1857 کے بعد مثنوی اور نظم،مضمون نگار:تسنیم قمر

May 14, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، مئی 2026:

انقلاب 1857 میں ناکامی کے بعد حکومت پر انگریزوں کے تسلط سے زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح ادب میں بھی نئے نئے خیالات اور جدید نظریات آرہے تھے۔ داخلیت کی بجائے خارجی مسائل اور خارج کے وسیع سلسلوں کو شعری مواد اور اظہار کا وسیلہ بنایا جانے لگا۔ تصورات کی بجائے حقیقت پسندی اور واقعیت کا مقام بلند ہونے لگا۔ ادب میں مافوق الفطرت عناصر کی جگہ زندگی کے ٹھوس حقائق زیادہ اہمیت اختیار کرنے لگے۔ اس طرح جدید شاعری کی بنیاد پڑی۔ اس کی ابتدا انگریزی نظموں کے ترجمے سے ہوئی اور پھر جب ملک کے طول و عرض میں انگریزی زبان کی تعلیم عام ہوئی تو انگریزی نظموں کے ترجموں کے ساتھ ساتھ نئی طرز کی نظمیں لکھی جانی لگیں۔ اردو شاعری کی دیگر اصناف کے مقابلے میں صنف مثنوی پر ان جدید طرز کی نظموں کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ کیونکہ مثنوی ایسی صنف شاعری ہے جس میں دنیا کی شاہکار نظمیں لکھی گئی ہیں۔ یہ صنف بڑی وسعت و تنوع کی حامل ہے۔
1857 کے بعد مثنوی پر نظم نگاری کے اثرات کا جائزہ لینے سے قبل یہ ذہن نشیں کرلینا مناسب ہوگا کہ مثنوی وہ طویل اور مسلسل صنف سخن ہے جس کا ہر ایک شعر جداگانہ قافیہ و ردیف رکھتا ہے اور تسلسل بیان کے لحاظ سے تمام اشعار زنجیر کی کڑیوں کی طرح آپس میں جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کا انداز بیان بیانیہ ہوتا ہے۔ اس میں شاعری کی باقی تمام اصناف سے زیادہ تنوع اور وسعت پائی جاتی ہے۔ اس میں ہر قسم کا مضمون کھپایا جاسکتا ہے۔ اس صنف کا دامن اتنا کشادہ ہوتا ہے کہ دل کے کیف پرور نغمے، جذبات، محسوسات کیفیات و سانحات کے ساتھ تخیل کی بے پناہ وسعتیں، نفسیاتی تجربات و منظرنگاری اور معرفت کی گہرائیاں یہ تمام چیزیں اس میں سمیٹی جاسکتی ہیں۔مثنوی کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تسلسل بیان اور واقعہ نگاری کا اسلوب ہوتا ہے جونظم کی دیگر اقسام سے مثنوی کو الگ کرتا ہے۔ جبکہ نظم جو شاعری کی ایک خاص صنف کے لیے مستعمل ہے، یہ اشعار کا ایسا مجموعہ ہے جس میں ایک مرکزی خیال ہوتا ہے اور ارتقائے خیال کی وجہ سے تسلسل کا احساس ہوتا ہے۔ اس صنف کے لیے کسی موضوع کی قید نہیں اور نہ اس کی ہیئت ہی معین ہے۔ ایسی نظمیں اردو کے ان اصناف سخن جیسے مثنوی، مرثیہ، قصیدہ، رباعی وغیرہ سے الگ رکھی جاتی ہیں۔
