تلخیص:
غالب کے حوالے سے ملک کے متعدد ادبی مراکزمیں شعر و ادب کی سمت و رفتار پر بحث کی جاتی رہی ہے۔ دلی، لکھنؤ، بنارس، کلکتہ، میرٹھ، باندہ وغیرہ شہروں کے حوالے سے محققین نے کارآمد گفتگو کی ہے۔ اس مضمون میں اسی سلسلے سے عظیم آباد موضوعِ بحث ہے۔ اٹھارھویں صدی سے قبل ہی اطرافِ عظیم آباد میں ادبا و شعرا اور اردو گو صوفیا کی سرگرمیاں قائم ہوچکی تھیں۔ غالب کلکتہ کے سفر میں عظیم آباد سے لازمی طور پر گزرے ہوں گے اور واپسی کا راستہ بھی عظیم آباد کو شامل ہی ہوگا۔ عظیم آباد کی ادبی تاریخوں میں غالب کی آمد کا ذکر موجود نہیں، غالباً وقت کی گرد ان دستاویزات پر اب تک پڑی ہوئی ہو مگر غالب کے بہاری شاگرد، بہار کے افراد سے ان کی خط و کتابت ، غالب شناسی میں بہار کے نقاد اور محققین کی خدمات جیسے موضوعات پر گفتگو سے غالب اور عظیم آباد کا ایک زندہ رشتہ قائم ہوتا ہے۔ یہ رشتہ غالب کی حیات سے اب تک موجود ہے۔ موجودہ مقالے میں اس منظرنامے کی تنقیدی و تحقیقی اعتبار سے پڑتال کی گئی ہے۔
کلیدی الفاظ
غالب، عظیم آباد، دبستانِ عظیم آباد، غالب کا سفرِ کلکتہ، بنارس، دریاے سوہن (سون )، قاضی عبدالودود، صوفی منیری، صفیر بلگرامی، مرزا عبدالقادر بیدل، غالب شناسی، امداد امام اثر، کاشف الحقائق، جہانِ غالب، غالب بہ حیثیت محقق، قاطع برہان و رسائلِ متعلقہ، مآثر غالب، کلیم الدین احمد، اختر اورینوی، سخن ہاے گفتنی، تجزیۂ کلام غالب (سید رفیع الدین بلخی،1948)، یگانہ چنگیزی۔
————
اردو شعر و ادب کے آسمان پر غالب جس عہد میں نمودار ہوئے، اس سے پہلے دبستانِ عظیم آباد کی نہ صرف یہ کہ بنیاد قائم ہو چکی تھی بلکہ اردو اور فارسی شعرا و ادبا اور ماہرین نے محدود پیمانے پر ہی سہی اپنی پہچان کے ستارے بھی ٹانکنے شروع کر دیے تھے۔ راسخ عظیم آبادی کا تذکرہ مختلف حوالوں یا میر سے عقیدت و شاگردی کے ضمن میں اور بھر پور سرمایۂ سخن کی وجہ سے خاصا ہوتا رہا ہے مگر راسخ سے پہلے صوبۂ بہار اور بالخصوص خطۂ عظیم آباد سے تعلق رکھنے والے درجنوں شعرا کا مستند کلام آج محققین کی کوششوں سے دستیاب ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ہم بجا طور پر اٹھارھویں صدی سے قبل کے عہد میں دبستانِ عظیم آباد کی تاسیس کے بارے میں مصدقہ طور پر گفتگو کر سکتے ہیں۔ عہدِ امیر خسرو میں اردو زبان و ادب کی سرگرمیوں کو استثنی کا درجہ دیں تو جس زمانے میں جعفر زٹلی یا شیخ مبارک آبرو اور فائز دہلوی دہلی کی بزمِ شعر کو آباد کر رہے تھے، اسی زمانے میں دبستانِ عظیم آباد بھی طرح طرح کے ادبی گل بوٹوں سے سر سبز و شاداب تھا۔ دبستانِ لکھنؤ اور کلکتہ و مرشد آباد کی بنیادیں تو اس کے بہت بعد پڑی ہیں۔ اس لیے اتنا کہنے کا حق ہمیں حاصل ہے کہ شمالی ہندستان میں جب اردو کے شعرا و ادبا نے فارسی گوئی کے ساتھ یا اسے ترک کر کے اس نئی زبان کی طرف توجہ شروع کی تو دہلی کے ساتھ ساتھ عظیم آباد میں بھی اس وقت کے فارسی گویوں کے بیچ اسی طرح سے اردو کا چراغ روشن ہوا جیسے دلی میں نظر آتا ہے۔
’غالب اور عظیم آباد‘ کے عنوان سے باضابطہ گفتگو کے آغاز سے پہلے دبستانِ عظیم آباد کی قدامت واضح کرنے کا ایک مقصد یہ بھی بتانا ہے کہ ہمیں اپنے ذہن سے یہ بات نکال دینی چاہیے کہ غالب کے وجودِ محض سے دبستانِ عظیم آباد میں کوئی ادبی اور علمی انقلاب پیدا ہو گیا ہوگا یا باندہ، رام پور اور بہت حد تک کلکتہ میں غالب نے جس طرح سے ماحول سازی کی یا گرمیِ محفل قائم کی، ایسا کچھ عظیم آباد کے حوالے سے غالب کو کوئی کارنامہ انجام دینے کا موقع شاید ہی ملا ہو۔ صوبۂ بہار میں غالب کے شاگردوں کی ایک محدود تعداد ضرور رہی ہے، اِن میں فارسی گو اور اردو نثر و نظم کے کارپَرداز دونوں طرح کے افراد شامل ہیں مگر اِن میں سے کوئی اس طرح نمایاں معلوم نہیں ہوتا جیسے اہالیانِ دہلی میں میر مہدی مجروح، شیفتہ، حالی اور تفتہ جیسے شاگردانِ غالب دکھائی دیتے ہیں۔ غالب کے آخری دَور کے شاگردوں میں عظیم آبادی یا بہاری افراد میں البتہ صفیر بلگرامی نمایاں ہیں۔ اِن کے علاوہ صوفی منیری بھی غالب کے بہ راہِ راست شاگردوں میں شامل ہیں جن کی نثر و نظم دونوں نمونوں پر غالب کی اصلاحیں موجود ہیں مگر صفیر بلگرامی اور صوفی منیری یا ان جیسے دوسرے بہاری شاگردوں کے کارناموں کو سامنے رکھ کر کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اِنھوں نے اردو کی تاریخ میں کوئی ایسا نقش قائم کیا جس کے سبب غالب کے اثرات کا ایک بابِ نَو عظیم آباد میں بھی کھلتا ہو اور غالب کے فیضان یا اثرات کا کوئی حتمی ثبوت اردو کے مورخین کے ہاتھ آ گیا ہو۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ دبستانِ عظیم آباد کی تعمیر و تشکیل اور اس کے استحکام یا اس کی توسیع میں غالب کی ہزار عظمتوں کے باوجود شاید ہی ان کا کوئی حصہ تسلیم کیا جا سکتا ہے۔
آگرہ، دہلی، میرٹھ، رام پور، لکھنؤ، کان پور، باندہ، الٰہ آباد، بنارس اور کلکتہ ایسے شہر ہیں جہاں غالب کے سفر یا بود و باش اختیار کرنے یا ان کے مختصر و طویل قیام کے بارے میں ہمیں مستند اطلاع حاصل ہوتی ہے۔ غالب کے عہد کے وسائلِ سفر کو پیشِ نظر رکھیں اور پنشن کے معاملے میں 1826سے 1829 کے دَورانیے میں دہلی سے کلکتہ تک کے سفر کی تفصیلات ذہن میں ہوں تو غالب کی جہاں گردی اور وسیع المشربی کا بہت کچھ اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اس عہد سے ذرا قبل مرزا عبد القادر بیدل نے بھی بہار سے دہلی تک کا سفرطَے کیا تھا مگر غالب نے اپنی زندگی کے ایک مشکل دَور کے سفر (دہلی سے کلکتہ)کو ادبی اعتبار سے جتنا بو قلموں اور ہشت پہلو بنایا، اس کی روداد غالب شناسی کا ایک مستقل باب ہے۔ غالب کی زندگی کے تین چار برس جس طرح اس جہاں گردی میں گزرے اور ادبی و علمی اعتبار سے جس طرح زرخیز ثابت ہوئے؛ ایسا حیاتِ غالب کے کسی دوسرے موڑ پر کوئی ٹھوس اور مستحکم علاحدہ روایت نہیں ملتی۔ یہ بھی یاد رہے کہ غالب اپنے سفرِ کلکتہ کے دَوران زندگی کی محض تین دہائیاں گزار سکے تھے اور اردو و فارسی زبانوں میں کوئی مستند اور پختہ کار شاعر کے طور پر معروف نہ ہوئے تھے مگر وہ اگتے ہوئے سورج کی طرح سے اپنی چمک اور آنکھوں کو خیرہ کرنے والی روشنی کے ساتھ میدانِ عمل میں اترے تھے۔ تخلیقی اعتبار سے وہ توانائی، جوش اور ولولے کے ساتھ اپنا اثر قائم کر رہے تھے جس کے نتیجے میں ہر جگہ نئے اور پرانے ادبا و شعرا ان کے حلقۂ اثر میں آنے لگے۔ ساتھ ہی بعض مستند شعرا اور ان کے حلقے کے افراد یا ان کے شاگردان غالب کی نکتہ چینی میں بھی ہمہ تن مصروف رہے۔ اس طرح غالب کا سفرِ کلکتہ ادبی گہما گہمی کے اعتبار سے سب سے معتبر حوالہ ہے اور اس کی کوئی دوسری مثال اردو کی ادبی تاریخ میں موجود نہیں۔
غالب کے سفرِ کلکتہ میں کئی بے حد اہم پڑائوملتے ہیں۔ ادبی اعتبار سے لکھنؤ اور بنارس کی بڑی اہمیت ہے۔ غالب مئی 1827 میں لکھنؤ پہنچے۔ کان پور، فتح پور، باندہ کے اسفار کے بعد وہ بنارس میں ایک مختصر مدت تک قیام کرتے ہیں۔بنارس سے کلکتے کے لیے وہ 21 دسمبر 1827 کو روانہ ہوئے۔ امرت لال عشرت نے لکھا ہے کہ بنارس سے کشتی میں سوار ہو کر ’سون ندی‘ کے راستے وہ آگے بڑھے۔ کلکتہ پہنچنے پر غالب نے جو فارسی کلام قطعہ کہا، اس میں عظیم آباد اور ’سون ندی‘ کا تذکرہ موجود ہے جس سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ غالب نے بنارس سے کلکتے تک کا مکمل سفر کشتی سے نہ کیا ہو تب بھی وہ کچھ دور تک غالباً آرا تک ’گنگا‘ اور ’سون ندی‘ کے راستے کشتی کے سفر کے بعد پہنچے ہوں۔ حالانکہ خلیق انجم نے ’پنج آہنگ‘ کے حوالے سے اس سے قطعاً مختلف بات اس طرح کہی ہے:
’’غالب بنارس سے کلکتہ تک کا سفر کشتی کے ذریعے طَے کرنا چاہتے تھے۔ جب وہ جمنا (کذا۔گنگا؟) کے کنارے کشتی والوں کے پاس گئے تو کشتی بانوں نے ان کے ساتھ بدمعاملگی کی۔ غالب نے جس کشتی والے سے بات کی، اس نے کلکتے تک کا کرایہ سو روپے اور پٹنے تک کا بیس روپے طلب کیا۔ غالب کے لیے اتنی بڑی رقم دینا مشکل تھا، اس لیے انھوں نے طَے کیا کہ وہ باقی سفر گھوڑے پر طے کریں گے۔‘‘ (’غالب کا سفرِ کلکتہ‘ ص73)
