جیلانی بانو: بحیثیت افسانہ نگار،مضمون نگار: فیضان الحق

April 13, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،اپریل2026:

جیلانی بانو اردو ادب کی تخلیقی دنیا کاایسا نام ہے جس نے ایک لمبا سفر طے کیا۔ 14جولائی 1926کو بدایوں میں پیدا ہونے والی یہ تخلیق کار 1 مارچ 2026 کو حیدرآباد میں اپنی رحلت سے اردو دنیا کو سوگوار کر گئی۔ جیلانی بانو کا انتقال اس اعتبار سے ایک عہد کا خاتمہ ہے کہ انھوں نے مختلف ادبی رجحانات و میلانات اور ہنگامہ آرائیوں کے درمیان اپنی ایک منفرد شناخت حاصل کی۔ حکومت ہند نے ان کی خدمات کے اعتراف میں ’پدم شری‘ اعزاز سے نوازا۔ ان کے والد علامہ حیرت بدایونی اور خاوند انور معظم سے پوری اردو دنیا واقف ہے۔ انھوں نے ناول، افسانہ، تراجم اور ڈرامے کی جانب خاص توجہ دی۔ ناولوں میں ایوان غزل (1976)اور بارش سنگ (1985) کو خاص شہرت حاصل ہوئی۔ ان کا پہلا افسانہ ’ایک نظر ادھر بھی‘ 1952میں شائع ہوا۔’’موم کی مریم‘‘ جو اولا ماہنامہ ’سویرا‘ میں اور پھر پہلے مجموعہ ’روشنی کے مینار(1958) میں شائع ہوا ان کی شہرت اور مقبولیت کا اہم سبب بنا۔
جیلانی بانو کا نام تقسیم ہند اور آزادی کے بعد امتیازی شناخت حاصل کرنے والے افسانہ نگاروں میں سر فہرست ہے۔ جیلانی بانو کی افسانہ نگاری کا آغاز ایک ایسے دور میں ہوا جب ترقی پسند تحریک روبہ زوال تھی اور اردو افسانہ نئے نئے موضوعات و اسالیب کی تلاش میں تھا۔ جدیدیت کے آثار بھی نظر آرہے تھے لیکن ان کی کوئی واضح شکل موجود نہیں تھی۔ فسادات سے متعلق بے شمار افسانے لکھے جا چکے تھے اور ان میں کسی نئے زاویے کی گنجائش بہت کم تھی۔ اسی طرح امن دوستی انسانیت اتحاد اور بھائی چارہ کے مسائل پر بھی بے شمار افسانے تخلیق کیے جا رہے تھے جیلانی بانو کا فکری رشتہ ان موضوعات سے کم ہی قائم ہو سکا تھا۔ انھوں نے زندگی اور معاشرت کو جذبات اور حسیات کا حصہ بنایا اور انہی خطوط پر افسانے کی بنیاد رکھنا چاہتی تھیں۔ اپنے پہلے افسانوی مجموعہ روشنی کے مینار کے دیباچے میں موضوعات کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں:
’’یہ بڑی مایوس کن بات تھی کہ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو ادب میں موضوع کچھ ختم سے ہو چکے تھے۔ یعنی وہ ایک خاص فضا نہیں تھی جب موضوع کا مینہ برستا ہے ۔ افسانہ نگاروں اور شاعروں کی بن آتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم، 47 کا تہلکہ، حیدرآباد کا پولیس ایکشن اور تلنگانے کے نعرے، اب ہرطرف سناٹا چھا رہا تھا۔ بھیونڈی کانفرنس بھی ہو چکی تھی ۔ یعنی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے اور ایک صبح اچانک مشہور ادیب بنے ہوئے جاگنے کے سارے مواقع نکل چکے تھے ۔ البتہ امن کانفرنسوں کی دھوم مچی ہوئی تھی۔‘‘
(روشنی کے مینار، ص 9-10)
موضوعات کی قلت کا جو شکوہ جیلانی بانو نے پیش کیا ہے اسے افسانہ نگاری کے نئے رجحان کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کی تحریر اس بات کی بھی گواہ ہے کہ ہنگامہ پسند ادب کی تخلیق اور قرات پر غبار چھانے لگا تھا اور تخلیق کار نئے موضوعات و مسائل کی تلاش میں تھا۔ ان مسائل کا تعلق انسانی زندگی کے خارج سے اس طرح نہیں تھا جس طرح اس سے پہلے نظر آرہا تھا۔ معاشرتی زندگی نئے زاویوں سے تخلیق کاروں پر اثر انداز ہو رہی تھی۔ تخلیق کار نے باطن میں دیکھنے کی شروعات ضرور کر دی تھی لیکن مکمل طور پر وہ خود پسند نہیں ہوا تھا۔ جیلانی بانو نے اسی وقفے میں افسانہ نگاری کے لیے جن موضوعات کا انتخاب کیا وہ متوسط طبقے کی گھریلو زندگی، خواتین کے مسائل اور اقتصادی و معاشرتی تبدیلیوں سے پیدا شدہ حالات سے متعلق تھے۔
جیلانی بانو کے افسانوی مجموعوں میں،روشنی کے مینار، پرایا گھر، رات کے مسافر، یہ کون ہنسا، تریاگ، نئی عورت، سچ کے سوا، بات پھولوں کی، کن اور راستہ بند ہے شامل ہیں۔ اس مضمون میں مختلف حوالوں کے علاوہ ان کے آخری افسانوی مجموعہ ’’راستہ بند ہے‘ کے افسانوں کا خصوصی جائزہ لیا گیا ہے۔
