اردو دنیا،جون 2026:
جو لوگ زبانوں کو قریب سے دیکھتے ہیں اور ان کی ساخت اور ماہیت کو سمجھتے ہیں وہ اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ زبانیں وسیع القلب اورکشادہ ذہن ہوتی ہیں۔ان میں اتنی فراخ دلی ہوتی ہے کہ وہ اجنبی زبانوں کو بھی اپنے پہلو میں بٹھا لیتی ہیں ۔ انھیں اپنا بنا لیتی ہیں۔ انھیں کسی اور زبان کے پاس جانے یا اسے اپنے پاس بلانے میں ذرا بھی ہچک نہیں ہوتی۔ وہ بے جھجک دوسری زبانوں کے لفظوں کو سینے سے لگا لیتی ہیں۔
زبانیں دوسری ز بانوں سے صرف لفظ ہی نہیں لیتیں، لمس بھی حاصل کرتی ہیں۔ رس اور جَس بھی کشید کرتی ہیں، نفس اور لَس بھی پاتی ہیں اور اس لمس، رس ، جَس،نَفس اور لَس میں صوتیاتی آہنگ، صرفیاتی نیرنگ، معنیاتی ترنگ، نحویاتی ڈھنگ، اسلوبیاتی رنگ، ادبیاتی امنگ اور عمرانیاتی منظرِ شوخ و شنگ بھی ہوتاہے۔ یعنی زبانیں جب ایک دوسرے سے ملتی ہیں تو وہ آپس میں مصافحہ اور معانقہ تو کرتی ہی ہیں، رگِ گلو کا بوسہ بھی لیتی ہیں اور اس اتصالی عمل سے ان میں ایک دوسرے کی لسانی ،ادبی، معاشرتی اور ثقافتی قدریں درآتی ہیں۔ ایک دوسرے کے حرف و صوت میں لفظ و معنی کی تصویریں ابھرآتی ہیں۔اردو زبان میں دوسری زبانوں کے لسانی فیوض،ادبی عکوس،تہذیبی نقوش، معاشرتی خطوط اور اقداری اسرار و رموز کچھ زیادہ ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اردو کی تحریر و تقریر میں یہ لسانی رنگا رنگی مختلف صورتوں میں نظر آتی ہے۔ نام سے لے کر اس کے کام تک میں یہ بوقلمونی جھلکتی ہے
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
ساری دنیا میں دھوم مچانے والی ہماری زبان کو شناخت زبانِ ترکی سے ملی۔ ترکی اگر اس کا نام اردو نہیں رکھتی تو یہ اب بھی ہندی،ہندوی، ہندوستانی،دکنی، ریختہ وغیرہ کے چکر میں پڑی رہتی۔
ترکی نے صرف ہماری زبان کا نام ہی نہیں رکھا بلکہ ہمارے بعض رشتوں کے نام بھی رکھے اوران رشتوں کو وقار اور بلند مقام بھی بخشا۔ترکی اگر یہ لسانی شجرکاری نہیں کرتی تو ہمارے گرو: اتالق، رسوئیے ، باورچی، دوت ،ایلچی، قبیلوں خاندانوں اور گھرانوں کے چودھری ،خانِ خاناں اور بیگ نہیں کہلاتے۔ اِستری: خاتون اور دائی: انّا میں تبدیل نہیں ہوتی۔ ہماری بہنیں’’ آپا‘‘ اور ’’باجی‘‘ نہیں بنتیں۔ ہماری بیویاں:’’بیگم‘‘ کا درجہ نہیں پاتیں اور کوئی شاعر اپنی بیوی کو اس انداز سے مخاطب نہیں کرتا ؎
چڑھ گیا آپ کا کس بات پہ پارہ بیگم
اَماں، کچھ جُرم بتاو نا ہمارا بیگم
اتنا ہی نہیں بلکہ ہمارے دسترخوانوں پر ہاتھ دھونے کے برتن بھانڈے اور تسلے کی جگہ چلمچی نہیں ہوتی۔ چھری، چاقو کا روپ نہیں لیتی، پلنگوں پر گدڑی کی جگہ توشک نہیں بچھتی۔ دروازوں پر ٹاٹ کی جگہ چِق نہیں ٹنگتی۔ اسلحہ خانوں سے توپ نہیں چھوٹتی۔ہماری تاریک سرنگوں میں چقماق نہیں جلتی۔ لباسوں میں اچکن چوغہ نہیں بنتی۔ہماری محفلوں اور بحثوں میں ٹنٹا کی جگہ چپقلش نہیں لیتی۔
