اردو زبان و ادب کے فروغ میں تراجم کا حصہ،مضمون نگار:بلقیس مقبول

May 14, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،مئی 2026:

اردو زبان و ادب کی ترویج میں ترجمے کی اہمیت ہمیشہ رہی ہے۔ ترجمہ زبان کو وسعت دیتا ہے، نئے مفاہیم سے روشناس کراتا ہے اور علمی سرمائے میں اضافہ بھی کرتا ہے۔ اس کے ذریعے مختلف زبانوں کے ادب تک رسائی اور ذہنی و فکری کشادگی پیدا ہوتی ہے۔اردو میں ترجمہ نگاری کی روایت بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود اردو زبان کی تاریخ۔ اس کا آغاز برصغیر میں پندرھویں صدی کے نصف آخر میں ہوا۔ ڈاکٹر ظ انصاری اردو کی ابتدائی تشکیل میں ترجموں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’اردو تو ایک باقاعدہ زبان بنی ہی ترجموں کی بدولت،ورنہ جب تک وہ کھڑی بولی کے روپ میں تھی اسے کسی بڑے قلم کار نے ادبی تصنیف کے قابل نہ سمجھا۔بولی سے زبان تک کا طویل فاصلہ ایک صدی کے اندر طے کرنے میں ترجموں کا بڑا ہاتھ ہے‘‘ 1؎
اردو زبان کے ابتدائی سفر میں صوفیائے کرام نے روحانی تعلیمات کے ساتھ ساتھ زبان کی تشکیل اور ترجمہ نگاری کی روایت کو بھی مضبوط کیا۔ شیخ عین الدین گنج العلم،، سید محمد حسینی بندہ نواز گیسو دراز ،شاہ میراں جی شمس العشاق،شاہ برہان الدین جانم وغیرہ جیسے صوفی بزرگوں نے مختلف متون کو سادہ اور عام فہم زبان میں منتقل کیا، جس سے عوام تک پیغام رسانی آسان ہوئی اور اردو میں مکالمہ نویسی کی بنیاد پڑی۔ صوفیانہ نثر و نظم نے فارسی کی لطافت، عربی کی گہرائی اور مقامی حکمت کو یکجا کر کے اردو زبان کو کم عرصے میں وسعت اور مضبوط ادبی بنیاد فراہم کی۔
قطب شاہی، عادل شاہی اور ابتدائی مغلیہ دور میں اردو ترجمہ نگاری کو نمایاں فروغ ملا۔ حکمرانوں کی سرپرستی کے سبب مختلف زبانوں کی تخلیقات اردو میں منتقل ہوئیں اور ترجمے کی روایت مضبوط ہوئی۔ قطب شاہی عہد میں ملا وجہی کی ”سب رس“، غواصی کی ”سیف الملوک و بدیع الجمال “اور ابن نشاطی کی ”پھول بن “نے دکنی اردو کو فکری اور ادبی طور پر مضبوط بنایا۔ یہ تمام کوششیں اردو کے بیانیہ اور ترجمہ نگاری کی بنیادوں کو مستحکم کرنے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوئیں۔
اردو ترجمہ نگاری کا منظر اس وقت بدلنے لگا جب انگریزوں نے منظم تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے ترجمے کو ادارہ جاتی شکل دینے کا فیصلہ کیا۔ اس سے پہلے ترجمہ زیادہ تر انفرادی کاوشوں تک محدود تھا، لیکن فورٹ ولیم کالج کے قیام نے اس عمل کو ایک باقاعدہ سمت عطا کی۔ اس کالج میں عربی، فارسی ، سنسکرت اور اردومیں ترجمے کیے گیے ۔ان میں اردو کو زیادہ اہمیت دی گئی اور نئے آنے والے انگریز افسروں کی تربیت کے لیے اسے بنیادی زبان کے طور پر پڑھایا جانے لگا۔ گلکرسٹ کو جب اس شعبے کی ذمہ داری ملی تو انھیں نصابی کتابوں کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں کالج نے خود اپنی درسی کتابیں تیار کیں۔ ان کتابوں میں تراجم کے ساتھ ساتھ تالیفات اور تصنیفات بھی شامل تھیں، جن میں پابند اور آزاد دونوں طرح کے تراجم موجود تھے۔ فورٹ ولیم کالج کی کاوشوں نے اردو نثر کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس سے پہلے اردو میں نثر تو موجود تھی، مگر وہ محدود، غیر مربوط اور ادبی معیار سے دور تھی۔ کالج نے عربی، فارسی اور سنسکرت جیسی بڑی زبانوں سے اردو میں منظم ترجمے کروائے اور ایسے نصابی و ادبی متون تیار کیے جو نہ صرف آسان زبان میں تھے بلکہ مستقبل کی اردو نثر کے لیے بنیاد بھی بنے۔ کالج میں میر شیر علی افسوس، مرزا فطرت،بہادر علی حسینی ، للولال جی ،میر امن اور دیگر اہلِ قلم کے تراجم اورتصانیف نے اردو کے اسلوب اوربیان کو ایک نیا رخ دیا۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ کالج نے لفظی ترجمے کے بجائے مفہوم کو اردو کے مزاج میں ڈھال کر پیش کرنے کی روایت قائم کی، جس نے اردو نثر کو بے جا ثقالت اور غرابت سے نکال کر سادگی، روانی اور وضاحت کی طرف گامزن کیا۔ اگرچہ فورٹ ولیم کالج کا مقصد انگریز افسروں کو مقامی زبان سکھانا تھا، لیکن اس عمل کے نتیجے میں اردو کو وہ فائدہ پہنچا کہ یہ زبان پہلی مرتبہ تعلیم، ترجمہ، تحریر اور انتظامی امور کے لیے باقاعدہ زبان کی حیثیت اختیار کر گئی۔ اس طرح فورٹ ولیم کالج اردو زبان کی ادبی تشکیل، ترجمہ نگاری کی مضبوط روایت اور اردو نثر کے قیام میں سنگِ میل ثابت ہوا۔
فورٹ ولیم کالج کے بعد اردو زبان کی ترویج، اس کے علمی استحکام اور ترجمہ نگاری کی باقاعدہ روایت کو جس ادارے نے نئی جہت عطا کی، وہ دہلی کالج تھا۔ یہاں ہندوستانی طلبہ کو مغربی علوم سے روشناس کرانے کے لیے بڑے پیمانے پر انگریزی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا گیا، اور اسی مقصد کے تحت 1842 میں دہلی ورنیکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی قائم ہوئی۔ اس سوسائٹی نے جدید مضامین کی تالیف اور ترجمے کے ذریعے ہندوستانی زبانوں، خصوصاً اردوکے فروغ کو اپنا بنیادی مقصد بنایا۔ چونکہ اصل کتابوں کی پیچیدہ زبان طلبہ کے لیے فوری طور پر قابلِ فہم نہ تھی، اس لیے آزاد ترجمے کو ترجیح دی گئی تاکہ علمی مواد کو سادہ، رواں اور عام فہم اردو میں منتقل کیا جا سکے۔ ریاضی، فلسفہ اور تاریخ جیسے مضامین پہلی مرتبہ اردو کے ذریعے پڑھائے جانے لگے، مگر اس کے لیے ضروری تھا کہ مغربی متون کے تراجم جامع اور منظم ہوں۔ اسی ضرورت کے پیش نظر ایجوکیشنل کمیٹی قائم کی گئی، جس نے دہلی ورنیکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی کو مزید مضبوط بنایا اور نصابی کتب کی تیاری اور ترجمے کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوا۔ دہلی کالج پورے ہندوستان میں وہ واحد ادارہ تھا جہاں مغربی علوم کی تعلیم اردو کے ذریعہ دی گئی، جب کہ اس سے قبل عربی، فارسی اور سنسکرت ہی تدریسی زبانیں تھیں۔دہلی ورنیکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی کو فروغ دینے میں ڈاکٹر اشپرنگر،منشی کریم الدین،مولوی ذکاء اللہ ،پنڈت رام کرشن اور پیارے لال وغیرہ کے نام اہم ہیں ۔ ماسٹر رام چندر اور امام بخش صہبائی انجمن کے روح رواں تھے۔ دہلی ورنیکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی کی خدمات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے انیسویں صدی کے اوائل میں اردو میں مختلف موضوعات پر ایسی کتابیں شائع کیں جنھوں نے اردو نثر کے دامن کو بے حد وسیع کیا۔ یہی وجہ ہے کہ مہدی افادی نے بجا طور پر کہا کہ:
