مبادیاتِ ترجمہ نگاری،مضمون نگار:غضنفر

August 28, 2026 0 Comments 0 tags

تلخیص

اس مضمون میں جیسا کہ عنوان’مبادیاتِ ترجمہ نگاری‘ سے ظاہر ہے کہ ترجمے سے متعلق بنیادی باتوں سے بحث کی گئی ہے۔ ترجمہ کا تعارف کراتے ہوئے یہ بتایا گیاہے کہ ایک زبان میں پیش کی گئی کسی عبارت کے معنی ومفہوم کو دوسری زبان میں بغیر کسی تصرف کے جوں کے توں منتقل کر دینے کا نام ترجمہ ہے۔
اس میں ترجمے کے اصول،ترجمے کی اقسام،ترجمے کی اہمیت و ضرورت،ترجمے کی راہ میں حائل دشواریوں،ان دشواریو ں کو دور کرنے والی تدابیر پر بھر پور روشنی ڈالی گئی ہے اور ایک ایک نکتے کو دلیلوں اور مثالوں سے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کچھ ایسے سجھاؤ بھی دیے گئے ہیں کہ اگر ان کو عمل میں لایا گیا تو اردو ترجمہ نگاری کا فن اور بہتر ہو سکتاہے اوراس کی افادیت بھی بڑھ سکتی ہے۔
ترجمے میں ادبی وتہذیبی زبان کی کیا اہمیت ہوتی ہے اور ایک زبان کے ادب سے دوسری زبان میں منتقل کرتے وقت کتنی احتیاط برتنی ہوتی ہے اور کن کن پُرخار راستوں سے گزرنا پڑتا ہے ان تمام امور سے بحث کی گئی ہے ۔ساتھ ہی دونوں زبانوں کے روز مرہ محاورے اور امثال کیا کردار نبھاتے ہیں اور ان کو نبھانے کے لیے کیا کیا کرنا پڑتاہے اس ضمن میں بھی مدلل گفتگو کی گئی ہے۔
کلیدی الفاظ
ترجمہ، ترجمہ نگار، ترجمہ نگاری، مترجم، منتقلی، اصل زبان، ہدف زبان، ہدفی زبان، لفظی ترجمہ،آزاد ترجمہ، تخلیقی ترجمہ، ادبی ترجمہ، لفظ بہ لفظ ترجمہ، تقریری ترجمہ ، زبانی ترجمہ ،ترجمے کے اصول، ترجمے کی نزاکتیں، ترجمے کی دشواریاں، بہتر ترجمے کی تدبیریں۔ ترجمے کا مقصد، مترجم کا عندیہ وغیرہ۔
———
متن کی منتقلی کا وہ لسانی عمل جس میں ایک زبان کا مواد دوسری زبان کے قالب میں ڈھلتا ہے، ترجمہ کہلاتا ہے۔ترجمے میں معنی ومفہوم کی ہی منتقلی نہیں ہوتی بلکہ منشائے مصنف یہاں تک کہ اس کا عندیہ بھی منتقل ہو جاتا ہے۔ بین السطور میں درج اور تحریر کی تہوں میں پنہاں باتیں بھی ایک زبان سے نکل کر دوسری زبان میں پہنچ جاتی ہیں مگر یہ کام آسان نہیں،اس کے لیے ذہنِ رسا، باریک بیں نگاہ ،لسانی طلاقت اور تیز تر ذہانت درکار ہے جو متن کی روح تک پہنچ جائے اور اس روح کو بنا گزند پہنچائے وہاں سے نکال کر دوسرے قالب میں اس طرح منتقل کر دے کہ وہ اسی جسم کی جان محسوس ہونے لگے۔اس کے لیے مراقباتی عمل یا چنتنی کریا کے علاوہ پتلیوں کو ایک ایسے محدب شیشے میں تبدیل کرنا ہوتا ہے جو نہ دکھائی دینے والی تحریر کو بھی دیکھ لیتا ہے۔ساتھ ہی دو زبانوں پر عبور کے علاوہ ان زبانوں کے تہذیبی وادبی مزاج سے پوری طرح سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ یہ کریا کافی کٹھن ہے۔اس میں نین جلتے ہیں۔ پتلیوں میں پیڑا ہوتی ہے۔ نسیں اینٹھتی ہیں۔ اعصاب کھنچتے ہیں۔کمر کو تختہ بنانا پڑتا ہے۔ اچھی ترجمہ نگاری کے لیے اس کٹھن کریا سے گزرنا ضروری ہے۔ ترجمہ نگار جب اس کریا سے گزرتا ہے تب جاکر ترجمہ کی گئی کوئی تحریر ایسی بن پاتی ہے جو بغیر کسی تردد، رکاوٹ اور اکتاہٹ کے پڑھی جا سکے اور جس کا معنی ومفہوم آسانی سے ذہن ودل میں اس طرح اترتا چلا جاتا ہے جس طرح اپنی زبان میں لکھی ہوئی تحریر روانی کے ساتھ اتر جاتی ہے۔
یہ مشکل فن اس لیے وجود میں آیا کہ انسانی ذہن اپنی سرشت کے تقاضے کے باعث اپنے دائرے سے نکل کر دوسرے دائروں میں بھی پہنچنا چاہتا ہے۔انسان اپنے علاوہ دوسروں کے اندر بھی جھانکنا چاہتا ہے۔ وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ دوسری دنیاؤں میں کیا ہو رہا ہے ؟ دوسرے جہانوں کے دماغ کیا اور کس طرح سوچتے ہیں۔ان کے دلوں میں کیسے کیسے جذبات اٹھتے ہیں۔حواس کیا کیا محسوس کرتے ہیں مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مستحکم ہے کہ اس وسیع و عریض کائنات کے تمام تر خطوں میں بسے لوگوں کے مشاہدات و تجربات اور جذ بات و محسوسات تک پہنچنا آسان نہیں۔ ان تک رسائی کا ایک وسیلہ زبان ضرور ہے مگر سبھی کو سبھی زبانیں نہیں آتیں اور یہ بھی سچ ہے کہ ایک زبان کے وسیلے سے تمام انسانوں کے ادراک و احساس تک پہنچانا بھی ممکن نہیں، اس لیے یہ سوچا گیا کہ کوئی ایسی صورت نکالی جائے جس کے سہارے ایک صورت کے رنگ روپ دوسری صورت میں جھلملا اٹھیں۔ ایک کے خط وخال دوسرے میں منعکس ہو جائیں اس طرح انسانی سوچ نے ایک صورت دریافت کر لی اور اس صورت کو ترجمے کا نام دے دیا گیا۔ گویا ترجمہ وہ صورت ہے جو ایک صورت کو دوسری صورت میں منتقل کر دیتی ہے۔ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ترجمہ وہ جام جم ہے جس میں نا دیدہ دنیاؤں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
