اردو دنیا،اگست 2026:
اردو زبان اور سائنسی تحریر کا تاریخی پس منظر
عام طور پر معترضین کی جانب سے یہ تاثر پیش کیا جاتا ہے کہ اردو صرف شاعری، داستانوں، حسن و عشق کے تذکروں اور جذباتی اظہار کی زبان ہے۔ علمی و سائنسی تاریخ اس مفروضے کی یکسر تردید کرتی ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں اردو سائنسی تحریر کی روایت نہ صرف قدیم ہے بلکہ انتہائی مستحکم اور ثروت مند بھی رہی ہے۔ جب جدید مغربی علوم اور سائنسی ایجادات ہندوستان میں متعارف ہوئیں، تو اردو نے ان کا استقبال محض ایک مادری زبان کے طور پر نہیں، بلکہ ایک علمی و فکری واسطے (Academic Medium) کے طور پر کیا۔
برصغیر کی علمی تاریخ گواہ ہے کہ طب، ریاضی، فلکیات، کیمیا، طبیعیات، حیاتیات اور جدید ٹیکنالوجی کے پیچیدہ میدانوں میں اردو کے ذریعے ایک وسیع علمی سرمایہ تیار کیا گیا۔ برصغیر کے بدلتے ہوئے علمی منظرنامے میں اردو نے ادبی اظہار کی حدود کو توڑ کر خود کو سائنسی اور عقلی مباحث کے سانچے میں ڈھالا، جس کے نتیجے میں ایک ایسے منفرد سائنسی ادب (Scientific Literature) نے جنم لیا جس نے عوام الناس میں سائنسی شعور بیدار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
دکن اور اورنگ آباد کا تاریخی و ادبی تسلسل
سرزمینِ اورنگ آباد۔ دکن (مہاراشٹر) کو اردو ادب کا گہوارہ اور اس کی نشوونما کا ابتدائی مرکز ہونے کا تاریخی شرف حاصل ہے۔ اورنگ آباد، دکنی اردو کی کلاسیکی روایت کا ایک درخشاں ستون رہا ہے۔ مغلیہ دور حکومت، خصوصاً محی الدین اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں یہ شہر دکن کا دارالخلافہ بننے کے بعد علم و دانش، صوفیانہ افکار اور ادبی سرگرمیوں کا بڑا مرکز بن کر ابھرا۔
اس شہر کی مٹی نے ولی دکنی (ولی اورنگ آبادی، 1667 تا 1707) اور سراج اورنگ آبادی (سید شاہ سراج الدین، 1712 تا 1763) جیسے یگانۂ روزگار شعرا پیدا کیے، جنھوں نے دکنی اسلوب کو شمالی ہند کی زبان سے جوڑنے میں پل کا کردار ادا کیا۔ صوفیانہ اور غنائی شاعری کے اس مرکز نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے فکری دھارے کو بدلا۔ ماضی سے لے کر حال تک، اورنگ آباد نے مسلسل ایسے ادیب، نقاد، مترجم اور ماہرینِ تعلیم پیدا کیے جنھوں نے عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کی۔
اردو سائنسی شعور کا قومی ماحولیاتی نظام (Ecosystem)
اردو سائنس کے فروغ میں اورنگ آباد کا کردار محض مقامی یا علاقائی اہمیت کا حامل نہیں ہے، بلکہ قومی سطح پر اس کی حیثیت ایک مثالی نمونے (Role Model) کی ہے۔ اس شہر نے سائنسی علوم کو مادری زبان میں منتقل کرنے اور اسے عام فہم بنا کر معاشرے کے آخری فرد تک پہنچانے کے لیے ایک مکمل سائنسی ’ماحولیاتی نظام‘ (Ecosystem) وضع کیا۔
اس نظام کے بنیادی ستونوں میں تعلیمی ادارے، مطبوعاتی ذرائع، ریڈیو، اخبارات اور وہ مخلص قلمکار شامل ہیں جنھوں نے سائنس اور اردو کے درمیان حائل خلیج کو پاٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جہاں ریڈیو نے سائنسی آواز کو گھر گھر پہنچایا، وہیں اخبارات نے اسے الفاظ دیے، تعلیمی اداروں نے اسے ذہنوں میں اتارا اور قلمکاروں نے اسے کتابی شکل میں محفوظ کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج مرہٹواڑہ کا یہ خطہ اردو سائنسی ادب کا ایک اہم قلعہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
