تلخیص
یہ مضمون ہندی کہانیوں کے اردو تراجم کے ادبی اور فکری اثرات کا جائزہ لیتا ہے۔ اس میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ترجمہ محض ایک لسانی عمل نہیں بلکہ مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور فکری رویوں کے درمیان مکالمے کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ معاصر ہندی کہانی کے متعدد نمائندہ متون کے مطالعے سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ ہندی فکشن نے فرقہ واریت، جبر، ذات پات، قبائلی زندگی، عورت کی شناخت، متوسط طبقے اور حاشیہ رسید طبقات کے نفسیاتی مسائل اور عدمِ تحفظ جیسے موضوعات کو جس وسعت اور بے باکی کے ساتھ پیش کیا ہے، اس نے اردو قارئین کے لیے نئے فکری اور ادبی امکانات کے در وا کیے ہیں۔
مضمون میں موضوعاتی تنوع کے ساتھ ساتھ معاصر ہندی کہانی کی اسلوبیاتی خصوصیات، علامتی نظام، بیانیہ تکنیکوں اور فنی تجربات کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے۔ مختلف کہانیوں کے مطالعے کی بنیاد پر یہ استدلال پیش کیا گیا ہے کہ ہندی سے اردو میں ہونے والے تراجم نے اردو ادب کے فکری اور جمالیاتی افق کو وسیع کیا، نئے مباحث کو جنم دیا اور قارئین کو ہندوستانی معاشرے کی پیچیدہ سماجی، سیاسی اور ثقافتی حقیقتوں سے روشناس کرایا،جس سے اس خیال کی توثیق ہوتی ہے کہ ترجمہ نہ صرف دو زبانوں کے درمیان ادبی رابطے کا وسیلہ ہے بلکہ تخلیقی شعور کی توسیع اور فکری بصیرت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کلیدی الفاظ
ترجمہ نگاری، اردو-ہندی ادبی روابط، معاصر ہندی افسانہ، بین الثقافتی مکالمہ، فکری تبادلہ، موضوعاتی تنوع، اسلوبیاتی مطالعہ، علامتی بیانیہ، نفسیاتی تجزیہ، صنفی شناخت، قبائلی بیانیہ، متوسط طبقے کی نفسیات، تہذیبی شعور، تکنیک، ثقافتی نمائندگی، سماجی حقیقت نگاری۔
———
زبانیں محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ تہذیبی روایات، ثقافتی اقدار اور اجتماعی تجربات کے ایک وسیع سرمایے کی امین بھی ہوتی ہیں۔ مختلف زبانوں کے درمیان ان تجربات اور افکار کی منتقلی کا سب سے مؤثر وسیلہ ترجمہ ہے جو مختلف معاشروںاور ثقافتوں کے درمیان رابطے اور مکالمے کی راہیں ہموار کرتا ہے۔ اسی لیے ترجمے کو ایک مستقل فن اور سنجیدہ علمی سرگرمی قرار دیا جانے لگا ہے،جس میں مترجم کی فہم، مشاہدہ، تجربہ، علمی استعداد اور ثقافتی شعور بہت اہمیت کاحامل ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو ترجمہ ایک زبان کے ادبی اور فکری سرمایے کو دوسری زبان کے قارئین تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ ثقافتی تبادلے کا وسیلہ بھی بنتا ہے۔
اردو اور ہندی اگرچہ ایک ہی تہذیبی اور جغرافیائی پس منظر کی زبانیں ہیں لیکن دونوں کے ادبی رجحانات اور موضوعات میں بسا اوقات نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ ہندی افسانہ نگاروں نے جدید شہری زندگی، ذات پات کے نظام، قبائلی مسائل، عورتوں کے استحصال، مذہبی اور سماجی تعصبات، محبت، حاشیہ رسید طبقات(مثلاً دلت،تھرڈ جنڈروغیرہ)کی مشکلات اور معاشی نابرابری جیسے موضوعات کو بڑی جرأت اور وسعت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ان موضوعات میں سے بعض ایسے ہیں جن پر اردو ادب میں یا تو کم لکھا گیا ہے یا سیاسی اور تہذیبی نزاکتوں کے باعث ان پر اظہار نسبتاً محتاط انداز میں کیا گیاہے۔ مزید یہ کہ ہندی کہانیوں کا اسلوب، کردار نگاری اور مقامی فضا اردو قاری کے لیے ایک نیا تجربہ ثابت ہوئی ہے۔ ان تراجم نے اردو ادب کے قارئین کو یہ احساس دلایا کہ انسانی مسائل زبان اور علاقے کی حدود سے بالاتر ہوتے ہیں۔ کسی مخصوص طبقے کی محرومی، عورتوں کی جدوجہد یا پسماندہ طبقے کے فرد کی معاشرتی کشمکش خواہ کسی بھی زبان میں بیان ہو، اس کی معنویت عالمی اور انسانی ہوتی ہے۔
ہندی اور اردو کے تعلق کو دیکھتے ہوئے بعض حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ جب دونوں زبانیں ایک مشترک لسانی بنیاد رکھتی ہیں، ان کی بنیادی نحوی ساخت میں کوئی نمایاں فرق نہیں اور برصغیر کے ایک بڑے حصے کے لوگ دونوں زبانوں کو کسی نہ کسی حد تک سمجھ لیتے ہیں، تو پھر ہندی سے اردو ترجمے کی ضرورت کیا ہے؟ بظاہر یہ اعتراض معقول معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں زبان اور ادب کے تعلق کو محض فہمِ زبان کے مسئلے تک محدود کر دینے کی غلطی کارفرما ہے۔ کسی متن کو سمجھ لینا اور کسی ادبی روایت سے حقیقی معنوں میں استفادہ کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ جو شخص ہندی بول چال یا روزمرہ کی سطح پر سمجھتا ہو، وہ ہندی ادب، بالخصوص معاصر ہندی فکشن کے پیچیدہ فنی اور فکری مباحث سے بھی واقف ہو۔
زبان کا جان لینا اور اس زبان کی ادبی روایت سے حقیقی آشنائی حاصل کرنا دو مختلف امور ہیں۔ ایک شخص ہندی بول چال کو سمجھ سکتا ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ معاصر ہندی فکشن کی فنی جہتوں، اس کے فکری مباحث، اس کے بیانیہ تجربات اور اس کی تہذیبی معنویت تک بھی رسائی رکھتا ہے۔ گذشتہ چند دہائیوں میں ہندی فکشن میں موضوع، ہیئت، تکنیک اور اسلوب کی سطح پر جو متنوع اور بعض اوقات حیرت انگیز تجربات سامنے آئے ہیں، انھوں نے ہندوستانی ادب کے منظرنامے کو نئی سمتوں سے روشناس کرایا ہے۔ سماجی حاشیوں کی آواز، شناخت کے بحران، ذات پات کی سیاست، صنفی مسائل، تاریخی حافظے، علاقائی تجربات اور اکیسویں صدی کے ہندوستان کے دیہی علاقوں کے مسائل کو ہندی فکشن نے جس تنوع اور جرأت کے ساتھ برتا ہے، وہ اردو قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث اس لیے بھی ہے کہ اردو کہانیوں میں شہری زندگی کی بہتات اس قدر ہے کہ دیہات کہیں غائب ہو گیا ہے۔
یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ اردو کی جغرافیائی اور ثقافتی وسعت اب صرف شمالی ہندوستان یا برصغیر تک محدود نہیں رہی۔ اردو آج ایک عالمی زبان کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ خلیجی ممالک، یورپ، شمالی امریکہ اور دنیا کے مختلف حصوں میں اردو کے لاکھوں قارئین موجود ہیں جن کی اکثریت ہندی زبان سے براہِ راست واقف نہیں۔ اسی طرح ہندوستان کے جنوبی علاقوں میں بھی اردو خواں حلقوں کی ایک بڑی تعداد ہندی ادبیات تک براہِ راست رسائی نہیں رکھتی۔ چنانچہ ہندی سے اردو ترجمہ محض دو زبانوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر ادبی برادری کو اہم تخلیقی تجربات سے جوڑنے کا وسیلہ بھی ہے۔
درحقیقت ہندی سے اردو ترجمے کی اہمیت کا سوال زبانوں کی قربت یا دوری کا سوال نہیں بلکہ ادبی امکانات کے اشتراک کا سوال ہے۔ جتنی قربت دو زبانوں میں ہوتی ہے، اتنے ہی زیادہ امکانات ان کے درمیان فکری اور تخلیقی تبادلے کے پیدا ہوتے ہیں۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو ہندی سے اردو ترجمہ اردو ادب کے لیے کسی خارجی اثر کو قبول کرنے کا عمل نہیں بلکہ اپنے ہی تہذیبی اور سماجی سیاق کے ایک دوسرے تخلیقی اظہار سے مکالمہ کرنے کی صورت ہے۔ یہ مکالمہ اردو قاری کو نئے موضوعات، نئے اسالیب، نئی تکنیکوں اور نئے زاویہ نظر سے آشنا کرتا ہے اور اس کے فکری افق کو مزید کشادہ بناتا ہے۔
گذشتہ چند دہائیوں میں ہندی فکشن میں موضوع، ہیئت، اسلوب اور بیانیے کی سطح پر ایسے متنوع اور جرأت مندانہ تجربات سامنے آئے ہیں جنھوں نے ہندوستانی ادب کے منظرنامے کو نئے امکانات سے روشناس کیا ہے۔ شناخت، حاشیہ، جنس، ذات، مذہب، تاریخ، یادداشت، تشدد، گلوبلائزیشن اور بدلتی ہوئی سماجی ساخت جیسے موضوعات پر ہندی میں جو تخلیقی کام ہوا ہے، اس نے نہ صرف نئے سوالات پیدا کیے ہیں بلکہ ان سوالات کے اظہار کے لیے نئی تکنیکیں اور نئے بیانیے بھی وضع کیے ہیں۔ ان تجربات سے اردو قارئین کو روشناس کرانا محض ادبی خدمت نہیں بلکہ اردو کے فکری افق کو وسیع کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
ہندی کہانیوں کے اردو تراجم نے اردو قارئین کو نہ صرف ایک نئے ادبی ذائقے اور اسلوب سے آشنا کیا ہے بلکہ اس حقیقت سے روبرو کرایا ہے کہ راست انداز بیان کے باوجود مکالماتی داؤ پیچ کے توسط سے کس طرح معنویت پیدا کی جاتی ہے۔اردو فکشن کے روایتی، جدید، مابعد جدید یا فلسفیانہ رنگوں سے مختلف ایک نئے رنگ سے روبرو ہونے کے لیے ہندی فکشن کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اردو فکشن میں قومی و بین الاقوامی مسائل کی پیشکش میں عموماً جذبابیت کا غلبہ نظر آنے لگتا ہے جب کہ ہندی افسانوں میں مختلف تکنیکوں کے مناسب استعمال سے بیانیہ میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ دوسری اہم بات یہ کہ اکیسویں صدی میں اردو کے فکشن نگاروں کی توجہ افسانے کے مقابلے ناول کی طرف زیادہ ہے اور قاری نہ صرف جادوئی حقیقت نگاری کے سحر میں گرفتار دکھائی دیتا ہے بلکہ اپنی دلچسپیوں کا سامان کافکائیت کی بھول بھلیوں میں تلاش کرتا نظر آتاہے۔اس کے برعکس، ہندی فکشن نگاروں نے نسبتاً راست، متوازن اور بیانیہ اسلوب اختیار کیا اورانھوں نے اظہار کے نئے امکانات کو قبول کیا، تاہم صحافتی اندازِ بیان سے فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے ایک ایسا اسلوب تشکیل دیا جس میں معاصر زندگی کے پیچیدہ معاملات بھی مؤثر ادبی پیرایے میں بیان کیے گئے ہیں۔ہندی فکشن کا ذکر آتے ہی عموماً نرمل ورما، موہن راکیش، کملیشور، کرشنا سوبتی اور ان کے ہم عصروں کو ہی ہندی کا مکمل سرمایہ سمجھ لیا جاتا ہے، حالاں کہ اکیسویں صدی میں منظرعام پر آنے والے فکشن نگاروں کا مطالعہ اس تصور کی تردید کرتا ہے۔ نئی نسل کے ہندی ادیبوں نے نہ صرف موضوعات کے دائرے کو وسعت دی ہے بلکہ اسلوب، بیانیہ،فن اورتکنیک کی سطح پر بھی اپنے آپ کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ایک نئی تخلیقی روایت تشکیل دی ہے۔ ہندی کے نئے فکشن نگار روایتی قصہ گوئی، خطی پلاٹ اور واقعاتی ترتیب کو پس منظر میں رکھ کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں جس میں خاموشیاں، اشارے، مکالمے، داخلی خود کلامی اور علامتیں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ اردو میں نیر مسعود نے اس طرح کی کہانیوںکی طرح ڈالی تھی مگر ان کے بعد کوئی اس جدت سے انصا ف نہ کر سکا۔ اس ضمن میں ان کا افسانوی مجموعہ ’سیمیا‘ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ہندی میں اس حوالہ سے یوگیندر آہوجا کی کہانیاں(لفاظ،ڈاگ اسٹوری،پانچ منٹ، مرثیہ، منانا)، نوین کمار نیتھانی کی کہانیاں( پارس،دم بخود،ڈھلان،چڑھائی)،پرییمود کی کہانیاں (1934کے نیوریمبرگ میں جوں ہوتی ہوئی ایک لڑکی،آبو آندرے کی کھجلی،درشک جس کا اردو ترجمہ تماش بین کے نام سے ہوا،پلنگ)،پرتیکشا کی کہانیاں (بارش کے دیوتا،شیشہ گھر)، منوج روپڑا کی کہانیاں(ٹاور آف سائلنس،ردو بدل ) وغیرہ کو نمونے کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔اس ضمن میں ہندی کی ایک طویل کہانی ’ بعد ان کے‘(نیلاکشی سنگھ) کا ذکر ناگزیر ہے جس میں واقعات سے زیادہ کرداروں کی گفتگو،انداز گفتگو، ذہنی اور نفسیاتی کیفیات سے واقعہ کی تشکیل ہوتی ہے۔ پوری کہانی میں مکالموں کے توسط سے معلومات کے ساتھ ساتھ فلسفیانہ سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ نیلاکشی کی زبان رواں، تہہ دار اور استعاراتی ہے، لیکن اس میں تصنع یا غیر ضروری لفظی آرائش نہیں۔ نظر آنے والی اشیا میں متضاد پہلوؤں کی تلاش،مختصر جملے، وقفے، خاموشیاں اور مکالموں کے درمیان اثبات و نفی کی کشمکش قاری کو متن سے وابستہ رکھتے ہیں۔ قاری کرداروں کے باطن، یاد، احساسِ جرم، محبت، فن اور وقت کے باہمی رشتوں کی جستجو میں بھی شریک رہتا ہے۔
