جدیداردو نظم میں تجربے اوران کاپس منظر،مضمون نگار:حنیف کیفی

April 4, 2025 0 Comments 0 tags

تلخیص


ادب زندگی کی تصویر،تفسیر اورتنقید ہونے کی حیثیت سے اس کا ایک لازمہ تو ہوتا ہی ہے لیکن یہ حیثیت فن وہ ایک شعوری عمل بھی ہے۔ اس لیے اس میں تبدیلیاں غیر شعوری نوعیت کی بھی ہوتی ہیں اور شعوری نوعیت کی بھی، اجتماعی سطح پر بھی ہوتی ہیں اورانفرادی سطح پر بھی۔ چنانچہ ان تبدیلیوں کو جن میں روایت سے واضح انحراف یاکسی نوعیت کا اجتہاد پایا جائے، تجربات کے نام سے یاد کیاجاتاہے۔
تخلیق کار کی کوئی بھی ایسی تخلیق جس کی ظاہری شکل و صورت ، انداز و اداواضح طور پر دوسروں کی تخلیقات سے یا خود اس کی دوسری تخلیقات سے مختلف و منحرف ہو، تجربے کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ مختصراً یہ کہاجاسکتا ہے کہ ادب میں تجربے کاتعلق ہیئت، تکنیک اوراسلوب سے ہوتاہے، مواد اس کے دائرے سے خارج ہے۔
کسی فن پارے کی اس واضح پہچان کواس کی ہیئت کہاجاتاہے۔ کثرت استعمال کے باعث جب کسی ہیئت کے نقوش متعین ہوجاتے ہیںتو وہ کسی نام سے معروف و مانوس ہوجاتی ہے۔ جب ان معروف و مانوس ہیئتوں سے جزوی انحراف یاکلی اختلاف کے نتیجے میں کوئی نئی شکل وجود میں آتی ہے تو اسے ہیئت کے تجربے سے تعبیر کیاجاتا ہے۔ ان سطور میں بھی ’ہیئت‘ کالفظ اسی محدود و مخصوص مفہوم میں استعمال کیاگیا ہے۔


کلیدی الفاظ
نظم، نظم معرا، ہیئت، تکنیک، اسلوب، غیر مقفیٰ ، بلینک ورس ، اسٹینزا فارم، سانچے، تجربے، فارسی، عربی، انگریزی، سرسید کی تحریک،کرنل ہالرائڈ،مولانا محمد حسین آزاد، انجمن پنجاب، برج موہن دتاتریہ کیفی، نظم طباطبائی
—————
شعر وادب میںتبدیلیوں کی نوعیت
زندگی اور ادب دونوں میں تبدیلی ایک ایسا قانون فطرت ہے جس کے بارے میں دو رائیں نہیں ہوسکتیں۔ تبدیلی کا یہ عمل مسلسل چلتارہتا ہے۔ تاریخی حالات، سماجی ضروریات، تہذیبی اقدار، عمرانی معیار، اجتماعی رجحانات و انفرادی میلانات، غرض ’پیہم دواں، ہردم جواں‘ زندگی کے گوناگوں تقاضے ان تبدیلیوں کاباعث ہوتے ہیں۔ مگر زندگی اورادب میں رونما ہونے والی ان تبدیلیوں کی نوعیت میں ذرا سا فرق ہے۔ زندگی میںتبدیلیاں عموماً غیر محسوس اورغیر شعوری طور پر ہوتی رہتی ہیں۔ شعوری تبدیلیوں کی گنجائش صرف ایسی صورت میں نکلتی ہے جب زندگی یکایک کسی بڑے انقلاب سے دوچار ہوجائے۔ ایسے مواقع پربھی تبدیلی کایہ عمل انفرادی نہ ہوکر اجتماعی نوعیت کا ہوتاہے۔ ادب زندگی کی تصویر،تفسیر اورتنقید ہونے کی حیثیت سے اس کا ایک لازمہ تو ہوتا ہی ہے لیکن یہ حیثیت فن وہ ایک شعوری عمل بھی ہے۔ اس لیے اس میں تبدیلیاں غیر شعوری نوعیت کی بھی ہوتی ہیں اور شعوری نوعیت کی بھی، اجتماعی سطح پر بھی ہوتی ہیں اورانفرادی سطح پر بھی۔ چنانچہ ان تبدیلیوں کو جن میں روایت سے واضح انحراف یاکسی نوعیت کا اجتہاد پایا جائے، تجربات کے نام سے یاد کیاجاتاہے۔ اسی کے ساتھ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تجربہ صرف اسی شعوری تبدیلی کو کہا جاتا ہے جوشعر وادب کی خارجی سطح پر عمل میں لائی جاتی ہے۔داخلی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلی کو تجربہ نہیں کہاجاتا کیونکہ داخل کی وسیع و عریض دنیا تخلیق کار کی مستقل مملکت ہے جسے وہ بلاشرکت غیرے جب اور جس طرح چاہے اپنے استعمال میں لاسکتا ہے۔ جذبات و محسوسات اور مضامین و موضوعات کا بے پایاں خزانہ اس کے قبضۂ اختیار میں رہتا ہے جس میں سے وہ حسب ضرورت و حسب توفیق انتخاب کرتاہے اور اس انتخاب کوبہتر سے بہتر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح ذہن و دل سے حاصل شدہ اس منتخب سرمایے کا استعمال تخلیقی عمل کی فطرت میں شامل ہے۔ اس فطری عمل کالازمی جزواور بنیادی ضرورت ہونے کے باعث انوکھے سے انوکھے خیال اور نادر سے نادر جذبے کی پیش کش کوتجربے کانام نہیں دیا جاسکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ اسے جدت خیال یامضمون آفرینی وغیرہ کے الفاظ سے تعبیر کیاجائے گا حتیٰ کہ فکری اعتبار سے اگر کسی شاعر کی پوری شاعری اپنے معاصرین یامتقدمین سے بالکل مختلف ہے تو اسے منفرد تو کہا جائے گاتجرباتی نہیں کہاجاسکتا۔ تجربے کااطلاق پیش کش کے ایسے انداز،اظہار کے ایسے طریقے پرہوتا ہے جس کا وجود بعینہٖ اس سے پہلے نہ پایا جاتا ہے۔ کسی تخلیق کار کی کوئی بھی ایسی تخلیق جس کی ظاہری شکل و صورت ، انداز و اداواضح طور پر دوسروں کی تخلیقات سے یا خود اس کی دوسری تخلیقات سے مختلف و منحرف ہو، تجربے کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ مختصراً یہ کہاجاسکتا ہے کہ ادب میں تجربے کاتعلق ہیئت، تکنیک اوراسلوب سے ہوتاہے، مواد اس کے دائرے سے خارج ہے۔
ہیئت اپنے وسیع مفہوم میں تکنیک اور اسلوب کو بھی محیط ہے۔ فلسفیانہ موشگافیوں سے قطع نظرجن کے باعث ہیئت یا ’فارم کامفہوم‘، بقول ڈاکٹر شوکت سبزواری، ’’کم سے کم ادب میں کثرت تعبیر کے باعث خواب پریشاں کی حیثیت رکھتا ہے۔1؎ اسے پروفیسر احتشام حسین کے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے:
’’ہیئت اپنے وسیع مفہوم میں ایک طرف تووہ طریق اظہارہے جو فن کار استعمال کرتا ہے اوردوسری جانب جذبات سے بھرا ہوا وہ پر اثر اور کسی حد تک مانوس انداز بیان ہے جو شاعر اور سامع کے درمیان رابطے اور رشتے کاکام دیتاہے۔ اس میں زبان، زبان کی تمام آرائش، اثر اندازی کے تمام طریقے، مواد کے تمام سانچے، حسن اور لطافت پیدا کرنے کے تمام ذریعے اور ان سب سے بڑھ کر مواد کے ساتھ ہم آہنگی کااحساس دلاکر ایک مکمل فنی نمونہ پیش کرنا، سھی کچھ شامل ہیں۔‘‘2؎
ہیئت کے اس وسیع مفہوم کے تحت اس کی مختصر ترین اکائی اوراولین نقطہ ’لفظ‘ ہے لیکن یہ نقطہ پھیل کر اپنے دائرے میں پوری تخلیق کو سمیٹ لیتاہے، اور اس طرح پورا فن پارہ اپنی آخری اور مکمل شکل میں ہیئت کی ایک وسیع اکائی کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے۔ یہ وسیع اکائی نہ صرف فن پارے کی خارجی شکل اوراس کے مختلف نقوش، جیسے لفظ اوراس کے تخلیقی استعمال کی تمام صورتوں،الفاظ کی مخصوص ترتیب، جملوں اورمصرعوں کے انداز و آہنگ، بحرووزن کی تخصیص، قوافی کی ترتیب اور بندوں کی تشکیل وغیرہ بلکہ اس کی داخلی کیفیت اور اس کی تمام اثرانگیزیوں پر محیط ہوتی ہے۔ اس خارجی شکل اورداخلی کیفیت کی ہم آہنگی کے نتیجے میں جوفنی تخلیق و جود میں آتی ہے وہ اپنی جگہ خودایک منفرد اکائی ہوتی ہے اس لیے ہر تخلیق دوسری تخلیق سے مماثلت اور اشتراک کے پہلوؤں کے باوجود مختلف ہوتی ہے۔ اس زاویۂ نظر سے دیکھا جائے تو ہر تخلیق کی اپنی ایک الگ ہیئت ہوتی ہے جسے کوئی مخصوص نام نہیں دیا جاسکتا مگر اس کی وجہ سے تخلیق کی پہچان اور انفرادیت کا تعین کیاجاسکتاہے۔ شاید ہیئت کے اسی وسیع مفہوم کی وجہ سے اس کے حدود کا تعین تقریباً ناممکن ہے۔ اس طرح ہرفن پارہ ہیئت کے ایک نئے تجربے کی حیثیت رکھتا ہے اورظاہر ہے کہ ایسی صورت میں نہ توہیئت کے تجربوں کی تخصیص ہوسکتی ہے اور نہ ان کاشمار ممکن ہے۔
ادب میں جب بھی ہیئت کے تجربوں کاذکر کیاجاتاہے تو اس سے ہیئت کا وہ محدود ومخصوص مفہوم مراد لیاجاتاہے جسے ساخت یاسانچے(Structure) کا نام دیا جاتاہے۔ اپنے جذبات و خیالات کو متشکل کرنے کے لیے فن کار جوسانچے استعمال کرتا ہے وہ واضح نقوش کے حامل ہوتے ہیں اورانھیں نقوش کی بنا پر ایک سانچا دوسرے سانچے سے مختلف و متمیز ہوتا ہے اور بیک نظر پہچان لیاجاتا ہے۔ کسی فن پارے کی اس واضح پہچان کواس کی ہیئت کہاجاتاہے۔ کثرت استعمال کے باعث جب کسی ہیئت کے نقوش متعین ہوجاتے ہیںتو وہ کسی نام سے معروف و مانوس ہوجاتی ہے۔ جب ان معروف و مانوس ہیئتوں سے جزوی انحراف یاکلی اختلاف کے نتیجے میں کوئی نئی شکل وجود میں آتی ہے تو اسے ہیئت کے تجربے سے تعبیر کیاجاتا ہے۔ ان سطور میں بھی ’ہیئت‘ کالفظ اسی محدود و مخصوص مفہوم میں استعمال کیاگیا ہے۔