1857سے قبل لکھی گئی مثنویوں کے موضوعات پر نظر ڈالی جائے تو زیادہ تر مثنویوں کا موضوع تصوف، عشق وغیرہ پر مبنی ہے۔ یعنی زیادہ تر قدیم مثنویوں میں داخلی جذبات و احساسات کی عکاسی کی گئی ہے۔ مافوق الفطرت کی فراوانی ہے۔ دیو، جن، بھوت، پریاں، جادوگر، جادو کے محل، سلیمانی ٹوپی وغیرہ جابجا نظر آتے ہیں۔ لیکن جدید مثنوی نگاروں کی مثنویوں پر نظم نگاری کے اثرات واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ جدید مثنوی نگاروں نے مثنوی کے روایتی مضامین سے انحراف کرتے ہوئے زندگی کے خارجی مسائل کی طرف توجہ مرکوز کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انقلاب1857 میں ہندوستانیوں کی ناکامی کے بعداقتدار پر انگریزوں کا تسلط ہوگیا، جس کا اثر یہ ہواکہ زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح ادب میں بھی نئے نئے خیالات اور جدید نظریات آنے لگے۔ داخلیت کی بجائے خارجی مسائل کو اظہار کا وسیلہ بنایا جانے لگا۔ نظم کی طرح جدید مثنویوں میں زندگی میں پیش آنے والے واقعات بیان کیے جانے لگے۔ کیونکہ اس وقت کے حالات اسی کے متقاضی تھے۔
مثنوی کی اس نئی طرز اور نئے اسلوب کو اختیار کرنے میں اولیت کا شرف محمد حسین آزادکو حاصل ہے۔ ان کی ان کوششوں میں ان کا بھرپور ساتھ الطاف حسین حالی نے دیا۔ آزاد نے جو مثنویاں لکھیں ان میں متعین مقصد کے تحت روز مرہ زندگی کو شعر کے سانچے میں ڈھالا گیا۔ جبکہ حالی نے بھی ایسے ہی موضوعات پر مثنویاں لکھیں۔ آزاد اور حالی نے جس جدید نظم کی بنیاد رکھی وہ جدید اور قدیم کا معتدل آمیزہ ہے۔ پہلے موضوعات میں تبدیلی لائی گئی پھر ہیئت کے تجربے بھی کیے گئے۔ محمد حسین آزاد نے شعر کے حقیقی مطمح نظر کو اس طرح واضح کیا ہے:
’’شعر گلزار فصاحت کا پھول ہے۔ گلہائے الفاظ کی خوشبو ہے۔ روشنی عبارت کا پرتو ہے۔ علم کا عطر ہے۔ قوائے روحانی کا جوہر۔ روح کے لیے آب حیات ہے۔ گرد غم کو دل سے دھوتا ہے۔ طبیعت کو بہلاتا ہے۔ خیال کو عروج دیتا ہے۔ دل کو استغنا اور بے نیازی۔ ذہن کو قوت پرواز دیتا ہے۔ گرد افکار سے دامن دل کو بلند رکھتا ہے۔ تنہائی میں دل لگی پیدا کرتا ہے۔ ‘‘1
اقتباس میں مذکور مطمح نظر کو پیش نظر رکھتے ہوئے محمد حسین آزاد نے حالی کے ساتھ اردو میں فطری شاعری کی بنیاد رکھی اور اپنی شعری تخلیقات کے ساتھ اسے ایک نیا موڑ دیا۔ آزاد اور حالی نے انگریزی شاعری کی طرز پر اردو میں نیچرل شاعری کی بنیاد ڈالی۔ اردو شاعری انہی کی بدولت نیچرل شاعری کے اصل معنی سے واقف ہوئی۔ انھوں نے کرنل ہالرائیڈ کی تائید و تعاون سے ’انجمن پنجاب‘ کی بنیاد رکھی جس میں قومی اور اخلاقی موضوعات پر نظمیں پڑھی جاتی تھیں۔ اس کا مقصد اردو شاعری کی اصلاح اور ترقی تھا۔ جس میں مصرع کی جگہ عنوان دیا جاتا تھا۔ یہیں سے اس دور کا آغاز ہوا جس کا عہد حاضر بھی ممنون ہے۔ حالی اور آزاد نے شاعری میں نئی روح پھونک دی۔ شاعری میں ایک ایسا انقلاب آیا کہ اردو کا شاعر حسن کی تصوراتی دنیا سے الگ ہوکر حقیقت پسندی کی طرف آگیا۔ معاشرتی اور سیاسی پہلوؤں پر نظمیں لکھنے کی شروعات ہوئی اور وہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ آزاد نظم کے سلسلے میں فرماتے ہیں:
’’نظم درحقیقت ایک شاخ گل ریز فصاحت کی ہے جس طرح پھولوں کے رنگ و بو سے دماغ جسمانی تروتازہ ہوتا ہے۔ شعر سے روح تروتازہ ہوتی ہے۔ پھولوں کی بو سے مختلف خوشبوئیں محسوس دماغ ہوتی ہیں۔ کسی کی بو تیز ہے۔ کسی کی بو مست ہے۔ کسی کی بو میں نفاست و لطافت ہے۔ کسی میں سہانا پن۔ اسی طرح مضامین اشعار کا بھی حال ہے جس طرح پھول کہ کبھی چمن میں، کبھی ہار میں، کبھی عطر کھینچ کر، کبھی عرق میں جاکر کبھی دور سے کبھی پاس سے مختلف کیفیتیں معلوم ہوتی ہیں۔ اسی طرح مضامین شعری مختلف حالتوں اور مختلف عبارتوں میں رنگا رنگ کی کیفیتیں عیاں کرتے ہیں۔‘‘2
محمد حسین آزاد نے جدید نظم نگاری کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی لیے انھیں جدید رنگ کا بانی کہا جاتا ہے۔ شاعری کی دنیا میں انھوں نے نظم گوئی کی جو روایت شروع کی آج بھی شعرا کی پسند ہے۔ اردو ادب میں بطور شاعر ان کا مقام بہت بلند نہیں لیکن ان کی شاعری نظرانداز نہیں کی جاسکتی ہے۔
آزادنے انگریزی نظموں سے خیالات اخذ کرکے متعدد نظمیں لکھیں۔ مثلاً ’محنت کرو‘، ’ایک تارے کا عاشق‘، ’جسے چاہو سمجھ لو‘، ’شرافت حقیقی‘، ’جشن جوبلی‘ وغیرہ۔ ان کی مثنویاں ’شب قدر‘، ’صبح امید‘، ’حب وطن‘، ’خواب امن‘، ’دادِ انصاف‘، ’وداعِ انصاف‘، ’گنج قناعت‘، ’ابر کرم‘، ’زمستان‘، ’مصدرِ تہذیب‘، ’شرافت حقیقی‘ وغیرہ خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔ آزاد کے شعری مجموعے ’خم کدۂ آزاد‘ اور ’مجموعہ نظم‘ جو حسن و عشق کی قید سے آزاد ہیں،ان کے مطالعے سے اردوشاعری میں جدید کروٹ کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ نظم آزاد میں مثنوی کے ساتھ ساتھ غزلیات، اشعار، قصائد، رباعیات اور کچھ اخلاقی نظمیں شامل ہیں۔ ان کی غزلوں میں سنجیدہ تغزل ملتا ہے۔ لیکن نظمیں شوخ اور لطیف رنگ میں ہیں۔ انھوں نے مولانا الطاف حسین حالی کے ساتھ مل کر شعرا کو جدید طرز کی نظمیں کہنے پر راغب کیا۔ انھوں نے مخالفت کے باوجود قدیم اردو شاعری کو عشق و عاشقی، گل و بلبل، مبالغہ، تکلف و تصنع کی قید سے باہر نکالا اور نئی طرز شاعری کو مقبول عام کیا۔اردو شاعری میں نئی روح پھونک کر اسے نئے اسلوب و انداز سے روشناس کرایا۔ انھوں نے نیچر کی پیروی کی اور صاف زبان میں اپنی باتیں کہیں۔
’شب قدر‘محمد حسین آزاد کی اہم مثنوی ہے۔ اس میں رات کی آمد اور رات میں مختلف پیشوں سے وابستہ افراد کی زندگی کی عکاسی بڑی ہنرمندی سے کی گئی ہے۔ مزدور، مسافر، طالب علم، نجومی، شاعر، اہل جہاز، ماں اور اس کے بیمار بچے اور چور وغیرہ کے رات کے مشاغل کا نقشہ کھینچا گیا ہے ؎
مزدور جا بجا تھے جو دکھ درد پا رہے
اور پاؤں تک سروں کے پسینے بہا رہے
بارِ گراں غریبوں نے سر پر اٹھائے ہیں
جب چار پیسے شام کو لے گھر میں آئے ہیں
اے شب تمام دن کی مصیبت سے ہار کے
تیرے عمل میں پاؤں ہیں سوئے پسار کے
دن بھر کے ہیں مسافر محنت زدہ بہت
آوارہ تا بشام ہیں شامت زدہ بہت
آئے ہیں دن کی دھوپ میں منزل جو مار کر
