۂ خطی):یہ قطعات تاریخ کا مجموعہ ہے۔ جو1341ھ سے1357 ھ تک کے واقعات، وفیات تولدات شادیات، مژدات،سیاسیات، تصنیفات، کتابیات، اخبارات، رسالہ جات اور مطبوعات پر مبنی ہیں۔
(5) سپاس نامۂ ارمان خیر (نسخۂ خطی):جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ سپاس ناموں پر مبنی نظموں کا مجموعہ ہے۔ ’سپاس نامۂ ارمان خیر‘سے مادئہ تاریخ نکالنے پر واضح ہوتا ہے کہ اس مجموعے کی تاریخ تکمیل1321 ھ ہے۔ اس میں تقریباً 52 نظمیں شامل ہیں۔
(6) جوش آزادی (مطبوعہ):یہ قومی نظموں کا مختصر سا مجموعہ ہے، جسے خیر رحمانی نے اپنے شاگرد عزیز سید شاہ محمد جعفر حسین صادق کی فرمائش پر قلم بند کیا تھا۔ اس کتابچے کو جناب مولوی سید شاہ جعفر حسین صادق خلف اکبر جناب خان بہادر سید واجد حسین صاحب، رئیس اعظم، پٹنہ کے اہتمام وسعی سے منیجر اسلامی جنتری، موچی گیٹ، لاہور نے مرتب و شائع کیا تھا۔
(7) چٹکیاں (مطبوعہ): یہ نظم1341ھ میں شیخ عنایت محمد آرٹسٹ و منیجر اسلامی خلافت جنتری نے لکھنؤ سے شائع کیا تھا۔ اس کی پشت پر بہت سی کتابوں کے ملنے کی اطلاع دی گئی ہے جن میں خیر رحمانی کی مختصر نظموں کے مجموعہ ’جوشِ آزادی‘ کا بھی ذکر ہے۔ 156 اشعار پر مشتمل یہ طویل نظم پند و موعظت کے ساتھ تلخ وشیریں کلام پر مبنی ہے۔
(8) شہانی رات (مطبوعہ):یہ کتاب نثر میں ہے۔ سر ورق پر ’یا معین‘لکھا ہے۔ اس کے بعد ایک شعر یوں درج ہے کہ ؎
سنانے کو سنا تو دے گا قاصد داستاں میری
کہاں سے لائے گا یہ جوشِ دل پھر یہ زباں میری
یہ کتاب خادم الفقر منشی نور احمد مالک محبوب ایجنسی، امین آباد، پنجاب، لاہور پر نٹنگ پریس سے رحیم بخش کے زیر اہتمام شائع ہوئی۔
(9) نسب نامہ (نسخۂ خطی):یہ کتاب سادات خاندان کا شجرہ ہے۔ اس میں اس چیز کا بیان ہے کہ حضور اکرمؐ کے اہل خاندان کا سلسلہ ہندوستان میں کیسے قائم ہوا۔ چوں کہ خیر رحمانی کا تعلق حضرت امام تاج فقیہ سے تھا۔ انھوں نے مختلف لکیریں کھینچ کر تاج فقیہ کا رشتہ حضور اکرم ؐکے عم محترم حضرت زبیر سے ثابت کیا ہے۔
(10) رجم الشہاب:بیشتر تذکروں میں اس رسالے کا ذکر موجود ہے لیکن بعدکے کسی اہل قلم نے مذکورہ رسالے پرروشنی نہیں ڈالی ہے۔ تذکرہ مسلم شعرائے بہار کے مصنف سید احمد اللہ شاہ ندوی کے مطابق یہ رسالہ مطبوعہ ہے۔
(11) پارسی نو(مطبوعہ):یہ کتاب بہار کے اسکولی نصاب میں شامل تھی جو بچوں کو فارسی زبان سکھانے کے لیے لکھی گئی تھی۔ سرکار نے باقاعدہ اسے منظور کیا تھا جس کی وجہ سے اس کے متعدد اڈیشن شائع ہوئے۔
(12) رشحات خیر ونفخات خیر،(نسخۂ خطی):یہ فارسی دیوان ہے، جس میں حروف تہجی کے اعتبار سے غزلیات موجود ہیں۔ ایک قطعہ ایک ساقی نامہ اور بیس رباعیوں کے علاوہ مفردات میں خاصے اشعار ملتے ہیں۔ خیر نے اردو زبان میں کوئی رباعی نہیں کہی ہے بلکہ جو کچھ رباعیاں پائی گئی ہیں وہ سب کی سب فارسی زبان میں ہیں۔
(13) انشائے فصیح خیر (نسخۂ خطی):یہ فارسی میں لکھے گئے مراسلات کا مجموعہ تھا۔ اس میں بیشتر وہ خطوط شامل تھے جو استاد محمد علی ایرانی اور خیر کے درمیان علمی مباحث و اشکال کی بنیاد پر لکھے یا جوابا ًموصول کیے گئے تھے۔
(14) خیر رحمانی کے خطوط (نسخۂ خطی):خیر رحمانی کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ اس عہد کے بیشتر شعرا و ادبا سے ان کے تعلقات تھے۔ چونکہ وہ ا’لپنچ‘ رسالہ بہار کے اڈیٹر تھے لہٰذا خطوط کا آنا اور جواب دینا ان کے فریضے میں شامل تھا۔اس کے علاوہ خیر رحمانی کے کئی خطوط استاد داغ دہلوی، امیر مینائی، شوق نیموی، اور استاد محمد علی ایرانی کے نام علمی مباحث پر مشتمل ہیں۔
