اردو دنیا،اپریل،2026:
موجودہ عہد میں جن شاعروں نے اپنی سنجیدہ فکر، تخلیقی بصیرت اور فنّی مہارت کے ذریعے اردو شاعری کو تازہ لہجہ عطا کیا، ان میں جمال اویسی (28؍ جنوری 1961۔ 07؍ مارچ 2026) کا نام نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ جمال اویسی اردو کی نئی نسل کے ان شعرا میں شامل ہیں جنھوں نے نظم، رباعی اور غزل تینوں اصناف میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا اور اپنے منفرد لہجے کے ذریعے ایک الگ شناخت قائم کی۔ جمال اویسی کی شاعری میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ وہ کلاسیکی شعری روایت سے گہرا رشتہ رکھتے ہوئے بھی جدید عہد کے مسائل، انسانی احساسات اور سماجی حقیقتوں کو اپنے کلام کا موضوع بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں ایک طرف فکری گہرائی ہے تو دوسری طرف جذبے کی شدت اور تخیل کی تازگی بھی نمایاں نظر آتی ہے۔
جمال اویسی کا اصل نام جمال احمد خاں، ولد پروفیسر اویس احمد دوراں تھا۔ ان کی پیدائش 28؍ جنوری1961کو محلہ فیض اللہ خاں ، دربھنگہ میں ہوئی تھی ۔ انھوں نے ایل این متھلا یونیورسٹی، دربھنگہ سے 1984 میں ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی تھی اور2015 میں پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی تھی۔ بقول مرحوم جمال اویسی انھوں نے اپنی شاعری کی ابتدا 1975 میں کی تھی۔ وہ درس وتدریس سے وابستہ تھے ۔1996 میں بطور اردو لکچرار ان کی پہلی پوسٹنگ جی ڈی کالج، بیگوسرائے، بہار میں ہوئی تھی۔ بعدہٗ وہ ملّت کالج، دربھنگہ اور فی الحال ایم آر ایم کالج ، دربھنگہ میں صدر شعبۂ اردو کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ حالیہ دنوں میں بیمار چل رہے تھے اور دن بہ دن ان کی صحت کمزور ہوتی جا رہی تھی۔ان کا ڈائلاسس ہو رہا تھا کہ آخر کار 7؍ مارچ 2026 کی شب میں ایک مقامی ہسپتال میں ان کا انتقال ہوگیا اور 8؍مارچ2026 کو رحم گنج دربھنگہ کے مقامی قبرستان میں مدفون ہوئے۔لواحقین میں ایک لڑکا ایک لڑکی ہے ۔ ان کی بیگم کا انتقال چھ ماہ قبل ہوگیا تھا۔
جمال اویسی اردو کی نئی نسل کے ان مستند شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے نظم اور غزل دونوں اصناف میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔ ان کی شاعری میں داخلی کرب، سماجی شعور، روحانی احساس اور جمالیاتی لطافت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔جمال اویسی کی شاعری کا سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ روایت سے جڑے ہوئے بھی ہیں اور جدید حسیت کے ترجمان بھی۔ انھوں نے اپنے کلام میں کلاسیکی شعری اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے نئے زمانے کے مسائل کو بڑی فنی مہارت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری نئی نسل کے لیے بھی پرکشش ہے اور سنجیدہ قارئین کے لیے بھی فکر انگیز۔ جمال اویسی کی نظم نگاری ان کے شعری سرمایے کا اہم حصہ ہے۔ ان کی نظموں میں عہد حاضر کے مسائل، انسانی المیے، سماجی تضادات اور روحانی تلاش کے موضوعات نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کی نظموں میں علامت اور استعارہ کا استعمال نہایت بلیغ اور معنی خیز ہے۔
