اردو دنیا،اپریل2026:
قاسم خورشیداردوزبان کے نامور ادیب ، افسانہ نگار، مصور،ڈرامہ نویس، ناقد، براڈ کاسٹر ، اور شاعر خوش نوا تھے۔ وہ ہمہ جہت اوصاف کے حامل انسان تھے۔ عصر حاضر میں ایسی کثیر الجہات شخصیت اردو دنیا میں خال خال ہی نظر آتی ہے۔ان کی تحریروں اور نگارشات میں دردو الم، سماج اورمعاشرے کی بے راہ روی کادکھ، انسانی قدروں کا احترام ،عصری شعور و آگہی کا پرتواور خلوص ومحبت کی ضوفشانی پائی جاتی ہے۔
ان کے اچانک انتقال سے اردوکی ادبی دنیا پر سناٹا چھاگیا۔ ان کی موت کسی ایک ادیب کی موت نہیں ہے بلکہ اردو اور ہندی ادب کے حسین سنگم کا ایک ساتھ بکھرجانا ہے۔
قاسم خورشید ایک شریف ،دیندار اور پابند شریعت خانوادے کے چشم و چراغ تھے ان کی پیدائش ،ضلع جہان آباد کے مردم خیز گائوں’’کاکو‘‘میں2جولائی 1957کو ہوئی تھی۔ صغر سنی ہی میں ان کے والد محترم سید غلام ربانی کاانتقال ہوگیاتھااور وہ شفقت پدری سے محروم ہوگئے تھے۔ ان کی والدہ پرورش و پرداخت اور تعلیم و تربیت کی غرض سے بچوں کو لے کر اپنی مائکے منتقل ہوگئیں اور انھوں نے بچوں کو اعلی اخلاقی تعلیمات سے سنوارنے اورسجانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ دادا نے اپنادست شفقت دراز کیا۔ اپنے ہونہارپوتے کی ہرطرح مدد کی ۔ ہر آن ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہے اور یتیمی کے رنج وغم کا احساس نہیں ہونے دیا ۔ پٹنہ پہنچے تو یہاں خالہ زادمظفر الجاوید غیبی مددگار ثابت ہوئے۔ قاسم خورشید کو بچپن ہی سے مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا۔لڑکپن کازمانہ کھیل کود اور موج مستی کا زمانہ ہوتا ہے لیکن قاسم خورشیدکو اپنے اور گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کبھی ’’پرل موٹرز‘‘میں کام کرنا پڑا ۔ کبھی بس کے اسٹیل پرزوں کو پالش کرکے اسے چمکاکر اپنے گھرکوچمکانے اورروشن کرنے کی کوشش کرنی پڑی۔ جب اسکو ل سے تھکے ماندے واپس اپنے گھر آتے تو اسکول کی فیس اور کتاب، کاپی، قلم اور گھر کے اخراجات میں حصہ لینے کے لیے چھوٹے بچوں کوٹیوشن پڑھانے چلے جاتے۔ تعطیلات کے دنوں میں چھوٹاموٹاروزگار اختیار کرلیتے۔ ان سب تجربات نے ان کی شخصیت کو نکھارنے اور صیقل کرنے میں اہم کرداراداکیا۔ جدوجہد، کدوکاوش اور محنت ومشقت ان کی زندگی کا دوسرا نام بن گئی تھی لیکن ان سب رکاوٹوں اور پریشانیوں کے باوجود انھوں نے حصول علم کی جستجو کو ماند نہیں پڑنے دیا اوراعلی تعلیم حاصل کرنے کی جدو جہد کو جاری رکھا یہاں تک کہ انھوں نے آئی اے اورینٹل کالج سے،بی اے آنرز اور ایم اے پٹنہ یونیورسٹی سے کیا اور اسی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعلی ڈگری سے سرفراز ہوئے۔ان کی تحقیق کا موضوع پریم چندکے ناول’’گئو دان‘‘کا ادبی احتساب تھا۔ یہ دشوار گزارسفر ان کی بلند ہمتی،حوصلہ مندی، اعلی جذبہ اور محنت و لگن کی روشن دلیل ہے۔ انھوں نے یہ ساری اعلی کامیابیاں اور کامرانیاں اپنی قابلیت، صلاحیت، ذہانت و فطانت اور بلند عزم و حوصلہ کی بنیاد پر حاصل کی تھیں۔ کہانی باگھ دادا ان کی آپ بیتی ہے ۔ اس کہانی میں انھوں نے اپنے خاندان کی مفلسی اور محرومی کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ قاری کو وہ اپنی داستان محسوس ہونے لگتی ہے ۔ان کی مقبول ترین کہانی ’’باگھ دادا ‘‘کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے ۔