غالب بنارس سے نکل کر کلکتہ پہنچنے کے مراحل میں کن کن شہروں میں قیام پذیر رہے، یا دورانِ سفر دو مہینوں میں ان کے شب و روز کی تفصیلات کیا رہیں یا ادبی و علمی سرگرمیاں کس قدر ممکن ہو سکیں، اس سلسلے سے مصدقہ احوال تقریباً موجود نہیں ہیں۔ آرا کے قیام کے بارے میں ش۔م۔ عارف ماہر آروی کے بیانات خستۂ تیغِ ستم) مفروضوں پر زیادہ قائم ہیں۔ عظیم آباد میں ان کے قیام کے سلسلے سے بھی قیاسات زیادہ ہیں اور حقائق نا پید۔ قاضی عبد الودود کا کہنا زیادہ معتبر ہے کہ ’’غالب یا ان کے کسی معاصر نے یہ نہیں لکھا کہ عظیم آباد میں کسی سے ملاقات ہوئی تھی یا نہیں اور خود اس شہر میں روایت ان کے ورودِ پٹنہ کے متعلق سنی نہیں گئی۔‘‘ حالانکہ قاضی عبد الودود غالب کے قطعے سے عظیم آباد کو ’رنگیں تر از فضاے چمن‘ کہنے کی نسبت یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ غالب نے شہرِ عظیم آباد کی سیر ضرور کی ہوگی۔ یوں بھی بنارس سے کلکتہ پہنچنے کے دَوران کم از کم ساڑھے چار سو کیلو میٹر کا وہ علاقہ انھیں ضرور ملا ہوگا جسے بہار قرار دیا جا تا ہے۔ بھلے یہ سفر خشکی کے راستے سے ہو یا آبی راستے سے اسے مکمل کیا گیا ہو۔
اس سے ایک اور نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ غالب کے سفرِ کلکتہ کے ادبی اثرات اصحابِ عظیم آباد پر شاید ہی پڑے ہوں۔ قاضی عبد الودود نے کلکتہ کے بعض ایسے شعرا و ادبا کا تذکرہ کیاہے جن سے کلکتے میں غالب کا رشتہ قائم ہوا تھا اور ان کے حوالے سے یہ قیاس کیا ہے کہ عظیم آباد کی راہ سے دہلی واپسی کے وقت ان شعرا یا ان سے متعلق بعض افراد سے واپسی کے سفر میں غالب کی ملاقات ممکن ہے مگر اسے بھی قیا س پر محمول کیا جانا چاہیے کیوں کہ ایسا کوئی ادبی و علمی ثبوت ہمیں اب تک دستیاب نہ ہو سکا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ غالب کے کلکتہ آنے اور جانے کے دَوران عظیم آباد کی ادبی سرگرمیوں سے ان کا کوئی زندہ رشتہ نظر نہیں آتا اور نہ ہی ان کی بعد کی زندگی میں اس سفر کے دَوران جو عظیم آبادی افراد ملے، ان کے کام اس پایے کے سامنے آ سکے جس کی بدولت یہ تسلیم کیا جا سکے کہ غالب کے دبستانِ عظیم آباد کے شعرا پر کچھ واضح اثرات قائم ہوئے۔
اِن حقائق کی بنیاد پر دبستانِ عظیم آباد سے غالب کے تعلق کی کڑیوں کو جوڑنے اور ان سے نتائج اخذ کرنے کی اپنی حدود ہیں۔ غالب صدی کے موقعے سے قاضی عبد الودود نے رسالہ ’مطالعہ‘، پٹنہ میں ’غالب اور بہار‘ کے عنوان سے ساڑھے تین صفحات پر مشتمل جو مضمون لکھا، اس سے اس موضوع کے امکانات بیش از بیش واضح ہوجاتے ہیں۔ انھوں نے اپنے مضمون میں غالب کے رشتۂ عظیم آباد و بہار کے جن خاص پہلوؤں کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے، ان کے خاص نکات اس طور پر مرتَب کیے جا سکتے ہیں:
الف: غالب اپنی زندگی میں عظیم آباد آئے ہوں، اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
ب: سفرِ کلکتہ کے دَوران بہار سے غالب لازمی طور پر گزرے مگر اس دَوران کی ملاقاتوں، جاے قیام اور کسی ادبی محفل میں شرکت کا کوئی ثبوت دستیاب نہیں۔
ج: کلکتے میں بعض عظیم آبادی افراد سے غالب کی ملاقاتیں رہیں، ان سے بعد کے زمانے میں بھی ان کے روابط اور خط و کتابت کے ثبوت ملتے ہیں مگر کلکتے سے واپسی کے مرحلے میں بھی قیامِ عظیم آباد یا بہار کے کسی دوسرے مقام پر ٹھہرنے یا ادبا و شعرا سے ارتباط کا کوئی حال معلوم نہیں ہوتا۔
د: غالب کے متعدد عظیم آبادی یا بہاری شاگرد ہوئے جن میں صفیر بلگرامی، باقر علی، سخن دہلوی، صوفی منیری وغیرہ کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ غالب کی شاگردی کے معاملے میں اِن کی حیثیت مسلم ہے۔
ہ: قاضی عبد الودود نے غالب کے بعض نام نہاد شاگردوں یا مکتوب الیہ یا بعض خطوط کے استناد سے انکار کیا ہے اور ان خطوط یا واقعات کو من گڑھنت اور جعلی قرار دیا ہے۔
و: قاضی عبد الودود نے بعد کے ان شعرا و محققین کا ذکر بھی کیا ہے جنھوں نے غالب کی شاعری اور سوانح کے حوالے سے تنقیدی نگارشات پیش کی ہیں۔ غالب کے بعض شاگردوں کے شاگرد یا دیگر شعرا نے عقیدت میں غالب کی غزلیات کی تضمین یا کسی دوسری صورت سے اپنے کلام میں تذکرۂ غالب کو شامل کیا ہے، اس موضوع پر قاضی عبد الودود نے واضح اشارے کیے ہیں۔
ز: زمانۂ حال کے مصنفین کے حوالے سے بھی انھوں نے غالب شناسی کا ایک باب وا کیا ہے اور اپنے زمانے کے متعدد افراد کی غالب کے سلسلے سے کتابوں یا متفرق مضامین کا تذکرہ کیا ہے۔
ح: مرزا عبد القادر بیدل کو انھوں نے بہاری تسلیم نہیں کیا۔ حالانکہ بہار میں ان کے قیام اور یہاں سے دہلی جانے کے بارے میں انھوں نے واضح طور پر لکھا ہے۔ یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ غالب کے ابتدائی کلام پر بیدل کے اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
قاضی عبد الودود نے اپنے مضمون کی آخری دو سطروں میں مذکورہ مضمون کے فرمائشی ہونے کا ذکر کیا ہے اور اس بات کی معذرت کی ہے کہ ضروری کتب کی جانب وہ رجوع نہیں کر سکے۔ اس کے باوجود انھوں نے ’غالب اور بہار‘ یا ’غالب اور عظیم آباد‘ کے دائرۂ کار کو اس عالمانہ انداز سے متعین کرنے کی کوشش کی ہے جس سے اس موضوع کی ساری پرتیں اپنے آپ کھلتی جاتی ہیں۔ اکثر و بیش تر بنیادی نکات اشارے میں ہی سہی مگر قاضی عبد الودود نے واضح کر دیے ہیں۔
قاضی عبد الودود نے اب سے نصف صدی پہلے یہ مضمون لکھا اور غالب کے حوالے سے عظیم آباد کو ادبی تحقیق کے مرکز میں لانے کی کوشش کی۔ یہ افسوس کا مقام ہے کہ بہار کے حوالے سے غالب شناسی کے کام کو آنے والی نسلوں نے تحقیقی اور تنقیدی اعتبار سے زیادہ قابلِ توجہ نہیں سمجھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قاضی عبد الودود نے دبستانِ عظیم آباد کے حوالے سے غالب شناسی کے جو اشارے اس وقت کیے تھے، ان پر تنقید و تحقیق کی کوئی ٹھوس عمارت قائم نہیں ہو سکی اور آج ہم مجبور ہیں کہ قاضی صاحب کے ذریعے شروع کی گئیں باتوں کو نئے سِرے سے دہرائیں اور نئے مواد کی بنیاد پر بہار کے دائرے میں رہتے ہوئے تحقیق و تنقید کے چند نئے نکات پیش کرنے کی کوشش کریں۔
’غالب اور عظیم آباد‘ عنوان سے گفتگو کا اولین حوالہ قاضی عبد الودود کے انکار کے باوجود مرزا عبد القادر بیدل ہی قرار پائیں گے۔ تمام نقاد اور محققین کم و بیش یہ تسلیم کرتے ہیں کہ غالب کی ابتدائی شاعری اور خصوصاً ان کی شاعری میں موجود مشکل پسندی کی پشت پر مرزا عبد القادر بیدل جیسی ایک معتبر شخصیت کے اثرات ہیں۔ بیدل راج محل کے پہاڑی سلسلے مقام اکبر نگر (موجودہ جھارکھنڈ) میں پیدا ہوئے۔ شاہ کمال سے استفادہ اور شجاع الدولہ کے دَورِ حکومت میں ان کے والد کے فوجی ملازم ہونے کے سبب بیدل کا بچپن اور لڑکپن عظیم آباد اور اس کے اطراف میں گزرا۔ بیس برس کی عمر میں بیدل نے بہار سے رختِ سفر باندھا۔ یہ بھی سچ ہے کہ عظیم آباد سے رخصت ہونے کے بعد ہی انھوں نے ’بیدل‘ تخلص اختیار کیا۔ اس سے پہلے وہ ’رمزی‘ تخلص استعمال کرتے تھے۔ بیدل تقریباً اَسی برس زندہ رہے۔ دہلی سے لاہور تک ان کی چلت پھِرت رہی مگر ان برسوں میں کبھی خطۂ عظیم آباد یا بہار آنے کا ان کا کوئی سلسلہ معلوم نہیں ہوتا۔ انہی وجوہات سے قاضی عبد الودود انھیں عظیم آبادی تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں مگر مقامِ پیدائش اور دو دہائیوں تک قیام اور تعلیم و تربیت کی وجہ سے بیدل کا وطن صوبۂ بہار اور عظیم آباد تسلیم شدہ ہے اور انھیں دہلوی پہچان ملنے سے پہلے عظیم آبادی شناخت حاصل رہی۔ اس لیے غالب کے حوالۂ عظیم آباد میں مرزا عبد القادر بیدل کو نمایاں ہی نہیں بلکہ مقامِ اول دیا جانا چاہیے۔ غالب پر بیدل کی شاعری کے اثرات کس قدر رہے ہوں گے، اس کا اندازہ غالب کے مندرجہ ذیل اشعار سے لگایا جا سکتا ہے ؎
اسد ہر جا سخن نے طرحِ باغِ تازہ ڈالی ہے
مجھے رنگِ بہار ایجادیِ بیدل پسند آیا
مطربِ دل نے مرے تارِ نفس سے غالب
سازِ ہر رشتہ پئے نغمۂ بیدل باندھا
مجھے راہِ سخن میں خوفِ گمراہی نہیں غالب
عصاے خضر صحراے سخن ہے خامہ بیدل کا
آہنگِ سخن میں نہیں جز نغمۂ بیدل
عالم ہمہ افسانۂ ما دارد و ما ہیچ
گر ملے حضرتِ بیدل کا خطِ لوحِ مزار
اسد آئینۂ پردازِ معانی مانگے
طرزِ بیدل میں ریختہ کہنا
اسد اللہ خاں قیامت ہے
