اردو دنیا،جولائی 2026:
ادبی تنقید ایک فن کی حیثیت رکھتی ہے جو صرف تبصراتی نوعیت کی گفتگو کرنے کے دوران خوبی خامی کی نشاندہی کرنے کا عمل نہیں ہے بلکہ کسی بھی معیاری متن کو ادبی و فنی اور تخلیقی ڈسکورس بنانے کا فن ہے۔ اس مناسبت سے دیکھا جائے تواظہار خضر (پیدائش 1955۔ وفات14مارچ 2026 پٹنہ بہار) کا شمارعصر حاضر کے ان ناقدین میں ہوتا تھا جو واقعی تخلیق اور تنقید کے مابین تجزیاتی ڈسکورس قائم کرنے کی علمی بصیرت اور تنقیدی شعور رکھتے تھے۔ یہ خوبیاں ان کی تصانیف ’’زبان کی جمالیات‘‘ ’’تجزیے۔۔۔ اردو فکشن سے مصافحہ‘‘ اور ’’کھرے کھوٹے تبصرے‘‘کے مطالعہ سے واضح طور پر عیاں ہوجا تی ہیں۔ان تصانیف میں شعر وفکشن اور تخلیقی نثر کو دانشورانہ انداز سے موضوع بنایا گیا ہے۔
عام مشاہدہ ہے کہ بیشتر لوگ افسانے کا تجزیہ کرنے کے بجائے اس کی کہانی کو مضمون میں دہراتے ہیں یا کسی ایک بات کو ذہن میں رکھ کر اکتادینے والی غیر ضروری تشریح کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اظہار خضر چند اہم ناقدین کی طرح تخلیق سے تنقیدی مصافحہ کرتے ہوئے تجزیاتی تنقید کے عمدہ نمونے پیش کرتے ہیں۔ تخلیقی مزاج کا حامل انسان اگر تنقیدی بصیرت بھی رکھتا ہو تو اس کی تنقیدبھی تخلیقی نوعیت کی ہوتی ہے اور راقم کا تجربہ ہے کہ ایسا نقاد کسی بھی تخلیق کی روح تک پہنچ کر مثالی تجزیہ پیش کرسکتا ہے۔ کتاب’’تجزیے۔۔۔اردوفکشن سے مصافحہ‘‘ کا انتساب ایسے ہی تخلیق آشنا نقادوں کے نام دیکھ کر دل شاد ہوتاہے :
’’ان تخلیقیت آشنا نقادوں کے نام جو تخلیق کے باطن کے سیاح ہیں۔‘‘(انتساب)
مسئلہ بھی یہی ہے کہ جب کسی کی سمجھ میں تخلیق میں پوشیدہ تخلیقیت(Creativity)کی خوبی آجائے تو وہ اس تخلیق کے باطن میں چھپے معنوی جوہر کو باہر نکال سکتا ہے اور خود بھی کتاب کی ابتدامیں مصنف تنقیدی منصب کے تعلق سے لکھتے ہیںکہ ’’ نقاد تخلیقی فن پاروں میں پنہاں فکر وقدر کی بساط بھر نشاندہی کرتا ہے۔‘‘(ص: VII)اس طرح سے کتاب میں شامل اٹھارہ افسانوں‘ پانچ ناولوں اور چار متفرق مضامین میں تخلیقی تنقید کا دلچسپ تجزیاتی منظرنامہ سامنے آتا ہے۔ان تجزیوں کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ ان میں کسی بھی افسانے کے تجزیے کے دوران پہلا ارتکاز اس کے تخلیقی رچاؤ پر کیا گیا ہے اور پھر دوران بحث موضوعاتی اور فنی سطح پر ادبی‘سماجی اور تخلیقی توضیح کا کینوس پھیلایا گیا ہے ‘ جس کی وجہ سے افسانے یا ناول کے موضوع یا کہانی کی فنی اور معنوی جہات پر مدلل گفتگو نظر آتی ہے۔ غلام عباس کے مشہور زمانہ افسانہ’’ آنندی‘‘ کا موضوع اگرچہ نشاط انگیز رومانی کیفیت کا حامل ہے تاہم اس کا تجزیہ کرنے کے دوران رومانی احساس اور پھر اس افسانے کے فکر وفن اور سماجی کج رویوں کے پہلوؤں کوناقدانہ فکر سے یوں اجاگر کیا گیا ہے:
’’رومان پسندی تو فرد ‘زندگی اور سماج کی جملہ سرگرمیوں سے تعلق رکھتی ہے جس میں فکر وسوچ کی نشاطیہ طرب انگیز یاں اورالم انگیزیاں دونوں ہی صورتیں فنکار کے پیش نظر رہتی ہیں اور جن کی انسانی اور سماجی معنویت ان کے تخلیقی ذہن کو مہمیزکرتی رہتی ہے۔اس نکتے کے پیش نظر عرض یہ کرنا ہے کہ غلام عباس نے افسانہ ’’آنندی‘‘میں زندگی کرنے کے دوہرے معیار اور ایک مفاد پرست انسانی ذہن پرہی نشانہ سادھا ہے۔کہہ سکتے ہیں کہ ’’آنند ی ‘‘ فکروفن کی سطح پر انسانی اور سماجی کج رویوں کا ایک المیہ نامہ ہے۔ ساتھ ہی اس میں جن لمحاتی نشاطیہ طرب انگیزیوں کا بیان ہوا ہے وہ ہماری سماجی اور انسانی زندگی کے لئے ایک تازیانہ کا درجہ رکھتی ہیں۔ ‘‘ (ص : 4-5)
یہی ایک ناقد کی خوبی ہوتی ہے کہ وہ تجزیہ کرنے کے دوران معمولی قسم کے چند جملے لکھنے یا صرف کہانی کو دہراتا نہیں ہے بلکہ وہ معیاری تخلیق کے ہر پہلو کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے معیار و مقصد کو بھی سامنے لاتا ہے اوراظہار خضر کی طرح افسانہ ’’آنندی‘‘ کے فکری وفنی ‘ تخلیقی و جمالیاتی اور سماجی آنندکا تنقیدی منظر نامہ پیش کرتاہے۔
شامل کتاب جتنے بھی افسانے یا ناول تجزیاتی عوامل سے گزارے گئے ہیں اس میں خاص بات یہ نظر آتی ہے کہ تخلیق کے فکری و فنی عناصر‘ تکنیکی و اسلوبیاتی خصائص اور موضوعاتی پیش کش کا حسب مناسب تجزیہ کیا گیا ہے‘ جس سے اس افسانے یا ناول کا فکری وفنی اور تخلیقی معیار بھی واضح طور پر سامنے آتا ہے۔جیسے افسانہ’’ گرہن‘‘ کی کہانی کے پس منظر میں موجود راجندر سنگھ بیدی کی سماجی بصیرت اور تخلیقی صلاحیت کے امتزاجی ملاپ کو یوں اجاگر کیا گیا:
’’اس افسانے میں بیدی کے فکروفن کا مرکز و محور فرد اور سماج کی جبریہ خواہش ہے اور یہی اس افسانے کا تخلیقی اختصاص بھی ہے جہاں بے جا آرزؤں اور تمناؤں کے صنم کدے میں سجے سجائے بتوں کی پرستش لازمی ہے! اب دیکھئے کہ ہولی پہلے ہی سے تلے اوپر چار بچوں کو جنم دے چکی تھی۔ کیڑوں کی طرح یہ بچے ابھی رینگ ہی رہے تھے کہ پانچویں کی متوقع آمد سسرال والوں کے لئے مژدہ جانفزاسے کم نہ تھا۔بھلے ہی نحیف و نزار ہولی کی جان چلی جائے۔ ‘ ‘ (ص: 12)
افسانہ ’’گرہن‘‘ سیکڑوں قارئین و ناقدین کی نظروں سے گزرچکا ہے اور ہر قاری اپنے طورپر اسے سمجھ بھی جاتا ہے اور ناقدین بھی اپنی فہم وفراست کے مطابق اس کا تبصرہ یاتجزیہ کرتے رہتے ہیں جو کہ اس افسانے کی معیار پسندی کا عمدہ ثبوت ہے ۔اظہار خضر نے بھی حسب مناسب ان پہلوؤں پر گفتگو کی ہے جس پر پہلے ہی کئی ناقدین کرچکے ہیں ‘تاہم ایک ماہر سماجی نفسیات کی طرح انھوں نے افسانے میں پوشیدہ سماجی نفسیات کے اس پہلو کو دلیل کے ساتھ اجاگر کیا ہے جو کہ افسانے کا پیامی تھیم ہے اور جو افسانہ نگار کے افسانہ لکھنے کا مقصد بھی رہا ہے۔ اب تجزیہ کار اگر کہانی دہرانے تک ہی خود کو محدود رکھتا تو تبصرہ یا تجزیہ کرنے کی کیا ضرورت تھی ‘کہانی تو قاری کی سمجھ میں آہی جاتی ہے لیکن یہاں پر ا فسانے کے فنی و فکری اور موضوعاتی پہلوؤں کااحاطہ کرتے ہوئے سماج کی’ جبریہ خواہش ‘ کے نکتے کو ابھارکر ایک تجزیہ نگار کی تفہیمی بصیرت بھی سامنے آتی ہے اور یہی ایک ماہر تجزیہ کار کا اختصاص ہوتا ہے کہ وہ فن پارے کی خارجی اور داخلی ادبی معنویت کو ظاہر کرے۔اس طرح سے اظہار خضر نے بیدی کو ادبی سماجیات کے ایک باکمال تخلیقی فن کار کے روپ میں سامنے لایا ہے۔
فکشن نگار مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر جب کسی بھی موضوع کو فن کے قالب میں ڈھالتا ہے تو کبھی وہ افسانے اور کبھی ناول کی صورت میں ایک فن پارے کی حیثیت اختیار کرجاتا ہے۔اس میں فنی صنعت گری کا کمال دکھانا پڑتا ہے اور فنی صنعت گری کا یہی کمال کسی بھی باشعور ناقد کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے میں اہم رول ادا کرتا ہے‘نہیں تو آج تک سیکڑوں افسانے اور ناول سامنے آئے ہیں لیکن ان میں ایک محدود تعداد ہی ایسی ہے جن پر لکھا گیا ہے یا لکھا جارہا ہے۔ پیش نظر کتاب میں چند اہم ناولوں کو بھی موضوع بحث بنایا گیا ہے اور یہاں پر بھی مصنف نے تجزیاتی کارگزاری کے دوران انفرادی نوعیت کے مضامین لکھے ہیں۔ ناول ’’آخر شب کے ہمسفر‘‘ کا جائزہ لیتے ہوئے پہلے تخلیقی اظہار کی اہمیت اورناول یا تخلیقی متون میں سیاسی و سماجی اور تہذیبی موضوعات و مسائل کی تخلیقی پیش کش کے فنی طریقہ کار کے امتیاز ی مضمرات پر گفتگو کی گئی ہے اور ایک معیاری تخلیق کے اسلوب کے تعلق سے ایک خوبصورت جملہ کہا گیا ہے کہ’’ یہ سارا عمل اسی وقت ممکن ہے جب فن کار ‘فن تمجید نگاری
(Art of sublime writing)کاادا شناس ہو۔‘‘ (ص: 144)۔ اس کے بعد ناول پر گفتگو کرتے ہوئے قرۃ العین حیدر کی ناول نگاری کے ضمن میں لکھا گیا ہے کہ’’ قرۃالعین حیدر کی ناول نگاری کی عقبی زمین جس قسم کی فکریاتی سرگرمیوں سے زرخیز ہوتی رہی ہے‘ اس میں تاریخ ‘تہذیب اور سیاست کے موضوعات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔‘‘(ص: 146)۔ اس ناول کا جائزہ لیتے ہوئے قرۃ العین کے شاہکار ناول’’آگ کا دریا‘‘ اور ان کی ناول نگاری کی مجموعی فن کارانہ خوبیوں کابھی جستہ جستہ احوال پیش ہوا ہے جوکہ مضمون کی افادیت قائم رکھنے میں سود مند نظرآتا ہے نہ کہ اکتادیتا ہے۔
مختصر یہ کہ کتاب’’ تجزیے۔۔۔اردوفکشن سے مصافحہ‘‘تنقیدی نوعیت کی ایک ایسی تصنیف ہے جس میں فکشن شعریات کے دائرے میں افسانوں اور ناولوں کا ماہرانہ تجزیہ پیش ہوا ہے اور ان تجزیوں کے مطالعہ کے دوران اظہار خضر کے تخلیقی مزاج‘جمالیاتی احساس اور تجزیاتی اپروچ کا ایک ایسا اختصاص ابھر کر سامنے آتا ہے جو کہ ان کی تنقید نگاری کا شناخت نامہ بن جاتا ہے۔ اس کتاب کی قرات سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کسی بھی تخلیق کو سمجھنے‘اس پر غوروفکر کرنے اور جائزہ لینے کے ادبی تقاضے کیا ہیں اور کس طرح ایک ناقد کسی بھی معیاری متن کو ڈسکورس بنا کر ترسیلی تقاضوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔اظہارخضر کی تنقیدی بصیرت کے تعلق سے ماہر جمالیات پروفیسر شکیل الرحمن فرماتے ہیں:
’’اظہار خضر کی تنقید ‘ شعور میں کشادگی پیدا کرتی ہے۔نقاد کا ذہن اشعار کی معنوی تہہ داریوں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے تو لگتا ہے کہ تجربے اور الفاظ کی ہم آہنگی کی چمک دمک کو جاننے اور پہچاننے کی نظر مل گئی ہے ۔‘‘ (ص:245)
اظہار خضر جہاں ایک طرف فکشن تنقید میں یدطولی رکھتے تھے ‘وہیں دوسری جانب شعری تنقید میں بھی اپنی مہارت کا لوہا منواتے رہے۔ جس کا ثبوت ان کی تصانیف ’’زبان کی جمالیات‘‘ اور ’’کھرے کھوٹے تبصرے‘‘ میں شامل شاعری پر لکھے گئے مضامین ہیں۔ اس کے علاوہ زبان اور ادب کے تخلیقی منصب سے متعلق ان کے جو مضامین ان کتب میں شامل ہیں وہ فکری و ادبی اور تنقیدی مباحثہ کے حامل بصیرت افروزپیغام کے حامل ہیں۔ تخلیق میں تخلیقیت ہی اسے تخلیقی جوہر عطا کرتی ہے۔ لیکن اس کا احساس وادراک بہت کم لوگوں کے نصیب میں آتا ہے۔ تخلیقی عمل میں تخلیقی شناخت کے تعلق سے اظہار خضر نے چند عمدہ مضامین لکھے ہیں۔ ایک تخلیق میں تخلیق کار کا جذبہ واحساس اور فکروتخیل تخلیقی روپ میں ہی نکھر کرسامنے آتا ہے۔ زبان کے تخلیقی نظام کی توضیح کرتے ہوئے اظہار خضر لکھتے ہیں:
’’زبان کے تخلیقی نظام سے میری مراد ہی جدلیاتی نظام ہے۔ جس میں الفاظ اپنے لغو معنی سے ہٹ کر اظہار کی سطح پرترسیل وابلاغ کے ایک نئے معنیاتی نظام کی تشکیل کرتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ فنکار کا یہ عمل بالکل شعوری اور ارادی ہوگا۔میرا خیال ہے کہ غیر شعوری‘ غیرارادی اور فطری ۔۔۔اس کا جذب واحساس اور تخلیقی شعور ہوتا ہے۔ یعنی فن کی ذکی الحسی اور حس لطیف وہ ضروری تہہ زمین ہے جہاں سے اس کا فکروشعور ایک آمد کی صورت میں ‘اس کی تخلیقی حسِ میں موجزن ہوتا رہتا ہے۔ لیکن فکروشعورکو لفظوں کا پیراہن عطا کرنے میں اس کے شعور اورارادے کا فطری طور پردخل ہوتا ہے یعنی زبان کی اسلوبی ہیئت فنکار کی صناعانہ ہنرمندی (Craftmanship)کی مرہون منت ہوتی ہے۔‘ ‘
(زبان کی جمالیات:ص 40)
مضمون میں زبان کے تخلیقی نظام کی بحث کے دوران انھوں نے کئی شعرا کے کلام اور فکشن نگاروں کی نثری نگارشات مثلاََ مرزا دبیر‘حیدر علی آتش‘ فیض احمد فیض‘قرۃ العین حیدر ‘سلام بن رزاق وغیرہ کو بطورحوالہ پیش کیا ہے۔ ادب اور جمالیات کا ذکر پروفیسر شکیل الرحمن کے بغیر نامکمل سا نظر آتا ہے ‘اسی وجہ سے انھیں ’’ہندوستانی جمالیات کا تنقیدی استعارہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اظہار خضر نے کئی کتابوں پر مضامین لکھے ہیں، جن میں ماہر جمالیات پروفیسرشکیل الرحمن کی ایک اہم کتاب ’’ مولانا رومی کی جمالیات ‘‘ بھی شامل ہے۔ کتاب کا جائزہ لیتے ہوئے انھوں نے شکیل الرحمن کی جمالیاتی بصیرت پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ شکیل الرحمن کی رومی شناسی کا مفصل جائزہ لیا ہے۔ اس ضمن میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’پروفیسر شکیل الرحمن کی ذہنی وفکری تربیت میں جمالیاتی قدروں کا زبردست دخل ہے‘لہذا ان قدروں کی تفسیر و تعبیر میں ان کاقلم فنون لطیفہ کی نہ جانے کتنی سردوگرم لہروں سے ٹکراتا رہا ہے۔مثنوی مولانا رومؔ میں جمالیات کے حوالے سے اقدار کی سطح پر جس قسم کے اعلی ترین نظام حیات کی مصوری کی گئی ہے اس کی بازیافت میں شکیل الرحمن کے قلم نے جوجاد و جگایا ہے اس سے ان کی تحریریں نثر کی تخلیقی فنکاری کے ایک عمدہ نمونے کی صورت میں نظرآتی ہیں۔ ‘‘(زبان کی جمالیات ۔ص198)
اسی طرح شعری تنقید کے تعلق سے انھوں نے کئی اہم مضامین لکھے ہیں۔ جن میں’مولانارومی کی جمالیات‘ ’جمیل مظہری کا شعری کردار‘ ’اخترپیامی کی نظمیں‘ ’بشارت۔۔۔ شکیب ایاز‘ ’بے کرانیاں۔۔۔پروین شیر‘’غبار آشنا۔۔۔ راشد طراز‘ ’محاذپرمیں۔۔۔ سردار آصف، ’شہرافسوس۔۔۔ ارمان نجمی‘ ’جہاںگرد۔۔۔۔ خورشید طلب، ’نہایت۔۔۔ خالد عبادی‘ ’موسم خلاف تھا۔۔ ۔احمد نثار وغیرہ شامل ہیں۔
ان مضامین میں انھوں نے ہر شاعر کے کلام کا مفصل جائزہ لیا ہے۔اردو نظم نگاری میں پروین شیر ایک مستند نظم گو شاعرہ تسلیم کی جاتی ہیں۔ ان کی تخلیقی ذہانت میںشاعری و مصوری ایک سکے کے دورخ نظرآتے ہیں۔ اظہار خضر نے ان کے شعری مجموعے ’’بے کرانیاں‘‘ میں شامل نظموں کی فکری و فنی تخلیقی صورت گری اوراقداری وموضوعاتی جہات کا مفصل و مدلل جائزہ پیش کیا ہے ۔ان کی نظموں کے المیاتی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’مجموعہ کی بیشترنظمیں ٹریجڈی کی جمالیات کے بہترین نمونے ہیں۔کہہ سکتے ہیں کہ یہ نظمیں فرد، زندگی اورسماج کی ٹوٹتی ‘بکھری قدروں کی نوحہ کرتی نظرآتی ہیں۔‘‘ (کھرے کھوٹے :ص۔22)
مجموعی طور پر اظہار خضر کی تنقیدی نگاری کا احاطہ کریں تو ان کے مضامین میں ناقدانہ بصیرت کا علمی وفکری مباحثہ جگہ جگہ نظر آتا ہے۔جس کی وجہ سے تخلیق کافنی و فکری اور معنوی و تکنیکی کینوس دلچسپ انداز سے زیر بحث رہتا ہے اور مضمون معنی خیزتاثر کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔ اظہار خضر ایک بصیرت مند نقاد (An insightful critic) تھے۔ یعنی وہ تخلیق کے تخلیقی جوہر کو ناقدانہ ڈسکورس بناتے تھے نہ کہ سطحی قسم کی تبصرہ نگاری سے کام چلاتے تھے اور موجودہ دور میں ایسے قابل نقاد بہت کم نظرآتے ہیں۔
Reyaz Ahmad
Wadipora Handwara Kashmir-193221
Mob. 9906834877
Email: drreyaztawheedi777@yahoo.com