’’یہ کل کی چھوکری یورپ کی بڑی زبانوں سے آنکھ ملانے کے لائق ہوگئی ‘‘ 2؎
انیسویں صدی میں سر سید احمد خان کی قائم کردہ سائنٹفک سوسائٹی نے اردو ترجمہ نگاری میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ یہ سوسائٹی اس مقصد کے لیے قائم کی گئی تھی کہ جدید مغربی علوم کو ہندوستانی معاشرے تک ان کی اپنی زبان میں پہنچایا جائے، تاکہ لوگ سائنسی، سماجی اور معاشی موضوعات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ سائنٹفک سوسائٹی نے سب سے پہلے یہ کام کیا کہ انگریزی کتابوں بالخصوص سائنسی اور فکری نوعیت کی تصانیف کا اردو میں ترجمہ کیا جائے، اور ان تراجم کے ساتھ وضاحتی حواشی شامل کیے جائیں تاکہ عام قاری کے لیے مشکل اصطلاحات اور مغربی فکر کو سمجھنا آسان ہو جائے۔ یہی وجہ تھی کہ اس سوسائٹی کے تراجم کم تعداد میں ہونے کے باوجود نہایت اعلیٰ علمی معیار کے حامل تھے اور انھوں نے اردو کو ایک فکری اور سائنسی زبان کے طور پر مضبوط بنیاد فراہم کی۔
سائنٹفک سوسائٹی کے ذریعے شائع ہونے والے تراجم میں یہ رجحان نمایاں تھا کہ مغربی نظریات اور اصطلاحات کو براہ راست اردو سانچے میں ڈھالا گیا، جس سے اردو نثر میں ایک نیا علمی مزاج پیدا ہوا۔ علاوہ ازیں سر سید نے سوسائٹی کے تحت ’’انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘‘ جاری کیا، جس میں سائنسی، اخلاقی، سماجی اور سیاسی موضوعات پر مضامین اور تراجم شائع ہوتے تھے۔ اس اخبار نے نہ صرف علمی مباحث کو عام کیا بلکہ سیاسی بصیرت اور معاشرتی شعور کو بھی فروغ دیا۔ سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ہونے والے تراجم نے معاشی، سائنسی اور فکری اصطلاحات کو اردو میں جگہ دی، اور مترجمین نے طویل حواشی کے ذریعے پیچیدہ مباحث کو آسان بنا کر پیش کیا۔ اس دوران عنایت اللہ دہلوی نے انگریزی ادب کی اہم اور مشکل کتابوں جیسے ’’دانتے‘‘ کی ’’ڈیوائن کامیڈی‘‘، اناطول فرانس کا ناول ’’تائیس‘‘، فلابئیر کی ’’سلامبو‘‘، کپلنگ کی ’’جنگل بک‘‘ اور شیکسپئر کے ڈراموں کے کامیاب تراجم کر کے اردو ادبی ترجمہ نگاری کو بھی ایک نیا وقار عطا کیا۔ سائنٹفک سوسائٹی کی انہی کاوشوں نے بعد کے زمانے میں کئی اداروں اور انجمنوں کو ترجمہ نگاری کی طرف راغب کیا اور اردو کو جدید علوم کے اظہار کا ایک وسیلہ بنا دیا۔
انجمن پنجاب لاہور، جس کا قیام 1865 میں عمل میں آیا، اردو زبان اور ادب کے فروغ میں ایک نمایاں سنگِ میل ثابت ہوئی۔ اس انجمن کا بنیادی مقصد پنجاب میں تعلیم کی ترقی اور علوم و فنون کی ترویج تھا، مگر بہت جلد یہ ادارہ اردو زبان کی علمی اور ادبی ترقی کا مرکز بن گیا۔ انجمن نے اپنے شعبۂ تصنیف، تالیف اور ترجمہ کے تحت نہ صرف جدید علمی موضوعات پر مضامین شائع کیے بلکہ ترجمہ نگاری کو ایک منظم ادبی سرگرمی کے طور پر فروغ دیا۔ کچھ سال میں انجمن پنجاب میں شائع ہونے والے ایک سو چالیس سے زیادہ مضامین نے اردو نثر میں نئے علمی مباحث متعارف کرائے۔ انجمن کے خطبات اور جلسوں نے اردو میں تقریر، مقالہ نگاری اور تنقیدی شعور کو مضبوط کیا، جب کہ اس کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے مشاعروں نے اردو شاعری میں جدید رجحانات کی بنیاد رکھی اور نئے موضوعات کو فروغ دیا۔ انجمن نے یہ بات ثابت کی کہ اردو نہ صرف ادبی اظہار کی زبان ہے بلکہ علمی اور سماجی مباحث کے لیے بھی پوری طرح موزوں ہے۔ یوں انجمن پنجاب لاہور نے اردو زبان کی علمی، تخلیقی اور ادبی عظمت کو نئی سمت عطا کی اور اسے ایک زندہ، متحرک اور ترقی پذیر زبان کے طور پر مستحکم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