کامیاب ادبی تجربے کی ضروریات وخصوصیات
پیشتر اس کے کہ اردو نظم نگاری میں ہیئت کے تجربوں کاذکر کیا جائے ’تجربے‘ کے متعلق چند اصولی باتوں کابیان مناسب ہوگاتاکہ ان کی روشنی میںکسی تجربے کی کامیابی یاناکامی کامعیار مقرر کیا جاسکے۔ جیسا کہ ظاہر ہے، شعر وادب میں تجربہ ادبی روایات سے شعوری انحراف یااختلاف کے عمل کا نام ہے۔ یہ ادبی روایات بجائے خود نتیجہ ہیں ادبی ولسانی، سماجی وتہذیبی اور ملکی و جغرافیائی خصوصیات و اقدار کی آمیزش و آویزش کا۔خصوصیات و اقدار کی آمیزش و آویزش کا یہ عمل مسلسل جاری رہتاہے اوریہ تسلسل ہی روایات کی تشکیل و تعمیر کاباعث ہوتاہے۔ جب کبھی کسی بھی وجہ سے اس تسلسل میں خلل واقع ہوتا ہے توکسی نئی چیز کاظہور ہوتا ہے۔ چونکہ یہ نئی چیز ایک فطری عمل کے تحت و جود میں آتی ہے اس لیے پرانی روایات کے کچھ نہ کچھ رنگ و آہنگ، نقوش و آثار اورصفات وخصوصیات اپنے اندر سمیٹ لاتی ہے اور اس لیے باوجود نئی ہونے کے بالکل نئی نہیں ہوتی۔ یہ نئی چیز کس رفتار سے مانوس و مقبول ہوتی ہے اس کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوتا ہے کہ اس میں پرانی روایات کی خصوصیات کس تناسب سے پائی جاتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ایسی جدتیں جوروایات سے یکسر منقطع ہوتی ہیں، قبول عام توکیا ، قبول محض کادرجہ بھی نہیں پاتیں اور جلد ہی عدم کے دھندلکوں میں کھوجاتی ہیں۔ بہرحال کوئی بھی جدت جب قبول عام کی منزل سے گزر کر رواج پاجاتی ہے تو خود ایک نئی روایت بن جاتی ہے۔ ادبی روایات میں ترمیم واضافہ فطری و لازمی ہے لیکن کسی بھی جدت کے روایت بننے کے لیے قبول عام لازمی شرط ہے۔ شعری ہئیتیں اور صنفیں بھی اس شرط سے مستثنیٰ نہیں۔
تجربے کے ذریعے ایک نئی شکل وجود پذیر ہوتی ہے۔ ہرنئی شکل شروع میں اجنبی اور غیر مانوس معلوم ہوتی ہے۔ لیکن کچھ شکلیں ایسی ہوتی ہیں جن میں مانوس و مقبول ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے جب کہ کچھ ایسی ہوتی ہیں جو بہرحال اجنبی ہی رہتی ہیں۔ مانوس و مقبول ہونے کی صلاحیت یاعدم صلاحیت ہی پر تجربے کی کامیابی ناکامیابی کا انحصار ہوتاہے۔ تجربہ وہی کامیاب کہلائے گا جو روایت بننے کی صلاحیت رکھتا ہواور یہ اسی صورت میںممکن ہے جب کہ ایک طرف تو وہ قدیم روایات سے ہم آہنگی کی خصوصیات رکھتا ہو اور دوسری طرف نئے حالات کے فطری تقاضوں کے تحت اس کاوجود ہوا ہو۔
حالات کے تقاضوں کے علاوہ جدت پسندی کاشوق بھی تجربے کا موجب ہوتاہے لیکن ایسی صورت میں بھی تجربہ فنکار کے فطری ابال اورداخلی ترغیب(Urge) کا نتیجہ اور اس کے تخلیقی عمل کا ایک لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ بہرحال تجربہ چاہے حالات کے تقاضوں کے تحت وجود میں آیا ہو یا جدت پسندی کے شوق نے اسے جنم دیا ہو، اسے اپنی کامیابی کے لیے ان خصوصیات کاحامل ہونا چاہیے جن کے باعث وہ معروف و مقبول ہوکر خود ایک نئی روایت میں تبدیل ہوسکے۔ ایسے تجربے جن میں فنکار کا خلوص شامل نہیں ہوتا اور جو صرف چونکانے یافنی مہارت دکھانے کے لیے کیے جاتے ہیں کبھی روایت کاجزونہیں بن پاتے۔ یہ جدت برائے جدت ایسے کرتب کی حیثیت رکھتی ہے جو چونکاتو سکتاہے لیکن تادیر اپنااثر قائم نہیں رکھ سکتا۔ ایسے کرتبوں کی مثال قدیم اردو شاعری میں مصرعوں کی مدور ترتیب جیسی شکلوں میں نظر آتی ہے اور جدید اردو نظم کی ان ہیئتوں میں دکھائی دیتی ہے جن میں داخلی وخارجی دونوں اعتبار سے شاعری کو ریاضی بنادیا گیا ہے۔
کسی ادبی تجربے کی مقبولیت کاانحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ وہ زبان، جس میںتجربہ عمل میں لایاجارہا ہے اس کامزاج اسے کس حد تک قبول کرتا ہے۔ ہرزبان کا اپنا ایک مخصوص مزاج اور تہذیبی، ادبی اورلسانی کردار ہوتا ہے جس کی تشکیل میںسیکڑوں عوامل کاہاتھ اور صدیوں کے تسلسل کی کارفرمائی شامل ہوتی ہے۔ زبان صرف انھیں تجربوں کو قبول کرتی ہے جواس کے مزاج سے ہم آہنگ ہونے کے اہل ہوں، اس کے تہذیبی و ادبی کردار سے مطابقت رکھتے ہوں اور اس کے لسانی ڈھانچے میں سما سکیں۔ دوسری زبانوں کے اثر سے جوتجربے کسی زبان میں نفوذ پاتے ہیں ان میں سے بہت سے صرف اس وجہ سے مقبول اورکامیاب نہیں ہوپاتے کہ وہ متعلقہ زبان کے مزاج اور کردار سے مطابقت نہیںرکھتے۔
مندرجہ بالا سطور سے یہ منطقی نتیجہ برآمد ہوتاہے کہ تجربے کاروایت سے گہرا تعلق ہوتاہے۔ بقول پروفیسر آل احمد سرور :
’’تجربہ بھی روایت کے بطن سے پیداہوتاہے اور جوروایت کے بطن سے یا ایک مانوس حسن کے احساس سے وجود میں نہیں آتا بلکہ من مانا اور ایجاد بندہ ہوتا ہے خود اپنی موت مرجاتاہے۔ نئے پن کے لیے ایک پراناپن بھی ضروری ہے مگر پرانے پن کو بجنسہٖ باقی رکھنے کی کوشش دیوانگی سے کم نہیں۔‘‘3؎
کامیاب تجربے کے لیے یہ بات بنیادی ضرورت اور لازمی شرط کی حیثیت رکھتی ہے کہ تجربہ کرنے والے کوروایت کی خوبیوںاور خامیوں ، حدود اوروسعتوں کا مکمل ادراک ہوناچاہیے۔ مقصود کی تشکیل کے لیے موجود کے نقوش کاواضح طورپرپیش نظر ہونا ضروری ہے۔ جب تک یہ نقوش فنکار کی نظر میں واضح نہ ہوں گے وہ ان میں نہ کوئی بہتر تبدیلی پیداکرسکے گاور نہ ان کے مقابل کسی اعلیٰ ترنقش کی تخلیق کرسکے گا۔ کامیاب جدت طراز وہی ہے جوروایت کی کوتاہیوں اور خامیوں کودور کرکے اپنی تخلیق کی صورت گری میں اس کی خوبیوں اور محاسن سے خاطر خواہ فائدہ اٹھاسکے۔ کسی بھی زبان کے ادبی تجربوں کی تاریخ اٹھاکر دیکھ لیجیے، کوئی بھی ایساتجربہ، جس کی تعمیر روایات کی تخریب پرکی گئی ہو، حیات چند روزہ سے زیادہ نہ پاسکتا۔ اس کے برعکس وہ تجربے، جن میںروایات کے صالح عناصر شامل رہے ہیں، پھولے پھلے ہیں۔ ایسے ہی تجربے روایات کی محدودیت کا نعم البدل بن کران میںتوسیع و اضافے کاباعث ہوئے ہیں۔ سچا اور اچھافنکاروہی ہے جو روایت کے صالح اور فاسد عناصر،صحت مند اور غیر صحت مند خصوصیات میں فرق و امتیاز کرسکے۔