’’اس رات سبھی سو چکے تھے ۔ میں نے دھیرے سے دروازہ کھولا ۔ زوروں کی بھوک لگی ہوئی تھی ۔ باگھ دادا کے مقبرے پر گیا ۔ چاروں طرف سناٹا تھا۔ میں نے سرہانے ٹٹولنے کی کوشش کی۔ کچھ بھی نہیں ملا۔ دعاکے لیے ہاتھ اٹھایا۔ آنکھوں میں آنسو رواں تھے۔ دیر تک یہ سلسلہ قائم رہا۔ میرے دل نے اس وقت باگھ دادا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا :آپ تو باگھ دادا ہیں۔ آپ نے تو آدم خور کو مار ڈالا تھا ۔ بھو ک ہمیں ماررہی ہے۔ کیا آپ اسے نہیں مار سکتے۔‘‘
قاسم خورشید انتہائی خوش مزاج ،خوش طبع اور مرنجا مرنج طبیعت کے انسان تھے۔ وہ جس مجلس اورمحفل میں شریک ہوتے وہ محفل زعفران زاربن جاتی تھی۔ ان کے والہانہ بانکپن ،دوستانہ مراسم اور روابط اور ان کی مسکراہٹوں اورقہقہوں کی بازگشت دیر تک حاضرین کے دلوںمیں اضطرابی کیفیت پیدا کرتی رہے گی۔
قاسم خورشیدمتعدداعلی سرکاری وغیرسرکاری عہدوں پر فائز رہے او ر اپنی گراں قدر خدمات سے ان کو زینت بخشی ۔ انھوں نے آل انڈیا ریڈیوسے وابستہ رہ کر اپنے طرزتکلم اور حسن اسلوب سے سامعین کو مسحور کیا۔ دوردرشن پروگراموں کے ذریعے انھوں نے اپنی آوازکی رعنائیوں سے لوگوں کے دلوں کوخوش کیا۔ حکومت بہار کے ایس سی ای آرٹی کے محکمہ سے ان کے گہرے اور دیرینہ مراسم اور تعلقات تھے ۔ انھوں نے اس کے شعبہ زبان وادب میں طویل عرصہ تک گراں قدر خدمات انجام دیں۔انھوں نے تعلیمی ٹیلی ویزن کے ڈائرکٹر کی حیثیت سے فلم سازی ، نصابی کتب کی تیاری اور تربیتی پروگراموں میں اہم رول ادا کیا۔ان کی فلم کو جاپان فلم فیسٹیول میں شامل کیا گیا جو ایک بڑی کامیابی کی بات ہے جس سے عالمی سطح پر ان کو شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی ۔وہ پریم چند ،میکسم گورکی اورنیکولائی استرا ووسکی کے افکار و نظریات سے بہت متاثر تھے ۔ وہ پریم چند کی حقیقت نگاری کے رسیا اور دلدادہ تھے ۔انھوں نے کہانیوں اور قصوں میں حقیقت نگاری پر خاص توجہ مرکوز کی ہے۔ان کا اپنی کہانیوں کے سلسلے میں کہنا ہے کہ ’’میں پورے اعتماد اوروثوق کے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ میری کہانیوں سے گزرتے ہوئے کوئی بھی حساس قاری اپنے احتساب کے دوران مجھے بھی ہمسفر بنانے کا شرف حاصل کرے گا‘‘ ادبی اور تخلیقی نگارشات اور کاوشوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ان کی مقبولیت اورپذیرائی میں مزیداضافہ کیاتھا۔ انھوں نے اپنے ادبی سفرکاآغازبچوں کے ادب سے کیااورپھر رفتہ رفتہ بالغوں کے لیے افسانے لکھنے لگے ان کے افسانے جلد ہی عوام و خواص میں مقبول ہوگئے اور انھوں نے اردوافسانہ نگاری میں اپنا مقام مضبوط کرلیا اس کے علاوہ وہ مشہور اورموقر ادبی رسالوں میں اپنی صلاحیتوں اور لیاقتوں کے جوہر دکھاتے رہے۔
