اردو دنیا، جون 2026:
ہندومیتھالوجی کے مطابق یوگا بنیادی طور پر ایک انتہائی لطیف سائنس پر مبنی روحانی نظام ہے جو دماغ اور جسم کے درمیان ہم آہنگی لانے پر توجہ مرکوز کرتاہے ۔ لفظ ’یوگ‘سنسکرت کے لفظ ’یوج‘سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے ’جوڑنا ‘’متحد کرنا‘ اور جب ہم ’یوگی ‘ کہتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو یوگا کی مشق کرتا ہے ۔یہ مشق انفرادی شعور کے ساتھ ساتھ عالمگیر شعور اور اتحاد کی طرف لے جاتی ہے، جو دماغ اور جسم، انسان اور فطرت کے درمیان کامل ہم آہنگی کی نشاندہی کرتی ہے۔
مزید وضاحت کے لیے ڈاکٹر برج بھوشن کی کتاب سے یہ اقتباس پیش کیا جا رہا ہے ان کے مطابق ’’شیوجی یوگ کے علم کے اصلی خالق ہیں۔دل کو ادھر اُدھر بھٹکنے سے روکنا ہی یوگ ہے۔کام میں مہارت ہی یوگ ہے۔سکھ اور دُکھ میں یکساں رہنا ہی یوگ ہے۔ یا گیہ بلک سنتا نامی کتاب میں روح اور پروردگار عالم کے ملاپ کو یوگ کہا گیا ہے۔ یوگ سے نیک عمل اور ہنر کی حفاظت ہوتی ہے۔ یوگ کے ذریعہ علم حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یوگ کے برابر کوئی طاقت نہیں ہوتی‘‘۔ 1 وہ آگے لکھتے ہیں’’ یوگ کے آٹھ حصے ہیں اور یوگ کے موجد رشی پتنجلی نے اس کو آٹھ حصوں والا یوگ (آشٹانگ یوگ) کہا ہے۔ اس میں (1) یم (2) نیم (3) آسن (4) پرانا یام (5) پر تیا ہار (6) دھارنا (7) دھیان اور (8) سمادھی آتے ہیں۔ پھر اس کی انھوں نے تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یم کے ذریعہ دوسرے جانداروں کے ساتھ عملی زندگی نیک اور نورانی بنتی ہے۔ اس کے پانچ حصے ہیں۔
اہنسا (عدم تشدد): دل، دماغ اور جسم سے کسی بھی جاندار کو دکھ نہ دینا عدم تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ سچائی: دھوکا اور فریب سے مبرا عمل ہی سچائی ہے۔ چوری نہ کرنا: کسی کی کوئی چیز نہ چرانا، کام کی مناسب اجرت نہ دینا بھی چوری ہے۔ بر ہم چر یہ (تجرد) دل، دماغ اور جسم سے ہونے والے سب طرح کے مباشرتی افعال کاتمام حالات میں ترک کردینا، سب طرح کاویرج (دھات/مذی /منی) کی حفاظت کرنا بر ہم چریہ (تجرد) ہے۔ اپری گرہ: بلا ضرورت سامان اکٹھا نہ کرنا ہی اپری گرہ (قناعت) ہے۔2
یوگا فلسفے کاایک اہم پہلو جمود اور ٹھہراؤ کو درکنار کرکے انسان کے اندازحیات اور بود وباش میں تبدیلی لانا ہے ۔اسی لیے جنھوں نے اس کی تاریخ اور اس کے فلسفے پر بات کی ہے ان کا ماننا ہے کہ یہ ہندوستان کی عظیم وراثت ہے اور اس کو بڑھاوا دینا ،اس بابت عوام کو آگا ہ کرنا ،اس کی طرف لوگوں کو مائل کرنا ،اسے سیکھنا، سکھانا در اصل اپنے دھروہر اور وراثت کی حفاظت کرنا ہے ۔ذہن کو صاف کرکے اس بابت مطالعہ کیا جانا بھی اسی ضمن میں شامل ہے۔ یوگا کے بعض مورخین نے لکھا ہے کہ اس کے اصول اور ضابطے سناتن دھرم کے ماننے والوں کے لیے آفاقی سکون دیتے ہیں اور مختلف امراض میں تریاق کا کام کرتے ہیں ۔مثا ل کے طور پر سانس سے متعلق بیماریاں ،قلب و جگر ،ذہنی تناؤاورماحولیاتی کشیدگی اور کثافت میں انسانی جسم کے توازن کو براقر رکھنے میں ممد ومعاون ہیں ۔ ہری کرشن داس گوئند نے لکھا ہے کہ ’’ ادراک انسانی کے اعلیٰ ترین مقام تک رسائی یا مجاز کی قید سے رہائی یا نجات ہے۔ لہٰذا ان دونوں فلسفوں کا ایک ہی موضوع ہے لیکن دونوں کی مزاولت میں تفاوت ہے۔ یوگ میں منزل مقصود کا حصول کیفیات قلب کو مسدود کر کے کیا جاتا ہے اور سانکھیہ میں روحِ شخصی کی پاک ہیئت کے علم کی تکمیل باطن کے غائر مطالعہ اور تفکر سے کی جاتی ہے۔ اجمالی نظر سے سانکھیہ کی طریقت علم اور یوگ کی طریقت عبادت ہے۔ سانکھیہ میں علم افضل فعل اور عبادت ثانوی ہیں جب کہ یوگ میں فعل اور عبادت افضل ہیں۔ دونوں کے ابتدائی مدارج اور منزل مقصود یعنی دنیاوی اذیتوں کا ازالہ اور ذات کا اپنی ہیئت میں قیام کرنا ایک ہی ہیں۔ یوگ کا راستہ لمبا ہے لیکن سانکھیہ کے مقابلے آسان ہے۔ سانکھیہ کے علم کا راستہ چھوٹا ہے لیکن دشوار ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ جب ہم اپنے میں اس کی یعنی ذات کی بحث کی کھوج کرتے ہیں تو یہ یوگ ہے اور جب اپنے میں خود کی کھوج کرتے ہیں تو یہ سا نکھیہ ہے۔ ایک کہاوت یہ بھی ہے کہ سانکھیہ سا کوئی علم نہیں اور یوگ کی سی کوئی دوسری قوت نہیں‘‘۔ 3
یوگ کی دنیا میں پانچ ایسے فلسفے ہیں جن سے دور رہنے کی سختی کے ساتھ ممانعت کی گئی ہے ۔ ان میں (1) جہالت (2)انانیت (3)رغبت (4)نفرت اور (5) خوف ہے ۔اس کی تشریح اس طرح سے ہے کہ جہالت تمام برائیوں کی جڑ ہے ۔جہل سے مراد صرف یہی نہیں کہ کسی کو پڑھنا لکھنا نہیں آتا یہ تو بعد میں وجود میں آیا کہ کیسے پڑھنا او ر کیسے لکھنا ہے ۔تعلیمی تاریخ اس ضمن میں رہنمائی کرے گی کہ اس کی صحیح تاریخ کب سے شروع ہوئی ۔لیکن یوگ کی دنیا میں جہالت سے مرادگمراہی ، عقل و شعور کی کمی ،اخلاقیات اور بد اعتقادی کے ساتھ ساتھ ایک ’پرماتما ‘ کو نہ ماننا ہے ۔جب کہ سمجھدار اور عقلمند انسان سب سے پہلے اپنے جسم کی حفاظت اور بیماریوں سے بچاؤ کا سامان تیا رکرتا ہے۔اس کے لیے وہ بہترین اور طاقتور غذائیں کام و دہن میں لاتا ہے تاکہ صحت کی دیکھ بھال ہو سکے اور ’پرانا یام‘ کر سکے ۔دوسرا ہے انانیت : اس سے مراد کسی بھی شخص کی خود کی شناخت اور خود ی کی قدر کا شعوری احساس ہے، جو بنیادی خواہشات اور حقیقت کے درمیان ثالثی کا کرداراداکرتا ہے۔ یہ انفرادیت کا احساس فراہم کرتا ہے، جب کہ بنیادی طور پرانا کے اندرسختی کارویہ اور عنصر موجود ہوتا ہے جس کی وجہ سے تکبر اور غرورپیدا ہوتا ہے۔
اس کے برعکس جب انسان اپنی صلاحیتوں کو کسی اچھے کام میںلگاتا ہے مثلاً کسرت کرنا ، کھیل کود میں حصہ لینا، جسمانی ورزش کے تئیں حساس ہونا تو یہی ’انا‘ اس کی زندگی کے فلسفے کو ایک اچھے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے اور اس کے اندر یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ میرا جسم میری طاقت ہے۔انا کا ایک دوسرا مثبت پہلو بھی ہے جس کے مطابق یہ دماغ کا وہ حصہ ہے جو توازن، خود آگہی اور جذباتی ضابطہ فراہم کرتا۔ یہ پس منظر میں خاموشی سے کام کرتا ہے، جذبات کو معتدل کرتا ہے، اور ان طریقوں سے جواب دینے میں مدد کرتا ہے جو حقیقت پسندانہ اور سماجی طور پر مناسب ہوں۔ رغبت: اس سے مراد کشش، دلکشی، یا سحر کا ایک طاقتور معیار ہے جو کسی کو یا کسی چیز کو پرکشش بناتا ہے۔ یہ اکثر مقناطیسی نظریہ کے ساتھ ہمارے ذہن کو اپیل کرتا ہے۔جس سے کسی اچھے انسان کی چاہت،اچھے گھر، خوبصورت وادیاں، پہاڑ ،جھرنے ،مختلف طرح کے تصورات ہمارے دل میں جا گزیں ہوتے ہیں۔ نفرت: دشمنی، عداوت، یا انتہائی ناپسندیدگی کا ایک شدید، گہرا جذبہ انسانوں میں پنہاں ہوتا ہے، جو اکثر خوف، غصہ، یا چوٹ کے احساس سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ افراد، گروہوں یا تصورات کی طرف ایک طاقتوراور غیر معقول نفرت کے طور پر کام کرتے ہیں، جو اکثر تعصب اور جارحیت کو جنم دیتا ہے۔ اسے عام طور پر محبت کا مخالف سمجھا جاتا ہے۔نفرت کی بنیادی وجوہات میںاکثر خوف، غصہ، یا خطرہ جڑا ہوا ہوتا ہے جس کا اظہارزبانی بدسلوکی، ایذا رسانی، غنڈہ گردی،یا جسمانی تشدد کے طور پر ظاہر ہو تا ہے۔جب کہ سماجی سیاق و سباق (Context)میں یہ ایک منظم تعصب پر مبنی ہوتا ہے۔ خوف: ان سات آفاقی جذبات میں سے ایک ہے جس کا تجربہ دنیا بھر میں ہر کوئی کرتا ہے۔ خوف جسمانی، جذباتی، نفسیاتی، حقیقی یا تصوراتی، نقصان کے خطرے کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اگرچہ روایتی طور پر ایک منفی جذبہ ہے۔تاہم اسے یوگا کی مشق سے قابو میں لایا جا سکتا ہے۔
یوگا کی دنیا میں ان پانچوں عناصر پر قابو پایا جاسکتا ہے کیونکہ اس کا فلسفہ انتہائی سادہ اور ذہن کو اپیل کرنے والا ہے۔ ان امور پر عمل آوری کے لیے یہ اقتباس پیش کیا جا رہا ہے ۔’’یوگا تمام جسم میں ایک خوش کن ہیجان اور سرورپیدا کرتا ہے اور پھر ہم اپنے جسم میں چستی اور ذہن میں زندہ دلی محسوس کرتے ہیں۔ بسیار خورانی، سگریٹ نوشی اور اسی طرح کے دوسرے انسانی عوامل میں یو گا جسم اور ذہن کی قدرتی کارگزاری کے درمیان ایک توازن پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ باقاعدہ مشق سے ہم اپنے آپ سے ہم آہنگ ہو کر اپنی خوراک، لباس اور دوسرے معمولات میں توازن پیدا کر لیتے ہیں اور اس طرح ضرورت سے زیادہ سگریٹ و شراب نوشی اور بسیار خورانی پر قابو پالیتے ہیں۔ یوگا ایک خوش ترتیبی ہے، نہ ان کے لیے جو بہت زیادہ کھاتے ہیں اور نہ ان کے لیے جو بہت کم کھاتے ہیں۔ نہ ان کے لیے جو بہت زیادہ سوتے ہیں اور نہ ان کے لیے جو بہت کم سوتے ہیں۔ جب کوئی انسان اپنے نفس کا مالک بن جاتا ہے تو وہ یوگی کہلاتا ہے پھر اس کے لیے سونا، پتھر یا زمین سبھی ایک جیسے ہو جاتے ہیں ان میں اسے کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی۔ وہ اپنی روح کی بلندیوں پر ہوتا ہے اور وہاں سے وہ اپنے عزیز و اقارب کو دیکھتا ہے جو اس کے ساتھ لا تعلق ہیں، غیر جانبدار ہیں، جو اس سے نفرت کرتے ہیں۔ وہ سب کو اندرونی قلبی سکون کے ساتھ دیکھتا ہے۔ پھر اسے اس بات کا بالکل احساس نہیں ہوتا کہ کون اس کے بارے میں کیا سوچتا ہے ۔ پھر وہ اپنی رومانی زندگی میں مگن ہو جاتا ہے‘‘۔4 ارنسٹ ووڈکی کتاب کا یہ اقتباس مزید وضاحت کرتا ہے کہ ’’ہمیں لامحدود اوربہتر موقع کی تلاش میں اپنے سے چھوٹے وجود سے باہر دیکھنے کی ضرروت نہیں ہے ۔اس طرح یہ احسا س لالچ، نفرت، تعصب، حماقت اور نفس پرستی کو ختم کرتا ہے ‘‘۔ 5 جتنا قدیم یوگ کی دنیا ہے اتنا ہی اس کا فلسفہ بھی ہے۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ یوگا کی مشق تہذیب کے آغاز کے ساتھ ہی شروع ہوئی تھی۔ روایت کے مطابق مذاہب یا عقائد کے نظام کے پیدا ہونے سے بہت پہلے اس کا مشق کیا جاتا رہا ہے۔ یوگا کے پہلے معلم شیوجی کومانا گیا اور انھیں ہی پہلے یوگی یا آدیوگی (گرو یا آدی گرو) تسلیم کیا جاتا ہے۔ انڈس سرسوتی تہذیب جسے ہڑپا تہذیب کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے ؛کے مہروں کی باقیات کو دیکھ کر یہ اندازہ لگا یا گیا کہ قدیم ہندوستان میں یوگا کی موجودگی کی نشاندہی ہوتی ہے۔
یوگا کے وجود کے تاریخی پہلو،پہلے ویدک دور (2700 قبل مسیح) میں اور اس کے بعد پتنجلی کے دور تک ملتے ہیں۔ اس وقت کے جو اہم ماخذدستیاب ہیں، جن سے ہمیں اس دور میں یوگا کے طریقوں کے بارے میں معلومات ملتی ہیں ان میں وید، اپنشد،بدھ مت کی تعلیمات، جین مت، پانینی، پرُان اور مہاکاویہ وغیرہ میں دستیاب ہیں۔عارضی طور پر، (500قبل مسیح سے لے کر 800عیسوی) کے درمیان کا عرصہ کلاسیکی دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جسے یوگا کی تاریخ اور ترقی میں سب سے زیادہ زرخیز اور نمایاں دور بھی سمجھا جاتا ہے ۔ یہ دور بنیادی طور پر ہندوستان کے دو عظیم مذہبی اساتذہ مہاویر اور گوتم بدھ کے لیے معنون کیا جا سکتا ہے۔یوگا کا جدید دور سنہ 1700سے لے کر1900 تک کا مانا جاتا ہے ۔یہ دور جدید دور کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جس میں عظیم یوگاآچاریہ رمنا مہارشی، رام کرشنا پرم ہنس، پرم ہنس یوگ ننداور وویکانند وغیرہ نے یوگا کی ترقی اور اس کے تئیں بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اسی دور میں ویدانت، بھکتی یوگا، نتھیوگا یا ہتھ یوگا(جسمانی یوگا) اپنے عروج کو پہنچا ۔
ہندوستان کی موجودہ حکومت نے اس جانب مزید توجہ مبذول کی اور کئی اہم اصلاحات کے ساتھ ساتھ یوگا کو پوری دنیا میں نئے سرے سے متعارف کروایا ۔حکومت ہند کی اس پہل کی وجہ سے اقوام متحدہ (UNO)میں دنیا کے 170ممالک نے یوگا کے حق میں ووٹ کیا اور آج عرب ،افریقہ اور مغربی ممالک میں یوگا کے تئیں بیداری میں اضافہ ہو رہاہے۔ اس ضمن میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نئی دہلی کے سابق پروفیسر سی پی بھامبری مرحوم کے انگریزی مضمون سے، ایک اقتباس پیش کیا جا رہا ہے جس کو انھوں نے 5جولائی 2015میں تحریر کیا تھاوہ لکھتے ہیں’’یوگا جیسی مکمل طور پر انفرادی جسمانی ورزش کو آزادی کے بعد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک قومی درجہ دیا گیا ہے۔ کیونکہ مرکزی حکومت نے اعلان کیا کہ 21 جون، ہندوستانی تاریخ میں ایک اہم باب کی حیثیت سے جانا جائے گا۔ سبھی ہندوستانی باشندگان سے سرکاری سطح پر یہ توقع کی جاتی ہے کہ و ہ اپنی زندگی میں یوگا کی مشق کریں گے۔ مرکزی حکومت نے ہر سرکاری ملازم، خود مختار یونیورسٹیوں/کالجوں اور دیگر سے 21 جون کو’ بین الاقوامی یوگا ڈے‘ کے طور پر منانے کی اپیل کی۔جسے اقوام متحدہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی پہل پر قبول کیا ۔ آزادی کے بعد ہندوستان کی تاریخ میں یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ 21 جون کو مرکزی حکومت کی زیرقیادت سماج کے سبھی طبقوں نے اس جانب اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ‘‘۔6
دنیا کی قدیم ترین ثقافت اور تہذیب ووراثت میں، ہندوستان کی اپنی الگ شناخت اور پہچان ہے اور یوگا انہی میں سے ایک ہے۔ یوگا کے عالمی دن پر وزیراعظم نریندر مودی کے خطاب کا یہ اقتباس یوگا کی مشق کرنے اور اس سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے فائدہ سے خالی نہ ہوگا ۔اس پر مستزاد یہ کہ یہ خطاب یوگا کے جدید فلسفے کی عکاسی بھی کرتا ہے ۔’’یوگا جسم، دماغ، روح اور عقل کا اتحاد ہے۔ یہ محض ایک جسمانی ورزش نہیں ہے بلکہ ایک ذہنی نظم و ضبط بھی ہے۔ ایک ہی وقت میں، یہ ہمارے باطن کو پہچاننے کے ایک ذریعہ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یوگا ہماری خود آگاہی یا روحانی شعور کو بیدار کرتا ہے۔ ہمارے طرز زندگی کی رہنمائی کرتا ہے۔ یوگا کو اپنا کر ہم اپنی زندگی کو نئی بلند یوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ یوگا ہمیں ایک صحت مند جسم، ایک متوازن ذہن، اور مثبت ماحول میں کام کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ اس کا مقصد صرف ایک صحت مند جسم نہیں بلکہ ایک صحت مند ذہن اور صحت مند قوم کی تشکیل بھی ہے۔ یوگا کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کو اپنانے، خود کو جاننے اور اپنی زندگی کو جسمانی اور ذہنی توازن کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دینا ہے‘‘۔ 7 یوگ کاجدید فلسفہ اور ہندوستانی نظریہ کی بات کی جائے تو یوگا ہندوستانی ثقافت کا ایک انمول تحفہ ہے، جس نے پوری دنیا کو صحت مند زندگی گزارنے کی سمت دی ہے۔اسے ایک شاندار سائنس سے تعبیر کیا جا سکتا ہے جو جسم، دماغ اور روح کو متحدکرتی ہے۔ یوگا جسمانی صحت کے تناظر میں ایک بنیادی سچائی بیان کرتا ہے۔ زمین پر تمام زندگی کی فلاح و بہبود ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔
یوگاانسان کو اس گہرے تعلق کی طرف بیدار کرنے میں مدد کرتا ہے اور دنیا کے ساتھ اتحاد کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ یوگا کا جدید فلسفہ سکھاتا ہے کہ ہم الگ تھلگ افراد نہیں بلکہ فطرت کا لازمی حصہ ہیں۔ ابتدائی طور پرانسان صحت اور تندرستی کی دیکھ بھال کرنا سیکھتا ہے، لیکن آہستہ آہستہ، یہ دیکھ بھال پورے ماحول، معاشرے اور سیارے تک پھیل جاتی ہے۔ یوگا ایک گہرا ذاتی نظم و ضبط ہے جو ایک ہی وقت میں، ایک اجتماعی نظام کے طور پر کام کرتا ہے،جو افراد کو ’میں‘ سے’ ہم‘ میں تبدیل کرتا ہے۔یہی جذبہ ہندوستان کی روح کو سمیٹتا ہے، اور ہندوستانی اقدار کی عکاسی کرتا ہے جو افراد کو ذاتی مفاد سے بالاتر ہونے اور سب کی فلاح و بہبود کو اپنانے کی ترغیب دیتی ہیں۔ یوگا کا ثقافتی فلسفہ خدمت، بے لوث محبت اور ہم آہنگی کی بنیاد رکھتا ہے۔ دنیا بھر میں تناؤ، عدم استحکام اور تنازعات کی بڑھتی ہوئی سطح اور کشیدگی کی حالت میں یوگ کا فلسفہ انسانی زندگی کے غموں کا مداواہے جہاں اندرونی امن عالمی پالیسی بن جاتا ہے۔ یوگا کا فلسفہ ایک پرامن، متوازن اور پائیدار کرۂ ارض کی تعمیر کے لیے ایک جامع نقطہ نظر کے طور پر عالمی سطح پرمقبولیت حاصل کر چکاہے۔
جسمانی صحت اور یوگ کے فلسفے کے متعلق اتنی بات ہر انسان کے ذہن میں ہونی چاہیے کہ یہ کوئی علم الاصنام نہیں بلکہ مشقی عمل ہے۔ اس کے تحت چھ فلسفی نظام ہیں جن میں ویدانتا، اپنشد، سانکھیہ، وشیکا، مماسا، اور ’یوگا‘ ہیں ۔یوگا کے ضمن میں زیاہ تر عمل اور آسن ویدانتا اور سانکھیہ سے ماخوذ ہیں ۔یوگا کا بنیادی نظریہ ہے کہ انسانی زندگی مشکلات اور مصائب کے ساتھ وابستہ ہے۔ یوگا کی مشق کرکے انسان سچائی اور معرفت کا راستہ اختیار کرسکتا ہے۔ زندگانی کے اس پہئے میں انسان کو خدا کی عطا کردہ نعمتوں اور علوم سے فائدہ اٹھاتے رہنا چاہیے۔ خدا کی معرفت بغیر دشوار راہوں سے گزرے ہوئے نا ممکن ہے۔ یوگا روایات کے مطابق اس کے دواہم اور بنیادی فلسفے ہیں جنھیں ’یاما‘ اور ’نیاما‘ سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی کہ ’یاما‘ کا فلسفہ تشدد، چوری، بے ایمانی،اور حرص وطمع سے منع کرتا ہے۔ جب کہ ’نیاما‘کا فلسفہ کہتا ہے کہ انسا ن کو پاکیزگی ،سادگی ،قناعت ،مطالعہ،اور خدا کے ساتھ عقیدت رکھنا لازمی ہے۔ یہ فلسفے مثبت رویے کے عکاس اور انسانی زندگی کے لیے بے حد اہم اور ضروری مانے جاتے ہیں ۔یعنی جس کے اندر مذکورہ بالا تمام صفات ہوں گی وہ ایک بہترین انسان مانا جائے گا اور سماج میں اپنے مثبت نظریے سے اس کی صحیح رہنمائی کر سکے گا۔ زندگی کے مشاغل اور بھاگ دوڑ میں یوگا کا عمل انسانی جسم اور اس کے دل وماغ کو ایک پر سکون چادر فراہم کرتا ہے جو کبھی میلی نہیں ہو سکتی ۔
حوالہ جات:
1 قدرتی صحت اور یوگ،ڈاکٹر برج بھوشن گوئل، ص 109،آل انڈیا نیچر کیور فیڈریشن ،نئی دہلی، 2004۔
2 قدرتی صحت اور یوگ،ڈاکٹر برج بھوشن گوئل، ص 110، آل انڈیا نیچر کیور فیڈریشن ،نئی دہلی، 2004۔
3 پتنجلی کا فلسفہ یوگ،ہری کرشن داس گوئند،ص 10،ترقی اردو بیورو نئی دہلی ،1989۔
4 یوگا سب کے لیے ،صدف ناز ،ص 45،الکریم مارکیٹ ، اردوبازا لاہور،سنہ درج نہیں ۔
5 یوگا ، ارنسٹ ووڈ ، ص176، پینگوئن بکس ،نئی دہلی، 1959۔
6 سی پی بھامبری ، انگریزی آرٹیکل ،5جولائی 2015۔
7 خطاب بین الاقوامی یوم یوگا ،نریندر مودی ،21جون 2025۔
Asadullah C/o Mohd Mohsin
1444/45 Faiyaz Ganj,Azad Market Old Delhi,Pin Code: 110006
Mob. 9918427753
Email: asadullahjnu@gmail.com