نیر مسعود کی تحقیقی خدمات،مضمون نگار: صالحہ عاصم
January 28, 2026
0 Comments
نیر مسعود(1936-2017) کی بنیادی شناخت ایک اہم افسانہ نگار کی ہے۔ وہ فارسی زبان وادب کے استاد تھے، لیکن اردو زبان و ادب میں ان کی گراںقدر خدمات نے اردو تحقیق، تنقید، تخلیق اور ترجمے کو وقار بخشا۔غالب کے متعلق ان کی تحریروں کو معاصراہم ناقدین نے سراہا ہے۔ایک تخلیق کار کے طور پر ان کی حددرجہ مقبولیت نے ان کی دوسری خدمات کے دائرے کو قدرے تنگ کردیا۔ ان کے دیگر کارناموں کو تو سراہا گیا لیکن اس طرح نہیں، جس طرح سراہا جانا چاہیے تھا۔تخلیق کے علاوہ ان کی تحقیقی اور تنقیدی کتابوں میں ’رجب علی بیگ سرور :حیات اور کارنامے‘، ’یگانہ احوال وآثار ‘، ’تعبیرغالب‘، ’لکھنؤ کا عروج وزوال‘، ’ انیس (سوانح)‘، ’مرثیہ خوانی کا فن‘، ’شفاء الدولہ کی سر گزشت‘، ’سید مسعود حسن رضوی ادیب کی ادبی زندگی‘، ’خطوط مشاہیر‘، ’منتخب مضامین‘ اور ترجمے میں ’حکیم نباتات‘ اور ’کافکاکے افسانے ‘ اہمیت کے حامل ہیں۔نیر مسعود کی خدمات کے اعتراف میں مختلف اداروں نے انھیں ایوارڈ سے بھی نوازا، جس میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ(2001)، سرسوتی سمان (2007) اور صدر جمہوریہ ایوارڈ بطور خاص شامل ہیں۔
Saleha Asim
Explore More
نامور سنگھ اور ہندوستانی ادب کا پرامیتھیو س پریم چند ،مضمون نگار:قدوس جاوید
اردو دنیا، جولائی2026: نامور سنگھ ایک مارکسی نقاد رہے ہیں۔ ’’قومی تحریک آزادی اور پریم چند‘‘ کے عنوان سے اپنے ایک خطبہ / لیکچر میں مارکس اور مارکسی جمالیات کے
تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر /ابولکلام قاسمی
نئے ادبی نظریہ سازوں نے ادب کے ان تمام سکّہ بند معیاروں پر سوالیہ نشانات قائم کیے ہیں جن کے سبب، بالادست فکری اور ادبی طبقات کو ماضی کے ادبی
شعر شور انگیز/شمس الرحمٰن فاروقی
میر کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ ان کے یہاں لہجے کا دھیماپن، نرمی اور آواز کی پستی اور ٹھہرائو ہے۔ یہ خیال اس قدر عام ہے کہ