تعلیمی اداروں کاکلیدی کرداراور تحریکِ عثمانیہ کے اثرات
بیسویں صدی کے اوائل میں حیدرآباد دکن کی جامعہ عثمانیہ (قائم شدہ 1918) نے اردو سائنسی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ یہ دنیا کی پہلی ایسی یونیورسٹی تھی جہاں طب (Medical)، انجینئرنگ اور دیگر اعلیٰ سائنسی علوم کی تدریس کا واحد ذریعہ اردو زبان تھا۔ جامعہ عثمانیہ کے ’دارالترجمہ‘ نے سائنسی اصطلاحات (Scientific Termonologies) کا ایک ایسا مستحکم نظام وضع کیا جس نے اردو کو جدید ترین علوم کے ہمنوا بنا دیا۔ اورنگ آباد کے بیشتر قلمکاروں اور اساتذہ کے علمی سوتے اسی عثمانیہ تحریک سے پھوٹے تھے۔
اورنگ آباد کا ’عثمانیہ کالج‘ حیدرآباد ریاست کے اسی تعلیمی مشن کا ایک اہم مرکز تھا، جہاں بابائے اردو مولوی عبد الحق نے 1920 اور 1930 کے عشروں میں بحیثیت پرنسپل خدمات انجام دیں۔ انھوں نے اس ادارے کو جدید علوم بالخصوص سائنس کی تدریس اور تراجم کا مرکز بنا دیا۔
اورنگ آباد کے تعلیمی اداروں نے اس روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے بارہویں جماعت (Higher Secondary) تک سائنس کے تمام بنیادی مضامین— طبیعیات (Physics)، کیمیا (Chemistry)، حیاتیات (Biology) اور ریاضی (Mathematics)—کو اردو میڈیم میں پڑھانے کا ایک نہایت مربوط اور کامیاب نظام قائم کیا۔ یہاں کے اساتذہ اور طلبہ نے یہ عملی طور پر ثابت کیا کہ اردو زبان کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ بھی میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر پیشہ ورانہ (Professional) مسابقتی امتحانات میں نہ صرف ’میرٹ‘ حاصل کر سکتے ہیں، بلکہ قومی و بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو کر کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں۔ اس کامیابی نے ملک میں اردو سائنسی فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
بابائے اردو مولوی عبد الحق نے جب ’انجمن ترقی اردو‘ کے پلیٹ فارم سے کام شروع کیا، تو انھوں نے اورنگ آباد سے تاریخی ماہنامہ ’سائنس‘ (Science) کا اجرا کیا۔ یہ رسالہ برصغیر میں سائنسی مضامین، جدید تراجم اور عمومی معلومات کا معتبر ترین ذریعہ بن گیا۔ مولوی عبد الحق کی سرپرستی میں ہزاروں سائنسی اصطلاحات وضع کی گئیں۔
ان کے بعد اورنگ آباد سے شائع ہونے والے مقامی اور علاقائی اخبارات نے اس مشعل کو روشن رکھا۔ یہاں کے روزناموں نے زراعت، صحت، حیاتیات، فلکیات، اور جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی پر ہفتہ وار سائنسی ایڈیشنز اور کالمز کو اپنے صفحات کا مستقل حصہ بنایا۔ اخباری صحافت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ سائنسی اصطلاحات عام فہم بن کر عوامی لغت کا حصہ بن گئیں، جس نے معاشرے سے توہم پرستی کے خاتمے اور عقلی و سائنسی سوچ (Scientific Temperament) کے فروغ میں نمایاں مدد کی۔ جو ملک میں اردو میں سائنس کے فروغ کے لیے رول ماڈل بنا۔