اسی کے ساتھ ساتھ فنکار میں خود انتقادی کی صلاحیت بھی ہوناچاہیے۔ اسے اپنا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ روایت سے گریز کرکے وہ جس تجربے کو اپنانا چاہتا ہے وہ اس کے تخلیقی مزاج سے ہم آہنگ ہے یانہیں؟ وہ جس نئی صنف،ہیئت یا پیرایۂ اظہار کواپنے جذبات و خیالات کی صور ت گری کے لیے استعمال کرناچاہتا ہے اس سے اس کی تخلیقی شخصیت کااظہار بہتر طورپر ہوسکے گا یا نہیں، تاریخ شاہد ہے کہ بڑے سے بڑا شاعر بھی تمام اصناف میں یکسا ں کمال حاصل نہیںکرپایا۔ عموماً یہی ہوتا ہے کہ کسی ایک صنف کے ذریعے ہی شاعر کی تخلیقی شان نمایاں ہوتی ہے اور جب وہ کسی دوسری صنف میںطبع آزمائی کرتا ہے تو اسے وہ کامیابی نصیب نہیں ہوتی، بلکہ ایک مخصوص صنف شاعر کے مزاج سے مناسبت کی وجہ سے اس کی اس حد تک نمائندہ ہوجاتی ہے کہ اگر وہ کسی دوسری صنف کو ذریعۂ اظہار بناتا ہے تو اس پر بھی اس مخصوص صنف کے نقوش و اثرات واضح طور پرنظر آتے ہیں۔ مزاجاً غزل گو شاعر نظم میں بھی غزل گوہی رہے گا۔ فطرتاً نظم نگار شاعر کی غزل بھی زبان حال سے پکار اٹھے گی کہ اسے کسی نظم نگار نے تختۂ مشق بنایاہے۔ میر غزل ہی کے بادشاہ بن سکے۔ ان کے قصیدوں اور مثنویوں میں غزل کی ادائیں نظر آتی ہیں۔ اس کے برعکس ان کے ہم عصر سوداقصیدے کے مرد میدان رہے اور ان کی غزل میں قصیدے کی شان جلوہ گر ہے۔ ہر زبان کے ادب میں اس قسم کی بے شمار مثالیں مل جائیں گی جن سے اس بات کاثبوت فراہم ہوسکتا ہے کہ کسی شاعر کی تخلیقی شخصیت کا بہترین اظہار کسی ایک صنف یا زیادہ سے زیادہ دوتین اصناف کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اصناف سے قطع نظر، ہیئتوں کے استعمال کے سلسلے میں بھی شاعر کے مزاج کی مناسبت سے یہی تخصیص ضروری ہے۔ اس کی فنکاری چند ہیئتوں ہی کے استعمال میں ظاہرہوسکتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ مختلف ومتفرق ہیئتوں کاتجربہ کرتے رہنے والے شاعر کبھی اعلیٰ پایے کے شاعر نہ بن سکے۔ ان کی تخلیقی فطرت تجربوں کی مصنوعی راہوں میں بھٹک کر خود اپنا نشان کھو بیٹھتی ہے۔ شاعر کے مزاج کی مناسبت سے پیرایۂ اظہار کا انتخاب انتہائی ضروری ہے جس کا لحاظ نہ رکھنے سے ہمیشہ غلط نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ انتخاب کے اس عمل سے یہ بات لازم آتی ہے کہ تجربوں کادائرہ محدود ہونا چاہیے۔ جتنا یہ دائرہ وسیع ہوتاجائے گا،شاعر کی تخلیقی شخصیت اتنی ہی بکھرتی جائے گی۔ شاعر کو اس حقیقت کو کبھی پس پشت نہ ڈالنا چاہیے کہ وہ جو تجربہ بھی کرے ،اسے اس کی پوری شاعرانہ شخصیت کاایک جزولاینفک بن کر نمایاں ہونا چاہیے۔
ہیئت کے سلسلے میں اکثر یہ خیال بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ مواد اپنی ہیئت لے کر خود آتاہے۔ اس خیال کومکمل حقیقت تسلیم کرنے میں تامل ہوتا ہے، لیکن اس میںکچھ نہ کچھ سچائی ضرور ہے، کیونکہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مواد کسی مخصوص ہیئت کامتقاضی ہوتا ہے اور اگر اسے کسی دوسری ہیئت کے ذریعے پیش کیاجاتاہے تو ظاہر وباطن میں وہ ہم آہنگی نہیں پیداہوپاتی جو کسی فن پارے کابنیادی وصف ہوتا ہے۔ فیشن اور جدت کے شوق محض سے قطع نظر، نئی ہیئت کے تجربے کی ضرورت ہی اس وقت محسوس ہوتی ہے جب فنکار بنے بنائے سانچوں سے مطمئن نہیں ہوتا اور اسے شدت سے یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ اظہار کے موجودہ وسائل اس کے جذبات و محسوسات، افکار و نظریات، تاثرات وتجربات اور مشاہدات وخیالات کوپیش کرنے میں ناکام رہیں گے۔ ظروف کی تنگ دامانی کااحساس ہی اسے اپنے بیان کے لیے نئی وسعتوں کی تلاش پرمجبور کردیتا ہے۔ ایسے مواقع پرفنکار کوبہت سوچ سمجھ کرایسی ہیئت کا انتخاب کرناچاہیے جو اس کے مواد سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہو اور یہ محسوس ہوکہ یہ ہیئت صرف اسی مواد کے لیے تخلیق ہوئی تھی۔ غلط ہیئت کاانتخاب اکثر تخلیق کی بدہیئتی اور بے وقعتی کا باعث بن جاتا ہے۔ فنکار کو یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے کہ مواد اور ہیئت کی مکمل ہم آہنگی ہی کسی تخلیق کو فنی کارنامے کامقام عطا کرتی ہے۔ اگر اس بات کا ذرا سا بھی شبہ ہو کہ کسی ہیئت کے استعمال پراسے قدرت حاصل نہیں ہے یاکسی ہیئت کے اختیار کرنے میں اس کا یازبان کامزاج مانع ہے تو اسے ترک کردینا ہی بہتر ہوگا، چاہے اس کے لیے اسے اپنے جذبات کی قربانی دیناپڑے۔ وہ اپنے مواد میں مناسب ترمیم و تنسیخ کرکے اسے اس ہیئت کے مطابق ڈھال سکتاہے جس کے استعمال پراسے عبور حاصل ہے۔ بات کتنی ہی وزن دار کیوں نہ ہو، اگر وہ سننے والے کو متاثر نہ کرسکے تو اس کا ادا کرنا اپنی بات کھونا ہے۔ ناقص تجربے کے مقابلے میں روایت کی کارگرتعمیل کہیں بہتر ہے۔ تخلیق اگر فن کا شاہکار ہے اور اس میںانفرادیت پائی جاتی ہے توقدیم اور جدید کی بحث بے معنی ہوجاتی ہے اور اگر وہ بے ہنری کی علامت ہے تو نئے سے نیا انداز بھی اسے جاذب نظر نہیں بناسکتا۔ بقول عزیز احمد :
’’یہ جدیدنظر یہ کہ ایجادہی اعلیٰ درجے کی تخلیقی قوت کامظہر ہے ایک بڑی پست غلطی ہے۔ قوت تخلیق ایجاد سے آزاد ہے۔ وہ امکانات کی تلاش اور ان پر عبور کانام ہے۔ قوت تخلیق نہ روایت کی غلامی کرتی ہے نہ ایجاد کی۔ اس کا سب سے بڑا امتیاز اس کی انفرادی خصوصیت ہے۔‘‘4؎
تخلیق کی جدت و انفرادیت اس بات کی محتاج نہیں کہ اس کے اظہار کے لیے کسی نئے سانچے ہی کی تلاش کی جائے۔ یہ ایک ایسی ناقابل تردید حقیقت ہے جس کا ثبوت ہرزبان کی ادبی تاریخ کے ایک ایک ورق سے فراہم ہوسکتاہے لیکن جسے تجربے کے اکثر کم نظر شائقین دیکھ نہیں پاتی اور ٹھوکر کھاجاتے ہیں۔
تجربے کے سلسلے میںجو اصول اوپر بیان کیے گئے ہیں ان میںسے کچھ سے یا اکثر سے کچھ حضرات کو یابہت سے حضرات کو نظر یاتی اختلاف ہوسکتا ہے لیکن عملی طور پر اگر شعروادب کے کامیاب اور ناکام تجربوں کاان اصولوں کی روشنی میںتجزیہ کیاجائے تو ان کی صداقت ثابت ہوجائے گی اور ہرتجربہ خوداپنی کامیابی یا ناکامی کی داستان اتنے واضح انداز میں سناتانظر آئے گا کہ کسی مزید تنقید و تبصرے کی ضرورت محسوس نہ ہوگی۔