رستہ میں بوجھ بھی نہیں رکھا اتار کر
اے رات تو نے ڈالا جو رحمت کا سایہ ہے
اس وقت ان بچاروں نے آرام پایا ہے3
’شب قدر‘ کے درج بالا اشعار میں مزدوروں کی محنت و مشقت اور ان کے مسائل کی عکاسی کی گئی ہے۔ آزاد کی اس مثنوی میں عاشقانہ جذبات و احساسات، داخلی کیفیات اور مافوق الفطرت عناصر کی بجائے نظم کی طرح زندگی کے خارجی مسائل کو اظہار کا وسیلہ بنایا گیا ہے۔
مثنوی ’زمستان‘ میں سردی کے موسم میں مختلف لوگوں کے حالات و کیفیات کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس میں برف سے ڈھکی پہاڑیوں، برف پر پھسلنے، قطبین کی یخ بستہ فضاؤں کا نقشہ، گانے بجانے، معمر خواتین کا یاد ماضی سے لطف اندوز ہونے کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اسی طرح آزاد کی مثنوی ’حب وطن‘ میں وطن سے محبت کا ذکر کیا گیاہے۔
’خواب امن‘ محمد حسین آزاد کی طویل مثنوی ہے۔ جس میں امن، علم، زراعت، تجارت، صنعت و حرفت، دولت اور فتنہ انگیزی کو پیش کیا ہے۔ یہ تمثیلی مثنوی سورج کے ڈوبنے اور ایک دشت پربہار سے شروع ہوتی ہے جہاں کے پتے پتے پر امن و امان رقم ہے اور جہاں شیر و بکری ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے تھے۔ اس مثنوی میں جہاں ایک طرف امن و امان کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کی اہمیت و افادیت کی عکاسی کی گئی ہے وہیں دوسری جانب بے عملی، جہالت اور بدامنی کے مضر اثرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
آزاد کی مثنویوں کے مطالعے سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ ان کی مثنویوں میں حب الوطنی، ملکی حالات، زندگی کے خارجی مسائل نمایاں مقام رکھتے ہیں، ان مثنویوں پر نظم نگاری کے اثرات ہیں۔ منظرنگاری بہت دلکش ہے۔ لطافت اور نزاکت کے ساتھ جوش و ولولہ بھی ملتا ہے۔ داخلی کیفیات کم ملتی ہیں۔ رعایت لفظی کی پابندی ملتی ہے۔ حقیقی مناظر کی خوبصورت تخیلی پیشکش ملتی ہے۔
جدید شاعری کی بنیاد رکھنے میں محمدحسین آزاد کے ساتھ ساتھ الطاف حسین حالی کانام بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ انھوں نے سرسید کی تحریک کے زیر اثر جو نظمیں لکھی ہیں، ان کے موضوعات نئے ہیں۔ انہوں نے بھی آزاد کی طرح شاعری کو عشق و محبت کی قید سے آزاد کرانے کی کوشش کی اور عام زندگی میں درپیش مسائل کی طرف توجہ مرکوز کی۔
حالی کی شاعری بالخصوص ان کی مثنویوں ’جواںمردی کا کام‘، ’برکھا رت‘، ’نشاط امید‘، ’حب وطن‘، ’مناظرۂ رحم و انصاف‘، ’تعصب و انصاف‘، ’کلمۃ الحق‘، ’بیوہ کی مناجات‘، ’دولت اور وقت کا مناظرہ‘، ’حقوق اولاد‘ اور ’روٹی کیونکر میسر آتی ہے!‘ وغیرہ میں ماضی کی روایات کا احساس بہت شدید ہے۔ ان میں مسلمانوں کے گزشتہ کارناموں کا ذکر بار بار آتا ہے۔ مٹی ہوئی عظمتوں کی کہانیاں، اسلامی تاریخ کے زریں ادوار کی بنیادی خصوصیات کو پیش کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کے گزشتہ کارناموں، مٹی ہوئی عظمتوں اور اسلامی تاریخ کے زریں ادوار کی یاد تازہ کرنے کاحالی کا مقصد واضح ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ قوم کے لیے شمع راہ ثابت ہوں تاکہ وہ ترقی کی منزلوں پر گامزن ہوسکے۔ حالی کی مثنویوں میں مسلمانوں کی زبوں حالی اور اسے دور کرنے کا پیغام نظر آتا ہے۔
