اردو دنیا، مئی 2026:
سترہویں اور اٹھارہویں صدی کے ممتاز عالم، مفکر، ادیب، انشا پرداز اور صوفی شاعرمنشی نند لعل متخلص بہ گویا 1633 میں پیدا ہوئے۔ عہد شاہجہانی میں ان کے والد منشی چھجومل کھتری معروف بہ چھجورام تلاش روزگار میں پنجاب سے دہلی پہنچے اور شاہی دار الانشا میں ملازم ہوگئے۔ سنسکرت ا ور ہندی زبان کے ساتھ علوم اسلامی، عربی اور فارسی میں بھی دستگاہ رکھتے تھے۔ یہاں ان کی ملاقات دارا شکوہ سے ہوئی۔ شہزادہ ہندو علما وپنڈت کا پہلے سے قدردان اور دلداہ تھا۔ لہٰذا منشی چھجومل کی علمی لیاقت اور ایمانداری نے شہزادہ داراشکوہ کے دل میں اس قدر گھر کر لیا کہ جب بادشاہ شاہجہاں نے 1639میں اسے قندھارکی پہلی مہم پرروانہ کیا تو منشی چھجو مل کو بطور میر منشی اپنے ساتھ غزنی لے گیا اور وہاں پہنچ کردیوانی کے عہدے پر فائز کر دیا۔ وہ غزنی میں سکونت پذیر رہ کر اپنا فرض منصبی انجام دیتے رہے۔ دیوان چھجو رام درویشانہ مزاج کے حامل تھے۔ اس لیے نند لعل کی تربیت بھی اسی طرز پر انجام پائی۔ فارسی کے عالم ہونے کے سبب گویا کو بھی فارسی زبان کی تعلیم دی۔ 19سال کی عمر میں یعنی 1652میں گویاکے والدین بھی اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ والدین کے انتقال کے بعد خاطر خواہ منصب نہ ملنے کے سبب گویادل برداشتہ ہوگئے۔ غزنی چھوڑ کر مع اہل وعیال ملتان آگئے۔ یہاں کے حاکم نواب وصاف خان نے گویا کی علمی لیاقت سے متاثر ہوکرمیر منشی کے عہدے سے نائب صوبہ دار مقر ر کردیا۔ مگر عہد عا لم گیر میں کسی سبب سے ان کو ملازمت سے سبکدوش کردیا گیا۔ چنانچہ کچھ عرصہ خلوت نشین رہ کر گویا نے دینی کتابوں کا مطالعہ کیا جس سے ان کی زندگی میں ایک اہم تبدیلی آئی اور انھیں سکھ مذہب اور آخری گرو گوبندسنگھ سے والہانہ عقیدت ہوگئی۔ وہ دیدار مرشدکے لیے ملتان سے آنندپور (پنجاب) آگئے اور مرشد کے قدموں میں رہنے لگے۔ قلب وجگر کو اتنی راحت ملی کہ مرشدکے عاشق ہوگئے۔بیساختہ کہہ اٹھے ؎
بہ ہوش باش کہ ہنگام نو بہار آمد
بہار آمدو یارآمد و قرار آمد
’’ہوش میں آ کہ موسم بہار آگیا۔ بہار آئی،محبوب آیا اور دل مضطر کو قرار آگیا۔‘‘
گویا نے تقریبا نویادس یادگارتصانیف چھوڑی ہیں۔ ان میں تین پنجابی اور باقی فارسی زبان میں ہیں: مثنوی زندگی نامہ، غزلیات یا دیوان گویا، توصیف وثنا، گنج نامہ ، جوت بکاس( فارسی وپنجابی)، دستورالانشا، عرض الالفاظ، رہت نامہ یا تنخواہ نامہ۔ نندلعل کی تحریر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تمام کتابیں آنند پور میں گرو گوبند سنگھ اور سکھ مذہب کے زیر اثر لکھی گئی ہیں جس میں گرو بھکتی، عقیدت مرشد اورعشق حقیقی کا رنگ غالب ہے۔
