نظیراکبر آبادی کی شاعری میں متصوفانہ رجحان،مضمون نگار:نعیمہ جعفری پاشا

April 7, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، اپریل 2026:

تصوف ایک فکر ہے، سوچ ہے، نظریہ ہے ۔ یہ ایک عقیدہ اور یقین ہے جس کا تعلق قلب اور باطن سے ہوتاہے۔ یہ کوئی مسلک نہیں ہے۔ اس کے لیے کسی ظاہری علامات اورکسی خاص حلیے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ لمبے کُرتے اور اونچے پاجامے کی مانگ نہیں کرتا۔ یہ لمبے بالوں اور لمبی داڑھی کا بھی محتاج نہیں ہے۔ یہ شریعت کا مخالف نہیں ہے بلکہ شریعت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے باطن کی طہارت پر زیادہ زور دیتا ہے۔ یہ قلب کی ماہیت وطہارت پر کاربند رہنے پر اصرار کرتا ہے۔ پاک روح، پاک جسم میں ہی مطمئن رہ سکتی ہے۔
اللہ کی وحدت پر ایمان تو ہر مسلمان کا فرض اوّلین ہے لیکن صوفی ہر تخلیق میں اللہ کا جلوہ دیکھتا ہے۔ اس کا یقین ہی نہیں پختہ عقیدہ ہے کہ ’’وہ‘‘ ہی ہے، صرف ’’وہ‘‘ ہی ہے۔ سب کچھ اسی سے ہے اور ہر شے میں اسی کا جلوہ ہے۔ وہ ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، اول بھی ہے اور آخر بھی اور وہ ہی باقی ہے، وہ ہی موجود ہے۔ کائنات کی ہر تخلیق میں وہ ہی جلوہ گر ہے۔ پھول میں رنگ وبوبنا، سورج اور چاند میں چمک اور روشنی، پہاڑوں میں بلندی، آسمان میں وسعت اور سمندروںکی گہرائی اسی کی ذات بالاصفات کے پرتو ہیں۔ کہیں ’’ہمہ اوست‘‘کا نعرہ بلند ہوا تو کہیں ’’ہمہ از اوست‘‘ سے تعبیر کیا گیا۔ کسی نے اسے وحدت الشہود کے حوالے سے جانا تو کسی نے اسے وحدت الوجود کے ذریعے سمجھا۔ ہر شے میں اسی کا نور دیکھا، ہر وجود میں اس کا ظہور پایا، ہر آواز میں ’’کُن‘‘ کی بازگشت سنی۔
یار کو ہم نے جا بجا دیکھا
کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا
(شاہ نیاز احمد)
مطرب وہی آواز وہی، ساز وہی ہے
ہر تار میں بولا، وہ ہر اک تان میں آیا
(اصغر اکبرآبادی)
گل ہے وہی، سنبل ہے، وہی نرگس حیراں
اپنے ہی تماشے کو گلستان میں آیا
(اصغر اکبرآبادی)
گوش کو ہوش کے ٹک کھول کے سن شورجہاں
سب کی آواز کے پردے میں سخن ساز ہے ایک
(میر تقی میر)
لیکن تصوف کو بیان کرنا جتنا آسان ہے، اسے سمجھنا، اس پر عمل پیرا ہونا اور اسے جاں گزیں کر لینا اتنا ہی مشکل ہے۔ چار کتابیں پڑھ کر تصوف کو سمجھ لینے کا دعویٰ غلط ہے کیونکہ یہ ایک کیفیت ہے جسے وہی سمجھ سکتا ہے جس پر طاری ہوتی ہے۔ یہ راہ بہت بہت مشکل ہے، لوگ بھٹک جاتے ہیں۔ مظاہر کو اصل سمجھ لیتے ہیں۔ عکس پر وجود کا دھوکا کھا لیتے ہیں اور مظاہر کی پرستش کرنے لگتے ہیں، جو سمجھ لیتے ہیں وہ عکس سے حقیقت تک پہنچ جاتے ہیں اور عوام الناس مغالطے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔’’بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی‘‘ اس راہ کو اختیار کرنا اور بات ہے اور منزل تک صحیح سلامت پہنچنا مشکل ترین مقام ہے۔
شاعری بالخصوص غزل کی شاعری متصوفانہ کلام کے لیے موزوں پائی گئی۔ غزل میں عشق محبوب، شمع وپروانہ، گل و بلبل، ہجر ووصال جیسی اصطلاحات کے پردے میں عشق حقیقی کی کیفیات کا اظہار فارسی شاعری سے ہی اردو شعر و شاعری میں ہوا۔
حافظ، سعدی، رومی حکیم سنائی، نظامی عطار، عراقی وغیرہ کی شعری روایات ہمارے سامنے ہیں ان میں سے اکثر کا شماربرگزیدہ صوفیوں میں ہوتا ہے۔ غزل کے علاوہ مثنوی اور قطعات میں بھی تصوف کے نکات بیان کیے گئے ہیں۔ فارسی میں سب سے معروف مثال ’’مثنوی مولاناروم‘‘ ہے جہاں متصوفانہ عقائد و نظریات کا مفصل، جامع اور واضح بیان موجود ہے۔مثنوی مولانا روم کا شعردیکھیں:
خشک تار و خشک چوب و خشک پوست
ازکجا می آید ایں آواز دوست
اردو میں بھی یہ روایت برقرار رہی ہے۔ صوفیا کی مثنویاں اور دیگر کلام اردو شعر و ادب کے دونوں مراکز، شمالی ہند اور دکن میں متصوفانہ موضوعات پر خاطرخواہ تعداد میں موجود ہیں۔ سترھویں اور اٹھارہویں صدی میں شمالی ہند میں شاہ تراب علی قلندر، شاہ رکن الدین عشق، سید علی غمگین، مرزا مظہر جان جاناں، شاہ نیاز احمد، شاہ اصغر اکبر آبادی، خواجہ میر درد، سراج اورنگ آبادی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ یہ تمام شعرا صوفی باعمل تھے، کسی نہ کسی صوفی سلسلے سے وابستہ تھے۔ ان کی شاعری عشق حقیقی کا سرچشمہ ہے۔ اس دور میں تصوف کا رنگ اتنا گہرا تھا کہ زیادہ تر شعراکے کلام میں ہمیں صوفیانہ مضامین ملتے ہیں۔ ان شعرا کو تین درجات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اول وہ شعرا جو خود بھی صوفی بزرگ تھے، صاحب حال وقال تھے اور تصوف ان کی رگ جاں سے بھی قریب تھا۔ دوسرے وہ جو تصوف کا علم رکھتے تھے، تصوف کی سمجھ بھی رکھتے تھے لیکن خود صوفی نہیں تھے جیسے غالب، اقبال وغیرہ اور تیسرے وہ جو تصوف کو ’’برائے شعر گفتن خواب است‘‘ کے مقولے کے مطابق فیشن کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ یعنی ان کی غزلوں میں ایک آدھ شعر صوفیانہ نہج کا شامل ہوجاتا تھا۔
نظیر اکبر آبادی کا معاملہ بھی یہ تھا کہ وہ باحال صوفی نہ سہی لیکن باخیال تصوف پر یقین بھی رکھتے تھے اور سمجھ بھی رکھتے تھے۔ وہ وحدت الوجود کے ماننے والے تھے۔ نظیر کی متصوفانہ شاعری میں قلندرانہ شان ہے۔ قلندر، جس کے عشق میں سوزوگداز نہیں ہوتا بلکہ قلندرانہ لاتعلقی میں تعلق کی کیفیت ہوتی ہے ؎
سب جھوٹ ہے کہ تم کو ہمارا ہو غم میاں
بابا کسے خدا کے سوا دم فقیر کا
علامہ میکش اکبر آبادی لکھتے ہیں:
’’نظیر اکبر آبادی ایک قلندر مزاج آدمی تھے۔ وہ ایک پاک باطن، خوش باش انسان تھے۔ ان کا دل ہر صداقت کی طرف جھک جاتا تھا، چاہے سلیم چشتیؒ ہوں، گرونانک ہوں، سری کرشن ہوں، شیوجی ہوں یا بلدیوجی یا مذہبی تیج تہوار۔‘‘ نظیر کے صوفیانہ اور قلندرانہ مزاج نے انھیں مذہب اور مسلک سے اوپر ہو کر مختلف مذہبی رہنماؤں اور شخصیات کی مدح پر راغب کیا۔ ان کی آزادہروی، وسیع القلبی، عدم تعصبی، بے نفسی، اخلاق، توکل اور مال و زر سے عدم دلچسپی نے انھیں عوام الناس سے قریب تر کر دیا تھا۔ ہر ایک سے ملنا، ہر ایک کی خبر گیری، ہر ایک کی دل آسائی کہ جس نے فرمائش کی اس پر نظم لکھ دی، یہاں پیسے کا لالچ یا نام و نمود کی طلب نہیں تھی بلکہ انسان نوازی کا جذبہ تھا۔ وہ عوامی میلوں ٹھیلوں، تیج تہواروں میں شریک ہوتے اور پورے جوش کے ساتھ ان کی عکاسی کرتے۔ نظیر کی دلچسپیاں اتنی گوناگوں تھیں کہ ان کی شخصیت کو کسی ایک مسلک میں قید کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ ان کے کلام کا بڑا حصہ عوام کی فرمائش پر لکھا گیا۔ چاہے آگرے کی لکڑی ہو، تِل کے لڈو ہوںیا نارنگی بیچنے والی۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بازاری عورتیں جو گلی کوچوں میں، کوٹھوں کے جھروکوں میں، میلوں ٹھیلوں تہواروں میں بنی ٹھنی اپنی چھب دکھاتی پھرتی تھیں، ان کی فرمائش پر بھی میاںنظیران پر نظمیں لکھ دیتے تھے۔ بعض تذکرہ نگاروں نے کسی موتی بیگم کو ان کی محبوبہ قرار دے دیا ہے کیونکہ نظیر کے کلیات میں ان پر بھی نظم شامل ہے۔ بقول علامہ میکش اکبر آبادی ’’اس طرح تو نظیر کی بہت سی معشوقائیں مل جائیں گی۔‘‘ آگے چل کر میکش صاحب یوں رقم طراز ہیں کہ ’’عمر کے کسی حصّے میں ہر انسان حسن کی طرف ملتفت ہوجاتا ہے اور حسن پرستی انسان کی سرشت میں شامل ہے لیکن اس سے نظیر کے کردار پر کیچڑ نہیں اچھالی جا سکتی۔‘‘