ہمارے رشتوں کو خوش گوار، پر وقار، بااعتبار، محترم، معزز، مؤدب اور مقرب بنانے میں عربی اور فارسی نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ عربی نے باپ کو والد، ماں کو والدہ، جورو کو زوجہ بنا دیا اور فارسی نے سسر کو خسر، ساس کو خوش دامن، میاں کو خاوند، بہن کو ہمشیرہ، ساڑھو کو ہم زلف، بیٹی کو دختر، بیٹے کو پسر، فرزند، لخت جگر اور نورِ نظر جیسے خوش آہنگ ناموں سے سجا کر مسندِ قدر و منزلت پر بٹھادیا۔
ترکی، عربی اور فارسی ان تینوں زبانوں نے ہمارے طرز معاشرت میں ایک انقلاب برپا کردیا۔ چٹائی پر تھالیوں میں بھات، ڈلیوں میں روٹی، ہانڈیوں میں ماس مچھی، ڈونگوں میں بھرتا، بھاجی،کٹوروں میں کھیراور کھیس، کھانے والوں کو چٹائی سے اٹھا کر دستر خوان پر بٹھادیا اور ان کے سا منے قابوں میں قورمہ، قیمہ، قلیہ کوفتہ، طباقوں میں کباب، مرغ مسلم، متنجن، مزعفر، زردہ، پیالوں میں یخنی، حلیم، شیر، کشتیوں میں بریانی، طشتریوں میں پلاو، خشکہ ، قبولی اور رکابیوں میں فرنی، شیرینی، چنگیریوں میں نان، شیر مال، باقر خوانی طرح طرح کا طعام سجا دیا۔
ایک طرف انواع واقسام کی مرغن اورمکلف غذاؤں اور نعمتوں سے دسترخوان کو مزین کردیا تو دوسری جانب ہماری طرزِ رہائش کی راہوں کو رنگا رنگ پھولوں سے مہکا دیا ۔
نرگس تو دکھا کدھر گیا گُل
سوسن تو بتا کدھر گیا گُل
سُنبل مرا تازیانہ لانا
شمشاد اسے سولی پر چڑھانا
چمن سے بھرا باغ، گل سے چمن
کہیں نرگس و گل، کہیں یاسمین
کہیں جعفری اور گیندا کہیں
سماں شب کا داؤدیوں کا کہیں
کھڑے شاخِ شبّو کے ہر جا نشان
مدن بان کی اور ہی آن بان
بگھیاں نور کی تیار کرے بوئے سمن
کہ ہوا کھانے کو نکلیں گے جوانانِ چمن
نسترن بھی نئی صورت کادکھاوے گا رنگ
کوچ پر ناز کے جب پائوں رکھے گا بن ٹھن
اہلِ نظاّرہ کی آنکھوں میں نظر آئے گا
باغ میں نرگس و شہلا کی ہوائی چتون
’’بے نظیر چمن زارِ پر بہار میں بو قلموں اشجار، سرسبز برگ و بار شاخِ ثمر دار اور گلہائے زرنگار کو دیکھتا، صد رنگ گلاب، گلِ آفتاب، گلِ اشرفی، گلِ عباسی، گلِ جعفری، گلِ دائودی، گلِ رعنا، گلِ لالہ، گلِ ہزارہ، گلِ سوسن، گلِ نسریں، گلِ نسترن، گلِ یاسمیں، گلِ مشکی، گلِ خطمی، گلِ شبّو، گلِ شب افروز، گلِ صد برگ اور گلِ اورنگ سے گل رنگ ہو تا خوشبوؤں میں بستا، گلبانگِ طیورِ خوش گلو، خوش نوائیِ عندلیب و قمری کی کو کو اور نغمہ سنجیِ طوطی سے مدہوش ہوتا ہوا نواحِ کوثر و تسنیم میں پہنچ گیا۔‘‘
ان ادبی پیکروں میں جو یہ گلہائے رنگا رنگ نظر آتے ہیں، جن کے رنگ و نور سے ہمارے دیدوں میں بوقلموں قمقمے جلتے ہیں، جن کے لمس سے ہمارے چہرے کے خد و خال کھلتے ہیں، اور جن کی خوشبؤوں سے انفاس میں عطر وعنبرگھلتے ہیں، گلستان ادبِ ایران سے لائے گئے ہیں۔
