اردو زبان کا فروغ اور مصنوعی ذہانت،مضمون نگار:اختر آزاد

April 2, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،اپریل 2026:

اردوزبان ہماری تہذیبی وراثت کی امین ہے۔ اس کے اندر جو شعری لطافت، فکری شگفتگی ، نثری شائستگی اور فکری وسعت ہے اس نے مجموعی طور پر ہماری اپنی علمی اور ادبی صلاحیت کو جلا بخشی ہے اور اردو کو نئے جہان معنی سے روشناس کرایا ہے۔ آج دنیا بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے ساٹھ سالہ سفر میں دنیا کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے لیکن ادھرقریب دس پندرہ برسوں میں ڈیجیٹل ورلڈ ، سائبر اسپیس اور انٹرنیٹ کی دنیا میں جو تکنیکی ترقی ہوئی ہے اس نے انسانی زندگی کے تمام شعبہ ٔجات میں ایک انقلاب سا برپا کر دیا ہے۔آج اسی انقلاب کا دوسرا نام مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) ہے۔ جسے اردو میں مصنوعی ذہانت کہتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کا سب سے زیادہ فائدہ انگریزی زبان اٹھا رہی ہے۔ اس لیے اس میں تجربے بھی زیادہ ہو رہے ہیں۔ جس زبان میں زیادہ تجربے ہوں گے وہ زبان اپنی شناخت کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہے گی۔۔۔۔۔۔۔ ایسے میں ہم اردو سے محبت کرنے والے چاہتے ہیں کہ اردو بھی دنیا کی دوسری ترقی یافتہ زبانوں کے شانہ بہ شانہ چلے۔ لیکن اس کے لیے ہم اردو سے محبت کرنے والوں ، اردو میں ریسرچ کرنے والوں اور اردو پڑھنے پڑھانے والوں کو نئے دور کے تقاضوں اور اس کی نئی نئی تکنیک سے ہم آہنگ ہونا ہوگا۔ کیوں کہ جدید ترقی یافتہ دور میں جدید تقاضوں سے روشناس ہونا اورمصنوعی ذہانت سے لیس ہوناآج اردو والوں کے لیے ناگزیر ہو کر رہ گیا ہے۔
مصنوعی ذہانت ہے کیا؟ دراصل یہ کمپیوٹر سائنس کی ایک شاخ ہے جس میں سافٹ ویئرکو کچھ اس طرح سے تیار کیا جاتا ہے کہ کمانڈ دیتے ہی مشین فوری طور پر رد عمل کرتی ہے ۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح سے انسانی دماغ سوچنے، سمجھنے ، سیکھنے اور غلط صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔
آج مصنوعی ذہانت کا استعمال دنیا کے تمام شعبۂ جات میں ہو رہا ہے۔آہستہ آہستہ ہماری روز مرہ کی زندگی میں لہو کی طرح گھلتی جا رہا ہے۔ ہمار ی پرائیویسی میں بھی اس کا دخل ہونے لگا ہے۔ بہت سارے فوٹوز بنا کر وہ پیش کر دیتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ پھر موبائل آن کرتے وقت فنگر پرنٹس، ڈیوٹی جوائن کرتے وقت فیس ڈیٹیکٹر، جی پی ایس سسٹم، ڈرون یہ سب تو چند مثالیں ہیں ۔
AI کی مدد سے تعلیم وتحقیق ، مواصلات اور تخلیق کے میدان میں بھی لوگوں نے نمایا ں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہاں میں اردو زبان کے فروغ میں مصنوعی ذہانت کے امکانات و خدشات کو اردو نواز دوستوں کے روبرو رکھنا چاہوں گا۔
ہم سب آج کمپیوٹر سے زیادہ موبائل سے جڑے ہوئے ہیں۔ موبائل میں بھی بہت سارے فیچرز اور ایپ ایسے ہیں جس کے ذریعہ ہم اے ۔ آئیAI) (کا براہ راست استعمال کر سکتے ہیں ۔جن میں جی پی ٹی چیٹ، پرپلیکسیٹی Perplexity ، grok,Gemini, soft co-pilot وغیرہ اہم ہیں ۔ یہاں سے ہم اپنی ضروریات اور شوق کی بہت ساری چیزیں حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہ سرچ انجن نہ ہوتے ہوئے بھی انٹرنیٹ پر جو لنکس موجودہیں اس کو سامنے رکھ دیتی ہے۔ بہت سارے مواد فراہم کر دیتی ہے ۔ یعنی انفارمیشن کی ایک ایسی دنیا آپ کے سامنے سکنڈ بھر میں لا دیتی ہے، جسے حاصل کرنے کے لئے پہلے کتابوں کے پننے الٹنے پڑتے تھے، لائبریری میں گھنٹوں سر کھپانا پڑتا تھا، پھر بھی ضروری نہیں کہ آپ اس صفحہ تک پہنچ ہی جائیں جسے آپ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔
میں کمپیوٹر یامصنوعی ذہانت کا کوئی بڑا جانکار نہیں ہوں ۔ لیکن اس کے باوجود میں نے خود کو امتحان گاہ میں لا کھڑا کیا ہے ۔ بہت سارے لوگ مجھ سے بہتر کمپیوٹر جانتے ہوں گے اور اے آئی(AI) کا استعمال بھی اپنی روز مرہ کی زندگی میں کرتے ہوں گے۔ لیکن ان باتوں سے قطع نظر قریب۳۵؍ برس سے کمپیوٹر میرے تخلیقی سفر کا حصہ رہا ہے۔ ان برسوں میں، میں نے خاص طور پراردو ان پیج سے دوستی کی ہے۔ یہاں میں اردو ان پیج،جمیل نور ی نستعلیق ، نوری نستعلیق ۔ اردو کنورٹر، اردو ٹرانسلیٹر، اردو او سی آرکے متعلق کچھ ویسی باتیں بھی کروں گا جس کا تعلق مصنوعی ذہانت سے ہے۔
لیکن اس پر گفتگو سے پہلے چیٹ بوٹس کے متعلق کچھ باتیں۔
یہ کمپیوٹر کا ایسا پروگرام ہے جوا نسان کے ساتھ مکالمہ کرتا ہے ۔ سوال کا جواب دیتا ہے ۔بہت ساری جانکاریاں فراہم کرتا ہے۔ہدایت دینے کے ساتھ ساتھ کئی اہم کام کو بحسن وخوبی انجام تک پہنچاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہاں Alexa اور Siri کا نام لیا جا سکتا ہے ۔
بینکنگ چیٹ بوٹس، تعلیمی چیٹ بوٹس، طبّی چیٹ بوٹس بھی ہماری زندگی کو آسان بناتے ہیں۔
بات زبان شناس سافٹ ویئرکی جسے انگریزی میںNatural language processing softwareکہتے ہیں۔یہ وہ ٹکنالوجی ہے جو انسانی زبان کو پہچاننے ، سمجھنے ، ترجمہ کرنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے تحت کچھ ایپس کا استعمال ہم کرتے ہیں ۔
جیسے Spell Chekerیہ سافٹ ویئر غلط املااور ہجے کی درستگی کرتا ہے۔Grammer Cheker یہ سافٹ ویئر جملوں کی ساخت کو درست کرتا ہے۔ Machine Translationیہ سافٹ ویئر ایک زبان سے دوسری زبان میں مشینی ترجمہ کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔ زیادہ تر لوگ گوگل ٹرانسلیٹر کا استعمال کرتے ہیں۔Speech Recognition یہ ایک ایسا سافٹ ویئرہے جو آواز کو متن میں بدلنے کا کام بحسن و خوبی کرتا ہے۔Text to Speechیہ سافٹ ویئر متن کو آواز میں بدل دیتا ہے۔
زبان کے تعلق سے جن سافٹ ویئر کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے ان کے ذریعہ لسانی تحقیق میں مدد ملتی ہے۔ محقق کے لیے یہ سارے سافٹ ویئر کار آمد ہیں۔ اردو لغت ، قواعد ، محاورات کو تلاش کرنے ، تجزیہ کرنے اورمضمون میں کس فنکاری سے اس کا استعمال کرنا ہے وہ اس میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے کچھ تخلیق کار نظم ونثر میںاے آئی (AI)کا کھلے عام استعمال کر رہے ہیں ۔ ویسی تخلیقات سے آج نیٹ کی دنیا بھری پڑی ہے۔ نئے تخلیق کار دس بیس ردیف قافیہ دے کر بڑی آسانی سے انٹرنیٹ شاعر بن رہے ہیں ۔ ایسا کچھ افسانہ نگار، مضمون نگار، مقالہ نگار بھی کر رہے ہیں جو مناسب نہیں ہے۔ ایسا کرنے سے تخلیقی ذہانت ، مصنوعی ذہانت کے آگے ہمیشہ کے لیے سر بہ سجود ہو جائے گی۔تخلیقی سوتے سوکھ جائیں گے اور ہم صرف مشین ہو کر رہ جائیں گے۔
Urdu Digitalisationیہ پرانی کتابوں، دستاویزات اور مخطوطات وغیرہ کوخود اسکین کرتا ہے اور اسے او سی آر Optical Character Recognition کے ذریعہ پڑھنے کے قابل بناتا ہے۔اس ڈیجیٹل متن کو ہم ترمیم کر سکتے ہیں۔ یعنی ایڈٹ کر کے کہیں بھی پیسٹ کر سکتے ہیں ۔اردو میں تصویری متن ، پی ڈی ایف وغیرہ کواسکین کر کے اس اسکین شدہ تصویر کو ۳۰۰ ؍پکسل میں تبدیل کر کے آن لائن Urdu nastaliq OCR میں اپ لوڈ کر کے اسے اردو یونیکوڈ میں بدل سکتے ہیں ۔اسے ان پیج میں پیسٹ نہیں کیا جا سکتا۔ اسے صرف ورڈ فائل میں پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ اس اردو یونی کوڈ کو آپ چاہیں تو جمیل نوری نستعلیق میں بدل سکتے ہیں۔ یہ دونوں دراصل ایک ہی ہیں۔ لیکن جمیل نوری نستعلیق دیکھنے میں نوری نستعلیق فونٹ جیسا دکھائی دیتا ہے ۔ اگر ہم اردو یونی کوڈ کو نوری نستعلیق میں بدل کر ان پیج میں بدلنا چاہیں تو اس کے لیے Urdu Unicode to Noori Nastaliq Converterکا استعمال کرنا ہوگا۔ اور پھر کہیں جا کر آپ اس نوری نستعلیق فونٹ کو ان پیج میں پیسٹ کر سکتے ہیں اور یہاں اپنی مرضی سے کٹ پیسٹ بھی کر سکتے ہیں ۔
