اساسِ ثلاثہ :فورٹ ولیم کالج، دہلی کالج اور علی گڑھ کالج،مضمون نگار: ابوبکرعباد

September 7, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،ستمبر2026:

تصنیف و تالیف کی اصطلاح میں انیسویں صدی کونئے علوم کی ایک مبسوط کتاب سے تعبیر کیا جائے تو فورٹ ولیم کالج اس کتاب کا مقدمہ قرار پائے گا،دہلی کالج اصل کتاب اور علی گڑھ تحریک اس کا ضمیمہ۔فورٹ ولیم کالج کے ساتھ ان دونوں کا ذکر یوں ضروری ہے ، کہ کسی حد تک یہ ایک دوسرے سے منسلک اور کافی حد تک ایک دوسرے کی توسیع ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تحریکیں جو تعلیمی اداروں کے قیام کے بطور شروع ہوئیں تھیں ، ان میں سیاسی مصلحت یا تعلیمی ضرورت تو بالکل سطح پر نمایاں تھی لیکن انگریزی حکومت کے استحکام کا مشن رگوں میں خون کی مانند رواں اور پوشیدہ تھا۔ اس کا ثبوت ہے فورٹ ولیم کالج سے شائع ہونے والی کتابوں کے دیباچے، دہلی کالج کے بعض اساتذہ کی تصانیف اور ان کے خیالات اور سرسید کا زبان کے ذریعے سماجی فلاح وترقی کا تصور۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ فورٹ ولیم کالج کا قیام اردو یا دیسی زبانوں کی ترویج وترقی،یا اہل وطن کی علمی بہبوداور ان کے ادب کو پُر ثروت بنانے کے لیے نہیں بلکہ غیر ملکی حاکموں کو اشارے کنایوں کی زبان سے بچانے اور ملکی رعایا کی بات چیت اور ان کے بود وباش سے واقف کرانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ مگر اس کالج کے قیام کے دوران غیر ارادی طور پردو باتیں ایسی پیش آئیں جو کالج کے بنیادی مقاصد اور انگریزوں کی منشا سے کسی طور مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ پہلی تو یہ کہ اس کالج کی وجہ سے اردو کاجمود ٹوٹا، زبان کو فروغ ملااور تخلیقی نثر یا ادب کی راہ ہموار ہوئی۔ دوسری یہ کہ فورٹ ولیم کالج کے طلبہ اوراس کے ملازمین مشرقی علوم کی طرف راغب ہوئے، ان کے حصول پر توجہ دینے لگے اور ان سے متاثر بھی ہوئے۔ سی، ای، تریولیان کی کتاب ’’باشندگان ہند کی تعلیم‘‘ سے یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
’’لارڈ ویزلی کے کالج واقع فورٹ ولیم کے اثر سے جو کمپنی کے محررو ں کی تعلیم کے لیے قائم ہوا تھا، سول سروس کے ارکان کے نزدیک واحد معیارِ لیاقت مشرقی علوم کا جاننا قرار پا گیا تھا‘‘۔
(بحوالہ اردوادب کی تحریکیں، انور سدید، ص 273)
ظاہر ہے یہ حیرت انگیز انکشاف کہ نوجوان انگریزوں نے مشرقی علوم میں شدت سے دلچسپی لینی شروع کردی ہے، اور یوں کمپنی کے مفاد پر مشرقی علوم کو فروغ حاصل ہورہا ہے، اہل اقتدارکی سخت مایوسی کا سبب بنا۔ جب کہ جی۔اینڈرسن کے مطابق ’’عیسائی مبلغین ملک کو انگریزی زبان اور مغربی علوم سے واقف کرانے میں مصروف تھے‘‘۔ ان مبلغین کی کوششوں کے حوالے سے نوجوان مبلغ الیگزنڈر ڈف (Alexander Duff) اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ ’’انگریزی زبان کو موثر آلے کے طور پر استعمال کرنے اور تھوڑی سی تربیت کے نتیجے میں ہندوستان کے نوجوان بہت جلد عیسائیت کی آغوش میں آجائیں گے۔‘‘