بعض ایام و ہ آگرہ میں شہزادئہ معظم بہادر شاہ کے میر منشی بھی رہے۔ دوران ملازمت اپنے فرائض اس خوبی سے انجام دیے کہ شہزادہ ان کی دانشمندی اورعلمی صلاحیت کا دلداہ ہوگیا۔ ایک دن بادشاہ اورنگ زیب نے اپنے در بار میں علما و فضلا سے قرآن مجید کی کسی آیت کی تشریح طلب کی۔ حاضرین علما نے اپنے اپنے خیال ظاہر کیے۔ مگر بادشاہ کو ان سے تشفی نہ ہوئی۔ شہزادہ معظم بھی وہاں موجود تھے۔ دربار سے واپس آکریہ روداد اپنے میر منشی نند لعل کو سنائی۔ انھوں نے اس آیت کی فورا ایسی تشریح کر ڈالی کہ شہزادہ دنگ رہ گیا۔ اگلے دن شہزادہ اپنے والداورنگ زیب سے اسی آیت کا ذکر کرتے ہوئے تشریح کردی۔ بادشاہ حیران رہ گیا اور کہنے لگاہاں! یہ تشریح درست ہے۔ مگریہ تمھاری فکر کا نتیجہ نہیں ہے۔ معظم نے بتا دیا کہ یہ تشریح میری نہیں ہے بلکہ میرے میرمنشی کی کاوشوںکا ثمرہ ہے۔ دوسرے دن بادشاہ نے دربار میں انھیں بلاکر انعام واکرام سے نوازا،اور خو ش ہوا۔ اس سے نند لعل کی قرآن فہمی اوراسلامی معلومات کا اندازہ ہوتا ہے۔ مگر مرشد کی جدائی نے انھیں زیادہ دیر تک شاہی دربار میں رہنے نہ دیا۔ بالآخر آنند پور چلے آئے۔ جیسا کہ اس شعر سے ان کی فرقت کا پتہ چلتا ہے ؎
دل من در فراق یار بسوخت
جان من بہر آن نگار بسوخت
’’میرا دل محبو ب کی جدائی میں بھنک کر رہ گیا۔ میری جان بھی اس کے سوز الفت میں سوخت ہوگئی ہے۔‘‘
اور زمانہ تعلیم سے اس فن میں مہارت حاصل کرلی تھی۔ مرشد کے در بار میںجہاں پنجابی اور فارسی زبان کے شاعروں کا ہجوم تھا۔ ان کا ذوق سخن چمک اٹھا اور ان کا کلام عقیدت مرشد اور عشق الٰہی کی آنچ میں تپ کر قلب وجگر کو گرمانے اورروح کو تڑپانے لگا۔ مرشد کو ان کے حقیقت و معرفت میں ڈوبے ہوئے اشعار بہت پسند آئے۔ لہٰذا انھیں اپنے دربار میں دیوانی کے عہدے پر فائز کرنا چاہا مگر نند لعل نے یہ التجا کی کہ انھیں اس منصب جلیلہ کے بجائے لنگر بانٹنے کے کام پر مقرر کیا جائے۔
گویا 1704تک اپنے مرشد کے دربار آنندپور میں مقیم رہ کر ان کے لطف و عنایات سے فیضیاب ہوتے رہے۔ جب اہل وعیال کی یاد آنے لگی تو مرشد سے اجازت لے کرعازم ملتان ہوگئے۔وقت رخصت ملتان سفرکے اشارات اس طرح نظم کیے ؎
بہرکجاکہ روی جان من خدا حافظ
ببردئہ دل وایمان من خداحافظ
’’میری جان تو جہاں بھی جارہا ہو میں تجھے خدا کے سپر دکرتا ہوں۔ تونے میرے دل اور ایمان کو لوٹ لیااچھا خدا حافظ۔‘‘
گویااپنی زندگی کے آخری ایام ملتان میں ریاضت و مطالعہ اور خدمت خلق میں صرف کیے اور وہیں 1723 میں انتقال کرگئے۔