’راستہ بند ہے‘ جیلانی بانو کے دیگر مجموعوں سے کئی اعتبار سے مختلف ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں جیلانی بانو کے تخلیقی سفر کے تمام تجربات اور رجحانات امتزاجی صورت میں نظر آتے ہیں۔ موضوعات اور زبان و اسلوب دونوں سطحوں پر اس مجموعے میں انفرادیت موجود ہے۔یہ افسانے سیاسی شعور، نسائی لب و لہجہ اور سماجی نا انصافیوں کے خلاف صدائے احتجاج پر مشتمل ہیں۔ مجموعے میں ایسے افسانے بھی شامل ہیں جن کا مطالعہ وجودی نقطۂ نظر سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہئیت و تکنیک اور زبان و اسلوب کی سطح پر کئی تجربات نظر آتے ہیں۔بعض افسانے کہانی پن اور بیانیہ سے بھرپور ، بعض علامتی انداز کے حامل اور بعض نئے نئے تجربوں پر مشتمل ہیں۔ کچھ افسانوں کی زبان فکشن اور شاعری کی ٹوٹتی حد بندیوں کی مثال ہے۔مثال کے طور پر مجموعے کا پہلا افسانہ ’’کن‘‘ ملاحظہ کریں:
’’میرے اوپر ایٹمی ہتھیاروں کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ کیا ایک پل میں یہ د نیامٹ جائے گی ؟؍جھوٹ اور مایوسی کا اندھیرا پھیلا ہوا ہے۔؍ میں سراٹھائے آسمان کی طرف دیکھ رہی ہوں۔ ؍کوئی وعدہ؟ کوئی معجزہ ؟؍پھر ایک بار کن کی صدا کیوں نہیں آتی ؟ ؍ننھی رمشا نے میرے ہاتھ سے قلم چھین لیا ہے۔؍ وہ سفید کاغذ پر جھکی کچھ لکھ رہی ہے۔ میں انتظار کر رہی ہوں۔؍ کچھ تو لکھو کہ حرف چمک اٹھیں؍کچھ تو بولو کہ روشنی ہو جائے۔‘‘ (راستہ بند ہے، ص 7)
جیلانی بانو کے اس افسانے کو نظم سے الگ کرنا مشکل ہے۔ لیکن یہ بھی واضح ہے کہ افسانے میں افسانوی صورت موجود ہے۔ یہاں جیلانی بانو کی عصری حسیت ایک ایسے کردار کی تشکیل کرتی ہے جو خوفزدہ بھی ہے اور پر امید بھی۔ امید اس بات کی کہ شاید خوف کے اس ماحول میں کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے جو اطمینان کی باعث ہو۔ تخلیق کار اس مصنوعی دنیا کی تخریبی ترقیوں سے خائف ہو کر حرف ’’کن‘‘ کا منتظر ہے۔ کن ایک ایسا لفظ ہے جس سے کائنات کی تخلیق کی گئی۔ علامہ اقبال نے کہا ہے:’حاصل کن ہے یہ جہان خراب‘۔گویا ’’کن‘‘ خالق کائنات کا وہ جادوئی منتر ہے،جو پلک جھپکتے بیابان کو سبزہ زار میں بدلنے کی قوت رکھتا ہے۔ قرآن میں تخلیق کائنات کا راز’’ کن فیکون‘‘ میں مضمر بتایا گیا ہے۔ گویا ’’کن‘‘ تخلیق کا بنیادی راز ہے۔ہیٔت کے اعتبار سے جیلانی بانو کا یہ افسانہ قابل غور ہے۔ اسے ہم تخلیق میں نظم و نثر کی یکتائی کے طور پر دیکھتے ہیں لیکن اس میں صنفی پیچیدگیاں بھی موجود ہیں۔
جیلانی بانو نے خواتین کے مسائل اور حیدرآبادی تہذیب کو اپنی تخلیقات میں خاص طور پر برتا ہے۔ حیدرآباد کی تہذیب سے متعلق ان کا ناول ’ایوان غزل‘ منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ اسی طرح عورتوں کے مسائل سے متعلق ان کا شاہکار افسانہ ’’موم کی مریم‘‘ بھی قابل ذکر ہے۔ موم کی مریم میں جیلانی بانو نے عورت کے نفسیاتی مسائل کو بے حد خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ اس افسانے کا بیانیہ بھی قابل ذکر ہے۔ افسانے کا بیشتر حصہ خود کلامی اور تنہائی کے لمحوں پر مشتمل ہے لیکن ہر جملہ گہرے نفسیاتی شعور کا پتہ دیتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ اقتباس:
’’اس وقت بھی جب تمہارے سیاہ مستقبل کی طرح کمرے میں تاریکی چھائی ہوئی ہے۔ تمہارے آنسو یوں چمک رہے ہیں۔ جیسے پرامید بحر نے دریا کی سطح پر چراغوں کی قطار چھوڑ دی ہو۔ میرے کمرے میں تمہارے آنسوؤں نے اجالے کی امید قائم کر رکھی ہے۔۔ہم مشرق کے مرد صدیوں سے اپنی عیش گاہوں میں تمہارے اشکوں سے چراغاں مناتے آئے ہیں‘‘
یہاں خاتون کی موجودگی کا جمالیاتی پہلو بھی موجود ہے اور اس کے ساتھ کی جانے والی معاشرتی زیادتیوں کا اشاریہ بھی۔ راوی کے احساس اور اعتراف کی یہی کیفیت پورے افسانے پر چھائی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ زبان کی تخلیقی صورتوں کے جو نمونے اس افسانے میں موجود ہیں وہ جیلانی بانو کی فن کاری کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔
افسانوی مجموعہ ’’راستہ بند ہے‘‘ میں عورتوں سے متعلق افسانوں میں اسے کس نے مارا،پردہ گرتا ہے ،او کالے برقعے والی ، اکیلا اور کل رات ہمارے گھر مرزا غالب اور عصمت چغتائی آئے تھے کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ افسانہ ’’کل رات ہمارے گھر مرزا غالب اور عصمت چغتائی آئے تھے‘‘ پہلی نظر میں ایک مزاحیہ افسانہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اس افسانے میں مزاح کے پس پردہ سنجیدہ مسائل کو جگہ دی گئی ہے۔ مثلاً غالب کا تصور نسواں یا عورت اور عشق کے تعلق سے غالب کے خیالات۔ افسانہ نگار نے اس باب میں غالب کے خیالات کو عصمت چغتائی کی زبانی بیان کیا ہے۔ عصمت چغتائی نام کے کردار کا اعتراض یہ ہے کہ غالب نے اپنی شاعری میں محبوب کی بے وفائی دکھا کر سب کی محبت سمیٹ لی ہے بس،حالانکہ وہ خود کہاں کسی کے محبوب بننے کے قابل تھے۔ عصمت اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ غالب لمبی کہانی کو ایک شعر میں پرو دینے کا ہنر جانتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ عورتوں سے متعلق اپنے تمام خیالات کا نہایت جوشیلے انداز میں اظہار کرتی ہے اور غالب خاموش رہتے ہیں۔ حقیقی سطح پر غالب جیسے حاضر جواب اور بذلہ سنج کی یہ خاموشی غیر یقینی ہے۔ لیکن افسانوی کردار ہونے کے سبب ہمیں یقین کرنا پڑتا ہے۔ جیلانی بانو نے اس افسانے میں غالب اور عصمت دونوں کو جنتی قرار دیا ہے۔ غالب کی بخشائش کا راز ان کی مشکل شاعری ہے جسے سن کر بہت سے لوگوں نے شعر کہنا بند کر دیا اور عوام بے کار کی باتیں سننے سے بچ گئے۔ جبکہ عصمت کو نار جہنم سے ان کے لحاف نے بچا لیا۔افسانے کے اختتام پر نقادوں پر بھی اظہار خیال کیا گیا ہے جس میں یہ دونوں فن کار (غالب اور عصمت) نقادوں سے پہلو بچاتے نظر آتے ہیں۔ افسانے میں عصمت کی کچھ باتیں اس لیے غیر متعلق معلوم ہوتی ہیں کیوں کہ غالب کی شاعری میں عورت کی تعظیم کے کئی پہلو موجود ہیں جنھیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
مسائل نسواں سے متعلق جیلانی بانو کا دوسرا افسانہ ’’پردہ گرتا ہے‘‘ ہے۔ یہ افسانہ خانگی زندگی میں عورتوں کی صورت حال کا جائزہ لیتا ہے۔ افسانے کو ایک اسٹیج ڈرامے کی روداد کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ ڈرامے کے کردار ہی اس افسانے میں شامل ہیں۔ ایک گڑیا کی شکل میں عورت کی تخلیق،پھر اس کا حرکت میں آنا،ایک لڑکے سے محبت ہونا اور پھر لڑکے کا اچانک غائب ہو جانا، فراق میں عورت کا تڑپنا، بچے کو جنم دینا،پالنا پوسنا اور پھر اچانک اسے بھی خود سے دور جاتا محسوس کرنا یہ وہ مسائل ہیں جو افسانے کا حصہ بن گئے ہیں۔ جیلانی بانو نے افسانے میں ایسی عورت کے مسائل بیان کیے ہیں جو ماں ہے۔ ایک ایسی ماں جسے شوہر کا ہجر بھی جھیلنا ہے اور پھر بیٹوں سے بھی محروم ہو جاناہے۔ تخلیق کار کے نقطۂ نظر سے عورت کا یہ تصور ناقابل قبول ہے اور وہ اس کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔اس افسانے میں جیلانی بانو کا بیانیہ ایک ڈرامے کو تخلیقی زبان عطا کرتے ہوئے دلچسپ انداز میں آگے بڑھاتا ہے۔
افسانہ ’’او کالے برقعے والی لڑکی ‘‘ عورت کے تئیں روایتی سوچ پر ضرب کرتا ہے۔ اس افسانے میں عورت کوپردے کا پابند کرنے اور اس کی تعلیم کو دینی اور اخلاقی علوم تک محدود رکھنے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جیلانی بانو عورت کو سائنس،ادب اور سیاست کے میدان میں بھی آگے بڑھتی ہوئی دیکھنے کی خواہاں ہیں۔ عورت کی آزادانہ روش کو نشانہ بنانے پر وہ اکبر الہٰ آبادی کا بھی مذاق اڑانے سے نہیں چوکتیں اور ہر اس نظام پر چوٹ کرتی ہیں جو عورتوں پر پابندی عائد کرنا چاہتا ہے:
’’او کالے برقعے والی لڑکی!؍کالے حصار میں قید رہو۔ کالی نقاب میں منہ چھپالو ۔ او پرمت دیکھو؍اس کالی رات کا انت کہیں نہیں ہے۔ مگر اپنی آنکھیں کھلی رکھنا۔؍ان آنکھوں سے صرف ’’بہشتی زیور پڑھنا ہے تمہیں ۔ وفا، ایثار اور صبر کے سب سبق یا درکھنا ہیں تمہیں۔ اگر وہ بے چارے تم پر پہلی نظر ڈال کر اپنی نگاہ نہیں جھکا سکے۔؍تو انھیں دوسری نگاہ ڈالنے کے عذاب سے بچاؤ۔؍اپنے چہرے پر کالی نقاب ڈال لو۔؍تمہارا چہرہ شاعروں فن کاروں کا موضوع سخن ہے۔؍تم نہیں ہو۔؍اس کتاب کی طرف ہاتھ مت بڑھانا۔ علم_ادب_سائنس اور سیاست؟؍اگر تم نے یہ کتاب کھولی تو؍ایک ڈرامہ شروع ہو جائے گا۔ اور پھر؍یہ ڈرامہ دکھلائے گا کیا سین؟؍پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ؍اس لیے۔؍گردن جھکا کر زمرد کا گلو بند دیکھو۔؍یہ تمہاری وفا ، ایثار؍اور رضا کا انعام ہے۔ کبھی کالی نقاب کو اٹھانے کی جرأت مت کرنا۔؍ورنہ؍اکبر ز میں میں غیرت قومی سے گڑ جائے گا۔؍او کالے برقعے والی لڑکی!‘‘ (راستہ بند ہے، ص 114-113)