(Shan Muhammad, Sir Syed Ahmad Khan, P13, Lahore, 1976)
امیدوں کی شکست کی اس صورت حال میں تجارت کے وسیلے سے ملک، اورملک کے بعد یہاں کے مذاہب پر فتح پانے کا خواب دیکھنے والی قوم یہ کیسے برداشت کرسکتی تھی کہ ان کے نوجوانوں کو محکوم کی زبان سکھا کر حاکموں کی خوبو سے آشنا اور ان کے اندر احساس تفاخر پیدا کرنے والا ادارہ ہی انھیں محکوموں کے علوم کا گرویدہ بنائے۔ نتیجتاً متعصب انگریز سیاستدانوں نے فورٹ ولیم کالج کی سخت مخالفت کی اوربالآخر یہ ادارہ زبان وادب کے ایک دور کو متحرک اور متاثر کرنے کے بعد مختلف بہانوں کے ساتھ ختم کردیاگیا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی نے ملک پر قابض ہونے کے روزِ اول سے ہی دومقصدوں کو بنیادی اہمیت دی تھی۔ پہلا :منفعت بخش حکمرانی کے لیے ہندوستانی معاشرے اور زبان کی تفہیم —جسے فورٹ ولیم کالج نے کافی حد تک پورا کردیا تھا اور دوسرا مقصد ہندوستانی رعایاکو انگریزی حکومت کا ہمنوا بنانے کے لیے مغربی علوم کا تعارف اور انگریزی زبان اور تہذیب کی ترویج و اشاعت۔ سو اس مقصد کی تکمیل کے لیے برطانوی سرکار کوایک نئی تحریک اور نئے ادارے کی ضرورت پیش آئی، جو 1825 میں دہلی کالج کے قیام کی صورت میں پوری ہوئی۔ مغربی علوم کی اشاعت کا یہ ادارہ 1793 سے چلنے والے مدرسے غازی الدین حیدرکی اس عمارت میں قائم کیا گیاجس میں حفظ قران کے ساتھ ساتھ عربی، فارسی اور فقہ کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس کالج کے آغاز کے تین سال بعد سر چارلس مٹکاف کی تجویز پر اس میں ایک انگریزی کا شعبہ بھی الگ سے قائم کردیا گیا،جو غالباً ہندوستان میں انگریزی تعلیم کا پہلا باضابطہ شعبہ تھا، جسے ہندومسلم علما شک اور خوف کی نگاہ سے دیکھتے، اوربعض محبین وطن اسے عیسائیت کی تبلیغ کے قانونی طریقۂ کار اور سرکاری ادارے سے تعبیر کرتے تھے۔
فورٹ ولیم کالج کے برعکس دہلی کالج کا مقصد انگریزوں کو ہندوستانی زبانیں سکھانا نہیں، بلکہ ہندوستانیوں کو مغربی علوم سے بہرہ مند کرنا تھا۔سو یہاں فورٹ ولیم کالج کی طرح خیالی طوطا مینا اڑانے اور دیو پریوں کے قصے سنانے والی کتابوں کی اشاعت کے بجائے حقیقی اور کار آمد فنون کی تصنیف کوبنیادی حیثیت حاصل ہوئی، اور داستانوں اور ڈراموں کی تدریس کے مقابلے میں ریاضی اور دوسرے سائنسی علوم کی تحصیل کو کلیدی حیثیت دی گئی۔ چنانچہ یہاں مغربی ، بالخصوص سائنسی علوم کو رائج کرنے اور انھیں مقبول عام بنانے کے لیے دیسی زبان کو بطور میڈیم اختیار کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے 1833 میں دہلی ورناکُلر ٹرانسلیشن سوسائٹی کا قیام عمل میں آیا، جس کے تحت سائنسی علوم مثلاً ریاضی، کیمیا، طبیعیات، نباتیات، مقناطیس، جراحی، حرکیات وسکونیات، طب، حرارت اور علم برق وغیرہ کی متعدد کتابیں اردو میں ترجمہ کی گئیں۔ ہندوستان میں سائنسی علوم کے ترجمے اور اس کی اشاعت کے حوالے سے اتنے وسیع پیمانے پر یہ پہلی، باضابطہ، کارآمد اور کامیاب کوشش تھی۔ اس سوسائٹی نے سائنسی علوم کے علاوہ دوسرے علوم وفنون کی بھی متعدد کتابیں تالیف اور ترجمہ کیں۔ جن میں تاریخ، جغرافیہ، اصول قانون، فلسفہ، معاشیات، مذہبیات اور ادبیات وغیرہ شامل ہیں۔