اردو شاعری میں تجربوں کا پس منظر
جہاں تک اردو شاعری میں ہیئت کے تجربوں کی داستان کا تعلق ہے تو اس کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اس میں ایسے تجربے بہت کم ہیں جو خالصتاً اس کے اپنے ہوں۔یہاں تقریباً سارے کاسارا مانگے کا اجالاہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹرشوکت سبزواری کی مندرجہ ذیل رائے بڑی حد تک درست ہے:
’’اردو شاعری میں اب تک ہیئت کے جوتجربے ہوئے ہیں وہ اردو میں نئے سہی حقیقت میں نئے نہیں۔ فارسی،عربی،انگریزی وغیرہ زبانوں کے ادب میں بہت پہلے یہ تجربے کیے جاچکے ہیں۔ اردو شعرا نے ان ہیئتوں کوان زبانوں کے ادب سے لے کر اردو میں رواج دیا۔‘‘5؎
اس رائے میں یہ اضافہ بے محل نہ ہوگا کہ دیگر زبانوں کے ادب میں ’بہت پہلے‘ کیے جانے والے یہ تجربے عام طور پر فرسودہ، پامال بلکہ بہت سی صورتوں میں مردہ ہوکر اردو کی ادبی فضامیں داخل ہوئے ہیں۔ زمان و مکان کے بعد،اقدار اورروایات کے اختلاف،زبان اوراس کے بولنے والوں کے مزاج کے فرق، شعرا کے عدم خلوص، تقلید اور فیشن پرستی کے غلبے کے باعث اس مانگے کے اجالے نے زیادہ تر مبہم اور منتشر پرچھائیوں ہی کو جنم دیا ہے اور اکثر تجربے اردو کی شعری روایت سے کٹے ہوئے اوراپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بناتے نظر آتے ہیں۔ اس سے یہ ہرگز نہ سمجھ لیناچاہیے کہ اردو کے سارے کے سارے شعری تجربے ناقص ہیں یا یہ کہ تجربے کوادبی شریعت میں گناہ اور روایت پرستی کو عبادت کا درجہ حاصل ہے۔ کھوکھلی روایت پرستی بھی اتنی ہی قابل مذمت ہے جتنی نری جدت پسندی۔ تجربہ ادب کی زندگی،رفتار اورحرکت کی علامت ہے اور اس کی کوشش فی نفسہٖ ایک مستحسن عمل ہے۔ لیکن خود تجربے کی زندگی اورصحت کے لیے صحیح غذا اور فضا کی ضرورت ہوتی ہے اس کا مہیا کرنا ایک ایسی نازک ذمے داری ہے جس سے کم لوگ ہی عہدہ بر آہوپاتے ہیں۔ پروفیسر آل احمد سرور کی اس رائے میں بڑا وزن ہے کہ:
’’روایات کے ترک و اختیار میں بھی ایک ہوش مندی اور زمانے کی ضروریات کا شعور ضروری ہے۔ ہمارے یہاں یہ ہوش مندی مفقود ہے۔ روایات کو ماننے والے اور انھیں یک قلم ترک کرنے والے دونوں سطحیت، سہل پسندی،یک رخی کا شکارہیں۔‘‘6؎
جن شعرا کوروایت اور تجربے کے تعلق کاعرفان حاصل رہاہے اور جنھوں نے روایات کے ترک و اختیار کے سلسلے میںسلیقے اور ہوش مندی سے کام لیتے ہوئے اپنے تجربوں کواپنی شخصیت میں جذب کرکے اور انھیں زمانے کی ضروریات اور زبان کے مزاج کے مطابق ڈھال کر پیش کیا ہے، انھوں نے اردو ادب میںخوشگوار اضافے کیے ہیں اور نئی روایات شعری کی بنیاد ڈالی ہے۔
تجربے یوں تواردو شاعری کے ہر دور میں ہوتے رہے ہیں۔ قدیم شاعری یعنی انقلاب 1857 سے پہلے کی شاعری کا دامن بھی ان سے خالی نہیں ہے۔ مرثیے کی صنف کے لیے غزل کی ہیئت سے لے کر مسدس تک مختلف ہیئتوں کے استعمال اور مستزاد کوتجربے کی نمایاں مثالوں کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے لیکن ان تجربوں کادائرہ انتہائی محدود تھا کیونکہ ان کے لیے جن ہیئتوں کو استعمال کیاجاتاتھا ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں تھی جس کاوجود اردو شاعری کی پیش روفارسی شاعری یاخود اردو شاعری میں پہلے سے نہ پایا جاتاہو۔ کئی سوسال پرانی اس شاعری میں کسی بھی ایسی نئی ہیئت کی ایجاد نہ ہوئی جسے اردو شاعری میں اضافہ کہا جاسکے۔ اس صورت حال کاتاریخی و تہذیبی پس منظر اتناواضح ہے کہ اس کا بیان تحصیل حاصل کے مترادف ہوگا۔ البتہ اس امر کا اظہار یہاں بے محل نہ ہوگا کہ ’ہیئت کے تجربوں‘کااستعمال جس مفہوم میںکیا جاتا ہے اور جو ان سطور میں بھی مراد لیاگیا ہے اس کی روشنی میں ان نام نہاد تجربوں کو دراصل ہیئت کے تجربے کہنا بھی درست نہیں۔ اردوشاعری میں ہیئت کے تجربوں کا آغاز صحیح معنی میں انگریزی شعر و ادب کے (پہلے بالواسطہ اور بعد میں براہ راست) اثرات کے تحت اس جدید شاعری کے پرچم تلے ہوا جسے انقلاب1857 کے بعد کے بدلے ہوئے حالات نے جنم دیاتھا۔ اس جدید شاعری کوتمام عملی مقاصد کے تحت جدید نظم نگاری کا نام دیاجاسکتا ہے۔
نئے حالات کے اقتضا، سرسید کی تحریک،کرنل ہالرائد کی تائید اور خود اپنی افتاد طبع کی ترغیب سے مولانا محمد حسین آزاد نے اس جدید شاعری کاسنگ بنیاد رکھا۔ انجمن پنجاب کے زیر اہتمام اگست 1867 کا وہ جلسہ جس میں انھوں نے اپنا خطبہ ’خیالات نظم اور کلام موزوں کے باب میں‘ پیش کیا، جدید نظم کی تاسیس کی تقریب اورمئی1874 کا وہ مشاعرہ جس میں انھوں نے اپنی نئے انداز کی مثنوی ’شب قدر‘ پڑھ کرسنائی اس کی تعمیل کا جشن اولیں تھا۔ مولانا آزاد کے اس کارنامے کا بیان ان کے ایک عزیز شاگرد سید ممتاز علی، مرتب ’نظم دلفروز‘ (مجموعہ نظم آزاد) نے ان الفاظ میں کیاہے:
’’(آزاد کے) جوش طبیعت نے جو کوہ آتش خیز کی طرح مدت سے رک رہاتھا مئی 1874 میں رسمی بندشوں کو جھٹکے مار کر توڑ ڈالااور انھوں نے بزم شعرا میں ایک نئے ڈھنگ کی مثنوی جس کانام مثنوی شب قدر تھا سنائی۔ سننے والے بیان کرتے ہیں کہ جس وقت وہ مثنوی مجلس شعرا میں پڑھی گئی تمام مجلس پر ایک سناٹا اورسکوت کاعالم چھاگیا۔ یہ پہلا دن تھاجس روز ہمارے ملک کی نئی شاعری کی پہلی اینٹ رکھی گئی۔‘‘7؎
جدید نظم کے فروغ میں مولانا حالی نے پہلے مولانا آزاد کے شریک کار کی حیثیت سے اور بعد میں آزادانہ طور پر حصہ لیا اوراسے مقبول کرنے میں آزاد سے زیادہ اہم رول اداکیا۔ اس سلسلے میں مولانا اسماعیل میرٹھی کانام بھی ایک یادگار کی حیثیت رکھتا ہے جنھوں نے آزاد سے الگ رہ کر مگر غالباً انھیں کی تحریک سے متاثر ہوکر، 1867 ہی میں نئے انداز کی چند نظمیں لکھیں اور بعد میں بھی وہ برابر اس قسم کی نظمیں لکھتے رہے۔ جدید نظم کے ان اولین معماروں نے اسے اپنے اپنے طور پرسرسبز و شاداب کیا۔ آزاد اور حالی نے تونثر کے ذریعے بھی اس کی تبلیغ کی مگر اسماعیل خاموشی کے ساتھ صرف شاعری کرتے رہے۔ ان تینوں بزرگوں کا بنیادی مقصد اردو شاعری کی اصلاح اور اس کی موضوعاتی وسعت تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنے نئے خیالات کے اظہار کے لیے پرانی ہیئتوں کو وسیلہ بنایا اور مثنوی، مسدس، ترکیب بند کے سانچوں کو بالخصوص نئی وسعتوں اور امکانات سے ر وشناس کرایا۔ جہاں تک ہیئت میںتبدیلی یا کسی نئی ہیئت کے استعمال کاسوال ہے یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ آزاد اور اسماعیل نے کبھی برسبیل تذکرہ بھی اس کی طرف اشارہ نہیں کیا مگر یہ دونوں ہیئت کاایک بالکل نیا اور انقلابی تجربہ یعنی نظم غیر مقفیٰ کا استعمال کر گزرے جب کہ حالی نے وزن اورقافیہ دونوں کو شعر کی ماہیت سے خارج قرار دیتے ہوئے سب سے پہلے بلینک ورس کاذکر کیا اور دوسروں کواس میںطبع آزمائی کا مشورہ بھی دیا مگرخود زندگی بھر مقفیٰ شاعری ہی کرتے رہے۔ بلینک ورس کا ذکر حالی کے ’مقدمہ شعر وشاعری‘ میں قافیے کی بحث کے تحت موجود ہے اور اس میں طبع آزمائی کرنے کا مشورہ پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی کی ’کیفیہ‘ میں ’ایک ذاتی واقعہ‘ کے عنوان سے اس طرح درج ہے:
’’خواجہ صاحب (حالی) اگرچہ انگریزی نہیں جانتے تھے لیکن بالطبع انگریزی اور انگریزی کی چیزوں کے بہت دلدادہ تھے۔ ملکہ وکٹوریہ کی سنہری جوبلی آئی مجھ سے فرمانے لگے کہ اس موقع پربلینک ورس میں لکھ۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت میری مشق اتنی پختہ نہیں کہ معنوی خوبیوں سے ان محاسن کا بدل ہوسکے جو عام طور پرردیف اور قافیے کی رعایت اور مناسبت سے پیدا ہوجاتے ہیں۔ آپ لکھیے۔ خواجہ صاحب نے اس موقع کے لیے صرف مثنوی کی صنف پسند کی۔‘‘8؎
یہ ایک دلچسپ صورت حال ہے کہ حالی ایک طرف تو ’بالطبع انگریزی اور انگریزی کی چیزوں کے بہت دلدادہ تھے‘ اور اس دلدادگی کا مختلف صورتوں میںاظہار بھی کرتے ہیں لیکن دوسری طرف وہ اس اعتراف و اعتذار کی ضرورت بھی محسوس کرتے ہیں:
’’مجھ کومغربی شاعری سے نہ اس وقت کچھ آگاہی تھی اور نہ اب ہے اور نیز میرے نزدیک مغربی شاعری کاپورا تتبع ایک ایسی نامکمل زبان میں جیسی کہ اردو ہے ہوبھی نہیں سکتا، البتہ کچھ تو میری طبیعت مبالغہ و اغراق سے بالطبع نفور تھی اور کچھ اس نئے چرچے نے اس نفرت کو زیادہ مستحکم کردیا۔ اس ایک بات کے سوا میرے کلام میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس سے انگریزی شاعری کے تتبع کا دعویٰ کیا جاسکے یااپنے قدیم طریقے کے ترک کرنے کاالزام عائد ہو۔‘‘9؎
اس کے باوجود کہ حالی اپناقدیم طریقہ ترک کرنے کی ہمت نہ کرسکے اور مغربی شاعری سے آگاہی نہ رکھنے کے باعث وہ اس کا پورا تتبع نہ کرسکے، اپنے معاصرین میںانھوں نے سب سے زیادہ اس شاعری کی روح کو اپنے اندر جذب کیا اور اس کے رنگ و آہنگ کا تاثر قبول کیا۔ وہ آزاد اور اسماعیل دونوں سے بہتر شاعر تھے اور انھوں نے اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر جدید شاعری کے فروغ میں نمایاں ترین رول اداکیا، اور اپنی نظم ونثر،شاعری اور شاعری کی تنقید دونوں سے آئندہ شعرا کوسب سے زیادہ متاثر کیا۔ جس شاعری کی ابتدا حالی نے آزاد کے زیر اثر کی تھی اسے بعد کے شعرا نے آگے بڑھایا اور نئی نئی جہتوں سے آشنا کیا۔ دیکھا جائے تو حالی کے بعد کے شعرا کی نسل حالی ہی کی اولاد معنوی ہے اور اس کا تکملہ اقبال کی شکل میں نظر آتا ہے جنھوں نے خود اپنی جگہ ایک پورے دور کے شعرا کو متاثر کیا ہے۔
یہ صحیح ہے کہ حالی نے اردو شاعری کی ہیئت میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور آزاد اپنے تجربے کے سلسلے میں سنجیدہ نہ تھے، جیسا کہ ان کی دو معرانظموں ’جغرافیۂ طبعی کی پہیلی‘ اور ’جذب دوری‘ سے ظاہر ہے لیکن ان دونوں نے، اور حالی نے نسبتاً زیادہ کارگرانداز میں، اردو شعرا میں تبدیلی کا جو شعور پیدا کردیا تھا اس نے آگے چل کر ہیئت میں تبدیلیوں کے دروازے بھی کھول دیے اور اس میدان میں بھی نئے نئے تجربوں کے لیے زمین ہموار کردی۔ اردو شاعری کے رنگ وآہنگ اور شکل و صورت میں بعد میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں ان کا سلسلہ اسی روایت سے ملتا ہے جس کی بنیاد آزاد نے ڈالی اور جسے پختگی حالی نے عطا کی۔