نظیر کا زمانہ سیاسی، سماجی، تہذیبی، معاشرتی اور معاشی ہر حوالے سے انحطاط اور زوال کا زمانہ تھا۔ ایسے حالات میں سماج میں طوائف گردی، بے حیائی اور چھچھورے پن کے جو اثرات نمایاں ہوجاتے ہیں ان کی تصویر کشی نظیر نے عوام ہی کی زبان میں پوری سچائی کے ساتھ کی ہے۔ نظیر کی شاعری کا یہ عوامی رنگ ہے جو عوام کے لیے تھا اور عوام کی فرمائش پر تھا اور جس کے لیے نظیر جانے جاتے تھے۔ نظیر کے تقریباً ہر نقاد نے کبھی توصیف کے طور پر اور کبھی تعرض کے طور پر نظیر کی شاعری کے اس پہلو کو اجاگر کیا ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ نظیر نے 95سال کے لگ بھگ عمر پائی۔ ان کی شاعری کی عمر بھی کم و بیش 75سال ضرور رہی ہوگی۔ شاعری کا کافی حصہ اوائل عمر کی تخلیق رہا ہوگا۔ اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کیونکہ نظیر کے کلام پر تاریخیں درج نہیں ہیں۔ لیکن ہمارا مطمح نظرنظیرکے اس کلام کاجائزہ لینا ہے جس سے اخلاقیات اور تصوف کے مضامین کی نشان دہی ہوتی ہے۔ ان کی منظومات، توکل، وجدوحال، فقر، چڑیوں کی تسبیح، موت، آئینہ، توحید، فناوبقا، بنجارہ نامہ، اللہ ہی اللہ ہے، حمد نعمت، منقبت میں صوفیانہ رنگ ہے یا ان کی تضمینات میں جو زاویہ نظر پیش ہوا ہے ان ہی سے درحقیقت نظیر کا اصل چہرہ نظر آتا ہے۔ انھوں نے حافظ، سعدی، خسرو، اصغر اکبر آبادی کی متصوفانہ غزلیات پر جو تضمینیں کہی ہیں ان کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ نظیر کا اصل مزاج کیا تھا۔ نظیر کے اکثر شاگرد ان کو صرف استاد ہی نہیں بلکہ خدا رسیدہ بزرگ مانتے تھے۔ اسی وجہ سے انھیں گورغریباں میں دفن کرنے کے بجائے ان کے گھر پر اسی نیم کے درخت کے نیچے دفنایا گیا، جس کے نیچے بیٹھ کر وہ لڑکوں کو درس دیتے تھے۔ اس دور کی ایک روایت یہ بھی رہی ہے کہ پیروں، فقیروں اور خدا رسیدہ بزرگوں کو عام قبرستان کے بجائے گھر کے احاطے میں ہی دفنایا جاتا تھا۔
نظیرکی رہائش آگرے کے نوری دروازے محلے میں تھی اور سسرال محلہ تاج گنج میں تھی۔ پیشے سے معلم تھے۔ بعض ہندو امرا کے لڑکوں کو پڑھانے ان کے گھر جاتے تھے اور بقول شہباز ایک وقت کا کھانا بھی اپنے شاگردوں کے یہاں کھا لیا کرتے تھے۔ اس میں مذہب و ملت اور مسلک کی کوئی قید نہیں تھی۔ یہ نہ صرف ان کی وسیع القلبی اور بے تعصبی کا اشاریہ ہے بلکہ اس میں ان کے قلندرانہ مزاج اور روش کے پیچھے متصوفانہ فکر اور نظریہ بھی کارفرما ہے۔ وہ انسانیت اور انسان دوستی کے قائل تھے۔ اس فانی دنیا میں کچھ رہنے والا نہیں ہے تو پھر تفریق کیسی’’سب اللہ ہی اللہ ہے‘‘۔
باغ و چمن کے غنچہ و گل میں نہ ہو اسیر
قمری کی سن صفیر نہ بلبل کی سن صفیر
اپنے تئیں تو دیکھ کہ کیا ہے تو اے نظیر
ہر لحظہ اپنی چشم کے نقش و نگار دیکھ
اے گل تو اپنے حسن کی خود ہی بہار دیکھ
(آئینہ)
لے عالم ارواح سے تا عالم جنات
انسان پری، حوروملک جن و خبیثات
کیا ابر ہوا، جنگل و کوہ، ارض و سمٰوات
اک پھونک میںاڑجائیںگے جوںنقش طلسمات
ہشیار، نہ پختہ نہ کوئی خام رہے گا
آخر وہی اللہ کا اک نام رہے گا
(فنائے جہاں)