مذکورہ بالامطبوعہ و غیر مطبوعہ کتابیں خیر رحمانی کی ہیں،جسے پڑھ کر ان کے تبحر علمی کا اندازہ ہوتا ہے،خیر رحمانی نے جس قدر علم و ادب کی خدمت کی اسی قدر گمنام بھی رہے، موصوف کی جس قدر پذیرائی اور ان کے علم وفن کا برملا اعتراف ہونا چاہیے تھا نہیں ہو سکا۔ چند قدیم تذکرہ نگاروں نے اپنی کتابوں میں خیر رحمانی اور ان کی علمی بصیرت وآگہی کا تذکرہ ضرور کیا ہے جو تشنہ ہے۔
ادھر سال 2001 میں پروفیسر ناز قادری،بہار یونیورسٹی مظفر پور کی نگرانی میں اشرف مختار نے ’خیر رحمانی حیات وخدمات‘ پر تحقیقی مقالہ برائے پی، ایچ، ڈی لکھا تھا،جو کہ قابل ستائش اور مولانا موصوف کے لیے بہترین خراج تحسین ہے۔
’کلیات خیر‘ میں ڈاکٹر افتخار احمد نے کافی محنت و جانفشانی سے خیر رحمانی کی منظوم تخلیقات کے ساتھ چند نثری تحاریری کوبھی مجتمع کر دیا ہے،یقینا ًیہ ایک بڑا کام ہے،جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے خیر رحمانی ایک مایہ ناز ادیب اور بالغ النظر صحافی بھی تھے متعدد رسائل وجرائد میں بحیثیت مدیر آپ کی ادارتی تحاریر شائع ہوچکی ہیں، کاش موصوف کی نثری نگارشات کو بھی ایک جگہ جمع کردیا جاتا تو یہ بھی ایک بڑا اہم کام ہوتا سو سال قبل شائع ان نگارشات کواخبار ورسائل سے حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا،اس کے لیے ڈاکٹر افتخار احمد جیسی دیوانگی وفرزانگی مطلوب ہے۔
خلاصۂ کلام یہ کہ خیر بہیروی مختلف الجہات شخصیت کے حامل انسان تھے، موصوف بیک وقت ایک کہنہ مشق شاعر ہونے کے ساتھ ایک بلند پایہ ادیب، محقق، ناقد اور صحافی بھی تھے۔ تقریبا ًتمام اصناف شاعری میں طبع آزمائی کی حمد، نعت، نظم، غزل، رباعی، مسدس،قطعہ، قطعات تاریخ، تہنیتی نظمیں،گیت، کہہ مکر نیاں، سہرے،اور بے شمار منظوم سپاس نامے بھی آپ کے دیوان میں شامل ہیں۔اردو شاعری کے ساتھ آپ کی فارسی شاعری بھی بے مثل ہے۔مولانا خیر بہیروی کی شاعری سے متعلق پروفیسر محمد کاظم نے لکھا ہے:
’’مولانا ابوالخیر رحمانی کا کلام ملی اور قومی عناصر سے مزین ہے۔ ان کے کلام کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ملک کو انگریزوں کی حکمرانی سے آزاد دیکھنا چاہتے تھے تو ہندو مسلم اتحادکے لیے داعی و دعا گو رہتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ قوم کے بچے ایک اور نیک ہوں اور اس کے لیے وہ علمی اور عملی کوشش بھی کیا کرتے تھے۔ مولانا رحمانی کا ایک نمایاں وصف ان کی متصوفانہ اور نعتیہ شاعری ہے۔
خیر رحمانی نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کی ہے۔ان کی فارسی اور اردو شاعری کے نمونے ملا حظہ فرمائیں ؎
آنکھ والا ہو تو دیکھے، جسے دل ہو سمجھے
ذرہ ذرہ ہے اس عالم کا بیان فطرت
درھرگل این بستان آن حسن نمایان است
آئینہ صد حیرت این صحن گلستان است
سر، سرنگوں ہے اپنا ہر دم مراقبے میں
جب سے یہ سن لیا ہے دل ہے مقام تیرا
دل نیست کاندر روشن کس جلوہ گر نباشد
آں چشم نیست ھرگز گو حق نگر نباشد
مولانا خیر نے رسول ؐاکرم کی عقیدت و محبت میںبڑی تعداد میں نعتیں بھی کہی ہیں نعت کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
تری صورت تو وہ صورت ہے کہ حق شیدا ہے
تیری ہی ذات سے یہ کون و مکاں پیدا ہے
دونوں ابروئوں کو دو مصر عۂ موزوں سمجھوں
بیت نبوی کے یہ محراب ہیں، کیا زیبا ہے
حوض کوثر کی صُراحی ہے بیاض گردن
یا کوئی کوثر و تسنیم پر پُل باندھا ہے
مولانا خیر وطن پرست ہندوستانی مسلمان تھے ہندوستان میں اتفاق و اتحاد قائم کرنے کے لیے آپ نے بہت ساری قومی یکجہتی پر مشتمل نظمیں تحریر کی ہیں۔
اردو و فارسی کے مایہ ناز ادیب اور کہنہ مشق شاعر مولانا خیر رحمانی عرصۂ دراز تک علم وادب کی خدمت کرتے ہوئے 15نومبر1948 کو تقریباً 80 سال کی عمر میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ اللہ پاک انھیں غریق رحمت کرے، آمین۔
Dr. Abdul Wadood Qasmi
H.O.D, K.S.College, L Sarai
Darbhanga- 846001 (Bihar)
Mob: 7979936725
Email:wadoodqasmi999@gmail.com