اردو شاعری میں ہیئت کے تجربوں کا باقاعدہ آغاز
حالی کے شاگرد کیفی،جنھوں نے نظم غیر مقفیٰ لکھنے کے سلسلے میں حالی کا مشورہ قبول نہ کیاتھا بعد میں خود اپنی مرضی سے اس کا تجربہ کرنے پر آمادہ ہوگئے یہ الگ بات ہے کہ ان کایہ تجربہ بے جان رہااور خود ان کی نظر میں اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ البتہ ایک اور تجربے میں جو انھوں نے اس موقع پر کیا جب حالی نے انھیں بلینک ورس لکھنے کامشورہ دیاتھا ان کواولیت کا فخر حاصل ہے۔ اپنے اس تجربے کو انھوں نے خود بھی خاصی اہمیت دی اور اس نے آگے چل کر بہت زیادہ اہمیت و مقبولیت بھی حاصل کی۔ یہ تجربہ متبادل قوافی(Alternate Rhymes) کے مصرعوں پرمشتمل انگریزی بند کی ایک مخصوص ہیئت Quatrain (مربع) کااردو میں استعمال تھا۔ اس سلسلے میں کیفی رقم طراز ہیں:
’’راقم نے ملکہ وکٹوریہ کی سنہری جوبلی کے موقع پرجو 1887 میں ہوئی تھی ایک نظم انگریزی اسٹینزا کے طرز پر لکھی تھی جس میں ہربند کے چار مصرعے تھے اس طرح کہ پہلا تیسرا اوردوسرا چوتھا مصرعہ ہم قافیہ تھے۔ اسی سال ایک اور نظم بھی لکھی جس میں صرف دوسرا اورچوتھا مصرعہ ہم قافیہ تھے۔ اس وقت یہ چیزیں انوکھی معلوم ہوئی تھیں۔ آج کل یہ دوسری شکل بہت چلتی ہے اور اسے قطعے کانام دیاجاتا ہے۔‘‘10؎
’ملکہ وکٹوریہ کی سنہری جوبلی‘ پر لکھی گئی محولہ بالا نظم پچیس بندوں پر مشتمل ہے۔ نمونے کے طور پرپہلا اور آخری بند پیش کیا جاتا ہے۔
ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی پر1887
پہلابند —
جُگ گزرے ہیں مینہ کو برستے
لاکھو بار آئی ہیں گھٹائیں
قرن ہوئے کلیوں کو بکستے
اور چلتی جاں بخش ہوائیں
آخری بند —
آؤ ہم سب یار اور ہمدم
خیرمنائیں اس ماتا کی
اور دعا مانگیں یہی ہر دم
جے ہو مہارانی ملکہ کی