اردو سیکھنے والوں کے لیے بہت سارے پروگرام جن میں اردو ورچوئل لیکچرز او رای لرننگ پروگرام اور اردو کی ڈیجیٹل لائبریریاں اے آئی کی مدد سے آپ سرچ کر سکتے ہیں ۔این سی پی یو ایل نے بھی بہت سارے پروگرام چلا رکھے ہیں ۔جن سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔
اس میں کوئی شک نہیں آرٹیفیشیل انٹیلجنس انسانی زندگی کے لیی بے حد کارآمد ہے ۔ لیکن جہاں تک زبان کی بات ہے توڈھیروں امکانات کے ساتھ یہ خدشات بھی ہیں کہ کہیں جو آسانیاں مصنوعی ذہانت فراہم کر رہی ہے اس کے جال میں ہم پھنس تو نہیں رہے ہیں ۔کیوں کہ جب کوئی چیز آسانی سے ملنے لگتی ہے تو ہم انسانوں کی فطرت میں تساہل پسند ی سما جاتی ہے ۔ محنت سے ہم بھاگنے لگتے ہیں ۔ پھر ایسا ہونا ممکنات میں شامل ہے کہ ہم کلاسوں سے، کتابوں سے، لائبریریوں سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعہ جب پکے پکائے مواد کو انٹر نیٹ کے دسترخوان پر پروس کر طالب علموں اور ریسرچ اسکالرز کے سامنے رکھ دیا جائے گا تو پھرغیر معیاری ریسرچ پیپر کی وجہ سے تعلیمی اداروں ، ٹیچروں اورپروفیسروں کا امیج دھندلکے میں گم ہوجائے گا۔پھر ریسرچ پیپربھی ایک جیسے لکھے جانے لگیں گے۔ سب کے سبAI کی پیداوار ہوں گے۔اور AIوہی سامنے لا کر رکھے گا جو نیٹ پر موجود ہے ۔ یا پھر اسے اپنی زبان میںلکھے گا بھی تو وہ انسانی ذہن سے بالاتر نہیں ہو سکتا ، کیوں کہ مشین انسان کی پیداوار ہے اور انسانی تخلیل کی پرواز مشین کی پرواز سے بہت آگے ہے۔
ہم سب مصنوعی ذہانت کا اتنا ہی استعمال کریں جتنی جانکاری کے لیے چاہیے۔ کاپی ، کٹ پیسٹ کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ ورنہ کچھ ایسے ایسے سافٹ ویئر ہیں جو Plagiarism کو پکڑتا ہے۔جن میں plagiarism cheker X ، turnitin،qutex ،,plagscan, Grammarly Plagiarism cheker اہم ہیں جو دوسری زبانوں کے ساتھ اردو کی چوری بھی ڈیٹکٹ کرتا ہے۔ اس سافٹ ویئر میں ریسرچ پیپرکواپ لوڈ کر دینے کے بعد یہ بتا دیتا ہے کہ اس مضمون میں کہاں کہاں سے اور کتنی فیصد چوری کی ہے ۔ زیادہ سے زیادہ اے آئی کی مدد سے آپ سات آٹھ فیصد تک استفادہ کر سکتے ہیں ۔ ہو بہو نقل سے پرہیز کریں۔ مسلسل سات آٹھ الفاظ اگر آپ کے ایک جملہ میں مل جاتے ہیں تو سافٹ ویئر اسے پکڑ لیتا ہے اور اسے سرقہ یا توارد کے زمرے میں ڈال دیتا ہے ۔اس سے آپ کو نقصان بھی ہو سکتا ہے۔جس رسالے کو آپ نے اشاعت کے لئے بھیجا ہے اگر وہ مضمون کو ایسے سافٹ ویئر کی مدد سے چیک کر تاہے تو آپ کا مضمون کبھی شائع نہیں ہوگا اور اگر شائع ہو گیا اور کسی کی نظر پڑ گئی تو عزت تو جائے گی ہی ،اس پر کیس بھی ہو سکتا ہے ۔اس سلسلے میں میرا یہ مشورہ ہے کہ پوری دنیا استفادہ کر رہی ہے آپ بھی کریں لیکن plagiarismکے جو اصول ہیں اس کا خیال رکھیں اور خود پر آنچ آنے نہ دیں ۔
آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال اور بڑھے گااور ہمیں بھی اس کے بڑھتے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلنا ہو گا نہیں تو اردو والے جدیدطریقہ تعلیم اور ریسرچ کے میدان میں دوسروں سے پیچھے رہ جائیں گے۔