گلشن اردو میں چمنستانِ ادبِ ایران سے گلہائے رنگا رنگ ہی نہیں آئے ہیں بلکہ ان شعری اشجار کی شاخوں پر جو طیورِ خوش رنگ :
اڑالی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نے
چمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرزِ فغاں میری
میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیا
بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہوگئیں
کبک و قمری میں جھگڑا کہ چمن کس کا ہے
کل بتا دے گی خزاں یہ کہ وطن کس کا ہے
کس لیے ہر شب یہ ہوتا ہے گرفتارِ فراق
ہجر میں کیا اپنا مرغِ نامہ بر سرخاب تھا
زندگی مانندِ مرغِ خوش نوا
شاخ پر بیٹھا کوئی دم، چہچہایا، اڑ گیا
بیٹھے جو مرغِ خوش نوا، طائرِ رنگِ دل کشا اور پرندۂ بے بہا چہچہارہے ہیں اور نغمہ سنجی کے ساتھ ساتھ بلند پروازی کے قصّے بھی سنارہے ہیں اور ان قصوں میں انسانی مشابہتوں کی علامتیں دکھا رہے ہیں،دراصل یہ بھی انھیں چمن زاروں سے اڑ کر وادیِ اردو میں اترے ہیں جو عرب و فارس کی گل رنگ فضاؤں میں نغمہ سرائی کرتے رہے ہیں۔
اور شاخوں پر بیٹھے ہوئے ان پرندوں کے اوپر خلاؤں میں جو یہ طیورِ شاہی ہما، عنقا اور ققنس پرواز بھر رہے ہیں اور ان کی اڑانوں کے یہ مختلف انداز
جستجو رہتی ہے دولت کا پتا ملتا نہیں
سر پھرا کرتا ہے پر ظلّ ہما ملتا نہیں
دردِ دل پوچھنے والا کوئی میرا نہ رہا
ہوگئی صورتِ عنقا میرے غم خوار کی شکل
گر تو کرے نہ صید تو ققنس کی طرح سے
جل کر ہو اپنی آگ میں خود ہی شکار خاک
نہ ہو ققنس کا اس خطر سے آب
شب نہ ہووے ہر اس سے سرخاب
ہمیں بھی مائل بہ پرواز کررہے ہیں، خلائے عرب و فارس سے اتر کر ارضِ اردو پر تشریف لائے ہیں،آپ انھیں غور سے دیکھیے اور توجہ سے سماعت فرمائیے تو یہ مافوق الفطری اور ماورائی پرندے صرف اپنی پروازکی کرامات ہی نہیں دکھا رہے ہیں بلکہ اپنی ذات سے جڑے تصورات کی محاکات بھی پیش کر رہے ہیں۔
’ہما‘ کا فرمانا ہے کہ دنیا مجھے پرندوں کا با دشاہ مانتی ہے۔ لوگوں کاعقیدہ ہے کہ میں جس کے سر کے اوپر سے گزر جاتا ہوں،وہ بادشاہ ہوجاتا ہے۔
’عنقا‘اپنا تعارف کراتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھ میں تیس پرندوں کا رنگ پایا جاتا ہے۔ میری گردن کے پر سنہرے ہیں اور جسم کا رنگ ارغوانی ہے۔میری دم سفید اور سرخ ہے اور آنکھوں میں ستاروں جیسی چمک ہے۔جب میں بوڑھا ہوجاتا ہوں تو لکڑیوں اور خوشبودار چیزوں سے اپنا مرقد بناتا ہوں اور اس میں گھس کر مر جاتا ہوں۔میری ہڈیوں اور چربی سے ایک کیڑا پیدا ہوتا ہے اور یہی کیڑا آگے چل کر میرا ہم ذات بن جاتا ہے یعنی میں مر کر پھر جی اٹھتا ہوں۔