(’واردات‘، ص 360-64)
مندرجہ بالا اقتباس میں جس دوسری نظم کاذکر کیاگیا ہے اس کا عنوان ’تہنیت کامیابی‘ ہے۔ یہ نظم جس کے بندوں کی ترتیب قوافی ’اب ج ب‘ ہے، چودہ بندوں پر مشتمل ہے اور ’واردات‘ میں ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی والی نظم سے فوراً پہلے ترتیب دی گئی ہے۔ اس نظم پر مندرجہ ذیل نوٹ دیاگیا ہے:
’’اس نظم میں مصرعوں کی ترتیب انگریزی طرز پر رکھی گئی ہے یعنی چارچار مصرعوں کا ایک ایک بند ہے جس میں صرف دوسرا اورچوتھا مصرعہ ہم قافیہ ہے۔ ایسی نظموں میں کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ پہلا اورتیسرا مصرعہ ہم قافیہ ہو اور دوسرا اور چوتھا مصرعہ جداگانہ ہم قافیہ ہو جیسے کہ اسی مجموعے میں اگلی نظم ہے۔11؎ آج کل اس قسم کی نظمیں قطعہ کے طور پر لکھی جاتی ہیں۔ یہ اولین نظم ہے جواس انگریزی طرز پر کہی گئی ہے۔‘‘12؎
مذکورہ بالا نظم کانمونہ حسب ذیل ہے :
تہنیت کامیابی 1887
پہلابند —
مبارک تجھے ہند یہ روز فرخ
کہ تیرے خرابات دیریں کے اندر
ہوئے ہیں وہ شہوار گنجینے ثابت
ہیں محروم جن سے شہ ہفت کشور
آخری بند —
رکھا تونے نام انڈیا کاجہاں میں
خداتجھ کو باکام و دلشاد رکھے
کیے ایسے ایسے مہاپرش پیدا
خدا ہند کو شاد و آباد رکھے
(’واردات‘، ص357-59)
کیفی کے پہلے تجربے یعنی ترتیب قوافی ’اب اب‘ پر مشتمل مربع بند کے اردو میں استعمال کی اولیت ثابت ہے لیکن دوسری نظم کے بندوں کی ہیئت جس کے بارے میں کہاگیا ہے کہ ’’آج کل یہ دوسری شکل بہت چلتی ہے اور اسے قطعے کانام دیا جاتا ہے‘‘، یایہ کہ ’’آج کل اس قسم کی نظمیں قطعہ کے طور پر لکھی جاتی ہیں‘‘، کیفی کی ایجاد نہیں۔ قطعے کی اس شکل کا وجود اردو شاعری میں پہلے سے پایا جاتا ہے۔ خود غالب کے دیوان میں چار مصرعوں پر مشتمل اس قسم کے قطعے پائے جاتے ہیں، البتہ یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ قطعہ کی اس ہیئت کو مسلسل نظم کے بندوں کے طور پر استعمال کرنے والے پہلے شاعر کیفی ہیں اور اس لیے یہ دعویٰ بے جانہیں معلوم ہوتا کہ ’’یہ اولین نظم ہے جو اس انگریزی طرز پر کہی گئی ہے۔‘‘
1887 میں نظم کی گئی کیفی کی دونوں مذکورہ بالا نظموں کے تقدم زمانی کی بدولت اس حقیقت میں شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ انگریزی کی اسٹینزا فارم ’اب اب‘ کواردو میں متعارف کرانے کا سہرا کیفی کے سر ہے تاوقتیکہ کسی اور شاعر کی نظم کیفی کی نظم ’ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی پر‘ سے پہلے کی نہ دریافت کرلی جائے۔ یہ ثابت شدہ حقیقت اس غلط فہمی کاازالہ کرنے کے لیے کافی ہے جواس سلسلے میں ’دلگداز‘ کے ایڈیٹر سے لے کر آج تک اردو شاعری میں ہیئت کے تجربات کے ناقدین او رمحققین کو رہی ہے یعنی یہ کہ اس اسٹینزا فارم کو اردو میں سب سے پہلے نظم طباطبائی نے ’گور غریباں‘ میں استعمال کیا۔ اس غلط فہمی پر مبنی چند بیانات ملاحظہ ہوں:
’’اردو میں اسٹینزا کہنے کی ابتدا اس نظم (گورغریباں) سیہوتی ہے۔‘‘13؎ عبدالحلیم شرر
’’یہ نظم (گورغریباں) انگریزی ’اسٹان زا‘ کے قافیے کی مخصوص ترتیب میں لکھی گئی ہے۔ اس ترتیب میں نظم لکھنا اب آسان ہوگیا ہے لیکن اس جدت کی ابتدا کاسہرا طباطبائی کے سر ہے۔‘‘14؎ پروفیسر عبدالقادر سروری
’’اردو کی پابند نظم میں ایک نیاانداز نظم طباطبائی کی ’گور غریباں‘ سے شروع ہوتا ہے جو گرے کی مشہور ایلیجی کا منظوم ترجمہ ہے اور جو شرر کی فرمائش پر کیاگیا تھا اور پہلی بار جولائی1897 کے دلگداز میں شرر کے تعارفی نوٹ کے ساتھ شائع ہواتھا۔‘‘15؎
ڈاکٹر خلیل الرحمن اعظمی
’’ان کا (نظم طباطبائی کا) ترجمہ’گورغریباں‘ تو اردو نظم کی تاریخ کا ایک انمٹ اورسدا بہار کارنامہ ہے اور بقول شرر اردو میں اسٹانزا (Stanza) کہنے کی ابتدا اسی نظم سے ہوتی ہے۔‘‘16؎ ڈاکٹر سیدہ جعفر
’’استینزا کی اس مخصوص ہیئت کو اردو سے روشناس کرانے کا سہرا نظم طباطبائی کے ہی سر ہے…اس کی ترتیب قوافی الف ب الف ب ہے۔‘‘17؎ ڈاکٹر عنوان چشتی
مندرجہ بالا تمام بیانات میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اردو میں اسٹینزا فارم ’اب اب ‘ کی ابتدا نظم طباطبائی کی ’گور غریباں‘ سے ہوتی ہے۔ اس حقیقت کی طرف ہمارے ناقدین و محققین کی نظر نہ گئی کہ برج موہن دتاتریہ کیفی کی نظم ’ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی پر‘ نظم کی ’گور غریباں‘ سے دس سال پہلے 1887 میں لکھی گئی تھی۔ یہ نظم ان کے مجموعۂ کلام ’واردات‘ میں اسی سنہ کے ساتھ شامل ہے۔ ’کیفیہ‘ کے مذکورۂ قبل اقتباس سے بھی اس نظم کے سنہ تصنیف اور اردو میں اس کی ہیئت کی اولیت کے بارے میں واضح طور پر نشاندہی ہوتی ہے۔ دس سال کے بعد اس تقسم زمانی کی بدولت یہ بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ اردو میں اسٹینزا فارم ’اب اب‘ کی ابتدا برج موہن دتاتریہ کیفی کی نظم ’ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی پر‘ سے ہوئی اوراس سلسلے میں نظم طباطبائی کی اولیت کا خیال غلط فہمی پر مبنی ہے۔