اس کہانی کا مرکزی کردار ایک لڑکی ہے جو پیشے سے بروکر /پراپرٹی ڈیلر ہے۔ وہ محدود وسائل کے ساتھ تنہا اور سادہ زندگی گزاررہی ہے مگر اس کے باطن میں تخلیقی توانائی کا ایک وسیع جہان آباد ہے۔ وہ ایک غیر معمولی مجسمہ ساز ہے اور اس کا فن اس کی باطنی ثروت اور روحانی گہرائی کا مظہر ہے۔ کہانی میں بار بار یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ مورتیاں آنکھیں بند کرکے بناتی ہے۔ یہ محض فنی مہارت نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کی تخلیق خارجی مشاہدے کے بجائے داخلی بصیرت سے جنم لیتی ہے۔ اسی کیفیت کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ ایک موقع پر اس کے ہاتھوں دو مورتیاں ایک جیسی بن جاتی ہیں اور اسے خود اس کا علم نہیں ہوتا۔ اسے اس یکسانیت کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب ایک خریدار ان دونوں مجسموں کی مماثلت سے محظوظ ہو کر اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے، جب کہ عورت اس واقعے کو اپنی فنی شکست اور باعثِ ذلت سمجھتی ہے۔ پھر اس کی زندگی میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب وہ محبت کو دریافت کرتی ہے اور عین اسی لمحہ اس پر منکشف ہوتاہے کہ محبت بھی تخلیق کا سرچشمہ بن سکتی ہے تو وہ آنکھیں کھول کرمورتی بنانا شروع کرتی ہے۔بند آنکھوں سے تخلیقی کارگزاری باطنی کرب اور تنہائی کو جذب کرتی ہے اور کھلی آنکھوں سے وجود میں آنی والی تخلیق محبت، قبولیت اور زندگی سے نئے رشتے کی علامت بن جاتی ہے۔یہ دونوں مراحل عورت کے فنی اور روحانی ارتقا کی مکمل داستان تشکیل دیتے ہیں۔
گرچہ انسان کی داخلی دنیا،یادو اضطراب اور وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے وجود کی کہانی فکشن کے اچھوتے موضوعات نہیں ہیں مگر ان موضوعات کو برتنے کے انداز سے موضوع میں جاذبیت پیدا ہوتی ہے اور نیلاکشی سنگھ نے اس موضوع کو برتنے کے لیے فن تعمیر اور مجسمہ سازی کے ضمن میں ہونے والی گفتگوکو دو جسموں کی گفتگو کا وسیلہ بنایا ہے اور بڑی خوبصورتی سے جنسی قربت کو بھی جسمانی عمل کے بجائے تعمیراتی عمل میں تبدیل کر دیا ہے۔اقتباس دیکھیے:
’’میں درد کا سامنا کرنے میں اس قدر منہمک تھی کہ بدلے میں اسے سکھ نہ دے پانے کی بات میرے ذہن میں آئی ضرور لیکن جلد ہی نکل بھی گئی۔ہم ساتھ ساتھ درد کی سیڑھیاں چڑھ چکے تھے۔جیسا کہ اکثر میرے ساتھ ہوتا ہے کہ سیڑھیاں چڑھنے میں میری سانس پھولنے لگتی ہے،وہی ہوا۔میں بے ساختہ ہانپنے لگی جب کہ وہ پرسکون تھا۔اس نے تھوڑی دیر ٹھہر کر مجھے سانسیں سنبھالنے کا موقع دیا۔میں نے کانپتے ہاتھوں سے اسے چابی تھمائی اور اس نے آہستہ سے دروازہ کھول دیا۔وہ پردے ہٹاتا گیا اور بار بار ہٹائے جانے کے بعد ہی میں جان پا رہی تھی کہ میرے اندر کے روشن دان کہاں کہاں چھپے تھے۔روشنی،ہوا اور سانسیں،میرے پورے جسم میں داخل ہو رہی تھیں۔وہ فرش،دیوار اور چھت پر پورے انہماک سے پچی کاری کر رہا تھا اور میں جسم کا عمارت میںتبدیل ہونے کا عمل نیم وا آنکھوں سے محسو س کر رہی تھی۔وہ ایک لو کی طرح میرے اندر کوند رہا تھا۔ایک سرے سے دوسرے سرے تک۔یکساں رفتار……یکساں روشنی۔یک بارگی وہ زور سے بھبھکا….اپنی پوری چمک کے ساتھ۔میں نے آنکھیں موند لیں۔وہ عروج کا لمحہ تھا۔ایسا مجھے لگا لیکن ایسا تھا نہیں۔
سکھ اس کے آگے تھا۔وہاں،جہاں اس نے میرے اندر ایک روشن دان دریافت کر لیا تھا۔وہاں روح تھی۔اس وقت وہیں ہماری روح تھی۔اس نقطہ پر آ کر سب کچھ جامد ہو گیا۔اس کے آگے میں نے محسوس کرنے کی صلاحیت گنوا دی۔اور جب مجھے ہوش آیا،میں عمارت سے واپس اپنی جون میں لوٹ چکی تھی۔میں نے اسے جاتے ہوئے دیکھا…..آخری جھلک۔آخری فریم۔بس!‘‘
(بعدان کے،نیلاکشی سنگھ،اور پبلی کیشن نئی دہلی،ص110)
یہ منظر پوری کہانی کی فنی اساس ہے۔ یہاں عورت کا جسم عمارت بن جاتا ہے، عاشق معمار بن جاتا ہے اور محبت تعمیر کا عمل۔ یہ محض تشبیہ نہیں بلکہ پورے بیا نیے کا مرکزی استعارہ ہے۔یہ ایک ایسی کہانی ہے جس میں فکشن، فنِ تعمیر، مجسمہ سازی اور بصری جمالیات ایک دوسرے میں مدغم ہو کر ایکInterdisciplinaryبیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔ یہاں کہانی صرف زبان سے نہیں بلکہ عمارت، مجسمے، روشنی، جگہ (Space) اور جسم کی علامتوں کے ذریعے بھی بیان ہوتی ہے۔ یہی اس کہانی کی سب سے بڑی فنی اور اسلوبیاتی انفرادیت ہے۔گھر، مجسمہ، رسید، دو گھڑیاں، روشن دان، نیل پالش، شیشے پر ابھرتی ہوئی مشترکہ شبیہ اور میوزیم وغیرہ محض اشیا نہیں بلکہ کرداروں کی یادداشت، شناخت، وقت، تعلق اور تخلیقی بقا کی علامتیں ہیں۔ آخری منظر، جہاں میوزیم میں رکھی مورتی پر مرد اور عورت دونوں کے چہرے ایک ساتھ منعکس ہوتے ہیں، وہ اس کہانی کا مؤثر علامتی اختتام ہے جو اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ محبت، فن اور یادداشت آخرکار ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں اور ان کی الگ الگ شناخت باقی نہیں رہتی۔
ہندی سے اردو میں ہو نے والے تراجم نے دونوں زبانوں کی ادبی فضا کو بھی مضبوط بنایا ہے۔ ان تراجم کی بدولت وہ حقائق سامنے آئے جو محسوس تو کیے جاتے تھے مگراردو میں مصلحتاًمعرض اظہار میں نہیں آتے۔ اس ضمن میں چندن پانڈے کی کہانی ’بھولنا ‘ ایک مؤثر حوالہ ہے جو اکیسویں صدی کے ہندوستانی سماج، ریاستی نظام، متوسط طبقے کی نفسیات، سرمایہ دارانہ سوچ، تعلیمی نظام اور انسانی بے بسی پر ایک طنزیہ اور حقیقت پسندانہ افسانہ ہے۔کہانی کا مرکزی کردار گلشن ایک ایسے متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے جو اپنے مستقبل کی تمام تر توقعات گلشن کی ملازمت سے وابستہ کیے ہوئے ہے۔ خاندان کے تمام خواب، والد کی بیماری، بہن کے علاج، بہتر مکان، خوش حال زندگی اور معاشی آسودگی کی تمام تمنائیں اس ایک فرد کی کامیابی پر منحصرہیں۔ اس ذمہ داری کے بوجھ تلے وہ گھر اورمعاشرے سے اس قدر کٹ جاتا ہے کہ اس کی پہچان تک مشکوک ہو جاتی ہے۔ وہ پڑھنے لکھنے کی وجہ سے گھر سے باہر نہیں نکلتا،حتی کہ محلے والے اس کی شکل سے نا آشنا رہتے ہیں،نتیجے کے طور پر وہ اس بیانیہ کا شکار ہو جاتا ہے جسے سسٹم اور عام لوگوں کے مسلسل دہرائے جانے کی وجہ سے قبول کر لیا گیا ہے۔ اس طرح مصنف نے نہ صرف معاشی صورتِ حال کوبیان کیا ہے بلکہ اس نفسیاتی بوجھ کو بھی آشکار کیاہے جو متوسط طبقہ اپنی آئندہ نسل کو منتقل کرتا ہے۔