جمال اویسی بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے۔ ان کی نظموں میں عہدِ حاضر کے انسان کی داخلی کشمکش، سماجی ناانصافیاں، انسانی تنہائی اور روحانی تلاش جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کی نظموں میں علامت اور استعارہ کا استعمال نہایت بامعنی اور مؤثر ہے۔ لیکن ان کی غزلیہ شاعری بھی اپنے لہجے کے اعتبار سے منفرد شناخت رکھتی ہے۔ اب تک ان کے مندرجہ ذیل شعری مجموعے شائع ہو چکے تھے ۔’’رکا ہوا سیل(غزل ؍ رباعی)2002، نظم نظم( نظمیں)2004، شور کے درمیان (غزلیں) 2006، مصباح (رباعیات) 2007، انا پذیر (غزلیں)2012، نقشِ گریز(نظمیں)2017، عشق کے سوا (غزلیں) 2017۔ اس کے علاوہ ان کی تین تنقیدی کتابیں بھی شائع ہوئی تھیں ان میں’’اویس احمد دوراں: ایک بازدید(2015)،جدید اردو تنقید(2017) اور ’’مظہر امام:نئے منظر نامے میں‘‘ شامل ہیں۔
جمال اویسی کو شاعری وراثت میں ملی تھی۔ ان کے والد اویس احمد دوراں اردو کے مشہور ترقی پسند شاعر تھے۔ غرض کہ جمال اویسی کو شعر وشاعری کا ماحو ل گھر سے ضرور ملا لیکن وہ فطری صلاحیت کے مالک تھے اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنی تخلیقی صلاحیت کی بدولت نئی نسل کی صف میں نمایاں حیثیت حاصل کی ۔ راقم الحروف نے ان کے پہلے شعری مجموعہ ’’رکا ہوا سیل‘‘ پر بھی ایک مضمون لکھا تھا اور اس میں ان کے شعری انفراد سے بحث کی تھی کہ جمال اویسی لفظوں کے اندھیرے جنگل کا جگنو ہے۔ وہ مضمون میری تنقیدی کتاب ’’تنقیدی تقاضے‘‘ (مطبوعہ 2003) میں شامل ہے۔ جمال اویسی اپنی تمام کتابیں مجھے عنایت کرتے تھے اور یہ گذارش بھی کہ اس پر میں مضمون لکھوں لیکن میں انھیں بارہا یہی کہتا تھا کہ آپ کی شاعری کے تعلق سے میں نے ’’رکا ہوا سیل‘‘ پر جو کچھ لکھا تھا اس پر آج بھی قائم ہوں البتہ آپ کی شاعری فکری گہرائی اور گیرائی کے اعتبار سے نکھرتی جا رہی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جمال اویسی کے شعری مجموعوں کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ ان کے شعری سفر میں جستہ جستہ نہ صرف فکر ونظر کی تبدیلی واقع ہوتی رہی ہے بلکہ موضوعی اعتبار سے بھی ان کا قبلہ بدلتا رہاہے۔ فن کی کسوٹی پر ان کی نظمیں زیادہ کسی ہوئی نظر آتی ہیں اور غزلوں میں کہیں کہیں بکھرائو نظر آتا ہے۔لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلّم ہے کہ انھوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعہ ایک زبردست شعری رجحان کی توسیع کی ، بالخصوص جدید مسائل کو کلاسیکی کیفیت کے ساتھ پیش کرنے کا ہنر انھیں خوب آتا تھا اور یہی وصف ان کے اظہار میں بانکپن اور حسن پیدا کرتا تھا۔انھوں نے نہ تو روایت سے بغاوت برائے بغاوت کی راہ اختیار کی اور نہ نئے رجحانات کے تئیں تعصب سے کام لیا۔ ان کی شاعری میں رچا ہوا شعور اور پختہ ذہن کار فرما ہے جو مختلف اصناف میں پوری قوت کے ساتھ اپنا اظہار کرتا ہے ۔ فکر وشعور کے ساتھ قلب ورو ح کے شدید تقاضو ں کا ذوقِ لطیف اور ذوق کا وجدان میں بدل جانا اس وجدانی کیفیت کو شعری اظہار بنانا ان کا انفراد تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں زندگی کے ہزار رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن ہر ایک رنگ میں ایک نئی دنیا آباد نظر آتی ہے۔