حالی نے اپنی مثنویوں میں دنیاوی زندگی میں مذہب کی اہمیت و افادیت کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ ان کی مثنویوں میں معاشرے میں زندگی کو بہتر بنانے کا احساس موجود ہے۔ ان میں اخلاقی اقدار کی اہمیت بھی نمایاں ہے۔ علمی اور تعلیمی معاملات کا تذکرہ بھی ہے۔ عورتوں پر ظلم و ستم، ان کی بے بسی اور کسمپرسی کا نوحہ بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی ان کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل بھی ہے۔ غرض یہ کہ اس وقت کی زندگی میں پیش آنے والے جتنے بھی موضوعات تھے، ان سب کی ترجمانی کسی نہ کسی صورت سے حالی نے اپنی مثنویوں میں کرنے کی کوشش کی ہے۔اسی لیے حالی شاعری کی دیگر اصناف کے مقابلے مثنوی کی اہمیت و افادیت کے قائل ہیں کیونکہ اس میں زندگی کے داخلی اور خارجی ہر طرح کے مسائل سموئے جاسکتے ہیں۔ مثنویوں کے موضوعات میں تنوع کے سلسلے میں حالی فرماتے ہیں:
’’جتنی صنفیں فارسی اور اردو شاعری میں متداول ہیں، ان میں کوئی صنف، مسلسل مضامین بیان کرنے کے قابل، مثنوی سے بہتر نہیں ہے۔ یہی وہ صنف ہے جس کی وجہ سے فارسی شاعری کو عرب کی شاعری پرترجیح دی جاسکتی ہے۔ عرب کی شاعری میں مثنوی کا رواج نہ ہونے یا نہ ہوسکنے کے سبب، تاریخ یا قصہ یا اخلاق یا تصوف میں ظاہراً ایک کتاب بھی ایسی نہیں لکھی جاسکی جیسی فارسی میں سیکڑوں بلکہ ہزاروں لکھی گئی ہیں۔ اسی لیے عرب، شاہنامے کو قرآن العجم کہتے ہیں۔ اور اسی لیے مثنوی معنوی کی نسبت ’ہست قرآن در زبانِ پہلوی‘ کہا گیا ہے۔‘‘4
درج بالا اقتباس سے حالی کے نزدیک مثنوی کی اہمیت اجاگر ہوجاتی ہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ داخلی احساسات و جذبات اور عشقیہ مضامین کی بجائے حالی شاعری میں زندگی کے مسائل کو اہمیت دیتے ہیں اور ان مضامین کو باندھنے کے لیے مثنوی سے بہتر اور کوئی صنف نہیں ہوسکتی ہے۔ ان کی مثنویوں میں اس زمانے کی حالت، غور و فکر کا انداز، خیالات و تصورات، ذہنی و جذباتی رجحانات سب کچھ موجود ہے اور جگہ جگہ آفاقی نوعیت کے موضوعات کی ترجمانی بھی ہے۔
’برکھا رت‘ میں حالی نے برسات کی مختلف کیفیات کا ذکر کیا ہے۔ مثنوی کی ابتدا برسات ہونے سے قبل گرمی کی جو شدت ہوتی ہے اس کی حالت کو بیان کیا گیا ہے اور گرمی سے متعلق تمام جزئیات کا ذکر کیا گیاہے۔ اس گرمی میں جانداروں کا تڑپنا، کہساروں کا تپنا، دریا کے پانی کا کھولنا، جنگل میں گرمی کی شدت، باغوں کی ویرانی، آندھیوں کی تندی، لو کی شعلہ سامانی، انسانوں کی بے چینی، شہر کی کیفیت، چھوٹے بچوں کی بے حالی، ان سب کی تصویرکشی حالی نے بڑی ہنر مندی سے کی ہے۔