چندن پانڈے نے اس سے آگے بڑھ کر سسٹم اور مخصوص سیاسی بیانیے پر بھی طنز کیا ہے کہ کس طرح ایک مفروضے کے تحت روزمرہ کی زندگی، تعلیمی ادارے، مقتدرہ کے رویے اور عوامی نفسیات میں بھیانک تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ اس قسم کے براہِ راست سیاسی و سماجی مسئلے ہندی افسانے کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ یہاں مصنف کسی جذباتی ہمدردی کے بجائے اس نظام پر سوال اٹھاتا ہے جو ایک باصلاحیت انسان کو مشکوک بنانے اور تباہ کرنے کے بعد اس کے پورے خاندان کو بھی معاشی، نفسیاتی اور سماجی شکست سے دوچار کر دیتا ہے۔ گلشن کا محض شک کی بنا پر تشدد کا شکار ہوکر بینائی سے محروم ہونا ایسا المیہ ہے جو اقلیتی طبقے کے خوابوں کی وحشت انگیز تعبیر کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اسی طرح جبر،سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید، تعلیم کا معاشی تصور، متوسط طبقے کی نفسیاتی الجھنیں اور انسانی وقار کی شکست جیسے موضوعات ہندی افسانے میں نہایت بے باکی اور وسعت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ اردو میں ان موضوعات پر تخلیقی کام ہوا ہے، تاہم ہندی افسانہ انھیں زیادہ براہِ راست، غیر مصلحت پسندانہ اور سیاسی شعور کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ اس ضمن میں اماشنکر چودھری کی کہانی ’سویٹ ہوم ‘ اور وندنا راگ کی کہانی ’یوٹوپیا ‘ قابل ذکر ہیں جن میں سماجی ہم آہنگی،بھائی چارہ اور آپسی محبت کی جڑوںکو میڈیاکے بیانات سے متاثر ہو کر پروان چڑھنے والی نسل کاٹنے کے درپے ہے۔
فرقہ وارانہ سیاست، شہری منصوبہ بندی میں امتیازی رویے اور اقلیتی آبادی کے تدریجی استحصال پر انل یادو نے بہت عمدہ لکھا ہے۔ انھوں نے بنکروں کی آبادی پر مشتمل ایک بستی مومن پورہ کے باسیوں کے مقدر میں لکھی اذیتوں کو پینٹ کیا ہے جہاں انسان قدرتی آفات سے کم اور سماجی و سیاسی بے اعتنائی سے زیادہ ہلاک ہوتے ہیں۔ کہانی کا آغاز ہی چھ معصوم بچوں کے تابوتوں سے ہوتا ہے، جو قاری کو براہِ راست ایک المناک فضا میں داخل کر دیتا ہے۔ترقیاتی منصوبوں پر عملی اقدام کے دعوؤں کے باجود مومن پورہ کے لوگ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ سیور کا پانی، مردہ جانور، سڑتی ہوئی جھیل اور بدبو کی وجہ سے ان کا جینا عذاب ہے۔ مصنف نے پورے منظر کو اس شدت سے پیش کیا ہے کہ قاری صرف واقعہ نہیں پڑھتا بلکہ اس اذیت کو محسوس بھی کرنے لگتا ہے۔انتظامیہ کی نااہلی اور دانستہ غفلت کے نتیجے میںپورے شہر کا گندا پانی مومن پورہ کا مقدر بن جاتا ہے،پانی کی نکاسی کا انتظام نہیں کیا جاتا، اسپتال مریضوں کو داخل کرنے سے انکار کر دیتے ہیں، متعلقہ محکمے ذمے داری ایک دوسرے پر ڈال دیتے ہیں اور انتظامیہ اس المیے کو معمولی ’جل بھراؤ‘ قرار دے کر اپنی ذمے داری سے دست بردار ہو جاتی ہے۔ اس طرح کہانی یہ سوال اٹھاتی ہے کہ جب مقتدرہ کسی مخصوص طبقے کو مسلسل بنیادی سہولتوں سے محروم رکھے تو کیا یہ بھی تشدد کی ایک صورت نہیں؟
افسانے کی علامتی ساخت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ سیاہ پانی، ناؤ، چھ تابوت، گرتے ہوئے مکان، بجتے ہوئے گھنٹے، پربھات پھیری اور ناؤ پر لکھا جملہ یہ سب اپنی ظاہری معنویت سے آگے بڑھ کر سیاسی اور سماجی استعاروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ناؤ زندگی کی آخری امید ہے، جبکہ اس پر درج جملہ اس تلخ حقیقت کی علامت ہے کہ اقتدار، میڈیا اور سماجی تنظیمیں اقلیتوں کی طرف صرف اس وقت متوجہ ہوتی ہیں جب تشدد ایک سیاسی خبر بن جائے۔ روزمرہ کی خاموش اموات اور مسلسل محرومی کسی کی توجہ حاصل نہیں کرتیں۔
انل یادو نے کہانی میں سر رئیلزم کی تکنیک کو نہایت فنکارانہ انداز میں استعمال کیا ہے۔ پانی کا بولنا، لہروں کا انسانوں سے مکالمہ کرنا اور فضا کا کرداروں کے ساتھ ہم کلام ہونا حقیقت اور علامت کو اس طرح باہم ملا دیتا ہے کہ قاری ایک ساتھ دو سطحوں پر کہانی کو سمجھتا ہے۔ ایک سطح پر سیلاب موجود ہے اور دوسری سطح پر وہ پورا نظام جو اس سیلاب کو ایک مخصوص آبادی کے خلاف مہلک بنا دیتا ہے۔افسانے کا اختتام اس زاویے کو مزیدمضبوط کرتا ہے۔ ایم سی سی کے نوجوان اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اگر ٹکراؤہوگا تو کم از کم دنیا ان کی موجودگی کو تو محسوس کرے گی۔ اس لیے ان کی دعا امن کے لیے نہیں بلکہ اختلاف اور تصادم کے لیے ہوتی ہے۔ یہ صورتِ حال انسانی معاشرے کی ایسی المناک تصویر پیش کرتی ہے جہاں امن سے زیادہ تشدد کو توجہ ملتی ہے۔ اس کہانی میںمنظرنگاری، علامتی اظہار، طنز، سیاسی شعور، مقامی زبان، لوک عناصر اور بیانیہ کی روانی نے مل کر ایک ایسا متن تشکیل دیا ہے جو بیک وقت ادبی بھی ہے اور دستاویزی بھی۔ مصنف کسی نعرے بازی کے بغیر قاری کو اس مقام تک لے آتا ہے جہاں اسے حالات کی سنگینی کا ادراک ہونے لگتا ہے۔
وندنا راگ کے افسانے ’یوٹوپیا‘میں فرقہ واریت کو کسی بڑے سیاسی واقعے کے طور پر نہیں بلکہ روزمرہ کی زندگی میں سرایت کرنے والے ایک تدریجی عمل کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ افسانے میں نجو کے گھرانے کی سادگی، محبت بھری اور معاشی جدوجہد سے عبارت زندگی کے ساتھ ساتھ یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سماجی فضا آہستہ آہستہ تبدیل ہوتی ہے۔ پہلے مولوی عثمان علی کی گفتگو مسلمانوں کے اندر عدمِ تحفظ اور علیحدگی کے احساس کو ابھارتی ہے، پھر اسی کے متوازی رام موہن جیسے کردار اچیتانند گوسائی جیسے بے مقصد نوجوان کی ذہنی تشکیل کرتے ہیں۔ مذہبی بنیادوں پر کسی کو ظالم و مظلوم ثابت کرنے کے بجائے یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ سیاسی و مذہبی بالادستی کس طرح ذہن پر پردے ڈال دیتی ہے۔اس کہانی میں اچیتانند کی شخصیت اس حقیقت کی علامت بن جاتی ہے کہ ذاتی محرومیاں، بے روزگاری اور شناخت کا بحران کس طرح فرقہ وارانہ نظریات کے لیے زرخیز زمین فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح نجو کے گھر میں آہستہ آہستہ پردوں کا لگ جانا، لباس میں تبدیلی، ’خدا حافظ‘کی جگہ ’اللہ حافظ‘ کا رواج اور برسوں پرانے ہندو مسلم تعلقات میں اجنبیت کا پیدا ہونا اس امر کی علامت ہے کہ فرقہ واریت سب سے پہلے انسان کے معمول اور طرزِ زندگی اور سماجی روابط کو متاثر کرتی ہے۔ وندنا راگ نے نہایت جرات کے ساتھ مذہبی سیاست، شناخت کی سیاست اور اکثریتی و اقلیتی ذہنیت، دونوں کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ ایسے موضوعات اردو افسانے میں نسبتاً کم شدت اور کم صراحت کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔
ابتدا میں کہا گیا تھا کہ ہندی کہانی جدید ہندوستان کے متوسط طبقے کی عورت اور اس کی شناخت، ازدواجی رشتوں کی نفسیاتی پیچیدگی اور بدلتی ہوئی سماجی قدروں کو بے باکی سے موضوع بناتی ہے۔ یوگیتا یادو کا افسانہ’ غلط پتے کی چٹھیاں‘اس صورت حال کی عمدہ مثال ہے۔ اس کہانی میں منجری اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ صلاحیت رکھنے کے باوجود شادی کے بعد گھریلو ذمے داریوں میں اس طرح جکڑدی جاتی ہے کہ اس کی اپنی شخصیت، خواہشات اورصلاحیت پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ ایم بی اے جیسی اعلیٰ ڈگری رکھنے والی منجری کا باورچی خانے، بچوں کی تربیت اور خاندان کی خدمت تک محدود ہو جانا دراصل پدر سری معاشرت پر ایک گہرا طنز ہے، جہاں عورت کی قابلیت کو اس کی انفرادی شناخت کے بجائے خاندانی سہولت کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے۔کہانی کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ عورت کے جذباتی خلا کو کسی اخلاقی وعظ یا رومانوی سنسنی کے بجائے نفسیاتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کنک کپور کی مسلسل نگرانی، تحقیر آمیز لہجہ، ملکیت کا احساس اور دوسری طرف کبیر کی نرم خوئی، احترام اور فکری قربت منجری کے اندر ایک نئے احساس کو جنم دیتی ہے۔ یہاں مصنفہ نے ازدواجی تعلقات کے اس پہلو کو موضوع بنایا ہے کہ محبت صرف معاشی آسودگی یا سماجی تحفظ کا نام نہیں بلکہ احترام، مکالمے اور جذباتی شراکت سے وجود پاتی ہے۔ یہی وہ پہلو ہیں جسے ہندی کہانی پوری جرات کے ساتھ پیش کرتی ہے، حالانکہ اردو افسانے میں بھی اس نوع کے جذباتی اور ازدواجی تضادات کوقدرے علامتی یا محتاط انداز میں بیان کیا گیا ہے۔کہانی صرف عورت کے داخلی کرب تک محدود نہیں رہتی بلکہ جدید شہری زندگی، صارفیت(Consumerism)، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ثقافت، خاندانی رشتوں میں اختیار اور نگرانی، ڈیجیٹل ذرائع سے قائم ہونے والے کنٹرول اور تعلیم و پیشے کے باوجود عورت کی غیر مرئی محکومی جیسے مسائل کو بھی نہایت باریک بینی سے آشکار کرتی ہے۔ کنک کپور کا منجری کو ایک فرد کے بجائے اپنی ملکیت سمجھنا، اس کی ہر سرگرمی پر نظر رکھنا اور اس کی شخصیت کو اپنی خواہش کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا جدید تعلیم یافتہ طبقے کی اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں ترقی یافتہ طرزِ زندگی کے باوجود صنفی برتری کا احساس برقرار رہتا ہے۔
کہانی کا اسلوب بھی اپنی نوعیت میں منفرد اور جدید ہے۔ یوگیتا یادو نے کہانی کا آغاز لوک کہانی کے انداز ’ایک تھی ساندلی رانی ‘سے کیا ہے، لیکن چند ہی سطروں بعد قاری کو جدید ماحول میں لے آتی ہیں۔ اس طرح لوک روایت اور جدید حقیقت ایک ہی بیانیے میں یکجا ہو جاتے ہیں۔ سنار، کمہار، مٹی، لوہا، چندن کی خوشبو اور غلط پتے کی چٹھیاں جیسی علامتیں پوری کہانی میں کرداروں کی نفسیاتی کیفیت اور سماجی صورت حال کی نمائندگی کرتی ہیں۔ مٹی اور لوہے کی تمثیل کبیر اور اسمتا کے مزاج کو، جبکہ سونے کی علامت کنک کی مادیت پسند سوچ کو نمایاں کرتی ہے۔ اسی طرح چندن کی خوشبو منجری کی دبی ہوئی شخصیت، اس کی ادھوری خواہشوں اور اس کے باطنی وجود کی علامت بن کر ابھرتی ہے۔ کہانی کا اختتام بھی قطعی فیصلہ صادر نہیں کرتا بلکہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ یہ خوشبو آخر کس کی ہے،سنار کی، کمہار کی یا خود منجری کی جاگتی ہوئی ذات کی۔
اسلوبیاتی سطح پر کہانی داخلی خودکلامی، علامتی بیانیہ، نفسیاتی تجزیے، طنز، استعاراتی پیرایہ اظہار اور جدید مکالماتی انداز کا حسین امتزاج ہے۔ کہانی کار نے کردار وںکی نفسیاتی پیچیدگیوں کو بیان کر کے ہیرو یا ولن ہونے کا فیصلہ قاری کے سپرد کر دیا ہے، اس کہانی سے یہ بھی واضح ہوا کہ عورت کی خودشناسی اور فرد کی آزادی جیسے مسائل کسی ایک خطے یا کمیونٹی تک محدود نہیں بلکہ آفاقی انسانی مسائل ہیں۔ اسی طرح دویا وجے کی کہانی ’ مہانگر کی ایک رات ‘ جدید شہری ماحول میں عورت کے عدمِ تحفظ، خوف اور نفسیاتی اضطراب کو موضوع بناتی ہے۔ اننیا کا کردار اس ذہنی کیفیت کی نمائندگی کرتا ہے جس میں عورت کسی نامعلوم مرد کو ممکنہ خطرہ سمجھنے لگتی ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور کی معمولی حرکات،راستہ بدلنا، گاڑی روکنا، خاموش رہنا، یا کنڈوم کا ملنااننیا کے ذہن میں خوف اور بدگمانی پیدا کر دیتی ہیں۔ یہ خوف محض اس کے ذاتی وہم کا نتیجہ نہیں بلکہ ان خبروں، واقعات اور سماجی حالات کا پیدا کردہ ہے جن میں خواتین کے خلاف جرائم معمول بنتے جا رہے ہیں۔ میڈیا کے غیر ذمے دارانہ بیانات سے پیدا کردہ افراتفری اور اشتعال پر مبنی کہانیاں اردو میںاس انداز سے کم لکھی گئی ہیں۔مشرف عالم ذوقی نے کسی حد تک احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے، اس کے علاوہ عبدالصمد نے اپنے ناول ’کشکول‘میں اشاراتی انداز میں بیان کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہندی کہانیوں کے اردو تراجم نہ صرف اردو ادب کے موضوعاتی دائرے کو وسیع کرتے ہیں بلکہ اردو قارئین میں نئے فکری مباحث کو بھی جنم دیتے ہیں۔