نظیر کے حالات، واقعات، نظریات، مشغولیات اور مسلک و مذہب کو جاننے کے حوالے سے دو قدیم کتابیں مستند مانی جاتی ہیں۔ عبدالغفور شہباز کی ’’زندگانی بے نظیر‘‘ اور قطب الدین باطن کی ’’گلشن بے خار‘‘ باطن نظیر کے شاگرد تھے جبکہ شہباز کی معلومات کا ماخذ نظیر کی نواسی کی زبانی سنے ہوئے حالات اور واقعات ہیں، نظیر کا ناقدین نے بوجوہ باطن کے تذکرے کو زیادہ قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ باطن کا زیادہ زور نظیر کا کلام جمع کرنے پر تھا۔ نظیر کی گھریلو زندگی کے بارے میں ان کی معلومات واجبی سی تھیں۔ البتہ شہباز کی کتاب کو مستند ماناجاتاہے۔ علامہ میکش اکبر آبادی کے ایک مضمون کا ایک اقتباس یہاں نقل کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’شہباز کا اردو ادب پر یہ بڑا احسان ہے کہ انھوں نے نظیر کے متعلق وہ مواد فراہم کیا جو ان کے بعد ممکن نہ تھا۔ یعنی تحقیق کے دروازے کھول دیے۔ لیکن ایسی بہت سی باتیں تھیں جن کو قبول کرنا مشکل تھا اس لیے تحقیق کی گئی اور بہت سی باتیں سامنے آئیں، جن کا سامنے لانا اس لیے ضروری ہے کہ پھر کوئی اتنا جاننے والا بھی نہ رہے گا۔‘‘
شہبازنے زندگانی بے نظیر تحریرکرتے ہوئے نظیرکی نواسی سے بہت سی معلومات حاصل کیں۔ میکش صاحب کی تحقیق ہے کہ نظیرکے انتقال کے وقت ان کی نواسی کی عمر سات سال تھی اور شہباز نے جب ان سے رابطہ کیا تو وہ ضعیف ہو چکی تھیں۔ لہٰذا ان کا بیان چشم دید سے زیادہ اپنی والدہ سے سنی ہوئی باتوں پر محمول ہے۔ (اس زمانے میں لڑکیوں کی شادی کم عمر میں ہوجاتی تھی اور ان کا زیادہ وقت سسرال میں ہی گزرتا تھا۔) لہٰذا نواسی کا بیان سوفی صد قابل اعتبار نہیں ہے۔سات سال کی عمر کی دیکھی سنی باتیں ضعیف العمری میں کتنی معتبر ہو سکتی ہیں اور کتنی یاد رہی ہوں گی اور کتنا ان کی یاد داشت نے دھوکا دیا ہوگا!
اسی طرح نظیر کے مسلک کے بارے میں بھی مختلف النوع آرا پیش کی گئیں۔ نظیر کوامیرالمومنین حضرت علیؓ سے خاص عقیدت تھی۔ ان کی کلیات میں حضرت علیؓ کی شان میں کئی منقبتیں ہیں۔ نظیر کے بعض ناقدین نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ نظیر اہل تشیع تھے۔ میکش صاحب کے بیان کے مطابق حضرت علیؓ سے عقیدت شیعہ ہونے کا ثبوت ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ بھی نظیر کی تصوف سے نسبت اور صوفیوں کی صحبت کا اثر تھا۔
تصوف کے چاربڑے اورمشہورسلسلے ہیں۔ قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ اور نقشبندیہ۔ حضرت علیؓ ان میں سے تین سلسلوںقادریہ، چشتیہ، اور سہروردیہ کے سرسلسلہ تھے۔ جبکہ چوتھا سلسلہ نقشبندیہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق سے منسوب ہے، جو حضرت سلمان فارسیؓ کے ذریعے آگے بڑھا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات کے بعد حضرت سلمان فارسی نے بھی مزید تعلیم و تعلم کے لیے حضرت علیؓ سے ہی رجوع کیا۔ چشتیہ سلسلہ حضرت علیؓ سے حضرت حسن بصریؒ کو تفویض ہوا اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سے ہوتا ہوا آگے بڑھا۔ قادریہ سلسلہ حضرت علیؓ سے ان کے صاحب زادے امام حسینؓ سے ہوتا ہوا شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ سے پھیلا۔ اسی طرح نقشبندیہ اور سہروردیہ سلسلوں کی روایت بھی ثابت ہے۔ یہی سبب ہے کہ تصوف کے پیروکاروں کو حضرت علیؓ سے دو طرفہ عقیدت ہے۔ عموماً لوگ اسے شیعیت سے منسوب کرتے ہیں۔