بیدل کی پیچیدہ خیالی تو غالب کے لیے نشانِ راہ ہے ہی مگر غالب نے بہت بعد کے زمانے تک مرزا عبد القادر بیدل کے مفکرانہ شعور اور اسلوبیاتی طلسم قائم کرنے کے ہنر کو آزمایا۔ بیدل کے درجنوں اشعار ترجمہ اور تحریف کی شکل میں غالب کے یہاں موجود ہیں اور غالب بجا طور پر کھلے دل سے اس عظیم آبادی اور دہلوی شاعر کے اثرات اور اس کے استفادے کا اقرار کرتے ہوئے ملتے ہیں۔یہاں یہ بات ذہن نشیں رہے کہ غالب کی شاعرانہ شخصیت کی تشکیل میں مرزا عبد القادر بیدل ایک محرک کی حیثیت ضرور رکھتے ہیں مگر اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا زیادہ مناسب نہیں کہ غالب اپنی تمام شاعری میں بیدل کی خوشہ چینی اور تتبع میں ہی مبتلا رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غالب نے اپنا انفرادی رنگ اور اختراعی آہنگِ شعر سے اپنی زبان کا پورا طور بدل دیا۔ غالب جب مکمل شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں، اس وقت وہ مرزا عبد القادر بیدل سے مختلف اور پورے طور پر ایک نئے رنگِ سخن کے موجد کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں۔
گذشتہ سطور میں یہ بحث ایک نتیجے تک پہنچ چکی ہے کہ غالب کلکتہ جاتے ہوئے اگرچہ بہار سے گزرے اور کم و بیش دو مہینے سے زیادہ مدت تک وہ سرزمینِ بہار کے مختلف علاقوں میں رہے ہوں گے۔ مورخین و محققین اس سلسلے سے کوئی اطلاع اب تک بہم نہ پہنچا سکے اور خود غالب نے بھی کہیں اس معاملے میں کچھ لکھا نہیں جس سے بہار کے کسی مقامِ خاص، شہر یا امرا و رؤسا یا ادبا و شعرا سے ان کی ملاقات یا تبادلۂ خیالات کا کوئی ثبوت ملتا ہو۔ ہمارے پاس ناچار بہار سے تعلق رکھنے والے تلامذۂ غالب کے تذکرے کے سائے میں ’غالب اور عظیم آباد‘ کے رشتے کی تلاش کرنی ہوگی۔ ہر چند یہ موضوع علمی سرمایے کے اعتبار سے ایک مختصر جائزے کا متقاضی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ان کے ادبی کاموں کو غالب کے زیادہ مشہور شاگردوں کے ہم پلہ قرار دینے میں بھی بہت سارے افراد کو تامل ہوگا مگر ’غالب اور عظیم آباد‘ کے موضوع کا تقاضا یہ ہے کہ غالب کے ان اہم اور غیر اہم بہاری اور عظیم آبادی شاگردوں سے غالب کے روابط، عملِ اصلاح اور ادبی مقام کے تعین کے مسئلوں پر غور کیا جائے۔
صوبۂ بہار سے تعلق رکھنے والے غالب کے شاگردوں میں صفیر بلگرامی کی اہمیت قومی سطح پر تسلیم کی جاتی ہے۔ وہ شاعر اور نثر نگار دونوں حیثیت سے اعتبار پانے میں کامیاب ہوئے۔ صفیر نے اگرچہ دبیر، سید محمد مہدی خبر، امان علی سحر، ناسخ کے شاگرد بحر اور محمد رضا بلگرامی وغیرہ سے وقتاً فوقتاً اصلاح لی مگر غالب کے آخری زمانے میں انھیں براہِ راست رابطہ قائم کرنے اور ان کی شاگردی میں پہنچنے کے مواقع ملے۔ 1863 سے غالب سے ان کی خط و کتابت اور کلام میں اصلاح کا مراسلاتی سلسلہ شروع ہوا مگر اس میں دو برسوں کے بعد 1865 میں اس طرح استحکام آیا کہ صفیر بلگرامی اپنے استاد سے ملنے دہلی پہنچے اور تقریباً چھے مہینے تک وہاں وہ مقیم رہے۔ غالب کی صبح و شام کی صحبتیں انھیں میسر آئیں۔ صفیر بلگرامی نے اپنے جو تجربات و مشاہدات قلم بند کیے ہیں، ان میں غالب کے آخری زمانے کی حقیقی تصویریں بغیر کسی رنگ و روغن کے ظاہر ہوتی ہیں۔غالب سے صفیر بلگرامی کی خط و کتابت کا سلسلہ غالب کے آخری دور تک جاری رہا۔ صفیر نے غالب سے جو کچھ سیکھا، اس کا برملا اظہار اپنے خطوط اور دیگر تحریری مشاہدات میں کیا ہے۔ غالب کے بہاری شاگردوں میں اپنی تصانیف اور غالب سے قربت کے سبب صفیربلگرامی کو مرکز میں رکھتے ہوئے دبستان عظیم آباد پر غالب کی فیض رسانی کے احوال رقم کیے جاسکتے ہیں۔
صفیر بلگرامی کے ہم عصر شعرا میں صوفی منیری نثر و نظم دونوں طرح کی تحریروں کے سبب خاص مقام رکھتے ہیں۔ چند اور بھی ایسے شعرا تھے جن کے بارے میں یہ پتا چلتا ہے کہ انھیں بھی غالب سے شرفِ تلمذ حاصل رہا ہے۔اس سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر صوفی منیری ہمارے سامنے آتے ہیں جو غالب سے آخری دور میں خط و کتابت کے وسیلے سے شاگرد ہوئے۔ یہ اتفاق ہے کہ صوفی منیری کے ایک قصیدے اور تین مثنویوں کے ساتھ چند متفرق کلام اور ان کی تمثیلی کتاب ’راحتِ روح‘ کو غالب نے بہ نظرِ اصلاح دیکھا۔ بعد میں صوفی منیری کے سلسلے سے جو تحقیقی کتابیں شائع ہوئیں، ان میں اصل کلام کے ساتھ غالب کی اصلاحوں کی تفصیل بھی سامنے آگئی ہے۔ اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ غالب نے دورانِ اصلاح کم سے کم ترمیمات سے شاگرد کے کلام کو درست کیا ہے۔ اس سے غالب کے طریقۂ اصلاح پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ فخر الدین حسین سخن، باقر علی باقر، خلیل و فوق آروی، فرزند علی اخگر،انور علی عظیم آبادی، سید محمد شیر خاں، کرامت حسین وغیرہ ایسے فن کار ہیں جو غالب کے شاگرد رہے۔ مالک رام نے ’تلامذۂ غالب‘ میں چند اور شاگردانِ غالب جن کا براہ راست تعلق عظیم آباد سے تھا، ان کے احوال لکھے ہیں مگر غالب کے تمام بہاری شاگردوں کو پیش نظر رکھیں تو صفیر بلگرامی کے علاوہ بہ مشکل کوئی دوسرا ایسا شاگرد ہوگا جس کی پہچان اپنے ادبی کارناموں اور غالب سے مراسلت کی وجہ سے قومی سطح پر قائم ہوئی ہو۔
غالب کی افہام و تفہیم کی ایک طویل تاریخ ہمارے پیش نظر ہے۔ جس سال ’یادگارِ غالب‘ شائع ہوئی، اسی سال دبستانِ عظیم آباد کے ایک معتبر شاعر اور ادیب امداد امام اثر نے’کاشف الحقائق‘ نام سے تنقیدی اور علمی کتاب پیش کی۔ اس سے چار برس پہلے 1893 میں حالی کی ’مقدمۂ شعر و شاعری‘ شائع ہوچکی تھی جس میں شعر و ادب کے عالمی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے اردو کے ادبی سرمایے کی سمت و رفتار کا ممکنہ تعین کیا گیا تھا۔ امداد امام اثر نے اپنی کتاب کی دوسری جلد تقریباً بیس برس کے بعد پیش کی، اس میں اردو اور فارسی کے شعراے کرام کے ادبی مرتبے پر طول طویل بحثیں موجود ہیں۔ یہ بجا کہ حالی کی تنقیدی ژرف نگاہی اور نکتہ رَسی امداد امام اثر میں نہیں ہے۔ اس کے باوجود بہت سارے شعرا کے بارے میں اثر نے اپنے جو تاثرات پیش کیے ہیں، وہ قابلِ اعتنا ہیں اور اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان میں اچھی خاصی تنقیدی صلاحیت موجود تھی۔
غالب کے سلسلے سے فارسی اور اردو دونوں زبانوں کی شاعری پر امداد امام اثر نے اپنے واضح تنقیدی تاثرات پیش کیے ہیں۔ گویا صوبۂ بہار میں غالب شناسی کی پہلی کوشش کے طور پر یہ کتاب سامنے آئی۔ گذشتہ صدی میں حلقۂ عظیم آباد میں امداد امام اثر کے بعد غالب شناسی کے سلسلے سے جو بہت ساری گہری باتیں سامنے آئی ہیں، ان کا اولین سِرا بہار میں امداد امام اثر سے ملتا ہے۔ اثر نے اولاً غالب کی فارسی غزلوں پر اپنے تاثرات پیش کیے ہیں جہاں وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ غالب فارسی زبان میں بڑے غزل گو شاعر کا مقام نہیں رکھتے۔ ان کا جملہ ہے: ’’ان کی تمام فارسی غزلوں میں صرف دس پانچ ہی شعر ہوں گے جو غزلیت کا لطف رکھتے ہوںگے ورنہ دیوان کا دیوان حسنِ مقبولیت سے خالی نظر پڑتا ہے‘‘۔ اثرنے حافظ اور صائب کے کلام سے موازنہ کرتے ہوئے بھی انھیں قابلِ ذکر شعرا میں تسلیم نہیں کیا۔
امداد امام اثر نے اردو غزل کی روایت میں غالب کے مقام کو واضح کرنے کے مرحلے میں غالب پر میر کے اثرات کے اشارے کیے ہیں۔ غالب کی شاعری میں موجود اثرپذیری اور سادگی کے پہلوئوں کو انھوںنے میر کے اثرات کے طور پر واضح کیا ہے۔ غالب شناسی کے حوالے سے یہ اس زمانے تک عام بات نہیں تھی۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ شمس الرحمان فاروقی نے ’شعرِشور انگیز‘ میں جس تفصیل سے غالب کی ’میری‘ پر پورا باب لکھا،’کاشف الحقائق‘ کو اس موضوع کا نقطۂ آغاز ماننا چاہیے۔ استعارات، اضافتوں کا استعمال، فارسی تراکیب اور شوخیِ بیان کو امداد امام اثر نے غالب کی امتیازی خصوصیت مانا ہے۔ غالب کے کلام سے مثالیں دیتے ہوئے انھوںنے سوزوگداز، دردومحبت، خستگی، نشتریت، دلآویزی، شیریں بیانی، شوخی، جلالت و متانت جیسے اوصاف کو غالب کی شاعرانہ صفات میں مرکزیت عطا کی ہے۔ امداد امام اثر کے زمانے کو دیکھتے ہوئے اور اردو تنقید کے تشکیلی عہد پر نظر رکھتے ہوئے امداد امام اثر کی بہترین تنقیدی صلاحیتوں کی اس مرحلے میں شناخت کی جاسکتی ہے جس سے انھوںنے غالب شناسی کے ابتدائی مراحل میں کامیابی پائی۔ ایک صدی بعد ’کاشف الحقائق‘ کی جلد دوم میں غالب کی شاعری پر لکھے گئے صفحات کو پڑھتے ہوئے ہمیں نقاد کی متانت اور سنجیدگی پر ایمان لانا ہی پڑتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ان کی مستقبل شناسی کا یقین ہو جاتا ہے۔یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جانا چاہیے کہ صوبۂ بہار میں غالب شناسی کی اولین بنیادیں ’کاشف الحقائق‘ کی دوسری جلد میں قائم کی گئیں۔ اسی لیے امداد امام اثر دبستانِ عظیم آباد کے غالب شناسوں میں سرخیل کا درجہ رکھتے ہیں۔