آل انڈیا ریڈیو اورنگ آباد نے سائنسی معلومات کو تعلیمی اداروں کی چاردیواری سے نکال کر عام انسان کے ڈرائنگ روم اور کھیت کھلیان تک پہنچا دیا۔ یہاں سے نشر ہونے والا طویل المدت پروگرام ’سائنس نامہ‘ سائنسی شعور کی بیداری کا ایک تاریخی ذریعہ ثابت ہوا۔ اس پروگرام کے تحت پیچیدہ سائنسی تھیوریز کو عام فہم اور شگفتہ اردو میں پیش کیا جاتا تھا۔ مقامی سائنس دانوں، لکچررز اور محققین کی تقاریر اور انٹرویوز اس پروگرام کا حسن تھے۔ اس اسٹیشن سے نشر ہونے والی سائنسی تقاریر کا معیار اس قدر بلند تھا کہ آل انڈیا ریڈیو کے دیگر قومی اسٹیشنز نے انھیں دوبارہ نشر (Relay) کیا، جبکہ بعد میں ان تقاریر کا پشتو اور دیگر علاقائی و غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ کر کے بین الاقوامی سطح پر نشر کیا گیا، جو اورنگ آباد کے ماہرین کی علمی صلاحیتوں کا عالمی اعتراف ہے۔
اورنگ آباد کی سائنسی زرخیزی کا اندازہ یہاں کے ان نامور قلمکاروں، پروفیسروں اور اساتذہ کی انفرادی خدمات سے لگایا جا سکتا ہے، جنھوں نے مختلف سائنسی مضامین پر مشتمل تصانیف کا ورثہ چھوڑا ہے:
محمد عبد الحفیظ (مرحوم): اردو میں سائنسی درسی کتب کی تصنیف کی تاریخ محمد عبد الحفیظ (15 مارچ 1920 تا 26 جولائی 2003) کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ وہ مہاراشٹر میں بارہویں جماعت کے لیے اردو زبان میں طبیعیات (Physics) کی درسی کتاب تحریر کرنے والے پہلے مصنف بنے۔ جب اردو میڈیم کے طلبہ کے لیے اعلیٰ ثانوی سطح پر کوئی مواد دستیاب نہیں تھا، تب انھوں نے یہ کارنامہ انجام دیا، جسے پربھنی ایجوکیشن سوسائٹی نے شائع کیا اور اس کا مقدمہ ڈاکٹر مظہر محی الدین نے لکھا۔ یہ کتاب بعد کے پبلشرز کے لیے ایک نمونہ بن گئی اور اس کی اشاعت نے خطے کے دیگر اہل قلم کے حوصلوں کو جلا بخشی۔ انھوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی پوری زندگی اردو میڈیم کے طلبہ کی رہنمائی کے لیے وقف کر دی تھی۔
ڈاکٹر مظہر محی الدین (مرحوم): علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طالب علم اور مولانا آزاد کالج کے سابق پرنسپل ڈاکٹر مظہر محی الدین (1936 تا 2007)کا اصل مضمون ریاضی (Mathematics) تھا۔ انھوں نے بارہویں جماعت کے لیے ‘Mathematics and Statistics’ پر معیاری کتابیں تحریر کیں۔ انھوں نے NCERT کی پانچویں سے لے کر گیارہویں جماعت تک کی ریاضی کی کتابوں کا اردو ترجمہ کر کے ایک عظیم سائنسی و تعلیمی خدمت انجام دی۔ حکومتِ مہاراشٹر اور مولانا آزاد ایجوکیشنل ٹرسٹ نے انھیں ’مثالی معلم‘(Ideal Teacher Award) کے اعزاز سے سرفراز کیا۔ وہ آل انڈیا ریڈیو کی ایڈوائزری کمیٹی کے رکن بھی تھے اور انھوں نے ڈاکٹر رفیق زکریا کی مشہور انگریزی کتاب ‘Muhammad and Quran’ کا بہترین اردو ترجمہ بھی کیا۔ ریاضی جیسے مضمون میں ان کی خدمات مثالی ہیں۔