قاسم خورشید اردوکے ممتاز افسانہ نگاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے اپنی افسانہ نگاری سے اردو ادب کو نئے افق سے آراستہ و پیراستہ کیا ۔ انھوں نے زندگی کو حقیقی روپ میں دیکھا۔ ان کے افسانوں میں غریب وکمزور طبقوں کی سچی تصویریں ملتی ہیں ۔ان کی افسانہ نگاری کی اہم خصوصیات حقیقت نگاری ،سادہ اور اثر انگیز اسلو ب تحریر ،سماجی اور معاشرتی مسائل پر گہری اور عمیق نظر اور روز مرہ کی زندگی کے کرداروں کا عمیق مشاہدہ ہیں۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں معاشرتی حقیقتوں اور سچائیوں کو علامتی اسلوب میں پیش کرنے کی حتی المقدور سعی کی ہے اور انسانی کرداروں کا گہرا تجزیہ پیش کیا ہے۔ انھوں نے معاشرے کی حقیقی زندگی کے واقعات اور مسائل کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایااوران پرکھل کر گفتگو کی ۔ان کا اسلو ب سادہ اور دلکش ہے جس میں وہ پیچیدہ او ر الجھے ہوئے انسانی جذبات واحساسات اور سماجی حقیقتوں کو آسانی سے بیان کردیتے ہیں ۔ انھوں نے اپنے افسانوں کے ذریعے معاشرتی تضادات اور مسائل کو نمایاں کیا اور اصلاحی پیغام دینے کی کوشش کی ہے اور یہی سماجی حقیقت نگاری ان کی اصل پہچان ہے ۔ ان کی نثری تحریریں شگفتگی اوررواں اسلوب بیان کی وجہ سے دلچسپی اور شوق سے پڑھی جاتی ہیں ۔ان کے تین اہم افسانوی مجموعے’ پوسٹر‘ ،’ریت پر ٹھہری ہوئی شام‘ اور’ کینوس پر چہرے‘ ہیں۔ پوسٹر ان کا سب زیادہ پڑھا جانے والا افسانہ ہے ۔ اسے توقع سے زیادہ مقبولیت اورپذیرائی حاصل ہوئی اور یہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں ہے۔ معاصر افسانے میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔
قاسم خورشید ایک اچھے اردو شاعرتھے۔ان کو طالب علمی کے زمانے ہی میں شعر و شاعری سے دلچسپی پیدا ہوگئی تھی۔ان دنوں وہ ’’جعفر‘‘یا ’’کیو۔کے جعفر‘‘کے نام سے شاعری کیا کرتے تھے ۔ابتدائی دور کی شاعری کا جائزہ لیا جائے تو اس میں فکر کی بلندی ،الفاظ و تعبیرات کی سجاوٹ و بناوٹ اور شاعری کی تمام خصوصیات کی پختہ کاری پورے طورپر نظر آتی ہے۔چند اشعار ملاحظہ کیجیے :
پھولوں کی خاموشی سے ظاہر یہ ہورہاہے
کہ اس چمن کا مالی پھر خار بو رہا ہے
—————–
آواز دے رہاہے پورب سے پھر سویرا
اپنا شریر سورج دریا میں دھورہا ہے
———–
یہ تنکا زمیں پر سے اٹھ جائے گا
کہ چڑیا کہیں اپنا گھر بسانے کو ہے
انھوں نے نہایت آسان ،سلیس مگر ششتہ،شگفتہ اور عام فہم زبان میں شاعری کی ہے۔
رشتوں کا بازار ملے گا
جو چاہو کردار ملے گا
———–
سکھ تیرے ساتھ رہیں گے
اور دکھ بیزار ملے گا
———–
دل کی جب نادانی لکھنا
پیار، محبت، پانی لکھنا
———–
بزم سے ان کی واپس آکر
دریا، آنکھ، روانی لکھنا
———–
جب آنکھوں میں آنسو آئے
میر ی ایک کہانی لکھنا
ان کی شاعر ی میں ایک خاص فنی مہارت اور تہذیبی و ثقافتی گہرائی پائی جاتی ہے ۔ انھوں نے اپنے کلام میں اردو شاعری کی روایات کو جدید انداز اور پیرائے میں پیش کیاہے یہی وجہ ہے کہ ان کے ادبی کارنامے شاعری کے لحاظ سے بھی کافی اہمیت و معنویت کے حامل ہیں۔ شاعر ی میں ان کے دومجموعے منصہ شہود پر آئے جن میں ایک کا نام’’ تھکن بولتی ہے ‘‘اور دوسرا مجموعہ’’ دل کی کتاب‘‘ ہے۔ پہلے مجموعے کا تعلق غم دوراں اور غم کائنات سے ہے جبکہ دوسرے مجموعے کا تعلق غم جاناں اور غم ذات سے ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ان کی شاعری میں عصری حسیت اور انسانی جذبات و احساسات کی عکاسی نے مرکزی حیثیت کا روپ اختیار کرلیا تھا ۔