امداد امام اثر کے ساتھ ہی ہمیں عبد الغفور شہبازعظیم آبادی کی تحریروں سے غالب شناسی کے کسی نئے پہلو کی طرف قدم بڑھانے میں آسانی ہوگی۔ 1891-92 میں شائع شدہ ’زندگانیِ بے نظیر‘ نظیر اکبر آبادی کی حیات و شخصیت کو پہلی بار تفصیل کے ساتھ پیش کرنے کے لیے اپنی شناخت رکھتی ہے۔ بعد میں1901میں انھوں نے ’کلیاتِ نظیر‘ بھی مرتب کیا۔ ’زندگانیِ بے نظیر‘ میں نظیر اکبر آبادی کے شاگردوں کی جو فہرست موجود ہے، اس میں غالب کا ذکر آیا ہے۔ صفحہ195 سے 210کے دوران یہ موضوع زیرِ بحث ہے۔ یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ ’گلشنِ بے خار‘ (شیفتہ) میں نظیر اکبر آبادی کی شاعرانہ حیثیت کو کم تر دکھایا گیا تھا۔’گلشنِ بے خار‘ کے جواب میں ایک تذکرہ نگار میر قطب الدین باطن نے ’گلستانِ بے خزاں‘ (المعروف بہ نغمۂ عندلیب) جیسا تذکرہ لکھا۔ اسی تذکرے میں باطن نے پہلی بار یہ بات لکھی کہ اکبر آباد میں غالب اپنے قیام کے دَوران نظیر اکبر آبادی کی شاگردی میں رہے۔ خود شہباز نے باطن کے اس اظہارِ حقیقت پر اولاً تعجب کا اظہار کیا ہے۔ شہباز نے بتایا ہے کہ غالب کے شاگردِ نظیر اکبر آبادی ہونے سے انکار کرنے والے دو اصحاب اہم ہیں۔ حکیم غلام رضا خاں اور خواجہ الطاف حسین حالی لیکن شہباز کا کہنا ہے کہ شاگردِ نظیر ہونے کی موافقت میں بھی تین لوگ سرِ فہرست ہیں۔ میر قطب الدین باطن، مولوی سید محمود صاحب آزاد اور مولوی عبد الغفور نساخ۔
قاضی عبد الودود نے عبد الغفور شہباز سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’شہباز کو سوانح عمریِ بے نظیر میں خواہ مخواہ اس پر اصرار ہے کہ غالب تلمیذِ نظیر تھے۔‘‘ یہ موضوع قیاسی بنیاد پر جس طرح سے قابلِ قبول تسلیم کیا گیا، اسی طرح قیاسی بنیاد پر ہی اسے خارج بھی کیا جاتا رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ غالب نے اس سلسلے سے کوئی انکار یا اقرار نہیں کیا تھا۔ دونوں طرح کی شہادتوں کی ناموجودگی کے سبب ایک مدت سے یہ قضیہ حل طلب رہا ہے۔ اگر یہ حقیقی امر ہو تب بھی غالب اور نظیر اکبر آبادی کی ادبی شخصیات کی بلندی اور ادبی مقام کے سلسلے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر اس معاملے میں ایک فی صد بھی حقیقت کا امکان ہو تو ادبی تاریخ نویسی کے بعض بنیادی سروکار نئے سِرے سے طَے ہونے شروع ہوں گے۔یہ عظیم آبادی قضیہ جو عبدالغفور شہباز اور ان کے پسندیدہ تذکرہ نویسوں کے حوالے سے قائم کیا گیا، وہ اگر درست نہیں مانا جائے، تب بھی نفسِ مضمون کے انوکھے پَن کی وجہ سے دل چسپ ضرور ہے۔ عظیم آباد کی غالب شناسی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے محققین کو شہباز عظیم آبادی کے ساتھ ساتھ میر قطب الدین باطن اور دیگر اصحابِ دانش کے اس سلسلے سے قائم کردہ سوالات پرمتوجہ ہونا ہی چاہیے۔
غالب شناسی کے مرکز میں جس ایک شخص نے دبستانِ عظیم آباد کو درجۂ اعتبار تک پہنچایا، بلا شبہ وہ شخصیت قاضی عبد الودود کی تھی۔ حالی کے بعد غالب شناسی کو اردو تنقید و تحقیق کے ایک مستقل شعبے کے طور پر جن چند لوگوںنے اپنے کاموں سے یقینی بنایا، ان میں امتیاز علی خاں عرشی اور قاضی عبد الودود کی اہمیت سب سے بڑھ کر ہے۔ مالک رام اور کالی داس گپتا رضا نے بھی اس میدان میں اپنی کاوشیں پیش کیں مگر درجہ بندی اور معیار کے ساتھ اولین تحقیق و تفتیش کے معاملات پر غور کریں تو موخرالذکر دونوں اشخاص کی غالب شناسی کی اہمیت ذرا کم ہے۔ قاضی عبد الودود تمام عمر غالب کی حیات و شخصیت اور تصنیفات کے تعلق سے تحقیق کا حق ادا کرتے رہے۔ ’قاطع برہان و رسائلِ متعلقہ‘، ’غالب بہ حیثیتِ محقق‘، ’جہانِ غالب‘مستقل عنوانات رہے ہیں جنھیں قاضی عبدالودود نے اپنی تحقیق کے مرکز میں رکھا۔غالبیات سے دل چسپی کی اولین مثال قاضی صاحب کے رسالے ’معیار‘ (1936)میں ملتی ہے جہاں غالب کے سلسلے سے ان کے دو مضامین شائع ہوئے ہیں۔ غالب کے چند نئے دریافت شدہ خطوط بھی وہاں چھپے۔ یہ سلسلہ مستقل موضوعات اور متفرق مضامین کے ساتھ ساتھ ’جہانِ غالب‘ جیسے انسا ئیکلوپیڈیائی عنوان کے ساتھ خدا بخش لائبریری جرنل کے بیسویں شمارے (1982) تک پہنچتا ہے۔ ’جہانِ غالب‘ کی 27قسطیں شائع ہوئیں جن میں آخری قسط رسالہ ’تحریک‘ کے غالب نمبر 1974 میں چھپی۔اس طرح قاضی عبد الودود کی غالب شناسی کا دَورانیہ تقریباً نصف صدی (1936-82) یعنی 46 برس کو محیط ہے۔ غالب کے سلسلے سے مختلف موضوعات پر لکھے گئے ان کے مضامین بھی تعداد کے اعتبار سے پچاس سے زائد ہیں۔
مضامین کی نوعیت پر غور کیجیے تو ’غالب بہ حیثیتِ محقق‘ جیسی قاموسی تحریر کو بھی نمبر شمار میں ہم ایک مضمون کے طور پر گنتے ہیں جب کہ اس ایک مضمون کے صفحات 222 کو پہنچتے ہیں۔ کتب خانۂ خدا بخش نے ’کچھ غالب کے بارے میں‘ عنوان سے دو جلدوں میں غالب پر قاضی عبدالودود کے لکھے گئے متفرق مضامین کو یکجا کر کے شائع کر دیاہے۔ یہ دونوں جلدیں بھی پونے چھے سو صفحات پر مشتمل ہیں۔ ’جہانِ غالب‘ بھی اپنی مختلف اقساط کی یکجائی کے بعد تقریباً تین سو صفحات پر مشتمل ہے۔ ’قاطع برہان‘ بھی تقریباً تین سو صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ ’غالب بہ حیثیتِ محقق‘ کے ضمیمہ جات بھی سوا سو صفحات پر محیط ہے۔ ’مآثرِ غالب‘ بھی 120 صفحات پر مشتمل ہے۔اکثر کتابوں کی کتابت نہایت خفی ہے۔ اس کے باوجود تمام سرمایہ 1600 صفحات پر مشتمل ہے جسے موجودہ زمانے کی کمپوزنگ کے رواج کے مطابق شائع کیا جائے تو دو ہزار صفحات لازمی طور پر چھپ کر سامنے آجائیں گے۔عظیم آباد کے ایک گوشے میں بیٹھ کر قاضی عبد الودود نے غالبیات کی تنقید و تحقیق کے سلسلے سے جس قدر تفصیلی، معیاری اور حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا، اس کی کوئی دوسری مثال اردو کی ادبی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ بات توجہ میں رہے کہ غالبیات کے سلسلے سے جن دوسرے محققین کا تذکرہ ہوتا رہا ہے، ان کے کاموں میں ترتیبِ متن اور تدوین کے امور زیادہ ہیں۔ ورنہ ذاتی تحقیقات اور اپنے مضامین سے جتنا حجیم سرمایہ قاضی عبد الودود نے تیار کیا ہے، اس کا نصف بھی کسی دوسرے محقق بہ شمولِ امتیاز علی خاں عرشی، مالک رام اور کالی داس گپتا رضا کے یہاں موجود نہیں۔
غالب کے فرضی استاد کے سلسلے سے قاضی صاحب کے دو مضامین ’غالب کا ایک فرضی استاد: عبد الصمد‘ ( علی گڑھ میگزین، غالب نمبر 1949) اور ’ہر مزدثم عبد الصمد‘ (’احوالِ غالب‘، مرتبہ مختار الدین احمد، جون1953) بھی ایسے مضامین ہیںجیسے گہرے، تجزیاتی، استدلالی اور عالمانہ مضامین ہماری زبان میں بہت کم لکھے گئے۔ اِن دونوں مضامین کے بعد غالب کے استاد کو بالعموم فرضی تسلیم کیا جاتا ہے اور پورا حلقہ ملا عبد الصمد کو غالب کے ذہن کی اختراع مانتا ہے۔ ڈاکٹر تحریر انجم نے قاضی عبد الودود پر اپنے تحقیقی مقالے میں ان کے غالبیات کے سلسلے سے مرتبے کو واضح کرنے کے لیے ذیل کے چند جملے لکھے ہیں جنھیں بہ نظرِ توجہ دیکھنا چاہیے ؎
’’ غالب پر لکھنے والوں کی کمی نہیں لیکن ماہرینِ غالبیات کی حیثیت سے قاضی عبدالودود، امتیاز علی عرشی، مالک رام صفِ اول میں شمار ہوتے ہیں۔ قاضی صاحب نے اِن دونوں اصحاب کی کتابوں پر تبصرے کیے ہیں۔ عرشی صاحب کی ’مکاتیبِ غالب‘ اور ’فرہنگِ غالب‘ اور مالک رام کی ’ذکرِ غالب‘ پر ان کے وقیع تبصرے ہیں۔ ان محققین کے اغلاط کی نشان دہی اور ان کی معلومات پر اضافہ کرنا کوئی آسان کام نہ تھا لیکن قاضی صاحب ہی کی شخصیت تھی کہ انھوں نے ان کتابوں کے اغلاط کی نہ صرف نشاندہی کی بلکہ ان کی صحیح صورتوں سے بھی آگاہ کیا۔ یہی سبب ہے کہ عرشی صاحب اور مالک رام بھی قاضی صاحب کی بے پناہ تحقیقی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ ماحصل یہ ہے کہ غالب پر کسی نوع کی تحقیق، قاضی صاحب کی تحریروں کو پیشِ نظر رکھے بغیر معتبر نہیں ہو سکتی۔‘‘ (قاضی عبد الودود: شخصیت و خدمات‘: تحریر انجم، ص460)