’ققنس‘اپنا قصہ یوں سناتا ہے کہ میں ایک نہایت خوش رنگ اور خوش آواز پرندہ ہوں۔میری منقار میں تین سو ساٹھ سوراخ ہیں اور ہر ایک سوراخ میں سے ایک ایک راگ نکلتاہے۔جب مجھے بھوک لگتی ہے تو کسی بلند پہاڑ پر ہوا کے رخ ہوبیٹھتاہوں۔ میرے خوش کن سروں کی آواز پر بہت سے پرندے میرے پاس اکٹھا ہوجاتے ہیں اور میں ان میں سے دو چار کو پکڑ کر چٹ کر جاتا ہوں۔میری عمر ہزار سال کی ہوتی ہے۔ جب پورے ہزار برس گزر جاتے ہیں اور میری عمر طبعی اخیر کو پہنچ جاتی ہے تو میں بہت سی سوکھی لکڑیاں جمع کرتا ہوں اور ان پر بیٹھ کر مستی کے عالم میں گانااور اپنے پروں کو پھڑپھڑانا شروع کرتا ہوں۔جس وقت دیپک راگ میری چونچ سے نکلتا ہے تو ان لکڑیوں میں آگ لگ جاتی ہے اور میں جل کر راکھ ہوجاتا ہوں۔خدا کی قدرت سے اس راکھ پر مینہ برستا ہے اور اس راکھ سے میں پھر پیدا ہوجاتا ہوں۔
یہ پرندے یعنی ہما، عنقا اور ققنس جب فضائے ادب میں اپنے پر پھیلاتے ہیں تو کہانیاں سمٹ آتی ہیں۔ ان کے ارد گرد داستانوں کی پریاں اُڑنے لگتی ہیں،محیر العقول کردار رقص کرنے لگتے ہیں، بیش بہا افکار و خیالات اڑان بھرنے لگتے ہیں، ان کے سوراخوں سے نکلے ہوئے سُر حیات و کائنات کے سُر بن جاتے ہیں۔ یہ طائر کبھی تشبیہیں بن جاتے ہیں، کبھی استعارے ہوجاتے ہیں، کبھی مجاز مرسل تو کبھی علامتوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور اپنی تبدیل شدہ صورتوں سے ایسے ایسے پیکر، ایسے ایسے منظر اور ایسے ایسے مرقعے بنا دیتے ہیں کہ جن سے باصرہ میں رنگ، سامعہ میں آہنگ اور لامسہ میں جوشِ ترنگ بھر جاتا ہے ، شامہ مہک اٹھتا ہے اور ذائقہ چٹخارے لینے لگتا ہے۔
شاخوں پرصرف پھول اور طیور ہی نہیں بلکہ شعری کیاریوں کے کنارے ترکیبوں کی جو باڑ دکھائی دے رہی ہے اور شعری و نثری شاخوں پر مرکبات کے جو شگفتہ گل بوٹے نظر آرہے ہیں، ان کی چمن بندی بھی زبان فارسی سے ہی ہوئی ہے۔اس سے پہلے کہ چمن بندی اور چمن آرائی کے طور طریقوں پر روشنی ڈالی جائے آپ ترکیبوں کے کمال اور مرکبات کے جمال و جلال سے پوری طرح لطف اندوز ہولیجیے ؎
جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیرکا
پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خونِ دل
سازِ چمن طرازیِ داماں کیے ہوئے
بوئے گل ، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
سلسلۂ روز و شب، نقش گرِ حادثات
سلسلۂ روزو شب، اصلِ حیات و ممات
کشتیِ مسکین و جانِ پاک و دیوارِ یتیم
علمِ موسیٰ بھی ہے تیرے سامنے حیرت فروش
وہ سکوتِ شامِ صحرا میں غروبِ آفتاب
جس سے روشن تر ہوئی چشمِ جہاں بینِ خلیل
جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
جلوہ کیا سحر کے رخِ بے حجاب نے
دیکھا سوئے فلک شہِ گردوں رکاب نے
مڑ کر صدا رفیقوں کو دی اس جناب نے
آخر ہے رات حمد و ثنائے خدا کرو
اٹّھو فریضۂ سحری کو ادا کرو
’’ان یارانِ صادق و دوستانِ موافق بارانِ بادہ نوش و بذلہ سنجانِ عشرت کوش میں دن بھر تو وہ چہل پہل، قہقہے اور چہچہے رہے۔ سر شا م سے ناچ رنگ کی دھما چوکڑی مچی، خانہ و باغ میں جس کے درودیوار سے صحرائیت برستی تھی، شامیانۂ عیش کا شانہ بہ صد حشمتِ شاہانہ نصیب ہوا۔ ایک بتِ پندار، شوخ و ستم گارنے یہ غزل عجب لطف و اندازِ برنائی اور شانِ خود آرائی سے ادا کی‘‘: فسانۂ آزاد