ترجمہ دوسرے جہانوں کے متعلق محض معلومات ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ ان کے تجربات و محسوسات سے بھی روشناس کراتا ہے۔ ترجمے کا یہ عمل اظہار کا ایک ایسا وسیلہ اختیار کرتا ہے کہ دو زبانوں کے مواد وموضوع کو ایک بنا دیتا ہے۔انھیں ایسا ہم آہنگ کرتا ہے کہ دوئی کا فرق مٹ جاتا ہے۔پڑھتے وقت یہ لگتا ہی نہیں کہ کسی دوسری زبان کا کوئی متن پڑھا جارہا ہے۔یہ عمل زبانوں کے توسط سے ایک سے زائد علمی و ادبی سرگرمیوں کو ایسا ہم آمیز کر دیتا ہے کہ اجنبی رنگ وآہنگ شیرو شکر کی طرح گھل مل کرایک ہو جاتے ہیں اور ایسی صورت میں اجنبی بھی شناسا لگنے لگتا ہے مگر یہ فن آسان نہیں ہے کیونکہ دوسرے کی روح کو اپنے قالب میں ڈھالنا ایک مشکل امر ہے۔اور جیسا کہ اوپر ذکر ہوا کہ اس عمل میں دماغ کی نسیں پھٹتی ہیں، پتلیاں جلتی ہیں۔اعصاب اکڑ جاتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ مناسب، متبادل اور موزوں لفظ کی تلاش میں دیر اور دور تک بھٹکنا پڑتا ہے۔
تخلیقی نگارشات کا ترجمہ تو اور بھی دشوار ہے۔ اس لیے کہ کسی ایک زبان کے تخلیقی رنگ وآہنگ جو ایک خاص طرح کے تہذیبی ماحول اور ادبی صورت ِحال کا پروردہ ہوتے ہیں،کو کسی دوسری زبان، جس کا تہذیبی اور ادبی ماحول مختلف ہوتا ہے میں ڈھالنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ کام وہی کرسکتا ہے جو تخلیقی پروسیس کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اسے برتنا بھی جانتا ہو اور دونوں زبانوں کے ادبی مزاج سے بھی واقف ہو۔
متن کی منتقلی کے لیے ترجمے کے کچھ اصول بھی وضع کیے گئے ہیں جن کی پیروی لازمی ہے۔ مثلاً:
1. متن کی منتقلی کا مقصد یہ ہے کہ مفہوم ہدف یا ہدفی زبان میں پوری طرح منتقل ہو جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ عبارت کا کوئی بھی حصہ چھوٹنے نہ پائے۔بعض مترجم کچھ حصوں کو غیر ضروی یا ناقابل ٍفہم سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ان کے اس رویے سے کبھی کبھی بعض ضروری نکات نظر انداز ہو جاتے ہیں جس کے باعث عبارت میں کمی محسوس ہوتی، لہٰذا مترجم کو چاہیے کہ وہ عبارت کے تمام پہلوؤں پر نگاہ رکھے اور اس بات کی سعی کرے کہ کوئی اہم حصہ چھوٹنے نہ پائے۔
2. اصل تحریر جس ترتیب سے لکھی گئی ہے مترجم کو ترجمہ کرتے وقت اس ترتیب کو برقرار رکھنا چاہیے۔اسے اپنی سہولت کے لیے عبارت کو آگے پیچھے کرنے کا کوئی حق نہیں۔ مترجم اگر ایسا کرتا ہے تو مفہوم کے بدل جانے کا اندیشہ لاحق ہو سکتا ہے۔
3. مترجم کو متن میں اپنی طرف سے کچھ اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔ یعنی اسے ترمیم و تنسیخ کی اجازت نہیں۔ اس لیے کہ ایسا کرنے سے عبارت کا مفہوم اور منشائے مصنف دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔ساتھ ہی غیر ضروری عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
4. بعض تحریریں گنجلک، مبہم اور اشاراتی ہوتی ہیں اور کبھی کبھی مشکل اندازِ بیان کے باعث اشکال کی شکار ہو جاتی ہیں یا کچھ نکات کی ترسیل نہیں ہو پاتی ہے۔ایسے میں ترجمہ کرتے وقت مترجم کو وضاحتی انداز بیان اختیار کرنا چاہیے تاکہ عبارت کی وضاحت وصراحت ہو سکے اور معانی و مفاہیم پوری طرح سمجھ میں آ سکیں۔
وضاحت وصراحت کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مبہم اور مشکل لفظوں،اصطلاحوں، فقروں، جملوں وغیرہ کی وضاحت قوسین میں کر دی جائے اور دوسری صورت یہ ہے کہ وضاحتیں حاشیے پر درج کر دی جائیں۔
5. اصطلاحات کے انتخاب میں ساودھانی برتی جائے۔ مناسب اور موزوں اصطلاحیں منتخب کی جائیں تاکہ مفہوم کی مکمل ترسیل ہو سکے۔کوشش کی جائے کہ رواں اور آسان اصطلاحیں ہاتھ آ سکیں تاکہ مفہوم کی ادائیگی میں دشواری نہ ہو۔ ہدف زبان یا ہدفی زبان میں مناسب اصطلاحات موجود نہ ہونے کی صورت میں اصطلاحیں گڑھی جائیں اور اس بات کا دھیان رکھا جائے کہ جو اصطلاحیں وضع کی جائیں وہ آسان، موزوں،مناسب اور رواں ہوں۔
بعض اصطلاحیں مشکل اور ناقابلِ فہم ہوتی ہیں لہٰذا ان کی وضاحت بھی حاشیے پر کر دینی چاہیے تاکہ عبارت اچھی طرح سمجھی جا سکے۔
6. ترجمے کی زبان نفسِ مضمون کی مناسبت سے استعمال کی جائے۔ مثلا ً اگر موضوع علمی یا سائنسی ہے تو زبان سادہ سلیس اور عام فہم ہو اور مضمون اگر ادبی ہے تو زبان شیریں، شگفتہ استعاراتی رنگین اور دلکش ہونی چاہیے تاکہ معلومات کے ساتھ ساتھ لطف وانبساط بھی حاصل ہو سکے۔ گویا ترجمہ کرتے وقت ایسا وسیلۂ اظہار اختیار کیا جائے جو موضوع ومواد سے مطابقت رکھتا ہو اورڈکشن بھی ایسا لایا جائے جو مواد سے پوری طرح ہم آہنگ ہو۔
7. ترجمہ کرتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ ترجمہ کن کے لیے کیا جا رہا ہے؟ اگر کسی مضمون یا کتاب کا ترجمہ بڑوں کے لیے کیا جا رہا ہے تو زبان ان کی ذہنی سطح، دلچسپی اور ان کے پاس موجود Vocabulary کے مطابق ہوگی اور اگر وہی تحریر یا کتاب بچوں کے لیے ان کی زبان میں منتقل کرائی جا رہی ہے تو لفظیات ان کی ذہنی سطح، دلچسپی اور ان کے پاس موجود ذخیرۂ الفاظ کے مطابق یعنی وہی الفاظ لائے جائیں جو ان کے ذخیرۂ الفاظ میں موجود ہوں اور جو ان کی ذہنی سطح اور دلچسی سے ہم آہنگ ہوں۔
8. ترجمہ کرتے وقت اس بات کی شعوری کوشش کی جائے کہ زبان ترسیلی (کمیونیکیٹیو ) ہو۔ یعنی اظہار سہل،رواں،مانوس،مناسب اور موزوں ہو اور اس بات کی بھی سعی کی جائے کہ گنجلک اور پیچیدہ اظہار سے بچا جا سکے، مشکل، ادق، غریب اور نامانوس الفاظ استعمال نہ کیے جائیں کہ ان سے اظہار میں گانٹھ پڑ جاتی ہے۔