مجھے پھولوں سے ،بادل سے ہواسے چوٹ لگتی ہے
عجب عالم ہے اس دل کا ،وفا سے چوٹ لگتی ہے
———–
عشق میں اتنے تماشے ہیں کہ اے جان جگر
زندہ رہتے ہوئے مرکر نہیں دیکھا جاتا
———–
خوشبوئیں دور سے احساس کروادیتی ہیں
ہر کسی پھول کو چھوکر نہیں دیکھا جاتا
———–
نیند سے ترک تعلق جو ہوا تیرے بعد
دن گزرتا ہے مگر رات کہاں ہوتی ہے
———–
میں خوش ہواتو آنکھ سے آنسو نکل پڑے
میری خوشی میں درد کا حصہ ضرور ہے
———–
بہت سی خوبیاں مر جاتی ہیں زمانے میں
کسی کا عیب ہی اکثر نظر میں رہتا ہے
قاسم خورشید عہد حاضرکے اردو ڈراما نگاروں کی فہرست میں اہم ڈراما نگار شمارکیے جاتے تھے۔ان کو ڈراما نگاری اور اداکاری کابے حد شوق تھااور یہی شوق ان کو انڈین پیپلز تھئیٹر ایسوسی ایشن (آئی پی ٹی اے) تک لے گیا ۔ بہار میں انھوں آئی پی ٹی اے کی ازسرنو شروعات کی تھی۔ غیر منقسم بہارکے جھریا، کتراس گڑھ اور دھنباد کے مزدور طبقوں میں حقوق کی بازیابی کے لیے بیداری پیدا کر نے میں اہم رول ادا کیا تھا۔ یہاں کے محنت کش مزدوروں میں بیداری لانے کے لیے نکڑناٹک بھی پیش کی تھی ۔ اس میں ہدایت کاری بھی تھی اور اداکاری بھی کی تھی اس کے علاوہ انھوں نے ریڈیو اورٹیلی ویژن کے لیے ڈرامے، دستاویزی فلمیں اور فیچر س بھی لکھے تھے۔انھوں نے منٹو،پریم چند اور راجندر سنگھ بیدی کے معروف افسانوں کو ڈرامائی شکل دے کر اسٹیج کیا تھا ۔ان کے متعدد افسانوں پر بنے ڈرامے اور ٹیلی فلمیں دور درشن کے اسکرین کی زینت بنی تھیں۔ تعلیم کے میدان میں بھی ان کی گراں قدر خدمات کو فراموش نہیں کیاجاسکتاہے۔ بہارمیں نصاب تعلیم کے لیے پہلے درجے سے بارہویں درجے کے طلباوطالبات کے لیے نوزبانوں میں کتابیں تیار کرائی تھیں۔ان کی کوششوں کی وجہ سے نتیش حکومت نے مولانا ابو الکلام آزادکے یوم ولادت کو ’’یوم تعلیم‘‘ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بیک وقت شاعری،افسانہ نگاری اور ڈراما نگاری میں مصروف رہا کرتے تھے ۔ سب سے پہلے ان کی شہر ت اور پہچان صنف افسانہ سے ہی ہوئی تھی۔ان کا پہلا افسانہ 1988میںرسالہ’ زبان و ادب ‘ میں شائع ہواتھا ۔ان کے ڈرامے کا ایک مجموعہ ’’تماشہ‘‘ تنقیدی مضمون کا مجموعہ’’متن اور مکالمہ‘‘ اور تحقیقی مقالہ ہیں۔ تھکن بولتی ہے اوردل تو ہے بنجارہ یہ دونوں ان کی ہندی شاعری کے مجموعے ہیں ۔اسی طرح ہندی میں ان کے چارافسانوی مجموعے’تھار پر زندگی‘ ،’کوئی ہاتھ‘،’گنجا کی نیتی‘ اور’ کشن پور کی مسجد‘ ہیں۔ ان کے منتخب افسانوں کا انگریزی میں ’’ویوز‘‘کے عنوان سے ترجمہ بھی ہوچکاہے جو کافی مقبول ہوا ۔ انھوں نے کیف عظیم آبادی کے کلام کو دیوناگری میں ’’سنولائی دھوپ‘‘کے نام سے اور رضا نقوی واہی، مرزا کھونچ اورکریک بتیاوی کے ظریفانہ کلام کا انتحاب ہندی میں ’’ٹوٹے ہوئے چہرے‘‘کے نام سے کیا ۔