نظیر کے والد کا نام فاروق تھا۔ ان کی والدہ بھی اہل سنت خانوادے سے تھیں اور نہ خودنظیر شیعیت کی طرف مائل تھے، البتہ نظیر کی بیوی شیعہ تھیں۔ اسی سے ان کی اولادیں، بیٹے گلزار علی اسیر اور بیٹی شیعہ عقائد کی طرف راغب تھے۔ میکش اکبر آبادی نے لکھا ہے:
’’میں نے اس امر پر اس وجہ سے اور زیادہ تحقیق اور چھان بین کی ہے کہ ابھی (میکش صاحب کی اوائل عمر میں) نظیر اور ان کے خاندان کو قریب سے جاننے والے جو لوگ باقی ہیں، اگلے زمانے میں وہ بھی نہیں ہوںگے اور نظیر کے مسلک کے بارے میں غلط مفروضات مستحکم ہوجائیں گے۔‘‘
حضرت علیؓ سے عقیدت اور اہل بیت یا پنجتن پاک سے محبت بہت سے سنی حضرات بھی رکھتے ہیں۔ خصوصاً صوفیا کا یہی وطیرہ رہا ہے۔ نظیر چشتیہ اور قادریہ سلسلے کے بزرگوں سے خاص طور پر عقیدت رکھتے تھے۔
شہباز نے زندگانی بے نظیر میں نظیر کی نواسی سے کیے گئے سوالات نقل کرتے ہوئے لکھا ہے۔
’’میں نے پوچھا کیا کسی بزرگ سے ارادت تھی؟‘‘ انھوں نے جوا ب دیا ’’مرید تو کسی کے نہ تھے ہاں فقرا کے ساتھ اکثراٹھتے بیٹھتے تھے۔ ان لوگوں سے خاص عقیدت تھی۔ مکان کے پاس ایک مسجد تھی وہاں ایک بزرگ شاہ غلام رسول رہتے تھے۔ بہت بڑے مشائخ میں تھے۔ پیری مریدی کرتے تھے، ان سے بڑا ربط تھا۔‘‘
اس تحریر سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نظیرکو صوفیوں سے بہت قربت تھی، مرید نہ ہونے کا حال قابل اعتبار نہیں ہے کیونکہ بقول علامہ میکش اکبر آبادی ’’ضروری نہیں کہ گھر کی عورتوں اور بچوں کو ایسی معلومات ہوں۔‘‘ شہباز بھی لکھتے ہیں ’’یہ معلومات احباب کی زبانی زیادہ معتبر ہوسکتی ہیں۔‘‘ شاہ محمد اکبر دانا پوری کے حوالے سے شہباز نے نقل کیا ہے۔
’’حضرت مولانافخرالدین چشتی دہلی کے مشہورو معروف مشائخ میں سے تھے ۔ وہ ایک مرتبہ آگرہ تشریف لائے اور حضرت سیدنا امیر ابوالعلیٰ اکبر آبادی کے یہاں قیام فرمایا۔ نظیر اپنے دوست ملا محمد بدایونی بیدار کے ساتھ ان کی خدمت میں حاضر رہتے تھے اور انھیں سے مذاق تصوف پیدا ہوا۔‘‘
یہ تحریر شاہ اکبر دانا پوری کی کتاب سے نقل کی گئی ہے۔ جس سے صوفیاکی خدمت میں نظیر کی حاضری کا پتہ چلتا ہے لیکن اس میں بھی بعض نکات قابل اعتبار نہیں ہیں۔ مثـلاًسیدناامیرابوالعلیٰ اکبرآبادی عہدجہانگیری کے بزرگ تھے جن کا مزار آگرہ میں ہے۔ حضرت مولانا فخر الدین چشتی نے سیدنا کے گھر پر نہیں بلکہ مزار سے ملحق حجرے میں قیام فرمایا تھا جہاں نظیرحاضرہوتے تھے۔
نظیر کے مزاج میں تصوف کی طرف التفات سے متعلق کئی زیادہ معتبر ذرائع سے تحقیق کی گئی جس کا لب لباب یہاں نقل کرنا مناسب ہوگا۔
نظیر علامہ میکش اکبرآبادی کے جدِچہارم حضرت سیدامجد علی شاہ اصغر اکبر آبادی کے ہم عصر تھے۔ حضرت اصغر اکبر آبادی کا قیام اس زمانے میں ریشم کے کٹرے میں تھا جونظیر کے مکان سے بہت قریب تھا۔ خاندانی مخطوطوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نظیر کو شاہ صاحب سے خاص عقیدت تھی۔ نظیر نے ان کی ایک مشہور غزل پر تضمین بھی کہی ہے۔ دو بند ملاحظہ ہوں۔
وہ رنگ کہیں لعل بدفشان میں آیا
نیلم میں کہیں گوہر غلطان میں آیا
یاقوت میں الماس میں مرجان میں آیا
’’جب حسن ازل پردہ امکان میں آیا
بے رنگ بہر رنگ ہر اک شان میں آیا‘‘
بو ہو کے ہر ایک پھول کی پتی میں بسا ہے
موتی میں ہوا آب ستاروں میں ضیا ہے
تنہا نہ ہماری ہی وہ شہ رگ سے ملا ہے
’’نزدیک ہے وہ سب سے جہاں اس سے بھرا ہے
جب چشم کھلی دل کی تو پہچان میں آیا‘‘