موضوع سے صرف نظر اس افسانے کی ہیٔت پر بھی سوال قائم ہوتا ہے کہ کیا اسے ایک مکمل افسانہ کہا جا سکتا ہے؟ اگر یہ تحریر افسانے کے زمرے میں داخل ہے تو پھر میرا جی ، راشد ، اخترالایمان، زبیر رضوی یا دیگر تخلیق کاروں کی حکایتی نظموں (سمندر کا بلاوا، کوزہ گر، ایک لڑکا، علی بن متقی رویا وغیرہ ) کو افسانہ کیوں نہیں کہا جا سکتا۔ ایسی صورت حال میں افسانہ اور نظم کو ہیٔت اور اسلوب کے تناظر میں روایتی سانچوں سے باہر نکل کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
جیلانی بانو نے عورتوں کے مسائل کو دونوں زاویوں سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ایک طرف جہاں عورتوں کے ساتھ کی جا رہی زیادتیوں کو نشانہ بنایا ہے وہیں دوسری طرف عورتوں کی جانب سے پیش آنے والے دل دوز واقعات کو بھی موضوع بنایا ہے۔ ان کا طویل افسانہ یا ناولٹ ’’اکیلا‘‘ اس کی مثال ہے۔ یہ ناولٹ ماں کی مامتا پر سوال قائم کرتاہے اور سماج کے لاوارث بچوں کے مسائل کو اپنا موضوع بناتا ہے۔ جیلانی بانو کے مطابق عورتوں کا شادی سے قبل حاملہ ہونا اور پھر بچہ جننے کے بعد اسے سڑک پر چھوڑ آنا،ماں کی مامتا کو شرمسار کرنے کے مترادف ہے۔ ناولٹ کا نسوانی کردار چٹی ایک ایسی ہی لڑکی ہے، جو شادی سے قبل اجمل سے عشق کرتی تھی۔ وہ اس کے حسن و جمال کی دیوانی تھی اور نادانستہ طور پر اس کے بیٹے کو بھی اپنی کوکھ میں پال رہی تھی۔ اس نے یہ بات اجمل سے پوشیدہ رکھی۔ اجمل اسے چھوڑ کر پردیس چلا گیا۔ حاملہ ہونے کی خبر سن کر چٹی کی ماں اور چاچی نے عزت و ناموس کے نام پر جو کچھ کیا وہ ایک سنگ دلی اور غیر انسانی رویہ ہے۔ چٹی کی مامتا سوالوں کی زد میں رہتی ہے اور اخیر تک اپنے جرم کی صفائی نہیں پیش کر پاتی۔ چٹی کے ساتھ قاری کی غیر معمولی ہمدردی بھی اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب اسے چٹی کے دوسرے عشق کا علم ہوتا ہے۔ چٹی اپنے بانجھ پن کو چھپانے کے لیے پھرسے پرانا رویہ اختیار کرتی ہے اور بالآخر وہ وقت آتا ہے جب وہ خود کو ماں کہلانے کے لیے تڑپ رہی ہوتی ہے لیکن اسے ماں کہنے والا کوئی بچہ نصیب نہیں ہوتا۔ چٹی اپنے شوہر سے بھی نہایت ظالمانہ سلوک کرتی ہے۔ اور نتیجے میں پورا گھر تباہ ہو جاتا ہے۔ انیل ایک مقام پر کہتا ہے:
’’ماں اور بچے کے درمیان محبت کا کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔ہر ماں مصلحت پسند ہوتی ہے۔ سماج کے تیور دیکھ کر بچے کو چاہتی ہے۔ کہیں میرا بچہ،مرا بچہ بھی۔۔۔۔‘‘
(راستہ بند ہے،ص144)
انیل کے یہ الفاظ مامتا پر سوالیہ نشان قائم کرتے ہیں۔ ناولٹ مختصر ہونے کے باوجود بہت سے اہم پہلوؤں کا احاطہ کرتاہے۔ اس کا بیانیہ تین مختلف زاویوں سے تشکیل دیا گیا ہے۔ پہلا حصہ چٹی اور ملیشم کے مکالموں پر مشتمل ہے اور دوسرے حصے کا راوی خود انیل ہے جبکہ تیسرے حصے کا بیان انیل کے کسی قریبی دوست کی زبانی ہوتا ہے۔ ان تینوں حصوں میں بیچ کا حصہ اس اعتبار سے منفرد معلوم ہوتا ہے کہ اس میں آپ بیتی کا سا انداز پیدا ہو گیا ہے۔ جیلانی بانو کے اس ناولٹ کی زبان نثری صلابت لیے ہوئے ہے اور وہ شاعرانہ اسلوب جو کہیں کہیں ان کے افسانوں پر نظم کا گمان پیدا کر دیتا ہے، یہاں اثر انداز نہیں ہوتا۔