ڈاکٹر مسعود احمد (مرحوم): ڈاکٹر مسعود احمد (1941 تا 2016) کا بنیادی میدان حیوانیات (Zoology) تھا، تاہم سائنسی علوم پر ان کو دسترس حاصل تھی۔ ان کی سب سے بڑی انفرادیت یہ تھی کہ انھوں نے سائنس کو ادبی چغہ پہنا کر اس انداز سے پیش کیا کہ خشک سائنسی حقائق بھی دلچسپ، رومانوی اور تجسس سے بھرپور افسانے کی طرح معلوم ہونے لگے۔ ان کے سائنسی طرزِ نگارش کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔
کیپٹن ڈاکٹر ایم ایم شیخ : اورنگ آباد میں نئی نسل کے اندر سائنسی رجحان پیدا کرنے کا سہرا کیپٹن ڈاکٹر ایم ایم شیخ کے سر جاتا ہے۔ آل انڈیا ریڈیو سے ان کی 100 سے زائد سائنسی تقاریر نشر ہو چکی ہیں، جو بعد میں کتابی شکل میں ’سائنسی شعاعیں‘ کے نام سے منظرِ عام پر آئیں اور اس پر انھیں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کا ایوارڈ بھی ملا۔ ان کی دیگر تصانیف میں ’ریشم کا کیڑا‘ ، ’قرآن اور تخلیقِ انسان‘ اور حال ہی میں شائع ہونے والی ’ابتدائی مطالعہ حیوانیات‘ شامل ہیں۔ ان کے مضامین ریاستی، قومی اور بین الاقوامی جرائد میں تواتر کے ساتھ شائع ہوتے ہیں۔
محمد عرفان خان سوداگر: نوجوان نسل کے نمائندے اور سرسید کالج اورنگ آباد میں اردو کے لیکچرر محمد عرفان خان سوداگر ایک متحرک علمی شخصیت ہیں۔ مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری نے ان کی خدمات کے سبب انھیں ممبر نامزد کیا۔ 2012-13 میں انھیں ’ڈاکٹر رفیق زکریا آئیڈیل ٹیچر ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ انھوں نے بارہویں جماعت کے طلبہ کے لیے ’ماحولیاتی تعلیم‘ (Environmental Education) اور ’ماحولیاتی سائنس‘ جیسی گراں قدر کتابیں مرتب کیں، جنھیں ملک کی مختلف اکادمیوں نے انعامات سے نوازا۔ وہ عربی زبان کی تین کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور ان کی 15 سے زائد ریڈیائی تقاریر نشر ہو چکی ہیں۔ وہ ’سائنسی میلہ‘ اورنگ آباد کے مسلسل تین سالوں سے کوآرڈینیٹر ہیں۔ یہ سائنسی تحقیقی سرگرمی پورے ملک کے اردو میڈیم کے اداروں کے لیے مشعل راہ ہے۔
عبدا لصمد شیخ:عبدالصمد شیخ مختلف زبانوں، جیسے چینی، عربی، جرمن، فارسی، اردو اور انگریزی پر عبور رکھتے ہیں۔ کمپیوٹر سائنس ان کا بنیادی میدانِ تخصص ہے، جس پر اب تک ان کی 23 کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے 12 تحقیقی مقالات بھی شائع ہو چکے ہیں۔دنیا بھر میں ان کے 400 سے زائد لیکچرز منعقد ہو چکے ہیں، جن کے سلسلے میں انھوں نے مختلف ممالک کا سفر کیا۔ انھیں چین سمیت متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں کی جانب سے اعلیٰ اعزازات سے نوازا گیا۔ تحقیقی خدمات کے اعتراف میں انھیں 2019 میں ورلڈ ریسرچ کونسل، امریکہ کی جانب سے ’ریسرچ رتن ایوارڈ‘ بھی عطا کیا گیا۔کمپیوٹر سائنس اور اردو زبان کے باہمی ربط پر ان کی تحقیقی خدمات کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور ان کے علمی و تحقیقی کام کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہے۔