بہر کیف! جمال اویسی کی شاعری اس عہد کے انسانی کرب واضطراب کی ترجمان ہے اور فکری ونظری اعتبار سے حقوق انسانی کی پاسدار بھی ۔ پہلے چند نظموں کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں ۔ ’’نقشِ گریز‘‘ (مطبوعہ 2019) ایک طرح سے ان کی نظموں کا کلیات ہے کہ اس میں 1978 سے 2016 تک کی نظمیں شامل ہیںاور خود جمال اویسی نے یہ اعتراف کیاہے کہ :
’’میری نظموں کا موضوع تقریباً ایک ہی ہے ۔ انسان اور انسانی زندگی ، لیکن انسانی مسائل کی سطح پر کسی جمہور کا خواب نہ دیکھا ہے اور نہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔۔میری نظموں میں انسانی مسائل جدید شاعری کے مسائل بھی نہیں ہیں ۔ میری نظمیں ایک سلسلہ وار فکری مکالمے کی صورت میں پڑھی جائیں تو زیادہ صحیح رہے گا‘‘(نقشِ گریز۔ پیشِ لفظ، ص:27)
ظاہر ہے کہ جب شاعر خود یہ اعتراف کر رہاہے کہ اس کی نظموں کا موضوع تقریباً ایک ہی ہے اس لیے اسی تناظر میں جب ہم جمال اویسی کی نظموں کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اردو میں جو نظمیہ شاعری کی روایت ہے اس سے قدرے مختلف ہے۔ یہاں طویل نظموں کی گنجائش ممکن نہیں ، چند مختصر نظمیں ملاحظہ کیجئے۔ نظم ’’باغی‘‘ کے اشعار ملاحظہ کیجئے ؎
لفظ جب گونجتا ہے گنبد میں
کرنے لگتا ہے اک شگاف وہاں
اور انسان بیکراں مخلوق
ڈرنے لگتا ہے ناگہانی سے
گر یہ گنبد نما طلسم گرا
وہ بھی نابود اگلے پل ہوگا
ایک نظم اور ’’چراغ کے لئے ایک نظم‘‘ ملاحظہ کیجئے۔
آخر شب اے ہمسفر دور فلک سے آئے گی
بجھتے ستاروں کی ضیا چاند کی زرد روشنی
ہم نے چراغ سب کے سب صبح کے نام کردیے
صبح پیامِ کائنات جس کے طلوع کے لیے
روز چراغ جلتے ہیں اور بجھائے جاتے ہیں
ایک نظم ’’روشنی کا ٹوٹنا‘‘ سے کچھ مصرعے دیکھیے۔
روشنی کا ٹوٹنا دیکھا ہے کس نے
میری آنکھوں میں چبھن اب تک ہے باقی
روشنی کی اک کرن جس لمحہ ٹوٹی
میں دریچے سے سٹا کچھ دیکھنے میں محو تھا
مذکورہ نظموں میں شاعر نے جدید شہری زندگی کی ایک علامتی تصویر پیش کی ہے۔ روشنی کے باوجود اندھیرے کا تصور دراصل اس دور کے اخلاقی اور روحانی بحران کی علامت ہے۔ جمال اویسی کی نظموں میں انسان کی داخلی تنہائی بھی بار بار سامنے آتی ہے۔ وہ جدید انسان کے اس کرب کو محسوس کرتے ہیں جو ترقی اور آسائش کے باوجود روحانی سکون سے محروم ہے۔ ایک اور نظم کے اشعار ملاحظہ ہوں ؎
میں نے وقت کے صحرا میں کئی خواب بوئے
لیکن ہوا نے سب چراغ بجھا ڈالے
اب میں خاموش کھڑا ہوں اسی ویرانے میں
جیسے خود اپنی صدا بھی مجھے پہچانتی نہیں
