این ای پی 2020:تعلیم اور خواتین کی با اختیاری،مضمون نگار:ڈاکٹر سید مبین زہرا

June 11, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، جون 2026:

کسی بھی معاشرہ کی ترقی میں تعلیم اہم رول ادا کرتی ہے۔ اس میں خواتین کی تعلیم کی اہمیت خاص طور پر محسوس کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہم کسی ایک شخص کو تعلیم یافتہ کرتے ہیں تو صرف ایک فرد تعلیم یافتہ ہوتا ہے لیکن اگر ہم کسی خاتون کو علم کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں تو پھر ایک پوری نسل تعلیم یافتہ ہوتی ہے۔ کسی بھی بچے کا پہلا مدرسہ اس کی ماں کی گود ہی ہوتی ہے۔ اگر ماں تعلیم یافتہ ہوگی تو یہ بات یقینی ہے کہ اس گود میں آنے والی نسل بھی علم کی دولت سے مالامال ہو جائے گی۔
ہمارے ملک کی تاریخ قدیم زمانے سے ہی علم سے روشن رہی ہے۔ علم کا مطلب ’تمسو ما جیوترگمے‘ ہے یعنی اندھیرے سے اجالے کے طرف کا سفر ہی علم ہے۔ بھارت میں ویدک وقت سے تعلیم کی اہمیت قائم رہی ہے۔ ہر دور میں تعلیم کی الگ الگ روایتیں اس دور کی ضرورتوں کے لحاظ سے موجود رہی ہیں۔ علم کو لے کر سنسکرت کا ایک بہت ہی مشہور شلوک ہے جو ہیتوپدیش سے ہے ۔

विद्या ददाति विनयं,विनयाद् याति पात्रताम
पात्रत्वाद्धनमाप्नोति, धनाद्धर्म ततः सुख
(विद्या विनम्रता देती है। विनम्रता से योग्यता
आती है। योग्यता से धन प्राप्त होता है। धन से
धर्म और अंत में सुख प्राप्त होता है।
جس کا اردو ترجمہ اس طرح کر سکتے ہیں کہ علم (تعلیم) عاجزی، انکساری دیتا ہے، عاجزی سے قابلیت آتی ہے، قابلیت سے دولت حاصل ہوتی ہے، دولت سے مذہب اور آخر میں سکون و آرام حاصل ہوتا ہے۔ اگر ہم اس پورے شلوک پر غور کریں تو یہاں دولت کا مطلب علم کی دولت ہے اور مذہب کا مطلب سچائی اور نیکیوں کا راستہ کہا جا سکتا ہے۔
اگر ہم ویدک دور کی تعلیم کو دیکھیں تو اس میں انسان کی کردار سازی اور اس کو دھرم سے جوڑنے پر بہت زور ہوتا تھا۔ اصل میں دھرم سے جڑنے میں ہی وہ ایک نیک انسان اور ستیہ یعنی سچائی کے مارگ پر چلنے والا انسان بن سکتا تھا۔ اس دور میں جسمانی تعلیم جیسے یوگ یا یودھ کوشل ( جنگی مہارت) وغیرہ پر بھی بہت زور ہوتا تھا۔ ویدک دور کے جو سماجی سانچے تھے اس کے مطابق شخصیت سازی ویدک دور میں تعلیم کی ایک خاص ضرورت سمجھی جاتی تھی۔ گروکل روایت کے ذریعے گرو شیشہ کی تہذیب میں دھرم کرم اور دیگرعلموں کو اس طرح پڑھایا جاتا تھا کہ جس سے ایک انسان زندگی کے ہر میدان میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکے۔
آج کے وقت میں جب کہ علم کا دائرہ بہت وسیع ہو چکا ہے ایسے میں علم کو سماج کے ہر فرد تک اس طرح پہنچانا کہ کسی کا دامن بھی علم سے خالی نہ رہ جائے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ اس سلسلے میں جب ہم نئی قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی 2020) کو دیکھتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس میں تعلیم کو مساوی طور پر سب سے جوڑنے پر حکومت کا اہم زور ہے۔ اس میں نہ صرف مادری زبان میں تعلیم کی بات ہے بلکہ خواتین کا بھی خاص طورپرخیال رکھا گیا ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی کو لے کر وزیراعظم نریندر مودی کافی سرگرم رہے ہیں۔ جولائی 2022 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے وارانسی میں اکھل بھارتیہ سکشا سماگم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’نئی تعلیمی پالیسی کا خاص مقصد تعلیم کو محدود نظریات سے باہر نکال کر اکیسویں صدی کے جدید نظریات سے مربوط کرنا ہے۔ ہمارے ملک میں ذہانت کی کبھی بھی کوئی کمی نہیں رہی، لیکن بدقسمتی سے ہم پر ایسا نظام تھوپ دیا گیا جہاں تعلیم کا مقصد نوکری سمجھا جانے لگا‘‘۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا تھا کہ ’’ہمیں صرف ڈگری ہولڈر نوجوان تیار نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمارے تعلیمی نظام کو چاہیے کہ ملک کو آگے لے جانے کے لیے جو بھی انسانی وسائل درکار ہوں، وہ فراہم کرے۔ ہمارے اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو اس قرار کی قیادت کرنی چاہیے‘‘۔
اس برس جولائی میں قومی تعلیمی پالیسی کو پورے چھ سال ہو جائیں گے۔ یاد رہے کہ گذشتہ برس این ای پی کے پانچ سال پورے ہونے پر مرکزی وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان نے ایک قومی انگریزی روزنامہ میں لکھے ایک خاص مضمون میں پانچ برس کی کامیابیوں کا جو تذکرہ کیا تھا، اسے وزیراعظم جناب نریندر مودی نے ایکس پرشیر کرتے ہوئے این ای پی 2020کی اہمیت کو اجاگرکرتے ہوئے مختلف حصولیابیوں کے ساتھ ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) میں خواتین کی بڑھتی شمولیت کا خاص طور پر ذکر کیا تھا۔ وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ این ای پی کا تصورایس ٹی ای ایم میں خواتین کی بڑھتی شراکت میں بھی جھلکتا ہے۔ انھوں نے اپنے مضمون میں بتایا تھا کہ پانچ سال پورے ہونے پراعلیٰ تعلیم میں مجموعی طلبا کی تعداد میں لڑکیوں کی تعداد 48 فیصد کے قریب پہنچ چکی تھی۔ یہی نہیں پی ایچ ڈی میں اندراج کرانے والی لڑکیوں کی تعداد بھی پہلے کے مقابلے دوگنی ہو چکی تھی۔ اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ صرف چند برسوں میں ہی این ای پی نے خواتین کی تعلیم کو لے کر کتنا بڑا انقلاب پیدا کردیا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی کا فائدہ پورے سماج کو ہی ہورہا ہے لیکن اس میں صنفی مساوات کی اہمیت کی وجہ سے خواتین کے لیے یہ تعلیمی پالیسی ایک طرح سے ان کے لیے تعلیمی ترقی کی نئی راہیں کھول رہی ہے۔
وزارت تعلیم، بھارت سرکار نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا تھا کہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی 2020) ’مساوات اور جامع تعلیم‘ پر توجہ مرکوز کرتی ہے جو اس خیال کا اعادہ کرتی ہے کہ کوئی بھی بچہ اپنے پس منظر اور سماجی و ثقافتی شناخت کی وجہ سے تعلیمی مواقع کے معاملے میں پیچھے نہیں رہے۔ قومی تعلیمی پالیسی نے سماجی و اقتصادی طور پر پسماندہ گروپوں (ایس ای ڈی جی) کے خدشات کو مدنظر رکھا ہے جس میں خواتین اور ٹرانسجینڈر افراد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ قومی تعلیمی پالیسی ریاستوں اور مقامی کمیونٹی تنظیموں کی شراکت کے ساتھ تعلیم میں صنفی مساوات کو حاصل کرنے کو ایک اولین ترجیح کے طور پر ملحوظ رکھتی ہے۔ (پی آئی بی)
