اردو زبان و ادب کی توسیع و اشاعت میں عربی ادب کے تراجم کا حصہ،مضمون نگار:محمد قطب الدین

September 9, 2026 0 Comments 0 tags

تلخیص

ترجمہ ایک زبان کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا وہ فن اور مہارت ہے جس سے ایک زبان کے علوم و معارف ،افکار و خیالات، نظریات و محسوسات، جذبات، اقدار وروایات،تجربات و مشاہدات،ادب و شعر،تاریخ و آفرینش،تہذیب و ثقافت اور اندازِ تمدن وغیرہ دوسری زبان میں منتقل ہوجاتے ہیں۔
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اس فن اور ہنر کی بدولت لاکھوں صفحات بہ راہِ ترجمہ ایک زبان سے دوسری زبان اور ایک تہذیب سے دوسری تہذیب ،ایک عمران سے دوسرے عمران اور ایک پول سے دوسرے پول تک پہنچ گئے،بلکہ دورِ حاضرمیں تو یہ رفتار نہایت تیز ترہے۔آج کوئی بھی فن پارہ یا تخلیق ایسی نہیں جس تک خواص و عوام کے بڑے طبقے کی نظر نہیں۔عربی ، اردو، انگلش، فارسی،ترکی ہر ایک زبان عالمی پیمانے پر اپنی موجود گی درج کرارہی ہے اور ان کے شاہکار، تخلیق پارہ، تحریریں ،نقوش ہر ایک ذہن و خیال میں اپنی جگہ بناتے جارہے ہیں ۔
ترجمہ قومی و بین الاقوامی رابطے اور لسانی، علمی، تدریسی، تہذیبی ثقافتی،تمدنی، ورثے کی منتقلی کا ایساگراں قدر عمل بن گیا کہ ماضی میں اس کی خاطر نجی اور سرکاری سطح پر تاریخ ساز ادارے قائم کیے گئے اُن میں فورٹ ولیم کالج، کلکتہ (1800) مہاراجہ جموں و کشمیر رنبیر سنگھ کا قائم کردہ دارالترجمہ (1857)سائنٹفک سوسائٹی، غازی پور (1864) انجمن ترقی اردو (1903) اردواکادمی، دہلی۔ دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ، حیدرآباد (1917)دارالمصنفین،اعظم گڑھ (1914) اور قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی سرِ فہرست ہیں۔یہ اور اِن جیسے دیگر اداروں نے دیگر معاصر زبا نو ں کے ساتھ ساتھ عربی کے علمی ،سائنسی ،فنی اور ادبی کتب کے اردو تراجم کا اہتمام کیا۔عربی ادب کے جن فنکاروں اور تخلیق کاروں کے ادبی شہ پاروں کے اردو میں ترجمے ہوئے اور لفظی و معنوی اعتبار سے اردو کو وسعت ملی، ان میں نجیب محفوظ، توفیق الحکیم، طہٰ حسین،احمد امین، زکریاتامر، محمود درویش، مرید البرغوثی، نازک الملائکہ، می زیادہ، نوال السعداوی، رضوی عاشور، احلام مستغانمی اور امینہ السعید سرِ فہرست ہیں۔
کلیدی الفاظ
اردو زبان و ادب، عربی ادب کے تراجم، تراجم، مذہب، قرآن، تصوف، خطبات، قصائد، ضرب الامثال، ناول، افسانہ،نجیب محفوظ، جبران خلیل جبران، محمود درویش، علوم و فنون، سائنٹفک سوسائٹی، دارالترجمہ، القاھرہ الجدیدہ، مشاہدات فی الھند، الا جنحۃ المتکسرۃ، حیاتی۔
———
انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں دوسری قوموں کے علم و مہارت اور تہذیب و ثقافت سے استفادہ کے لیے مختلف ذرائع اور وسائل کا وجود میں آنا فطری تھا۔اسی طرح علمی و معلوماتی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے کے لیے بھی کسی نہ کسی ذریعے کو بروئے کارلانا انسانی ضرورت تھی۔لہٰذا اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بنی نوعِ انسانی نے زبان کا استعمال کیا مگر دنیا بھر میں زبانوں کے تنوع اور اختلاف ایک دوسرے سے رابطے میں حائل ہوئے تو ترجمے کے عمل نے مختلف زبانیں بولنے والے لوگوں کے درمیان رابطے کو زیادہ ممکن اور آسان بنا دیا۔ بلا شبہ ترجمہ ہر دور میںکسی بھی زبان کے لیے ناگزیر ضرورت ہے جو مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان پل کا کام کرتا ہے اور لسانی و ثقافتی تبادلے کو فروغ دیتا ہے۔ترجمے کے ذریعے لوگ مختلف زبانوں اور سوچ کے متنوع طریقوں سے واقف ہوتے ہیں۔