قاضی عبد الودود سے کلیم الدین احمد، اختر اورینوی، جمیل مظہری اور عطا کاکوی اگر چہ عمر میں چھوٹے ہیں مگر تصنیف و تالیف کے اعتبار سے یہ تمام معاصرین میں شامل ہیں۔ رسائل میں مضامین کی اشاعت اور ان کی کتابوں کا ایک سلسلے سے شائع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ کم و بیش ایک ہی ادبی و علمی فضا میں اِن سب کی پرورش ہوئی اور سب نے غالب کو کسی نہ کسی طرح سے اپنے فکر و خیال کے مرکز میں رکھا۔ کلیم الدین احمد کی ’اردو شاعری پر ایک نظر‘ 1940 میں شائع ہوئی۔ کلیم الدین احمد کی تنقید کا مزاج علمی اور تجزیاتی ہے۔ ’اردو شاعری پر ایک نظر‘ میں غالب پر انھوں نے اگرچہ اختصار سے لکھا ہے مگر ایک شاعر کی حیثیت سے ان کے مقام کے تعین میں بعض ایسی بنیادی باتیں وہاں سامنے آئی ہیں جن سے غالب شناسی کے بہت سارے نئے زاویے واضح ہو سکتے ہیں۔کلیم الدین احمد کی تنقید کا مزاج ہرگز عقیدت مندانہ نہیں ہے۔ اس لیے غالب کے جائزے میں وہ صرف صنفِ غزل کی حدود ہی نہیں بتاتے بلکہ غالب کی خامیوں اور ادبی کمزوریوں پر بھی ان کی توجہ رہتی ہے۔ 1940 کا زمانہ یاد کیجیے اور دیکھیے کہ کس طرح کلیم الدین احمد غالب شناسی کے نئے پہلوؤں کو واضح کرتے ہوئے نظر آتے ہیں:
i غالب اور سودا میں پہلی بار وہ ہم آہنگی کی تلاش کرتے ہیں۔
ii تصوراتِ خارجی کے ساتھ احساساتِ باطنی کو غالب شعر کا حصہ بناتے ہیں۔
iii غالب مشکل مضامین کو آسانی سے بیان کر دیتے ہیں۔
iv غالب غزل میں قطعہ بندی کے امکانات تلاش کرتے ہیں۔
v غالب کے آرٹ میں وسعت اور تنوع ہے۔
vi غالب اپنے زمانے میں ادراک کے بلند مقام پر فائز تھے۔
vii غالب کے آرٹ میں ایک انوکھا پَن ہے جو اور کہیں نہیں ملتا۔
viii غالب کی انفرادی شخصیت تھی جس میں خود داری، شان اور ایک خاص انداز کی وضع تھی۔
ix غالب کی شخصیت میں پیچیدگی اور گہرائی کے ساتھ شوخی اور متانت موجود ہے۔
کلیم الدین احمد کا غالب کے سلسلے سے ایک اور معرکۃ الآرا مضمون ’غالب بہ حیثیتِ نقاد‘ رسالہ ’معاصر‘، پٹنہ کے شمارہ نمبر 1980-35 میں شائع ہوا۔ چھوٹی تقطیع کے 48 صفحات پر مشتمل یہ ایک طویل مضمون ہے۔ اردو تنقید کے سرمایے پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو اس موضوع پر شاید ہی کسی نقاد نے اس قدر شرح و بسط کے ساتھ غور کیا ہو۔ غالب کی تنقیدی حیثیت کو پرکھنے کے لیے کلیم الدین احمد نے کئی بنیادی اوزار استعمال کیے ہیں۔ حصۂ اول میں انھوں نے غالب کے کلام میں ترمیمات، اضافے یا اصلاحوں کو مرکزِ نگاہ بنایا ہے۔ غالب کے کوئی درجن بھر اشعار کے پرانے متن اور غالب کے ذریعہ بعد کی اشاعتوں میں پیش کردہ تبدیل شدہ متن کا انھوں نے تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے۔ اکثر تبدیلوں پر بحث کرتے ہوئے انھوں نے غالب کی اصلاحوں کو ان کے ذہن کی تنقیدی گہرائی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔اکثر اصلاحوں کے بارے میں کلیم الدین احمد کا خیال ہے کہ ان کے بعد وہ اشعار زیادہ بہتر اور معیاری ہو گئے ہیں۔ اِن اصلاحوں کے بعد کلیم الدین احمد نے غالب کے اس منسوخ کلام سے بھی مثالیں دی ہیں کہ آخر کس طرح غالب سے بہت سارے اچھے اشعار قلم زد ہو گئے۔ انھوں نے اس مرحلے میں دس شعروں کی مثال پیش کی ہے اور اس پہلو سے بحث کی ہے۔ غالب کی ذہنی کیفیت کو سمجھنے کی انھوں نے اس مشقِ خاص میں بھر پورکوشش کی ہے۔
کلیم الدین احمد نے مختلف شاگردوں کے کلام پر غالب کی جو اصلاحیں ہیں، ان مثالوں کو تفصیلی بحث کا موضوع بنایا ہے۔ جنوں بریلوی، ناظم، راقم اور بیتاب کے اشعار کے ساتھ ساتھ صوفی منیری اور حالی کے کلام کی اصلاحوں پر بھی بحث کی ہے اور غالب نے اصلاحات کے مرحلے میں اپنے شاگردوں کو جو اسباب بتائے ہیں، اس کا کلیم الدین احمد نے تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔ غالب کی اردو تقریظات کا ایک موضوعاتی مطالعہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ شاگردوں سے خط و کتابت کے دَوران ادب اور قواعد کے امور زیرِ بحث آتے رہے ہیں۔ عروض و بلاغت، تذکیرو تانیث، محاورات و روز مرہ کے مباحث غالب کے یہاں شاگردوں کے لکھے گئے خطوط میں ملتے ہیں۔ کلیم الدین احمد نے اِن ادبی معاملات میں غالب کی ذہنی مشق اور تنقیدی اپج کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ غالب کے تنقیدی ذہن اور ادب کے سلسلے سے تنقیدی طَور کو کلیم الدین احمد قابلِ غور و فکر سمجھتے ہیں مگر وہ اس بات پر معترض ہیں کہ غالب اپنی شاعرانہ رَو میں بہت بار Unpredictable ہو جاتے ہیں جو ایک ادبی نقاد کا شیوہ نہیں ہے۔ اس کے باجود وہ شعراے اردو میں غالب کے تنقیدی ذہن کی اہمیت کو پورے طور پر سمجھتے ہیں۔
غالب شناسی میں موضوعاتی اعتبار سے بہار کی اولیات اور علمی گہرائی کو جانچنے کے لیے خطوطِ غالب کے سلسلے سے لکھی گئیں بعض تنقیدوں کا ایک سرسری مطالعہ ہمیں پرلطف نتائج تک پہنچا سکتا ہے۔ انتشار سے بچنے کے لیے یہاں تین مثالوں پر اکتفا کیا جارہا ہے۔ پہلی مثال ’آبِ حیات‘ سے، دوسری مثال ’یادگارِ غالب‘ سے اور تیسری مثال کلیم الدین احمد کی ’سخن ہاے گفتنی‘ سے پیش کی جاتی ہے۔ اقتباسات ملاحظہ کریں:
l ’’ان خطوں کی طرزِ عبارت بھی ایک خاص قسم کی ہے کہ ظرافت کے چٹکلے اور لطافت کی شوخیاں اس میں خوب ادا ہوسکتی ہیں۔ یہ انھی کا ایجاد تھا کہ آپ مزا لے لیا اور اوروں کو لطف دے گئے۔ دوسرے کا کام نہیں۔ اگر کوئی چاہے کہ ایک تاریخی حال یا اخلاقی خیال یا علمی مطالب یا دنیا کے معاملاتِ خاص میں مراسلے لکھے تو اس انداز میں ممکن نہیں۔ اس کتاب میں چونکہ اصلی خط لکھے ہیں، اس لیے ان کی ظاہر و باطن کی حالت کا آئینہ ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے غم و اَلم ہمیشہ انھیں ستاتے تھے اور وہ علوے حوصلہ سے ہنسی ہی میں اڑاتے تھے۔ پورا لطف اِن تحریروں کا اس شخص کو آتا ہے کہ جو خود ان کے حال سے اور مکتوب الیہوں کی چال ڈھال سے اور طرفین کے ذاتی معاملات سے بہ خوبی واقف ہو۔ غیر آدمی کی سمجھ میں نہیں آتیں۔‘‘ (آبِ حیات،مطبوعہ(1880) ایڈیشن1907، ص498-99)
l ’’وہ چیز جس نے ان کے مکاتبات کو ناول اور ڈراما سے زیادہ دلچسپ بنا دیا ہے، وہ شوخیِ تحریر ہے۔‘‘ (یادگارِ غالب،(1897)، ایڈیشن، مکتبہ جامعہ، اگست 1971، ص201)
l ’’کوئی اردو انشاپرداز بہ لحاظِ دل چسپی اور لطفِ بیان کے، غالب کی تحریر کی مثال نہیں پیش کرسکا… اردو میں خالص ظرافت کے نمونے… جو ادبی معیار پر بھی پورے اترتے نظر آتے ہیں، وہ غالب کے معیار سے بہتر کہاں؟… اگر اردو انشاپرداز چاہتے ہیں کہ وہ میدانِ ظرافت میں آگے بڑھیں، اگر ان کی خواہش ہے کہ وہ زندگی کے مختلف پہلوئوں کی ہنستی بولتی تصویریں مرتب کرسکیں، اگر ان کی تمنا ہے کہ وہ ظرافت کے ایسے نمونے پیش کریں جنھیں فنا نہ ہو تو پھر وہ اپنی راتیں اور اپنے دن غالب کے مطالعے میں صرف کریں۔ ‘‘
(معاصر، پٹنہ، فروری، مارچ، اپریل1942 مشمولہ سخن ہاے گفتنی: کلیم الدین احمد، اشاعت اول 1955)
’آبِ حیات‘ میں محمد حسین آزاد نے خطوطِ غالب کی جو بنیادی خصوصیات بیان کی ہیں، ان میں شوخیِ تحریر یعنی ظرافت اور حقیقی حالات کا آئینہ ہونا بتایا ہے۔ حالی نے بھی شوخیِ تحریر کو بنیادی اہمیت دی ہے مگر اسی کے ساتھ دل چسپ بیانیے کی بھی داد دی ہے۔ دبستانِ عظیم آباد کے ممتاز فرزند کلیم الدین احمد نے ’اردو ادب میں طنز و ظرافت‘ عنوان سے 1942میں تین اقساط میں اپنا تفصیلی مضمون رسالہ ’معاصر‘ پٹنہ میں شائع کیا۔ انھوں نے نثری ظرافت کے نمونوں میں سب سے پہلے غالب کے خطوط کو پیشِ نظر رکھا۔ انھوں نے دلچسپی، لطف بیان اور خالص ظرافت کے نمونے کے طور پر ان خطوط کی تعریف تو کی ہے جس طرح ان کے سابق نقادوں بالخصوص محمد حسین آزاد اور الطاف حسین حالی نے کی تھی مگر گذشتہ تنقید پر کلیم الدین احمد کے علمی اضافے غور طلب ہیں، ملاحظہ کیجیے:
1 وہ انشا پردازی کے اصول و ضوابط کے لیے ان خطوط کو اہمیت عطا کرتے ہیں۔
2 زندہ تصویر کشی کے لیے ان خطوط کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں۔
3 ظرافت کے ایسے نمونے انھیں یہاں ملتے ہیں جن پر کبھی فنا نہ آئے۔
4 کلیم الدین احمد اردو کے انشاپردازوں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ ان کی راتیں اور دن خطوطِ غالب کے مطالعے میں صرف ہوں اگر وہ معتبر نثر نگار بننا چاہتے ہیں۔