ان کے افسانوں میں قدامت ،روایت اور جدت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے جو ان کو اپنے دیگر معاصرین سے ممیز وممتاز کرتا ہے۔ان کے افسانوں میں گائوں، دیہات،کھیت کھلیان ،کسان ،مہاجن اور مزدور پیشہ طبقوں کی غربت و افلاس اور کسمپرسی و محتاجی کا بیانیہ ملتاہے۔ وہ اپنے ایک افسانے میں ایک غریب بوڑھے کسان کی حالت کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں ۔’’دن بھر بیلوں کے ساتھ ادھر ادھر گھومتا پھرتا ۔ شام کے وقت گھر آکر بیلوں کوکھونٹوں سے باندھ دیتااور پھر اپنے لیے روٹی پکانے کی کوشش کرتا تو ہاتھ جلنے لگتا ۔ گرم پانی میں چاول ڈالتا تو آنکھوں سے کم دکھائی دینے کی وجہ سے پورا ہاتھ گرم پانی میں چلا جاتااور وہ چیخ پڑتا لیکن اس کی چیخ سننے والاوہاں کوئی موجود نہیں ہوتا ۔‘‘ انھوں نے تقریبا نصف صدی سے زائد عرصے تک بھرپور ادبی زندگی گزاری تھی لیکن قدرت نے ان کو اولاد کی نعمت سے محروم رکھا تھا اس کمی کو پورا کرنے کے لیے انھوں نے ایک بچی کو گود لے رکھا تھا لیکن اس بچی کی زندگی نے بھی وفانہیں کی اورایک بار پھر ان کی زندگی کا آنگن سونا ہوگیا ۔ بچی کی ناگہانی موت کا غم وہ اپنے ساتھ ہی لے کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔
وہ اس غم کے احساس کا اظہار کچھ اس طرح کرتے ہیں ۔
ایک بیٹی سے گھر روشن تھا میرے خواب کا
چھن گئیں خوشیاں مری اور آشیاں رہنے دیا
قاسم خورشید صرف ایک کامیاب ڈراما نگار ہی نہیں تھے بلکہ ان کے اندر پیش کش اور اسٹیج کرافٹ کرنے کا مکمل شعور موجود تھا۔ان کے ڈراموں میں عصری روح کا عنصر بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔ جس ادب میں عصری روح کا عنصر موجود ہوتا ہے اس کی خوشبو گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتی اور پھیلتی جاتی ہے اور مسام جاں کو معطر کرتی رہتی ہے۔ انھوں نے اپنے ڈراموں میں ڈرامائی عناصراورپیش کش کے جدید طریقہ کار کو بھی بہت خوبصورت انداز میں ہم آمیز کیا ہے۔ اس میدان میں انھوں نے عمر عزیز کا بڑاحصہ صرف کیا تھا ۔ ان کو ڈراموں سے بہت گہری دلچسپی اور عمیق لگائو تھا ۔ان کو پریم چند کے افسانوں سے بڑا پریم تھا انھوں نے ان کے افسانے’جیل’‘کو اسٹیج پر پیش کیا تھا اور جب ’’عید گاہ‘‘ اور’’ انگولا کی آواز‘‘ جیسے ڈراموں کوناظرین کے سامنے پیش کیاتھا تو لوگ ان کے ایکشن کو دیکھ کر دم بخود رہ گئے تھے اور داد و تحسین کی صدائوں سے پورا اسٹیج گونج اٹھا تھا۔ انھوں نے اپنے افکار و خیالات کے اظہار کے لیے قلم و قرطاس ہی کو ذریعہ کے طور پر استعمال نہیں کیاتھا بلکہ ڈرائینگ اور پینٹینگ کے ذریعہ بھی اپنے مافی الضمیر کو ادا کرنے کی کوشش کی تھی اس وجہ سے وہ جدید تہذیب کے بہترین مصور شمارکیے جانے کے قابل ہیں ان کی اہم تصانیف میں متن اورمکالمہ(تنقید)پوسٹر(افسانہ)ریت پر ٹھہری ہوئی شام(افسانہ)کینوس پر چہرے(افسانہ)قانون سازکائونسل میں اقلیت(صحافت)اسی طرح ہندی زبان میں تھکن بولتی ہے(شاعری)کشن پور کی مسجد (کہانی)کوئی ہاتھ (کہانی)تھارپر زندگی(کہانی) گنجاکی نیتی(کہانی)ڈرسے آگے(کہانی)ٹوٹے ہوئے چہرے(شاعری)سنولائی دھوپ(شاعری)شامل ہیں۔ ان کی ایک کتاب تخلیقی تنقیدی مضامین پر مشتمل ہے جس کانام ’’متن اور مکالمہ ‘‘ہے ۔ یہ کتاب ان کی تمام نگارشات میں نہایت اہمیت و معنویت کی حامل ہے۔ اس میں کل 28 مضامین ہیں ۔ اس کتاب کے مطالعہ سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ قاسم خورشید کے ارد گرد کسی ازم کا حصار نہیں ۔ وہ آزادانہ طور پر اپنے ذوق کی روشنی میں ادبی تجزیے کے مشکل اور دشوار گزار مرحلے سے گزرتے رہتے ہیں۔ ان کو کسی رائج اسکول سے وابستگی عزیز نہیں ہے اس لیے ان کی تنقیدمیں مختلف رنگ پائے جاتے ہیں ۔ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ان کی تنقید ان کے ذہن و فکر کی خودمختاری کا پتہ دیتی ہے اور زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی بھی فن پارہ پڑھنے والوں پرتفہیم کا باب کھول دے ۔ وہ شعری یا نثری مجموعے میں عیوب سے زیادہ محاسن تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس عمل میں ان کا ذاتی ذوق اور مطالعہ بھی رہنمائی کرتاہے۔ ان کی کتاب ’’متن ومکالمہ‘‘ کابغور مطالعہ کیا جائے تو ان کی تنقیدی بصیرت کا اندازہ ہوگاکہ انھوں نے متن کے پس منظرمیں جاکرمتن کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ متن کے تجزیہ کا حق بھی اسی وقت اداہوسکتاہے جب نقاد تخلیق کار کے ذہن میں اتر کر اپنا تجزیہ پیش کرے اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ادھر ادھر کی باتیں ہوں گی ۔تجزیہ کا حق ادا نہیں ہوسکے گا۔ ان کی ناقدانہ بصیرت اس اعتبار سے کافی اہمیت کی حامل ہے۔
ان کی محفلوں کی رعنائیاں، ان کے بلند قہقہے، دوستانہ انداز،بے پناہ خلوص ،حوصلہ افزائی ،محبت بھری شخصیت اور خوش مزاج طبیعت ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گی۔ ان کی موت نے ادب کی دنیا کو گہرا صدمہ دیا ہے۔ مگر تخلیقات کی صورت میں وہ آج بھی ہم میں موجودہیں اور اپنی خامہ فرسائی، تخلیقی بصیرت، فکری گہرائی اور بلند خیالی کے ذریعے نسلوں کے دلوں میں زندہ، تابندہ او ر پائندہ رہیں گے۔ ان کی یاد یں فکری بصیرت، انسانی ہمدردی، اخلاقی عظمت اور اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں ان کی بے لوث خدمت ہمیشہ ادبی دنیا کے افق پر تاباںاور درخشاں رہے گی۔ ان کا قلمی اور تخلیقی سرمایہ قاری کے دلوں کو جھنجھوڑتا اور برانگیختہ کرتارہے گااور ان کویہ احساس و شعور دلاتارہے گا کہ اصل فنکار وہی ہوتا ہے جو اپنی ذات کے حصار سے نکل کرلوگوں کے دلوں میں اتر جائے اور ان کو اپنا اسیر بنالے۔ اب یہ عظیم فنکار ہمارے درمیان نہیں رہے۔ وہ وہاں پہنح گئے جہاں ہر ذی روح کوپہنچنا ہے اور وہاں پہنچ جانے کے بعد کسی کو واپس نہیں آناہے۔ اللہ رب ذوالجلال ان کے درجات بلند فرمائے اور اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے ۔ آمین
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
Dr. Md. Tauquir Alam
A/12, “Taj Enclave”, Station Road,
Phulwari Sharif, Patna, (Bihar)
Pin-801505
Mob.: 9934688876
E-mail: proftauqiralam@gmail.com