ترجمہ یا ترجمہ نگاری محض الفاظ کی ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقلی کا نام نہیں ہے بلکہ معانی، خیالات، احسات و جذبات، اقدار اور انسانی تجربات کی منتقلی بھی ترجمے کے ذریعہ عمل میں آتی ہے۔ یہ ایک تہذیبی کوشش ہے جو قوموں کے درمیان لسانی، ثقافتی اور تہذیبی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے ایک دوسرے کو جاننے اور سمجھنے کے قابل بناتی ہے۔
’’ترجمہ یوں تو ایک سے دوسری زبان میں متن کی لسانی اور معنیاتی منتقلی کا نام ہے،لیکن اس کا ایک منصبی پہلو بھی ہوسکتا ہے اور وہ ہے اصل زبان کی ادبی صفات اور اس زبان سے وابستہ تہذیبی قدروں سے حصولِ آشنائی،مثلاً کالی داس یا رابندرناتھ ٹیگور کے شہکاروں کے ترجمے کے ذریعے ہم سنسکرت اور بنگلہ کے شعری نظام کے علاوہ مخصوص عہد کے مخصوص کلچرز کی نمائندگی کرنے والے فن کاروں کی طرز فکر اور عالمِ خیال سے آگاہ ہوپاتے ہیں۔‘‘1؎
جہاں تک عربی زبان وادب سے اردو میں ترجمہ اور اس کی توسیع و اشاعت کا تعلق ہے تو عربی ادب سے اردو میں ہونے والے تراجم نے نہ صرف زبان کو فروغ دیا بلکہ اردو زبان کو فکری، لسانی اور اسلوبی سطح پر مالا مال کیا نیز اسے علمی و تہذیبی اعتبار سے بھی نئی وسعتیں عطا کی۔ مزیدبرآں عربی میں موجود گرانقدر علمی ذخیرے کو اردو میں منتقل کرنے کی وجہ سے اردو زبان جنوبی ایشیا کے بڑے علمی وادبی دھارے میں شامل ہو گئی۔عربی سے اردو میں ترجمہ ایک ایسا مضبوط پل ہے جس نے بر صغیر ہندو پاک میں ہر دور میں عرب اور اسلامی ثقافت کو لاکھوں دلوں اور ذہنوں تک پہنچانے میں اہم رول اداکیاہے۔بقول پروفیسر عبدالحق :
’’اردو میں سب سے بڑا سرمایہ عربی تراجم کا ہے۔تفسیر و احادیث کے علاوہ ’سفر نامہ ابن بطوطہ‘،’ابن جبیر‘،’مقدمہ ابن خلدون‘،’تاریخ طبری ‘،’ابن اثر‘،’فصوص الحکم ‘، ’حکمت الأشراق ‘،’الملل و النحل‘،’قانون شیخ الرئیس ‘،’اخوان الصفا‘، ’غزالی‘و ’رازی ‘ کے ساتھ تقریباً ہر بنیادی کتاب کا ترجمہ موجود ہے۔یہ حقیقت ہے کہ عربی علم و فن کی زبان ہے،اس کا اثر و نفوذ اتنا گہرااور دیرپا تھا کہ اس نے بیشتر زبانوں کو اپنی تہذیب کے ساتھ ساتھ مغلوب کیا۔۔۔فارسی زبان کی پوری تربیت عربی کے زیرِ سایہ ہوئی اور فارسی نے اردو کی سرپرستی کی۔ایران میں علم و فضل کی زبان عربی ہی تھی،فارسی نہیں اور تقریباً یہی صورتِ حال ہندستان میں بھی تھی۔کم ازکم اکبر کے زمانے تک عربی کا ہی بول بالا تھا۔علم و فضل کا معیار بھی اس کو سمجھا جاتا تھا۔ بیشتر علما کی کتابیں اسی زبان میں ملتی ہیں۔حافظ محمود شیرانی کا خیال ہے کہ مغلیہ سلطنت سے پہلے فارسی کے کارنامے قابلِ ذکر نہیں۔ ابن حوقل اور اصطخری کے قول کے مطابق چوتھی صدی ہجری کے وسط اور آخرتک ملتان اور منصورہ سندھ کے لوگ عربی اور سندھی بولتے تھے،اس کے بعد بھی تقریباًچھ سو سال تک یعنی عہدِ اکبری تک عربی کا رواج ملتا ہے۔صرف زبان ہی نہیں بلکہ فنونِ لطیفہ کے دوسرے ارکان میں بھی حجازی آہنگ نمایاں ہے۔خود فارسی میں عربی تصانیف کے تراجم کا سب سے بیش بہاادب موجود ہے۔‘‘2؎
ابتدا میں عربی سے اردو میں ترجمہ کا محرک مذہب بنااور اس کی روایت بر صغیر میں اسلام کی آمد سے شروع ہوئی۔ اسی لیے شروعاتی دور میں قرآن مجید، حدیث، فقہ، سیرت نبوی اور عربی کی دیگر مذہبی و فکری کتابوں کو اردو میں منتقل کر کے اردو داں طبقہ کی دینی ضروریات پوری کرنے میں ترجمہ نگاری نے ایک کلیدی کردار اداکیا۔قرآن مجید کے علاوہ بخاری،مسلم،ترمذی، نسائی،ابن ماجہ اور موطا جیسی اہم حدیث کی کتابوں کے اردوتراجم نے نہ صرف اردو کو دور دراز آبادی تک پہنچایا بلکہ خود اردو زبان کی ڈھانچہ سازی، الفاظ کے ذخیرے میں اضافہ، علمی اصطلاحات کو وضع کرنے اور سنجیدہ اسلوب فراہم کرنے میں اہم رول اداکیا۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروفیسر عبد الحق لکھتے ہیں:
’’قرآن اسلام کا اصل الاصول ہے۔عقائد و افکار کی بنیاد بھی اسی پر ہے۔عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے عام ہندستانی کے لیے اس کا سمجھنا اور سمجھانا بہت مشکل ہے اور ہندستان میں عربی کو وہ مقام نہیں ملا جو فارسی کو حاصل تھا یا بعد میں اردو کو ملا۔اس لیے اس اہم ترین صحیفۂ آسمانی کے مفاہیم کو عوام تک پہنچانے کے لیے ہمیشہ ان تھک محنت کی جاتی رہی ہے۔قرآن کے تراجم پر سب سے زیادہ اہتمام ملتا ہے اور ہر دَور میں تراجم قرآن پر سنجیدگی سے کام ہوتارہا ہے،یہی وجہ ہے کہ اردو میں قرآن کے سیکڑوں تراجم دیکھنے میں آتے ہیں۔۔۔احادیث اس کی (قرآن شریف کی)توضیح و تشریح اور جزئیات و تفصیلات کا سب سے بیش بہا ذخیرہ ہیں۔دنیائے ادب میں یہ ایک لافانی ذخیرۂ ادب ہے جس کی ضخامت تخیل و تصور سے بھی بالا تر ہے اور پھر اس عظیم سرمایہ سے پیدا ہونے والے علوم و فنون سے متعلق دوسری تصانیف کا بھی ایک وافر مجموعہ موجود ہے۔تراجم قرآن کے بعد علما احادیث کی طرف متوجہ ہوئے۔اب تقریباً ہر مجموعہ حدیث کا اردو ترجمہ موجود ہے اور عوام و خواص کی رسائی میں ہے۔صحاحِ ستہ کے مجموعے کچھ پہلے اور کچھ بعد میں اردومیں منتقل ہوئے۔بخاری شریف،تجرید بخاری،تلخیص بخاری،مشکوٰۃ شریف کامل،ترمذی شریف کامل،ترمذی شریف،شمائل ترمذی،سنن ابن ماجہ،صحیح مسلم شریف،موطا امام مالک،موطا امام محمد، مسند امام مسلم،کتاب الآثار کے علاوہ زادِ سفر جلد اول،امام نووی شارحِ صحیح مسلم کی مشہورکتاب ریاض الصالحین کا عام فہم ترجمہ ہے۔احادیث کا یہ پہلا اردو ترجمہ ہے۔ ‘‘3؎
حکایاتِ صحابہ،فضائلِ نماز، فضائلِ رمضان،فضائلِ ذکر، فضائلِ قرآن اور فضائلِ درود شریف وغیرہ پر مشتمل احادیث کے تراجم کا ایک بڑا ذخیرہ وہ ہے جوشیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ نے منتخب احادیث کا اردو میں ترجمہ کیا ہے جو تبلیغی نصاب کے نام سے مشہور ہے اور پروفیسر عبد الحق کے بقول قرآن کے بعد سب سے زیادہ شائع ہونے والی یہی کتاب ہے۔4؎
سیرۃ النبیؐ اورسیرتِ صحابہ کے موضوع پر عرب مصنفین کی مشہورِ زمانہ تصانیف کے اردو تراجم بھی قابل ذکرہیں۔اسلامی دنیا اور ہندوپاک کی عظیم المرتبت شخصیتوں کی فکر انگیز اور انقلاب آفریں عربی تحریروں کے اردو تراجم نے اردو زبان و ادب میں گراں قدر اضافہ کیا اور مسلم معاشرہ پر گہرا اثر ڈالا ہے جس کی فہرست طویل ہے۔تصوف کے موضوع پر موجود عربی تصانیف کے تراجم نے بھی ہندستانی سماج کے ذہن و شعور کو بڑی حدتک متاثر کیا۔اس موضوع پر عربی زبان میں ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔
’’تصوف دنیائے علم و عرفان اور فکرو دانش کا دل چسپ موضوع رہا ہے۔آج کے دورِ ابتلا میں بھی ذہن انسانی اور سماجی شعور کو کسی نہ کسی حدتک متاثرکررہا ہے۔ عربی و فارسی میں اس موضوع اور اس کی جزئیات سے متعلق ادب کا سرمایہ خاصا ضخیم ہے۔اس کی تاویل و توجیہ،تذکرہ، مطالعہ و مشاہدات کو قلم بند کیاگیا ہے۔ان کلاسیکی کتابوں کو استفادۂ عام کے لیے اردو صورت دی گئی ہے۔۔۔یہ علم کی بڑی خدمت ہے اور قابلِ ستائش بھی۔۔۔تصوف، تزکیۂ نفس اور تطہیرِ باطن کا دوسرا نام ہے، دھیان گیان اور مشق و مزاولت کا زور اِن ہی پر صرف کیا جاتاہے۔ اچھے اخلاق اور اقدار کی تربیت اس کا موضوع ہے۔یہ جذبہ فرد سے بیدار ہوکر سماج کی پنہائیوں میں گم ہوجاتاہے۔اخلاقی ادب،مشرقی ادبیات کا بہت ہی پسندیدہ موضوع رہا ہے۔اس جذبے کونہ تو سرتا پا مذہبی کہہ سکتے ہیں اور نہ غیر مذہبی،کیف و کم، موضوع اور اسلوب کے اعتبار سے یہ حصۂ ادب مذہب سے زیادہ قریب ہے۔‘‘5؎
اردو زبان و ادب کو وسعت اور گہرائی و گیرائی بخشنے نیز ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ اور اسے عالمی زبان بنانے میں جہاںمختلف زبانوں سے تراجم نے اردو کو ثروت مند زبان بنایا وہیں عربی سے اردو تراجم نے بھی اردو زبان وادب پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور مواد و موضوع کو وسعت بخشی ہے۔