9. اگرکسی کتاب یا مضمون میں تہذیب وثقافت کا رنگ ہو تو یہ سعی ہونی چاہیے کہ وہ تہذیبی رنگ بھی منتقل ہو جا ئے تاکہ متن پوری طرح منتقل ہو سکے۔ ادبی تخلیقات میں یہ رنگ تو عموماً ہوتا ہی ہے بعض علمی وصحافتی نوعیت کی تحریروں میں بھی پایا جاتا ہے لہٰذا مترجم کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسا کچھ کرے کہ وہ تہذیبی وثقافتی امور بھی ترجمے میں آ جائیں تاکہ متن کو صحیح تناظر میں سمجھا جا سکے اور ان سے حظ اٹھایا جا سکے۔
10. متن کا موضوع اگر علمی، درسی یا اخلاقی نوعیت کا ہو اور درمیان میں کوئی شعر یا نظم کا اقتباس نقل ہو تو اس کا ترجمہ دو طرح سے کیا جا سکتا ہے۔ایک یہ کہ اس شعر یا منظوم اقتباس کا بھی ہدف زبان میں شعری ترجمہ کر دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اسے آسان اور دلچسپ نثر میں منتقل کیا جائے۔ نظم اگر نظم میں بدل جائے اور اس کا شعری حسن برقرار رہے یا معنویت اور جاذبیت بڑھ جائے تو یہ بہتر صورت ہوگی جیسا کہ علامہ اقبال نے بھرتری ہری کے سنسکرت شعر کو اردو کے قالب میں اس طرح ڈھال دیا کہ اس کا یہ اردو روپ ؎
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر
ساری دنیا میں مشہور ہوگیا۔1؎
11. ترجمہ کرتے وقت پیراگرافنگ کا ٹھیک سے خیال رکھا جائے۔ پیراگراف کا التزام جس طرح اصل زبان میں کیا گیا ہے ویسا ہی التزام ہدف زبان میں بھی ہونا چاہیے۔ البتہ اصل متن کا کوئی ایک پیراگراف ہدف زبان میں دو دو یا دو سے زیادہ پیراگراف کا تقاضا کر بیٹھے تو پیراگرافنگ مواد کے تقاضے کے مطابق کی جا سکتی ہے۔
12. ترجمے میں بہتر ترسیل و ابلاغ کے لیے ضروری ہے کہ عبارت میں صحیح جگہ پر صحیح رموزاوقاف (Punctuations) استعمال کیے جائیں۔ رموزِاوقاف (Punctuations) استعمال سے عبارت کو پڑھنے اور مفہوم کو سمجھنے میں دشواری نہیں ہوتی۔ غلط فہمی یا نا سمجھی کا امکان باقی نہیں رہتا۔عندیے کی ادائیگی میں بھی آسانی ہوتی ہے۔آنکھوں پر کسی طرح کا زور بھی نہیں پڑتا۔اس کے لیے ضروری ہے کہ مترجم اصل زبان اور ہدف زبان دونوں میں مستعمل رموزِ اوقاف اور ان کے علامات و نشانات سے واقف ہو۔ اگر مترجم کسی زبان کے متن کا اردو میں ترجمہ کر رہا ہو تو اسے معلوم ہوکہ موجودہ اردو زبان میں صرف آٹھ رمو زِ اوقاف رائج ہیں۔ کچھ رموز اوقاف جو کبھی مستعمل تھے مگر اب وہ متروک ہو چکے ہیں۔جیسے زنجیرہ،تفصیلیہ، خط(Dash) وغیرہ۔جو آٹھ رائج ہیں وہ حسبِ ذیل ہیں :
سکتہ ،
وقفہ ؛
رابطہ :
ختمہ ٔ
سوالیہ ؟
فجائیہ/ندائیہ !
واوین ’’ ‘‘
قوسین ()
سکتہ : کسی جملے میں جب کسی مقام پر بہت کم وقت کے لیے ٹھہرنا ہوتا ہے تو وہاں سکتہ کا نشان، لگاتے ہیں۔یہ سب سے چھوٹا وقفہ ہوتا ہے۔سکتے کا یہ نشان درج ذیل موقعوں پر لگایا جاتاہے :
کسی جملے میں جب ایک سے زیادہ نام درج کرنے ہوں۔ مثلاً احمد، حامد، خالد اورکامران آئے۔
ایسے چھوٹے چھوٹے جملوں کے درمیان میں جو ایک بڑے جملے کے جزو ہوں۔جیسے ساجد گھر سے اسکول گیا، اسکول سے بازار اور اب بازار سے ٹیوشن پڑھنے ٹیوٹر پوائنٹ جائے گا۔
وقفہ: جب عبارت میں سکتے سے ذرا زیادہ دیر تک ٹھہرنا ہوتو وہاں وقفہ استعمال ہوتا ہے۔ جیسے: جو کرے گا، سوپائے گا؛ جو بوئے گا، سو کاٹے گا۔ یا آنا، تو خفا آنا ؛ جانا، تو رُلا جانا۔
رابطہ: یہ ٹھہراؤ وقفے سے ذرا زیادہ دیر کا ہوتا ہے۔ جب کسی بات کی وضاحت یا تصدیق کرنی ہوتی ہے تو رابطے کی علامت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے : کسی شاعر نے سچ کہا ہے : ناو کاغذ کی سداچلتی نہیں۔ جب کسی رواں تحریر میں کسی ادیب،فلسفی یادانشور وغیرہ کا قول جوڑنا ہوتا ہے تو اس سے پہلے رابطے کا نشان لگانا ہوتا ہے۔ مثلا ً:
غالب نے اپنے خطوں کی خوبی کے متعلق اپنے ایک خط میں خود فرمایا ہے: ہم نے مراسلے کو مکالمہ بنا دیا ہے دور بیٹھے بہ زبانِ قلم ایک دوسرے سے باتیں کیا کرو ہجر میں وصال کے مزے لیا کرو۔
ختمہ: جب جملہ مکمل ہو جاتا ہے تو ختمے کا نشان لگتا ہے یہ انگریزی علامت _dash کی طرح ہوتا ہے مگر سائز میں ڈیش سے ذرا چھوٹا ہوتا ہے۔ مثلاً ہم ترجمہ کرنا سیکھ رہے ہیں۔ احمد انگریزی سے اردو میں ترجمہ کر رہا ہے اور میں ہندی سے اردو میں کر رہا ہوں۔
سوالیہ : سوال پوچھنے کے لیے جملے کے آخر میں جو نشان لگایا جاتا ہے اس کو سوالیہ کہا جاتا ہے۔ اردو میں اسے ؟ استفہامیہ بھی کہتے ہیں۔ مثلاً
تمھارا نام کیا ہے؟ کیا تم ترجمہ نگاری سیکھ رہے ہو ؟
فجائیہ! جب کسی جملے میں کسی جذبے مثلاً خوشی، غم، غصہ، حقارت، نفرت،حیرت،خود وغیرہ کا اظہار کرنا ہوتا ہے تو فجائیہ کی علامت ! استعمال کی جاتی ہے۔ یہ علامت حسبِ ضرورت جملے کے درمیان یا آخر میں لگائی جاتی ہے۔ مثلا ًرام نے راون کو مارا ! شاباش ! تم نے بازی مار لی۔ بس صاحب ! بس ! اب اور نہ ماریے۔ اس غریب پر رحم کیجیے۔
ندائیہ! ندائیہ کی علامت بھی فجائیہ کی علامت ہی کی طرح ہوتی ہے مگر یہ کسی جذبے کے اظہار کے لیے نہیں بلکہ کسی کومخاطب کرنے یا پکارنے کے لیے جملے کے آخر میں استعمال کی جاتی ہے۔ جیسے : خدایا ! یا اے لڑکے ! اے دونوں جہاں کے مالک !