خواتین کے مسائل کے علاوہ معاشرتی شعور اور عصری حسیت کی نمائندگی بھی جیلانی بانو کے افسانوں میں نظر آتی ہے۔ البتہ ان افسانوں میں ترقی پسند افسانہ نگاروں کی طرح نعرے بازی کے بجائے ایک گہرے انسانی سوز اور کرب کا احساس موجود ہے۔ ’راستہ بند ہے‘ میں ایسے کئی افسانے شامل ہیں جنھیں عصری حسیت کے نمائندہ افسانوں کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔افسانہ ’’عباس نے کہا‘‘ کا موضوع ظلم اور تشدد کے خلاف پیدا ہونے والی مزاحمت ہے۔ افسانے کا بیانیہ ایک ایسے رپورٹر کا بیانیہ ہے جو جائے واردات پر موجود ہے اور متاثر افراد سے وہاں کے حالات کے متعلق دریافت کر رہا ہے۔ جیلانی بانو نے تاریخ کے عظیم کرداروں کو اس افسانے میں ڈھال دیا ہے اور انھیں مخالف قوتوں کے مقابل زیادہ مستحکم ثابت کیا ہے۔ ظلم کے خلاف مزاحمت اور جواں مردی کے کئی نمونے افسانے کا حصہ ہیں۔
اسی طرح افسانہ ’’موت کے بیج‘‘ جوہری اسلحوں کی تباہ کاریوں کے اندیشے پر مبنی ہے۔ افسانے میں موجود بدلو کا کردار ایک غریب بچے کی نمائندگی کرتا ہے اور روشن میاں متمول خاندان کی۔ افسانہ نگار نے ان دونوں کے مابین مکالمہ سے جوہری ہتھیاروں کے نقصانات پر روشنی ڈالی ہے۔ بدلو کھیت کھلیان سے محبت کرتا ہے اور روشن میاں ایٹم بم کی ایجاد کو تکنیکی میدان میں انسان کی ترقی کے طور پر دیکھتا ہے۔ افسانہ نگار نے یہ نقطہ بھی واضح کر دیا ہے کہ تعمیری فکر کی پرورش کے لیے اعلی تعلیم سے زیادہ انسانی ہمدردی کا ہونا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدلو جیسا ایک معمولی لڑکا روشن جیسے عظیم سائنسداں کو سوچنے پر مجبور کر دیتاہے۔
افسانہ ’’بھاگو بھاگو‘‘ تفریق کے نقصانات کو موضوع بناتا ہے۔ افسانے کی مرکزی کہانی داستان محبت ہے جو شدت پسند مذہبی طبقوں کی بدولت دردناک انجام کو پہنچتی ہے۔ افسانے میں موجودآشا ایک برہمن زادی اور سلطان ایک سید زادہ دو طبقوں کے مابین کشمکش کا استعارہ بن گئے ہیں۔ ان دونوں کی جنگلی جانوروں اور پرندوں سے مانوسیت یہ ثابت کرتی ہے کہ موجودہ انسانی معاشرہ کس قدر غیر محفوظ صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایک چڑیا گھر میں سیاحت کے دوران جب آشاایک انگریز جوڑے کو شیر کے متعلق یہ کہتے ہوئے سنتی ہے کہ شیر اس وقت تک حملہ نہیں کرتا جب تک کہ اسے انسانوں سے خطرہ نہ محسوس ہو،تو وہ شیر کا پنجرہ کھول کر اپنے بچوں سمیت اس میں داخل ہو جاتی ہے اور محسوس کرتی ہے کہ جیسے اس نے درندوں سے چھٹکارا پا لیا ہے۔ آشا کا انسانی سوسائٹی سے خوف زدہ ہو کر شیر کے پنجرے میں پناہ لینا انسانیت کے زوال کی المناک صورت حال کو واضح کرتاہے۔ تخلیق کار نے انسانوں کے اندر پنپ رہی درندگی اور جانوروں کی فطری امن پسندی کو اس افسانے کے ذریعے بیان کر دیاہے۔ افسانے میں آشا کی ذہنی اور نفسیاتی صورت حال کو مکالموں کی صورت میں جس خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے وہ بھی قابل غور ہے۔
افسانہ ’’ایک خلا باز کی رپورٹ‘‘ ایک سائنس داں کی دنیا کے متعلق رپورٹ پر مبنی ہے۔ انکشاف کے بعد جب لوگ اس دنیا میں قدم رکھتے ہیں تو انھیں مختلف صورت حال نظر آتی ہے۔ اور وہ مایوس ہوتے ہیں۔ دنیا کا جو تصور ان کے ذہنوں میں موجود تھا وہ بکھرتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔ ماحولیاتی تبدیلوں کو افسانے میں خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تخلیق کار نئی نئی ایجادات سے خوش ضرور ہے لیکن ابھی اسے ان آلات کے متعلق تسلی نہیں ہے۔افسانہ ’’زو میں‘‘ سیاسی رہنماؤں کی حرص و ہوس اور درندگی پر مبنی ہے۔اس افسانے میں زو کے ایک خطرناک جانور کو جو کہ میٹھی بولی بول کر لوگوں کو اپنے قریب بلاتا ہے اور پھر ان پر حملہ کر دیتا ہے،ایک سیاسی لیڈر سے تشبیہ دی گئی ہے۔ افسانہ مختصر ہونے کے باوجود گہرا تاثر قائم کرتا ہے۔ ایک بچے کا اپنے اپنے والدین سے یہ سوال کہ ’’ڈیڈی! وہ جنگل کی کون سی پارٹی کا لیڈر ہے‘‘ قاری کے ذہن پر بجلی بن کر گرتا ہے اور اسے سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