عربی ادبی نمونے خطبات، قصائد، حکمت سے بھرپور امثال و محاورے اور عربی کی عظیم نثری کتابیں اور فلسفیانہ متون جب اردو میں منتقل ہوئے تو اس سے نہ صرف اردو زبان کو فروغ ملا بلکہ اس کے فکری افق بھی بڑھے۔ عربی شاعری کے فنی محاسن، جمالیاتی اسلوب، معانی اور بیان کی باریکیوں نے اردو کو عظیم سر مایہ عطا کیا اور اردو شاعری میں بلاغت، استعارہ، کنایہ اور تشبیہ کے نئے امکانات بھی پیدا ہوئے۔ ہندستان کی آزادی سے پہلے جدید عربی ادب کے شاہ کارو ں مثلاً: ناول، افسانے اور ڈرامے جیسی اصناف کے تراجم شاذو نادر ہی ملتے ہیں،اس کے برعکس مقاماتِ حریری، دیوانِ متنبی،دیوان الحماسہ،سبع معلقات کے ترجمے اور تشریحات وجود میں آئیںنیز شعری مجموعوں، سوانح عمریاں،تواریخ،فلسفہ اور منطق کی کتب کے اردو تراجم کثیر تعداد میں انجام پائے۔
یہ بات سچ ہے کہ شروعاتی دور میں دینی کتابوں کے ترجموں پر توجہ اور جدید عربی ادب کے شاہ کارو ں کے اردو میں ترجمے سے بے اعتنائی نے اردو داں طبقے کو جدید عربی ادب سے ناواقف رکھا مگر دورِ حاضر میں عربی ادب کے جدید رجحانات، مثلاً آزاد نظم، کہانی، ناول،ڈراما و دیگر سماجی و سیاسی ادب کے اردوتراجم نے جدید اردو ادب کو عالمی فکر سے ہم آہنگ کیا۔ آزادی کے بعد عربی سے اردو میں ترجمے کی تحریک میں نمایاں پیش رفت ہوئی، دونوں زبانوں پر عبور رکھنے والے افراد نے مختلف سطحوں پر عربی ادب کے شاہکاروں کے تراجم کا بیڑا اٹھایا جس سے عربی۔اردو تراجم کی تحریک کو مزید تقویت ملی اور مذہبی و فکری کتابوں کے تراجم کے ساتھ ساتھ ادبی متون کے تراجم کی مانگ میں اضافہ ہوا۔
مصر، لبنان، شام اور دیگر عرب ممالک کے ادبا،مثال کے طورپر محمودتیمور، نجیب محفوظ، طٰہٰ حسین، اَحمد اَمین، جبران خلیل جبران، میخائل نعیمہ، احمد شوقی،سامی بارودی، نزار قبانی، یوسف ادریس، احسان عبدالقدوس،مرید البرغوثی، اور محمود درویش جیسے عربی ادب کے دیگر ادبا کے شاہکار تراجم نے اردو دنیا کو نہ صرف جدید عربی سے روشناس کرایا اور اردو ادیبوں کے لیے نئے فکری اور فنی دروازے کھولے بلکہ اردو ادبانئے اسلوب، جدید موضوعات اور تخلیقی اظہار کے مختلف طریقوں سے بھی واقف ہوئے۔ فلسفہ، منطق،تصوف، کلام، ریاضی، طب، ہیئت اور تاریخ جیسے علوم پر مشتمل عربی ذخیرے نے عربی سے اردو تراجم کے ذریعہ اردو کو ادبی زبان کے ساتھ ساتھ علمی زبان بنانے میں بنیادی رول ادا کیا اور اردو دانشوروںکو عالمی علمی ذخیروں اور عالمی ادب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا۔
عربی سے اُردو تراجم کے ذریعے اردو زبان میں بے شمار نئی اصطلاحات اور الفاظ کی موجودگی نے زبان کو وسیع اور پر وقار بنانے میں نما یا کردار ادا کیا ہے۔عربی سے اردو میں آنے والے الفاظ اور اصطلاحات ہر خاص و عام کی زبان پر بکثرت استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً: ادب، معاشرت، معرفت، منہج، منطق، فکر، تفکر، تشکر، اقلیت، اکثریت، فطرت، جہالت، قابض، فاتح، طہار ت، طباعت، صبر، صحافت، شفاعت، زراعت، خطابت، خلافت، ذرائع ابلاغ، سرعت، سجدہ، خوف، ریاضت، تنازع، تکمیل، تخفیف، بصیرت، بصارت، برکت، امتزاج، عروج، دستور العمل،استیلا،استغراق،ترک، تشتت، وحدت،اتباع،تغافل،مہجور،ضیاع، اختلاف، نزاع، غلبہ، انتباہ، انبعاث،سعی، استعداد،ظہور، ضلالت،استیصال، نصرت، اسوہ، استبداد،فی الواقع، معمور، مقصود، فتح، عبرت،طلبِ صادق،اُسوۂ حسنہ، استقامت، اسیر، مجروح، مستور،قطع نظر، امن،نجات، اعمال، نتائج، عواقب، متفرق، نقص، تدبر، استنباط، ادراک، انکشاف، اجتماع، معارف، اصلاح، حرارت،برودت، خلقت، ہلاکت، امتد ا د، تغیر، خسران، قلب، اکتساب، بطلان، فساد، اوصاف،ملعون،رحمت،حصول،اختلال، حاصل اورفوزوفلاح وغیرہ اَن گنت عربی الفاظ و اصطلاحات اردو زبان و ادب میں ایسے گھل مل گئے کہ ایک کودوسرے سے الگ کرنا ناممکن بن چکا ہے۔تراجم کے ذریعہ لغوی تبادلے نے اردو زبان کی لغوی وسعت میں بھی اضافہ کیا۔