حواشی
1 نئی پرانی قدریں‘، مضمون: ’اردوشاعری میں ہیئت کے تجربے‘،ص 20۔
2 ’تنقیدی جائزے‘ مضمون : ’مواد اور ہیئت‘، ص 102
3 ’ادب اور نظریہ‘، مضمون: ’روایت اور تجربے اردو شاعری میں‘، ص231
4 ’ترقی پسند ادب‘ (طبع اول)، ص 44
5 ’نئی پرانی قدریں‘، مضمون: ’اردو شاعری میں ہیئت کے تجربے‘، ص 27
6 ’ادب اور نظریہ‘، مضمون: ’روایت اور تجربے اردو شاعری میں‘، ص 235
7 دیباچہ ’نظم دلفروز‘ (1899)، ص 7
8 ’کیفیہ‘، ص302کیفی کو یہاں تسامح ہواہے۔ حالی نے اس موقع پر جو نظم ’جشن جوبلی‘ کے عنوان سے لکھی وہ مثنوی نہیں، غزل کی ہیئت میں ہے اور اس میں سراسر، جوہر،قیصر،دفتر وغیرہ قوافی استعمال کیے گئے ہیں۔ اس نظم کامطلع اور آخری شعر بالترتیب حسب ذیل ہیں ؎
ہے عید یہ کس جشن کی یارب کہ سراسر
ہے جوبلی ہی جوبلی ایک اک کی زباں پر
قیصر کے گھرانے پہ رہے سایۂ یزداں
اور ہند کی نسلوں پہ رہے سایۂ قیصر