افسانہ ’’درشن کب دو گے؟‘‘ میں جیلانی بانو نے کھوکھلی مذہبیت اور ریاکاری کو بے نقاب کیا ہے۔ یہ افسانہ ان سماج دشمن عناصر کی تشخیص کرتا ہے جو کبھی شرافت اور کبھی مذہب کا سہارا لے کر عام انسان کے ساتھ غداری کرتے ہیں۔ کہانی میں کئی کردار اہم ہیں ۔ مثلاً مسز راشد،جو کہ ایک متمول بزنس مین کی بیوی ہے اور تخریبی ذہن رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ شیام کی ماں اور مولوی جو مذہبی انتہا پسند کرداروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ البتہ حسن بانو اور میرا کا کردار ان کے بر عکس ہے۔ حسن بانو مذہبی نہیں لیکن انسان دوست ضرور ہے۔ وہ معاشرے کی ہر خرابی پر بے اطمینانی کا اظہار کرتی ہے۔ افسانے میں ’’میرا‘‘کا کردار بھی اہم ہے، جو مذہبی ریاکاری کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں نشانہ بنتی ہے ۔یہ افسانہ ہماری معاشرتی زندگی کی نام نہاد مذہبیت پر سیاسی شیطنت کے غلبے کی دلدوز داستان ہے۔
افسانہ ’’ایک شوٹنگ اسکرپٹ‘‘ کا بیانیہ فلم شوٹنگ کی داستان پر مبنی ہے۔ جیلانی بانو نے اس افسانے میں سیاست کی خامیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایکٹر آکاش اور ڈائرکٹر بھوشن کے درمیان گفتگو سے کئی اہم معاملات کا انکشاف ہوتا ہے۔ یہ افسانہ تخلیق کار کی عصری حسیت اور انسانی ہمدردی کا ثبوت ہے۔ اس کا مطالعہ کرتے ہوئے افسانہ نگار کی انسانی ہمدردی کے ساتھ سیاسی رہنماؤں کی موقع پرستی کا بھی علم ہوتا ہے۔
سماجی آگہی سے متعلق جیلانی بانو کا ایک اور اہم افسانہ ’’ایک شہر بکاؤ ہے‘‘ ہے ۔ جیلانی بانو نے اس افسانے میں شہر کو ملک کا استعارہ بنا کر پیش کیا ہے۔ایک شہر کے پس پردہ وہ پورے ملک کی صورت حال کو واضح کرنا چاہتی ہیں۔ افسانے کا اسلوب طنز و مزاح سے بھرپور ہے۔جیلانی بانو کے طنز کا نشتر بہت کاٹ دار ہے۔وہ طنزیہ پیرائے میں سیاسی حربوں کو بے نقاب کرتی ہیں۔ افسانہ روایتی بیانیہ( کہانی، پلاٹ،کردار) تشکیل دینے کی بجائے راوی کی زبانی آگے بڑھتا ہے ۔ البتہ کہیں کہیں مکالمے کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔افسانہ نگاری کا یہ انداز جیلانی بانو کے تخلیقی تجربات کا حصہ ہے۔
جیلانی بانو نے معاشرتی مسائل میں سیاسی ناہمواریوں کو ایک خاص طرح سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ملک کی سرپرستی کے لیے اس طبقے کا باشعور اور حساس ہونا بے حد ضروری ہے۔ اس سے متعلق ان کے کئی افسانے قابل ذکر ہیں۔افسانہ ’’آپ کا سواگت ہے منتری جی‘‘ سیاسی رہنماؤں کے کھوکھلے وعدوں اور جھوٹی مذہب پرستی پر مبنی ہے۔ افسانے میں موجود عمر رسیدہ خاتون کئی اعتبار سے اہم ہے۔ اس کی عمر اس میدان میں تجربات اور مشاہدات کو بیان کرتی ہے۔ترقیاتی کاموں کے دلاسے اور مذہبی مقامات کی زیارت اس کی نظر میں ایک تماشا بن چکے ہیں۔ اس کا یہ کہنا کہ’’منتری جی مندر کے اندر مت جائیے،آپ کے آنے کی خبر سن کر بھگوان مندر سے چلے گئے ہیں‘‘ ایک گہرا طنز ہے،جو یہ واضح کرتا ہے کہ عوام اور خود مذہب بھی ان مشکوک کرداروں سے کتنا مختلف ہے۔ اسی طرح وہ افسانہ جسے اس مجموعے کا عنوان بنایا گیا ہے قابل ذکر ہے۔افسانہ ’’راستہ بند ہے‘‘ سیاسی حربوں سے عوام کو ہونے والی دشواریوں کو اپنا موضوع بناتا ہے۔ افسانے میں ایک منسٹر کا قافلہ سڑک سے گزر رہا ہوتا ہے اور ہر طرف سے راستہ بند کر دیا جاتا ہے۔ راستہ بند ہونے کے سبب سڑک پر پھنسی عوام کو جس نوعیت کی دقتیں اٹھانی پڑتی ہیں،یہ افسانہ یکے بعد دیگرے انہیں بیان کرتا ہے۔ ان میں ایسے طلباء بھی ہیں جنہیں وقت مقررہ پر امتحان گاہ پہنچنا ہے۔ بڑے بڑے فن کار ہیں،جن کا شو شروع ہونے کے قریب ہے۔ کسی کو کہیں پہنچنے کی ایمرجنسی ہے۔ کوئی بزرگ خاتون اہل و عیال پر کیے گئے ظلم کے خلاف انصاف طلب کرنے عدالت جا رہی ہے۔مگر ان سب کے لیے براستہ بند ہے۔ گویا راستے کا بند ہونا تمام سماجی حرکات اور انصاف کی راہوں کا مسدود ہو جانا ہے۔ اگر کوئی حد بندیوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر پولیس کی مار پڑتی ہے۔ یہ افسانہ ہمیں کرشن چندر کے افسانہ’’ دو فرلانگ لمبی سڑک‘‘ کی یاد دلاتا ہے۔ اگرچہ موضوع کے اعتبار سے دونوں مختلف ہیں مگر پس منظر ایک جیسا نظر آتا ہے۔کرشن چندر نے سڑک کو ایک تخلیقی تجربے میں ڈھال دیا ہے جبکہ جیلانی بانو محض راہگیروں کو اپنا موضوع بناتی ہیں۔ یہاں راستہ کسی عینی شاہد کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے محور کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے جس کے رک جانے سے سماجی زندگی پر گہرا اثر پڑتا ہے۔’’راستہ بند ہے‘‘ انصاف کی مسددو راہوں کا بھی استعارہ ہے۔