ڈاکٹر قمر شریف: اورنگ آباد کی تعلیمی تاریخ میں ڈاکٹر قمر شریف کا نام ایک کامیاب صدر مدرس (Headmistress) کے طور پر درج ہے۔ وہ 33 برسوں تک اس منصب پر فائز رہیں اور آل انڈیا ریڈیو کی ایڈوائزری ممبر بھی رہیں۔ حکومتِ مہاراشٹر کے ادارہ ’بال بھارتی‘ کے تحت انھوں نے متعدد جماعتوں کے لیے سائنسی کتب کے تراجم کیے اور ’بال بھارتی اردو لغت کمیٹی‘ کی رکن رہیں۔ سنہ 2000 میں حکومتِ مہاراشٹر نے انھیں ’مثالی معلمہ‘ کے ریاستی اعزاز سے سرفراز کیا۔ ان کی مرتب کردہ تصانیف ملک کے مختلف اداروں میں حوالوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
محترمہ فاطمہ زہر ہ: انھوں نے اپنے 30 سالہ تدریسی سفر کے دوران مہاراشٹر بورڈ کے نصاب کے مطابق نویں اور دسویں جماعت کے لیے علمِ ہندسہ (Geometry) اور الجبرا (Algebra) کی درسی کتابیں مرتب کیں۔ وہ ’بال بھارتی‘ کی معاون رکن کی حیثیت سے ریاضی اور سائنس کی اصطلاحاتی لغت کی تیاری میں شامل رہیں۔ آل انڈیا ریڈیو سے ان کے متعدد تعلیمی و سائنسی پروگرام نشر ہوئے۔ ان کی تعلیمی و سماجی خدمات کے اعتراف میں 2014 میں حکومتِ ایران نے انھیں بحیثیت معزز مہمان مدعو کیا تھا۔ انھیں اتر پردیش اردو اکادمی و ریاستی سطح کے اعلیٰ تعلیمی اعزازات حاصل ہو چکے ہیں۔ سائنسی ادب کے تعلق سے انکی تحریریں بہت احترام سے پڑھی جاتی ہیں۔
محترمہ رفعت النسا قادری: گورنمنٹ کالج اورنگ آباد میں حیاتیات (Biology) کی لکچرار محترمہ رفعت النسا قادری اردو اور سائنس کے سنگم کی ایک بہترین مثال ہیں۔ ان کی اب تک 4 سائنسی کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جنھیں اتر پردیش اردو اکادمی اور مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی نے انعامات سے نوازا ہے۔ وہ سائنس اور قرآن مجید کے باہمی ربط (قرآن اور سائنس) پر گہرا تحقیقی کام کر رہی ہیں۔ انھوں نے اپنے تحقیقی مقالات (Research Papers) بھوٹان اور نیپال کی بین الاقوامی کانفرنسوں میں پیش کیے، جہاں انھیں بے حد سراہا گیا۔ آل انڈیا ریڈیو سے وہ اردو اور مراٹھی دونوں زبانوں میں سائنسی پروگرام پیش کرتی ہیں۔
محترمہ شائستہ محمدی: ایک مقامی اسکول میں سائنس کی معلمہ ہونے کے ناطے انھوں نے علمِ نباتات (Botany) کی پیچیدہ اور بنیادی معلومات کو انتہائی سادہ انداز میں کتابی شکل میں پیش کیا۔ ان کی اس منفرد کوشش پر مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکادمی اور اتر پردیش اردو اکادمی نے انھیں اعزازات سے نوازا۔ وہ ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے نباتات کی معلومات عام کرنے میں سرگرم ہیں۔
محترمہ مومن فرحت جہاں: مقامی اسکول میں کیمسٹری کی معلمہ محترمہ مومن فرحت جہاں نے اپنی کتاب ’سائنسی انکشاف‘ میں علمِ کیمیا اور عمومی سائنس کے بنیادی اصولوں کو ’سوال و جواب‘ کے انتہائی دلچسپ اور سہل انداز میں پیش کیا، جسے اردو قارئین خصوصاً طلبہ میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔
محترمہ مظہر سلطانہ: یہ ایک وظیفہ یافتہ (Retired) معلمہ ہیں، جنھوں نے اپنی پوری ملازمت کے دوران اور اس کے بعد بھی طلبہ کو سائنسی نمائشوں (Science Exhibitions)، ریڈیائی پروگراموں اور سائنسی میلوں میں شریک کروا کر ان میں عملی سائنسی شعور پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر ثمرین فاروقی : مولانا آزاد کالج اورنگ آباد میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ڈاکٹر ثمرین فاروقی کا بنیادی موضوع کیمیا (Chemistry) ہے۔ ان کے تحریر کردہ سائنسی ابواب کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (MANUU) نے اپنے اعلیٰ تعلیمی نصاب میں شامل کیا ہے۔ وہ اپنے مضامین کے ذریعے جدید سائنس کو پورے ملک میں عام کرنے میں مصروف ہیں۔
ان بنیادی سائنسی مضامین کے علاوہ، اورنگ آباد کی مٹی نے نفسیات، طب اور معالجات کے میدان میں بھی اردو کو مالامال کیا ہے: جن میں ڈاکٹر عزیز احمد قادری، ڈاکٹر غلام ربانی، ڈاکٹر لئیق الرحمن پروفیسر خواجہ عبدالنعیم۔
ڈاکٹر مظہر فاروقی، ڈاکٹر عارف پٹھان ،حکیم محمد سلیم ، جناب مسعود محی الدین ، محترمہ عقیلہ بیگم ، محترمہ خواجہ کوثر حیات، ڈاکٹرخان محمد عمران وغیرہ : ان جیسے کئی دیگر قلم کاروں نے بھی اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر سائنسی شعور کو عام فہم بنانے اور معاشرے میں عقلیت پسندی کو رواج دینے میں مسلسل حصہ لیا ہے۔
موجودہ دور میں جہاں گلوبلائزیشن اور انگریزی زبان کے غلبے کی وجہ سے اردو ذریعہ تعلیم (Urdu Medium Education) کو ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطح پر شدید چیلنجز کا سامنا ہے، وہیں اورنگ آباد کے علمی اور سائنسی معیار کا تسلسل ٹوٹا نہیں ہے۔ یہاں کی نئی نسل نے خود کو بدلتے ہوئے وقت کے سانچے میں ڈھالا ہے۔
آج اورنگ آباد کے نوجوان قلمکار اور اساتذہ سوشل میڈیا، بلاگز، ویب سائٹس اور یوٹیوب چینلز کے ذریعے جدید سائنسی تھیوریز (جیسے کوانٹم فزکس، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، اور بائیوٹیکنالوجی) کو اردو زبان میں آڈیو-ویژول فارمیٹ میں پیش کر رہے ہیں۔ ’سائنس بلاگ‘ اور مقامی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اس کی واضح مثالیں ہیں۔
اورنگ آباد کی اردو ادبی اور سائنسی خدمات محض ایک تاریخی ملمع کاری نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور مسلسل جاری رہنے والا انقلاب ہے۔ ولی و سراج کے اس شہر نے یہ ثابت کر دکھایا کہ جس زبان میں غزل کے نازک احساسات بیان کیے جا سکتے ہیں، اسی زبان میں طبیعیات کے کٹھن قوانین، ریاضی کے پیچیدہ مسائل اور کیمیا کے فارمولے بھی اتنی ہی فصاحت اور بلاغت کے ساتھ پڑھائے اور لکھے جا سکتے ہیں۔
اس شہر کے اساتذہ، شعرا، ادبا، تعلیمی اداروں، ریڈیو اور اخبارات کی مشترکہ کاوشوں نے اردو کو ایک علمی، سائنسی اور معاشی زبان بنانے میں جو تاریخی کردار ادا کیا ہے، وہ تاریخِ ہند کا ایک درخشاں باب ہے۔ یہ علمی کارواں آج بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ رواں دواں ہے، اور نئی نسل کے قلمکار اس سرمائے میں جو گراں قدر اضافہ کر رہے ہیں، وہ اس بات کی نوید ہے کہ اردو کا سائنسی مستقبل اس خطے میں ہمیشہ محفوظ اور روشن رہے گا۔
Dr. Rafiuddin
Principal, Shivaji College, Palsi,
Bakapur, Taq.
Dist. Aurangabad-431008 (MS)
Mob.: 9422211634
Email: rafiuddinnaser@rediffmail.com