جن علمی، ادبی اور تاریخی اداروں اور مراکز نے عربی سے اردو زبان میں ترجمے کا بیڑہ اٹھایا اور اسے فروغ دیا اُن میں فورٹ ولیم کالج،کلکتہ (1800) مہاراجہ جموں و کشمیر رنبیر سنگھ کا قائم کردہ دارالترجمہ (1857)سائنٹفک سوسائٹی،غازی پور (1864) انجمن ترقی اردو (1904) اردواکادمی، دہلی۔ دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ، حیدرآباد (1917)دارالمصنفین،اعظم گڑھ (1913) اور قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی سرِ فہرست ہیں۔یہ اور اِن جیسے دیگر ادارو ں نے دیگر معاصر زبانوں کے ساتھ ساتھ عربی کے علمی،سائنسی،فنی اور ادبی کتب کے اردو تراجم کا اہتمام کیا اور اِن میں سے بعض آج بھی اِس میدان میں سرگرم ہیں اور کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں۔
عصر حاضر میں جدید عربی ادب کے اردو تراجم نے عربی ادب کے جدید رجحانات و موضوعات سے اردو دنیا کو متعارف کرایا جس کا اندازہ مثال کے طورپر مندرجہ ذیل عربی ادب کے اردو تراجم کے چند اقتباسات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
نجیب محفوظ عالمِ عرب کا وہ پہلا نوبل انعام یافتہ ناول نگار ہے جس نے عالمی پیمانے پرناول نگاری کے میدان میں دھوم مچادی۔ ان کے شاہ کار ناولوں میں ’القاھرۃ الجدیدۃ‘ سرِفہرست ہے جس میں نجیب محفوظ نے مصری سماج کی بھرپور تصویر کشی کی ہے اور ’’جس میں نجیب نے یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کے منچلے شباب کی پر کیف مکالمات میں تصویر کھینچی ہے اور ہر عمر کے لحاظ سے جذبات کا تجزیہ کرتے ہوئے دکھایا ہے کہ قاہرہ میں جب جدت پسندی کی لہر آئی تو طلبا کا اندازِ فکر کیا تھا۔‘‘6؎
’القاھرۃ الجدیدۃ‘کے اردو ترجمے نے اردو داں قارئین کو نجیب محفوظ کی فکری اڑان اور مصری معاشرہ کی سماجی صورتِ حال سے آگاہ کیا۔مندرجہ ذیل ترجمہ شدہ اقتباس سے معاشرے کے مسائل و مشکلات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے:
’’۔۔۔۔میرے لیے بھی یہ خوشی کی بات ہوگی کہ تمھاری شکل میں مجھے کوئی مخلص مددگار مل گیا ہے۔میں نے تو اس نوکری کو تمھارے لیے بچا کر رکھا تھا حالاں کہ اس کے طلب گار لڑنے بھڑنے کے لیے تیار تھے۔ہمیں متحدہوکر کام کرنا چاہیے۔ ہمارے دشمن بہت ہیں۔یہاں جو چمک دمک تمھیں دکھائی دیتی ہے اس سے دھوکہ مت کھانا، ہم کلرکوں کا یہ عام مزاج ہے کہ ہم اپنے صاحب لوگوں کی خاطرمدارات صرف اسی وقت تک کرتے ہیں جب تک ان کا ستارہ بلند ہوتاہے اور جیسے ہی ان کا ستارہ گردش میں آتا ہے ہم پُرامن طریقے سے ان کی جگہ آنے والوں کی عزت و تکریم کرنا شروع کردیتے ہیں۔بہر حال ہماری آواز ایک ہونی چاہیے۔‘‘7؎
امینہ السعید مصر کی ایک ممتاز صحافی اور ادیبہ تھیں۔ غیر منقسم ہندستان کے شہر حیدرآباد میں ایک عالمی نسوانی کا نفرنس میں شرکت کی غرض سے وہ ہندستان آئیں اور اپنے چند روزہ قیام میں ہندستان اور یہاں کے طرز معاشرت کا بغور مطالعہ کیا۔
مصر واپسی پر انھوں نے اپنے سیاحت نامہ کو’مشاہدات فی الھند‘کے نام سے عربی میں شائع کیا،اس کا اردو ترجمہ اردو قارئین کے لیے کافی دلچسپ ہے۔ ملاحظہ ہو آگرہ اور دلی کے بارے میں ایک عرب سیاح امینہ السعید کا تاثر:
’’شاہ جہاں کے دور حکومت میں آگرہ اپنی بلندی کو پہنچ کر اپنی تنزلی کو بھی پہنچا، شہنشاہ ہند شاہ جہاں آگرہ کے تجارتی علاقہ میں چوڑی چوڑی سٹرکیں بنوانا چاہتا تھا لیکن تاجروں نے اس کی یہ بات ماننے سے یکسر انکار کر دیا۔ کیوں کہ اس طرح ان کی دکانوں پر آنچ آتی تھی اور اس طرح انھوں نے اپنے پیروں پرایک بار پھرخود کلہاڑی مارلی۔شاہجہاں نے ایک بار پھر دلی کو اپنا دارالسلطنت بنا لیا۔ایک بار پھرشہروں کی دلہن دلی میں زندگی کی لہر دوڑ گئی اور اس کی سوتن آگرہ اپنی تجارت کی کساد بازاری کی وجہ سے اپنے درد ناک انجام کو پہنچا۔‘‘8؎