اس مثنوی میں یہ تصویرکشی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اصل موضوع کے خدو خال کو ابھارنے میں ان کو خاصا دخل ہے۔ گرمی کے پس منظر کو بیان کے بغیر برسات کی تصویرواضح نہیں ہوسکتی تھی۔ اس لیے حالی نے اس مثنوی کے ابتدائی حصے میں گرمی کی کیفیت کا ذکراس قدر تفصیل سے کیا ہے۔ چنانچہ اس میں واقعہ نگاری، منظر نگاری اور جزئیات نگاری کی خصوصیات پیدا ہوگئی ہیں۔ چند اشعارملاحظہ کریں ؎
گرمی سے تڑپ رہے تھے جان دار
اور دھوپ میں تپ رہے تھے کہسار
بھو بل سے سوا تھا ریگِ صحرا
اور کھول رہا تھا آبِ دریا
تھی لوٹ سی پڑ رہی چمن میں
اور آگ سی لگ رہی تھی بن میں
سانڈے تھے بلوں میں منہ چھپائے
اور ہانپ رہے تھے چار پائے
تھیں لو مڑیاں زباں نکالے
اور لو سے ہرن ہوتے تھے کالے
چیتوں کو نہ تھی شکار کی سدھ
ہرنوں کو نہ تھی قطار کی سدھ
تھے شیر پڑے کچھار میں سست
گھڑیال تھے رودبار میں سست
ڈھوروں کا ہوا تھا حال پتلا
بیلوں نے دیا تھا ڈال کندھا
بھینسوں کے لہو نہ تھا بدن میں
اور دودھ نہ تھا گئو کے تھن میں
گھوڑوں کا چھٹا تھا گھاس دانہ
تھا پیاس کا ان پر تازیانہ5
درج بالا اشعار میں گرمی کی شدت میں جانوروں کی کیفیات کی جزئیات نگاری کے ساتھ ساتھ گہرے مشاہدے اور احساس کی شدت بھی نظر آتی ہے۔
’نشاط امید‘ کا موضوع ’برکھا رت‘ سے مختلف ہے لیکن اس مثنوی میں بھی وہی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو اس دور میں حالی کے فن میں نمایاں تھیں۔ اس کا موضوع بھی آفاقی نوعیت کا ہے۔ زندگی کی عام حقیقت اس مثنوی میں بھی نمایاں ہوتی ہے اور اسے پیش کرنے کے لیے حالی نے تاریخ،تہذیب و تمدن، مذہب اور معاشرے کا سہارا لیا ہے اور امید کی خوشی کی اہمیت کو اس طرح ذہن نشیں کرایا ہے کہ اس کے تاثر میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
مثنوی ’مناظرۂ رحم و انصاف‘ میں حالی نے رحم اور انصاف کے درمیان مناظرے کی منظر کشی کی ہے۔ رحم اپنی برتری ثابت کرتا ہے جبکہ انصاف اپنی بڑائی جتاتا ہے۔ لیکن عقل ان دونوں کو صحیح راستہ دکھاتی ہے، جس سے ان دونوں پر یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ ان دونوں میں کوئی برتر نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازمی ہیں۔ دنیا کی بہتری کے لیے ان دونوں کا ایک ساتھ رہنا ضروری ہے۔ مثنوی ’مناظرۂ رحم و انصاف‘ کا موضوع بظاہر خشک معلوم ہوتا ہے، لیکن ہماری عملی زندگی میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ حالی نے اس کی اہمیت و افادیت کو محسوس کیا اور اس کو ایک نئے انداز میں مثنوی میں پرونے کی کوشش کی ہے۔ اس مثنوی میں قومی اور اصلاحی رجحان کار فرما نظر آتا ہے، جو حالی کا مطمح نظر تھا۔