اسی بیان میں خاص طورپر خواتین کو لے کر این ای پی 2020 کے اہم نکات کو بھی ظاہرکیا گیا تھا۔ اس کے مطابق ’’قومی تعلیمی پالیسی 2020 خاص طور پر لڑکیوں اور ٹرانسجینڈر طالب علموں کے لیے صنفی شمولیتی فنڈ (جی آئی ایف) کے قیام کے لیے تجویز فراہم کرتی ہے تاکہ تمام لڑکیوں کے ساتھ ساتھ ٹرانسجینڈر طالب علموں کے لیے مساوی اورمعیاری تعلیم فراہم کرنے کی ملک کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔ لڑکیوں کے لیے مساوی اور معیاری تعلیم کے لیے این ای پی کے مقاصد سمگر شکشا 2۔0 کے تحت سماجی اقتصادی پسماندہ گروپوں (ایس ای ڈی جی) کے لیے وقف وسائل مختص کر کے مخصوص وسائل کے ذریعے پورے کیے جا رہے ہیں۔ سمگر شکشا کے تحت لڑکیوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں جس میں لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے محلے میں اسکول کھولنا، آٹھویں جماعت تک کی لڑکیوں کو مفت یونیفارم اور نصابی کتابیں، اضافی اساتذہ اور رہائشی کوارٹرز کی فراہمی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں اساتذہ، خواتین اساتذہ سمیت اضافی اساتذہ کی تقرری، پہلی سے بارہویں جماعت کی سی ڈبلیو ایس این لڑکیوں کو وظیفہ، لڑکیوں کے لیے علیحدہ بیت الخلا، لڑکیوں کی شرکت کو فروغ دینے کے لیے اساتذہ کے حساس پروگرام، صنفی طور پر حساس تدریسی مواد بشمول نصابی کتب وغیرہ شامل ہیں‘‘۔ (پی آئی بی)
اگر ہم این ای پی کا باریکی سے جائزہ لیں تو یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ کیسے قومی تعلیمی پالیسی مساوات کی بات کرتی ہے۔ اگر تعلیمی پالیسی میں ٹرانسجینڈر تک کے تعلیمی حقوق کا خیال رکھا گیا ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی منشا سماج کے ہرفرد تک تعلیم کی روشنی پہنچانا ہے۔ جیسا کہ وزیراعظم نے بھی کہا ہے کہ ہمیں تعلیم کو محدود نظریات سے باہر نکال کر اکیسویں صدی کے جدید نظریات سے مربوط کرنا ہوگا۔ اکیسویں صدی انسان کو انسان سے جوڑنے کا نام ہے۔ آپ دنیا میں کہیں بھی بیٹھ کر ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھے شخص کی زندگی سے جڑ سکتے ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی انسان علم پانے میں اگر پیچھے چھوٹ جاتا ہے تو پھر وہ زندگی کی دوڑ میں بھی پیچھے رہ جائے گا۔ ہمارے سماج کی خواتین کو تعلیم سے جوڑنے میں این ای پی اس لحاظ سے اہم رول ادا کر رہی ہے۔
این ای پی کے اندراسکولی تعلیم کی تمام سطح پرصنفی تفاوت کو کم کرنے کے لیے کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ (کے جی بی وی)، جو کہ ایس سی، ایس ٹی، او بی سی، اقلیتوں اورخط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے (بی پی ایل) پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے لیے چھٹی کلاس سے بارہویں کلاس تک کے رہائشی اسکول ہیں اور یہ تعلیمی لحاظ سے پسماندہ بلاکس میں منظور شدہ ہیں۔ ان رہائشی اسکولوں میں سات لاکھ سے زیادہ لڑکیوں کے لیے چھ ہزار کے قریب رہائشی اسکول یعنی کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ کو منظوری دی گئی ہے۔ (پی آئی بی)