واوین ’’ ‘‘ جب کسی عبارت یا تحریر میں کسی کا قول یا بیان بنا کسی تصرف کے اسی کے لفظوں میں ہو بہو نقل کیا جاتا ہے تو اس کے دونوں طرف یہ علامت لگا دی جاتی ہے تاکہ یہ پتاچل سکے کہ وہ کسی اور کاقول یا اقتباس ہے۔مثلا :
’’ فصاحت سے مراد یہ ہے کہ لفظ یا محاورے کو اس طرح بولا یا لکھا جائے جس طرح مستند اہل ِ زبان لکھتے یا بولتے ہیں۔ لہٰذا فصاحت کا تصورزیادہ تر سماعی ہے۔ اس کی بنیاد روزمرہ اہلِ زبان پر ہے جو بدلتا بھی رہتا ہے۔اس لیے فصاحت کے بارے میں کوئی دلیل لانا یا اصول قائم کرناتقریباً ناممکن ہے۔‘‘2؎
قوسین () عبارت میں کچھ لفظوں کی وضاحت اور صراحت کے لیے کچھ جملے قوسین میں لکھ دیے جاتے ہیں۔جیسے کلکتے میں ان دنوں سائیکل رکشا کی جگہ آدمی رکشا (وہ رکشا جس میں پیڈل نہیں ہوتا اور جسے آدمی سواری بٹھا کر اپنے ہاتھوں سے خود کھینچتا ہے) ہوتی تھی جو آسانی سے تنگ گلیوں میں بھی چلی جاتی تھی۔ یا اس میوزیم میں ایک جگہ چاروں آسمانی کتابیں (قرآن، توریت،زبور اور انجیل) موجود تھیں۔
12. دوسری زبانوں خصوصاً انگریزی فرانسیسی، ملیالم تیلگو اور تمل وغیرہ سے اردو میں ترجمہ کرتے وقت اکثر اردو کی ساخت غیر رواں، نا ہموار، بوجھل اور اوبڑکھابڑ ہو جاتی ہے۔ان خرابیوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہدفی زبان کی قواعدی ساخت کے اصولوں کو عمل میں لایا جائے۔ایسا کرنے سے بہت سی ناہمواریاں اور پیچیدگیاں دور ہو جاتی ہیں اور ترجمے کی زبان بھی فطری محسوس ہونے لگتی ہے۔
13. بعض ترجموں کو پڑھتے وقت عبارت میں کھانچا محسوس ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ رہ گیا ہے۔ترجمہ نگار کو چاہیے کہ اس کا قاری اس طرح کے احساس سے دوچار نہ ہو۔ترجمہ نگار کا کمال یہ ہے کہ اپنے ترجمے کو ایسا بنا دے کہ پڑھنے والے کو یہ نہ لگے کہ وہ ترجمہ پڑھ رہا ہے بلکہ اسے یہ محسوس ہو کہ وہ اپنی زبان میں لکھی ہوئی کوئی تحریر پڑھ رہا ہے ان اصولوں کے علاوہ بھی ایک اچھا ترجمہ نگار کچھ باتوں کو اپنے سامنے رکھتا ہے۔اور مضمون یا کتاب کے عنوان سے لے کر متن کے آخری مواد تک ان سے کام لیتا ہے۔
15. بہت سے مضامین یا کتب میں کچھ ایسے اقوال یا اقتباس نقل ہوتے ہیں جو کسی دوسری زبان سے ماخوذ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہندی میں سنسکرت کے یا فارسی میں عربی کے یا اردو میں فارسی عربی کے اور قوسین میں ان کا ترجمہ بھی درج ہوتا ہے ایسی صورت میں مترجم کو چاہیے کہ ان اقوال کے صرف تراجم کو ہی ہدفی زبان میں منتقل نہ کرے بلکہ اقوال کے اصل متن کو بھی قوسین میں لکھ دے تاکہ اگر کوئی اقوال کو اصل زبان میں سمجھنا چاہے تو دشواری نہ ہو۔
16. ترجمہ کرتے وقت مترجم کو کسی صفحے پر اگر یہ محسوس ہو کہ اصل متن میں کوئی خلا ہے یا مضمون کا کوئی پہلو یا نکتہ چھوٹ گیا ہے اور بات واضح نہیں ہو پا رہی ہے تو ایسے میں اس عبارت کو ہدفی زبان میں اس طرح منتقل کیا جائے کہ ادھوراپن ختم ہو جائے اور بات مکمل محسوس ہو۔مگر ایسے مقامات پر احتیاط ضروری ہے کہ اپنی طرف سے کچھ جوڑنے میں اس بات کا اندیشہ رہتا ہے کہ مصنف کا عندیہ کہیں بدل نہ جائے۔
17. اچھے ترجمے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ عام فہم ہونے کے ساتھ ساتھ دلچسپ اور موثر بھی ہو تاکہ پڑھنے والے کا انہماک بنا رہے۔
18. مترجم کو ہدفی زبان کے لسانی و قواعدی اصولوں،محاوروں اور روزمرہ کے ساتھ ساتھ اصل زبان کے لسانی وقواعدی معیار،محاورے اور روز مرہ کا بھی علم ہونا چاہیے تاکہ مناسب،موزوں اور بہترترجمہ ممکن ہو سکے۔
19. بہت سی زبانوں میں یکساں محاورے اور مثل بولے جاتے ہیں۔مثلاً آنکھیں دکھانا منہ بنانا،تین تیرہ ہونا نو دو گیاہ ہونا، باتیں بنانا اور اس طرح کے سیکڑوں محاورے اردو اور ہندی دونوں میں یکساں ہیں۔اسی طرح ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا، ادھ جل گگری چھلکت جائے۔ بن بادل برسات، چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات وغیرہ بے شمار ضرب الامثال اردو ہندی دونوں زبانوں میںمروج ہیں۔ظاہر ہے ہندی سے اردو یا اردو سے ہندی میں ترجمہ کرتے وقت ان محاوروں اور کہاوتوں کو بغیر کسی ترمیم وتنسیخ کے استعمال کیا جائے گا لیکن اردو یا ہندی سے انگریزی میں ترجمہ کرتے وقت اگر ان محاوروں کا نعم البدل وہاں موجود نہیں تو ان کا مناسب اور موزوں مفہوم سے کام چلانا ہوگا۔ تو اس سلسلے میں اصول یہ بنا کہ ہدف زبان میں پہلے تو محاوروں اور ضرب الامثال کے متبادل تلاش کیے جائیں اور اگر ان کے متبادل موجودنہ ہوں تو اس صورت میں ان کا مفہوم بیان کیاجائے۔
ترجمہ نگار کا کمال یہ ہے کہ وہ دوسری زبان کے متن کو اپنی زبان کا متن بنا دے۔ ایسی ہنر مندی اور فنی چابک دستی دکھائے کہ اجنبی تحریر بھی مانوس محسوس ہونے لگے۔ لفظوں کے انتخاب اور ترتیب میں ایسی کاریگری دکھائے کہ پڑھتے وقت کہیں بھی ذہن کو جھٹکا نہ لگے اور پڑھنے والے کا تسلسل نہ ٹوٹے۔