مولانا حالی نے قومی مسائل پر جو مثنویاں لکھی ہیں ان میں عورتوں کے مسائل پر لکھی گئیں ان کی مثنویاں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ کیونکہ حالی نے عورتوں کے ان مسائل کی طرف توجہ دلائی ہے جن کی طرف اردو شاعری میں اس سے پہلے کسی نے توجہ دلانے کی کوشش نہیں کی۔ حالی کی اس قبیل کی مثنویوں سے قبل اردو شاعری میں عورت کو صرف اور صرف محبوب کا مرتبہ حاصل تھا۔ وہ محض تعیش کا ایک ذریعہ تھی۔ اس کی سماجی اورمعاشرتی حیثیت کی طرف توجہ مبذول نہیں کی گئی تھی۔ اردو شاعری میں سب سے پہلے حالی نے عورتوں کے مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے دو شاہکار مثنویوں ’مناجات بیوہ‘ اور’چپ کی داد‘ لکھیں۔
حالی اور آزادکے علاوہ اسماعیل میرٹھی نے بھی بہت سی چھوٹی چھوٹی مثنویاں بچوں کی تربیت کی غرض سے لکھیں۔ میرٹھی کی ’خدا کی تعریف‘، ’اسلم کی بلی‘، ’ہوا چلی‘، ’برسات کا موسم‘، ’ہماری گائے‘ وغیرہ اہم مثنویاں ہیں۔
شوق قدوائی نے جدید مثنوی کے موضوعات میں وسعت پیدا کی اور انھوں نے سائنس اور مذہب اور حسن جیسے علمی اور فلسفیانہ مسائل کو اپنی مثنویوں میں جگہ دی۔ ان کی قابل ذکر مثنویاں ’بہار‘، ’ہندوستان کی برسات‘، ’عالم خیال‘ اور ’حسن‘ ہیں۔ اس کے علاوہ چکبست، سرور اور شاد نے ہندو عقائد اور تاریخ وغیرہ پر مثنویاں لکھیں۔
اقبال نے مثنوی کے مروجہ اصولوں میں اجتہاد کیا اور مثنوی کو اپنے افکار کے اظہار کے لیے آزادانہ استعمال کیا۔ اس طرح مثنوی موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق صورت اختیار کرگئی، جس میں ہر قسم کے خیالات کے اظہار کی وسعت پیدا ہوگئی۔ فنی طور پر اس میں بحر اور قافیہ کی ترتیب بدل جاتی ہے۔ ’ایک پہاڑ اور گلہری‘، ’عشق موت‘، ’پنجاب کے دہقان‘، ’رخصت اے بزم جہاں‘، ’انسان اور بزم قدرت‘، ’خفتگان خاک سے استفسار‘ وغیرہ اقبال کی اہم مثنویاں ہیں۔
1857 کے بعد لکھی گئیں جدیدمثنویوں کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان مثنویوں پر نظم نگاری کے اثرات براہ راست مرتب ہوئے ہیں۔ کیونکہ 1857 سے قبل لکھی گئیں مثنویوں کا موضوع تصوف، عشق وغیرہ پر مبنی ہے۔ یعنی زیادہ تر مثنویوں میں داخلی جذبات و احساسات کی عکاسی کی گئی ہے۔ مافوق الفطرت کی فراوانی ہے۔ دیو، جن، بھوت، پریاں، جادوگر، جادو کے محل، سلیمانی ٹوپی وغیرہ جابجا نظر آتے ہیں۔ لیکن1857 کے بعد جدید مثنوی نگاروں نے مثنوی کے روایتی مضامین سے انحراف کرتے ہوئے زندگی کے خارجی مسائل کی طرف توجہ مرکوز کی اور نظموں کی طرح مختصر مثنویاں لکھیں جن میں زندگی میں پیش آنے والے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔
نظم نگاری کے زیر اثر لکھی گئیں جدید مثنویوں کی نمایاں خصوصیت تغزل یا عاشقانہ رنگ کا مفقود ہونا ہے۔ لفظی صناعی، مفروضات اور نرے تخیلات کی بجائے حقائق اور واقعات جدید شاعری کا موضوع بنتے ہیں۔ بیکار کے مبالغے، تشبیہات، بے مزہ لفاظی کو ترک کردیا گیا۔ نیچرل مضامین کو موضوع بنایا گیا۔ مثال کے طور پر پہاڑوں کے خوبصورت مناظر، ندیوں کی روانی، برسات، جاڑے اور گرمی کی بہاریں جدید مثنویوں کا موضوع بنے جو قدیم شعرا کے یہاں بہت کم ملتے ہیں۔