آج ہماری صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو جی ایک خاتون ہیں جو قبائلی علاقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا ملک کے عظیم عہدے پر فائز ہونا دور دراز کے قبائلی علاقے کی بچیوں کو زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے امید اور حوصلہ دیتا ہے۔ حکومت نے خواتین کی طاقت کو وکست بھارت کے لیے استعمال کرنے کا جو تہیہ کیا ہوا ہے اس کا عکس ہمیں قومی تعلیمی پالیسی میں بھی ملتا ہے۔ 8 مارچ 2026 کو خواتین کا بین الاقوامی دن منایا گیا تھا۔ اس سال کے خواتین کے بین الاقوامی دن کا موضوع ’’حقوق اور انصاف کے ساتھ ہرعورت اور ہر لڑکی کو بااختیار بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات‘‘ رکھا گیا ہے۔ یہ ہم جانتے ہیں کہ بغیرعلم کے اختیار حاصل نہیں ہو سکتا۔ نہ صرف خواتین کو تعلیم یافتہ کرنا ہے بلکہ انھیں مالی طور پر خود مختار بھی بنانا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کے اہم فیصلے اپنے اختیار میں رکھ سکیں۔ یہ خواتین کو مضبوط کرنے کی سمت اہم قدم ہے جسے ناری شکتی یعنی خواتین کی قوت کا عنوان دیا گیا ہے۔ جیسا کہ مرکزی وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان نے بھی لکھا ہے کہ اب خواتین، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کی طرف زیادہ دیکھ رہی ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ اب ہماری بیٹیوں کا رحجان گھریلو سائنس یا آرٹ کے روایتی کورس کی جانب نہ ہوکر مستقبل کے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے کورس کی طرف زیادہ ہے۔ ایسا اس لیے بھی ممکن ہو سکا ہے کیونکہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی 2020) میں ایس ٹی ای ایم میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ وگیان جیوتی کو 2020 میں شروع کیا گیا تھا تاکہ 9 ویں سے 12 ویں کلاس تک سائنس اور ٹیکنالوجی کے مختلف زمروں میں لڑکیوں کی کمی کو بڑھایا جا سکے۔ اس کے علاوہ اوورسیز فیلوشپ اسکیم کے تحت بھی ہندوستانی خواتین سائنسدانوں اور تکنیکی ماہرین کو ایس ٹی ای ایم میں بین الاقوامی تعاون پر مبنی تحقیق کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے رہے ہیں۔ یہ بات ہمارے لیے فخر کی ہونی چاہئے کہ ہماری خواتین سائنسدانوں نے ہندوستان کے پہلے منگلیان مارس آربیٹر مشن (ایم او ایم) میں نمایاں شراکت کی تھی جس میں اسپیس ایپلیکیشن سینٹر میں سائنسی آلات کی تعمیر اور جانچ بھی شامل ہے۔ (پی آئی بی)
ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری بچیاں قومی تعلیمی پالیسی این ای پی 2020 کے آنے کے بعد سے تعلیم کو لے کر بہت بیدار ہو رہی ہیں اوروہ اب مستقبل کے اہم نصاب کی جانب دیکھ رہی ہیں۔ اس سے ان کا زندگی کے ہر شعبے میں شامل ہونا یقینی ہو پا رہا ہے جس سے خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ہم لگاتار آگے بڑھنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ خواتین کو بااختیار بنانے کا پہلا قدم ہی علم حاصل کرنا ہے۔ یہ زمانہ علم کا ہے جو تعلیم میں پچھڑ گیا وہ زندگی میں پیچھے رہ جائے گا۔ اسی کو دھیان میں رکھتے ہوئے حکومت کا پورا زور صنفی مساوات کو زندگی کے ہر شعبے میں لاگو کرنا ہے۔ وہ چاہے پارلیمنٹ ہو چاہے پنچایت یا پھر تعلیم کا میدان ہی کیوں نہ ہو۔ حکومت اس وقت بچیوں کی تعلیم کو لے کر جس قدر سنجیدہ ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت سمگر شکشا ابھیان (ایس ایس اے) کے تحت مفت یونیفارم، نصابی کتب، بہتر تعلیمی ڈھانچہ اور خواتین اساتذہ کی بھرتی کے ذریعے صنفی حساس تعلیم کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ (کے جی بی وی) پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے لیے رہائشی تعلیم فراہم کر رہے ہیں، جب کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی) جیسے اداروں میں اضافی نشستوں کی فراہمی جیسے اقدامات سے خواتین کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو یقینی بنانے کی کوششیں عروج پر ہیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیم میں خواتین کا داخلہ 2014-15 میں 15۔7 ملین سے بڑھ کر 2022-23 میں تقریباً 21۔8 ملین تک پہنچ گیا۔ (پی آئی بی)
پی آئی بی کے مطابق اس کے علاوہ مالی سال 2024–25 میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کے شعبوں میں یو جی سی نیٹ؍ جے آر ایف اسکالرز میں خواتین کا حصہ 53 فیصد سے زیادہ رہا، جو جدید تحقیق اور اختراع کے میدان میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کو ظاہر کرتا ہے۔ (پی آئی بی)
حکومت نے خواتین کو تعلیمی، سماجی، اقتصادی اور سیاسی طور پر بااختیار بنانے کے لیے کثیر جہتی نقطہ نظر اپنایا ہوا ہے تاکہ وہ ہندوستان کی ترقی کے عمل کی قیادت کرسکیں۔ اس میں تعلیم پر حکومت کا سب سے زیادہ زور ہے اور اس سمت قومی تعلیمی پالیسی این ای پی 2020 کی اہمیت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ پی آئی بی کی ایک ریلیز کے مطابق سکّنیا سمرِدّھی یوجنا بھی تعلیم میں بیٹیوں کی مددگار بن کر ابھری ہے۔ اس کے ذریعے بیٹیوں کے روشن مستقبل کی بنیاد یعنی تعلیم کے لیے خاندانوں کو ترغیب ملتی ہے۔ سکّنیا سمرِدّھی یوجنا (ایس ایس وائی) خاندانوں کو اپنی بیٹیوں کے طویل مدتی مستقبل میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرتی ہے۔ پی آئی بی کے مطابق بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ مہم کے ایک حصے کے طور پر 22 جنوری 2015 کو شروع کی گئی یہ چھوٹی بچت اسکیم لڑکیوں کی تعلیم اوران کے مستقبل کی امنگوں کے لیے ایک محفوظ مالی راستہ فراہم کرتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت جمع شدہ رقوم پرحکومت کی جانب سے مقرر کردہ شرح کے مطابق سود ملتا ہے، جو اس وقت 8۔2 فیصد ہے۔ اس اسکیم کوعوامی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی ہے: دسمبر 2025 تک اس کے تحت 4۔53 کروڑ سے زیادہ اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں اور 3۔33 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم جمع ہو چکی ہے۔ لڑکیوں کے نام پر بچت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ایس ایس وائی نہ صرف مالی تحفظ کو یقینی بناتی ہے بلکہ بیٹیوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ (پی آئی بی)
ہم اگر اپنے ملک کی طرف نگاہ ڈالتے ہیں تو ہم پاتے ہیں کہ یہاں تعلیم کو لے کر مالی دشواریوں کی وجہ سے بہت سے ہونہار اور قابل بچے اپنے علم کی طلب کو بیچ میں ہی چھوڑ کر کسی چھوٹے موٹے کام سے جڑ جاتے ہیں لیکن اب قومی تعلیمی پالیسی اس سلسلے میں بہت مددگار ثابت ہو رہی ہے جہاں طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے بنا کسی دشواری کے آسان طور پر قرضے حاصل کر سکتے ہیں اور اس سلسلے میں بینکنگ شعبے بھی مدد سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں۔ سکّنیا سمرِدّھی یوجنا کے اعداد و شمار یقینی طور پر یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ اس سلسلے میں جو پہل ہوئی ہے وہ کامیاب رہی ہے۔