یہاں شاعر نے انسانی محرومی اور ناکامی کو ایک علامتی انداز میں پیش کیا ہے۔ صحرا اور چراغ کے استعارے شاعر کی فکری گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔جمال اویسی کی نظموں کی ایک بڑی خصوصیت ان کا علامتی اسلوب ہے۔ وہ براہ راست بیان کے بجائے علامتوں کے ذریعے اپنے خیالات کو زیادہ مؤثر اور دیرپا بنا دیتے ہیں۔ ان کی شاعری میں چراغ، آئینہ، دریا، رات، سفر اور شہر جیسی علامتیں بار بار سامنے آتی ہیں۔ ان کی غزلوں کی طرف رخ کرتے ہیں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ جمال اویسی کی غزلیہ شاعری کے موضوعات ان کی نظمیہ شاعری سے بہت مختلف نہیں ہیں بلکہ غزل میں بھی وجودی ہلاکت خیزی اور انسان کی اخلاقی پستی کو موضو ع بنایا ہے ۔ جیسا کہ اپنے شعری مجموعہ ’’محیط‘‘ کے پیشِ لفظ میں لکھا ہے کہ :
’’اب تک میری غزلیہ شاعری کے متعلقات انسان اور اس کی شکست وریخت کی اَن گنت داستانیں رہیں‘‘ (ص:16)
پروفیسر وہاب اشرفی نے جمال اویسی کے شعری مجموعہ ’’عشق کے سوا‘‘ کے فلیپ پر بہت کار آمد باتیں لکھی تھیں کہ جمال اویسی کے یہاں روایت کا بھی پاس ملتا ہے جسے تتبع یا نقل نہیں کہہ سکتے بلکہ نئے موضوعات کو پرانے سانچے میں سلیقے سے پیش کرنے کے عزم سے تعبیر کر سکتے ہیں ‘‘۔ بلا شبہ ان کی غزلیں کلاسیکیت کی زمین میں پروان چڑھتی ہیں اور تناوری کے بعد جدیدیت کے ثمر سے بار آور ہوتی ہیں۔ اس لیے ان کے غزلیہ اشعاربھی ان کے ہم عصروں میں کافی مقبول رہے اور ان کے لہجے کی گونج بھی سنائی دیتی رہی ۔ چند اشعار ملاحظہ کیجئے ۔
میں اندھیروں سے ،اجالوں سے پرے ہوتا ہوا
صبح ہی کیاہے مرے واسطے اور رات ہی کیا
سب کو ایک طرف ہے جانا چاروں سمت سے لوگ آجائیں
گونگا ایک سفر ہے جس میں گو نگی ہر رودادِ بشر ہے
آشفتہ نوائی مرا اکرام نہیں ہے
جس طرح میں جیتا ہوں بڑا کام نہیں ہے
میں بدن کے دار پر جس روز لٹکایا گیا
ہر ستارہ سر نگوں تھایاد آتا ہے مجھے
تصادم ہے مجھ میں کئی قرنوں کا
نیا آدمی ہوں پر اسرار میں
تم آئے بیٹھے ذرا دیر ، پھر چلے بھی گئے
نظر اٹھائی تو دیکھا کہ آسماں بدلا
مذکورہ اشعار صرف فردِ واحد کے کرب کی تصویر نہیں بلکہ پورے عہد کی علامت ہیں۔ جمال اویسی کی غزلیہ شاعری بھی ان کی ادبی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ اگرچہ ان کی نظموں میں فکری وسعت زیادہ نمایاں ہے، لیکن ان کی غزلوں میں جذبات کی شدت اور زبان کی لطافت قابلِ توجہ ہے۔ ان کی غزلوں میں کلاسیکی اردو غزل کی روایت بھی جھلکتی ہے اور جدید عہد کے احساسات بھی۔ یہ اشعار شاعر کے داخلی تجربے اور فلسفیانہ سوچ کو ظاہر کرتے ہیں۔ جمال اویسی کی شاعری کی زبان سادہ، شستہ اور بامحاورہ ہے۔ وہ مشکل الفاظ اور پیچیدہ تراکیب کے بجائے عام فہم زبان کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کی یہی سادگی قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ان کے کلام میں ایک خاص موسیقیت بھی پائی جاتی ہے۔جمال اویسی کی شاعری کا ایک اہم پہلو ان کا سماجی شعور ہے۔ وہ اپنے عہد کے مسائل سے بے خبر نہیں بلکہ ان پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں ناانصافی، ظلم اور انسانی محرومیوں کے خلاف ایک خاموش احتجاج ملتا ہے۔
اک ایسی سمت جدھر کب سے ہو کا عالم ہے
میں جا رہا ہوں اکیلا قدم بڑھاتے ہوئے