ظاہر ہے ان تراجم کے ذریعے اردو کے ذخیرۂ الفاظ میں بہت سی اصطلاحوں اور نئے لفظوں کی شمولیت نے نہ صرف اردو زبان کی بے بضاعتی، کم مائیگی اور علمی غرابت کو دور کیا، بلکہ اسے تعلیمی، سائنسی اور پیشہ ورانہ زبان کے اس مقام تک پہنچایا جس میں کسی بھی نوع کے مضامین کو اداکرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ بعد میں عثمانیہ یونیورسٹی میں سائنسی مضامین کو اردوکے ذریعے پڑھانے کا جو کامیاب تجربہ کیا گیا اس کا سہرا بھی ایک طرح سے دہلی کالج کو جاتا ہے، کہ عثمانیہ یونیورسٹی نے اس کی ہی اقتدا کی تھی۔
دہلی کالج محض تعلیمی نصاب کی تیاری، کتابوں کی تالیف وترجمے کے کام اور درس وتدریس تک ہی محدود نہ تھا بلکہ اس کا دائرہ کار زندگی کے مختلف شعبوں اور علوم کی نشرواشاعت کے متعدد پہلوؤں کو محیط تھا۔ کالج کے اساتذہ اور ان کی تصانیف کے علاوہ کالج کا رسالہ ’’قران السعدین‘‘ بھی اس مہم میں شامل تھا۔ اس رسالے میں معاشرتی مسائل، سائنسی علوم اور ادب وحکمت کے موضوعات پر آزادی کے ساتھ بحث ونظر کا سلسلہ جاری تھا،اوردوسرے رسائل اس کی اتباع کرنے لگے تھے۔ اسی کالج کے ہر دلعزیز استاذ ماسٹر رام چندر کے دو رسالے ’’رسالہ فوائد الناظرین‘‘ اور ’’خیر خواہ ہند‘‘ (جسے بعد میں ’’محب وطن‘‘ کا نام دیا گیا) بھی علمی موضوعات پر سائنسی انداز میں مضامین لکھنے کی فضا تیار کررہے تھے۔ان رسائل میں طبیعیات، ہیئت اور اخلاقیات کے موضوع پر مضامین شائع ہوتے تھے، اور مختلف مسائل کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے اور سائنسی نقطۂ نظر سے سمجھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ کہنا چاہیے کہ ان رسائل نے اردو نثر کو سائنسی صداقت اور عقلیت پسندی کی تحریک سے روشناس اور ادبی صحافت کو سائنسی طرز استدلال سے متعارف کرایا۔ اس کالج کے دواساتذہ ماسٹر رام چندر اور منشی ذکاء اللہ نے تو باضابطہ سائنسی علوم پر کتابیں تحریر کیں۔ ان کے علاوہ منشی ذکاء اللہ، مولانا محمد حسین آزاد اور ڈپٹی نذیر احمد نے علم کے دوسرے شعبوں مثلاً تاریخ، تنقید، غیر افسانوی ادب اور فکشن میں سائنسی طریقۂ کار کو اپنایا اورعقلیت پسندی کی طرح ڈالی۔
دہلی کالج نے طلبہ کی تعلیمی صلاحیت کو پروان چڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت سازی میں بھی اہم کردارنبھایا۔ یہاں کے ماحول نے طلبہ میں جس طور آزادیِ رائے کے اظہار کاحوصلہ پیدا کیا، اسی طرح اعتراضات اور اختلافات کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کے انداز بھی سکھائے۔ انھیں اجتہادی بصیرت سے آشنا کیا، اور حالات کے رخ کو سمجھنے کی فہم بخشی۔ اس جگہ ڈپٹی نذیر احمد کا ، کالج سے بننے والی اپنی شخصیت کا یہ اعتراف دلچسپ اور برمحل ہوگا۔اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