زکریا تامر شام کے رہنے والے معاصر عربی ادب کے وہ نامور افسانہ نگار ہیں جنھوں نے تقلید کو پسِ پشت ڈال کر عربی افسانہ نگاری کو نئے رجحانات اور نیا رنگ و آہنگ بخشا۔ان کی زیادہ تر کہانیاں آپس میں لوگوں کے غیر انسانی سلوک،امیروں کے ذریعے غریبوں پر اور طاقتور کے ہاتھوں کمزوروں پر ظلم و ستم سے متعلق ہیں۔ان کی تحریروں میں شام اور عرب دنیا کے سیاسی اور سماجی مسائل کی جھلک پائی جاتی ہے۔ زکر یا تامر کی تخلیقات کا اردو میں ترجمہ بلاشبہ اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ان کے افکارو خیالات کی عکاسی مندرجہ ذیل ترجمے میں دیکھی جاسکتی ہے:
’’شب کے جاگے ہوئے تاروں کو نیند آگئی تھی،لو دیکھو جلاد پہنچ بھی گئے،انھوں نے قید خانے کا دروازہ کھولا اور اس میں بھوکی ٹڈیوں کی طرح داخل ہوگئے۔ انھیں حیرت نہیں ہوئی جب انھوں نے طارق بن زیادکو ٹھنڈی لاش کی طرح پڑا دیکھا، جلدی سے وہ انھیں شہر کے بیچ مقتل میں لے گئے اور مجمع کے سامنے ان کی پھانسی کا حکم پڑھ کر سنایا،پھر ان سے ان کی آخری خواہش پوچھی،طارق بن زیادکے ہونٹ بند رہے۔ان کی خاموشی کو ہی انھوں نے دلیل مان لیا کہ ان کو کسی چیز کی خواہش نہیں۔۔۔پھر انھیں سولی پر لٹکادیا گیا۔‘‘ 9؎
منی عبد القادر العلی متحدہ عرب امارات کی مشہور ادیبہ اور آرٹسٹ ہیں۔افسانہ نگاری میں انھوں نے نام پیدا کیا۔’آئینہ‘ ان کی کہانیوں کا دلچسپ مجموعہ ہے۔ ملاحظہ ہو عربی سے اردو میں ترجمہ شدہ کہانی’ آئینہ ‘کا ایک اقتباس:
’’ سرسری طور پر اپنے لباس کو ٹھیک کرنے کے بعد میرے ہاتھ آئینہ چھونے کے لیے بڑھے جس میں میرا چہرہ تھا اور جس کی نزاکت سے کچھ عرصہ کے لیے میں خود ہی غافل سی ہو گئی تھی۔ اپنے نازاں ہاتھوں سے میں نے آئینے میں دیکھتے ہوئے اپنے چہرے کو چھو کر ایک قاتلانہ مسکراہٹ خود پر ڈالی اور اپنی پے درپے کامیابیوں کو یاد کرنے لگی۔ میں آئینہ میں اپنی حیات گزشتہ کی سیر کر رہی تھی۔ اپنے ان کا رناموں کی ستائش کر رہی تھی جو میرے سامنے منعکس تصویر سے زیادہ خوبصورت چہرے نے انجام دیے تھے، جو اَن گنت تھے۔‘‘10؎
لبنانی مصنف، شاعر اور ادیب جبران خلیل جبران کا نام عالمی ادب میں سر فہرست ہے۔ اپنی شاہکار تصنیف ’الا جنحۃ المتکسرۃ‘،’شکستہ پر‘ میں انھوں نے محبت کے لطیف احساسات کو نہایت پُر اثر اسلوب میں بڑی جسارت کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔ ان کی تصنیفات دنیا کی زیادہ تر زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔اردو میں بھی اُن کی تصنیفات ترجمہ ہو کر شائع ہوئیں۔ جبران اپنے مشہور شاہکار ’ شکستہ پر‘ میں لکھتا ہے :
’’نئی تہذیب نے عورت کو قدرے عقل مند بنا دیا ہے لیکن مردوں کے لالچ اور نئی تہذیب نے عورت کی مصیبت میں اضافہ بھی کر دیا ہے۔ کل کی عورت ایک خوش مزاج بیوی تھی لیکن آج کی عورت ایک غم زدہ بیگم ہے۔ پہلے وہ روشنی میں آنکھیں بند کر کے بے خوف و خطر چلتی تھی لیکن آج کی عورت آنکھیں کھول کر چلنے کے با وجودضلالت میں محصور ہے۔ وہ اپنی بے خبری میں حسین تھی، اپنی سادگی میں پاکیزہ اور اپنی کمزوری میں مستحکم، آج وہ اپنی بناوٹ اور تصنع میں بدصورت ہے۔ وہ اپنی معلومات کے باوجود سطحی پن اور اور بے کیفی کا پیکر ہے۔ کہاں وہ دن آئے گا جب خوبصورتی، علم،نیکی اور سطحی پن، جسم کی کمزوری اور روح کی طاقت سب ایک ساتھ کسی عورت میں جمع ہو جائیں ؟۔۔۔۔۔ اگر کوئی عورت ایک طرف بلندی کو چھوتی ہے اور دوسری طرف پستی میں گر جاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نا ہموار پگڈنڈی جو مقام بلند کی طرف جاتی ہے وہ چوروں اور بھیڑیوں کی کمین گاہوں سے آزاد نہیں ہے۔‘‘11؎