اردو ترجمہ نگاری کو ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرنے میں سب سے نمایاں کردار جامعہ عثمانیہ حیدر آباد کے دارالترجمہ نے ادا کیا، جو برصغیر میں جدید علوم کو مقامی زبان کے ذریعے پڑھانے کی پہلی باقاعدہ کوشش تھی۔ 1918 میں جامعہ عثمانیہ کے قیام کے ساتھ ہی یہ فیصلہ کیا گیا کہ ذریعہ تعلیم اردو ہوگی، اور اسی مقصد کی تکمیل کے لیے سررشتۂ تالیف و ترجمہ قائم کیا گیا۔ دارالترجمہ کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ جدید سائنسی، فنی، سماجی اور فلسفیانہ مضامین کی مستند کتابوں کو اردو میں منتقل کر کے ایسی علمی فضا پیدا کی جائے جس میں طلبہ اپنی زبان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔ اسی مقصد کے تحت تقریباً پانچ سو سے زیادہ کتابوں کا ترجمہ کیا گیا، جن میں آرٹس، سائنس، انجینئرنگ، طب، قانون اور فلسفہ جیسے مضامین شامل تھے۔ ڈاکٹر وحیدالدین، پروفیسر محمد مجیب، ڈاکٹر سید عابد حسین، نظم طباطبائی اور دیگر اہلِ علم نے اس ادارے کے لیے معیاری تراجم کیے۔ مرزا محمد ہادی رسوا نے بھی دارالترجمہ میں اصول علم کیمیا، افلاطون و ارسطو اور فلسفیانہ متون کے تراجم کر کے اردو کے علمی ذخیرے میں گراں قدر اضافہ کیا۔ دارالترجمہ کی خدمات کا سب سے بڑا پہلو یہ تھا کہ اس نے اردو کو پہلی مرتبہ ایک مکمل تدریسی، سائنسی اور تحقیقی زبان کے طور پر یہ ثابت کیا کہ اردو جدید ترین علمی مباحث کو نہ صرف ادا کر سکتی ہے بلکہ انھیں اپنی فہم کے مطابق ڈھال بھی سکتی ہے۔ یوں جامعہ عثمانیہ اور اس کا دارالترجمہ اردو زبان کی علمی تاریخ میں ایک ایسے روشن باب کی حیثیت رکھتے ہیں جس نے ترجمہ نگاری کی روایت کو منظم، مضبوط اور ہمہ جہت بنایا۔
1936کے بعد اردو ادب میں ادبی، تنقیدی اور تخلیقی تراجم میں نمایاں اضافہ ہوا ۔اس دور میں ارسطو کی بوطیقا کے کئی ترجمے کیے گئے۔جن میں عزیز احمد نے ’’فنِ شاعری‘‘ او رشمس الرحمن فاروقی نے ’’شعریات‘‘ کے نام سے بوطیقا کا ترجمہ کیا۔ جمیل جالبی کی ترجمہ شدہ کتاب ”ارسطو سے ایلیٹ تک “انگریزی مضامین کا ترجمہ’ایلیٹ کے مضامین‘ اورہڈسن ولیم ہنری کی ادبی کتاب کے ترجمے نے اردو تنقید کو ایک نئے فکری رویے سے آشنا کیا۔ نیاز فتح پوری نے گیتانجلی کو ’’عرضِ نغمہ‘‘ کے نام سے منتقل کیا، جب کہ سجاد حیدر یلدرم، حامد اللہ افسر، صادق الخیری اور دیگر مترجمین نے مغربی افسانوں کو اردو میں متعارف کرایا۔ فرانسیسی، روسی اور امریکی ادب کے تراجم نے اردو نثر کو نئے اسالیب اور نئے بیانیوں سے روشناس کیا۔ ناول اور افسانے کی جدید تکنیکیں بھی انہی تراجم کے ذریعے اردو میں آئیں، اور پریم چند، منٹواور مرزا ہادی رسوا جیسے ادیبوں نے ان اثرات کو عملی صورت دی۔
