نئی دہلی: ممبئی کے مشہور شاعر قاسم امام کی آمد پر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے صدر دفتر میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقعے پر موقر مہمان کا استقبال کرتے ہوئے کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے ان کا تعارف کروایا اور کہا کہ قاسم امام صاحب طویل عرصے تک اردو زبان و ادب کی تدریس سے وابستہ رہے،ساتھ ہی ممبئی اور مہاراشٹر کی سطح پر فروغ اردو کی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قاسم امام کی ایک خاص شناخت ان کی شاعری کے حوالے سے بھی ہے، وہ ایک باکمال شاعر ہیں اور ملک و بیرون ملک ان کی شاعری پسند کی جاتی ہے اور انھیں مشاعروں میں سامعین بصد ذوق و شوق سماعت کرتے ہیں۔ ہم قومی اردو کونسل میں ان کا تہہ دل سے استقبال کرتے ہیں ۔ قاسم امام نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے قومی اردو کونسل سے اپنی قدیم وابستگی کا اظہار کیا اور ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے ممبئی اور مہاراشٹر کی اردو سرگرمیوں پر بھی مختصر روشنی ڈالی اور کہا کہ ممبئی ماضی میں بھی بہت سی اردو تحریکوں کا مرکز رہا ہے اور درجنوں اردو ادیب، شاعر، افسانہ نگار اور تخلیق کار و ناقدین کا تعلق اس شہر سے رہا یا انھوں نے ملک کے مختلف خطوں سے وہاں پہنچ کر ممبئی کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا، آج بھی ممبئی میں اردو زبان و ادب کی آبیاری کا سلسلہ جاری ہے، میں بھی اردو کا مدرس رہا ہوں اور شعر و شاعری کے سلسلے سے ملک کے مختلف شہروں کا سفر ہوتا رہتا ہے، مگر قومی اردو کونسل میں آکر مجھے قلبی مسرت ہوئی ہے ، یہ ادارہ پورے ملک میں اردو زبان کے فروغ کے لیے پوری سنجیدگی سے کام کر رہا ہے، جس کے لیے کونسل کا تمام عملہ اور پروفیسر شیخ عقیل احمد صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس موقعے پر ایک شعری محفل بھی منعقد ہوئی، جس میں جناب قاسم امام نے اپنے منتخب اشعار سنائے، سامعین نے انھیں شوق و ذوق سے سنا اور بھر پور پذیرائی کی۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر عبدالرشید اعظمی، منیر انجم اور آبگینہ عارف نے بھی اپنی منتخب غزلوں اور نظموں سے سامعین کو محظوظ کیا۔ معروف ادیب حقانی القاسمی کے اظہار تشکر پر محفل برخاست ہوئی۔ اس موقعے پر کونسل کا اسٹاف موجود رہا۔
قومی اردو کونسل میں معروف شاعر قاسم امام کے اعز از میں استقبالیہ تقریب
December 26, 2022
0 Comments
Explore More
اردو صحافت کی خشتِ اوّل: جام جہاں نما – مضمون نگار : محمد ضیا المصطفیٰ
ہندوستان میں انگریزی، بنگلہ، فارسی اور ہندی کی طرح اردو صحافت کی ابتدا بھی کلکتہ سے ہوئی۔ 27 مارچ 1822 کو ’جام جہاں نما‘ کے نام سے کلکتہ سے
مولوی ذکاء اللہ کی ادبی خدمات، مضمون نگار: محمد عاصف
ماہنامہ اردو دنیا، جون 2024 انیسویں صدی کانصف آخرجسے اردو ادب کی تاریخ میں دور جدید کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔اس دور میں اردو ادب نے بڑی سرعت
ترقی پذیر ممالک میں ای لرننگ کے ذریعے فاصلاتی تعلیم: ہندوستان کے تناظر میں – مضمون نگار: ایس آر سبحانی
اکیسویں صدی کے اس زمانے میں، کسی بھی ملک کی نشوو نما و ترقی میں تعلیم ایک انتہائی اہم کردار اداکرتی ہے۔ سوامی وی ویکانند سے لے کر آج تک