یہ تضمین نظیر کی کلیات میں شامل ہے اور اسے پڑھ کر صاف اندازہ ہوتا ہے کہ یہ محض ’’برائے شعر گفتن‘‘ نہیں ہے بلکہ نظیر کو خود بھی تصوف سے ارادت تھی۔ جن سید شاہ غلام رسول کا ذکر نظیر کی نواسی نے کیا تھا، ان کی بہن حضرت اصغر اکبر آبادی سے منسوب تھیں اور شاہ غلام رسول کی صاحب زادی حضرت اصغر اکبر آبادی کے فرزند سید منور علی شاہ صاحب کو بیاہی تھیں۔ سید غلام رسول حضرت رفیع الدین صفوی کی اولاد میں تھے جو صاحب کشف بزرگ تھے۔ شاہ غلام رسول کے پاس صوفی اور محدثین کی آمدورفت رہتی تھی اور نظیر بھی حاصل فیض باطنی کی نیت سے ان کی خدمت میں حاضر رہتے تھے۔ حضرت سید امجد علی شاہ اصغر اکبر آبادی نے کئی دستاویزیں تحریر فرمائیں جن میں تفصیل سے تمام حالات درج ہیں۔ شاہ صاحب ہر ماہ مشاعروں کا بھی انعقاد فرماتے تھے جس میں آگرے کے معتبر صوفی بزرگ اور نامور شاعر اپنا کلام سناتے تھے۔ نظیر کا بھی ان مشاعروں میں حاضر ہونا ثابت ہے۔
حضرت امجد علی شاہ اصغر اکبر آبادی کی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تحریروں کے علاوہ آپ کے پوتے مولانا سید مظفر علی شاہ المتخلص با اللہ کی کتاب ’’جواہر غیبی‘‘ جو نہ صرف تصوف پر ایک مستند کتاب ہے بلکہ تاریخی اعتبار سے تذکرہ نویسی کے حوالے سے بھی اہمیت کی حامل ہے۔ اس دور کے شعرا کے علاوہ اس دور کی شعری اور متصوفانہ سرگرمیوں کے بارے میں بھی مستند کتاب ہے۔ میکش صاحب نے بھی اس دور کے شعراکے بارے میں معلومات اسی کتاب سے نقل کی ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں میکش صاحب لکھتے ہیں ۔
’’نظیر صوفیوں کے دوست اور عقیدت مند تھے۔ آگرے کے مشہور صوفی بزرگ سیدنا ابوالعلیٰ اکبر آبادی کے مزار کے حاضرباش تھے اور اپنے صوفی دوست شاہ سید غلام رسول کے ساتھ صوفیائے وقت کی خدمت میں حاضر رہتے تھے۔ اسی دوران دہلی سے حضرت مولانا فخر الدین چشتی جو مولانا کلیم الدین جہاں آبادی کے خلیفہ اور سجادہ نشین تھے، اپنے وصال سے تین سال پہلے 1816میں آگرہ تشریف لائے تھے اور کئی ماہ قیام کیا تھا۔ حضرت ابوالعلیٰ کے مزارکے نزدیک حجرے میں قیام تھا۔ نظیر شاہ سید غلام رسول اور شاہ بیدار کے ساتھ ان کے حلقہ وعظ ونصیحت میں حاضر رہتے تھے۔ حضرت شاہ اصغر کا وصال 1814میں ہو چکا تھا اور یہ ان کے صاحبزادے سید منور علی شاہ جعفری کا زمانہ تھاجو خود بھی صاحب حال بزرگ تھے اور قادریہ سلسلے سے نسبت تھی۔ یہ تمام تفصیلات ’’جواہر غیبی‘‘ میں موجود ہیں۔ نظیر کا انتقال 1830میں ہوا۔ انھوں نے نہ صرف امجد علی شاہ اصغر اکبرآبادی کا زمانہ پایا بلکہ آپ کے پوتے مولانا مظفر علی شاہ الٰہی اکبر آبادی کی جوانی کا دور بھی دیکھا اسی لیے ان دونوں حضرات نے اپنی تحریروں میں نظیر کا ذکر تصوف سے رغبت کے حوالے سے کیا ہے۔ راقم الحروف کا تعلق بھی اسی خانوادے سے ہے، چنانچہ یہ مستند روایات علامہ میکش اکبر آبادی کی زبانی نیز مندرجہ بالاکتب اوردستاویزات کے ذریعہ حاصل ہوئی ہیں۔
نظیرکے خمسہ جات اور تضمینات بجائے خود تصوف میں نہ صرف ان کی دلچسپی بلکہ ذوق و شوق کے شاہد ہیں۔ سراج اورنگ آبادی کی مشہور زمانہ غزل پر نظیر کی تضمین کا ایک بند پیش کیا جاتا ہے ؎
عجب اتفاق ہے کہ خود بخود میرے دل سے عیش نکل گیا
پڑی آگ غم کی وہ تن میں آ کہ بہ رنگ شمع پگھل گیا
ادھر آہ شعلہ زباں ہوئی ادھر اشک آنکھوں سے ڈھل گیا
چلی سمت غیب سے اک ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا
مگر ایک شاخ نہال غم جسے دل کہیں سو ہری رہی
خمسہ برغزل امیر خسرو:
کب لالہ و گل کر سکیں عارض سے تیرے ہمسری
قد سے خجل سرو و سہی رفتار سے کبک دری
محبوب تجھ سے سیکھ لیں ناز و ادا و دلبری
’’اے چہرہِ زیبائے تو رشک بتان آذری