نند لعل کے اس مختصر احوال وکوائف سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ گویا ایک صاحب علم ودانش، معززرکن حکومت، معتمد مشیر سلطنت اور ایک مدبر اہل سیاست تھے۔ جنھوں نے تقریبا تیس برس مغل حکومت میں ملازمت کی۔ ان کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ایک صاحب د ل صوفی شاعر تھے اور اسی حیثیت سے آج بھی ان کے عقیدت مند انھیں محبت سے یاد کرتے ہیں۔
اُس وقت ہندوستان میں بھکتی اور تصوف کی فضا جو سارے ملک پر چھائی ہوئی تھی۔ باطنی طرز کی شاعری کے لیے سازگار تھی۔ نند لعل سے قبل اور ان کے زمانہ میں بہت سے ہندو اور مسلمان سخنور سلوک ومعرفت کے مضامین کو شعر کے حسین قالب میں ڈھال چکے تھے۔ اس لیے گویاکا جن کے دل میں اپنے مرشد کے فیضان سے عشق الٰہی کاجذبہ بیدار ہوگیا تھا۔ اس طرح شاعری کا اختیار کرنا کوئی ایسی غیر معمولی بات نہ تھی۔خاص کر ان کے کلام میں غزلوں کی اہمیت کا راز یہ ہے کہ انھوں نے شاعری کے میدان میں عام صوفی شاعروں کی طرح روایتی اور گھسی پٹی روش نہیں اختیار کی بلکہ ایک جدید اور نرالی راہ اختیار کی۔ وہ اوروں کی طرح ہجر معشوق کے درد و الم، مایوسی اور محرومی کا رنگ نہیں چھیڑتے بلکہ وصل محبوب کے کیف و سرور،عیش و عشرت اور کامرانی کا نغمہ سناتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا اپنا مسلک باطنیت کے روایتی طریقوں سے جدا اور ایک منفرد شان رکھتاہے۔
اس پس منظر میں گویا کی شاعری پر نظر ڈالیں تو اس میں ایک نرالی شان نظر آتی ہے جو اسے تصوف کے شاعروں کے کلام سے ممتازکرتی ہے۔ اس کا موضوع تو وہی عشق حقیقی ہے جو اور صوفی شاعروں کا ہے، لیکن اس کا لہجہ اور مزاج بالکل الگ ہے۔ صوفی شاعروں کا کلام حزن ویاس، ترک دنیا، وصل محبوب اور معرفت الٰہی حاصل کرنے کی تعلیم دیتا ہے، مگر گویا یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایک سچا طالب معرفت اسی دنیا میں وصل محبوب کی لذت وحقیقت کا عرفان حاصل کر سکتا ہے۔
گویا کے کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاعر روحانی سعادتوں ومسرتوں کی ترنگ میں سرشار اور باطنی کیف وسرور کے نشہ میں سرمست ہے۔ اس کا بہترین نمونہ گویا کی تیسری غزل جو حافظ کی ہم ردیف غزل ہے۔ یوں بھی اگر ان کی ساری غزلوں کو بغور پڑھیں تو تھوڑے سے قطع نظر کے ساتھ جن میں عام صوفی شاعروں کی قنوطیت اور ا لمیت کی رسمی تقلید نظر آتی ہے۔ جیسے حافظ کی پہلی ــــغزل،أَلا یَا أَیُّھا السَّاقی! أدرکَاساً وناوِلْہا، کے رنگ میں نند لعل کی غزل دیکھی جاسکتی ہے ؎
بدہ ساقی مرا یک جام زان رنگینی دل ہا
بچشم پاک بین آسان کنم من جملہ مشکل ہا
مرا در منزل جانان ہمہ عیش وہمہ شادی
جرس بیہودہ می نالد کجا بندیم محفل ہا
خدا حاضر بود دائم ببین دیدار پاکش را
نہ گردابی درو حا ئل نہ دریاوساحل ہا
چرا بیہودہ میگردی بسحرا و بدشت ای دل!