افسانہ ’’گل نغمہ‘‘ تقسیم ہند کے تناظر میں ہجر کے مسائل پر لکھا گیا ایک شاہکار افسانہ ہے۔ یہاں فن، تحریر اورموسیقی کا امتزاج نظر آتا ہے۔ افسانے میں موسیقی اور اس کے ریاض کو محور بنا کر کہانی تشکیل دی گئی ہے ۔ کہانی میں سر اور راگ کا رشتہ حقیقی زندگی سے مربوط نظر آتا ہے۔ افسانے کے تمام الفاظ اوشا کی زندگی کا استعارہ ہیں۔ اوشا،نگی،موہن اور آفتاب کے گرد گھومتی اس کہانی میں ایک فن کار کی ازدواجی زندگی کے ساتھ عشق ومحبت کی حرارت بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔اوشا اور آفتاب احمد کے درمیان موسیقی کی ریاضت کے درمیان جو محبت پنپ رہی تھی اس نے خود ایک موسیقی کی شکل اختیار کر لی تھی۔ دوران ریاض آفتاب احمد کے ساتھ اوشا نے جن سروں کو چھوا تھا وہ آج تک اپنے خاوند موہن کے ساتھ وہاں نہیں پہنچ سکی تھی۔ سرحد کی لکیر دو فن کاروں کے مابین ایک دراڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کہانی کی تھیم کا انکشاف بھی ہے۔ جیلانی بانو نے تقسیم ہند کے بعد دونوں ملکوں کے فن کار اور ان کے قدردانوں کے درمیان پیدا ہوتی دوریوں کو اس افسانے کے ذریعہ بیان کر دیا ہے۔ افسانے کا بیانیہ راگ، غزل اور موسیقی کی مختلف اصطلاحات سے جس طرح تشکیل دیا گیا ہے اس سے جیلانی بانو کی فن کاری کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ کہنا بجا ہے کہ کسی راگ کو ساز پر ہم آہنگ کرنے کی کھوج ہی گل نغمہ ہے۔
افسانہ ’’اسے کس نے مارا‘‘ ایک لاوارث بھکارن کی درد انگیز کہانی ہے، جس کا موضوع مہذب معاشرے میں کم تر لوگوں کو حقیر سمجھنا اور نظر انداز کیا جانا ہے۔ افسانے میں موجود بھکارن بھوک سے بے حال ہو کر دروازوں پر دستک دیتی اور پتھر مارتی ہے مگر لوگ اسے پاگل اور اچھوت سمجھ کر دھتکار دیتے ہیں۔ پروفیسر جو کہ تعلیم یافتہ اور مہذب طبقے کا نمائندہ ہے اسے اپنے گھر کے سامنے نہیں آنے دیتا اور برہمن جو کہ مذہب پرست اوربااخلاق طبقے کی نمائندگی کرتا ہے،بھکارن کو مندر کی چوکھٹ پر بھی بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ شہر کے اوباش لڑکے رات کی تاریکی میں اس کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں اور اسی کسمپرسی کی حالت میں اس کی موت ہو جاتی ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ تفتیش میں اس کا کوئی مجرم قرارنہیں پاتا۔ ایک بزرگ خاتون اس کی لاش پر محض اس لیے آنسو بہاتی ہے کیوں کہ کوئی رونے والا نہیں۔ یہ بزرگ خاتون کون ہے؟ اس کی تعبیر مختلف زاویوں سے کی جا سکتی ہے۔ تخلیق کار کی ہمدردیاں بھکارن کے ساتھ ہیں اور اس کے انتقال پر اس کی روح ایک بزرگ خاتون کی صورت میں نوحہ کناں ہے۔یہ انسانی ہمدردی کی اعلیٰ مثال ہے جو مہذب معاشرے پر نئے زاویے سے نظر ڈالنے پر مجبور کرتی ہے۔
جیلانی بانو نے معاشرتی مسائل کو موضوع بناتے ہوئے مرد اور خواتین کرداروں کے ساتھ بچوں کو بھی موضوع بنایا ہے۔ بچوں سے متعلق ان کا افسانہ ’جنت کی تلاش‘ ان کے نفسیاتی مسائل پر روشنی ڈالتا ہے۔ یہ افسانہ معصوم بچوں کے سوالات پر مبنی ایک دلچسپ افسانہ ہے۔اس میں بچوں کے نفسیاتی شعور کے ساتھ روایتی طرز فکر کی بے معنویت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔افسانہ ہمارے قدیم طرز تعلیم پر بھی سوالیہ نشان قائم کرتا ہے اور تعلیم و تربیت کے نئے طریقوں پر غور کرنے کے لیے مجبور کرتا ہے۔ تخلیق کار کا خیال ہے کہ ایسا تعلیمی نظام جو بچوں کے ذہنی شکوک و شبہات دور کرنے اور غور و فکر کی صلاحیت پیدا کرنے سے قاصر ہو، بے سود ہے۔