موضوعاتی اعتبار سے محمد حسین آزاد اور حالی کے مقابلے کلیم الدین احمد کی تنقید میں چند ایسے نئے پہلو سامنے آگئے ہیں جنھیں خطوط غالب کی تنقید کے سلسلے سے اضافہ کہنا چاہیے۔ کلیم الدین احمد زبان و اسلوب کے اعتبار سے فن پاروں کی جانچ کے لیے خاص شناخت رکھتے ہیں اور ’مقدمۂ شعر و شاعری‘ کو پرکھتے ہوئے وہ یہ بات لکھ چکے ہیں کہ کس طرح حالی کی اصل اہمیت تنقید کی زبان ایجاد کرنے کی وجہ سے ہے۔ اسی طرح خطوطِ غالب پر بحث کرتے ہوئے انھوں نے اس کی زبان کی موزونیت، اثرپذیری اور گوناگوں خوبیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اردو زبان کے انشاپردازوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ اپنی نثر کو اعلا معیار اور فضیلت کا حامل بنانا چاہتے ہیں تو ان کے شب و روز خطوطِ غالب کے مطالعے میں صرف ہونے چاہئیں۔1942 میں جب کلیم الدین احمد نے یہ مضمون لکھا، اس وقت تک خطوطِ غالب کے اسلوب کے اثرات پر ابھی گفتگو شروع نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے دبستانِ عظیم آباد کی اولیات متعین کرتے ہوئے کلیم الدین احمد کی وہ تنقید جو خطوطِ غالب کے حوالے سے سامنے آتی ہے، اس کا بالاستیعاب جائزہ لینا ضروری تھا۔
دبستانِ عظیم آباد سے تعلق رکھنے والے، پیشے سے وکیل سید رفیع الدین بلخی کا غالب شناس کے طور پر ایک خاص مقام ہے۔ ان کا تعلق ’تاریخِ مگدھ‘ جیسی معتبر اور حوالہ جاتی کتاب کے مصنف فصیح الدین بلخی سے قرابت دارانہ رہا ہے۔ محض باون برس کی عمر میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان سے غالب کے سلسلے سے ایک مکمل کتاب ’تجزیۂ کلامِ غالب‘ یاد گار ہے جسے انھوں نے1948 میں مکمل کر لیا تھا۔ بعد میں اکیڈیمی آف ایجوکیشنل ریسرچ، آل پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس، کراچی سے سید علی حسنین زیبا ردولوی کے مقدمے کے ساتھ اس کتاب کی 1965-66 میں اشاعت ہوئی۔ 208 صفحات پر مشتمل یہ کتاب غالباً دبستانِ عظیم آباد میں غالب کے حوالے سے شائع شدہ پہلی مکمل کتاب ہے۔ سید رفیع الدین بلخی کی وفات پر علامہ جمیل مظہری نے ایک تعزیتی نظم بھی کہی تھی جس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اس دَور میں رفیع الدین بلخی کی ادبی حیثیت غیر معروف نہیں تھی۔ میرا اندازہ ہے کہ مزید تلاش و جستجو کی جائے تو اس عہد کے رسائل بالخصوص بہار سے نکلنے والے جریدوں ’ندیم‘ اور ’معاصر‘ میں ان کے دیگر مضامین بھی دستیاب ہو سکتے ہیں۔
سید رفیع الدین بلخی نے کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ انھوں نے اچھا کیا کہ بابِ اول کو سوانحی رخ سے آگے نہیں بڑھایا۔ ’یادگارِ غالب‘ جیسی کتاب فضا میں اس وقت گونج رہی تھی اور غالب کی زندگی کے چھوٹے بڑے پہلوؤں پر قاضی عبد الودود کے تحقیقی مضامین بھی شائع ہو رہے تھے۔ اس لیے انھوں نے غالب کی ادبی حیثیت کو ہی مرکزِ نگاہ بنایا ہے۔ بابِ اول میں غالب کی شاعری کا تعارف اور اس کے ہمہ گیر اثرات پر گفتگو کی گئی ہے۔ چھوٹے چھوٹے ذیلی عنوانات قائم کر کے انھوں نے نپے تلے انداز میں گفتگو کی ہے اور کوشش کی ہے کہ کوئی بات قصۂ طولانی نہ بنے۔ اس باب میں انھوں نے غالب کو اس طرح سے یاد کیا ہے کہ ان کے کلام میں اردو کی پرانی شاعری انجام کو پہنچتی ہے اور وہیں سے نیا عہد شروع ہوتاہے۔ ان کا جملہ ہے: ’’غالب آخری دَور کا آخری شاعر بھی تھا اور نئے عہد کا پہلا شاعر بھی۔دوسرے باب میں غالب کی شاعری کے عشقیہ پہلوؤں کو انھوں نے تفصیلی جگہ دی ہے۔ غالباً اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ کلامِ غالب کو وہ اردو کی کلاسیکی شاعری کی روایت کے حوالے سے بھی بہ غور دیکھ سکیں۔ عاشقانہ شاعری کی دنیا بہت وسیع و عریض رہی ہے اور غالب نے اپنی جدت کے ساتھ اس کی دنیا پہچاننے کی کوشش کی۔ اظہارِ عشق کے چھوٹے بڑے ہر موضوع کے حوالے سے مصنف نے غالب کے اشعار تلاش کیے ہیں اور کوشش کی ہے کہ اِن مضامین کو غالب نے جس سلیقے اور گہرائی کے ساتھ اپنی شاعری میں برتا ہے، وہ تجزیے کا حصہ بن جائے۔
تیسرے اور چوتھے باب میں غالب کے فلسفیانہ نظام پر انھوں نے گفتگو کی ہے۔ یہاں بھی متعدد ذیلی عنوانات قائم کیے گئے ہیں۔ تیسرے باب میں غالب کے نظریۂ حیات پر توجہ زیادہ ہے اور غالب کے یہاں عہد بہ عہد کس طرح مضامین میں تبدیلیاں آئیں، ان کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس باب کا اختتام انھوں نے غالب کی شخصیت اور شاعری میں موجود تضاد پر گفتگو سے کیا ہے۔ یہ گفتگو نہایت متوازن اور نقاد کی ذہانت کی غماز ہے۔ اس کتاب کے بابِ چہارم میں فلسفۂ غالب کو خاص طور سے موضوع بنایا گیا ہے۔ مذہبی فکر اور اس سے ملتے ہوئے الحاد کے ڈانڈوں کو انھوں نے ان کے درست تناظر میں پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ غالب کی شاعری میں تصوف کی بنیادیں کس طرح مستحکم ہوئیں، اس پر بھی یہاں بحث ملتی ہے۔ ہندی فلسفے میں جس ’مایا‘ کے تصور کی بڑی اہمیت حاصل ہے، رفیع الدین بلخی نے اس کے تناظر میں بھی غالب کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ چوتھے باب کا اختتام استغنا اور بت شکنی کے ذیلی عنوانات سے ہوا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ غالب کی شخصیت اور شاعرانہ کمالات کو کس حد تک درست تناظر میں دیکھ سکتے تھے۔
کتاب کی تصنیف کا زمانہ یاد رکھیں یعنی 1948 تو یہ بات ذہن میں ہونی چاہیے کہ اس سے پہلے غالب کی ادبی خدمات کے حوالے سے ہمارے پاس زیادہ کتابیں نہیں تھیں۔ ’محاسنِ کلامِ غالب‘ (عبدالرحمان بجنوری؍1925)، ’روحِ غالب‘ (محی الدین قادری زور؍1939)، ’اشک و رشکِ غالب‘ (سید ظہیر الدین علوی؍1941)، ’غالب اردو ترجمہ‘ (ڈاکٹر عبد الطیف؍ 1932)، ’مرزا غالب: زندگی اور کلام‘ (عشرت رحمانی؍ 1930)، ’غالب نامہ‘ اور آثارِ غالب‘ (شیخ محمد اکرام۔ 1937/1939) ’ذکرِ غالب‘ (مالک رام؍ 1938)، ’غالب سوانح و انتخاب‘ (غلام رسول مہر؍ 1936)، ’نکاتِ غالب‘ (نظامی بدایونی؍1924)اس دَوران کی اِن کتابوں میں سے نصف کی حیثیت سوانحی، انتخابِ کلام اور نظم و نثر کو ضمیمے کی شکل میں جمع کر کے کتاب کی شکل بنا دینے کی ہے۔ بے شک بعض اہم کتابیں بھی اس زمانے میں آئیں اور ان کے مصنفین بڑے غالب شناس کے طور پر معروف ہیں۔ اردو کے ابتدائی غالب شناسوں میں تنقیدی اعتبار سے سید رفیع الدین بلخی ایک معتبر حوالہ ہیں اور ان کی کتاب مکمل غالب کو سمجھنے کے لیے ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔
اختر اورینوی نے رسالہ ’اردو‘، دہلی کے جولائی 1941میں غالب کے سلسلے سے ایک تفصیلی مضمون ’غالب کا فن اور اس کا نفسیاتی پس منظر‘ عنوان سے لکھا جو بعد میں ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعے ’تنقیدِ جدید‘میں کوئی 60 صفحات میں پھیل گیا۔ اختر اورینوی کا غالب کے سلسلے سے یہ پہلا مضمون ہے۔ اس کے بعد انھوں نے ’عصرِ غالب اور غالب کے قبل و بعد کے میلانات‘، ’غالب کی فن کاری‘ اور ’غالب کے بہاری شاگرد‘ جیسے مضامین لکھ کر غالب شناسی کے میدان میں ایک مستحکم دعوا پیش کیا۔ اختر اورینوی نے اپنے پہلے مضمون میں نفسیاتی مطالعے کی بنیاد رکھی اور اشعار کی تعبیر و تشریح میں شخصیت کی زیریں سطحوں پر جو محشرِ خیال ابھرتا رہتا ہے، اس کی توجیہ اردو کے وسیع سرمایۂ شعر اور بالیدہ روایت کے تناظر میں کیا ہے۔یہ اس زمانے کی تنقید ہے جب عہد اور ماحول کے ساتھ شخصیت کو پس منظر کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اختراورینوی کے اس تنقیدی رویے کی شناخت ان کے بعد کے دوسرے مضامین میںبھی قائم ہے۔ غالب شناسی کے حوالے سے اب سے 80/85 برس پہلے انھوں نے جتنی سنجیدہ کوششیں کیں، اس کے مقابلے ان کی شناخت قائم نہ ہو سکی۔ افسانہ نگار، شاعر، عمومی نقاد اور استاد و خطیب کے بہ طور وہ ہمارے حافظے کا حصہ ہیں مگر اس بات کے لیے ان کی قدر ہونی چاہیے کیونکہ غالب شناسی کی بعض ابتدائی کاوشیں ان کے نام ہیں۔