جہاں تک این ای پی 2020 میں خواتین کی تعلیم کی بات ہے تو اس میں صاف طور پر صنفی مساوات کے ذریعے خواتین کی تعلیم کو بھرپور جگہ دی گئی ہے۔ یہ ہم سب جانتے ہیں کہ لڑکیوں کی تعلیم پورے خاندان کی صحت، معاشی ترقی، اور سماجی استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ این ای پی نے اعلیٰ تعلیم میں خواتین کو ترجیح دی ہے کیونکہ ان کے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے پورا معاشرہ ترقی کر سکتا ہے اور آنے والی نسلیں تو یقینی طور پر تعلیم یافتہ ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ہم آخر میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ این ای پی 2020 خواتین کو بااختیار بنانا چاہتی ہے جس سے کہ ہمارے سماج میں سب برابر سے ترقی کر سکیں۔
این ای پی 2020 ہمیں اپنی بیٹیوں کو علم کے زیور سے آراستہ کرنے کا بہترین موقع فراہم کر رہی ہے۔ ہمیں اس کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ہماری تاریخ خواتین کے علم سے سجی ہے۔ ہمارے یہاں خواتین ڈاکٹر، جج، سائنسداں، فائٹر پائلٹ، اعلیٰ افسر، ٹیچر، سیاست دان، حکمران، سبھی تو رہی ہیں۔ ایسے میں اگر ہم پیچھے رہ جاتی ہیں تو اس کے لیے ہم کسی اور کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے ہیں۔ ہماری بیٹیوں میں حوصلے، ہمت اور ولولے کی کمی نہیں ہے۔ اگرعلم کی تلاش میں کبھی ایسا محسوس ہو تو آپریشن سندور کے دوران پوری دنیا کے سامنے ہندوستانی حوصلوں کا اظہار کرتی کرنل صوفیا قریشی کی بھارتی مسلح افواج کی وردی میں سجی تصویر یاد کر لیجیے گا۔ یہ تصویرگھر بیٹھے نہیں بنتی بلکہ اس کے لیے علم حاصل کرنا پڑتا ہے۔ بھلے ہی اس کے لیے گھر سے دور ہی کیوں نہ جانا پڑے۔
کتابیات
1۔ Multilingual, Inclusive Education Being Realised At Scale, Shri Dharmendra Pradhan, Union Minister of Education, 28th July 2025, Times of India
2۔ Hitopdesh, Narayan Pandit, 2021, Rajpal & Sons
3۔ PIB Releases, Ministry of Education
4۔ بھارت میں شکشا کا اتہاس، ڈاکٹر کملیش سندھو، کتاب والا،

Dr. Syed Mubin Zehra
Associate Professor, Department of History, ARSD College, University of Delhi.
Mob. 9990424992
Email: drsyedmubinzehra@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اردو زبان کا فروغ اور مصنوعی ذہانت،مضمون نگار:اختر آزاد

اردو دنیا،اپریل 2026: اردوزبان ہماری تہذیبی وراثت کی امین ہے۔ اس کے اندر جو شعری لطافت، فکری شگفتگی ، نثری شائستگی اور فکری وسعت ہے اس نے مجموعی طور پر

زبان کی تدریس میں پہیلیوں کی اہمیت امیر خسرو کے حوالے سے،مضمون نگار: بی بی رضا خاتون

اردودنیا،فروری 2026: پہیلیاں صدیوں سے انسانی تہذیب و ثقافت کا اہم حصہ رہی ہیں۔ تفنن طبع کے لیے کہی جانے والی پہیلیاں ہمیں تفکرو تفہم کی طرف لے جاتی ہیں۔

قومی تعلیمی پالیسی اور مادری زبان،مضمون نگار: ا یاز احمدخان

اردو دنیا،مارچ 2026: تعلیمی پالیسی کسی بھی قوم کی فکری، سماجی اور معاشی ترقی کی بنیاد ہوا کرتی ہے، جو اس بات کا تعیّن کرتی ہے کہ علم کو دوسرے