مرزا غالب،علامہ اقبال، دیا شنکر نسیم، میر انیس اور رتن ناتھ سرشار نے زبان و بیان میں جو ترکیبیں استعمال کی ہیں ان سے صرف صوتی آہنگ ہی نہیں پھوٹاہے بلکہ زبان کا طلسم بھی جاگا ہے۔وہ طلسم جو گنجینۂ معانی کا دَر کھولتا ہے۔مضامینِ نو پیدا کرتا ہے،خیال و افکار کے جوہر مرحمت کرتا ہے،معنی آفرینی کا نیرنگ دکھاتا ہے۔ ایک ایک مرکب میں مرکباتِ عجائباتِ زمانہ سمیٹ دیتا ہے۔
اردو کے ان شعری اور نثری مرقعوں میں جو یہ مختلف طرح کی ترکیبیں مثلاً:
بے اختیارِ شوق، خونِ دل، سازِچمن،حسرتِ دیدار، دودِ چراغ، دامنِ دشت، شامِ گردوں، اخترِ سیماب، مسافتِ شب، ریگِ رواں، بارانِ صادق، دوستانِ موافق، بتِ پندار، کشتیِ مسکین،جانِ پاک، دیوارِ یتیم۔
جذبہ بے اختیار، سینۂ شمشیر، خامۂ مژگاں، خوں شدۂ کشمکش، نالۂ دل، سلسلۂ روز و شب، فریضۂ سحری، شامیانۂ عیش۔
اور بوئے گل،صحرائے عدم، سوئے فلک، ثنائے خدا دکھائی دے رہی ہیں اور اضافتِ زیر، اضافتِ ہمزہ اور اضافت یائے مہموز کے جن قاعدوں سے یہ مرکبات بنائے گئے ہیں وہ خالص فارسی قاعدے ہیں۔ان قواعدی گُروں کو اُردو نے اگر فارسی سے نہیں سیکھا ہوتا تو ہماری زبان میں جو بلند آہنگی اور نغمگی سنائی دیتی ہے ، شاید نہیں سنائی دیتی، ایجاز و اختصار کی جو خوبصورتی دکھائی دیتی ہے،نہیں دکھائی دیتی،سمندر کو کوزے میں سمیٹنے والی جو جادو گری نظر آتی ہے،نہیں نظر آتی۔ یہ وہ لسانی ترکیبیں ہیں جن میں اضافی، توصیفی، عطفی،تقلیبی، سبھی طرح کی قواعدی ہنرمندیوں کا رنگ، ڈھنگ اور نیرنگ دیکھا جاسکتا ہے اور اب جو مرقعے ابھرنے والے ہیں ان سے نہ صرف یہ کہ عرب و فارس کے تاریخی واقعات، سیاسی معاملات، معاشرتی حالات، مذہبی بیانات منعکس ہوں گے بلکہ اجتماعی زندگی کے تجربات کا نچوڑ، تصورات کا عطر، مذہبی معجزات و کرامات کا ایجاز، انسانی افکار وخیالات کا ست اور حیات و کائنات کا سار بھی منعکس ہوگا۔ مثلاً ؎
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
جامِ جم سے یہ مرا جامِ سفال اچھا ہے
آگ ہے ، اولادِ ابراہیم ہے ، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے
کشتیِ مسکین و جانِ پاک و دیوارِ یتیم
علمِ موسیٰ بھی ہے تیرے سا منے حیرت فروش
ایک جلوہ تھا کلیمِ طور سینا کے لیے
تو تجلی ہے سراپا چشمِ بینا کے لیے
سب رقیبوں سے ہیں نا خوش پر زنانِ مصر سے
ہے زلیخا خوش کہ محوِ ماہِ کنعاں ہوگئیں
حسین ابن علی کربلا کو جاتے ہیں
مگر یہ لوگ ابھی تک گھروں کے اندر ہیں
معجزہ شق القمر کا ہے مدینے سے عیاں
مہہ نے شق ہو کر لیا ہے دین کو آغوش میں