یہ باتیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا اچھی ترجمہ نگاری کے لیے یقیناکار آمد ثابت ہوں گی اور ان سے رہنمائی ملے گی مگر علم و فن کے دائرے کو محدود نہیں کیا جاسکتا۔انسانی سوچ کچھ نہ کچھ علم وفن کے ہر شعبے میں اضافہ کرتی رہتی ہے۔ انفرادی افکار سے موجود دائرہ متاثر ہوتا رہتا ہے اور وقت کے تقاضے اور انسانی سوچ کے تغیرات کے باعث یہ دائرہ گھٹتا بڑھتا رہتا ہے اور ہمیشہ اس بات کی گنجائش بنی رہتی ہے کہ خوب سے خوب تر کی تلاش کے نتائج کو جگہ ملتی رہے۔
——
ترجمہ ہر مترجم اپنے علم،معلومات، لفظیات،ذوق،نقطۂ نظر اور پسند ناپسند کے مطابق کرتا ہے اسی لیے کسی متن کے ایک سے زیادہ تراجم میں فرق پایا جاتا ہے۔مثلاً
فرانسیسی ناول نگار کے مشہور ناول آؤٹ سائڈر کے اردو میں کئی تراجم ملتے ہیں۔اس ناول کے عنوانات تک میں یکسانیت نہیں ہے۔ کسی نے آؤٹ سائڈر کا ترجمہ اجنبی کیا ہے تو کسی نے بیگانہ۔اور کسی نے اردو میں بھی آؤٹ سائڈر ہی رہنے دیا ہے
ممکن ہے ڈاکٹر عبدالحی نے اپنے سامنے انگریزی والا ترجمہ آؤٹ سائڈر ہی رکھا ہو اور اردو میں اس کا ترجمہ بیگانہ کر دیا ہو جبکہ ڈاکٹر بشیر چشتی کے سامنے اصل فرانسیسی ناول (L’Etranger)رہا ہو جس کا معنی اجنبی ہوتا ہے۔ تو علم یا معلومات کے باعث بھی عنوان بدل سکتا ہے یا قائم ہو سکتا ہے۔ اسی طرح عنوان ذوق اور نظریے کے پیشِ نظر بھی رکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بھبانی بھٹا چاریہ نے اپنے ایک انگریزی ناول کا عنوان he who ridees a tiger رکھا جس کا ترجمہ اردو میں رضیہ سجاد ظہیر نے دلدل کیا۔رضیہ آپا انگریزی کے اس عنوان کا اردو ترجمہ’وہ جو شیر کی سواری کرتا ہے‘ کر سکتی تھیں مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔اس کی وجہ غالباً ان کا ذوقِ ادب رہا ہو جو غزل کے استعاراتی واشاراتی ماحول میں پروان چڑھا جہاں بات کو پردے میں رکھ کر کہنے کا چلن ہے۔اس لیے کہ اس ماحول کے پروردہ ادیبوں کے نزدیک حسن کا مزہ دکھانے میں کم چھپانے میں زیادہ ہے۔یہاں میں یہ نکتہ بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ تخلیقِ ادب کی طرح فنِ ترجمہ میں بھی بہت سی نزاکتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔
اب میں یہاں سورہ فاتحہ کے کچھ تراجم پیش کر رہا ہوں۔ان سے اندازہ ہو جائے گا کہ کون سا ترجمہ کیسا ہے اور کسے لوگ زیادہ آسان رواں اور قابلِ فہم سمجھتے ہیں:
’’سب تعریف اللہ کو ہی جو صاحب سارے جہان کا۔بہوت مہربان، نہایت رحم والا۔مالک انصاف کے دن کا۔تہجی کو ہم بندگی کریں اور تہجی سے مدد چاہیں۔ چلا ہم کو راہ سیدھی۔ راہ ان کی جن پر تونیں فضل کیا نہ جن پر غصہ ہوا اور نہ بہکنی والی‘‘3؎
شاہ عبدالقادر محدث دہلوی
’’سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو پالنے والا سارے جہان کا۔بے حد مہربان، نہایت رحم والا۔مالک روزِ جزا کا۔تیری ہی ہم بندگی کرتے ہیں اورتجھی سے مدد چاہتے ہیں۔بتلا ہم کو سیدھی راہ۔راہ ان لوگوں کی جن پر تونے فضل فرمایا۔جن پر نہ تیرا غصہ ہوا اور نہ وہ گمراہ ہوئے۔‘‘4؎
مولانا محمود الحسن
تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے۔نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔روز ِ جزا کا مالک ہے۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا جو معتوب نہیں ہوئے ،جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں۔‘‘5؎
مولانا مودودی
پہلا ترجمہ شاہ عبد القادر محدث دہلوی کا ہے جو اس وقت کیا گیا جب اردو زبان ارتقائی مرحلے میں تھی اور اردو ابھی پوری طرح فروغ نہ پا سکی تھی۔اس لیے اس ترجمے میں وہ روانی نہیں ہے جو بعد کے دو ترجموں میں ہے۔ اس سے یہ نکتہ برآمد ہوتا ہے کہ زبان کی ترقی یافتہ صورت اور زیادہ الفاظ اور ان کے مترادفات کی موجودگی میں بہتر ترجمے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
اردو ترجمہ نگاری کی دشواریاں
(الف) تربیت کی کمی: اردو ترجمہ نگاری کی سب سے بڑی دشواری یہ ہے کہ جو لوگ ترجمہ نگاری سے وابستہ ہیں ان میں سے زیادہ تر لوگ خصوصاًنئی نسل کے ترجمہ نگار تربیت یافتہ نہیں ہیں۔اس لیے وہ بہت سے اصول و ضوابط سے واقف نہیں ہوتے اس لیے وہ اس فن کی باریکیوں کو نہیں سمجھ پاتے۔
(ب) ترجمے کے راستے کی دوسری دشواری یہ ہے کہ اردو میں اصطلاحات کی اچھی اور معقول لغات موجود نہیں ہیں۔اصطلاحات پر مشتمل جو ڈکشنریاں دستیاب ہیں ان میں جدید علوم وفنون سے متعلق انگریزی یا ہندی کی اصطلاحوں کے متبادل اردو اصطلاحیں وضع نہیں کی جا سکی ہیں۔
(ج) جن اداروں کو اصطلاحات سازی کا کام سونپا گیا ہے وہ اس جانب توجہ نہیں کرپاتے اور اگر توجہ کرتے بھی ہیں تو رفتار اتنی دھیمی ہوتی ہے کہ وقت پر اصطلاحیں منظر عام پر نہیں آپاتیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ موزوں اصطلاحیں ترجمہ نگاروں تک نہیں پہنچ پاتیں۔اور ان کی کمی کے باعث مناسب اور موزوں ترجمہ نہیں ہو پاتا۔