کہانی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اختتام تک یہ منکشف نہیں ہوتا کہ اننیا کے ساتھ واقعی کوئی جرم ہوا یا نہیں۔ڈرائیور کا رویہ بظاہر مددگار ثابت ہوتا ہے لیکن اننیا کے ذہن میں شکوک باقی رہتے ہیں۔ اس طرح مصنفہ یہ باور کراتی ہیں کہ عورت کے لیے صرف جسمانی تشدد ہی مسئلہ نہیں بلکہ اس کا مسلسل خوف بھی ایک مستقل نفسیاتی اذیت ہے۔ یہی خوف اس کے اعتماد، فیصلے اور سماجی تعلقات کو متاثر کرتا ہے۔
نوین ساگر کی کہانی ’مونچھیں‘ عصری ہندی افسانے کی ان نمائندہ تخلیقات میں شمار کی جاسکتی ہے جن میں سماجی حقائق کو طنزیہ اور علامتی اسلوب کے ذریعے نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو اپنی ذاتی شناخت اور برادری کے احساسِ تفاخر میں جیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ پورے جاگیردارانہ اور ذات پات پر مبنی سماجی ڈھانچے پر گہرا طنز ہے۔ مصنف نے رام سنگھ ٹھاکر کے کردار کے ذریعے اس ذہنیت کو آشکار کیا ہے جو بدلتے ہوئے جمہوری معاشرے میں بھی ماضی کی بالادستی اور نسلی برتری کے احساس سے باہر نہیں نکل پاتی۔ بندوق، مونچھیں اور رعب و دبدبہ اس کردار کے لیے سماجی حیثیت کو قائم رکھنے کی علامتیں بن جاتے ہیں۔کہانی کا سب سے نمایاں فنی پہلو اس کے اسلوب کا نیا پن ہے۔ نوین ساگر نے روایتی پلاٹ یا ڈرامائی واقعات پر انحصار کرنے کے بجائے روزمرہ زندگی کے معمولی واقعات، مکالموں، طنزیہ تبصروں اور راوی کے مشاہد ے سے پوری فضا تشکیل دی ہے۔ راوی خود بھی کہانی کا ایک فعال کردار ہے جو بیک وقت واقعات کا مشاہدہ کرتا ہے، ان پر تبصرہ بھی کرتا ہے اور اپنی حس مزاح کو بروئے کار لاکرکہانی کو آگے بھی بڑھاتا ہے۔ اس طرح افسانہ محض ایک واقعے کی روداد نہیں رہتا بلکہ سماجی نفسیات کی پرتیں کھولنے والا بیانیہ بن جاتا ہے۔اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’پرتاپ جینتی پر اس بار سرکاری دفتر بند رہے۔ٹھاکر اس کے لیے برسوں سے کوششیں کررہے تھے۔ وہ بہت ناراض تھے کہ ایرے غیروں کی جینیوں پر تو چھٹی رہے اور رانا پرتاپ کا کہیں شمار ہی نہ ہو۔بات سچی تھی۔ اتفاق سے وزیر اعظم ٹھاکر تھے اس لیے وہ اس سچائی کو محسوس کرسکے۔انھوں نے چھٹی کا سرکاری اعلان کروایا تو شہر بھر کے ٹھاکروں نے ایک بڑے ہال میں اکٹھا ہونے کا فیصلہ کیا۔ پرتاپ جینتی کا دن ہی اس کے لیے چنا گیا۔ٹھاکر لوگ پوری طرح سے روایتی پوشاکوں میں ملبوس تو نہیں تھے، مگر بندوقیں لانا ہرگز نہ بھولے تھے۔پتلون قمیص، پتلون کرتا، کرتا پاجامہ، دھوتی قمیص ہر طرح کی پوشاک پر کارتوسوں کی پیٹیاں کسے، کندھوں پر بندوقیں ٹانگے ہوئے،وہاں پہنچنے والوں میں سے زیادہ تر لوگوں کی مونچھیں تھیں۔مونچھیں طرح طرح کی تھیں جن میں بھاری گل مچھوں سے لے کر چھوٹی نوکدار مونچھوں تک پچیسوں طرح کی قسمیں تھیں۔سب کے چہروں پر رعب تھا اور وہ ایسی چال سے چل رہے تھے جیسے ان کے دلوں میں سرفروشی کی تمنا ہو۔‘‘
(https://awrurdu.com/naveen-sagar-story-moonchhein/)
افسانے میں مونچھیں صرف جسمانی آرائش نہیں بلکہ مردانہ برتری، جاگیردارانہ وقار، ذاتی غرور اور طاقت کی علامت ہیں، جبکہ بندوق طاقت کے مصنوعی مظاہرے اور تشدد کی نفسیات کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔رام سنگھ ٹھاکر کی پوری شخصیت انہی دو علامتوں کے گرد تشکیل پاتی ہے۔ جب سماج میں اس کی برتری تسلیم نہیں کی جاتی تو وہ بندوق کے ذریعے اپنی شناخت قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر انجام کار یہی بندوق اس کی ذلت اور گرفتاری کا سبب بنتی ہے۔ اس طرح مصنف طنز خفیف کے ذریعے یہ واضح کرتا ہے کہ ماضی کے جاگیردارانہ طمطراق کی جدید شہری معاشرے میں کوئی معنویت نہیں ہے۔ کہانی میں مزاح اور طنز ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہیں کہ قاری بیک وقت مسکرانے اور سماجی حقیقت پر غور کرنے پر بھی مجبور ہوتا ہے۔ مصنف کسی مقام پر براہِ راست فیصلہ صادر نہیں کرتا بلکہ کرداروں کے طرزِ عمل، مکالموں اور حالات سے خود حقیقت کو نمایاں ہونے دیتا ہے۔ یہی جدید افسانوی تکنیک اس کہانی کو فنی اعتبار سے منفرد بناتی ہے۔ہندی سے اردو میں اس کہانی کا ترجمہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس کے ذریعے انھیں ہندوستانی معاشرے میں ذاتی برتری، برادری کی سیاست، مردانہ طاقت کے مظاہرے اور جاگیردارانہ نفسیات جیسے موضوعات پر مبنی ایک منفرد افسانوی تجربہ سامنے آسکا۔
متھلیش پریہ درشی کی کہانی ’لوہے کا بکسا اور بندوق ‘ ہندوستان کے ان سماجی اور سیاسی گوشوں کو موضوع بناتی ہے جو طویل عرصے تک ادبی مباحث سے باہر رہے۔ کہانی کا مرکزی کردار مارکُش لکڑا ایک آدی واسی نوجوان ہے جس کے ذریعے مصنف نے پورے آدی واسی سماج کی تاریخ، محرومی، نقل مکانی، طبقاتی استحصال اور جبر کی تصویر پیش کی ہے۔ کہانی کا آغاز مارکُش کے باپ کی ہجرت سے ہوتا ہے جہاں جنگل سے روزگار کی تلاش میں آنے والے آدی واسی کسانوں اور مزدوروں کو ایک نئی غلامی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ اس طرح کہانی ہندوستان کے زرعی اور جاگیردارانہ نظام کے اس پہلو کو بے نقاب کرتی ہے جس پر عموماًکم توجہ دی گئی ہے۔
مارکُش کی پوری زندگی اس احساسِ محرومی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے کہ وہ اس معاشرے میں ایک غیر ہے۔ اسکول میں اس کی قبائلی شناخت اس کے خلاف استعمال ہوتی ہے، کام کی جگہوں پر اس کی محنت کا استحصال ہوتا ہے اور بعد میں پولیس کی ملازمت میں بھی وہ مکمل طور پر نظام کا حصہ نہیں بن پاتا۔ مصنف نے نہایت ذہانت سے دکھایا ہے کہ ریاست جن طبقات کو ہمیشہ حاشیے پر رکھتی ہے، انہی میں سے نوجوانوں کو اپنی حفاظتی مشینری کا حصہ بھی بناتی ہے۔ یوں مارکُش ایک ایسے کردار میں تبدیل ہوجاتا ہے جو خود بھی مظلوم ہے لیکن ریاستی طاقت کا نمائندہ بھی بن جاتا ہے۔ یہی داخلی تضاد کہانی کا سب سے اہم فکری نکتہ ہے۔پولیس محکمہ کا اندرونی ماحول، کرپشن، غیر انسانی ماحول، عوام سے فاصلے اور طاقت کے غلط استعمال کو انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں دکھایا گیا ہے۔ پولیس لائن، تھانہ، بینک کی پہرے داری، مفت خوری، رشوت، عام آدمی کی بے بسی اور مشینری کی بے حسی جیسے تمام مناظر سوالیہ نشان قائم کرتے ہیں۔ اردو افسانے میں اس نوع کے ادارہ جاتی تنقیدی بیانیے کی مثالیں نسبتاً کم ملتی ہیں، جبکہ ہندی افسانہ اس میدان میں زیادہ بے باکی سے سامنے آتا ہے۔