واقعات کااختصار، حیات وکائنات کا ست اور ساربتانے والے اور تجربات و مشاہدات کا جوہر دکھانے والے الفاظ تلمیح کہلاتے ہیں۔ عام طورشعر میں کسی مشہور قصے یا واقعے کے باندھنے کو تلمیح کہا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ تلمیح تمام ترمروجہ تصورات پر محیط ہے۔ شعر میں ان تصورات کو محض بیان کرنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ ان کے تناظر میں دوسرے معنی مقصود ہوتے ہیں۔ گویا تلمیح اپنے اندر ایک آفاقی مفہوم رکھتی ہے۔اردو زبان و ادب میں زیادہ تر تلمیحیں عربی و فارسی سے آئی ہیں جن سے اردو کی تہذیب و تمدن میں بھی چار چاند لگے ہیں۔
تلمیح ہی کی طرح ایک اورلسانی عنصر بھی اردو معاشرے پراثر انداز ہوا ہے اور وہ عنصر یہ ہے :
نادان دوست سے دانا دشمن اچھا ہے۔ آبِ حیات تاریکی میں ہے۔ مالِ مفت دل بے رحم۔ ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔ روپے کو روپیہ کھینچتا ہے۔ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔عقل مند کو اشارہ کافی ۔ بلی کو پہلے ہی مارنا چاہیے۔ زلیخا تو ساری پڑھ گئے پر یہ نہ جانا کہ وہ عورت تھی یا مرد۔ عالم بالا کی سخن فہمی معلوم ہوگئی۔ ابھی دلی دور ہے۔
مذکورہ بالاسارے فقرے ؍جملے ضرب ا لامثال ہیں جو فارسی کہاوتوں کا اردو ترجمہ ہیں۔ آپ ان کی فارسی شکلیں بھی دیکھ لیجیے:
دشمن دانا بہ از دوست ناداں۔ آب حیواں درونِ تاریکی است۔ مالِ مفت دل بے رحم۔ رقص کردند خود نداند صحن را گویا کج است۔ زر را زر می کسد۔ صبر تلخ است و لیکن بر شیریں دارد۔ عاقل را اشارہ کافی است۔ گر بہ گشتن روز اوّل۔ زلیخا زنِ بود یا مرد۔ سخن فہمی عالم بالا معلوم شد۔ ہنوز دلّی دور است۔
اس طرح کے سینکڑوں امثال ہیں جو براہِ راست اردو میں فارسی سے داخل ہوئے ہیں۔ وہ مختصر جملے یا فقرے جو طویل تجربات کے بطن سے پیدا ہوئے ہوں اور جن میں قدما نے قوانین کی طرح زندگی کو سمو دیا ہو اور جو دانش مندی کے مظاہر اور دانش مندوں کے اقوال کی تفسیر ہوں، ضرب الامثال ہیں۔ مثل کو اردو میں کہاوت بھی کہتے ہیں، مثل یا کہاوت کے لیے چھ خصوصیات کا ہونا ضروری ہے۔
۱۔اختصار ۲۔جامعیت ۳۔ کثرتِ استعمال ۴۔تجربات یا مشاہدات کا نچوڑ ۵۔ قبول عام ۶۔ معنوی زور اور حقائق کی عکاسی
ایک جملے میں اگر مثل کی تعریف کرنا چاہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسے عملی اصول جو بہت سے لوگوں کے تجربے میں آکر زبانِ زد خلائق ہوجاتے ہوں، ضرب المثل ہیں۔
فارسی سے اردو میں آئی ہوئی کہاوتیں یا ان کے طرز پر بنائی گئی کہاوتیں ،وہ کہاوتیں ہیں جو طائر قلب و نظر کو پر لگاتی ہیں۔ بصیرتوں کو پرواز عطا کرتی ہیں۔ ذہنِ انسانی کو بلندیوں تک پہنچاتی ہیں، چاند سورج اور ستاروں کی سیر کراتی ہیں، زندگی کا جوہر سامنے رکھتی ہیں، تاریک راہوں میں مشعل کا کام کرتی ہیں، زندگی کے فیصلوں میں رہنمائی کرتی ہیں اور معاملاتِ دنیا کو سمجھنے میں مدد کرتی ہیں۔