(د) اچھی ترجمہ نگاری کی راہ میں ایک دشواری یہ بھی حائل ہے کہ ترجمہ نگارجدید وقدیم علوم سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں۔اگر کوئی قدیم علوم سے واقف ہے تو جدید علوم سے اس کی واقفیت کم ہے اور اگر کوئی علوم جدیدہ سے لیس ہے تو قدیم علوم سے پوری طرح ناواقف ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ترجمہ نگار جب تک دونوں علوم سے بہرہ ور نہیں ہو جاتا اچھا ترجمہ نہیں کر سکتا۔
(ھ) ایک بڑی دشواری یہ بھی ہے کہ زیادہ تر ترجمہ نگار زبانوں کی قواعدی ساخت اور لسانی باریکیوں سے واقف نہیں جبکہ ایک اچھے ترجمہ نگار کے لیے یہ ضروری ہے کہ اصل زبان اور ہدفی زبان دونوں کی ساخت سے اچھی طرح واقف ہو اور ان کی قواعدی باریکیوں کو پوری طرح سمجھتا ہو۔جب تک زبانوں کی ساخت، قواعد کی باریکیوں، صرف و نحو اور ان کے استعمال کے طور طریقوں کی مکمل جانکاری نہیں ہوگی تب تک ترجمہ نگاری لڑکھڑاتی رہے گی۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ زبان کے مختلف اسٹرکچرز پر عبور حاصل کیا جائے اور ان کی Proper مشق کی جائے۔
(و) اردو نثرکی مختلف صورتوں کی شناخت اور ان کی انشا نگاری کے فن سے ناواقفیت: ایک دشواری یہ بھی ہے کہ ہمارے نو مشق اور بعض کہنہ مشق ترجمہ نگار بھی اردو نثر کی مختلف کی شناخت اور ان کی طرز نگارش سے نا بلد ہیں۔مثلا وہ یہ نہیں جانتے کہ عام نثر اور تخلیقی نثر میں کیا فرق ہے۔مرصع نثر اور مقفٰی نثر میں امتیاز کیا ہے۔رنگین نثر کسے کہتے ہیں اور سادہ وعاری نثر کیسی ہوتی ہے۔ کوئی نثر رنگین کیسے بن جاتی ہے اور کوئی عاری یا سادہ نثر کیسے بنتی ہے۔سہولت کے لیے نثر کی مختلف اقسام کی تعریف بیان کی جا رہی ہیں اور ان کی کچھ مثالیں بھی نقل کی جا رہی ہیں:
’’ صورت کے لحاظ سے نثرکی چار قسمیں ہیں: (1) عاری(2) مرجز(3) مسجع اور (4)مقفٰی۔ ان کو لفظی اقسام، نثر بھی کہا جاتا ہے۔
معنی کے اعتبار سے بھی نثر کی چار قسمیں ہیں: (1) دقیق رنگین(2) دقیق سادہ
(3)سلیس رنگین اور (4) سلیس سادہ۔ان کو معنوی اقسام نثر کہتے ہیں۔
لفظی اقسام نثر
عاری، وہ نثر ہے جس میں نہ وزن کی قید ہونہ قافیہ کی،نہ اس میں رعایات ومناسبات، لفظی ہوں۔ اس کو روز مرہ بھی کہتے ہیں۔مثلا اسی زبان کو ریختہ بھی کہتے ہیں کیونکہ مختلف زبانوں نے اسے ریختہ کیا ہے۔جیسے دیوار کو اینٹ،مٹی، چونا،سفیدی وغیرہ ریختہ کرتے ہیں۔یا کہ ریختہ کے معنی ہیں گری پڑی پریشاں چیز۔چونکہ اس میں الفاظ پریشاں جمع ہیں اس لیے اسے ریختہ کہتے ہیں۔ (آب حیات: محمد حسین آزاد)
مرجز: وہ نثر جس میں وزن ہو مگر قافیہ نہ ہو۔مثال: دیوان حقیقت کے ہیں دو مصرع۔ ایک حمد الٰہی ہے، ایک نعت پیمبر ہے۔اس مطلع روشن کے۔ معنی منور سے ہر ذرہ بھی ہے واقف۔سنتے ہیں ازل سے سب۔ یہ مطلع نورانی،پر اس کے سوا ابتک اس ساری غزل میں سے۔ ایک شعر نہیں پایا۔‘‘ (تقریظ بر انتخاب، یادگار: مولفۂ امیر مینائی)
مسجع : وہ نثر جس کے دو فقروں کے تمام الفاظ ایک دوسرے کے ہم وزن اور حروفِ آخر میں بھی موافق ہوں۔مثال :
پونڈا پھبکا اتنا برا کہ جس کی برائی بیان سے باہر ہے
پونڈا میٹھا ایسا بھلا کہ (از دریائے لطافت) کی بھلائی گمان سے بڑھ کر ہے
مقفٰی: وہ نثر جس میں وزن ہو مگر آخری الفاظ میں قافیہ ہو۔مثال : ’’ ایک نوازش نامہ آیا اور دستنبو کے پہنچنے کا مژدہ پایا۔اوس کا جواب یہی کہ کارپردازان، ڈاک کا احسان مانوں اور اپنی محنت کا رائگاں نہ جانا یقین جانوں۔‘‘
غالب : خطوط
معنوی اقسامِ نثر
دقیق رنگین: ایسی عبارت جو الفاظ اور معنی دونوں کے اعتبار سے مشکل ہو اور اس میں صنائع لفظی ومعنوی سے کام لیا گیا ہو۔ مثال :
’’ادب اور تواضع ایک جامہ ہے اس کے قامت احوال پر راست اور خلق و مروت ایک ذخیرہ ہے اس گنجینہ طبع میں بے کم وکاست۔‘‘ (آئینۂ بلاغت: مرزا محمد عسکری )
دقیق سادہ: ’’ایسی عبارت جو الفاظ اور معنی دونوں اعتبار سے مشکل ہو مگراس میں رعایت ومناسبات اور صنائع و بدائع نہ ہوں۔مثال : الفاظ اگراشیا کی محض نمائندگی کریں تو اشیا کے حسن وقبح سے اٹوٹ تعلق کے باعث غلط اور صحیح، مناسب اور نا مناسب، قرین،قیاس اور دور ازکار، جائز اور ناجائز وغیرہ ایسے صفاتی اجزائے بیان کہ تشخیص قدر سے مملو ہوتے ہیں، غیر متعلق مباحث کے دروازے کھول دیتے ہیں۔‘‘ (لسانی تشکیلات: افتخار جالب)
——
سلیس رنگین: ایسی عبارت جو لفظ اور معنی دونوں اعتبار سے سہل ہو مگر اس میں کچھ مناسبت لفظی اور صنائع بدائع استعمال کیے گئے ہوں۔مثال:
’’ بندہ حرارت قلب کے عارضے سے تو حیران و ششدر رہتا ہی تھا کہ اب ضعف دماغ کی بیماری نے اور بھی عاجز اور زچ کر دیا ہے۔ہر دم یہی سونچ اور منصوبہ آتا تھا کہ کدھر جاؤں اور کون ایسی چال چلوں کہ یہ عارضہ بڑھنے نہ پائے۔‘‘
( رقعہ غلام امام شہید)
سلیس سادہ: ایسی عبارت جو لفظ و معنی دونوں اعتبار سے سہل ہو اور اس میں کوئی رعایت لفظی بھی نہ ہو۔ مثال:
’’پیرو مرشد! آپ کو میرے حال کی بھی کچھ خبر ہے۔ضعف نہایت کو پہنچ گیا۔بینائی میں فتور پڑا۔حواس مختل ہوئے۔جہاں تک ہو سکا احباب کی خدمت بجا لایا اوراق، اشعار لیٹے لیٹے دیکھتا تھااور اصلاح دیتا تھا۔اب نہ آنکھ سے اچھی طرح سوجھے اور نہ ہاتھ سے اچھی طرح لکھا جائے۔‘‘6؎
نثرکی مختلف اقسام کی مثالوں کے ساتھ تعریفیں اس لیے پیش کی گئیں کہ مترجم اچھی طرح ان کے فرق کو سمجھ سکیں اورلکھنے کے طور طریقوں کو بھی جان سکیں۔
تقریری یا زبانی ترجمے کے فن کو بڑھا وا دیا جائے اور اس وسیلے کو اور بہتر اور موثر بنانے کی طرف توجہ دی جائے اور کچھ ٹھوس اقدامات بھی کیے جائیں تاکہ ہندستانی نہ صرف یہ کہ علاج معالجے کے سلسلے میں غیر ملکیوں کی مدد کر سکیں بلکہ اپنے معاشی حالات کو بھی سدھار سکیں۔اور ترجمہ کرتے وقت مشہور ماہر ِ لسانیات پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ کی یہ بات یاد رکھی جائے:
’’ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک اچھا ترجمہ وہی سمجھاجائے گا جو معنی کی ٹھیک ٹھیک ترجمانی کرتا ہو،جس میں مترجم کی طرف سے کسی قسم کا اضافہ کیا گیا ہو نہ کچھ حذف کیا گیا ہو۔ترجمہ نگار کو اس بات کا خیال بھی رکھنا چاہیے کہ ترجمہ شدہ مواد یا متن ہدفی زبان کے اعتبار سے فطری معلوم ہو اور بامحاورہ (Idiomatic) نیز اصل زبان کے اثر سے مبرا ہو اور اس میں ترجمہ پن نہ پایا جائے۔‘‘7؎
اردو ترجمہ نگاری میں بہتری کی تدبیریں
1. تربیتی ورک شاپ کا باقاعدہ اہتمام۔
2 .سرکاری اور نیم سرکاری سطح پر سرٹیفیکیٹ اور ڈپلوما کورسیز کا انتظام ۔
3. موجودہ عصر کے تناظر میں مختلف علوم و فنون سے متعلق اصطلاحات سازی کا اہتمام
4 .تحریری اور تقریری مقابلوں کی طرح ترجمہ نگاری کے مقابلے کا اسکولوں،کالجوں اور زبان وادب سے متعلق مختلف اداروں میں کا اہتمام اور معقول انعامات دینے کا اعلان۔
5 .ترجمہ نگاری کے فن پر توسیعی لیکچرز کا اہتمام: نوجوان اردو تر جمہ نگاروں کی ایک ایسی ٹیم کی تشکیل کی جائے جو مختلف موضوعات پر لکھی گئیں اچھی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کر سکیں اور اس کے لیے معقول معاوضے کا پرووزن بھی ہو تاکہ نوجوان مترجم دلچسپی لے سکیں۔
6 .مختلف زبانوں سے اردو میں ترجمہ کی گئی کتابوں کا نئے ترجمہ نگاروں سے Evaluation کرانے کا اہتمام تاکہ ان کی ناقدانہ صلاحیتوں کا امتحان ہو سکے اور خود کو بہتر بنانے کا ذوق وشوق بھی فروغ پا سکے۔
7 .مختلف زبانوں سے اردو میں کیے گئے اچھے تراجم تک نئے مترجموں کی رسائی کا بندوبست کیاجائے تاکہ انھیں آئڈیل ترجمے کے نمونے مل سکیں جن سے ان کی اچھی رہنمائی ہو سکے۔ اس کے لیے مختلف سبجکٹ پر دستیاب نمائندہ کتابوں کی نمائش بھی لگائی جا سکتی ہے۔
تر جمے کی قسمیں
جیسا کہ شروع میں کہا گیا کہ متن کا ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقلی کا نام ترجمہ ہے۔ اس منتقلی کی کئی صورتیں جنھیں ترجمے کی قسمیں کہا جاتا ہے۔ جو رائج قسمیں ہیں اور جن کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں وہ درج ذیل ہیں :
1. آزاد ترجمہ : جیسا کہ نام سے ظاہر ہیکہ اس میں اس بات کی آزادی ہوتی ہے کہ ترجمہ نگار اصل متن کا لفظ بہ لفظ ترجمہ کرنے کے بجائے اس کا مفہوم ہدف یا ہدفی زبان میں بیان کر دے۔ جیسا کہ بھبھانی بھٹا چاریہ کے ناول who he rides a tiger کا آزاد ترجمہ رضیہ سجاد ظہیر نے کیا اور اس حد تک آزاد لی کہ عنوان کا لفظی ترجمہ کرنے کے بجائے اسے بالکل بدل دیا اور ’وہ جو شیر کی سواری کرتا ہے‘کی جگہ عنوان ’دلدل‘ رکھ دیا۔ دلدل رکھنے کے پیچھے منطق یہ ہو سکتی ہے کہ جس طرح شیر پر سوار,ہو جانے والا اتر نہیں سکتا کہ اگر اترا تو شیر پھاڑ، کھائے گا۔ اس لیے وہ شیر کی پیٹھ سے خواہش اور کوشش کے باوجود اتر نہیں سکتا اسی طرح ایک بار دلدل میں اترجانے کے بعد انسان کا اس سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔
2. تخلیقی ترجمہ : کچھ لوگ آزاد ترجمہ کو ہی تخلیقی ترجمہ سمجھتے ہیں جیسا کہ پروفیسر مرزا خلیل بیگ لکھتے ہیں:
’’کسی متن یا تخلیق کا آزاد ترجمہ کرنا نہایت آسان کام ہے۔اس کے مترجم کو یہ آزادی ہوتی ہے کہ وہ جس عبارت کا ترجمہ کر رہا ہے اس کا لفظ بہ لفظ ترجمہ کرنے کے بجائے عام مفہوم بیان کر دے۔ اسے تخلیقی ترجمہ (Creative translation) بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں اصل (Original) زبان کے مواد کا لفظی ترجمہ نہیں کیا جاتا ہے۔‘‘8؎
مگر تخلیقی ترجمہ آزاد ترجمہ سے مختلف ہوتا ہے۔آزاد ترجمے میں یہ ضروری نہیں کہ اس میں تخلیقی خصوصیات موجود ہوں۔
علمی،سائنسی اور اخلاقی نوعیت کی کتابوں کے ترجمے میں معلومات اور ترسیل و ابلاغ پر زور دیا جاتا ہے نہ کہ تخلیقیت پر۔ تخلیقی ترجمہ عام طور پر ان کتابوں کا ہوتا ہے جو خود تخلیقی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ اسی لیے ان اظہار،عام اور سادہ نہیں بلکہ تخلیقی ہوتا ہے۔تخلیقی ترجمے میں متن اور زبان دونوں کے حسن کی منتقلی کا خیال رکھا جاتا ہے اور اس بات کی کوشش ہوتی ہے کہ پڑھنے والے کو وہی لطف و انبساط حاصل ہو جو اصل زبان میں پڑھنے والے کو حاصل ہوتا ہے۔