ہر چند وصفت می کند وز حسن تو بالا تری‘‘
سری کرشن سے نظیر کو خاص تعلق اور عقیدت تھی، جس کی دو وجوہات سمجھ میں آتی ہیں۔ اول تو نظیر برج کے علاقے میں متمکن تھے۔ آگرہ، متھرا اور نواح کا علاقہ برج دیش کہلاتا ہے جو سری کرشن کے حوالے سے مقدس سمجھا جاتا ہے۔ رادھا، کرشن کی محبتیں، میرا کی عقیدتیں اور جوگ، متھرا اور برسانا کی ہولی اور بسنت، نظیر نے صرف دیکھی سنی ہی نہیں بلکہ جی تھیں۔ صوفی بزرگوں کے یہاں ان اصطلاحات کا جابجا استعمال ہوا ہے۔ کرشن رادھا کی محبت کو محبوب حقیقی کی محبت کی علامت کے طور پر اکثر صوفیانہ شاعری میں پیش کیا گیا ہے۔ بسنت کے تہوار اور سرسوں کے پیلے پھول مرشد کو پیش کرنا اور نظم میں بیان کرنا حضرت امیر خسروؒ کے حوالے سے آج تک روایت کے طور پر درگاہوں میں منایا جاتا ہے۔ زرد کپڑے اور صافے باندھے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہولی کے رنگوں کو بھی محبوب حقیقی کی محبت میں رنگنے کی تمنا کے طور پر شعروں میں باندھا گیا ہے۔ حضرت نیاز احمدؒ صاحب کا ہندی کلام اس سلسلے میں پیش کیا جاسکتا ہے ؎
ہوری کھیلن شام سے میں چلی برج نگریا
ہاتھ میں تھال عبیر گلال سر پر رنگ کی گگریا
سکھی جا کے کہو من موہن کو جیا تڑپت تو ہے درسن کو
موہے کاہے کلاکل ناہیں پرت کیوں پیا کل تن من برہن کو
(حضرت نیاز احمد بریلوی)
نظیر کہتے ہیں :
موہن مدن گوپال ہری بنس من ہرن
بلہاری ان کے نام پہ میرا یہ تن یہ من
گردھاری نندلال، ہری ناتھ گوردھن
لاکھو کیے بناؤ ہزاروں کیے جتن
ایسا تھا بانسری کے بجیا کا بالپن
کیا کیا کہوں میں کشن کنہیا کا بالپن
ایک روز منہ میں کانھ نے ماکھن چھپا دیا
پوچھا جسودا نے تووہیں منہ بنا دیا
منہ کھول تین لوک کا عالم دکھا دیا
اک آن میں دکھا دیا اور پھر بھلا دیا
ایسا تھا بانسری کے بجیا کا بالپن
سری کرشن جی کی شخصیت، ان کا عشق، ان کی بانسری وغیرہ صوفیا کے لیے بھی باعث کشش رہا ہے بلکہ کرشن جی کی بانسری تو اکثر تصوف کی ایک علامت کے طور پر بھی مقبول رہی ہے۔ اکثر صوفیا کے ہندی کلام میں ان کا تذکرہ وجود حق کی تمثیل کے طور پر بھی استعمال ہوا ہے۔
نظیر کی نظموں میں صوفیانہ مضامین متصوفانہ فکر اور قلندرانہ شان کی چند مثالیں پیش ہیں۔
تنہا نہ اسے اپنے دل تنگ میں پہچان
ہر باغ میں ہر دشت میں ہر سنگ میں پہچان
بے رنگ میں با رنگ میں نیرنگ میں پہچان
منزل میں مقامات میں فرسنگ میں پہچان
ہر عزم ارادے میں ہر آہنگ میں پہچان
ہر دھوم میں ہر صلح میں ہر جنگ میں پہچان
ہر آن میں، ہر بات میں، ہر ڈھنگ میں پہچان
عاشق ہے تو دلبر کو ہر اک رنگ میں پہچان
(توحید۔ خدا کی خدائی)
لے عالم اردواح سے تا عالم جنات
انسان پری حوروملک جن و خبیثات
کیا ابر ہوا، جنگل و کوہ، ارض سمٰوات
اک پھونک میںاڑجائیںگے جوںنقش طلسمات
ہوشیار نہ پختہ نہ کوئی خام رہے گا
آخر وہی اللہ کا ایک نام رہے گا
(نظم: فنا اور بقا)
ان کے تو جہاں میں عجب عالم ہیں نظیر آہ
اب ایسے تو دنیا میں ولی کم ہیں نظیر آہ
کیا جانے فرشتے ہیں کہ آدم ہیں نظیر آہ
ہر وقت میں ہر آن میں خرم ہیں نظیر آہ
جس ڈھال میں رکھا وہ اسی ڈھال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں
(ہر حال میں خوش رہنا کمال فقر ہے)
قادر، قدیر، خالق و حاکم، حکیم ہے
مالک، ملیک، حیُّ و توانا قدیم ہے
دونوں جہاں میں ذات اسی کی کریم ہے
یعنی اسی کا نام غفور الرحیم ہے
غیر از خدا کے کس میں ہے قدرت جو ہاتھ اٹھائے
مقدور کیا کسی کا، وہی دے وہی دلائے
ستّار، ذوالجلال، خداوند کردگار