(ملاحظہ ہو،مجموعۂ نظم حالی)
9 مراد ’ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی پر‘ سے ہے۔
10 ’کیفیہ‘، ص 297
11 مراد ’ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی پر‘ سے ہے۔
12 ’واردات‘، ص 357
13 ’دلگداز‘، جولائی 1897، ص 7
14 ’جدید اردو شاعری‘، ص 182-83
15 ’سوغات‘، بنگلور، جدید نظم نمبر، مضمون: ’اردو نظم کا نیا رنگ و آہنگ: تشکیلی دور‘، ص 89
16 ’فن کی جانچ‘، مضمون: ’اردو نظم میں ہیئت کے تجربے‘، ص 31
17 ’اردو شاعری میں ہیئت کے تجربے‘، ص 74

مآخذ: اردو میں نظم معرا اور آزاد نظم (ابتدا سے 1947 تک)، مصنف: حنیف کیفی، چوتھی اشاعت: 2021، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ہندوستان کے چند اہم مکتوب نگار صوفیا،مضمون نگار:محمد خبیب

تلخیص ہندوستان میں فارسی مکتوبات کا بڑا ذخیرہ صوفیاکے رشحات قلم کا رہین منت ہے ، صوفیا نے اپنے مریدین ، متوسلین اور منتسبین کی اصلاح کے لیے حسب موقع

اردو رباعی کے تدریجی منازل،مضمون نگار:محی الدین زور کشمیری

تلخیص رباعی عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’چار‘ ہے۔ اصل میں رباعی چار مصرعوں پر مشتمل اس چھوٹی سی نظم کو کہتے ہیں جس کا پہلا، دوسرا

صعالیک یا خانماں برباد شعرا،مضمون نگار:عبدالحلیم ندوی

اب تک ہم نے جن شعرا کا تذکرہ کیا ہے ان میں سے اکثر وہ ہیں جو عام طور سے اپنے خاندان قبیلہ اور سماج سے نہ صرف متعلق رہے