غالب کی وفات کے سو سال مکمل ہونے پر ہند و پاک میں غالب کے فکر و فن کے حوالے سے تنقید و تحقیق کا ایک نیا ماحول قائم ہوا۔ ہمارے نقادوں اور محققین، شعرا و ادبا اور یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کو غالب شناسی کے لیے ذہن سازی کا موقع ملا۔ اس دَوران سیکڑوں کی تعداد میں سمیناراور مشاعرے ہوئے، کتابیں لکھی گئیں اور نئے نئے غالب شناس ابھر کر سامنے آئے۔ 1969 کی 26 جنوری کے شمارے میں رسالہ ’بہار کی خبریں‘ میں مشہور شاعر جمیل مظہری کا ایک مضمون ’غالب۔ ایک مصلح فن کار‘ شائع ہوا۔ رسالہ ’گنگ و جمن‘، کان پور کے اپریل 1976 کے شمارے میں غالب کے سلسلے سے جمیل مظہری کا دوسرا مضمون ’غالب کے نقشِ قدم پر‘ شائع ہوا۔ جمیل مظہری کی شاعرانہ حیثیت مسلم رہی ہے۔ ابتدائی دَور میں انھوںنے چند افسانے بھی لکھے لیکن ان کی شہرت اور عظمت کے لیے حقیقی بنیاد شاعری ہی رہی مگر ان کے متفرق نثری کاموں کو پروفیسر اعجاز علی ارشد نے دو جلدوں میں ترتیب دے کر ’بہار اردو اکادمی‘ سے ’منثوراتِ جمیل مظہری‘ شائع کرایا۔ اسی کی جلد ِدوم میں غالب کے سلسلے سے مذکورہ دونوں مضامین شامل ہیں۔
’غالب- ایک مصلح فن کار‘ میں جمیل مظہری نے اس بات کا شکوہ کیا ہے کہ نقادوںنے ان کے اندازِ بیان کے حوالے سے جس طرح بار بار توجہ کی، ان کے اندازِ فکر اور فلسفہ کے سلسلے سے یہ گہما گہمی اور توجہ نہ دیکھی گئی۔ جمیل مظہری نے فکرِ غالب کے متعدد پہلوؤں کو اس مضمون میں ابھارنے کی کوشش کی۔ غالب کی فکر کی رواداری کو جمیل مظہری نے کلیدی مقام دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیسویں صدی میں غالب شناسی کے لیے جو نیا ماحول تیار ہوا، وہ اسی فکری بنیاد پر مستحکم پا رہا ہے۔ جمیل مظہری کے دوسرے مضمون کا موضوع حقیقت میں غالب کے اثرات بعد کی نسلوں کے حوالے سے ہے۔ جمیل مظہری نے دبستانِ لکھنؤ سے لے کر دبستانِ عظیم آباد تک غالب کے شاعرانہ اثرات کے ثبوت فراہم کیے ہیں۔ جمیل مظہری کے یہ دونوں مضامین غالب شناسی کی سنجیدہ کاوشیں ہیں اور ایک معروف و معتبر شاعر کی بہترین تنقیدی صلاحیتوں کا مظہر ہیں۔عام طور سے جمیل مظہری پر اقبال کے اثرات کی نشان دہی کی جاتی رہی ہے مگر بعض نقادوں نے ان کے اسلوب پر غالب کے اثرات کی بات بھی کی ہے۔ جمیل کے مجموعے ’عکسِ جمیل‘ میں غالب کو یاد کرتے ہوئے دو نظمیں ’روحِ غالب سے‘ اور ’غالب‘ عنوان سے شامل ہیں۔ جمیل مظہری کے اسلوب کی سطح پر ایک حد تک غالب حاوی رہے ہیں۔ اسی داخلی رشتے کی وجہ سے جمیل مظہری نے غالب پر دو نظمیں اور دو تفصیلی مضامین لکھے۔ غالب کے حوالے سے فیضانِ عظیم آباد پر بحث کرتے ہوئے جمیل مظہری کو ہمیں لازمی طور پر یاد رکھنا چاہیے۔
عظیم آباد کے محققین میں عطا کاکوی کی خاص پہچان ہے۔ شاعری میں وہ شاد عظیم آبادی کے شاگرد تھے اور اردو فارسی تحقیق میں ان کی تحریروں کی بے پناہ اہمیت رہی ہے۔ ’غلطی ہاے مضامین‘ کی اقساط رسائل میں شائع ہوتی رہیں اور لوگوں نے دیکھا کہ کیسے کیسے مورخین اور محققین کے کاموں میں اغلاط راہ پا گئے تھے جن کی عطا کاکوی نے کی اصلاحیں کیں۔ غالب صدی تقریبات 1869 کے موقعے سے 96 صفحات پر مشتمل انھوں نے ’نذرِ غالب‘ عنوان سے ایک مجموعہ تیار کر دیا جس میں غالب پر چند نظموں کے علاوہ غالب کے مشہور مصرعوں کو طرح کے بہ طور استعمال کرتے ہوئے انھوں نے 29 طرحی غزلیں شامل کی ہیں۔ چھے طبع زاد نظمیں بھی غالب کے حوالے سے انھوں نے یہاں پیش کی ہیں۔ رسالہ ’آج کل‘ کے فروری 1957 کے شمارے میں انھوں نے ’غالب کے اردو دیوان کی اشاعتیں‘ عنوان سے ایک مختصر مضمون شائع کیا جس میں غالب کی زندگی میں شائع شدہ دیوانِ غالب کی ایک نئی اشاعت کا ذکر کیا ہے جو ’نگارستانِ سخن‘ مطبوعہ اگست 1882 کے حاشیے میں مکمل طور پر شائع ہو ا تھا۔ اس اعتبار سے عطا کاکوی کی یہ دریافت تحقیقاتِ غالب میں ایک اضافہ ہے۔ رسالہ ’غالب نامہ‘ جولائی 1984 میں ’غالب کی نثر نگاری‘ عنوان سے عطا کاکوی کا ایک دوسرا مضمون شامل ہے۔ تمام تحریریں تحقیقی و تنقیدی اعتبار سے گراں مایہ ہیں۔
سیدصباح الدین عبدالرحمن کی بنیادی حیثیت مورخ اور محقق کی رہی ہے مگر انھوںنے ’غالب : مدح و قدح کی روشنی میں‘ دو جلدوں میں تقریباً ساڑھے آٹھ سو صفحات پر مشتمل ایک ایسی تحقیقی کتاب تیار کی جس میں غالب کے طرف دار اور ان کے مخالفین دونوں کے اقوال، منطق و استدلال اور زاویہ ہاے نظر سامنے آجاتے ہیں۔ صباح الدین عبدالرحمان نے کوشش کی ہے کہ غالب کے مداحوں سے جہاں بے اعتدالی ہوئی ہے، اس پر روشنی ڈالیں اور اسی طرح غالب کے معترضین نے جو بے جا حملے کیے ہیں، ان کا بھی حقیقت کے آئینے میں جائزہ لیں۔ اس کتاب میں ایک واضح تاریخی شعور بھی موجود ہے انھوںنے غالب شناسی کے تقریباً تمام اہم پڑائوں کو اپنی کتاب میں شامل کرلیا ہے۔ جلد اول میں ابتدا سے1928 تک اور جلد دوم میں 1929 سے 1979 تک کی حمایت و مخالفت کو شاملِ بحث بنایا گیا ہے۔ دبستانِ عظیم آباد سے متعلق صفیر بلگرامی، امداد امام اثر، ڈاکٹر سید محمود، یگانہ چنگیزی، کلیم الدین احمد، مختار الدین احمد، اختر اورینوی، قاضی عبدالودود اور سید حسن صاحبان کی غالب شناسی کو موضوعِ بحث بناتے ہوئے ان کی تمام تحریروں کا منصفانہ انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔
بہار کے محققین میں غالب شناسی کے پہلو سے قاضی عبد الودود کے بعد مختار الدین احمد آرزو کا شمار ہوتا ہے۔ غالب شناسی کے حوالے سے ان کی ابتدائی دو مرتبہ کتابیں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ’احوالِ غالب‘ (جون 1953) اور ’نقدِ غالب‘ (جون 1956)۔ تیسری کتاب ’آثارِ غالب: علی گڑھ میں غالب کی تحریریں‘ 1969میں علی گڑھ میگزین کے غالب نمبر کی حیثیت سے شائع ہوئی۔ ’نوادرِ غالب‘ عنوان سے علی گڑھ میگزین کے غالب نمبر کو انھوں نے 1949 میں شائع کیا۔ ’مختار نامہ‘ عنوان سے علی گڑھ سے عطا خورشید اور مہر الٰہی ندیم کی کوششوں سے مختار الدین احمد کے مقالات کا اشاریہ شائع ہوا تھا۔ اس سے مستقل کتابوں کے علاوہ ان کے 37 متفرق مضامین کا پتا چلتا ہے جو غالب کی حیات و شخصیت اور غالب شناسی کے وسیع دائرۂ کار میں لکھے گئے۔ شاہ ولی الرحمان ولی کاکوی کے تنقیدی مضامین بہار کے قدیم رسائل و جرائد میں خوب خوب شائع ہوتے رہے ہیں۔ رسالہ ’ندیم‘ کے لیے انھوں نے انجم مان پوری کی فرمائش پر ’غالب و اقبال‘ عنوان سے ایک تفصیلی مضمون شائع کرایا۔ تقابلی تنقید کے آداب اور غالب شناسی کے نئے پہلوؤں کی طرف توجہ بڑھنے کے سبب یہ مضمون نہایت اہم ہے اور غالب کو ایک تقابلی تناظر عطا کرتا ہے۔
آزادی کے بعد صوبۂ بہار کے افق پر جو نقاد ابھرے اور جن کی تحریروں کو قومی سطح پر سنجیدگی سے پڑھا گیا، ان میں شکیل الرحمن، عبد المغنی، وہاب اشرفی اور لطف الرحمان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ شکیل الرحمن ابتدائی دَور سے ہی غالب کے سلسلے سے تصنیف و تالیف کے کاموں میں مستعد رہے۔ انھوںنے غالب صدی تقریبات کے موقعے سے اپنی تفصیلی کتاب دسمبر 1969 میں ’غالب کی جمالیات‘ شائع کی تھی۔ جمالیات کے تعلق سے شکیل الرحمن کے کاموں کا وہ نقطۂ آغاز تھا۔ بعد کے دَور میں فروری 1987 میں شکیل الرحمن کی غالب کے سلسلے سے سب سے تفصیلی کتاب ’مرزا غالب اور ہند مغل جمالیات‘ منظرِ عام پر آئی جو بڑی تقطیع کے 588؍ صفحات پر مشتمل تھی۔ اس زمانے میں اس کتاب کی قیمت بھی زیرِ بحث تھی کیوں کہ کسی نے اس وقت تک اردو کے کسی ہم عصر مصنف کی کتاب ایک ہزار روپے میں فروخت ہوتے ہوئے نہیں دیکھی تھی۔
شکیل الرحمن نے ’ہندستان کا نظامِ جمال‘ عنوان سے تین جلدوں میں جو کتاب شائع کی، اس میں بھی تیسری جلد میں ایک بڑا حصہ غالب کے سلسلے سے لکھا گیا ہے۔ نومبر 1987 میں ’ادارۂ فروغِ اردو‘، لاہور سے ’مرزا غالب کا داستانی مزاج‘ عنوان سے 176؍ صفحات پر مشتمل ایک اور کتاب منظرِ عام پر آئی۔ اِن مستقل کتابوں کے علاوہ شکیل الرحمن کے غالب کے سلسلے سے بعض متفرق مضامین بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان کے مجموعۂ مضامین ’دستِ فکر‘ مطبوعہ 1978 میں ’مکاتیبِ غالب‘ کے حوالے سے ان کا ایک مضمون شائع ہوا ہے۔شکیل الرحمن کو عام طور پر نفسیاتی اور جمالیاتی نقاد تسلیم کیا گیاہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لفظِ جمالیات کے اِرد گِرد رہتے ہوئے شکیل الرحمن نے اردو کے درجنوں شعرا و ادبا کے حوالے سے اپنی نگارشات پیش کیں اور اس اصطلاح کو اردو والوں کے بیچ مقبول بنایا۔ غالب پر لگاتار لکھنے کی وجہ سے انھیں معروف غالب شناسوں میں پہچانا گیا۔ اپنے اسلوبیاتی پیچ و خَم کے سبب ان کی تنقید قبولِ عام کے دربار میں جگہ نہیں پا سکی اور غالب پر جس قدر تفصیلی کام انھوں نے کیا، اس اعتبار سے ان کے قدر داں پیدا نہ ہوئے۔ وہ اپنی زود نویسی کے قتیل ہوئے اور ان کی غالب تنقید بھی اِن تحدیدات سے متاثر ہوئی۔