چوآن سلطان خوبان کردہ انددر دیدہ منز ل ہا
چو غیر از ذات پا کش نیست در ہرجا کہ می بینم
بگو گویا کجا بہ گذارم این دنیا و اہل ہا
’’اے ساقی! مجھے اس شراب کا ایک جام پلا دے۔ جو دل کو معرفت کے رنگ میں رنگ دے تاکہ میں اپنی پاک بین آنکھوں سے ان ساری مشکلوں کو حل کر دوں۔ 2۔ محبوب کے گھر میرے لیے عیش ہی عیش اور مسرت ہی مسرت ہے۔یہ قافلہ کا گھنٹہ بے کار شور مچاتا ہے۔ بھلا میں کہاں سفر کے لیے محمل باندھنے والا ہوں۔ 3 خدا ہمیشہ ہماری نظر کے سامنے موجود ہے۔اس کے پاک دیدار کی راہ میں نہ کوئی بھنو رحائل ہے نہ دریا نہ ساحل۔ 4 اے دل! آخرتو کیوں بیکار دشت وصحرا میں مارا مارا پھرتا ہے۔جب وہ حسینوں کا حسین تیری آنکھوں میں بسا ہوا ہے۔ 5 جب یہ صورت ہے کہ جدھر آنکھ اٹھا کر دیکھتا ہوں اس کی ذات پاک کے سوااور کچھ نہیں ہے۔تو اے گویا توہی بتاکہ اس دنیا کو کیسے چھوڑ دوں۔‘‘
اس ردیف میں صائب تبریزی،عرفی شیرازی اور بیدل عظیم آبادی کے علا وہ بیشتر قادر الکلام شعرا نے سخن سرائی کی ہے۔ غزلوں میں گویا نے سعدی، امیر خسرو اورزیادہ تر خواجہ حافظ کی پیروی کی ہے اگر چہ بحور اورقوافی مختلف ہیں۔ تاہم بسوخت، باش،الغیاث، شوی، عمر، فراق اور نرسد وغیرہ ردایف میں انکی غزلیں دیکھی جاسکتی ہیں۔
جیسے ایک جگہ تزکیہ نفس کے متعلق گویا کہتے ہیں ؎
دایما دل را بہ سو ی حق بیار
تا بہ آسان بگذری زین پل صراط
’’ہمیشہ دل کو خدا کی جانب متوجہ رکھ۔ تا کہ تو زندگی کے پل صراط سے آسانی سے گذر جائے۔‘‘
تصفیہ قلب، یعنی دل کو صاف کرنا چاہیے تاکہ معرفت حق حاصل ہو۔گویاکہتے ہیں ؎
گرزراہ شوق سازی سینہ صاف
زود بینی خویش را بی گراف
’’اگر تو محبوب کے شوق میں اپنے سینے کو آلا ئشوں سے پاک کرلے۔ تو بہت جلد اپنے نفس کا محرم بن جائے گا۔یہ حقیقت ہے فضول بات نہیں۔ ‘‘
بیان عشق جس کی سرشت میں عشق ہے۔ وہ خود بخود خاموشی سے فدائے حق ہے۔البتہ خام فریاد اور نالہ سے کام رکھتے ہیں۔ گویا کہتے ہیں ؎
پروانہ و ار گرد رخ شمع جان دہیم
چون عندلیب بیہودہ غوغا نمی کنیم
’’پروانہ کی طرح میں شمع کے گرد پھر کرجان دے دیتا ہوں۔بلبل کی طرح فضول شور نہیں مچاتا۔‘‘
حافظ کہتے ہیں ؎
آتش آن نیست کہ بر شعلہ اوخندد شمع
آتش آن ہست کہ بہر خرمن پروانہ زدند
’’آگ وہ نہیں ہے جس کے شعلہ پر شمع مسکرائے۔ بلکہ آگ وہ ہے۔ جو انھوں نے پروانہ کے کھلیان میں لگادی۔‘‘
بیان بادہ عشق و معرفت اور ساقی کی لیے گویا کہتے ہیں ؎
بیار آن شراب چو آب حیات
کہ باید ز بویش دل از غم نجات
’’اے ساقی ! لا اس آب حیات کی شراب کو کہ جس کی خوشبوسے دل کو غم سے نجات ملتی ہے۔‘‘
ملامت غفلت پر گویا کہتے ہیں ؎
وای بر نفسی کہ بیہودہ گذشت
الغیاث از غفلت ما الغیاث
’’(افسوس ان لمحوں پر جو بیکار گزرے۔ خدا کی پناہ! ہماری غفلت سے خدا کی پناہ! ‘‘
سعدی کہتے ہیں ؎
ای! کہ پنجاہ رفت در خوابی
مگر این پنج ر وزہ در یابی
’’اے دوست !اگر تمھارے پچاس دن خواب و غفلت میں گزرگئے ہیں۔ تم ان گزرے ہوئے ایام کا محاسبہ کر کے ان پانچ دنوں میں حاصل کر سکتے ہو۔‘‘