اردو رسائل مخزن (لاہور)، زمانہ (کانپور)، نگار (آگرہ)، صلائے عام (دہلی) وغیرہ نے یورپی افسانوں کے تراجم شائع کرنے میں اہم خدمت انجام دی، جس سے اردو کا ادبی اور فکری دامن پہلے سے کہیں زیادہ وسیع اور پختہ ہوا۔ مختصر یہ کہ اس دور کی ترجمہ نگاری نے اردو ادب کو نئے رجحانات، نئی فکری سمت اور عالمی وادبی روایت سے گہرا ربط عطا کیا۔
اردو زبان و ادب کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ترجمہ نگاری نے اس زبان کی فکری، علمی اور ادبی تشکیل میں بنیادی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ ابتدائی صوفیا کی کوششوں سے لے کر قطب شاہی اور عادل شاہی ادوار کے ادبی تجربات، فورٹ ولیم کالج کی منظم نثری روایت، دہلی کالج کی علمی و تعلیمی سرگرمیوں، سائنٹفک سوسائٹی کی سائنسی و فکری کاوشوں اور جامعہ عثمانیہ کے عظیم ادارۂ ترجمہ تک ہر دور میں تراجم نے اردو کو نئی جہتیں عطا کیں۔ ان اداروں نے نہ صرف مختلف زبانوں کے علمی و ادبی سرمایہ کو اردو میں منتقل کیا بلکہ اردو کو ایک کارآمد، بامقصد، سائنسی اور تحقیقی زبان کے طور پر مستحکم کیا۔ بیسویں صدی میں ترجمے کی رفتار اور اس کے دائرے دونوں وسیع ہوئے، مغربی تنقید، فلسفہ، ناول، افسانہ اور شاعری کے تراجم نے اردو کی ادبی وسعت میں بے پناہ اضافہ کیا اور اسے عالمی ادب کے ساتھ فکری و فنی سطح پر ہم آہنگ کیا۔ تراجم کے ذریعے اردو میں نئے اسالیب، نئی تکنیکیں، نئی فکری سمتیں اور نئی ادبی اصناف داخل ہوئیں، جنھوں نے اردو کے ادبی سرمائے کو نہ صرف توانا کیا بلکہ آنے والے زمانوں کے لیے ترقی و تخلیق کی نئی راہیں بھی ہموار کیں۔ اس طرح یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ اردو زبان و ادب کی اشاعت، وسعت، گہرائی اور عالمی پذیرائی میں تراجم کا کردار بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔
حوالہ جات
1۔ ڈاکٹر ظ انصاری ، ترجمے کے بنیادی مسائل ،مشمولہ ترجمہ کا فن اور روایت، مرتبہ ڈاکٹر قمر رئیس ،تاج پبلشنگ ہاؤس جامع مسجددہلی،1976،ص81
2۔ سید ضمیر حسن،دہلی ورنیکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی، مشمولہ ترجمہ کا فن اور روایت، مرتبہ ڈاکٹر قمر رئیس ،تاج پبلشنگ ہاؤس جامع مسجددہلی،1976ص: 320

Dr. Bilkees Maqbool
Research Scholar, Department of Urdu, AMU,
Aligharh – 202002
Mob. 7006231496
Email: justbilkees@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ادب اطفال میں سوشل میڈیا کے اثرات ،مضمون نگار:کلدیپ راج آنند

اردو دنیا،مارچ2026: انسانی تاریخ میں ابلاغ ہمیشہ سے تمدن کی بنیاد رہا ہے۔ابتدامیں انسان نے غاروں کی دیواروں پر تصویری نشان بنائے، پھر خط و کتابت، اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی

لالہ رام نرائن لال اگروال‘ اور ’رائے صاحب لالہ رام دیال اگروالا ‘ کی خدمات،مضمون نگار: مریم صبا

اردودنیا،جنوری 2026: کتابیں لفظوں کا ذخیرہ ہوتی ہیں اور اسی نسبت سے مختلف علوم و فنون کا سر چشمہ بھی۔ دیگر زبانوں کی طرح اردو زبان و ادب کے فروغ

بالی وڈ اور اردو:زبان، ثقافت اور شناخت کا امتزاج،مضمون نگار: عبدالحفیظ فاروقی

اردودنیا،جنوری 2026: اردو زبان کی تاریخ محض ادبی ارتقا کی کہانی نہیں بلکہ مختلف تہذیبی اثرات کا حسین امتزاج ہے۔ اس کی بنیاد میں ہندی کی مٹھاس، فارسی کی نزاکت،