یہ شعر امید اور حوصلے کے احساس سے لبریز ہے۔اردو کے بعض ناقدین کے مطابق جمال اویسی کی شاعری میں جدید عہد کی فکری پیچیدگیوں کو بڑی سادگی سے بیان کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان کے کلام میں نہ صرف فکری گہرائی ہے بلکہ ایک خاص قسم کی صداقت بھی پائی جاتی ہے جو قاری کو متاثر کرتی ہے۔ان کی شاعری کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ جذباتی اظہار کے ساتھ ساتھ فکری استدلال کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام محض جذباتی نہیں بلکہ فکری طور پر بھی مضبوط نظر آتا ہے ۔اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جمال اویسی کی شاعری میں چند نمایاں خصوصیات سامنے آتی ہیں(1)فکری گہرائی اور فلسفیانہ انداز(2)علامتی اور استعاراتی اظہار(3) زبان کی سادگی اور شستگی (4) سماجی شعور اور انسانی ہمدردی(5) روایت اور جدت کا حسین امتزاج۔ یہ تمام خصوصیات انھیں نئی نسل کے معتبر شعرا کی صف میں نمایاں مقام عطا کرتی ہیں۔
اردو شاعری میں صنف رباعی ایک مشکل صنف سمجھی جاتی ہے کیوں کہ عرو ض کے اعتبار سے اس کا دائرہ بہت محدود ہوتاہے ۔ رباعی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ قاری پڑھتے ہی متحیر ہو جائے اور ایسا اسی وقت ہو سکتا ہے جب چاروں مصرعوں میں یکسانیت ، بر جستگی ، شگفتگی اور روانی ہو ۔ جمال اویسی اپنی رباعیوں میں بھی مختلف مضامین کو جدت اور ندرت کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور اس میں وہ کامیاب بھی ہیں۔ان کی رباعیوں کا مجموعہ ’’مصباح‘‘ دنیائے ادب میں مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔
انھوں نے اپنے پہلے شعری مجموعہ ’’رکا ہوا سیل‘‘ میں ’’چراغ ‘‘سیریزکے تحت چند غزلیں شامل کی تھیں۔ ان کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اردو میں چراغ کو جس معنی میں استعمال کیا جاتا رہاہے اس معنی میں جمال اویسی نے اس کا استعمال نہیں کیاہے بلکہ چراغ ان کے یہاں نِت نئے استعارے بن جاتے ہیں۔
مختصر یہ کہ جمال اویسی اردو شاعری کی نئی نسل کے ایک ایسے شاعر ہیں جنھوں نے اپنی نظموں، رباعیوں اور غزلوں کے ذریعے اردو ادب میں ایک معنی خیز اضافہ کیا ہے۔ ان کی شاعری میں انسان کی داخلی دنیا، سماجی حقیقتیں اور جمالیاتی احساسات ایک ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ان کا کلام اس بات کی دلیل ہے کہ اردو شاعری کی روایت آج بھی زندہ اور متحرک ہے۔ جمال اویسی جیسے شعرا اس روایت کو نہ صرف آگے بڑھا رہے ہیں بلکہ اسے نئے فکری اور تخلیقی امکانات سے بھی روشناس کرا رہے ہیں۔ یقیناً جمال اویسی کا شعری سرمایہ آنے والے زمانوں میں بھی اردو ادب کے قارئین اور ناقدین کے لیے باعثِ دلچسپی اور قابلِ مطالعہ رہے گا۔افسوس صد افسوس کہ اردو کی نئی نسل کا ایک نمائندہ شاعر 7؍ مارچ2026کی شب میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوگیا لیکن اس کا شعری سرمایہ دنیائے ادب میں اسے ہمیشہ زندہ جاوید رکھے گا کہ اس کی غزلیہ اور نظمیہ شاعری اپنے عہد کی آئینہ دار ہے۔
Professor Mushtaque Ahmad
Principal C.M Collage, Darbhnga, (Bihar)
Mob. 9431414586
Email: rm.meezan@gmail.com