3. لفظی ترجمہ : انگریزی میں اسے Literal translation کہا جاتا ہے۔ لفظی ترجمہ ترجمے کی وہ قسم ہے جس میں اصل زبان کے متن کا ہدفی زبان میں لفظ بہ لفظ ترجمہ ہوتا ہے۔ لفظی ترجمہ آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ آسان یوں کہ اس میں متن کے مجموعی معنے پر توجہ نہیں دی جاتی یا بہت کم دی جاتی ہے ۔صرف لفظ کے متبادل پر نظر رہتی۔متن کی روح تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی جاتی اور نہ ہی اس کی ذمے داری سمجھی جاتی ہے۔اور مشکل اس لیے ایک زبان کا متبادل لفظ ھونڈنا آسان نہیں۔صحیح مناسب اور موزوں لفظ کو تلاش کرنے میں کافی وقت لگتاہے اور اس تلاش کی کریا میں پتلیاں بھی دکھتی ہیں۔ لفظی ترجمے میں عموماً ترجمہ نگار کو ترسیل کی ناکامی کے المیے کا شکار ہونا,پڑتاہے متبادل لفظ مل بھی جاتے ہیں تب بھی لسانی ساخت اور الفاظ کی ترتیب کا مسئلہ اٹھتا رہتا ہے۔
4 .ادبی ترجمہ:کسی ایک زبان کے ادب پارے کو دوسری زبان میں تمام تر ادبی محسن ومعائب کے ساتھ منتقل کرنے کا نام ادبی ترجمہ ہے۔جسے انگریزی میں لٹریری ٹرانسلیشن کہا جاتا ہے۔ ادبی ترجمے کی دو صورتیں ہیں ایک نثری صورت اور دوسری شعری صورت ۔
ادبی ترجمے کی یہ دونوں صورتیں مشکل ہیں اس لیے کہ ان میں فن پاروں کی روح تک رسائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ادیب و شاعر کے مزاج، اس کے اپروچ اورعندیے تک بھی پہنچنا ہوتا ہے اور پھرمعنی و مفہوم کو مجروح کیے بغیر ایک قالب سے نکال کر دوسرے قالب میں ڈھالنا یوتا ہے۔وہ بھی اس طرح کے تشبیہ واستعارے کی لہریں لہراتی رہیں۔علامتیں ڈوبیں نہیں۔ صنعتیں بھی سطح تخلیق،پر رقص،کرتی رہیں آہنگ رکے نہیں ,رنگ بجھے نہیں۔
5. ترجمے کی ایک قسم اور بھی ہے جس کی نوعیت تحریری نہیں بلکہ تقریری ہے۔ ترجمے کی اس تقریری یا زبانی،صورت کی بھی ہر زمانے میں قدروقیمت بنی رہی۔ اسی کے سہارے بادشاہوں، راجاؤں، نوابوں، رئیسوں نے دور دراز کے ملکوں اور اجنبی فضاؤں میں بھی عیش کیا ۔بے زبان ہو کر بھی زبان کا مزہ لیتے رہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری وساری ہے۔ آج تو یہ سہولت خواص تو خواص عوام کو بھی حاصل ہو گئی ہے اور ہمارے ملک میں تو کسب معاش کا ایک کاگر وسیلہ بھی بن چکا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تقریری یا زبانی ترجمے کے فن کو کو بڑھا وا دیا جائے اور اس وسیلے کو اور بہتر اور موثر بنانے کی طرف توجہ دی جائے اور کچھ ٹھوس اقدامات بھی کیے جائیں تاکہ ہندستانی نہ صرف یہ کہ علاج معالجے کے سلسلے میں غیر ملکیوں کی مدد کر سکیں بلکہ اپنے معاشی حالات کو بھی سدھار سکیں۔
حواشی
1. کلیاتِ اقبال اردو: علامہ اقبال،حصہ بال ِ جبرئیل، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی، 2000 ص 3
.2 فصاحت و بلاغت: شمس الرحمن فاروقی، اصطلاحاتِ نقد وادب مرتبہ ڈاکٹر عمر فاروق، بھارت آفسیٹ دہلی،اشاعت اول 2004 ص 210
3. ترجمہ سورہ فاتحہ : شاہ عبدالقادر محدث دہلوی
4. سورۂ فاتحہ : ترجمہ مولانا محمودالحسن القرآن الکریم،قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس، مدینہ منورہ ص2
5. فاتحہ: ترجمہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمہ ٔقرآن مجید،مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی، بار چہارم 1982، ص 19
6. ترجمہ نگاری، مبادیاتِ لسانیات: پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ، پہلا اڈیشن2025ص 99۔ .100
7 اقسامِ نثر: انوار رضوی، درس ِ بلاغت،تالیف: ترقی اردو بیورو،نئی دہلی،پہلا اڈیشن 1981 ص ا57 تا ا.62
8. مبادیاتِ لسانیات: پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی پہلا اڈیشن 2025 ص101تا102


Prof. Ghazanfar
Bushra, Lane A-12, Hamza Colony
New Sir Syed Nagar Ext.
Aligarh – 202002 (UP)
Mob.: 7678436704,
ghazanfarjmi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ولی دکنی مضمون نگار:۔ پروفیسر ابن کنول

ولی دکنی ابن کنول کبھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ کسی زبان، کسی مذہب یا کسی تہذیب کی ابتدا ایک خاص مقام یا علاقہ میں ہوتی ہے، لیکن بعض وجوہات

تحریک آزادی میں ریاست رامپور کا کردار: رضوان لطیف خاں

  اردو شاعری میں قومیت، حب الوطنی اور سیاسی حقوق کا احساس اسی وقت سے بیدار ہونے لگا جب 1857 کے بعد ہندوستان کے سیاسی اور معاشی زوال کی تصدیق

ماجد الٰہ آبادی: شخصیت و شاعری مضمون نگار:۔ ندیم احمد

ماجد الٰہ آبادی: شخصیت و شاعری ندیم احمد ماجدالٰہ آبادی کااصل نام سید ماجد علی تھا۔ ان کی پیدائش 1888 میں الٰہ آباد میں ہوئی۔ ان کے والدمحترم سید صاحب