احمد امین کی ما یۂ ناز کتاب ’حیاتی‘ کا اردو ترجمہ ’میری زندگی‘بھی اردو قارئین کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ان کی یہ آپ بیتی جگ بیتی ہے جو انسانی سماج کے مسائل اور انسانی خصلتوں کی بھر پور عکاسی کرتی ہے نیز عربی ادب کے متنوع موضوعات سے اردو قارئین کو روشناس کراتی ہے۔ انسانی فطرت اور لوگوں کی موقع پرستی کا ذکر کرتے ہوئے احمد امین لکھتے ہیں:
’’ میں نے ڈین شپ چھوڑ دی اور اب میں صرف پروفیسر ہی تھا۔ اب میری تمام انتظامی طاقتیں سلب ہو چکیں تھیں، آنے والی وزارت میں اب میراکہیں شمار نہیں تھا۔اب میرا ترقیات اور لوگوں کے بھتے میں اضافہ کی سفارشوں کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ اب میں نے لوگوں کے وہ بدصورت چہرے دیکھے،اپنے دست نگر لوگوں کی احسان فراموشی دیکھی۔۔۔ یہ ٹیلی فون جو ہر وقت بجتا رہتا تھا اور لوگ میری صحت اور میرے حال چال جاننے کے لیے بے چین رہتے تھے، مجھ سے ملنے کے بہا نے اورمواقع تلاش کرتے رہتے تھے، میری صحت کے بارے میں جاننے کے لیے بے چین رہتے تھے۔ مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کیا کرتے تھے اور اپنا کوئی مسئلہ حل کرنے کے لیے مجھ سے التجا کرتے تھے، اس نے بجنا بند کر دیا تھا۔اب صرف گا ہے گا ہے ہی بجتا تھا، وہ بھی کبھی کسی نہایت ضروری کام کے سلسلہ میں استفسار کے لیے اور اب لوگ سیدھے ہی کام کی بات کرتے تھے، نہ تو کوئی میری صحت کے بارے میں پوچھتا تھا اور نہ ہی اپنی محبت کا اظہار کرتا تھا، میرا یہ لیٹر بکس جو خطوط اور درخواستوں سے بھرا رہتا تھا،اب بالکل خالی پڑا تھا، اب صرف اس میں عزیز اور رشتہ داروں کے ہی دو چار خطوط ملتے تھے۔ تیج تہوار کے موقع پر میرا وہ گھر جو آنے جانے والوں کی رونق سے بھرا رہتا تھا اور صبح سے شام تک لوگوں کا تانتا بندھا رہتا تھا اور لوگ مجھ کو عید کی مبارکباد دیتے نہیں تھکتے تھے، اب عام دنوں کی طرح ہو کر رہ گئے تھے۔ میں اپنی میز پر بیٹھا، لکھتا پڑھتا رہتا تھا۔۔۔نہ کوئی پوچھنے والا ہوتا تھا اور نہ کوئی جواب دینے والا۔‘‘12؎
یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی زبان کے اشعار کو دوسری زبان میں منتقل کرنا بہت مشکل کام ہے۔مگر اشعار میں پنہاں افکار و خیالات اور معلومات کو دوسری زبان میں منتقل کرکے قارئین تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔اسی ضرورت کے مدنظر زبان وادب کے ماہرین نے نثری ادب کی طرح شعری ادب کو بھی دوسری زبانوں میں منتقل کرنے کی بھرپور کوشش کی ہیں۔لہذا عربی اشعار کے ترجموں کے ذریعے بھی مترجمین نے عربی کے شعری ادب کے گراںقدر موضوعات، مشمولات اور افکار وخیالات سے اردو داں طبقے کو آگاہ کیاہے۔عربی ادب کی تاریخ میں دورِ جاہلی سے لے کر دورِ جدید تک کے مختلف قصیدوں،نظموں،غزلوں اور شاعری کے دیگر اصناف کو ماہرین نے اردو میں ترجمہ کرکے ادب کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کردیا ہے۔ترجمانِ اسلام اور شاعرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسان بن ثابت الانصاریؓ کے حضورؐ کی مدح میں ایک بے مثال قصیدے کا اردو میں ترجمہ ملاحظہ ہو:
1. آپؐ پر مہر نبوت درخشاں ہے، اللہ کی طرف سے وہ دلیل ہے جو چمکتی ہے اور گواہی دیتی ہے۔
2. اللہ نے اپنے نبیؐ کا نام اپنے نام سے مربوط کردیا۔اس لیے موذن پانچوں وقت اذان میں اشہد۔۔۔کہتا ہے
3. اللہ(تعالیٰ)نے اپنے نام سے اپنے پیغمبر کا نام نکالا عرش والا(خدا)محمود ہے اور یہ محمد ہیں۔
4. یہ ایسے نبی ہیں جو ناامیدی اور انبیاکے سلسلۂ بعثت کے طویل وقفے کے بعد ہم تک آئے اور اس وقت آئے جب زمین پر بتوں کی پرستش ہورہی تھی۔
5. یہ ایک روشن چراغ،روشنی دینے والے اور ہادی بن کر آئے جن کی چمک ایسی ہے جیسے ہندی تلوار چمکتی ہے۔