عبد المغنی کی دو مستقل کتابیں غالب کے سلسلے سے سامنے آئیں۔ ’عظمتِ غالب‘ (1990)، ’غالب کا فن‘،(1999)۔ دونوں کتابیں نہایت مختصر ہیں۔ عظمتِ غالب‘ میں 14 مضامین ہیں اور ’غالب کا فن‘ میں13؍ مضامین شامل ہیں۔ اکثر مضامین نہایت مختصر ہیں اور سرسری مطالعے کا نتیجہ معلوم ہوتے ہیں۔ پاکستان کے رسالہ ’اقبال‘، لاہور کے شمارہ اپریل۔ جون 1972 میں عبد المغنی کا ایک مضمون ’بیدل اور غالب : ایک مشترکہ علامت‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ عبد المغنی کی تنقید تحلیل و تجزیے کے بغیر مشاہدات درج کرنے کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔ ان کے یہاں متن سے جوجھنے کا عمل کم رہتا ہے۔ غالب کے سلسلے سے اِن دونوں کتابوں کے مضامین اس مفروضے کے ثبوت کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔
وہاب اشرفی جدید اور مابعدِ جدید نقادوںمیں اپنی پہچان قائم کرنے میںکامیاب ہوئے۔ ماہرِ غالبیات کے طور پر ہر چند کہ ان کی پہچان نہیں تھی مگر وقتاً فوقتاً انھوں نے غالب کو موضوعِ بحث بنایا۔ ’غالب نامہ‘ جولائی 1987 میں’غالب کی بوطیقا اور عصرِ حاضر میں اس کی معنویت‘ اور اسی رسالے کے جولائی 1992 میں شائع شدہ ’تفہیمِ غالب کے نئے ممکنہ جہات‘ ایسے مضامین ہیںجن سے موضوع کا بہت حد تک حق ادا ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ وہاب اشرفی کے چند اور غیر مدون تنقیدی مضامین غالب کے سلسلے سے ہیںجن پر آئندہ گفتگو کی جا سکتی ہے۔
لطف الرحمن نے تنقیدِ غالب کے باب میںکوئی مستقل کارنامہ تو نہیں پیش کیا مگر ہر دَور میں انھوںنے غالب کے کسی نہ کسی پہلو سے اپنے مضامین لکھے۔ ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعے ’نثر کی شعریات‘ میں غالب کے سلسلے سے جو مضمون شامل ہے، اس کا عنوان ہے ’غالب: فارسی شاعری کا ایک اجنبی کردار‘۔ ’تنقیدی مکالمے‘ کتاب میں غالب کے حوالے سے ان کے دوسرے مضمون کا عنوان ہے’ غالب: کلاسیکی ایرانی جمالیات کا آخری وارث‘۔ ’تعبیر و تقدیر‘ مجموعے میں غالب کے تعلق سے تیسرا مضمون ہے ’غالب اور عہدِ غالب‘۔ اِن مضامین کے موضوعات اور اندازِ فکر روایتی نہیں ہیں۔ لطف الرحمان کا یہ ایک اختصاص بھی تھا کہ اردو شاعری کے ساتھ ساتھ فارسی کا بھی بہت ستھرا ذوق تھا۔ اِن مضامین میں لطف الرحمان نے اپنے وسیع المطالعہ ہونے اور تنقیدی ذہانت کے ثبوت فراہم کیے ہیں، گہرے علم کی بہ دولت نتائج اخذ کرنے کی وجہ سے لطف الرحمان اہم نقاد کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
ختمِ کلام سے پہلے ہمارے لیے یہ لازم ہے کہ مرزا یاس یگانہ چنگیزی کو بھی یہاں یاد کرلیا جائے۔ یگانہ چنگیزی اردو شعر و ادب کی تاریخ میں بہت ساری خصوصیات کے سبب قابلِ اعتنا ہیں۔ غزل اور رباعی ان کے خاص میدان رہے۔ وہ طرح طرح کے تنازعات میں بھی مبتلا رہے۔ زندگی کی اکیس بہاریں عظیم آباد میں گزارنے کے بعد وہ واردِ لکھنؤ ہوئے تھے۔ شاد عظیم آبادی کے ہونہار شاگردوں میں ان کا شمار ہوتاہے۔ یگانہ ’غالب نا شناسی‘ کے مجرم کے طور پر اپنی پہچان رکھتے تھے۔ وہ خود کو ’غالب شکن‘ قرار دیتے تھے اور نثر و نظم دونوں حوالوں سے غالب کی عظمت کے انکاری تھے۔ ’غالب شکن‘ کتاب میں انھوں نے پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب کو ایک طویل خط لکھا جس میں غالب کی شاعری اور شخصیت کی کمزوریوں کو پیش کیا ہے۔ غالب کے ان اشعار پر ایک مکمل باب لکھا گیا ہے جن کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فارسی کے مسلم الثبوت شعرا سے معنوی یا اسلوبیاتی سطح پر استفادہ کیا گیا ہے۔ یگانہ نے ’غالب شکن‘ اشاعتِ دوم 1935 میں غالب کا مذاق اڑاتے ہوئے 32رباعیات بھی شامل کی ہیں۔اس بات سے انکار مشکل ہے کہ یگانہ میںاچھی خاصی تنقیدی صلاحیت تھی۔ ان کا مطالعہ وسیع تھا اور تحقیقی شد بد بھی کم نہیں تھی مگر ان کی شخصیت کی کَجی، بیان میں بے ہنگمی اور ہر بات میں استہزااور طنز کی کیفیت اور سب سے بڑھ کر شخصیت میں توازن کا فقدان؛ ان تمام عیوب نے یگانہ کی غالب شناسی کو غالب شکنی میں تبدیل کر دیا۔ حالانکہ یہ غور کرنے کا موقع ہے کہ یگانہ کے ان تمام اعتراضات سے ان کے مخصوص بیان کے ڈھب کو منہا کر دیا جائے تو ہمیں ایک معقول تنقیدی مواد حاصل ہوگا مگر یگانہ کو غالب کا مذاق اڑانے یا ٹھٹھول کرنے سے کوئی روک نہیں سکا۔ ’غالب اور عظیم آباد‘ کے موضوع پر غور کرتے ہوئے یگانہ کا تذکرہ بھی تاریخی اور تحقیقی اعتبار سے ضروری ہے۔ یگانہ کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کے لیے ’غالب شکن‘ سے ایک نثری اقتباس اور پانچ رباعیات بطورِ مثال حاضر ہیں:
’’غالب کیا ہے؟ زیادہ سے زیادہ ہندستان کا ایک بلند خیال دقت پسند شاعر جو بسا اوقات اپنے اوٹ پٹانگ تخیلات کی بھول بھلیاں میں گم ہو جایا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ پَر لے سِرے کا بے سرا بھی ہے۔ پرانا چور اور چور کے ساتھ گونگا بھی ہے۔ مضمون چرانے کو چراتا ہے مگر ہضم نہیں کر سکتا۔ تصرف کی قدرت نہیں رکھتا چوری کھل جاتی ہے۔ زبان ایسی گونگی کہ نفسِ مطلب کو شاعرانہ زبان میں ادا نہیں کر سکتا۔ ٹھونس ٹھانس کے تک بندی کر لیتا ہے۔‘‘
(’غالب شکن‘ (دو آتشہ)، آرمی پریس، دیال باغ، آگرہ 1935، ص2)
خاصہ نہ سہی بلا سے، کھرچن ہے بہت
تن ڈھکنے کو صاحب کا اتارن ہے بہت
دلی کا تخت الٹ گیا ٹھینگے سے
نوشہ کے لیے خلعت و پنشن ہے بہت
تلوار سے مطلب ہے نہ کھانڈے سے غرض
مومن سے سروکار نہ ٹانڈے سے غرض
رنگون میں دم توڑتا ہے شاہ ظفر
غالب کو ہے اپنے حلوے مانڈے سے غرض
کیوں کیا ہوئے وہ بہادری کے جوہر
سو پشتوں کی سپہ گری کے جوہر
پنشن کے لیے دلی سے کلکتے تک
دکھلانے چلے ہو شاعری کے جوہر
غالب کو میر سے بڑھانے والے
چوروں کو بانس پر چڑھانے والے
اندھوں کو اپنے ساتھ لے ڈوبیں گے
دنیا کو غلط سبق پڑھانے والے
بھونڈا پن ہے مذاقِ غالب میں رچا
مرزا کا کمال اپنی نظر میں نہ جچا
محفل میں ہے اب رنگِ یگانہ غالب
وہ کون یگانہ؟ وہی غالب کے چچا
یگانہ کی ان رباعیات سے غالباً آپ بدحظ نہ ہوئے ہوں گے۔ بیان کا یہ بھی ایک ڈھب ہے جب آدمی اپنے دل کی باتیں پیش کرتا ہے۔ یگانہ نے اگرچہ غالب سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں پال رکھی تھی مگر غالب کے عقیدت مندوں کی بے راہ رویوں سے وہ اتنے نالاں ہوئے کہ انھوں نے خود کو غالب شکن بنالیا۔ دو صدی پرانے شاعر کو کسی کا غصہ یا کسی کی تنقیدِ بے جا مٹی میں نہیں ملا سکتی۔ کمال تو یہ ہے کہ آج ہمارے لیے غالب کے ساتھ ساتھ یگانہ بھی محترم ہیں اور دونوں کے سلسلے سے پچھلے زمانے سے زیادہ معروضی اور منصفانہ نقطۂ نظر آج کی نسل رکھتی ہے۔ کل کے مقابلے علمی دنیا میں قوتِ برداشت بھی بڑھی ہے اور تحلیل و تجزیے کے میدان میں وسعت بھی آئی ہے۔ اس لیے ان رباعیات یا جملوں پر اپنے زمانے میں جتنے تنازعات قائم ہوئے، آج ایسے حالات نہیں ہیں اور اردو ادب کو پہلے سے زیادہ سنجیدہ قارئین میسر آتے رہے ہیں۔
’غالب اور عظیم آباد‘ کے حوالے سے اس طولانی گفتگو میں بار بار عظیم آباد اور غالب کی کیفیت بھی ابھری ہے۔ موضوع کے متعلقات کی اَدلا بدلی سے جو معنوی وسعت یا بکھراؤ پیدا ہوسکتا تھا، آپ نے شاید ملاحظہ کیا ہو۔غالب عظیم آباد نہیں آئے، غالب کا کوئی ایسا شاگرد بہار سے نہیں ابھراجس کے بارے میں یہ کہا جاسکے کہ اس نے غالب کو اپنے کارناموں کے اعتبار سے کوئی درجۂ اعتبار عطا کیا ہو مگر غالب کی وفات کے بعد گذشتہ دیڑھ سو برسوں میں غالب شناسی کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں جو سرگرمیاں پیدا ہوئیں، ان میں اہالیانِ عظیم آباد کئی اعتبار سے اہمیت کے حامل رہے۔ تحقیق کی باگ ڈور قاضی عبدالودود نے کچھ اس طرح سے سنبھالی کہ پوری اردو دنیا کے غالب شناسوں میں انھیں اول مقام دینے سے شاید ہی کسی کو اعتراض ہو۔ ’اردو شاعری پر ایک نظر‘ میں کلیم الدین احمد نے بھی غالب کو سمجھنے کے اصول و ضوابط گڑھے۔ پھر ایک کارواں عظیم آباد اور حلقۂ عظیم آباد سے چل پڑا۔ اس سے غالب شناسی کا قومی سطح پر جو ماحول تھا، اس میں عقیدت سے زیادہ معروضیت کے لیے گنجائشیں پیدا ہوئیں۔
Safdar Imam Quadri
Department of Urdu, College of Commerce
Arts and Science
Patna- 800020 (Bihar)
Mob & Whatsapp: 9430466321
safdarimamquadri@gmail.com