ذکر خدا کی تفسیر و توقیر گویا بیان کرتے ہیں ؎
غیر یاد خدا دمی کہ گذشت
این زوال است پیش اہل کمال
’’خدا کی یاد کے سوا کسی اور شغل میں جو دم بھی گزرے۔ وہ کاملوں کے نزدیک زوال کی نشانی ہے۔‘‘
عطار کہتے ہیں ؎
زندہ دار از ذکر صبح وشام را
در تغافل مگذران ایام را
’’ صبح وشام خدا کے ذکر سے خود کو زندہ رکھ، اور ایام کوخواب و غفلت میں نہ گذار۔‘‘
بیخودی در محبت الہی، فنا فی العشق میں گویا کہتے ہیں ؎
ما بندہ عشقیم خدا را نشنا سیم
دشنام ندادیم دعا را نشناسیم
’’میں تو عشق کا بندہ ہوں۔ خدا کو نہیں پہچانتا؟ مجھے نہیں معلوم گالی کیا اور دعاکسے کہتے ہیں؟‘‘
خسرو کہتے ہیں ؎
خلق می گو ید کہ خسرو بت پرستی می کند
آری آری میکنم با خلق عالم کار نیست
’’خلق کہتی ہے کہ خسرو بت پرستی کرتا ہے۔ ہاں ہاں، میں کرتا ہوں مجھے خلق سے کوئی کام نہیں۔‘‘
گویا کہتے ہیں ؎
بیمار نرگسیم کہ نرگس غلام اوست
ما آرزوے خضر و مسیحا نمی کنیم
’’میں اس نرگس چشم کا بیمار ہوں۔ جس کی غلامی پر نرگس کو فخر ہے۔ مجھے یہ آرزو نہیں کہ خضراور مسیحا مجھے اچھا کریں۔‘‘
خسرو کہتے ہیں ؎
از سر بالین من بر خیز ای نادان طبیب!
دردمند عشق را دارو بجز دیدار نیست
’’اے !نادان طبیب میرے سرہانے سے اٹھ جاکہ عشق کے بیمار کے لیے دیداریار کے علاوہ اور کوئی دوا نہیں ہے۔‘‘
ضرورت مرشد پر گویا کہتے ہیں ؎
ہمیشہ صحبت مردان حق طلب گویا
کہ طالبان خدا واصلان اللہ اند
’’گویا ہمیشہ سچے مرشد کی صحبت اختیار کر کہ طالبان خد االلہ سے منسلک ہیں۔‘‘
حافظ کہتے ہیں ؎
حافظ کیمائیست عجب بندگی پیر مغان
خاک او گشتم وچندین در جاتم دادند
’’پیر مغان کی غلامی عجیب کیمیا ہے۔ میں اس کی خاک بنااور انھوں نے مجھے اس قدر درجہ دے دیے۔‘‘
اس شعر سے گویا کے کلام کی شیرینی اور حب الوطنی ظاہر ہوتی ہے ؎
لذتی گویا نباشد بہ از آن
ہمچو شعری تو بہ ہندوستان لذیذ
’’گویا اس سے بڑھ کر کوئی لذت نہیں ہوسکتی جیسی تیرے شعر سے لو گوں کو ہندوستان میں حاصل ہوتی ہے۔‘‘
جہاں گویا نے متقدمین شعرا کی پیروی میں غزلیں کہیں وہیں وہ رباعیات میں خیام نیشاپوری سے سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں :۔مثلا ؎
گویا تاکی این سرای معلوم؟
گاہی لازم شوی وگاہی ملذوم
تاکی چون سگان بر استخوان جنگ کنی ؟
دنیا معلوم اہل دنیا معلوم؟
’’گویا اس دنیا کے متعلق کس کو معلوم ہے؟ کبھی یہ آپ کے لیے ضروری ہوتی ہے کبھی نہیں ہوتی۔ اس د نیا کے لیے کتے کے مانند کون ہڈی پر لڑے، دنیا بھی معلوم ہے اور اہل دنیا بھی ۔‘‘
خیام کہتے ہیں ؎
دنیا دیدی وہرچہ دیدی ہیچ است
وآن نیز کہ گفتی وشنیدی ہیچ است
سرتاسر آفاق دویدی ہیچ است
وآن ہر کہ در خانہ خزیدی ہیچ است
’’تم نے دنیا دیکھی اور جو کچھ دیکھا وہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اور جو تم نے کہا اور سنا وہ کچھ بھی نہیں۔ آپ افق تک بھاگ گئے یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ (اور جو کچھ گھر میں سمٹ کر رہے وہ بھی کچھ نہیں)۔‘‘