کہانی کی فنی خوبی یہ بھی ہے کہ مارکُش کی نفسیاتی کیفیت کو داخلی خودکلامی اور علامات کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ لوہے کا بکسا صرف ایک سرکاری صندوق نہیں بلکہ ایسی بند زندگی کی علامت ہے جس میں انسان کی آزادی، خواب اور شناخت قید ہو جاتے ہیں، جبکہ بندوق مقتدرہ کی طاقت کی نمائندہ علامت ہے جو مارکُش کے ہاتھ میں ہونے کے باوجود اس کے وجود کو محفوظ نہیں بنا پاتی۔ وہ بندوق اٹھائے ہوئے بھی خوف، تنہائی، بے معنویت اور شناخت کے بحران میں مبتلا رہتا ہے۔ اس طرح کہانی طاقت کے حصول کے باوجود انسان کے اندر باقی رہ جانے والی بے بسی کو آشکار کرتی ہے۔
مصنف نے زبان اور منظر نگاری کے توسط سے حقیقت نگاری کو نئی سطح عطا کی ہے۔ آدی واسی بستیاں، مزدور ٹولے، تھانے، ریلوے اسٹیشن، بینک، پولیس لائن اور جنگلاتی علاقوں کی تصویریں اتنی جاندار ہیں کہ قاری خود کو ان مناظر کے درمیان محسوس کرتا ہے۔ مقامی الفاظ، دیہی لہجہ اور روزمرہ کی جزئیات کہانی کو دستاویزی رنگ عطا کرتے ہیں۔متھلیش پریہ درشی نے جس طرح اس کہانی میں آدی واسی طبقہ، ماؤ واد، ہجرت، طبقاتی استحصال، شناخت کے بحران اور اقتدار کی ساخت جیسے حساس موضوعات کو پوری جرات اور فنکارانہ دیانت کے ساتھ اپنی تخلیق کا حصہ بنایا ہے وہ اردو قارئین کے لیے نیا تجربہ ہے، اسی لیے یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ ترجمہ ادبی دائرہ کار کو وسیع کرنے کے ساتھ ادب کے روایتی طریقہ کار سے انحراف کر کے نئے پن سے بھی ہم کنار کرنے میں معاون ہوتا ہے۔اس کہانی کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ ہندی کہانی نے ایسے متعدد موضوعات کو افسانوی اظہار کا حصہ بنایا جنھیں اردو افسانے میں اس کے روایتی و ادبی پس منظر کے باعث نسبتاً کم جگہ مل سکی۔
ہندی افسانہ موضوعاتی تنوع کے ساتھ ساتھ اسلوبیاتی اعتبار سے بھی نہایت ثروت مند ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ہندی ادب نے مختلف ملکی اور غیر ملکی زبانوں سے ہونے والے تراجم کو فراخ دلی سے قبول کیا، جس کے نتیجے میں ہندی کہانی کاروں کو اظہار کے نئے اسالیب، تکنیک اور فنی تجربات سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ یہی سبب ہے کہ معاصر ہندی کہانی میں روایت اور جدت، حقیقت نگاری اور علامت نگاری، نیز مقامی اور عالمی ادبی رجحانات کا حسین امتزاج دکھائی دیتا ہے۔اسی تناظر میں منوج روپڑا کی کہانی ’ ٹاور آف سائلنس‘ قابلِ ذکر ہے۔ یہ کہانی موضوع کے اعتبار سے جس قدر تہذیبی شعور کی مکمل آئینہ دار ہے، اسلوبیاتی سطح پر بھی اتنی ہی متنوع اور پختہ ہے۔ کہانی کار نے علامتی، فلسفیانہ اور تمثیلی اندازِ اظہار کو اس مہارت سے یکجا کیا ہے کہ کہانی محض ایک برادری کی کہانی نہیں رہتی بلکہ ایک پوری تہذیب، اس کی تاریخ، شناخت اور زوال کا مؤثر بیانیہ بن جاتی ہے۔ کہانی کی ابتدا میں گلاب کی کلی کے کھلنے کا منظر جس شاعرانہ اور علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے وہ پارسی قوم اور اس کی تہذیب کی علامت بن جاتی ہے۔وہیں کانٹے کی چبھن سے نکلنے والی خون کی ایک بوند ٹیمپٹن دستور کے اندر پیدا ہونے والے تجسس، اضطراب اور فکری بے چینی کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہی بوند بعد میں اس کے پورے وجود اور شعور پر اثر انداز ہوتی ہے اور اسے اپنی قوم، تاریخ اور تہذیبی ورثے کی جستجو پر آمادہ کرتی ہے۔
کہانی کی زبان تخلیقی، استعاراتی اور شعری آہنگ سے مزین ہے۔ مصنف جگہ جگہ اپنے زرخیز تخیل کی مدد سے قاری کے سامنے جیتی جاگتی تصویریں پیش کرتا ہے۔ دھوبی، تالاب کی پرانی عمارتیں، کھڑکیوں سے جھانکتے بوڑھے چہرے، ویران امپریس مل، شکستہ چمنی اور ڈونگر واڑی کے مناظر اس عمدگی سے پیش کیے ہیں کہ ان سے ایک عہد تازہ ہو جاتا ہے۔ راوی کے انداز بیان کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ داخلی اور خارجی دنیا کے درمیان کی حقیقتیں مستقل متحرک رہتی ہیں۔ ایک طرف کردار کے ذہنی سوالات اور فکری الجھنیں ہیں اور دوسری طرف خارجی دنیا کے ٹھوس مناظر اور واقعات۔
کہانی میں فلیش بیک کی تکنیک کا مناسب استعمال کیا گیا ہے۔ کہانی حال سے ماضی اور پھر ماضی سے حال کی طرف بار بار سفر کرتی ہے۔ ٹیمپٹن دستور کے بچپن، جوانی، سنجان کے سفر، والد کی نصیحتوں اور امپریس مل کے زوال کے واقعات ایک دوسرے سے اس طرح مربوط ہیں کہ پوری کہانی ایک مربوط زمانی سلسلے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شعور کی رو (Stream of Consciousness) کی تکنیک بھی نمایاں ہے۔ ٹیمپٹن دستور کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات، تاریخی اور فلسفیانہ خیالات اور مسلسل غور و فکر اس تکنیک کو واضح کرتے ہیں۔
کہانی کی علامتی جہتیں قاری کو متوجہ کرتی ہیں۔ گلاب کی کلی، خون کی بوند، آگ، چمنی اور امپریس مل کے پس پردہ واقعات دریافت کرنے کے تئیں قاری متجسس رہتا ہے۔ غورکرنے پر اندازہ ہوتا ہے آگ محض مذہبی عقیدت کی علامت نہیں بلکہ قوت ارادی، محنت، صنعت اور تہذیبی تسلسل کا استعارہ ہے۔ اسی طرح امپریس مل ایک صنعتی تہذیب کی علامت بن جاتی ہے اور اس کی تباہی دراصل ایک پورے عہد اور نظام کے خاتمے کی نشاندہی کرتی ہے۔ رومنگٹن دستور کا آخری وقت تک بھٹی کی آگ کو زندہ رکھنے کی کوشش کرنا دراصل ان اقدار کو بچانے کی جدوجہد ہے جن پر ایک تہذیب کی بنیاد قائم تھی۔