’’اگر میں (دہلی) کالج میں نہ پڑھا ہوتا، تو بتائوں کیا ہوتا۔ مولوی ہوتا، تنگ خیال، متعصب، اکھل کھرا، اپنے نفس کے احتساب سے فارغ، دوسروں کے عیوب کا متجسس، مسلمانوں کا نادان دوست، تقاضائے وقت کی طرف سے اندھا بہرا، صم بکم عمی فہم لا یعقلون، مااصابنی من حسنۃ فی الدین او فی الدنیا فمن الکالج‘‘۔ (بحوالہ مرحوم دہلی کالج۔ص183)
دہلی کالج کی حیثیت محض تعلیمی ادارے کی نہیں، بلکہ زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کرنے والی ایک پُر قوت فکری تحریک کی تھی۔ جس نے قدامت اور توہمات کی تاریکی کو جدید سائنسی علوم کی روشنی سے منور کیا، عقلیت پسندی کو عام کیا، آزادیِ رائے کو فروغ دیا، رواداری، برداشت اور ٹالریشن کا سبق سکھایا اور اسکالرس اور دانشوروں کی ایک پوری کھیپ تیار کرکے ملک میں نشاۃثانیہ کی راہ ہموار کی۔
یہ کالج ابھی اپنے عروج کی منزل میں داخل ہی ہوا تھا کہ 1857کی پہلی جنگ آزادی قیامت صغریٰ بن کر نازل ہوئی۔ اس ہنگامے میں کالج کے ساتھ بھی وہی سب کچھ پیش آیا جو دہلی کے مکینوں، ان کے مکانوں اور مال و اسباب کے ساتھ پیش آیا۔ لائبریری لوٹ لی گئی، سائنس کی تجربہ گاہ برباد کر دی گئی،عمارت پر کسی اور کا قبضہ ہوگیا اور اس کے کئی اساتذہ قتل کردیے گئے۔
لیکن فکر کبھی مرتی نہیں ، تحریک زندہ رہتی ہے، ثمر آور درخت کا بیج ضائع نہیں ہوتا۔دہلی کالج کے دو پرنسپل ڈاکٹر اسپرنگر اور ڈاکٹر کارگل کے ہم خیال، اور کالج کے دواساتذہ مولوی مملوک علی اور اما م بخش صہبائی کی صحبت کے فیض یافتہ سرسید احمد خاں نے یہ عزم مصمم کیا کہ وہ اس اثاثے کو کسی طوربرباد ہونے سے بچائیں گے، سو انھوں نے دہلی کالج کی علمی ، ادبی اور سائنسی امانت کو روحانیت کے اضافے کے ساتھ بحفاظت ملک وقوم کے سپرد کیا اور 1863 میں سائنٹفک سوسائٹی قائم کی۔چونکہ سر سید کے نزدیک مسلمانوں کی ترقی کی ایک ہی صورت تھی اور وہ یہ کہ حکومت برطانیہ کے زیر تسلط مسلم معاشرے کی بہتری کی تدبیریں کی جائیں۔ سرسید ٹیپو سلطان اور سید احمد بریلوی کی ناکامی دیکھ چکے تھے اور کسی حد تک اس کے اسباب کا مطالعہ بھی کرچکے تھے۔ چنانچہ سرسید نے اس حوالے سے مسلمانوں کی اصلاح وترقی کا جو خاکہ ترتیب دیا وہ اس طرح تھا:
1مسلمانوں اور انگریزوں کے درمیان جو مذہبی اور سیاسی اختلافات ہیں انھیں دور کرکے مفاہمت کی صورت پیدا کی جائے تاکہ دونوں قوموں کے درمیان بہتر تعلقات پیدا ہوسکیں۔
2مسلمانوں کو انگریزی زبان سیکھنے اور مغربی علوم کے حصول کی جانب راغب کیا جائے تاکہ وہ انتظامی امور میں انگریزوں کے شریک کار بن سکیں۔