رزاق، کارساز، مددگار، دوست دار
انسان، دیو، جن و پری، فیل و مورومار
جاری اسی کے ہاتھ سے ہیں سب کے کاروبار
غیر از خدا کے کس میں ہے قدرت جو ہاتھ اٹھائے
مقدور کیا کسی کا ، وہی دے، وہی دلائے
(نظم: توکل)
ہوا کے اوپر جو آسماں کا بے چوبہ خیمہ یہ تن رہا ہے
نہ اس کی میخیں، نہ ہیں طنابیں، نہ اس کے چوبیں ادھر ہوا ہے
اِدھر ہے چاند اور اُدھر ہے سورج، اِدھر ستارے اُدھر ہوا ہے
کسی کو مطلق خبر نہیں ہے کہ کب بنا ہے اور کیوں بنا ہے
پڑے بھٹکتے ہیں لاکھوں دانا، کروڑوں پنڈت، ہزاروں سیانے
جو خوب دیکھا تو یار آخر، خدا کی باتیں خدا ہی جانے
(نظم: خدا کی باتیں خدا ہی جانے)
نظیر کی فارسی شاعری اور صوفیاکے فارسی کلام پر ان کے متعدد خمسہ جات ہیں جو بہ وجہ طوالت شامل نہیںکیے گئے ہیں۔
غرض نظیر کی عوامی شاعری یقیناً عوام کی دلچسپیوں کے حوالے سے بھی رہی ہو اور خود ان کی دلبستگیوں کا بھی عکس ہو، اس سے نظیر کے مسلک، متصوفانہ نہج اور تعلق پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ان کی شاعری ساٹھ ستر دہائیوں پر محیط ہے۔ جس میں ہر رنگ شامل ہے۔نظیر کے کلام کا بڑا حصہ جو خالق کائنات کی عظمت ورفعت، بے ثباتی دنیا، وعظ و نصیحت آمیز نظموں پر مشتمل ہے، وہ کسی کی فرمائش یا عوامی دلچسپیوں کے حوالے سے نہیں ہے بلکہ یہ کلام نظیر اکبرآبادی کی اصل سوچ، فکر، رجحان اور شخصیت کا آئینہ دار ہے۔ نظیر قلندر صفت آدمی تھے۔ نہ کسی کی چاکری کی اور نہ کسی امیر، عہدے دار یا جاگیردار کی خوشامد میں قصیدہ لکھا۔ قناعت اور تقویٰ پر عمل پیرا رہے۔ آگرے میں اس وقت امراء، خوش حال جاگیرداروں اور زمین داروں کی کمی نہیں تھی لیکن نظیر کے کسی سوانح یا تذکرے سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ انہوں نے کسی امیر کی بارگاہ میں حاضری دی ہو۔ ان کی حاضر باشی پیروں فقیروں اور صوفیا ئے وقت کی بارگاہ میں ہی رہی۔ مالی خوشحالی میسر نہیں تھی ۔ لڑکوں کو پڑھاتے تھے۔ کچھ امیروں کے لڑکوں کو درس دینے ان کے گھر بھی جاتے تھے۔ محلہ تاج گنج سے نائی کی منڈی، ریشم کٹرہ، میوہ کٹرہ وغیرہ اکثر پیدل آتے جاتے تھے۔ اس کے باوجود جب الور کے راجہ نے ایک خطیر رقم دے کر بلایا تو وقتی طور پر ارادہ ڈگمگایا اوروہ روانہ بھی ہوگئے لیکن جیسے ہی تاج محل نظروں سے اوجھل ہوا، سواری واپس کروا لی۔ دنیا کے طلبگار یا مال و زر کے محب سے یہ عمل ممکن نہیں ہے۔

حوالہ جات
گلزارنظیر: عبدالغفور شہباز
گلشن بے خار: قطب الدین باطن
جواہر غیبی : مظفر علی شاہ جعفری الٰہی اکبر آبادی
آگرہ اور آگرہ والے: علامہ میکش اکبر آبادی

Dr. Naima Jafri Pasha
Mob.: 9911802189
E-mail: naimajafripasha@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

زاہدہ زیدی کی نظمیہ شاعری ،مضمون نگار:محمد شہنواز عالم

اردو دنیا،دسمبر 2025:   زاہدہ زیدی کو نظم اور غزل دونوں پر قدرت حاصل تھی۔ ان کے یہاں حقیقت کا رنگ بھی ہے، مجاز کی کیفیت بھی ہے۔ ان کی

فضا ابن فیضی: مجھ کو میرے سخن سے پہچانو!،مضمون نگار:رضیہ پروین

اردو دنیا،دسمبر 2025: ٹونس ندی کے لب ساحل پر آباد شہر مئو ناتھ بھنجن کو شہر سخن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ علمی اور صنعتی اعتبار سے یہ

غالب کی شاعری اور تمنا کا دوسرا قدم ،مضمون نگار:عبدالرزاق زیادی

اردو دنیا،دسمبر 2025: مرزا اسداللہ خاں غالب (1797-1869) اردو شاعری کا وہ تابناک اور درخشاں ستارہ ہے جس نے اپنی تابانیوںسے نہ صرف انیسویں صدی کے شعری منظر نامے کو