6. ہمیں جہنم سے ڈرایا،جنت کی بشارت دی،اسلام سکھادیا،پس اللہ ہی ہے جس کی ہم حمد کرتے ہیں۔
7. اور ساری مخلوق کا معبود میرا رب اور خالق ہے،ہم زندگی بھر اس کی شہادت دیتے رہیں گے۔
8. سارے جہاں کے رب تیری شان بڑی ہے اور تو بلند ہے۔اس شخص کے دلوں سے جو تیرے سوا کسی کو پکارتاہے،تو بہت بلند اور بڑا ئیوں والا ہے۔
9. حیات بخش اور نفع رسانی اور ساری حکمرانی صرف تیری ہے،ہم تجھ ہی سے ہدایت خواہ ہیں ا ور تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔13؎
عربی سے اردو میں ہونے والے تراجم نے خواہ وہ نظم ہوں یا نثر ، نہ صرف دونوں تہذیبوں کے درمیان فکری رابطے کو مضبوط کیا بلکہ علمی سرمائے کو عام کر کے اردو قارئین کو عالمی ادب سے روشناس بھی کرایا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عربی زبان و ادب سے اردو میں ترجمے کی روایت اردو زبان کی بقااور ارتقاکے سفر میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے نیز عربی متون میں مدفون اَن کہی انسانی اقدار کو اردو زبان و ادب میں منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

حواشی
1. ترجمہ کافن اور روایت،مضمون نگار:ف س اعجاز،مرتب:ڈاکٹر قمر رئیس، ایجو کیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ 2004، ص:153-154
2. ترجمہ کا فن اور روایت،مرتب:ڈاکٹر قمر رئیس، ص:248-249
3. ایضاً، ص:251-257
4. ایضاً، ص:258
5. ایضاً، ص:264-265
6. نجیب محفوظ اپنی نگارشات کے آئینے میں: ڈاکٹر بدرالدین الحافظ،دہلی، 1989 ص:31
7. شیر اور شہری، زکریا تامر کے منتخب افسانے، مترجم:ڈاکٹر محمد علی اختر ندوی،سرِ ورق میڈیا اینڈ پبلشنگ ہاؤس، بہار۔2022۔ ص: 51-52
8. جدید قاہرہ،مترجم:محمد اسلم اصلاحی۔براؤن پبلی کیشنز،نئی دہلی 2015،ص:167
9. ہندستان کا سفر،تحریر: امینہ السعید، مترجم، سید احسان الرحمن، ایڈ کونسپٹ، دہلی 2004، ص: 6
10. آئینہ: منی عبد القادر العلی، مترجم :عمیر منظر، نیو ویو پبلی کیشنز، نئی دہلی، ص:31
11. شکستہ پر:خلیل جبران،مترجم : کوثر مظہری، عرشیہ پبلی کیشنز،دہلی 2025،ص: 60
12. میری زندگی،اَحمد اَمین،مترجم: سید احسان الرحمن، ہند ایشین پبلی کیشنز،دہلی2015،ص:25
13. عربی میں نعتیہ کلام:مولانا عبداللہ عباس ندوی،مکتبہ اسلام لکھنؤ 2005،ص:76-77
14. عربی شاعری کی نئی آوازیں،مرتب:زبیر احمد فاروقی،مترجم عبد الماجد قاضی، ساہتیہ اکادمی،نئی دہلی، 2005، ص:89-93


Prof. Md. Qutbuddin
Chairperson, Centre of Arabic and African Studies
School of Language, Literature and Culture Studies (New Building)
Jawaharlal Nehru University
New Delhi-110067
Mobile: 9999912655
Email: basmaqutb@gmail.com, qutbuddin@mail.jnu.ac.in

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

استعماریت اور فرقہ وارانہ سیاست کی مزاحمت: مولانا آزاد اور ہندوستانی قوم کی تعمیر:مبصر: نایاب حسن

  ممتازمجاہد آزادی،پہلے وزیر تعلیم اور نابغۂ روزگار مفکر،عالم دین، دانشور و ادیب مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت اور افکار پر اردو سمیت مختلف زبانوں میں سیکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں

بچوں کے ادب کے فروغ میں رسالہ نو رکی خدمات – مضمون نگار: سعدیہ سلیم

   اردو رسائل کی تاریخ کا جب بھی ذکر ہوگا رسالہ ’نور‘ کا شمار ان رسالوں میں ہوگا جس کے بطن میں علم کے خزانے موجود ہیں۔اس رسالے پر جب

پنڈت آنند موہن زتشی گلزار دہلوی اردو کی گنگا جمنی تہذیب کے آخری سفیر : مضمون نگار معصوم مراد آبادی

  میں پچھلے چالیس پینتالیس برسوں سے دہلی کی شعری اور ادبی زندگی کا مشاہدہ کررہاہوں۔ ایک طالب علم کے طور پراس شہرکے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں کو قریب