Dr. Akhtar Azad
Assistant Professor,Dept of urdu,TNB
College, Bhagalpur-812007 (Bihar)
Mob.: 9572683122
Email: dr.akhtarazad@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

امتزاجی تعلیم : عصرِ حاضر کی ایک ناگزیر ضرورت،مضمون نگار: محمد مہتاب عالم

اردودنیا،جنوری 2026: تعلیم کا نظام وقت اور معاشرتی ضروریات کے ساتھ ہمیشہ ارتقا پذیر رہا ہے۔ اکیسویں صدی جسے ڈیجیٹل انقلاب کا دور کہا جاتا ہے، نے انسانی زندگی کے

قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور اردو تدریس کے امکانات،مضمون نگار:مفتی سہیل ندوی

اردودنیا،فروری 2026: تعلیم کسی بھی قوم کی فکری، تہذیبی اور سماجی تشکیل کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہے۔ زبان اس تعلیمی عمل کی روح ہے، کیوںکہ زبان ہی کے ذریعے علم

گروکل کا تعلیمی نظام اور جدید تعلیم ،مضمون نگار: آفتاب عالم

اردو دنیا،نومبر 2025 ہندوستان کاقدیم تعلیمی نظام ہزارسالوں کا سفر طے کرنے کے بعد معرض وجود میں آیاہے جو علم کے ایک وسیع اور کثیر شعبہ جاتی نظام پر مشتمل