گویانے مثنوی میں مولانا جلال الدین رومی کی پیروی کی ہے۔ مثلا مثنوی زندگی نامہ کا رنگ، انداز اور بحرووزن مولوی کی مثنوی سے ملتا ہے۔ جیسا کہ گویا کہتے ہیں ؎
گر حضور باخدا باید بتو
در حضور مرشد کامل برو
’’گرتو خدا کی قربت چاہتا ہے۔ تو مرشد کامل کی صحبت میں چلا جا۔‘‘
مولانا کہتے ہیں ؎
ہرکہ خواہد ہم نشین باخدا
او نشیند در حضور اولیا
’’جو بھی خدا کی ہم نشینی چاہتا ہے اس کو کہو کہ اولیا کے حضور بیٹھا کرے) غرض مرید،مرشد کامل کے بغیر خدا تک نہیں پہنچ سکتاہے۔ ‘‘
بہر حال صنائع وبدائع اور فصاحت و بلاغت جابجا ان کے کلام میں پائی جاتی ہے۔ آپ مورخ کے علاوہ انشا پرداز اور مذہبی کتب قرآن، شاشتر، ویدانت اور دیگر کتب تصوف کے عالم تھے۔ نیز میدان عرفان کے شہسواراور علمبردار تھے۔ گویا کا کلام لفظی و معنوی خوبیوں سے مملو ہے۔ ہر شعر میں سلاست،سوزودرداور پڑھنے والے پر قدرتی طور پر ایک اثر ہوتا ہے۔ آپ کی شاعری عطار،سعدی کی طرح اخلاقی ہے۔ کلام ناصحانہ اور تلسی داس کی طرح محبت و عقیدت سے لبریز ہے۔ غزلیات، حافظ کی طرح عارفانہ اور مستانہ اور نظمیں،سنائی کی طرح حکیمانہ ہیں۔ مثنوی، فردوسی، نظامی اور مولانا کی طرح قدرتی اور الہامی روانی رکھتی ہے۔ اور غزل، سعدی، خسرواور حافظ کے مماثل ہے۔غرض ہندوستان کے فارسی شعرا میں ان کا درجہ مسلم ہے۔
مختصر یہ کہ نند لعل گویا کی غزلیں اس علمی اور ادبی ہم رنگی اور روحانی ہم آہنگی کی ایک روشن مثال ہیں۔ جو عہد وسطی کی ہندوستانی تہذیب کا طرہ امتیاز ہے۔ نہ صرف ان کی غزلوں کی زبان ہندوستانی ہے۔ بلکہ اس کی بندش، طرزادا، تشیبہ واستعارات، تلمیحات، غرض ساری ہیئت وہی ہے جو اس عہد کے ہندو مسلم شعراء کا مشترک سرمایہ تھی۔ اور موضوع کلام بھی وہی جو ان کے ہم عصر ہندو اور مسلمان شاعروں کی غزلوں کا تھا۔ یعنی عشق حقیقی کی واردات و کیفیات، بیخودی در محبت مولا، فنافی العشق،بادہ عشق و معرفت اور ساقی، گرو بھکتی، جام ومینا، ضرورت مرشد کامل، تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب،مگر اس فرق کے ساتھ کہ ان کے یہاں سرو ر،محبت اور نشاط روح کی ایک جان فزا لے ہے۔ جو دوسروں کو نصیب نہیں ہوئی۔ ان کا کلام عشق الہی،محبت مرشد اورحب الوطنی کے جذبہ اور صوفیانہ کیف وسرور سے بھرا ہوا ہے۔
مآخذ
1 سجاد حسین قاضی،دیوان حافظ،اردو بازار، لاہور، ص 149
2 سنگھ گنڈا، کلیات بھائی نند لعل گویا، گروگوبند سنگھ فاونڈیشن، چنڈی گڑھ 1963۔ص 10,11,17,20
3 سید عابد حسین ڈاکٹر، غزلیات بھائی نند لعل گویا، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، دہلی 1973 ص، 14، 15، 16، 19، 20،21
4 گویانندلعل، دیوان گویا، کتاب خانہ موسئہ پژ وہش ومطالعات فرہنگی،تہران۔ 1365۔ص،مختصری در بارہ گویا
5 گیانی مہان سنگھ، تصنیفات گویا، خالصہ ٹریکٹ سوسائٹی، امرتسر، 1963،ص 2,7,8
Dr. Ameer Abbas khan (Aamir)
71-B,Okhla, Near Chapparwali Masjid, Jamia Nagar, New Delhi-110025
Mob: 9793214180
Email: abbasamee59@gmail.com