صرف یہی نہیں جن کا اوپر ذکر ہوا بلکہ کچھ اور بھی لسانی اور ادبی عناصر ایسے ہیں جو ہمارے یہاں عربی اور فارسی سے آئے ہیں اور جن سے ہماری معاشرت اور ہماری تہذیب میں بے پناہ تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ ہماری زبان سے بھی فارسی اور عربی زبان اور ان کی تہذیب و تمدن میں بہت کچھ داخل ہو ا مگر ان کا ذکر ابھی نہیں، کہ یہ مقام ان کا نہیں، اردو کا ہے۔
اردو نے ہندی اور ہندوستان کی دوسری زبانوں اور بولیوں سے بھی بہت سارے لسانی عناصر مثلاً الفاظ تشبیہات، استعارات ، مرکبات، محاورات ، ضرب الامثال، تلمیحات، تہذیبی رسومات، ہئیت واصناف وغیرہ حاصل کیے ہیں اور ان کے رنگ وآہنگ سے خود کو مزید معنی خیز، رنگ آمیز اورلطف انگیز کیا۔ سنسکرت اور ہندی اور علاقائی زبانوں کے الفاظ سے تو اردو کا دامن بھرا پڑا ہے۔بس یہاں چند نمونے پیش کیے جارہے ہیں :
چلمن,درپن,ساجن ,سجن نین موہن ہون
پریم پریت ریت,سنگیت ,گیت جل ،جل تھل، کھلبل ، شیتل، نرمل، تل، بل، چھل,کل,مل ، چنچل
دھنک، سنک گمک، کڑک، کھنک، جھنک، چھنک، بھنک، ٹھنک دھنک، ٹھار دھار, بھار نکھار ,سار ,اندھکار کچھار، سنسار ,بگھار، بھاڑ ،چھاڑ ،پچھاڑ، پھاڑ ، اکھاڑ ،دہاڑ، اجاڑ کباڑ، پاڑ ، آڑ ، تاڑ باڑ وغیرہ
ایسے کچھ اشعار بھی سن لیجیے جن میں ہندوستانی زبانوں کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں :
چو شمع سوزاں, چو ذرہ حیراں, ہمیشہ گریاں: بعشقِ آں مہ
نہ نیند نیناں ,نہ انگ چیناں, نہ آپ آئیں نہ بھیجے پتیاں
نین سے نین جب ملائے گیا
دل کے اندر مرے سمائے گیا
تجھ چال کی قیمت سوں دل نئیں ہے مرا واقف
اے مان بھری چنچل ٹک بھاؤ بتاتی جا
شکتی بھی شانتی بھی بھکتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کی باسیوں کی مکتی پریت میں ہے
کچھ تلمیحات کی مثالیں ملاحظہ کیجیے :
ہر لیا ہے کسی نے سیتا کو
زندگی ہے کہ رام کا بن باس
بن باس کی طرح ہے کٹی عمر انتظار میں
دل کو نہ مل سکا کبھی ایودھیا کا چین
آتشِ عشق نے راون کو جلا کر مارا
گرچہ لنکا سا تھا اس دیو کا گھر پانی میں
مرلی کی دھن پہ ناچ رہی ہے یہ کائنات
لگتا ہے آج پھر کوئی کشن آ گیا کہیں
اورکچھ مذہبی معاملات پر نظر ڈالیے :
نہیں کوئی دھرم دھاری جوکہے پیتم سوں سمجھا کر
کہ دکھیا کوں ,بھجوہی سوں اتا بیزار کرنا کیا
مجھ دل کے کبوتر کوں پکڑا ہے تری لٹ نے
یہ کام دھرم کا ہے ٹک اس کوں چھڑاتی جا
تجھ نیہہ میں دل جل جل جوگی کی لیا صورت
ایک بار اسے موہن چھاتی سوں لگاتی جا
رنگ ہے روپ ہے جھمیلا ہے
زور بلدیو جی کا میلہ ہے
اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور
شمعِ حرم ہو یا کہ دیا سومناتھ کا
ان شعروں میں ہندی ، پنجابی برج بھاشا،دکنی وغیرہ کے صرف الفاظ ہی استعمال نہیں ہوئے ہیں بلکہ ہندو تلمیحات اور مذہبی رسومات و معاملات بھی پیش ہوئے ہیں۔بلا شبہ اردو زبان ایک ایسی لسانی دھنک ہے جس سے طرح طرح کے رنگ پھوٹتے ہیں, ایک یہ رنگ بھی دیکھیے :