جیلانی بانو نے جدید معاشرے میں پیدا ہونے والے افراد کے ذاتی مسائل پر بھی توجہ دی ہے۔ انھوں نے ذاتی مسائل کو کسی تحریک کے زیر اثر دیکھنے کے بجائے تجزیاتی طریق کار اپنایا ہے۔ ان کے افسانوں کا فرد کرب ذات معاشرہ سے مختلف محسوس نہیں کرتا بلکہ اسی کا ایک حصہ تصور کرتا ہے۔ اس نوعیت کے افسانوں میں ’ایک دوست کی ضرورت ہے‘ قابل ذکر ہے۔ افسانہ ’’ایک دوست کی ضرورت ہے ‘‘ انسان کی داخلی تنہائی اور مخلص دوست کی تلاش پر مبنی ہے۔ یہ افسانہ معنوی وسعت کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ اسے جد ید معاشرے میں انسانوں کی بکھرتی امیدوں اور تمناؤں کا دلدوز بیانیہ بھی کہا جا سکتاہے۔ افسانے کا مرکزی کردار ہمارے معاشرے کے ان پریشان حال افراد کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنی دولت و ثروت کے باوجود ایک گھٹن بھری زندگی زندگی جینے پر مجبور ہیں ۔ایسے موقع پر صرف ایک دوست ہی کی نہیں بلکہ سچے انسان کی بھی تلاش شروع ہو جاتی ہے ۔معاشرتی زندگی میں انسانوں کے اندر پایا جانے والا تضاد اس افسانے کا بنیادی موضوع ہے جہاں انسان کی دو صورتیں نظر آتی ہیں۔ جیلانی بانو نے انسان کی داخلی اور خارجی دونوں کیفیات کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح افسانہ ’’کیا ٹوٹ گیا’’ شکست ذات کی کہانی ہے۔ اس افسانے کا مرکزی کردار ایک تخلیق کار ہے جو باطنی تنہائی اور شکست سے دوچار ہے۔افسانے کا اسلوب شاعرانہ ہے اور نظم کا احساس پیدا کرتاہے۔ اس افسانے کو بھی جیلانی بانو کے ان افسانوں میں شامل کیا جا سکتا ہے جن کی زبان نثر سے زیادہ نظم سے قریب معلوم ہوتی ہے ۔
جیلانی بانو نے نئے مسائل کے اظہار کے لیے بعض افسانوں میں علامت کو بھی جگہ دی ہے۔ لیکن ان کی علامت کسی قسم کا ابہام پیدا نہیں کرتی۔ مثلاً’’اکیلا سمندر’’ ۔ یہ ہیٔت و اسلوب کے اعتبار سے جیلانی بانو کا ایک منفرد علامتی افسانہ ہے۔ اس میں سمندرایک ایسے گواہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو انسان کے تمام کارناموں سے واقف ہے۔ اس کی وسعت لا محدود اور گہرائی بے کراں ہے، لوگ اسی سے ہیرے موتی نکالتے ہیں۔وہ ان کے اسفار اور تباہیوں کا عینی شاہد ہے، مگر خاموش ہے۔ لوگ اس کی خاموشی کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی گہرائیوں کو مت چھونا کہ اس کے اندر جوالا مکھی دفن ہے۔ اتنی آگ رکھنے کے باوجود خاموش رہ پانا سمندر کے ہی بس کی بات ہے۔ تخلیق کار نے اس افسانے کے ذریعہ انسانی تخریب کاریوں اور فطرت کے مابین مکالمہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ انسانوں کو فطرت سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح افسانہ ’’کاش‘‘ انسان کی اپنے گرد و نواح سے مایوسی کی علامت ہے۔ یہ مختصر افسانہ گرد و پیش کے لوگوں سے اکتائے ہوئے ایک انسان کا نوحہ ہے جس میں اپنی سابقہ زندگی کا محاسبہ بھی ہے اور اس پر اظہار افسوس بھی۔ اسے بھی فطرت کی تلاش ہے اور وہیں سکون کی امید۔
مذکورہ بالا افسانوں کے جائزے کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جیلانی بانو کے افسانوں کے موضوعات کا دائرہ جتنا وسیع ہے، اسی طرح ہیٔت و اسلوب کے تجربے بھی نظر آتے ہیں۔ ان کی تخلیقی زبان افسانے کی قرأت کو دلچسپ بناتی ہے۔ اس کے علاوہ نفسیاتی تجزیہ، جزئیات نگاری، ماحول سازی اور برمحل مکالمے افسانوں کو حقیقی دنیا سے قریب کرنے مین معاون ثابت ہوتے ہیں۔ افسانوں میں تخلیق کار کی موجودگی گراں نہیں گزرتی ۔ یہ وہ امتیازات ہیں جو جیلانی بانو کے افسانوں کو منفرد ثابت کرتے ہیں۔

Dr۔ Faizanul Haque
H-99A, Jamia Nagar, Okhla,
New Delhi -110025
Email: faizanulhaque910@gmail.com
Mob. 8800297878

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

پریم چند کی کہانیاں

زبان اور اس کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے ادب کو سمجھنا، جاننا اور اس کی بازدید بھی ایک اہم عمل ہے، منشی پریم چند کا شمار اردو کے

اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو / قرۃ العین حیدر

لگا کے کاجل چلے گوسائیںؐ ___ بھورے قوال کی فلک شگاف تان سے چراغ کی لو بھی تھرا گئی۔ ارے لگا کے کاجل چلے گوسئیاںؐ___ بھورے خاں کے دس سالہ

رابندر ناتھ ٹیگورکی افسانہ نگاری ،مضمون نگار:سراج انور محمد میراں

اردو دنیا،مارچ 2026: ہندوستانی ادبیات میں اردو اور بنگلہ ادب کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ بنگلہ زبان تقریباً سوسے زیادہ بولیوں کوملاکرایک زبان کی شکل میں وجودمیں آئی۔ اسی طرح