جدید مثنویوں میں قومیت اور وطنیت کا احساس اور آزادی کی روح پائی جاتی ہے۔ اردو شاعری میں قومیت اور وطنیت کا یہ خیال مغربی ادب کی مرہون منت ہے۔انگریزی شاعری کے زیر اثر 1857 کے انقلاب کے بعد اردو شاعری بالخصوص اردو کی جدید مثنویوں میں قومیت اور وطنیت کے جذبات پیش کیے گئے۔
جدید مثنویوں میں کائنات کے رازوں اور فطرت کے حقائق پیش کیے گئے۔ بہت سی مثنویاں مناظر، وقت اور موسم کی کیفیتوں پر لکھی گئیں۔ جبکہ قدیم مثنویوں میں منظر نگاری کے نمونے نسبتاً کم ملتے ہیں یا بہت مختصر اور غیرمسلسل ہیں۔اردو کی قدیم مثنویوں میں پند واخلاق تو پائے جاتے ہیں مگریہ ادھر ادھر بکھرے ہوئے ملتے ہیں جبکہ جدید مثنویوں میں اخلاق اور موعظت کو خاص مرتبہ حاصل ہے۔ اس کے ساتھ تاریخی موضوعات پر بھی مثنویاں لکھی گئیں۔
مختصر یہ ہے کہ نظم نگاری کی طرز پر الگ الگ موضوعات پر مثلاً تاریخی، سیاسی، اخلاقی، نصیحت آموزمثنویوں لکھی گئیں۔ جدید مثنویوں میں سادگی، صفائی اور واقعیت کو اہمیت حاصل ہوئی۔ اسی لیے موجودہ دور کی مثنویاں بہت پراثر اور جذبات سے بھری ہوئی ہیں۔ قیمتی اور وسیع ذخیرۂ الفاظ، نئے مضامین، نئی تشبیہات و تخیلات، نئے خیالات اور ان کے استعمال و اظہار کی نئی طرزیں سامنے آئیں۔

حواشی
1 محمد حسین آزاد، ’نظم اور کلام موزوں کے باب میں خیالات‘،مشمولہ نظم آزاد، ص4، 1926، مطبع کریمی
2 ایضاً، ص 3
3 محمد حسین آزاد، مثنوی شب قدر، مشمولہ ’نظم آزاد‘، ص19، 1926، مطبع کریمی
4 الطاف حسین حالی، مقدمہ شعرو شاعری، 203، 1995، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی
5 الطاف حسین حالی، برکھا رت، مشمولہ مثنویات حالی، ص109، 1966، شیخ مبارک علی ناشر و تاجر کتب،

Tasneem Qamar
Research Scholar, Department of Urdu
Banaras Hindu University
Varanasi-110043 (U.P)
Email: qamartq1595@gmail.com
Mob: 9026202801

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

راجا نرسنگھ راج عالی کی غزلیہ شاعری،مضمون نگار: پنکج کمار

اردو دنیا، مارچ 2026: حیدرآبادکی روشن فضاؤں میں اردو ادب کے جہاں کئی غیر مسلم شعرا و ادبا ایسے ہیں جو اپنی روشنی سے محفلوں کو منور کرتے ہیں۔ ان

شہزادی کلثوم کی شاعری ،مضمون نگار:منظور احمد گنائی

اردو دنیا، مارچ2026: وادی کشمیر میں اردو ادب کی آبیاری کرنے میں جہاں شعرانے اپنے جوہر لطیف سے نگارشات عالیہ میں ا ضافہ کیا ،وہیں شاعرات نے بھی اپنے قمیتی

ندافاضلی کی نظم نگاری،مضمون نگار:حبیب الرحمن

اردودنیا،جنوری 2026: اردونظم نے بیسویں صدی میں کئی فکری و جمالیاتی تجربات کا سامنا کیا اور ترقی پسند تحریک سے لے کر جدیدیت تک ایک طویل سفر طے کیا۔ اس