3 انگریزی کے ساتھ اردوکو ایک معاون زبان کا درجہ دیا جائے اور اس کے لیے جدید علوم اور سائنس کی کتابوں کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا جائے۔ لہٰذا سر سید نے اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے سائنٹفک سوسائٹی قائم کی۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں انگریزی سے اردو میں تقریباً 40 کتابیں ترجمہ کروائی گئیں جن میں تاریخ، سوانح، جغرافیہ، سیاسیات اور معاشیات کو دوسرے مضامین پر فوقیت حاصل ہے۔لیکن دستیاب کتابوں کی تعداد محض پندرہ ہے۔سوسائٹی کی کمیٹی میں جن کتابوں کو اردو زبان میں ڈھالنے کی فہرست بنائی گئی تھی ان میں سے چند کتابوں کے نام یہ ہیں:رسالہ بھاپ کے کلوں کے بیان میں، رسالہ جیالوجی، رسالہ علم جغرافیہ، رسالہ علم فلاحت (یعنی جدید کاشتکاری) رسالہ علم طبیعات، رسالہ ہیئت اور علم جہاز رانی، رسالہ درباب سڑک و ریل، رسالہ علم برقی، رسالہ در باب استعمال بجلی، رسالہ علم مدن اور رسالہ حقوق انسانی وغیرہ۔ اس سوسائٹی نے صرف سائنسی اور سماجی علوم کے اردو ترجمے ہی نہیں کروائے بلکہ سر سیدنے یورپ سے چند سائنسدانوں کو بلوایااور سائنسی آلات بھی منگوائے۔ یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہندوستان میں سوڈا واٹر کی بوتل اور روئی دھننے کی مشین کا استعمال اور فوٹو گرافی کا کام سب سے پہلے اسی سوسائٹی نے شروع کیا اور یہ بھی کہ ذراعت کے جدیدآلات کے استعمال اور عملی ذراعت کی ٹریننگ کے لیے علی گڑھ میں ایک خطہ ارض بھی مخصوص کیا گیا تھا۔
اعتراف کرنا چاہیے اردومیں علمی کتابوں کی تصنیف و تراجم کے اداروں میں فورٹ ولیم کالج کو اہمیت نہ سہی اولیت ضرور حاصل ہے۔ یوں کہ یہاں ترجمے کے نام پر بس چند لغات کی تدوین اور کچھ کہانیوں اور ڈراموں کے ترجمے کیے گئے اور ایک آدھ تاریخ کی کتاب۔ یہ تمام ترجمے عربی، فارسی اور سنسکرت سے کیے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فورٹ ولیم کالج میں کسی بھی انگریزی کتاب کا اردومیں ترجمہ نہیں ہوا، بلکہ یہ کہیے کہ یہاں سوائے قصہ کہاینوں کے کسی بھی علمی کتاب کا ترجمہ نہیں کیا گیا تو غلط نہ ہوگا۔ جب کہ اسی عہد میں اودھ کے نوابین نے بھی سماجی اور سائنسی علوم کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ انگریز مورخوں نے ان کے کارناموں کو پوشیدہ رکھنے اور انھیں (بطور خاص واجد علی شاہ کو) بدنام کرنے میں زیادہ دلچسپی لی ۔ بقول گارساں دتاسی:
’’واجد علی شاہ اور ان کی حکومت کو بدنام کرکے اودھ پر غاصبانہ قبضہ کرنے کے ناپاک مقصد سے انگریزوں اور ان کے ضمیر فروش ہندوستانی پٹھوؤں نے پروپیگنڈہ کر کے وہ مہم چلائی کہ واجد علی شاہ کا نام عیش کوشی اور نفس پرستی کا مترادف بن گیا۔ کون تصور کرسکتا ہے کہ اس بدنام بادشاہ کو اپنی ہوسناکیوں اور عشق بازیوں سے کتابیں لکھنے کی فرصت ملی ہوگی۔ پھر کتابیں بھی دو چار نہیں، دس بارہ نہیں، سو سے زیادہ۔‘‘
(خطبات گارساں دتاسی، خطبہ ہفتم،بحوالہ اردو میں سائنسی و تکنیکی ادب، ڈاکٹر محمد شکیل خاں، دہلی، 1988، ص،70)
یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ سائنسی اور سماجی علوم کو اردو کی کتابی شکل میں لانے کا فریضہ ورنا کلر ٹرانسلیشن سوسائٹی اور سائنٹفک سوسائٹی سے بھی زیادہ منظم، منضبط اور موثر طریقے سے جامعہ عثمانیہ ، حیدرآباد کے دارالترجمہ میں ادا کیا گیا۔جامعہ عثمانیہ سے ایک برس پہلے دارالترجمہ (1917) کا قیام عمل میں آچکاتھا۔ یہاں کے اولین مترجمین میں قاضی تلمذ حسین،چودھری برکت علی، نظم طباطبائی ،مولوی عبدالحلیم شرر مرزا محمد ہادی رسو کے نام قابل ذکر ہیں، جنھوں نے انگریزی، عربی اور فرانسیسی زبانوں سے تراجم کیے۔ ادارے کے پہلے ناظم بابائے اردو مولوی عبدالحق تھے ۔ چونکہ جامعہ عثمانیہ نے ذریعہ تعلیم اردو کو قرار دیاتھا اس لیے یہاں سے آرٹس، سائنس، سوشل سائنسز، انجینرنگ اور میڈیسن وغیرہ کی ایک روایت کے مطابق 395 اور بعض کے مطابق تقریباً 500 کتابیں شائع کی گئیں، جن میں سائنسی اور سماجی علوم پر خاص طور سے توجہ مرکوز رکھی گئی۔
حاصل کلام کے طور پر یہ کہنے کی اجازت دیجیے کہ فورٹ ولیم کالج ، دہلی کالج ، دارالترجمہ حیدرآباد اور سرسید کی سائنٹفک سوسائٹی کی برکت سے ہی آج دارالمصنفین اعظم گڑھ، ہندوستانی اکیڈمی الٰہ آباد، اردو اکیڈمی جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، این، سی، ای، آر، ٹی، نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا، ساہتیہ اکیڈمی، ترقی اردوبوڈاور بعد ازاں قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان نئی دہلی،انجمن ترقی اردو ہند وغیرہ جیسے ادارے وجود میں آئے۔ تسلیم یہ بھی کرنا چاہیے کہ یہ سب وہ ادارے ہیں جن کے تصوراتی بنیاد کا سہرا فورٹ ولیم کالج کو جاتا ہے ،اور یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ان اداروں کی وجہ سے ہندوستان کی ظاہری حالت اور ہندوستانیوں کی ذ ہنی کیفیت میں اہم تبدیلی رونما ہوئی ، کہ اگریہ ادارے نہ ہوتے تواردو میں وسیع الظرفی اور کشادہ قلبی کے بجائے راسخ العقیدگی اور تنگ نظری کا بول بالا ہوتا، اور تسخیر کائنات کے علوم وفنون کی جگہ مکتبی علم اور قدیم نصابی تعلیم کی تنگنائے شاید ہمارا مقدر ہوتی۔

Abu Bakar Abbad
Department of Urdu
University of Delhi-110007
Mob. 9810532735
E-mail: bakarabbad@yahoo.co.in

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

تحریک آزادی کا علمی، ادبی اور صحافتی مرکز،مضمون نگار: محمد شاہد خان

اردو دنیا،اگست2026: الٰہ آباد (موجودہ پریاگ راج) برِّصغیر کے ان معدودے چند شہروں میں شمار ہوتا ہے جنھیں قدرت نے جغرافیائی اہمیت، تاریخی عظمت، مذہبی تقدس، علمی روایت اور سیاسی

بھوشن،مضمون نگار:منشی پریم چند

اردو دنیا، جولائی 2026: بھوشن ہندی شاعری کے خاقانی ہیں۔ انھوں نے اپنا سارا کمال مدح سرائی میں صرف کیا ۔ اس رنگ کے سوا انھوں نے کسی دوسرے رنگ

امیر خسرو قوالی اور قو می یکجہتی کے علمبر دار ،مضمون نگار: آمینہ بیگم

اردو دنیا، اگست 2026: تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان زمانۂ قدیم ہی سے علم و فن کا گہوارہ رہا ہے۔ مسلم حکمرانوں نے ہمیشہ ماہرینِ فن