اس کہانی کے کرداروں میں ٹیمپٹن دستور ایک حساس، متجسس اور فکری شخصیت کے طور پر سامنے آتا ہے جبکہ رومنگٹن دستور روایت، محنت اور تہذیبی وابستگی کی علامت بن جاتے ہیں۔ ہکو فئی کا کردار کہانی کا سب سے منفرد اور دلچسپ کردار ہے جوبیک وقت مزاحیہ اور متاثر کن بھی ہے۔ ہکوفئی کی شوخی، جرات، بے باکی، محبت اور سخت گیری نے کہانی میں ایک خاص رنگ پیدا کر دیا ہے۔ کہانی کے آخری حصے میں مونتاژ (Montage) اور سینمائی تکنیکوں کا استعمال بھی نمایاں ہے۔ رومنگٹن دستور کی یادیں، امپریس مل کے ماضی، نیلامی کے مناظر، کریچ اور مشینوں کی تصویریں ایک دوسرے میں مدغم ہو کر ایک فلمی تاثر پیدا کرتی ہیںجس سے کہانی کی فنی گہرائی اور اثر پذیری میں اضافہ ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ کہانی اپنے موضوع اور جزئیات نگاری کے علاوہ اسلوب اور تکنیک دونوں اعتبار سے ایک بلند پایہ تخلیق ہے۔پارسی کمیونٹی پر لکھی گئی یہ کہانی اردو قارئین کے درمیان بہت مقبول ہوئی، کیونکہ جس تفصیل سے اس کہانی میں ایک ثقافت کو زندہ کیا گیا ہے، اردو کی کہانیوں میں وہ پہلو عنقا ہے۔اردو میں قرۃ العین حیدر کی بعض کہانیوں میں پارسی برادری کا ذکر ہے،نیز ’ڈونگر واڑی کے گدھ‘(علی امام نقوی)دخمہ (بیگ احساس)پارسی کمیونٹی پر لکھی گئی ہیںمگر منوج روپڑا کی اس کہانی میں علامت، تمثیل، فلسفہ، تاریخ، نفسیات اور تہذیبی شعور اس طرح یکجا ہو گئے ہیں کہ کہانی محض خاندان کی کہانی نہ رہ کر ایک پورے عہد کے زوال اور اس کے المیے کی داستان بن جاتی ہے۔
منیشا کلشریشٹھ کی’ کر جاں ‘ تکنیکی اعتبار سے ایک عمدہ کہانی ہے۔ کہانی فریم نیریٹو (Frame Narrative) کی تکنیک پر استوار کی گئی ہے جو ڈاکٹر کے بیان سے شروع ہوتی ہے اور پھر ہیڈ ماسٹر کی تحریر اصل قصہ بیان کرتی ہے۔ مصنف نے تجسس (Suspense) کو ابتدا سے اختتام تک برقرار رکھا ہے، جس کے باعث قاری مسلسل یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ آیا کر جاں واقعی ڈائن ہے یا محض معاشرتی تعصب کا شکار ایک عورت۔ راوی کہانی بیان کرنے کے ساتھ ساتھ نفسیاتی تجزیہ بھی کرتا ہے۔ ہیڈ ماسٹر کے ذہن میں کر جاں کے بارے میں پیدا ہونے والی کشش، شکوک، سحر زدہ ہونے کا احساس اور عقلی توجیہات کہانی کو نفسیاتی گہرائی عطا کرتے ہیں۔ حقیقت اور توہم، عقل اور عقیدے، خوف اور تجسس کی یہ کشمکش کہانی کی فنی ساخت کو مزید مؤثر بناتی ہے۔بظاہر یہ ایک ڈائن کی کہانی معلوم ہوتی ہے، لیکن آگے بڑھنے پر واضح ہوتا ہے کہ راوی نے ڈائن کے روایتی تصور کو توڑ کر ایک ایسی عورت کی زندگی بیان کی ہے جو معاشرتی تعصب، توہم پرستی اور طاقت ور طبقے کے ظلم کا شکار ہے۔ کر جاں دراصل کسی ماورائی قوت کی حامل عورت نہیں بلکہ ایک بے سہارا خانہ بدوش عورت ہے، جسے اس کے جڑی بوٹی کے علم، اجنبیت اور خوب صورتی کے باعث معاشرہ ’ڈائن ‘قرار دے دیتا ہے۔ اس طرح کہانی انسانی نفسیات، اجتماعی خوف اور سماجی رویوں کی تہہ میں اتر کر ایک نئے زاویہ نظر کو جنم دیتی ہے۔اردو قارئین کے لیے یہ موضوع اس لیے اچھوتا ہے کہ معاشرے کی ایک واضح حقیقت ہونے کے باوجود اردو میں اس مسئلے پر کہانی نہیں لکھی گئی۔
اس کہانی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں سرحدی ریگستانی زندگی، بندھوا مزدوری، جاگیردارانہ نظام، بی ایس ایف کی موجودگی، غربت اور قبائلی زندگی کو اخباری رپوٹوں سے مختلف تخلیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے دکھایا ہے کہ کس طرح طاقت ور طبقہ کمزور انسانوں کی آوازوں کو دبا دیتا ہے اور معاشرہ تحقیق کے بجائے افواہوں پر یقین کر لیتا ہے۔ ہیڈ ماسٹر کا کردار اسی ماحول میں عقل، تعلیم اور انسان دوستی کی نمائندگی کرتا ہے، جب کہ کر جاں مظلوم عورت کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔اسلوب کے اعتبار سے کہانی دل کش، منظر آفرین اور تجسس سے بھرپور ہے۔ آغاز ہی میں ڈاکٹر اور ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر کے درمیان گفتگو قاری کے اندر تجسس پیدا کرتی ہے جس کے بعد پوری کہانی ایک پراسرار فضا میں آگے بڑھتی ہے۔ ریگستان، کھاری باؤڑی، ویران حویلی، چمگادڑ، آندھیاں اور سنسان راستے محض پس منظر نہیں بلکہ کہانی کے پر اسرار اور علامتی فضا کو مضبوط بناتے ہیں۔ زبان سادہ مگر ادبی ہے، جس میں مقامی راجستھانی الفاظ، بول چال اور تہذیبی رنگ کہانی کو فطری اور معتبر بنا دیتے ہیں۔ کرجاںاپنے منفرد موضوع، تخیلاتی منظر کشی، ریگستانی فضا کی جاندار منظر نگاری، نفسیاتی کردار نگاری اور فریم بیانیہ کی تکنیک کے باعث ایک کامیاب کہانی ہے۔ یہ کہانی محض ایک عورت کی داستان نہیں بلکہ اس معاشرے پر سوالیہ نشان ہے جو لاعلمی، خوف اور تعصب کی بنیاد پر انسانوں کی شناخت متعین کرتا ہے۔
مذکورہ بالا کہانیوں کے علاوہ دیگرمعاصر ہندی کہانیاں پڑھنے کے بعد یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ شاید اصل سوال یہ نہیں کہ ہندی کہانیاں اردو میں کیوں ترجمہ کی جائیں بلکہ یہ ہے کہ کوئی بھی ادبی روایت اپنے آپ کو دوسرے تخلیقی تجربات سے الگ رکھ کر کتنی دیر تک زندہ اور متحرک رہ سکتی ہے۔ادب کی تاریخ گواہ ہے کہ تخلیقی روایتیں تنہائی میں نہیں بلکہ مکالمے، تبادلے اور باہمی اثر وقبول کے عمل میں نشو ونما پاتی ہیں۔ہندی فکشن کے اردو تراجم اسی مکالمے کی ایک صورت ہیں،جہاں ایک زبان دوسری زبان کو صرف نئے موضوعات یا اسالیب ہی نہیں دیتی بلکہ اپنے عہد اور معاشرے کو دیکھنے کے نئے زاویے بھی عطا کرتی ہے۔ایسے میں ترجمہ محض الفاظ کی منتقلی نہیں رہتا بلکہ ایک فکری سفر بن جاتا ہے جو قاری کو مانوس دائروں سے باہر نکال کر انسان،سماج اور حقیقت کے زیادہ وسیع اور پیچیدہ معانی دریافت کرنے پر آمادہ کرتا ہے، شاید ادب کی اصل معنویت بھی اسی جستجو میں پوشیدہ ہے۔
مآخذ و مصادر
1. کہانی سفر میں ہے (اکیسویں صدی کی ہندی کہانیاں)، مترجم: احسن ایوبی، مطبوعہ عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی، 2023
2. باغ کا دوسرا دروازہ (طارق چھتاری کے منتخب مضامین)، مطبوعہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی 2023
3. سہ ماہی سیما اپریل تا جون 2026، علی گڑھ، مدیر پروفیسر صغیر افراہیم
Ahsan Ayyubi
E-403,Central Tower
Kela Nagar
Aligarh- 202001 (UP)
Mob.: 9616272524
ahsanayyubi@gmail.com