(1)نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی
(2)گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے
(3)نام بڑے اور درشن چھوٹے
(4)بندر کیا جانے ادرک کا سواد
(5)کہاں راجا بھوج کہاں گنگوا تیلی
یہ پانچوں ضرب الامثال ہیں جو اردو میں دھڑلے سے استعمال ہوتے ہیں مگر اردو میں یہ ہندی سے آئے ہیں اور ہندی سے آنے کا ثبوت ان میں موجود یہ لفظ رادھا ,لنکا ، درشن ، سواد اور راجا بھوج ہیں۔
اب ذرا ان شعری صورتوں پر نگاہ مرکوز کیجیے:
الف :
اردو والے، ہندی والے دونوں ہنسی اڑائیں
ہم دل والے اپنی بھاشا کس کس کو سکھلائیں
ساجن ہم سے ملے بھی لیکن ایسے ملے کہ ہائے
جیسے سوکھے کھیت سے بادل بن برسے اڑ جائے
عادت سے لاچار ہے عادت نئی عجیب
جس دن کھایا پیٹ بھر سویا نہیں غریب
ہوگی اک دن گھر میرے پھولوں کی برسات
میں پگلا اس آس میں ہنستا ہوں دن رات
ندیا نے مجھ سے کہا مت آ میرے پاس
پانی سے بجھتی نئیں انتر من کی پیاس
ب :
یہ ہے میرا ہندوستان
میرے سپنوں کا جہان
اس سے پیار ہے مجھ کو
ہنستا گاتا جیون اس کا دھوم مچائے موسم
گنگا جمنا کی لہروں میں سات سروں کے سنگم
تاج ایلورا جیسے سندر تصویروں کے ایلبم
یہ ہے میرا ہندوستان
میرے سپنوں کا جہان
اس سے پیار ہے مجھ کو
ج :
رام بنا دکھ کوؤ نا ہرے
ناحق مورکھ چنتا کرے
کرپا کر سنسار کے داتا
تورے دوارے آن پڑے
سانچی بات کہت میں کوثر
آسا جیو نراسا مرے
مکّے کے باسی مدینے براجے
سگرے مندروا گجروا باجے
لکھ لکھ پتیاں بھیجے سندیسے
سارے جگت میں راج دھراجے
نور کو وا کے کر کے اجاگر
پربھو نے بھیجا ہمارے کاجے
دھرتی سے آکاس مالک کے سرنے
پہنچے گنن لینے بے سنگ و ساجے
ابراہیم یہ ہی ارج کرت ہے
دونوں جگت میں رکھو موری لاجے
پہلے حصے میں دوہے کا رنگ ہے ۔دوسرے میں گیت کا اور تیسرے میں بھجن کا ۔ یہ تینوں رنگ اردو میں ہندی ادب سے آئے ہیں۔ جاتک اور پنچ تنتر کے طرز پر اردو میں لوک کہانیاں بھی لکھی گئیں اور ناٹک کے انداز پر ڈرامے بھی تحریر کیے گئے اور انھیں اسٹیج پر پیش بھی کیا گیا۔اسی طرح بھجن کی مانند اردو میں بھجن بھی پیش کیے گئے ہیں ۔قصہ مختصر یہ کہ اردو پر پر دیسی زبانوں کے اثرات بھی کم نہیں ہیں۔ اگر آپ سیرِ گلستانِ اردو ادب کو نکلیں تو ترکی ،عربی اور فارسی کی طرح دیسی زبانوں کے بھی ایسے ایسے پراسرار , پر بہار ,ضیا بار اور مشکبار مناظر نظر نواز ہوں گے کہ جن کو دیکھ کر دل و دماغ دنگ رہ جائیں گے اور جن کے رنگ وآہنگ سے حواس لطف ونشاط اور کیف ونشاط سے بھر جائیں گے۔
درج بالا تفصیلات سے اندازہ ہو گیا ہوگا کہ اردو نے اپنی فراخ دلی اور کشادہ ذہنی کی بدولت اپنے دامن میں دنیائے زبان وادب سے کس کس طرح کی دولتِ لازوال سمیٹ رکھی ہے۔
Dr. M H Ghazali
Sr. Journalist & Columnist
F -18/14A, Abul Fazl Enclave -ll Shaheen Bagh, New Delhi -110025
Mob: 9810371907
Email: drmhghazali@gmail.com